دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

غلام نبی کشاف

حدیثوں میں تنبیہ کی گئی ہے کہ  امت مسلمہ میں عنقریب ایسے لوگ بھی پیدا ہونگے جو طہارت کی طرح دعا میں بھی حد سے زیادہ تجاوز کریں گے اور ان کی دعائیں تکلف وتکرار الفاظ سے عبارت ہونگی۔ قرآن کی اس آیت پرغور کرنا چاہیے۔

اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ (الاعراف: ۵۵)

اپنے رب کو پکارو، گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

حضرت عبد اللہ بن عباس ’’المعتدین‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’حد سے تجاوز کرنا خواہ دعا میں ہو یا کسی دوسرے عمل میں، یہ سب اللہ کو پسند نہیں‘‘۔ (فی الدعاء ولافی غیرہ، تفسیر ابن کثیر ج۲ص۳۸۷)مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’معتدین، اعتداء سے مشتق ہے۔ اعتداء کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا، معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ حد سے آگے بڑھنا خواہ دعا ہی ہو یا کسی دوسرے عمل میں سب کا یہی حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو دین اسلام نام ہی حدود وقیود کی پابندی اور فرماں برداری کا ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور تمام معاملات میں حدود شرعیہ سے تجاوز کیا جائے تو وہ بجائے عبادت کے گناہ بن جاتے ہیں۔

دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ دعا میں لفظی تکلفات قافیہ وغیرہ کے اختیار کئے جائیں جس سے خشوع خضوع میں فرق پڑے، دوسرے یہ کہ دعا میں غیر ضروری قیدیں شرطیں لگائی جائیں، جیسے حدیث میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل نے دیکھا کہ ان کے صاحبزادے اس طرح دُعا مانگ رہے ہیں کہ یا اللہ میں آپ سے جنت میں سفید رنگ کا داہنی جانب والا محل طلب کرتا ہوں تو موصوف نے ان کو روکا اور فرمایا کہ دعا میں ایسی قیدیں شرطیں لگانا حد سے تجاوز ہے، جس کو قرآن وحدیث میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ (مظہری بروایت ابن ماجہ وغیرہ)

تیسری صورت حد سے تجاوز کی یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے بد دعا کرے یا کوئی ایسی چیز مانگے جو عام لوگوں کے لیے مضر ہو، اسی طرح ایک صورت حد سے تجاوز کی یہ بھی ہے جو اس جگہ مذکور ہے کہ دعا میں بلا ضرورت آواز بلند کی جائے‘‘۔ (معارف القرآن، ج۳ ص: ۷۹۔۵۸۰، بحوالہ تفسیر مظہری، احکام القرآن)علامہ صابونی زیر نظر آیت ’’إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

ای لا یجب المعتدین فی الدعاء بالتشدق ورفع الصوت وفی الحدیث، انکم لا تدعون أصمّ ولا غائبا۔ (صفوۃ التفاسیر ج۱ص: ۴۱۸)

یعنی اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو دعا میں فصاحت دکھاتے اور آواز کو بلند کرتے ہیں اور حدیث میں آیا ہے کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں (بلکہ حاضر وموجود خدا کو) پکارتے ہو۔

دعا کا تعلق قلبی کیفیات سے ہوتا ہے ۔ جیسی قلبی کیفیت ہوگی ویسا ہی رجوع الی اللہ ہوگا۔ کبھی گریہ وزاری کا عالم ہوگا اور اپنی دُعا کو آدمی الفاظ کا جامہ بھی پہنادے گا اور کبھی کوئی حرف زبان پر نہیں آئے گا۔ آدمی بغیر لفظ کہے سراپا دعا بن جائے گا۔ اس وقت دل مانگے گا، بے حرف وندا، مقصود اس سے یہ ہے کہ جہاں اور جس عالم میں ہو اپنے رب کو نہ بھولو، اسے یاد رکھو اور اس کے حضور میں اپنی عاجزی وفروتنی کا اقرار واظہار کرتے رہو۔ واضح رہے قرآن میں کئی مقامات پر دُعا اور عبادت کو مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ ارشاد ہوا ہے۔

وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُونِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُونَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ۔ (المؤمن: ۶۰)

’’اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھ کو پکارو، میں تمہاری دُعا قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔

اس آیت میں دعا اور عبادت مترادف معنی میں آئے ہیں۔ کہ دعا اور عبادت کی اصل ایک ہی ہے کہ اللہ کے آگے جھکنا اور اس کو پکارنا۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں دعا کی کتنی بڑی اہمیت آئی ہے کہ اسے عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ موجودہ دور کےبہت سے مسلمان دعا اور عبادت کے حقیقی شعور اور تصور سے غافل ہیں۔ حالانکہ دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس میں ایک بندہ اللہ کے سامنے اپنے فقر وعجز کا اظہار کرتا ہے اور اس کی عظمت وقدرت کا اعتراف کرتے ہوئے اس سے اپنی حاجت پوری کرنے کی درخواست کرتا ہے لیکن جب وہ دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ بات اس حدیث میں آئی ہے۔

عـن أبی ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انّہ من لم یسأَل اللّٰہ یغضبُ علیہ۔ (تحفۃ الاحوذی، ابواب الدعوات، باب منہ ۳، ج۹،ص: ۲۲۱، حدیث نمبر ۳۵۹۷)حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا ہے اس پر اللہ غضبناک ہوجاتا ہے۔

اس حدیث سے دعا مانگنے کی ترغیب ملتی ہے۔ کیونکہ دعا نہ کرنا عبادت سے اعراض کے مترادف ہے اور جو اللہ کی ناراضگی کا باعث بن جاتا ہے حدیث کے اس مفہوم کو ایک شاعر نے بڑی خوبی کے ساتھ اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے۔

اللّٰہ یغضب ان ترکتَ سؤالہ وبنی آدم حین یسأل یغضب (تفسیر ابن کثیرج۴ص۱۰۸)

اللہ کی شان یہ ہے کہ جب تو اس سے نہ مانگے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ اور بنی آدم (یعنی انسان) کی یہ حالت ہے کہ جب اس سے مانگا جائے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے۔

دعا ہر حال میں صرف ایک اللہ سے مانگنی چاہئے۔ اور اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے سے دعا مانگنا شرک ہی نہیں بلکہ وہ اس کی دعا کبھی سن پائے گا اور نہ کبھی جواب ہی دے پائے گا۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے۔

۱۔لَہُ دَعْوَۃُ الْحَقِّ وَالَّذِیْنَ یَدْعُونَ مِن دُونِہِ لاَ یَسْتَجِیْبُونَ لَہُم بِشَیْْء ٍ إِلاَّ کَبَاسِطِ کَفَّیْْہِ إِلَی الْمَاء  لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ہُوَ بِبَالِغِہِ وَمَا دُعَاء  الْکَافِرِیْنَ إِلاَّ فِیْ ضَلاَلٍ۔ (الرعد: ۱۴)

’’اس (خدا) کو پکارنا برحق ہے اور اس کے سوا جن کو لوگ پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ ان کا پکارنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھ پانی کے آگے پھیلائے ہوئے ہو تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے۔ حالانکہ وہ کبھی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ اور کافروں کی پکار تو بالکل بے سود ہے‘‘۔

۲۔وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن یَدْعُو مِن دُونِ اللَّہِ مَن لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہُ إِلَی یَومِ الْقِیَامَۃِ وَہُمْ عَن دُعَائِہِمْ غَافِلُونَ                                                          (الاحقاف: ۵)

’’اور ان سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوسکتے ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو قیامت تک ان کوجواب نہیں دے سکتے اوروہ ان کی پکار سے بے خبر ہیں‘‘۔

۳۔یَا أَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّہِ لَن یَخْلُقُوا ذُبَاباً وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَہُ وَإِن یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْْئاً لَّا یَسْتَنقِذُوہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ۔                                                                               (الحج: ۷۳)

’’اے لوگو، ایک مثال بیان کی جاتی ہے تو اس کو غور سے سنو، تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگرچہ وہ سب کے سب اس کے لیے اکھٹا ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو وہ اس کو اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی گئی وہ بھی کمزور‘‘۔

ان بصیرت افروز آیات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کرنے اور دعا کرنے کی ترغیب دے رہا ہے وہاں دوسری طرف شرک کے ان تمام چیزوں کو ان کے جڑوں سے اکھاڑ پھینکتا ہے جن سے ایک انسان اللہ کو چھوڑ کر ان سے خیالی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہوتا ہے۔ اورمحض اندھی عقیدت میں ان کو پکارتا اور ان کو اپنا حاجت روا سمجھتا ہے۔ چونکہ موجودہ دور کے مسلمانوں کی بڑی تعداد شرک میں مبتلا ہے۔ جن میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے جوکہ ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔ لیکن کاش کہ وہ ان آیات پر غور کرتے تو یہ بات انھیں بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتی تھی کہ ان کا خالق اور مالک صرف اللہ کی ذات ہے اور اس کے سوا کسی چیز کی عبادت کرنا اور اسے پکارنا یہ سب شرک ہے، نیز اس آیت سے یہ سچائی بھی سامنے آتی ہے کہ اس صورت میں مانگنے والا بھی اور جن سے مانگا جارہا ہے، وہ بھی ایک دوسرے کی مدد کرنے سے بے بس اور کمزور ہیں۔  (ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ)

موجودہ دور کے مسلمانوں میں زیادہ تر تعداد ان کی ہے جو دعا کے بارے میں افراط وتفریط کے شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ دُعا کی حقیقی روح اور اس کی ضرورت سے قطعی طور پر بے خبر معلوم ہوتے ہیں اور وہ اس بات سے بھی واقف نہیں ہیںکہ کن کن مقامات پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت سے دعا مانگنے کی ترغیب دی ہے۔ اور کس طرح ہر آدمی کو اس کا اہتمام انفرادی طور پرکرنا چاہئے۔ لیکن آجکل ہمارے خطباء واعظین اور ائمۂ مساجد فرض نمازوں کے بعد لمبی لمبی اور اوٹ پٹانگ قسم کی دعائیں مانگتے ہیں ان میں بعض تو دعا کے دوران ہاتھ اٹھاتے ہوئے کچھ واقعات بھی بتاتے رہتے ہیں جو دعا کے بجائے تقریر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ جس سے دعا کا خشوع وخضوع اور  مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میںایک دوسرا طبقہ بھی ہے جو دعا کے بارے میں بظاہر غیر مسنون طرز فکر وعمل پر سخت نکیر تو کرتا ہے مگر غیر ضروری شدت کی وجہ سے وہ خود بھی غلطی کا شکار ہوجاتا ہے کہ وہ دعا کا بہت کم التزام کرتا ہے۔ حالانکہ احادیث سے ثابت ہے کہ بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں دعا مانگنے کی ترغیب وتلقین کی گئی ہے۔ اور قبولیت دعا کا وعدہ بھی دیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ طبقہ ان مقامات پر بھی دعا کا خصوصیت کے ساتھ التزام نہیں کرتا ہے۔ اس لیے دعا کے بارے میں اسوئہ نبوی جاننا ضروری ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مقامات پر دعا مانگنے کی ترغیب دی ہے ان کے بارے میں یہاں چند احادث نقل کی جاتی ہیں۔

رات کے آخری حصہ میں دعا مانگنے کی ترغیب کے بارے میں ایک حدیث اس طرح آئی ہے۔

عـن أبـی ہریرۃ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ینزل ربّنا تبارک وتعالٰی کل لیلۃ الی السماھ الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الاخر یقول من یدعونی فاستجیب لہ؟ من یسألنی فاعطیہ، من یستغفرنی فاغفر لہ۔ (فتح الباری، کتاب التہجد، باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل، ج۳، ص: ۳۶، حدیث نمبر ۱۱۴۵)

’’حضرت ابو ہریرہ سے روات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا رب تبارک وتعالیٰ، ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے، کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے؟ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے؟ کہ میں اسے دوں، کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے؟ کہ میں اسے بخش دوں‘‘۔

اس حدیث میں رات کے آخری حصہ، جو نماز تہجد کا وقت ہوتا ہے، میں خصوصیت کے ساتھ دعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری حصہ میں آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو پکارتا ہے کہ جس کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس کا سوال کرے تو میں اس کی ضرورت کو پورا کردوں۔ اس لیے رات کے آخری پہر کی یہ ایسی گھڑی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں خشوع وخضوع کے ساتھ دعا مانگنے اور قبولیت دعا کے زیادہ امکانات بتائے گئے ہیں۔نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر زمانہ کے نیک بندگانِ خدا اس لیے آگے نکل گئے اور صاحب کمال بن گئے کہ انھوں نے دعا اور نفل عبادات کے لیے تہجد اور سحرگاہی کو اپنا وظیفہ او رمعمول حیات بنالیا تھا۔ جیسا کہ اس سلسلہ میں علامہ اقبال نے بہت خوب فرمایا ہے   ؎

عطار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی

۲۔نماز کے سارے ارکان میں سجدہ کو خاص اہمیت اور فضیلت حاصل ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں سجدہ کی حالت میں کثرت سے دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حدیث اس طرح آئی ہے۔

عن أبی ہریرۃ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال أقرب ما یکون العبد من ربّہ وہو ساجد فاکثروا الدعا۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ج۲، ص: ۴۳۸، حدیث نمبر ۴۸۲)

’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے تو (سجدے میں) تم کثرت سے دعائیں کیا کرو‘‘۔

اس حدیث میں جس سجدے کا ذکر آیا ہے وہ نماز سے خارج یا الگ سجدہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ نماز ہی کا سجدہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ سجدہ کو قرب الٰہی حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ بتایا  گیا ہے۔ یہاں قرب سے جسمانی یا مکانی قرب مراد نہیں بلکہ مرتبے اور عزت والا قرب مراد ہے۔ اس لیے جب ایک بندہ سجدہ کرتا ہے تو اللہ کو اپنے بندہ کی یہ ادا بہت پسند آتی ہے۔ اور وہ اس سے راضی ہوجاتا ہے۔ یہ تو حدیث کی بات ہے جبکہ قرآن میں بھی سجدہ کو قرب الٰہی کا اہم ترین ذریعہ بتایا گیا ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے۔

وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ (العلق: ۱۹)

اور سجدہ کرو اورقریب ہوجاؤ۔

مطلب یہ کہ ایک انسان کو غایت تذلیل سجدہ میں ہوتی ہے کیونکہ وہ سجدہ میں اپنے اشرف ترین عضو پیشانی کو اللہ کے سامنے خاک پر رکھ دیتا ہے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا شمس پیرزادہ نے یہ چند سطریں بھی تحریر فرمائی ہے۔

’’سجدہ جونماز کا اہم ترین رکن ہے قرب الٰہی کا اہم ترین ذریعہ ہے کیونکہ سجدہ میں انسان اپنی پیشانی کو جو جسم کا اشرف ترین حصہ ہے زمین پر رکھ دیتا ہے اور خدا کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی پاکیزگی بیان کرتا ہے۔ (سبحان ربی الاعلیٰ)‘‘

)دعوۃ القرآن، ج۳، ص: ۲۳۴۸(

سجدہ میں کثرت دعا کی کتنی زیادہ اہمیت ہے؟ اس کا اندازہ ایک اور حدیث سے بھی اچھی طرح ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے اور قدرے طویل بھی ہے اس لیے موقع کی مناسبت سے اس کا آخری حصہ ہی یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔

وانی نہیت أن اقرأ القرآن راکعًا أو ساجدًا فأمّا الرّکوع فعظّموا فیہ الربّ عزّ وجلّ وأمّا السّجود فاجتہدوا فی الدّعاء فقمن أن یستجاب لکم۔ (شرح مسلم للنووی، کتاب الصلاۃ باب النہی عن قراء ۃ القرآن فی الرکوع، ج۲، ص: ۴۳۴، حدیث نمبر ۴۹۷)

اور مجھے رکوع یا سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کردیا گیا ہے رہا رکوع، تو اس میں تم اپنے بلند وبرتر پروردگار کی بڑائی کیا کرو اور رہا سجدہ، تو اس میں تم دعا میں خوب کوشاں رہو، کیونکہ یہ تمہاری دعا کی قبولیت کے لیے زیادہ بہتر ہے۔

۳۔بعض روایات کے مطابق نماز کی حالت میں تلاوت کے دوران جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی آیت رحمت آتی تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت کا سوال کرتے اور جب کوئی آیت عذاب آتی تو آپ جہنم اور اس کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ اس کا ذکر جس حدیث میں آیا ہے اس کا ابتدائی حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

عن حذیفۃ قال صلّیت مع النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات لیلۃ فافتتح البقرۃ فقلت یرکع عند المئۃ ثمّ مضیٰ فقلت یصلّی بہا فی رکعۃ فمضیٰ فقلتُ یرکع بہا، ثمّ افتتح النساء فقرأہا، ثمّ افتتح آل عمران فقرأہا یقرأ مترسلا، اذا مرّ بآیۃ فیہا تسبیح سبّح، واذا مرّ بسوال سأل واذا مرّ بتعوذٍ تعوّذ۔ الحدیث (شرح مسلم للنووی، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا، باب استحباب تطویل القرأۃ فی صلاۃ اللیل، ج ۳، ص: ۳۱۸، حدیث نمبر ۷۷۲)

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میںنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھی تو آپؐ نے سورہ بقرہ شروع کردی، میںنے سوچا کہ آپ سو آیات پڑھنے کے بعد رکوع کریں گے، مگر آپؐ بدستور پڑھتے رہے، میں نے سوچا کہ (اس پوری سورہ کو) ایک رکعت میں پڑھیں گے، پھر رکوع کریں گے، مگر آپؐ نے (بنا رکوع کئے) سورہ نساء شروع کردی، پھرسورہ آل عمران شروع کردی۔ اور ترتیل کے ساتھ پڑھتے رہے۔ اور جب کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں سوال کا ذکر ہوتا تو آپؐ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں (جہنم سے)پناہ مانگنے کا ذکر ہوتا تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ مانگتے۔

امام نووی اپنی ایک کتاب میں اس حدیث کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں۔

یسن لکل من قرأ فی الصلاۃ أو غیرہا اذا مر بایۃ رحمۃ ان یسأل اللّٰہ تعالی من فضلہ واذا مرّ بآیۃ عذاب ان یستعیذ بہ من النار او من العذاب او من الشر او من المکروہ۔ (الاذکار، ص: ۵۱)

’’ہر اس شخص کے لیے، جو نماز کے اندر یا نماز سے باہر قرآن کی تلاوت کرے، سنت یہ ہے کہ کوئی آیت رحمت آئے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرے اور جب آیت عذاب آئے تو جہنم اور اس کی آگ یا اس کے عذاب یا اس کے شر اور یا پھر کسی ناگوار بات سے پناہ مانگے۔‘‘

ان الفاظ کے بعد امام نووی نے مذکورہ بالا حدیث نقل فرمائی اور آخر پر یہ بھی تحریر فرمایا ہے۔

قال اصحابنا یستحب ہذا التسبیح والسؤال والاستعاذۃ للقاری فی الصلاۃ وغیرہا وللامام والمأموم والمنفرد لانہ دعاء فاستووا فیہ کالتامین۔ (ایضا)

’’ہمارے علماء (شوافع) فرماتے ہیں کہ یہ تسبیح، سوال اور تعوذ کرنا، دورانِ تلاوت قاری کے لیے مستحب ہے۔ خواہ وہ نماز میںہو یا نماز سے باہر، امام ہو یا مقتدی، یامنفرد،کیونکہ یہ دعا ہے، لہٰذا آمین کی طرح اس میں سب برابر ہیں‘‘۔

عن أبی أمامۃ قال قیل یا رسول اللّٰہ، أیّ الدّعاء اسمعُ؟ قال جوفَ اللّیل الآخر ودُبُر الصلوات المکتوبات۔ (تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب ۸، ج۹، ص: ۳۳۱، حدیث نمبر: ۳۷۳۰)

’’حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیںکہ کسی نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول، کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا، رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد۔ ‘‘

)جاری

جولائی 2017

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau