عورتَ: اسلامی معاشرے میں

ایک مطالعہ

محمد رضی الاسلام ندوی

جماعت اسلامی ہند کے موجودہ   امیر اور ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کے صدر مولانا سید جلال الدین عمری کی کتاب ’’عورت اسلامی معاشرے میں‘‘  اسلام میں حیثیتِ نسواں کے موضوع پر اردو زبان کی ایک اہم اور معروف کتاب ہے۔ نصف صدی قبل جب یہ پہلی مرتبہ شائع ہوئی تھی، اس وقت تو اس طرز کی کوئی کتاب اردو میں موجود نہیں تھی، لیکن اب بھی، جب کہ اس موضوع پر بہت سی کتابیں منظر عام پر آگئی ہیں، اپنے مباحث کی جامعیت، استدلال کی قوت اور اسلوب کی شگفتگی میں دوسری کتابوں کے مقابلے میں یہ امتیازی شان رکھتی ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندستان میں یہ تیرہ ﴿١۳﴾مرتبہ اور پاکستان میں اس سے زائد مرتبہ طبع ہوچکی ہے۔ اب مصنف کی نظر ثانی کے بعد اس کا نیا ایڈیشن منظر عام پر آیا ہے، جس میں بہت سے نئے مباحث کا اضافہ کیا گیا ہے اور زبان و بیان کے لحاظ سے بھی اسے بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

عورت کے بارے میں دو بنیادی سوالات ہمیشہ سے اٹھتے رہے ہیں۔ ایک یہ کہ معاشرے میں اس کا صحیح مقام و مرتبہ کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ مرداور عورت کے جنسی تعلقات کی صحیح نوعیت کیا ہے؟ اس کتاب میں انھی دونوں مباحث پر مفصّل اظہارِ خیال کیا گیا ہے اور اسلامی نقطۂ نظر کی مدلل وضاحت کی گئی ہے۔مختلف تہذیبوں ، مذاہب اور ممالک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عورت ان میں عموماً اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہی ہے۔ اسے مرد کا حاشیہ اور ضمیمہ سمجھا گیا ہے۔ پھر جب صنعتی انقلاب کے نتیجے میں اس کا ردّ عمل ہوا اور مساوات اور آزادی کی تحریکیں چلیں تو مرد اور عورت کے حقوق اور ذمے داریوں میں کوئی فرق روا نہ رکھا گیا اور عورت سے ہر وہ کام لیا جانے لگا جو مرد کرسکتا ہے۔ بے محابا آزادی کے نتیجے میں مرد اور عورت کے جنسی تعلقات بھی بے اعتدالی کا شکار ہوئے اور آوارگی اور بے راہ روی کو فروغ ملا۔ اسلام کا نقطۂ نظر اس سلسلے میں توازن اور اعتدال کا شاہ کار ہے۔ اس نے سماج میں عورت اور مرد کا صحیح مقام اور نظام تمدن میں دونوں کی صحیح حیثیت متعین کی۔ زیر نظر کتاب میں پوری قوت، جرأت اور اعتماد کے ساتھ اسلامی نقطۂ نظر کی ترجمانی کی گئی ہے۔

کتاب کے آغاز میں دور قدیم اورعہد جدید میں عورت کے مقام اور حیثیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں یونان، روم اور قدیم یورپ میںاوریہودیت، عیسائیت اور ہندو مت میں عورت کی پست حیثیت کو حوالوں کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ پھر اس کے ردّعمل میں جدید نظریات نے اس کو کتنی آزادی عطا کردی اور اس کے نتیجے میں کس قدر جنسی آوارگی عام ہوئی اس کا بھی سنجیدہ تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔

اسلامی معاشرے میں عورت کے مقام اور مرتبے کا جائزہ لینے سے قبل بہ طور پس منظر عرب کے دورِ جاہلیت میں عورت کی پست حیثیت کو واضح کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام حقوق سے محروم تھی ، اسے موجبِ ذلت و عار سمجھا جاتا تھا، بل کہ بعض قبائل میں اسے پیدا ہوتے ہی درگور کردیا جاتا تھا۔ اس کے بعد تفصیل سے عورت کے بارے میں اسلام کے اساسی تصورات سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب کا یہ حصہ بہت اہم ہے اور اس میں مصنف گرامی نے سابقہ ایڈیشنوں کے مقابلے میں خاصا اضافہ کیا ہے۔

کتاب کی ایک بنیادی بحث ’’عورت کا حقیقی دائرۂ کار‘‘  کے عنوان سے ہے۔ اس بحث کا خلاصہ مصنف کے الفاظ میں یہ ہے :

 ’’اسلام نے ریاست اور معاشرے کے تحفّظ کی ذمے داری اصلاً مرد کے سرڈالی ہے اور عورت کی جدّو جہد کا رخ گھر کی طرف موڑ دیا ہے۔ اس کی حقیقی پوزیشن یہ نہیں ہے کہ وہ بازار کی تاجر، دفتر کی کلرک، عدالت کی جج اور فوج کی سپاہی بنی رہے۔ بل کہ اس کے عمل کا حقیقی میدان گھر ہے۔‘‘        ﴿ص:١١۴۔١١۵﴾

’’کسی بڑی مصلحت کے تحت اس کو گھر چھوڑنے کی اجازت دی بھی گئی ہے یا کسی عبادت کے اجتماعی طریقے کو اس کے لیے مفید یا ضروری سمجھا گیا ہے تو اس کے ساتھ ایسی تدابیر بھی اختیار کی گئی ہیں جو ہر آن اس کے اندر یہ احساس تازہ رکھتی ہیں کہ اس کا حقیقی مقام وہی ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔ گھر سے باہر نکلنے کے یہ معنیٰ ہرگز نہیں ہیں کہ وہ حدودِ نسوانیت سے بھی باہر آچکی ہے۔‘‘                        ﴿ص:١۲۰ ﴾

عورت کا حقیقی دائرۂ کار اس کا گھر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام اسے عضوِمعطّل کی حیثیت دیتا ہے اور معاشرے سے اسے الگ تھلک کردیتا ہے۔ اس نے عورت کو ان حقوق سے محروم نہیں رکھا ہے جو اجتماعی زندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہیں، بل کہ وہ اسے اس قابل بناتا ہے کہ معاشرے میں کامیاب و بامراد زندگی بسرکرسکے۔ اسی وجہ سے اس نے اسے علم و عمل کے میدان میں پوری آزدی دی ہے۔ مصنف محترم نے اس موضوع پر تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں اور مدلّل بحث کی ہے۔ انھوں نے قرونِ اولیٰ کی بہت سی مثالیں پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ خواتین کو علم حاصل کرنے اور اس کی توسیع و اشاعت میں حصہ لینے کی پوری آزادی حاصل تھی۔ اس کے معاشرے پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے۔ ساتھ ہی انھیں ضروریات زندگی کے حصول اور امورِ خیر کی تکمیل کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت تھی۔ چنانچہ وہ کاشت کاری، تجارت اور صنعت و حرفت کے کاموں میں حصہ لیتی تھیں۔

کتاب کی اگلی بحث کا عنوان ہے‘’اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں عورت کا کردار‘‘  ۔اس میں مصنف محترم نے صدرِ اول کی خواتین کی مثالیں پیش کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ انھوں نے دین کے لیے بڑی قربانیاں پیش کی ہیں، مصیبتیں سہی ہیں، اللہ کے دین کو سربلند دیکھنے کی تمنا میں محاذِجنگ پر بھی مختلف خدمات انجام دی ہیں، حق کی نصرت و حمایت میں زبان کی قوت بھی صرف کی ہے، معاشرے میں کہیں بگاڑ نظر آیا تو اس کے بدلنے اور اس کی جگہ خیر وصلاح کو قائم کرنے کی جدّوجہد کی ہے، ذمے دارانِ ریاست کے سامنے بے خوف و خطر حق کا اظہار کیا ہے، ان پر تنقید کی اور ان کا احتساب کیا ہے، انھیں نصیحتیں کی ہیں اور ذمے داروں نے بھی ان کی آرائ اور مشوروں کا احترام کیا ہے اور ان سے استفادہ کیا ہے۔ اس طرح اسلامی معاشرے نے مختلف مسائل میں عورت کی رائے اور فہم سے فائدہ اٹھایا ہے اور اپنی تعمیر و تشکیل میں بھی اس کی عملی صلاحیتوں سے مدد حاصل کرتا رہا ہے۔ اس ضمن میں آگے فاضل مصنف نے کئی اہم مسائل سے بحث کی ہے اور ان کے سلسلے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دُور کی ہیں۔ مثلاً بعض معاملات میں شریعت نے دوعورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے۔ اس سے بہ ظاہر عورت کی تنقیص معلوم ہوتی ہے۔ انھوں نے عورت کی گواہی سے متعلق فقہائ کے خیالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس موضوع پر مفصّل اور مدلّل بحث کی ہے۔ عورت کی عملی صلاحیت کے ضمن میں مصنف محترم فرماتے ہیں کہ وہ اپنے فطری دائرے سے باہر وقتِ ضرورت معاشرتی خدمات انجام دے سکتی ہے، لیکن اس کے لیے چند بنیادی اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اپنی حقیقی پوزیشن ﴿خانگی زندگی کی استواری﴾ پر نظر رکھے، اپنے خاوند کی اطاعت کرے اور نامحرموں سے اختلاط اور میل جول سے بچے۔ ایک اہم بحث مصنف نے ’’عورت اور منصبِ امامت‘‘  کے عنوان سے اٹھائی ہے۔ ان کانقطۂ نظر یہ ہے :

’’اسلام اس کے خلاف ہے کہ عورت کے نازک ہاتھوں میں ملت کی قیادت و رہ نمائی کی زمام دے دی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے جن اوصاف و خصوصیات کی ضرورت ہے وہ اس میں طبعاً موجود نہیں ہیں۔ یہ انتہائی غیر فطری بات ہوگی کہ عورت جس دائرے میں کما حقّہ ذمے داری ادا نہیں کرسکتی، اس پر اس کا بارِ گراں ڈال دیا جائے۔‘‘

﴿ص:۶۶۲﴾

اس نقطۂ نظر سے اختلاف کرنے والے موجودہ دور کے بعض محققین جنگِ جمل میں حضرت عائشہؓ  کی شرکت اور ملکۂ سبا کی حکم رانی کو اپنی اس رائے کے حق میں بہ طور دلیل پیش کرتے ہیں کہ اسلام جس حد تک مرد کو سیاسی جدّو جہد کاحق دیتا ہے اس حد تک سیاست میں عورت کے عمل دخل کو بھی جائز سمجھتا ہے۔ مصنف نے اس رائے کو رد کیا ہے اور اس پر بہت مفصّل اور مدلّل بحث کی ہے۔

کتاب کی دوسری اہم اور مبسوط بحث ’’جنسی تعلقات‘‘  کے عنوان سے ہے۔ فاضل مصنف نے بیان کیا ہے کہ انسانی معاشرے ’’جنس‘‘ کے معاملے میں شروع سے افراط و تفریط کا شکار رہے ہیں ۔ تفریط نے رہبانیت کی شکل اختیار کی، جس کے کڑوے کسیلے پھل صدیوں تک انسانوں کو کھانے پڑے اور افراط نے اباحیت اور آوارگی کا روپ دھارا، جس میں دورِ جدید کا مغربی معاشرہ اور اس کے ہم نوا غرق ہیں۔ اسلام کا نقطۂ نظر اس معاملے میں انتہائی متوازن اور معتدل ہے۔ وہ راہبانہ نقطۂ نظر کی تردید کرتا ہے، جائز حدود میں جنسی تسکین کی نہ صرف اجازت دیتا ہے، بل کہ اس کی تاکید کرتا ہے اور ہر طرح کے ناجائز تعلق پر روک لگاتا ہے۔ اس معاملے میں وہ فرد کی اخلاقی تربیت کرتا ہے، معاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس سلسلے میں قانون کا بھی سہارا لیتا ہے اور ان کی خلاف ورزی پر سزائیں بھی متعین کرتا ہے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اس معذرت خواہانہ لب و لہجہ سے بالکل پاک ہے، جسے موجودہ دور کے بہت سے مسلم محققین اور دانش ور اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آج، جب کہ مغربی تہذیب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، ان محققین کی کوشش ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو اس سے ہم آہنگ کرکے دکھائیں۔ کسی مسئلے میں اسلام کی واضح تعلیمات ان کا ساتھ نہیں دیتیں تو وہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ قرآن و حدیث کا کوئی اشارہ یا اسلامی تاریخ کا کوئی واقعہ ہی مل جائے، جس سے وہ اسلام او رمغرب کی ہم آہنگی ثابت کرسکیں۔ حالاںکہ قرآن و حدیث کے اشاروں کو ان کی عام تعلیمات ہی کی روشنی میں سمجھنا چاہیے اور اسلامی تاریخ کے کسی استثنائی واقعہ کی ایسی توجیہہ کرنی چاہیے جو معاشرے کے عمومی رویّے سے مطابقت رکھتی ہو۔ محترم مصنف اس مرعوبیت کے اثر سے بالکل آزاد ہیں۔ ان کا ذہن بالکل صاف ہے۔ وہ بلا خوف لومۃ لائم پوری جرأت اوراعتماد کے ساتھ عورت کے حقوق اور حیثیت سے متعلق اسلامی تعلیمات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

کتاب کی دوسری خوبی اس کا استدلالی انداز ہے۔ فاضل مصنف نے کوئی بات بلادلیل اور بلاحوالہ نہیں کہی ہے۔ قدیم اور جدید تہذیبوں، معاشروں اور مذاہب میں عورت کی حیثیت کی بحث ہو، یا اسلامی معاشرہ میں اس کے مقام اور مرتبے کا بیان ہو، ہر جگہ انھوں نے معتبر اور مستند مآخذ و مراجع استعمال کیے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے تذکرے میں قرآن و حدیث کے حوالے دیے ہیں۔ اجتہادی اور استنباطی مسائل میں فقہائ کی آرائ کا ذکر کیا ہے اور ان میں اختلاف کی صورت میں تطبیق اور ترجیح کی خدمت بھی انجام دی ہے اور بسا اوقات حسب ضرورت اپنی آراء بھی پیش کی ہیں۔

کتاب کی تیسری خوبی یہ ہے کہ اس میں اسلام میں عورت کے مقام اور مرتبے کو واضح کرنے والی تمام آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس چیز نے کتاب کو بہت جامع بنادیا ہے۔ مصنف نے جس طرح موضوع سے متعلق تمام مصادر اور نصوص کا استیعاب کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ گنجایش کم ہی معلوم ہوتی ہے کہ موضوع سے متعلق قرآن کی کوئی آیت یا کوئی حدیث زیرِ بحث آنے سے رہ گئی ہو۔بعض مباحث کے ضمن میں مصنف کی آرائ سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے اورہر انسانی کاوش کے سلسلے میں اس کی پوری گنجایش ہوتی ہے، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بحث چھوٹ گئی ہے ،یا کوئی پہلو تشنہ رہ گیا ہے۔

کتاب کی چوتھی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے اسلامی معاشرے کے خط ّو خال نمایاں کرتے ہوئے اسلام کی ابتدائی صدیوں کا مثالی نمونہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے صحابیات، تابعیات اور تبع تابعیات کی علمی اور عملی سرگرمیاں تفصیل سے بیان کی ہیں اور اس سلسلے میں حدیث، سیرتِ نبوی، سیرتِ صحابہ و صحابیات، اسماء الرجال اور تاریخ و سوانح کی کتابوں سے واقعات و روایات کا حتی الامکان استقصاء کیا ہے۔ اس طرح قارئین کے سامنے پوری طرح معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں صدر اول کی مسلم خواتین کا مثالی کردار آجاتا ہے، جسے وہ اپنے لیے نمونہ بناسکتے ہیں۔

یہ کتاب اگرچہ نصف صدی قبل شائع ہوئی تھی، لیکن اپنے مباحث کی اہمیت، استدلال کی قوت اور شستہ و رواں اسلوبِ بیان کی وجہ سے اب بھی یہ اپنے موضوع پر ایک بھرپور اور جامع کتاب ہے۔ مصنف کی نظرثانی اور اضافوں نے اس کی افادیت کو دوچند کردیا ہے۔

اس موضوع پر مصنف کی ایک دوسری کتاب ’’عورت اور اسلام‘‘  کے عنوان سے ہے۔ اس میں بھی کتاب و سنت کی روشنی میں عورت کے مقام و مرتبہ سے بحث کرنے کے ساتھ صدر اول کی مسلم خواتین کی دینی و علمی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کے مثالی نمونے پیش کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کا رخ زیادہ تر تاریخی ہے، جب کہ زیر بحث کتاب کا انداز علمی ہے۔ دونوں کتابوں کے مباحث کی یکجائی سے اسلامی معاشرہ میں عورت کا تاب ناک کردار قاری کے سامنے آجاتا ہے۔

﴿شائقین یہ کتاب مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے حاصل کرسکتے ہیں﴾

جولائی 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau