معاصر دنیا میں بدامنی کا ذمہ دار کون؟

کمال اختر قاسمی

آج پوری دنیا جنگی صورت حال سے دوچار ہے ۔ہر ملک ایک دوسرے سے نبرد آزمائی کی پرُ خطر راہ پر ہے۔ فلسطین کو دنیا کے نقشے سے مٹاکر اسرائیل کے قیام نے دنیا میں سفاکانہ کردار کا انوکھا مظاہرہ کیا، پھر افغانستان، چیچنیا، بوسینیا اور دیگر کم زور ممالک پر حملے کرکے دنیا کو آماج گاہ جنگ بنادیا گیا ہے۔ روس نے چیچنیا، داغستان، تاتارستان پر ناجائز اور ظالمانہ تسلط قائم کررکھا ہے، اور ان علاقوں کی آزادی کے لیے کی جارہی کوششوں کو دہشت گردی، مذہبی انتہاپسندی اور اسلامی عسکریت کانام دے کر خونریزیوں اور خوفناک تباہ کاریوں کا طویل سلسلہ جاری کردیاہے۔سابق روسی صدر’اسٹالن‘ نے ۱۹۴۴ء میں چیچین اقوام کی نسل کشی کی غرض سے ان پر حملہ کیا، جس میں لاکھوں نہتے افراد شہید ہوئے۔ ان پر درد ناک مظالم کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اسے دیکھ کر روسی سائنسداں ’اندرے سخاروف‘ (Andre sekharov) کی بیوہ’Elena Bonner‘نے امریکی ارکان سینٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا:

’’چیچنیا کے خلاف روس کی جنگ در اصل انسانیت کے خلاف مجرمانہ اقدام ہے۔پوٹن نے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ظالمانہ جنگ مسلط کی ہے‘‘۔

(Commentry بلیٹن، کوالا لمپور، فروری 2000،بحوالہ ترجمان القرآن اپریل 2000 ص:۹)

امریکہ نے افغانستان وعراق میں خوف ناک تباہی مچائی، لاکھوں بے قصور لوگوں’ خاص طورپر معصوم بچوں اور عورتوں کا قتل عام کرکے تاریخ انسانی کو پراگندہ کردیا ہے۔مختصر یہ کہ طاقت ور ممالک جابرانہ تسلّط وغلبہ حاصل کرنے کی غرض سے کمزورریاستوں پر مسلسل حملے کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا جنگی صورت حال اور خوف ناک تصادم کی طرف بڑھتی جارہی ہے، جس پر قابو پانا انتہائی مشکل ہے۔اگر یہ استعماری طاقتیں آج بھی اپنے جارحانہ اقدامات روک لیں اور تمام ممالک کو اپنے اصول وآئین کی روشنی میں جینے دیں تو دنیا امن وسکون کی آماج گاہ اور قتل وخونریزی اور جنگ وجدال سے یکسر پاک ہو سکتی ہے۔

جنگی صورت حال کے اسباب وعوامل

عالمی بالادستی کی خواہش

دنیا میں تصادم کی اہم وجہ عالمی بالا دستی کا خواب ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے میدان خالی پاکرپوری دنیا پر اپنا تسلط جمانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ یورپین ممالک کی مدد سے اپنی قیادت میں ایک مشترکہ فوجی تنظیم ’نیٹو‘ کا قیام عمل میں لایا۔ جن ممالک میں امریکی تحفظات کو معمولی طور سے بھی خطرہ لاحق ہو، ان پر عسکری کارروائی کرنے کا اس تنظیم کو اختیار دیا گیا، اس میں یہ پیغام مضمر تھا کہ پوری دنیا اس کے نقش قدم پر چلے اوراس کے پیش کردہ نظام کو تسلیم کرے۔ چنانچہ امریکہ اپنی بالادستی کو عالمی طور پر نافذ کرنے کے لئے ہر ممکنہ طریقے کو اختیار کررہا ہے اور اس میں حائل رکاوٹوں کو پوری طاقت سے روکنے کے لئے پر عزم ہے۔۱۹۵۴ء میںوہائٹ ہائوس کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا:۔

’’ہمارے دشمن ہمارے (استعمارانہ) عزائم کے خلاف جو طریقے استعمال کرتے ہیں، ہمیں ان سے زیادہ مؤثر اور منظم طریقوں کو ہوشیاری سے استعمال کرکے دشمنوں کو تباہ وبرباد کرنا سیکھنا چاہیے۔‘‘ (Brave new world order, p 43 از جیک نیلسن پالی میر)

امریکی سیاستِ خارجہ کا اصل ہدف بھی یہی ہے کہ امریکی پارلیمنٹ سے جو بھی فیصلے صادر ہوں انہیں بین الاقوامی طور پر تسلیم کرکے ان کی مکمل اطاعت کی جائے، اور کوئی اس کا مد مقابل نہ بن سکے۔ سابق امریکی صدر ’کارٹر‘ کے قومی سلامتی کے مشیر ’ریزنسکی‘ اپنی کتاب ’The Great chessboard ‘  میں اپنے اہداف کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

’’امریکہ کی سیاست خارجہ کا ہدف یہی ہونا چاہیے کہ اکیسویں صدی میں امریکہ دنیا کی واحد سپرپاور رہے، اس کا کوئی مدِّمقابل اٹھنے کی جرأت نہ کرسکے،یورپ اور ایشیا دنیا کو کنٹرول کرنے والے بر اعظم ہیں،لہٰذا ان دونوں براعظموں میں امریکہ کی برتری پوری طرح قائم رہنی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یورپ اور ایشیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں ابھرے جو امریکہ کو چیلنج کرسکے‘‘۔

دنیا کے کسی بھی ملک پر عسکری کاروائی کرنے کے لیے امریکہ کی یہ دلیل کافی ہے کہ وہ امریکہ ہے اور دوسرا غیر امریکہ ، وہ غیر امریکی ممالک کے لیے سلامتی کو صرف اس شرط پر قبول کرتاہے جب وہ اپنے آپ کو پوری طرح سے امریکہ کے سپرد کردیں، چنانچہ امریکہ کے سابق صدر ’بل کلنٹن‘ کی وزیر خارجہ ’میڈیلین البرائٹ‘ نے بلاکسی تردد کے امریکی عزائم کا ان الفاظ میں اعلان کیا:

’’ہمیں اس وجہ سے طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے کہ ہم ’امریکہ‘ ہیں، ہم نوعِ انسانی کے لیے ایک ناگزیر قوم ہیں، ہم بلند وبرتر ہیں، ہم مستقبل میں دور تک دیکھتے ہیں،،

(Blaw back: The costsand consequences of American Empire Page No. 217)

عالمی بالادستی کا مقصد

مغرب بہ طورخاص امریکہ جس عالمی بالادستی کی کوشش کررہا ہے اس کا بہ ظاہر مقصد تویہ باور کرایا جاتاہے کہ دنیا میں امن وامان کو بحال کیا جاسکے، جب کہ در حقیقت ان کے ذہنوں میں جو خوف ناک مقصد پوشیدہ ہے وہ یہ کہ تمام ممالک کی قومی حکومتوں کے اختیارات محدود ہوں، ان کی حیثیت کسی تنظیم یا سوسائٹی سے زیادہ نہ ہو، بقیہ تمام سیاسی، اقتصادی اور دفاعی امور کا تعلق عالمی حکومت سے ہو، جس کی باگ ڈور امریکہ کے ہاتھ میں ہو۔امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے شائع شدہ ایک رپورٹ سے عالمی حکومت کا مقصد اور اس کے خطرناک عزائم کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے  :

’’ قومی حکومتوں کے غیر ذمہ دارانہ تصرفات پر پابندی ضروری ہے اور یہ کام بغیر عالمی نظام حکومت کے قیام کے ممکن نہیں، جس طرح بین الاقوامی عدالت حکومتوں کا محاسبہ کرتی ہے اسی طرح ہم تمام ملکوں کو ایک دائرہ میں لانا چاہتے ہیں‘‘۔(Newyork times, 4-8-1999 بحوالہ: مغربی میڈیا، ص : ۸۵)

یہ دائرہ اتنا وسیع ہوگا کہ کس منتخب حکومت کو باقی رہنا ہے، کسے ختم ہونا ہے، بلکہ کس انسان کو زندہ رہنے کا حق ہے اور کسے یہ حق حاصل نہیں ہے، یہ سارے اختیارات اسی عالمی نظام کو حاصل ہوں گے، جس کے سیاہ وسفید کا مالک امریکہ ہے۔

عالمی بالادستی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی

دنیا میں امن وامان کی بقا کے لیے دم توڑتی ہوئی حالت میں ہی سہی بین الاقوامی قوانین وضوابط موجود ہیں، مثلاً جنگی امور کے متعلق اقوام متحدہ کی چند دفعات اس طرح ہیں:

کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے خلاف از خود کوئی کارروائی نہیں کرسکتا۔ دفعہ ۳۳کے مطابق جو معاملات بھی UNO کے سامنے آئیں وہ ان کا کوئی مناسب حل تجویز کرے۔ دفعہ ۳۶کے مطابق اگر ممبر ممالک دیگر پر امن ذرائع سے تنازعات کا حل تلاش نہ کرسکیں تو ان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ سلامتی کونسل سے رجوع کریں۔  دفعہ ۳۶کے تحت سلامتی کونسل مناسب کاروائی کرے گی، ان تینوں دفعات کی ناکامی کی صورت میں سلامتی کونسل دفعہ ۴۱کے تحت معاشی پابندیاں اور دفعہ 42 کے تحت فوجی کاروائی کرسکتی ہے، مگر کسی ملک کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ فوجی کارروائی کرے، یا اقوام متحدہ کو نظر انداز کرکے کسی اتحاد کے ذریعہ عسکری اقوام کی کوشش کرے۔(ملاحظہ ہو : العولمہ از دکتور صالح الرب ص:  ۳۴-wikkipedia-UNO-act)

ان سب کے باوجود امریکہ اپنی بالادستی کے نشے میں عالمی قوانین کو جس نگاہ سے دیکھتا ہے وہ اربابِ فکر ونظر کے لیے انتہائی حیران کن ہے۔ امریکہ کے ایک سابق اٹارنی جنرل ’رمزے کلارک‘ نے بین الاقوامی اصول وضوابط کے سلسلے میں امریکی موقف کو اس طرح بیان کیا ہے:

’’امریکہ کے پالیسی ساز یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ امریکی کانگریس کسی بھی عالمی قانون کو نظر انداز کرسکتی ہے۔ اسے سرے سے ختم کردینے یا اس میں ترمیم کرنے کا پورا اختیار رکھتی ہے۔ امریکہ کسی ایسے عالمی ضابطے کا پابند نہیں ہوگا جو امریکی کانگریس کی پسندیدگی اور منفعت کے خلاف ہو‘‘۔ (The Fire of this time, page: 166)

امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈال کر دنیا کے بیش تر ممالک پر حملے کیے ہیں اور بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اس کے ظالمانہ حملوں اور شدید بمباریوں سے محفوظ رہے ہیں، کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ جو ملک بھی ہماری فوجی بالادستی کو پوری طرح تسلیم نہیں کرتا، یا وہ ہماری فوجی بالادستی کے لیے کبھی بھی خطرہ ثابت ہوسکتا ہے تو اس پر حملہ کرکے اسے زیروزبر کرنا ہمارا حق ہے۔چنانچہ امریکہ کے سابق صدر ’بش‘نے، جب ان کے سامنے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی بات کہی گئی تو دو ٹوک انداز میں کہا:

’’امریکہ اپنے دشمنوں کو پیش بندی کے طور پر سبوتاژ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ چاہے اسے بین الاقوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ وہ اپنی فوجی بالادستی کو خطرہ میں پڑنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ عقل عام اور دفاع کا تقاضا ہے کہ امریکہ اس طرح کے ابھرنے والے ممکنہ خطروں کے خلاف پیشگی عسکری اقدام کرے، تاکہ وہ خطرے اپنی مکمل شکل نہ اختیار کرسکیں۔‘‘ (دی گارڈین ویکلی، 26 ستمبر تا 2 اکتوبر 2002 ترجمہ از بشیر www.islamway.com)

بیرون ممالک پر امریکی حملے

امریکہ نے سینکڑوں مرتبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہت سے ممالک پر فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ مثلاً ۱۹۴۲ء میں ٹوکیو اور جاپان کے دوسرے شہروں پر، ۴۶۔۱۹۴۵ء میںچین پر، ۱۹۴۵ءمیں گوشیمالہ پر،۱۹۵۰ء میں کوریا پر، ۱۹۵۸ءمیں انڈونیشیا پر، ۱۹۵۹ء میں کیوبا پر ،  ۱۹۶۰ءمیں پھر گوشیمالہ پر،۱۹۶۰ میں ویتنام ۱۹۶۴ء میں کنگو ۷۳۔۱۹۶۴ء میں لاس ۱۹۶۵ءمیں پیرو ، ۶۹،۱۹۶۷ء میں پھرگوشیمالہ پر،۱۹۷۲ءمیں شمالی ویتنام کے بینکانگ اور دیگر بندرگاہوں پر،۱۹۸۳ء میں غرناطہ ۱۹۸۶ء میں لیبیا ۱۹۸۹ء میں نیامہ پر 1991 میں یوگوسیلیا اور عراق پر، ۲۰۰۱ء میں افغانستان اور ۲۰۰۳ میں پھر عراق پر۔ (بہ حوالہ عالمی سہارا ۱۰؍ دسمبر ۲۰۰۵،ص:۸  )

افکار ونظریات کو بہ زور قوت مسلط کرنے کا منصوبہ

جنگی صورت حال کی دوسری اہم وجہ اپنے افکار و نظریات کو دوسروں پر بہ زورطاقت مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ ہر ملک و قوم کی اپنی الگ الگ تہذیب وثقافت ہے،اس کا سیاسی وجود ہے ،اس کے اپنے افکار و نظریات ہیں، ان سب کو بہ زورقوت بدل کر اپنے اقدار و نظریات کو ان پر مسلط کرنے کی کوشش کرنا یقینا دنیا کو تصادم و ٹکرائو کی دعوت دینا ہے۔جنگ عظیم اول و دوم کا حوالہ دیتے ہوئے ایک مغربی نظریہ ساز مفکر ـ’ سموئیل ہنٹنگٹن‘ اپنی کتاب “Clash of civilizatation”  میں لکھتا ہے :

’’ تاریخ کے ہر دور میں فوجی تصادم، تہذیبی امتیازات یا مختلف ثقافتوں کی باہمی ٹکراتی اقدار کی بنیاد پر ہی پیش آیا ہے ۔جنگ عظیم اول و دوم صرف برطانوی، فرانسیسی اور جرمن قوموں کے درمیان ہی نہیں لڑی گئیں، بلکہ یہ برطانوی، فرانسیسی اور جرمن ثقافتوں کے درمیان بھی تھیں۔‘‘ (ص ۲۷)

مغرب کا خیال ہے کہ مغربی تہذیب واقدار ہی کو غالب ہونے کا حق ہے۔ اس کے سامنے تمام اقدار و نظریات کو گھٹنے ٹیکنے ہو ں گےا س کے علاوہ کسی کو قیادت وسیادت کا حق نہیں ہے۔ مغربی لبرل طرز زندگی اور سرمایہ دار انہ نظام ہی واحد طرزِ زندگی ہے، بقیہ تمام طریقے حیات حماقت، جہالت اور روایت پسندی پر مبنی ہیں۔ ایک امریکی مضمون نگار ’ فرانس فوکویاما‘ نے امریکی خارجہ سیاست کے احساسات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’ دنیا حماقت کے ایک طویل دور سے گذرنے کے بعد یہ جان چکی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہی بہترین اقتصادی نظام ہے۔ مغربی لبرل نظام ہی انسانیت کے لیے واحد طرز زندگی ہے۔ امریکہ اور یورپ اپنے اقتصادی پھیلائو کی وجہ سے تاریخ کے آخری مرحلے میں قیادت کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، اور مغربی انسان ہی مکمل اور بہتر انسان ہے‘‘۔

The End of the History and the Lastman(بحوالہ: الاسلام والغرب والد یمقراطیہ، ازجودت سعید عبدالوہاب علوانی، ص: ۱۹۶  مطبوعہ ۱۹۹۷ء، دمشق)

مغربی سیاسی رہ نماؤں کا تو یہاں تک ماننا ہے کہ مغربی طاقت یا اس کے ہم فکر قوتو ںکے علاوہ جو بھی ہیں وہ سب شیطانی طاقتیں ہیں۔ وہاں کے عوام کو ان  سے بہ زور قوت آزادی دلانا ہماری ذمہ داری ہے۔مغربی سیاسی نظام پر گہری نظر رکھنے والے ’ فرانس فوکویاما‘ اپنے مقالہ The End of the History and the Lastman  میں لکھتا ہے :

’’غیر مغربی طاقتیں یا تو’برائی کا محور‘ (Axis of Evil)   ہیں یا ناکام ریاستیں(Failed States) ہیں، اور ان شیطانی اورناکام حکومتوں سے وہاں کے عوام کو نجات دلانا ان کی ذمہ داری ہے۔‘‘(بحوالہ: عالمی سہارا، ۲۶ ؍اگست، ۲۰۰۶  ص : ۱۷)

اسی احساس کا نتیجہ ہے کہ دنیا بدامنی اور تصام وٹکرائو کی آماج گاہ بنتی جا رہی ہے ۔ہر طرف جنگی صورت حال کا ماحول گرم ہے اور باہمی تعلقات میں مسلسل کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

سموئیل ہنٹنگٹن اپنی کتاب میں لکھتا ہے

’’مغربی کلچر کی عالم گیریت کے احساسات اور دوسری تہذیبوں کو اپنے اندر بہ زورقوت ضم کرنے کی کوشش مغرب اور باقی دنیا کے درمیان تعلقات کو مشکل اور کشیدہ بنانے کا اہم سبب ہے۔ مغرب اور اس کے مقابل دیگر تہذیبوں کے درمیان تعلقات مسلسل کشیدگی کا شکار ہوتے جارہے ہیں، بلکہ شدید قسم کی معاندانہ شکل اختیار کرنے کے بالکل قریب ہیں‘‘ (The Clash of Civilization, Page: 184)

مغربی قوتوں نے دوسری تہذیبوں کو ختم کرنے اوراستعمارانہ عزائم کو غالب کرنے کے لیے سنگین قسم کے تشدد کاراستہ اختیار کیا اور انہیں اسی پر یقین بھی ہے کہ جب تک دنیا کو پرتشدد راہ پر گامزن نہیں کیا جائے گا اس وقت تک اسی پر غلبہ پانا ممکن نہیں، چنانچہ مغربی قوتوں کو یقین ہے کہ افکار و اقدار یا مذہب کی عقلی اورمنطقی برتری سے دنیا پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ اس کا واحد راستہ صرف تشدد، تصادم اور جنگ ہے۔ سموئیل ہنٹنگٹن تشدد پر یقین رکھنے والی طاقتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی شہرہ آفاق کتابClash of Civilization  میں لکھتا ہے: ’’ مغرب نے دنیا کو اپنے افکار، اقدار یا مذہب کی برتری سے نہیں‘‘ بلکہ منظم تشدد کو استعمال کرنے کی برتری سے جیت لیا ہے۔مغربی اکثریت کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو کبھی نہ بھولیں (بہ حوالہ: تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو ،از: ڈاکٹر محمد شفیع خان شریعتی: ملت پبلی کیشنر حیدر پورہ سری نگر طبع اول ۲۰۱۳ء)

اسلام دشمنی جنگی صورت حال پیدا ہو جانے کی ایک اہم وجہ اسلام دشمنی ہے۔ سویت یونین کے منتشرہو جانے اور اشتراکیت کے دم توڑ دینے کے بعد اسلامی نظام ہی مغربی استعماریت کے لیے واحد حریف بن کر سامنے آیا۔کیوں کہ اس نظام میں اس کی زبردست صلاحیت ہے کہ وہ انسانیت کی ہمہ گیر رہنمائی کر سکے، اس لیے استعماری طاقت کے لیے سب سے بڑا خطرہ اسلام ہے، جسکی سب سے اہم وجہ قرآن کریم ہے جو ہر دور میں عالم گیر انقلاب برپا کرنے کی بھر پور اہلیت رکھتا ہے اور اپنے ماننے والوں سے دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔اس حقیقت سے واقفیت کی وجہ سے مغربی طاقت قران کو اپنے عالمی استعمار کے لیےسب سے بڑا خطرہ تصور کرتی ہے۔

ایک مغربی دانش و ر گلیڈاسٹون کہتا ہے

’’جب تک یہ قرآن موجود ہے ،مغرب کو مشرق اوسط پر غلبہ و ا قتد ارحاصل نہیں ہو سکتا، یہی نہیں بلکہ یورپ خطرے کے دہانے پر رہے گا۔ (فکری یلغار، ص : ۱۲)

ایک اور مغربی سیاسی فکرلارنس براؤن کا ماننا ہے :

’’ واقعی اگر کوئی بڑا خطرہے تو وہ اسلامی نظام میں پوشیدہ ہے، کیوںکہ اس میں پھیلنے اور اپنی بات منوانے کی زبر دست صلاحیت ہے جو مغربی استعماریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔‘‘ (ایضاً، ص: ۱۲)

دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام روحانی اور مادی قیادت کا انضمام ہے، جو دوسرے افکار کے اثرات کو بالکل قبول نہیں کر سکتا، اس لئے دنیا میں اس کو نافذ ہونے کا موقع بہ آسانی مل سکتا ہے۔مغربی تہذیب کی پر جو ش حامی ’ سیریں ہنٹر‘ اپنی کتاب The future of Islam and west  میں لکھتی ہے :

’’اسلام کو دشمنی کی نظر سے دیکھنے کے میلان کو اس مفروضے سے تقویت ملتی ہے کہ اسلام کی خصوصیت اور بے مثالیت خصوصاً روحانی اور دنیا وی قیادت کا ادغام یقینا‘ روبہ عمل لایا جا سکتا ہے، جس کے باعث اسلام نہ تو قابل تغیر ہے اور نہ وہ خودکسی فکرسے متأثر ہو سکتا ہے، بلکہ مذہب بے زار مغربی انسان کی غیر توحید پرستی کا شدید مخالف ہے۔‘‘ (بہ حوالہ: افکارملی، مارچ ۲۰۰۴ ،ص: ۳۱،بہ عنوان’ مغرب کا تہذیبی برتری کا احسا سِ عالم انسانیت کیلئے سنگین مسئلہ‘

سابق صدر ’جارج بش‘کا مشیرخاص اور وزارت دغاع کے دفاعی بورڈ کا رکن’ ایلیٹ کوہن ‘کا کہنا ہے :

’’امریکہ کا اصل دشمن دہشت گرد نہیں ’اسلام‘ ہے‘‘۔ (بہ حوالہ: ترجمان القرآن، جنوری ۲۰۰۲، بہ عنوان ماڈریٹ اسلام کی تلاش،ص:۴)

اس خطرہ سے نمٹنےکے لیے استعماری قوتوں کے پاس صرف ایک راستہ ہے، وہ ہے جنگ۔ مغربی مفکرین کا ماننا ہے کہ اپنی با لا دستی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بہت سے تجربات کیے گیے۔ ان میں سے صرف ایک ہی حکمت کارگر ہوئی، وہ یہ کہ ان رکاوٹوں کو سخت بمباری اورعسکری قوتوں سے تباہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا جائے۔چنانچہ ایک امریکی مفکر ’فرانسس فوکو یاما‘ اسلام کو جرمنی فاشزم سے تشبیہ دیتے ہوئے اس کے انجام کا حوالہ دے کر اور مغربی طاقتوں کو اسلام کے خلاف اسی عمل کو دوہرانے کی دعوت دیتے ہوئے لکھتا ہے:

’’جدید سرمایہ دارانہ تہذیب کے اصل دشمن اس دور کے فاسشٹ اسلامی انقلابی (Redical Islamists)   ہیں، یہ لوگ جدیدلیبرل، جمہوریت اور سرمایہ داری کو نفرت و حقارت اور دشمنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘‘ وہ مزید لکھتا ہے : ــ

’’ جرمنی فاشزم اپنے اندرونی اخلاقی تضاد کی بنیاد پر منہدم نہیں ہوا، بلکہ جرمنی کو بمباری کر کے ایک ڈھیر بنا دیا گیا۔ اور اتحادی افواج کے ذریعہ اس پر قبضہ کر لیا گیا۔‘‘ (The End of History, Page: 58)

چنانچہ آج استعماری طاقتیں اسی مفروضہ پر عمل پیراہیں، فلسطین، عراق، افغانستان بوسینیا وغیرہ ممالک پر جو مظالم ڈھائے جا رہے وہ اسی کا نتیجہ ہیں۔

جنگی صورت حال کے مہلک اثرات

جنگ کی خوف ناک صورت حال پیدا ہو جانے سے جہاں عالمی امن و امان تباہ ہو رہا ہےاور لاکھوں معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں،و ہیں عالمی معیشت بھی تبا ہی کے دہانے پر ہے۔ تمام ممالک اپنے اوپر آن پڑنے والی جنگوں کے لیے پیشگی تیاریاں کر رہے ہیں، جن میں پوری دنیا کی(اجتماعی طور پر) اور ہر ملک کی (انفرادی طور پر) آمدنی کا سب سے بڑا حصہ اسلحہ اور دفاعی تدابیر پر صرف ہو رہا ہے۔

امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ برائے فروخت اسلحہ کے مطابق  ۲۰۰۰ ء بعد  ۲۰۰۴ ء  میں سب سے زیادہ اسلحہ کی فروخت ہوئی، جس کی رقم ۱۳۷ ؍ارب ڈالر تھی۔ اس میں امریکہ کا حصہ12.4 ارب ڈالر تھا ، چین میں 10.2 ارب ڈالر اور ہندوستان میں 8  ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے گئے، (BBC.Com 11 Sep. 2005))

ایک رپورٹ کے مطابق 1995 سے 2004 ء تک یعنی صرف ۹ ؍سالوں میں دنیا کے سات امیر ترین ممالک میں دفاعی خرچ 1978 ؍ارب ڈالر سالانہ ہوگیا ہے، جب کہ ہندوستان کی آبادی کا 35  فیصد یومیہ ایک ڈالر سے کم آمدنی حاصل کر پاتا ہے۔ (رپورٹ از جویر سنگھ (Times of India 22 Feb 2005)    اسٹوک ہو م انٹرنیشنل پیس اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI)   کی رپورٹ کے مطابق 2008   میں پوری دنیا کے اندر مجموعی طور پر صرف دفاع پر 1464ارب (بلین) ڈالر صرف کے گئے۔ جنوبی ایشیا غربت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے زیادہ بدحال خطہ ہے۔ یہاں 60   کروڑ سے زیادہ افراد خطِّ افلاس سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ ہندوستان کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ دفاع کے لیے مختص ہے،مثلاً 2008-2009))  کا بجٹ اس طرح ہے:

ــ’’تعلیم میں 2.2  فی صد، صحت کیلئے 3.8  فی صد، زراعت کے لیے 7.6 فی صد، بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کیلئے 3.1  فی صد اور دفاع کیلئے14.6فی صد۔ گویا2008-09 کے بجٹ میں دفاع کےلیے 106500کڑور روپے خرچ کیے گیے اور 2009-10 میں یہ رقم بڑھ کر 141703 کروڑ روپے ہوگئی۔  (SIPRI-Report 2011)

ان رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی جنگی صورت حال ہی دنیا میں شدید ترین معاشی بدحالی پیدا کرنے، عالمی امن کی تمام راہوں کومسدود کرنے اور ہر طرف سیاسی واقتصادی کش مکش برپا کرنے کی اہم ترین وجہ ہے۔

نومبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau