آپ کی رائے

قارئین

مکرمی!                      السلام علیکم

ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ایک مشکوک کارروائی تھی اور اس کے بعد ملنے والے شواہد اس بات کو ثابت نہ کرسکے کہ واقعتہً اس حملے کے پیچھے القاعدہ یا اسامہ بن لادن کاہاتھ تھا۔ البتہ امریکا نے اس حملے کو القاعدہ سے جوڑکر پوری دنیا کو دہشت گردی کے نام پرمسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی تھی۔ الحمدللہ امریکا کا یہ مقصد دھیرے دھیرے ناکام ہوتاجارہا ہے۔جس وقت ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہواتھا، ہندستان نے بھی اندرونِ ملک دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے ستمبر ۲۰۰۱؁ء میں سب سے پہلا نشانہ طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کو بنایا۔ لیکن آج تک سیمی کے خلاف کوئی بھی ٹھوس ثبوت عدالتوں میں پیش نہیں کیاجاسکا۔ اسی کے پیش نظر ۲۰۰۹؁ء میں ہانریبل جج مسز گیتا متّل نے اس پابندی کاخاتمہ کردیا۔ مگر مرکزی حکومت نے راتوں رات سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرکے اس پابندی کو برقرار رکھا۔ تاکہ جسے چاہے سیمی کے نام پر گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال سکے۔ چاہے اس کا تعلق سیمی سے رہا ہو یا نہ رہاہو۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں ہونے والی زیادہ تردہشت گردانہ کارروائیوں میں مسلمانوں کاکوئی بھی ہاتھ نہیں رہاہے۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی شدّت پسند تنظیموں نے ملک میں دہشت گردی کو بڑھاوادیا ہے۔

دہشت گردانہ کارروائیوں کی روک تھام کے لیے ۲۰۰۴؁ءمیں اے ٹی ایس ﴿دہشت گرد مخالف دستہ﴾ قائم کیاگیا۔ اس کے بعد دہشت گرد کارروائیاں رکنے کے بجائے بڑھتی ہی چلی گئیں۔ اورنگ آباد میں ایک فوجی آفیسر اور مالیگائوں میں ہندودہشت گردوں کے پاس سے ملنے والے ہتھیاروں کی انکوائری نہ کرتے ہوئے آگے چل کر یہ دستہ مسلم مخالف بن گیا۔۲۰۰۶؁ء میں اے ٹی ایس نے حج ہائوس کے امام غلام یحییٰ کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا اور الزام لگایاکہ مولانا غلام یحییٰ نے دو کشمیری دہشت گردوں کو پناہ دی تھی۔ چار سال سے زائد عرصے تک مولانا جیل میں قید رہے۔ اپنا سب کچھ کھونے کے بعد مولانا رہا بھی ہوئے تو ان کے پاس سوائے آنسوئوں کے کچھ نہ بچا۔ اس طرح نہ جانے کتنے غلام یحییٰ آج بھی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ ان کاکوئی پرسان حال نہیں۔ مولانا غلام یحییٰ نے حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بات کہی جو آج بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ یہ کہ ’’ایک بات کا شدید دکھ ہوتا ہے کہ عدالت کی کارکردگی بہت سست روی سے چل رہی ہے، جس کی وجہ سے میری طرح نہ معلوم کتنے بے قصور جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔‘ دیکھاجائے تو حکومت مسلمانوں کے ساتھ دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے۔ ورنہ آخر کیا وجہ ہے کہ آرتھر روڈ جیل سابق سپرنٹنڈنٹ سواتی ساٹھے، آرڈی تیاگی، بھگوا دہشت گرد شیام ساہو اور رام چندر کلسانگرا کامعاملہ ہو یا اسی طرح دوسرے معاملات ، مسلمانوں کے بار بار مطالبات کے باوجود حکومت نے عدالت میں اپیل نہیں کی۔ جب کہ مولانا غلام یحییٰ کی رہائی کے ہوتے ہی وہ اپیل کرنے کے لیے عدالت میں دوڑ پڑے جس کے نتیجے میں مولانا کو دوبارہ گرفتار کرلیاگیا۔

مئی ۲۰۰۶؁ء میں اورنگ آباد و مالیگائوں سے ہتھیاروں کاذخیرہ ضبط کرنے اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کا ہوّا کھڑا کیاگیا۔ یہاں بھی پہلے سے پولیس ریکارڈ میں موجود سیمی کے نوجوانوں کو ان کے گھروں سے آدھی آدھی رات کو پکڑکر کاغذی طورپر دہشت گرد بنادیاگیا جو آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید اپنی بے گناہی پر آنسو بہارہے ہیں۔ مگر عدالت کا سست ترین نظام نہ ہی ان کے کیس کا فیصلہ کرتا ہے اور نہ ان کے لیے ضمانت کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ مزید ظلم یہ بھی ہے کہ ان پر مکوکا جیسے قانون کو لاگو کرکے ان کی رہائی کے راستوں کو بند کردیاگیا ہے۔ ابھی پچھلے ہی مہینے ان ملزمین میں سے تین کی ضمانت کو ہائی کورٹ نے رد کردیا، اگر قانونی نقطۂ نظر سے بھی دیکھاجائے تو اورنگ آباداسلحہ ضبطی کیس کے ملزمین پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان کی سزا یونہی ٹرائل رہتے ہوئے گزرچکی ہے اور اب مزید ان کو قید رکھنا عدلیہ کی بے حسی اور قانون کامذاق اڑانا ہے۔ ایک غور طلب بات یہ بھی ہے کہ مکوکا کے خصوصی جج وائی ڈی شندے صاحب جو کسی کوضمانت نہ دینے کے معاملے میں کافی شہرت رکھتے ہیں، انھوںنے کرنل پروہت کی ضمانت کی عرضی کے جواب میں ہندودہشت گردوں پر سے مکوکا قانون کی ساری دفعات ہٹادی تھیں اور مالیگائوں بم دھماکہ کیس ۲۰۰۶؁ء کے ملزمین کو ضمانت این آئی اے کے مخالفت نہ کرنے کی وجہ سے دی گئی ہے۔

اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس کے تعلق سے اے ٹی ایس نے اپنی آئی آر میں درج کیاکہ وہ لوگ مراٹھواڑا میں ہندودہشت گردوں کے ذریعے ہوئے بم دھماکوں ﴿جالنا،پونا، پربھنی اور ناندیڑ﴾ میں بم بناتے ہوئے مارے گئے ہندو دہشت گردوں سے متعلق خطّے پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ گشت کے دوران ایک ٹاٹا سومو گاڑی پر شک ہو، اور انھوںنے اس کو رکوانے کی کوشش کی، نہ رُکنے پراس گاڑی کا پیچھا کیاگیا اور اس گاڑی کے ساتھ مولانا عامر نامی ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا جو اورنگ آباد کا رہنے والاتھا۔ ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایک انگریزی اخبار ڈی این اے DNAکی خبر کے مطابق کرنل پروہت اس ٹیم کاحصّہ تھا جو اورنگ آباد کے ایک مولانا کا پیچھاکررہی تھی اور اس گاڑی کو ناسک کے قریب دیولالی کیمپ ﴿جو کہ ہندودہشت گردوں کاہیڈکوارٹرہے﴾ کے پاس اسلحہ پکڑے جانے کی خبر دی گئی یا اسلحہ پکڑا گیا۔ اب اگر ڈی این اے اخبار کی خبر صحیح ہے تو اس کا کیا مطلب؟ یا وہاں پر کرنل پروہت کی موجودگی کا کیا مطلب ہے؟ کیا اے ٹی ایس چیف رگھوونشی اور کرنل پروہت نے مل کر مسلمانوں کے خلاف کوئی گہری سازش تیار کی تھی؟ جب کہ اس کے برخلاف مولانا عامر کے والد کا بیان ہے : ’میرے بیٹے کو اے ٹی ایس پھنسارہی ہے وہ شادی میں شرکت کے لیے گھر سے نکلاتھا اور اسے گرفتار کرکے ناسک روڈ پردکھایاجارہاہے۔‘ اے ٹی ایف چیف رگھوونشی کے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ رگھوونشی کے کرنل پروہت سے تعلقات تھے۔ اس کا انکشاف آنجہانی ہیمنت کرکرے نے مالیگائوں بم دھماکہ کیس ۸۰۰۲ئ کی چارج شیٹ میں رگھوونشی کے ذریعے لکھے گئے خط کی نقل سے کیاہے۔

۲۱/جنوری ۲۰۱۱؁ء کے اُردو ٹائمز میں رگھوونشی صاحب کے خبری ساجد شیخ کے بارے میں خبر تھی کہ کس طرح ساجد شیخ روپیوں کی خاطر بے گناہ لوگوں کو دہشت گردی کے الزام میںپھنسانے کا کام کررہاتھا،مگر پکڑا گیا ۔یہی خبری ساجد شیخ مولانا غلام یحییٰ اور مالیگائوں بم دھماکہ کیس ۲۰۰۶؁يئ میں بطور گواہ موجود ہے۔

اے ٹی ایس کی ایک کارکردگی یہ بھی ہے کہ ۲۰۰۷؁ء میں اے ٹی ایس نے دونکسل وادی دہشت گردوں کو گرفتار کیا وار ان دہشت گردوں پر ۳۸ کیس ہونے کے باوجود بھی مکوکا قانون کا اطلاق نہیں کیاگیا۔ جب کہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ہی مکوکا قانون کے تحت کی جاتی رہی ہے۔ اے ٹی ایس چیف رگھوونشی ہی ایک ایسا آفیسر ہے، جس نے مسلم نوجوانوں کو ٹھوس ٹھوس کر جیلوںمیں بندکردیا اور جب ہیمنت کرکرے کے بعد مالیگائوں بم دھماکہ کیس ۲۰۰۸؁ء میں مزید تفتیش روکتے ہوئے ہندو دہشت گردوں کی گرفتاری بھی روک دی۔ اگر ہم اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس کاجائزہ لیں تو ہمیں احساس ہوگاکہ جس طرح مالیگائوں بم دھماکہ کیس کے ملزمین پر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے اور انہیں پانچ سال تک قیدو بند میں رکھاگیابالکل اسی طرح اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس کے ملزمین کو بھی پھنسایاگیا ہے۔ جس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ جن آفیسروں نے مالیگائوں کے ملزمین کو پکڑاتھا، انھی آفیسروں نے اورنگ آباد کے ملزمین کو بھی پکڑا اور ان پر جھوٹا الزام عاید کیا۔ مالیگائوںکیس میں جس ڈی سی پی اور مجسٹریٹ نے اقبالیہ بیان لیاتھا اسی ڈی سی پی اور مجسٹریٹ نے اورنگ آباد کیس میں بھی اقبالیہ بیان لیاہے۔ جو تفتیشی آفیسر مالیگائوں کیس میں تھے وہی تفتیشی آفیسر اورنگ آباد کیس میںبھی ہیں۔ اے ٹی ایس کے ایک آفیسر کشن سگھال اورنگ آباد کیس کی ایف آئی آر رجسٹرڈ کرنے والا آفیسر دونوں کیسوں میںموجود ہے اور ایک تفتیشی آفیسر کھانڈویلکر رشوت لیتے ہوئے پکڑے جانے کی وجہ سے نوکری سے برخاست کیاجاچکاہے اور جس طرح مالیگائوں کے مسلم نوجوانوں کو ذہنی وجسمانی ٹارچر کے ذریعے ناکردہ گناہوں کو قبول کرنے پر مجبور کیاگیاتھا۔ بالکل اسی طرح اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس کے ملزمین کو بھی ٹارچر کرکے اقبالیہ بیان پر دستخط کرنے پرمجبور کیا گیا۔ واضح رہے کہ ملزمین کا جھوٹا اور گمراہ کن نارکوٹیسٹ کرکے حکومت کو گمراہ کرنے والی ڈاکٹر مالنی، جعلی سرٹی فکیٹ معاملے میں اپنی نوکری سے ہٹائی جاچکی ہے۔

گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں امت مسلمہ نے اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس کے تحت گرفتار بے گناہ ملزمین کو اکیلا چھوڑا اور ان کی خیرخواہی بھی نہیں کی۔ اس کیس کے نوجوان، اورنگ آباد، مالیگائوں، بیڑ اور ممبئی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی بے گناہی اور بے جا گرفتاریوں کے لیے کوئی خاص تحریک بھی نہیں چلائی گئی۔ جب کہ تین برسوں میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے تین ساتھیوں کو ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا کردیاجاتاہے۔ ان ساڑھے پانچ برسوں میں ان بے گناہ مسلم نوجوانوں کے گھروں کی جو حالت ہوئی وہ قابل غور ہے، مگران کی یہ حالت کبھی کسی مسلم رہنمانے جاکر نہیں دیکھی اور نہ کسی مسلم تنظیم نے کبھی کھل کر ان کا ساتھ دیا ہو۔صرف جمعیۃ العلمائ ہند ایک ایسی جماعت ہے، جس نے ان کے مقدمات لڑنے کا فیصلہ کیا اور ان بے قصوروں کی ہرممکن مدد کی اورکررہی ہے۔ جمعیۃ العلمائ ہند نے ان ملزمین کے کیسوں کے ٹرائل کے لیے وکیلوں کابندوبست کردیا ہے۔

معاشی طور سے بھی ان نوجوانوں نے بہت تکالیف اٹھائیں، جو اپنے گھروں کا سہارا تھے، جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کردیے گئے ، جس کی وجہ سے کئی والدین اس دنیا سے اپنے لخت جگر کی باعزت رہائی کے انتظار میں چلے گئے۔ بیڑ کا نوجوان عبدالعظیم اپنے والد کے انتقال پر جنازے میں بھی شریک نہ ہوسکا اور نہ آج تک ان کی قبر کا دیدار کرسکا۔ ایک نوجوان افروز خاں ہے جس کا بیٹا دو سال بھی نہ ہواتھا کہ دل میں سوراخ ہونے کی وجہ سے اللہ کو پیارا ہوگیا۔ کوئی اپنی بہن کی شادی یا بھائی کے سر کا سہرا بھی نہ دیکھ سکا۔ کتنے ہی ایسے نوجوان ہیں جن کے گھروالے ملنے کے لیے عدالت کی تاریخوں پر نہیں آسکتے۔ کیونکہ ممبئی آنے جانے کے لیے جو خرچ لگے گا وہ کون دے گا۔ اتنے خرچ میں تو ان کے گھروں میں کئی دنوں کے راشن پانی کا انتظام ہوجاتاہے۔

۳۱/جون ۲۰۱۱؁ءئ کو وزیر قانون ویرپّا موئیلی نے پارلیمنٹ کے سامنے ایک بل پاس کرنے کی بات کہی تھی جو کہ ’حق انصاف بل‘ کے نام سے پیش ہونے والا تھا، جس میں ہر قیدی کو تین سال کے اندر اندر کیس ختم کرنے کی سہولت مہیا کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن اس قانون کو بنانے کا معاملہ کہاں تک پہنچا ابھی تک معلوم نہ ہوسکا۔

۱۶نومبر ۲۰۱۱؁ء کو مختلف اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ضمانت کامخصوص مقدمات میں نہ دیاجانا یہ ضمانت کے حق کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں تین ججوں کی بینچ پر جن میںجسٹس التمش کبیر، جسٹس ایس ایس نجر اور جسٹس بے چیلمیشور نے اس لیے تنازع کو پرنور کرتے ہوئے یہ فیصلہ سینئر وکیل رنجیت کمار اور مکل روہتکی کی شکایت لینے کے بعد کیاکہ ہائی پروفائل معاملات میں ضمانت مسترد کیے جانے کی نئی روایت کے چلن کے الزامات کی جانچ کی جائے گی۔ اس سے متعلق مختلف اخبارات نے ایک الگ بحث کی ہے اور کہاہے کہ ضمانت کانہ دیاجانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔اسی روز شام میں دوردرشن نیوز چینل کے ایک پروگرام فوکس جو کہ شام ساڑھے سات بجے ریلیز کیاجاتاہے، میں یہ بحث جاری تھی کہ حق ضمانت کا معاملہ اٹھانا چاہیے۔ اس پروگرام میں چار اشخاص، جو عدالتی کام کاج پر بحث کررہے تھے، نے کہاکہ حال ہی میں مالیگائوں بم دھماکہ کیس والوں کو ضمانت دی گئی، اور اب ان کو ہرجانہ ملنا چاہیے اور جس طرح سے میڈیا ٹرائل چلایا جاتاہے، اس پر روک لگانی چاہیے اورکہاکہ سیاست دانوں کو اس بات کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ عدالت کے کام کاج یا معاملات میں مداخلت کریں اور پہلے ہی یہ فیصلہ کردیں کہ فلاں مقدمے میں یہ ہونے والا ہے۔ جس طرح مالیگائوں کے حالیہ معاملے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہاتھا کہ مالیاگائوں کیس میں این آئی اے ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گی۔وزیر داخلہ کو کیا حق بنتاہے کہ وہ عدالتی نظام میں کسی طرح کی حمایت یا مخالفت کرنے کی بات کریں۔ بل کہ عدلیہ کو خود ان معاملات میں دوسروں کا محتاج نہ بنتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے اور آر آر پاٹل مہاراشٹر حکومت کے وزیر داخلہ پر بھی تنقید کی کہ یہ لوگ عدالتی کام کاج میں مداخلت کرتے ہیں۔ ضمانت ملزم کا بنیادی حق ہے۔ اب یہ معاملہ طول پکڑتاجارہاہے۔ہم امت مسلمہ کے دانشور طبقے سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر تحریک چلائیں اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پروگرام بنالیں خاص طور سے مسلمانوں کو برسہابرس بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھنے اور ضمانت نہ دینے وغیرہ کو ہر خاص و عام تک پہنچائیں۔

ہم ہیں اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس کے بے گناہ ملزمین

آرتھرروڈ جیل، ممبئی

مکرّمی!

آج افغانستان میں ’امریکااور ناٹو افواج کی موجودگی‘ دراصل علاقے میں ’ہندوتو‘ اسلامی اور مغربی طرز کی سیکولر جمہوری طاقتوں‘ کی بالادستی کی نظریاتی لڑائی اور کشمکش کا ایک نمایاں حصہ ہے، دُنیا بھر میں اسلامی تعلیمات کی حقّانیت ، فعالیت اور اثراندازی کو لے کر مخالفین اسلام کے دلوں میں ایک طرح سے نفرت ومخالف جذبات اور دشمنی کا لاوا اُبل رہاہے اور اپنے اپنے غیراسلامی نظریات اور مذاہب کی کم زوریوں، من گھڑت تاویلات اورقصّے کہانیوں کے اثرات زائل ہونے کا شدید اندیشہ یہود ونصاریٰ ﴿عیسائیوں﴾ اور ہندوتو کے نسل پرستوں کے دلوں میں گھر کرگیا ہے اور اسلامی تعلیمات کا عوام کے سامنے بھانڈا پھوٹ رہاہے ۔ان کے مذہبی عالموں، پنڈتوں، پادریوں کی باتوں پر عوام کا بھروسا کم زور ہوتاجارہاہے تو اپنی اپنی مذہبی اور نظریاتی ساکھ بچانے کے لیے یہ سب مل جل کر سازشی طورپر خود دہشت گردی کے لیے ۱۱/۹ و مکہ مسجد پلان پر عمل کرکے اسلام اور مسلمانوں کو غیرمسلم عوامی حلقوں اور ملکوں میں بکائو میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے بدنام کررہے ہیں اور انھی سازشی خود کردہ ۱۱/۹ جیسے دہشت گردانہ حملوں کو جھوٹے طورپر مسلمانوں سے جوڑکر ﴿عراق پر اور صدام حسین پر جھوٹے الزام لگاکر﴾ مسلم دہشت گردی کے جھوٹے نعروں کے حوالے اور پروپیگنڈے کے ذریعے عالم اسلام پر حملے بول رہے ہیں۔ جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر افغانستان کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی کا مرکز بنادیا ہے، جہاں سے امریکا اور ناٹو افواج سیاسی چالیں بھی چل رہی ہیں اور مسلمانوں پر چوطرفہ حملوں کی پلاننگ کے ساتھ عمل بھی جاری ہے۔ اب پاکستان کی فوجی چوکی پر ڈرون حملے سے ۲۴ پاکستانی فوجیوںکو ہلاک کرکے دراصل اسی نظریاتی ومذہبی لڑائی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تاکہ مستقبل قریب میں ہندستانی میڈیا اور ہندوتو حامیوںکی مدد سے حکومت ہند کو بھی اس لڑائی میں گھسیٹ کر ملوث کیاجائے۔ امریکی ناٹو افواج ، ہند،پاک اور افغانستان میں جنگ کاماحول پیدا کرکے کسی افریقی عرب ملک پر حملے اور مداخلت کے ذریعے دوسرا جنگی محاذ مصر کے بدلتے حالات اور اسلامی عوامی تحریک کی کام یابی کے پس منظر میں﴾ مصر اسرائیل کے قریب میں کھول سکتی ہیں۔ اس طرح ہندوتو حامی اور میڈیا کے ذریعے حکومت ہند اور اس کی افواج کو مخالف اسلام جنگ میں گھسیٹنے کے مکمل آثار پیدا کردیے گئے ہیں۔ ان دو محاذوں پر جنگ شروع کرکے یہودی و عیسائی اور ہندوتو حامی اسلام کو کم زور و بے اثر کرنے کا نقشہ بناچکے ہیںاور اس میں خونی رنگ بھرنا چاہتے ہیں۔

محمدابرارالدین

راجندر نگر روڈ، حیدرآباد-۸۴

فروری 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau