مطالعۂ اخلاق کے اہم مباحث

صلاح الدین شبیر

اخلاق، آداب اور اخلاقیات (morals, manners and ethics) کے مابین لفظی اور اطلاقی فرق کی بحث سے کنارہ کرتے ہوئے ہم مطالعۂ اخلاق کے اہم مباحث پر غور کرنے کی کوشش کریں گے۔ مطالعۂ اخلاق میں بنیادی طور پر یہ سوال زیر بحث ہوتا ہے کہ ’’اچھائی کیا ہے؟‘‘ اور ’’برائی کیا ہے؟‘‘ یہ سوال ہمیں فلسفیانہ مباحث سے دوچار کرتا ہے کہ کسی عمل کے اچھا یا برا ہونے کی بنیاد (rationale) کیا ہے؟ منطقی بحث کے نتیجے میں ’’صحیح کیا ہے؟‘‘ اور ’’غلط کیا ہے؟‘‘ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ ہم صحیح (right) اور غلط (wrong) کی حقیقت شناسی کے سلسلے میں مابعدالطبیعاتی (metaphysical) مباحث سے دوچار ہو تے ہیں۔ صحیح اورغلط کا نتیجۂ بحث ہمیں شریعت و قانون کے اعتبار سے جائز (licit) اور ناجائز (illicit) کی حدود سے آشنا کرتا ہے۔ اس طرح اخلاقیات کا بنیادی سوال فلسفہ، مذہب اور قانون سب سے وابستہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ 

اخلاقیات کے مباحث میں ایک اہم سوال اخلاقی قدروں کی حیثیت سے متعلق بھی اٹھایا جاتا ہے۔ کیا اخلاقی قدریں مستقل اور آفاقی (universal) ہیں یا یہ وقت اور حالات کے اعتبار سے متبدل (changing) اور اضافی (relative) ہیں؟ اگر مستقل اور آفاقی ہیں تو ان کا سرچشمہ کیا ہے؟ اور اضافی ہیں تو اس کے اسباب کیا ہیں؟ پھر ایسا کیوں ہے کہ بہت سی اخلاقی قدریں انسانی تاریخ کے ہر دور اور ہر علاقے میں یکساں نظر آتی ہیں مثلا سچائی، امانت داری، ایفائے عہد، وغیرہ اور بعض قدریں بظاہر بدلتی نظر آتی ہیں مثلا صنف (gender)، خاندان اور معاش سے متعلق قدریں؟ اخلاق اور اخلاقی قدروں سے متعلق ایسے ڈھیر سارے سوالات ہیں جن پر بحثیں ہوتی رہی ہیں۔ 

لیکن جو سوال سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ ایسے سوال اٹھتے ہی کیوں ہیں؟ کیا یہ سوالات انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات کے ذہن پر بھی دستک دیتے ہیں؟ انسانی مشاہدے میں اب تک کی معلومات کے مطابق دیگر جانداروں کے بارے میں ایسے سوالات کا سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے؛ اور شائد لگایا جا بھی نہیں سکتا ہے۔ کیوں؟ اس پر ہم ابھی گفتگو کرتے ہیں۔ 

اخلاقیات اور انسان 

انسان فطری طور پر اخلاقی حس رکھتا ہے۔ ہر دور اور ہر معاشرے میں کچھ قدریں پسندیدہ ہوتی ہیں، کچھ ناپسندیدہ ہوتی ہیں۔ یہ تفریق بتاتی ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اخلاقی میزان موجود ہے جو ہر عمل کی اخلاقی قدر و قیمت متعین کرتی رہتی ہے۔ اخلاق و اقدار کا سوال بنیادی طور پر عقل (reason)، آزادئ ارادہ (freewill) اور ان کے نتیجے میں جواب دہی (accountability) سے وابستہ ہے۔ جن مخلوقات کی زندگی کا مدار جبلت (instinct) پر ہے، وہاں نہ تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی معنویت بنتی ہے۔ وہ صرف اپنے جسمانی مطالبات کی تکمیل کے اسیر ہوتے ہیں اور اس کے لیے اپنی جبلت پر انحصار کرتے ہیں۔ انسان کے بھی جسمانی مطالبات ہیں جن سے وہ صرف نظر نہیں کر سکتا۔ لیکن ان کی تکمیل میں وہ صرف جبلت اور خواہشات کے تحت عمل نہیں کرتا بلکہ اس کی اخلاقی حس، عقل اور جذبات اس کے عمل کا رخ متعین کرتے ہیں۔ 

اللہ تعالی نے انسان کی فطرت اس طرح بنائی ہے کہ وہ ہر خیال اور ہر رویے کی اخلاقی درجہ بندی کرتا ہے۔ انسانی عقل و جذبات ہر قول و عمل پر یکساں رد عمل نہیں دیتے؛ کچھ سے مسرت ملتی ہے، کچھ سے کراہت پیدا ہوتی ہے- یہ دو طرح کا رد عمل ظاہر کرتا ہے کہ انسانی فطرت ہر قول و عمل کی اخلاقی اعتبار سے دو طرح کی درجہ بندی کرتی ہے: ایک پسندیدہ اور دوسری ناپسندیدہ۔ انسانی فطرت اسی دوہری اخلاق شناسی (binary moral cognition) کے ساتھ وجود میں آئی ہے۔ اللہ تعالی نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا [الشمس: 8] (یعنی االلہ تعالی نے نفس انسانی کو اس طرح بنایا کہ اچھائی اور برائی دونوں کا رجحان اس کے اندر ڈال دیا اور نیکی و بدی کی پہچان رکھ دی)۔ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور تمھیں یہ ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کی خبر ہو‘‘ (مسند احمد: صحیح)۔ اسی لیے انسان کچھ چیزوں کو اچھا سمجھتا ہے اور کچھ چیزوں کو برا سمجھتا ہے، وہ اپنی فطرت میں اخلاقی پہلو سے غیر جانب دار (neutral) نہیں رہ سکتا۔ 

اخلاقیات کی نفسیاتی بنیادیں 

اخلاقیات اور جذبات کے درمیان گہرا ربط پایا جاتا ہے۔ نفس انسانی کی حقیقت سے آگاہی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے جذباتی محرکات (emotional stimuli) پر نگاہ ہو۔ انسانی شخصیت میں چار بنیادی جذباتی محرکات پیوست ہیں: محبت، نفرت، امید، خوف۔ یہ محرکات مل جل کر کئی طرح کے جذباتی پیرہنوں (emotive phenomena) میں نمودار ہوتے ہیں اور انسانی رویے کو متاثر کرتے ہیں۔ کبھی ایثار و قربانی کی شکل میں، کبھی غیظ و غضب کی صورت میں، کبھی غیرت و شجاعت کی شکل میں، کبھی بزدلی و مایوسی کی صورت میں اور اسی طرح کے دیگر جذباتی مظاہرکی صورت میں۔ اسی لیے انسانی شخصیت کی عکس گری میں بے شمار جذباتی رنگوں کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔ یہ جذبات انسانی فطرت کا حصہ اور اس کے مقصد وجود کی تکمیل کا ذریعہ ہیں۔ انسان کو فیصلہ کن چیلنج یہ درپیش ہوتا ہے کہ ان جذباتی محرکات کا مرکز و محور کیا ہو جو انھیں تکمیل مقصد کا ذریعہ بنا سکے؟ یہ تو واضح ہے کہ مرکز و محور کا تعین کرنے میں انسان آزاد ہے۔ ان جذباتی محرکات کا محور و مرکز اگر خواہش نفس ہو تو انسان کا اخلاقی وجود پستی کی طرف مائل ہوتا ہے اور اگر ماورائے نفس ہو تو بلندی کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ کیوں؟ دراصل انسان کا اخلاقی وجود منجمد (static) ہو کر ایک سطح پر رہ نہیں سکتا۔ یا تو وہ اخلاقی معیار کے اعتبار سے مائل بہ عروج ہوگا یا مائل بہ زوال ہوگا کیوں کہ اس کے جذباتی محرکات ہر وقت فعال رہتے ہیں اور اس کی سوچ، رویے اور کردار پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ 

انسان ہر آن اپنی سوچ، رویے اور عمل کے پیچھے کارفرما محرکات کے ساتھ اپنے وجود کو پاکیزہ بنانے یا آلودہ کرنے میں مصروف ہے اور بالآخر خود اپنی تشکیل کردہ شخصیت کے ساتھ اس دنیا سے موت کے بعد دوسری دنیا کو آباد کرنے والا ہے۔ لہذا! انسان کی سوچ اور عمل کے پیچھے کارفرما جذباتی محرکات کے مرکز و محور کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ انسانی شخصیت کی اخلاقی قدر و قیمت کا تعین کیا جا سکے۔ 

اخلاقیات اور عملی رویے میں بُعد 

جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ انسان فطری طور پر ہر قول و عمل کو اچھے یا برے، صحیح یا غلط اور جائز یا ناجائز کے خانے میں رکھتا رہتا ہے۔ لیکن کسی قول یا عمل کو شعوری طور پر اچھا یا برا سمجھنا ایک بات ہے اور اسے اختیار کرنا یا نہ کرنا بالکل دوسری بات ہے۔ انسان اپنے ارادہ میں آزاد ہے اس لیے وہ چاہے تو اچھائی کی راہ منتخب کرے اور چاہے تو برائی کا رویہ اختیار کرے۔ سب کچھ اس کے ارادہ پر موقوف ہے۔ 

ارادہ کی سطح پر برائی کو منتخب کرنے کی صورت میں اللہ تعالی نے انسان کی فطرت میں برائی کے خلاف جو حساسیت رکھی ہے وہ اس کے ارادہ کے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ اسی حساسیت کو قرآن کی زبان میں نفس لوامہ (superego) اور اردو بول چال میں ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ لیکن اس ضمیر کو زندہ رکھنا بھی انسانی ارادہ پر موقوف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو قلب پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ مسلسل گناہ کرتا رہے تو اس کا دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے۔ آپ نے قلب کو صیقل کرنے کا طریقہ بھی سکھایا: جس طرح لوہے پر زنگ لگتا ہے اسی طرح قلب پر بھی زنگ لگتا ہے۔ اس زنگ کو ختم کرنے کے لیے قرآن کی تلاوت اور موت کی یاد کارگر نسخہ ہے۔ 

اللہ تعالی نے انسان کو ارادہ کی جو آزادی بخشی ہے اس پر خدا کے سوا کوئی طاقت نہیں جو قد غن لگا سکے۔ نہ انسان کے اندر کی قوت لوامہ یا ضمیر اور نہ انسان سے باہر کی کوئی قوت — فرد، سماج یا ریاست۔ اگر قدغن لگائی جا سکتی ہے تو صرف ارادہ کو عمل کی صورت اختیار کرنے پر۔ لیکن فی نفسہ ارادہ پر خدا کے سوا کوئی بھی قدغن لگانے کی قوت نہیں رکھتا۔ اور اللہ نے بتا دیا کہ وہ انسانی ارادہ پر قدغن نہیں لگائے گا کیوں کہ اس نے انسان کو دنیوی زندگی میں یہ موقع دے رکھا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اچھائی یا برائی اختیار کرے (إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا)۔ انسان کو اپنے اختیاری فکر و عمل کی بنیاد پر ہی بارگاہ الہی میں جواب دہی کرنی ہے۔ یہی اس کے اخلاقی وجود کا جواز بھی ہے اور امتحان بھی۔ خدا نے واضح کر دیا کہ: اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک امت بنا دیتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور انسان کو صحیح یا غلط راہ منتخب کرنے کی آزادی بخشی۔ ہاں، اللہ تعالی قدغن لگاتا ہے تو بس اس حد تک کہ انسان اپنے ارادہ پر کتنا عمل کر سکتا ہے اور کتنا نہیں۔ مشییت الہی کے تحت انسانی عمل پر قدغن دراصل نظام عالم کی یوم قیامت تک برقراری کے الہی منصوبے کا حصہ ہے۔ خدا کے اس منصوبے کو انسانی ارادہ ذرہ برابر بھی متاثر نہیں کر سکتا۔ خدا نے جب تک نسل انسانی کی برقراری کا منصوبہ طے کر رکھا ہے اس میں کوئی اڑچن نہیں ڈال سکتا۔ 

اخلاقیات : عقل اور وحی 

عقل انسانی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اس کی کچھ حدود (limitations) ہیں جن کی بنا پر انسان کی اخلاقی رہ نمائی کے لیے ہدایت الہی ناگزیر ہے۔ اخلاقیات کے تعین کے معاملہ میں عقل اور وحی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات قابل غور ہیں: 

ارضی زندگی گزارنے کے لیے جن مادی وسائل کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے اس کے لیے انسانی عقل کافی ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو غور و فکر اور تجربہ کی آزادی بخشی ہے اور بحیثیت خلیفہ بتدریج ان پر تصرف کا موقع فراہم کیا ہے۔ 

ارض و سما کے وہ مظاہر جن کا تعلق انسان کے مشاہدات سے ہے اور انسانی عقل ان سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکتی ہے ان پر غور و فکر کرنے کے لیے انسان کو بار بار توجہ دلائی گئی ہے تاکہ اسے مابعدالطبیعاتی حقائق (unknowable reality) کو قبول کرنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ 

ایسے امور و معاملات جن کے بارے میں انسانی عقل و جذبات ٹھوکر کھا سکتے ہیں (مثلاً اخلاقی اقدار، جائز و ناجائز، حلال و حرام وغیرہ کا تعین) ان میں حقیقت نفس الامری (essential truth)پر  مطلع کیا گیا ہے۔ 

ایسے ما بعد الطبیعاتی حقائق (metaphysical truth) جن کی آگہی انسان کی اخلاقی اور روحانی زندگی کے لیے ضروری ہے (مثلاً خدا کے سامنے جواب دہی اور اخروی زندگی کی حقیقت)، لیکن وہ انسانی عقل سے ماورا ہیں، انھیں انسانی فہم کے مطابق اس پیرائے میں بیان کیا گیا ہے جو انسان کی سمجھ میں آ سکیں۔ 

ایسے معاملات و مسائل حیات جن میں تمدنی احوال کے مطابق ثبات و تغیر (stability and flexibility) دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، ان کے سلسلے میں بنیادی خطوط و حدود (guiding framework) کا تعین کرکے انسانی عقل کو تفصیلات طے کرنے کی آزادی بخشی گئی ہے تاکہ بدلتے حالات میں بہتر و موزوں راستہ تلاش کرنے کا سلسلہ جاری رہے اور انسان کے لیے دنیوی سرگرمیوں میں آسانی (ease) پیدا ہو سکے، مشکل (hardship) سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ 

مندرجہ بالا نکات سے اخلاقی قدروں کے تعین میں، انسانی عقل کی اہمیت کے باوجود، اس کے حدود و قیود اور وحئ الہی کی اہمیت و ضرورت سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر اخلاقیات کے تعین میں عقل کو فیصلہ کن مان لیا جائے تو ہر اخلاقی بگاڑ کو معقول ٹھہرایا جا سکتا ہے اور ٹھہرایا جاتا رہا ہے جس کی واضح مثالیں آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ورن آشرم کے تحت وضع کردہ سماجی قدریں، ملوکیت کے تحت حاکم و محکوم کے رشتوں کا تعین کرنے والی سیاسی قدریں، سرمایہ داری کو تقویت پہنچانے والی استحصالی قدریں اور لبرل سماج میں رائج اباحیت پسندانہ (licentious) اخلاقی قدریں اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ 

اخلاقی معیار بندی 

اچھائی اور برائی یا پسندیدہ اور ناپسندیدہ قرار دینے کا فطری رجحان ایک بات ہے اور فی نفسہ کون سی قدریں اچھی ہیں اور کون سی قدریں بری ہیں اس کا تعین (specification) دوسری بات ہے۔ اس معیار بندی (standardisation) کا ایک ماخذ تو انسانی عقل و جذبات ہو سکتے ہیں اور دوسرا ماخذ ماورائے عقل ہدایت الہی ہے۔ 

اخلاقی قدروں کے تعین میں انسانی عقل و جذبات ٹھوکر کھاتے رہتے ہیں۔ علمی محدودیت اور نفسانی مغلوبیت دونوں عقل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر مختلف معاشروں اور مختلف زمانوں میں اچھائی اور برائی کا معیار بدلتا نظر آتا ہے۔ کبھی کوئی قول و فعل اچھا قرار دیا جاتا ہے، کبھی برا قرار دیا جاتا ہے۔ انسانی عقل اور خواہشات زماں و مکاں کے تابع ہیں جس کی وجہ سے اخلاقی معیار میں اضافیت پسندی (relativism) کا تصور پیدا ہوتا ہے، ورنہ فی نفسہ اخلاقی قدریں اپنی فطرت میں اسی طرح مستقل ہیں جس طرح خود انسانی فطرت۔ 

بنیادی سوال یہ ہے کہ اچھا یا برا قرار دینے کا حق کس کو ہے؟ ظاہر یہ حق خالق و مالک یعنی اللہ تعالی کو ہے۔ چوں کہ اللہ تعالی ہی علیم و حکیم اور اغراض نفسانی سے پاک و بے نیاز ہستی ہے اس لیے وہی برحق فیصلہ کر سکتا ہے کہ کسی خاص وقت یا حالت میں انسان کے لیے کیا اچھائی ہے اور کیا برائی ہے۔ اللہ تعالی نے تفصیل کے ساتھ یہ بتایا بھی ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی زندگی اخلاقی قدروں کا اصل سرچشمہ ہیں۔ توحید اور آخرت پر یقین رکھنے والے انسان کی سوچ اور اس کا رویہ کیسا ہونا چاہیے اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور اس کا عملی نمونہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے۔ چناں چہ اخلاقیات کا اصل معیار وہی ہے جو کتاب و سنت نے پیش کیا ہے۔ قرآن و سنت کے مطابق انسان کے اخلاقی رویوں کا بنیادی محرک رضائے الہی ہونا چاہیے۔ جس سوچ، رویے اورعمل کا محرک صرف خدا کی خوشنودی ہو وہی معتبر ہے۔ چناں چہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِیمَانَ (جس نے محبت کی اللہ کے لیے اور عداوت کی اللہ کے لیے اور دیا اللہ کے لیے اور روکا اللہ کے لیے تو اس نے ایمان کی تکمیل کر لی)۔ دراصل رضائے الہی اور اخروی جواب دہی کا تصور ہی ان اخلاقی قدروں کو اسلامی قدروں کے طور پر موسوم کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے جو دنیا کے مختلف سماجی گروہوں میں مشترک یا آفاقی حیثیت رکھتی ہیں۔ 

مسلمہ اخلاقی قدریں اور انسانی ارادہ 

انسانی اخلاقیات کا تعین تو ہدایت الہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لیکن صحیح اور غلط یا اچھائی اور برائی کا تعین ہونے کے باوجود انسان کا ارادہ آزاد ہے کہ چاہے تو اخلاقی قدروں کی پاسداری کرے اور چاہے تو انھیں پامال کر دے۔ انسان کی فطرت میں اللہ تعالی نے اپنے رب ہونے کا احساس پیوست کر دیا تب بھی انسان کا ارادہ آزاد ہے کہ شعوری طور پر چاہے تو خدا کو مانے اور چاہے تو انکار کر دے۔ انسان کے اندرون کا یہ کام ضرور ہے کہ جب وہ کوئی غلط کام یا برائی کا ارادہ کرے گا تو اس کے اندر فطری طور پر موجود اچھائی اور برائی کی حساسیت روک ٹوک کرے گی اور بندگئ رب کی فطری تڑپ کسی نہ کسی صورت میں انسان کو برتر و اعلی ہستی کے سامنے جھکنے پر مائل کرتی رہے گی۔ لیکن اگر اس کا ارادہ سرکشی اختیار کرنا چاہے تو ہابیل قابیل کا واقعہ بھی نمودار ہو سکتا ہے اور انکار خدا کا فلسفہ بھی شد و مد سے صادر ہوسکتا ہے۔ 

اسلامی نقطۂ نظر سے اچھائی اور برائی کیا ہے اسے طے کرنے کا اصل اختیار صرف اللہ تعالی کو ہے۔ لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی عقل، خواہشات اور خود مختاری کی بنا پر اچھائی اور برائی خود طے کرنے لگے یا کسی شخص یا ادارہ کے جبر یا عقیدت کی وجہ سے لوگ اس کو مان بھی لیں۔ ایسی صورت میں خود انسان نے جس چیز کو اچھائی بنا دیا اور جس چیز کو اس نے برائی بنا دیا اور وہ سماج میں رائج ہوتی چلی گئی تو انسان کے اندر کی حساسیت یا قوت لوامہ یا ضمیر بھی کند ہوتا اور اسی سانچے میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ 

یہ چند نکتے یہ بتانے کے لیے درج کیے گئے ہیں کہ اخلاقی حس (moral sense)، اخلاقی معیار (moral standard)، اخلاقی اقدار(moral values)، اخلاقی رویہ(moral behaviour)، اللہ کی مشیت(Divine Will)، اللہ کی مرضی(Divine Command)، انسانی ارادہ(human will)، انسانی عمل پر تحدید(limitation on human action) ان سب کی معنویت اور تلازمات (implications) کا صحیح ادراک، ان کے مابین گہرے ربط و تعلق کے فہم سے ہوتا ہے۔ اس ربط و تعلق کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ درج ذیل بنیادی حقائق پیش نظر رہیں: 

اوّل یہ کہ انسانی ارادہ پر صرف ارادۂ الہی غالب ہے۔ 

دوم اللہ تعالی کا فیصلہ ہے کہ وہ انسانی ارادہ کی آزادی کو برقرار رکھے گا۔ 

سوم اللہ تعالی انسانی ارادے کو روبعمل ہونے کی بھی ایک حد تک ہی آزادی دیتا ہے، خواہ ارادہ اچھائی کے لیے ہو یا برائی کے لیے۔ 

انسانی ارادہ کو روبعمل ہونے کی آزادی کتنی ہوگی اس کا تعین اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہے۔ 

عقل و جذبات، اخلاقی حس اور آزادئ ارادہ کی بنیاد پر انسان اخلاقی اعتبار سے مسؤول و جواب دہ ہے۔ 

آخرت کی زندگی میں اللہ تعالی انسانی ارادہ و عمل پر عدل کے ساتھ فیصلہ سنائے گا اور اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ بخشش کا معاملہ کرے گا۔ 

غور کیا جائے تو آزادئ ارادہ، اخلاقی حس اور تحدید عمل کی حرکیات (dynamics) یہ یقین پیدا کرتی ہے کہ آخرت کی جواب دہی کے بغیر اخلاق و ارادہ و ضمیرکا یہ یہ پورا نظام نامکمل اور بے معنی ہے۔ 

انسان اور فطری شخصی اوصاف (personality attributes) 

قرآن نے رسول اکرم کی بعثت کا ایک اہم مقصد تزکیۂ نفس کو قرار دیا ہے۔ تزکیہ کیا ہے؟ انسان کے اندر اچھے اوصاف (Virtues) کو پروان چڑھانا اور برے اوصاف (Vices) سے پاک کرنا۔ رسول اکرم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاقی اعتبار سے بہتر ہو۔ آپ کی اپنی شخصیت اخلاق کامل کا نمونہ تھی۔ اللہ تعالی نے انسان کے اندر فطری طور پر اچھے اور برے دونوں طرح کے اوصاف کی نشو و نما کی صلاحیت رکھی ہے۔ اچھے اوصاف کی نشو و نما کے لیے ارادی طور پر کوشش کرنی ہوتی ہے۔ اسی طرح برے اوصاف سے نفس کو محفوظ رکھنے کے لیے چوکسی برتنی پڑتی ہے۔ انسان جو کچھ بنتا ہے وہ اس کی اپنی ارادی کوشش کا نتیجہ ہے۔ توریثی خصائل (hereditary traits) اور ماحول کے منفی اثرات پر قابو پانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ انسانی ارادہ اس سطح پر ہو جسے ایمانی کیفیت کہا جاتا ہے۔ 

اللہ تعالی نے انسان کو اپنی صورت پر تخلیق فرمایا ہے۔فَإِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ۔(مسلم : 2612)۔ گویا اس نے انسان پر اپنی صفات عالیہ کا پرتو ڈالا ہے۔ اس لیے انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو اخلاق عالیہ سے آراستہ کرنے کی کوشش کرے۔ خدا نے انسان کو اپنی طرف سے ایک روح ودیعت کی ہے: وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی [الحجر: 29]۔ اس لیے انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس روح کو پاکیزہ رکھنے پر متوجہ رہے۔ اس نے انسان کو علم و شعور کا ایک نور عطا کیا ہے: وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا [البقرة: 31]۔ اس لیے انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نور کو روشن سے روشن تر کرتا رہے۔ رحم دلی، کشادہ دلی، خود داری، سخاوت، شجاعت، صبر، قناعت، استقامت، وفاداری، سچائی وغیرہ جیسی خوبیوں کی پرورش اور سنگ دلی، انانیت، بزدلی، تنگ دلی، بے صبری، بہتان تراشی، کذب گوئی، بد دیانتی، بے وفائی وغیرہ جیسی کم زوریوں کی بیخ کنی سے انسانی شخصیت نکھرتی سنورتی ہے (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا)۔ 

بنیادی شخصی اوصاف میں فطری تفاوت کی وجہ سے ہر شخص دوسرے سے جداگانہ شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ تاہم وسیع تر کینوس میں شخصی خوبیوں اور کم زوریوں میں مماثلت کی بنا پر جداگانہ گروہ بنتے ہیں اور مخصوص نسلی و سماجی شناخت کے باوجود الگ الگ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر شخصیت میں کم زوری ہو تو اس ہنگام زندگی میں اعلی اخلاقی اقدار کو برتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اخلاقی قدروں کو اچھا ماننے کے باوجود کم زور شخصی اوصاف کے لوگ انھیں انفرادی اور اجتماعی زندگی میں برت نہیں پاتے اور مختلف حیلے بہانوں سے اخلاقی انحرافات کو معقول ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول اللہ نے فرمایا: لوگ معدنی ذخائر کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں۔ جو لوگ جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں اگر وہ (دین کی) سمجھ پیدا کر لیں۔ (النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، خِیَارُهُمْ فِی الْجَاهِلِیَّةِ خِیَارُهُمْ فِی الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا. صحیح مسلم: 2638)۔ بودی اور کم زور شخصیات اپنے آپ نہیں بن جاتیں بلکہ اس کی بنیادی وجہ انسانی شعور و ارادہ کی ناپختگی، تعلیم و تربیت سے بے توجہی اور اسی کے ساتھ حالات و ماحول کی خرابی بھی ہوتی ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا: ہر بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی، یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ تاہم انسانی شخصیت سازی میں شعور و ارادہ کی کلیدی اہمیت مسلم ہے جسے بروئے کار لا کر دیگرعوامل کے منفی اثرات پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ 

اخلاقی اقدار، فرد اور سماج 

ہر انسان انفرادی شخصیت رکھتا ہے۔ انفرادی حیثیت میں اس کے جسمانی، عقلی اور روحانی تقاضے جن اخلاقی قدروں کی پاسداری سے فطرت کے مطابق پورے ہوتے ہیں انھیں انفرادی اخلاقیات کے زمرہ میں رکھنا مناسب ہوگا۔ انفرادی اخلاقی قدریں ہر شخص کو ایک اخلاقی پہچان دیتی ہیں، جیسے شرافت، پاکبازی، نرم دلی، وفاداری، سخاوت، کشادہ دلی، وغیرہ۔ چوں کہ انسان فطری طور پر اجتماعیت پسند ہے اس لیے اجتماعی زندگی میں قول، رویے اور عمل کے اعتبار سے جن اخلاقی قدروں کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے انھیں ہم اجتماعی اخلاقیات کے زمرہ میں رکھتے ہیں۔ اجتماعی زندگی کو ہم آہنگ اور درست رکھنے میں انفرادی اخلاقی قدروں کی پاسداری سے زیادہ اہم اجتماعی اخلاقی قدریں ہوتی ہیں۔ سماجی نظام کی بنیادی اکائی خاندان اور اس کے بعد درجہ بہ درجہ وسیع تر سماجی دائرے ہیں جن میں قریب ترین رشتہ دار، پڑوسی، گاؤں، محلہ، انجمن، ادارے، وغیرہ شامل ہیں۔ اجتماعی اخلاقیات کا مقصد سماج میں ایک دوسرے کے درمیان محبت، تعاون اور احسان کو پروان چڑھانا ہے کیوں کہ اس کے بغیر سماج کی بقا اور استحکام ممکن نہیں۔ چناں چہ اسلام نے ان اخلاقی خوبیوں پر زور دیا ہے جو ان مقاصد کو پورا کرنے میں مددگار ہوتی ہیں، جیسے رواداری، عفو و درگذر، باہمی تعاون، مشاورت، امانت و دیانت، عدل و قسط، وغیرہ۔ اور ان اخلاقی خرابیوں کی مذمت کی ہے جو سماجی تانے بانے کو درہم برہم کرتی ہیں جیسے غیبت، جھوٹ، حسد، رشوت، قانون شکنی، عہد شکنی، بے حیائی وغیرہ۔ 

خاندانی دائرے میں رحم کے رشتوں کا خیال، ایک دوسرے کی خبر گیری، احترام و شفقت، نرمی و تلطف اور حقوق کی پاسداری کو بنیادی اخلاقی تقاضا قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سماجی زندگی میں عدل و احسان، دیانتداری، عہد کی پاسداری، مشاورت، اختلاف رائے کا احترام، غیرجانب داری وغیرہ قدروں کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اجتماعی زندگی میں ان اخلاقی قدروں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ اجتماعی قدریں بلاتفریق مذہب و ملت آفاقی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے برخلاف وہ اخلاقی خرابیاں جو اجتماعی زندگی کو فساد سے دوچار کرتی ہیں انسانی معاشرہ انھیں بلاتفریق آفاقی طور پر قابل مذمت گردانتا ہے۔ اللہ تعالی نے ان خرابیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جیسے بدگمانی، تجسس، غیبت، تعصب، حقوق پر دست درازی، وغیرہ۔ یہ اخلاقی خرابیاں اجتماعی زندگی کو پارہ پارہ کرنے والی ہیں۔ اس لحاظ سے اجتماعی اخلاقیات میں شامل اچھی اور بری دونوں ہی قدروں کے سلسلے میں انسانوں کے درمیان اتفاق پایا جاتا۔ لیکن اسلام ان اخلاقی قدروں کو اثباتی (positivist) نقطہ نظر کے مطابق سماجی اور وقتی ضرورت قرار نہیں دیتا بلکہ انھیں مستقل نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے اور رضائے الہی اور اخروی جواب دہی کی حقیقت سے مربوط کرتا ہے۔ 

اخلاقیاتی اضافیت پسندی 

جہاں تک اخلاقی قدروں کے مستقل (permanent)، آفاقی (universal) اور اضافی (relative) ہونے کی بحث کا تعلق ہے تو سب سے پہلے اس کا تعین ضروری ہے کہ ہم انھیں کس حوالے (reference point) سے زیر بحث لا رہے ہیں۔ اگر اخلاقی قدروں کے اضافی ہونے کا حوالہ انسانی عقل، جذبات اور ارادےکو بنایا جائے تو بلاشبہ بہت سی قدریں تغیر پذیر نظر آئیں گی۔ لیکن حوالہ اگر ماورائے عقل ہدایت الہی ہو تو اخلاقی قدریں مستقل اور آفاقی حیثیت رکھتی ہیں۔ 

اخلاقیاتی اضافیت پسندی (ethical relativism) کے مطابق اخلاقی قدریں معاشرتی اور زمانی احوال کے اعتبار سے تغیر پذیر ہیں۔ کوئی اخلاقی قدر ایک معاشرے میں پسندیدہ تو دوسرے معاشرے میں ناپسندیدہ ہو سکتی ہے اور اسی طرح قدیم و جدید زمانے کی اخلاقی قدروں میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس پہلو سے بھی فی نفسہ اخلاقی قدروں اور ان قدروں کے مظاہر (manifestations) کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ بسا اوقات جن باتوں کو قدروں کی تبدیلی سمجھا دیا جاتا ہے وہ دراصل قدروں کی نہیں بلکہ ان کے مظاہر کی تبدیلی ہوتی ہے۔ مثلاً ہمدردی اور خبر گیری کی قدروں کا ایک مظہر راست ملاقات و خدمت ہے لیکن تیز رفتار نقل مکانی اور نئی معاشی صورتِ حال میں ان قدروں کا اظہار دور دراز مقام سے فون پر رابطہ اور مالی تعاون کی شکل میں کیا جاتا ہے اور راست ملاقات و خدمت کے مواقع کبھی کبھار ملتے ہیں۔ اس بدلی ہوئی صورتِ حال میں اصلًا قدروں میں تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ ان کے مظاہر بدل گئے ہیں۔ 

اسی طرح اخلاقی قدروں اور معاشرتی رسوم و رواج (social norms and tra ditions) کے درمیان بھی فرق کرنا ضروری ہے۔ ان کے درمیان فرق کو نظر انداز کر دینے سے خلط مبحث ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کی آزادی (human freedom) کو اسلام نے مسلمہ اخلاقی قدر کے طور پیش کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلم سماج میں طویل مدت تک غلامی کا رواج رہا۔ جاری رواج اور اصل اسلامی قدر کے درمیان اس تضاد کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ حقیقت سامنے رہے کہ بعض سماجی رواجوں کے خاتمہ کے لیے سماجی ساخت کی تبدیلی (structural change) درکار ہوتی ہے۔ سماجی رواج کے باوجود انسانی آزادی ہی اصل اخلاقی قدر قرار پائے گی نہ کہ غلامی کو اخلاقی قدر قرار دیا جائے گا۔ اس تصور کا اظہار معلوم تاریخی حقیقت سے ہوتا ہے۔ غلامی کے رواج کے باوجود غلاموں سے متعلق تمام اسلامی ہدایات و اقدامات غلامی کے خاتمہ اور انسانی آزادی کی بحالی سے مناسبت رکھنے والی تھیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مطلوبہ منزل تو انسانی آزادی کی اصل قدر کو روبعمل لانا اور غلامی کے رواج کا خاتمہ تھا۔ لیکن سماجی، معاشی اور سیاسی حالات کو اس نہج پر آگے نہیں بڑھایا جا سکا جس کی وجہ سے غلامی کے خاتمہ کا سفر صدیوں کو محیط ہو گیا۔ اسی طور پر دیگر رسوم و رواج کو جانچا جا سکتا ہے جو مسلمہ اخلاقی قدروں کے برخلاف مخصوص سماجی، معاشی، سیاسی صورتِ حال میں رائج رہیں اور جن کا فوری خاتمہ ممکن العمل نہ ہوا۔ 

ایک پہلو اخلاقی قدروں کو تسلیم کرنے اور عملاً ان کو برتنے کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنے کا بھی ہے۔ افادیت پسندی (utilitarianism) کا رجحان دراصل اخلاقی قدروں کی مستقل بالذات حیثیت کا انکار بدلے ہوئے حالات میں ان کی عملی افادیت کے اعتبار سے کرتا ہے۔ جن قدروں کی پاسداری سے سماجی معاشی طور پر فائدہ اور خوشی (maximisation of happiness) حاصل ہو ان کی پاسداری کی جائے گی اور جن سے بظاہر نقصان اور مسرت میں کمی کا اندیشہ ہو ان کی پاسداری سے گریز کیا جائے گا۔ اس طرز فکر کا تضاد یہ ہے کہ ایثار، قربانی اور احسان جیسی قدریں بسا اوقات نقصان اور دکھ کا باعث ہوتی ہیں، پھر بھی افادیت پسندی ان قدروں کا انکار نہیں کرتی اور نہ ہی اس کی توجیہ کر پاتی ہے کہ آخر ایک شخص افادیت پسندہوتے ہوئے بھی ان پر کیوں عمل پیرا ہوتا ہے۔ مزید برآں اس کے پاس اس کا بھی جواب نہیں ہے کہ جو لوگ افادیت پسندی کو پوری طرح اپنا لیں انھیں زمانہ سازی اور ذاتی مفاد پرستی کے دلدل میں غرق ہونے سے کون سی چیز بچا سکتی ہے۔ 

اخلاقی قدروں میں مطابقت کا مسئلہ 

اخلاقیات کی بحث میں ایک اہم مسئلہ قدروں میں اشتراک اور ان کی آفاقیت کے باوجود ان کے مابین عملی تطابق(mutual compatibility) سے متعلق ہے۔ مثلاً آزادی، عدل، مساوات، اخوت وغیرہ غیر متبدل اور آفاقی اجتماعی قدریں ہیں۔ لیکن اختلاف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان قدروں کے تقاضوں کا تعین (specific) کرنے اور ان کے اطلاق (application) کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔ 

ایک سوال یہ ہے کہ کیا مختلف تہذیبی اکائیوں میں ان آفاقی قدروں کا اطلاق یکساں ہو سکتا ہے یا ان میں تنوع ہوگا؟ مثال کے طور پر مساوات کا تقاضا ہے کہ انسانوں کے درمیان بلاتفریق عقیدہ، رنگ، نسل اور صنف برابری ہونی چاہیے۔ مساوات کا یہ تصور تو تسلیم شدہ ہے۔ لیکن اس برابری کا مطلب اور تقاضا کیا ہے؟ کیا ہر طرح کے خاندانی نظام میں وراثت کی تقسیم مرد اور عورت کے درمیان مساوی ہونی چاہیے؟ جب مساوات کی قدر پر اس تعین کے ساتھ عمل آوری پیش نظر ہو تب اختلافی نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہو سکتا ہے مساوات کی قدر صنفی بنیاد پر امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتی، اس لیے مرد اور عورت کا حصہ برابر ہونا چاہیے۔ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہو سکتا ہے کہ تقسیم وراثت میں عدل کا تقاضا یہ ہے کہ مرد و عورت کے درمیان ذمہ داری میں فرق کی بنیاد پر برابری کے بجائے ذمہ داری کے اعتبار سے وراثت کی تقسیم ہونی چاہیے۔ مخصوص خاندانی نظام کے تحت جس میں خاندان کی معاشی ذمہ داری مرد پر عائد ہو وہاں عدل کا تقاضا یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان تقسیم وراثت میں ذمہ داری کے اعتبار سے فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔ ایسے خاندانی نظام میں مساوات اور عدل کے درمیان تطابق کا کلیدی عامل (key factor) صنفی تفریق نہیں ہے بلکہ ذمہ داری کا فرق ہے۔ عدل اور مساوات کے درمیان تطابق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ دو طرح کی تہذیبی بنیادوں پر قائم خاندانی نظام میں موجود فرق ہے۔ بالفرض کوئی خاندانی نظام ایسا ہو جس میں مرد اور عورت معاشی و دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی میں برابر کے ذمہ دار ہوں تو وہاں عدل کا تقاضا یہ ہوگا کہ وراثت کی تقسیم مساوی بنیاد پر کی جائے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ کون سا خاندانی نظام انسانی فطرت اور فطری صنفی فرق کے لحاظ سے موزوں اور بہتر ہے۔ 

اسی طرح کا مسئلہ اس طرح کی صورتِ حال میں بھی پیش آتا ہے جب تہذیبی سیاسی بنیاد تو ایک ہوتی ہے لیکن سماجی طبقہ بندی کی وجہ سے مختلف طبقے زندگی کے مختلف میدانوں میں کافی فاصلے پر ہوتے ہیں۔ اس طرح کی صورتِ حال میں دو اقدار کے تقاضے ایک دوسرے سے متصادم ہوں تو ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کی اصولی بنیاد تلاش کرنی پڑتی ہے۔ مساوات کی قدر کا تقاضا ہے کہ سماج کے تمام طبقات کو برابری کے مواقع حاصل ہوں۔ یعنی کسی طبقے کو ترجیحی حق (reservation) حاصل نہ ہو۔ دوسری طرف عدل کا تقاضا ہے کہ جو لوگ ہزاروں سال کے امتیازی نظام کے زیرتسلط رہنے کی وجہ سے زندگی کے ہر میدان میں پچھڑے پن (backwardness) کا شکار ہو گئے ہیں انھیں آگے بڑھنے کے لیے خصوصی مراعات فراہم کی جائیں۔ سوال ہے کہ ان دونوں قدروں یعنی مساوات اور عدل کے تقاضوں کے درمیان تطبیق کی بنیاد کیا ہو؟ ظاہر ہے کہ اس مخصوص صورتِ حال میں سیکولر تہذیبی اتفاق کے باوجود مساوات اور عدل کے درمیان تطابق کا کلیدی عامل گروہی مساوات نہیں بلکہ گروہی پسماندگی ہے۔ 

اخلاقی نشو و نما: راہ عمل 

اخلاقیات کا سب سے اہم عملی مسئلہ اخلاقی نشو و نما سے متعلق ہے۔ انسان کی اخلاقی نشو و نما کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنی وجودی حیثیت (existential purpose) کا شعور ہو۔ انسان دیگر جانداروں کی طرح محض ایک جاندار نہیں ہے۔ انسان ایک ایسی باشعور ہستی ہے جو ابدی زندگی کی خواہاں ہے — ایک ایسی زندگی جس کی نعمتیں لازوال ہوں۔ ایسی زندگی کی تمنا اس جہان عارضی میں پوری ہو سکے ممکن نہیں۔ کیا یہ بس اک تمنائے خام یا کسی دیوانے کا خواب ہے جس کی تکمیل کی کوئی صورت ہی نہیں؟ یا یہ ہماری واقعی منزل مقصود ہے جو بالآخر حقیقت بن جائے گی؟ یہ ایسے سوال ہیں جو خیالی نہیں بلکہ ان کا ہماری زندگی سے عملی تعلق ہے۔ انسانی عقل ان سوالوں کا تفصیلی جواب دینے سے قاصر ہے لیکن امکانی جواب تک رہ نمائی اور نشان راہ کی سمجھ کے لیے کافی ہے۔ انسان اپنے وجود اور موجودات کائنات پر غور کرکے یہ نتیجہ تو حاصل کر ہی لیتا ہے کہ وہ پہلے نہیں تھا اور اب موجود ہے۔ اسی طرح یہ کائنات بھی عدم سے وجود میں آئی ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جس طرح یہ زندگی عارضی ہے اسی طرح یہ کائنات بھی عارضی ہے۔ معقولیت پسندانہ سوچ تو یہی ہو سکتی ہے کہ جب نیستی سے ہستی کا ظہور ممکن ہے تو ہستی کے بکھرنے کے بعد اس کا دوبارہ ظہور بھی ممکن ہے۔ انسانی عقل اس امکان کو کیسے رد کر سکتی ہے؟ 

اب امکان کے بعد کا سوال یہ ہے کہ کیا انسان کے جسمانی وجود کے بکھرنے کے بعد اس کے دوبارہ ظہور کی ضرورت بھی ہے؟ یقیناً ہے، اگر انسان اپنے وجود اور موجودات دنیا کو مہمل نہ سمجھتا ہو۔ اور مہمل سمجھ کیسے سکتا ہے جب کہ وہ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات میں مقصدی ہم آہنگی اور تخلیقی توازن کا دن رات مشاہدہ کر رہا ہے۔ خود وہ دنیوی اقدام و عمل میں مقصد، حکمت اور مصلحت کو پیش نظر رکھتا ہے۔ لہذا! یہ بات تو طے ہے کہ انسان اور پوری کائنات کی کوئی بامعنی وضاحت مقصد تخلیق کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر انسان کی زندگی بامقصد ہے تو وہ مقصد کیا ہے؟ غور کریں تو واضح ہوگا کہ انسان کو اس دنیا میں اپنے خالق، مالک اور رب سے عطا کردہ اختیارات کو راستی، خیر اور عدل کے ساتھ استعمال کرنا ہے تاکہ زندگی کی ذمہ داری اس طرح ادا ہو سکے جو خالق کائنات کی مرضی کے مطابق ہو۔ لیکن ارادہ کی آزادی کی بنا پر انسان کبھی عدل و خیر کی راہ اختیار کرتا ہے اور کبھی ظلم و فساد کی روش پر گامزن ہوتا ہے۔ ظاہر ہے یہ دونوں رویے یکساں نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے نتائج یکساں ہو سکتے ہیں۔ لیکن بے شمار دنیوی عوامل کی وجہ سے نہ تو عدل و خیر کی راہ اختیار کرنے والوں کو حسن عمل کے مطابق جزا مل پاتی ہے اور نہ ہی ظلم و فساد کرنے والوں کو جرم کے مطابق سزا مل پاتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات اس کا الٹا نتیجہ بھی نظر آتا ہے کہ ظالم انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے اور مظلوم سزا و عقوبت کا سزاوار بنتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس عارضی دنیا کے بعد ایک ایسی دنیا کا تقاضا کرتی ہے جہاں یہ تحدیدات ختم ہو جائیں اور اخلاق کی میزان فیصلہ کن بن جائے۔ لہذا! اخلاقی جزا و سزا کا نظام اس زندگی کے بعد ایک نئی دنیا کی ضرورت کا یقین دلاتا ہے۔ انکار خدا اور انکار آخرت کے ساتھ انسان کے متضاد اخلاقی رویوں اور اس عارضی دنیا میں اس کی سرگرمیوں کی تشریح (explanation) مہمل اور ناممکن ہے۔ 

ظاہر ہے اس یقین کی بنیاد ماورائے عقل سرچشمۂ علم کے بغیر ممکن نہیں۔ چناں چہ خالق کائنات اپنے رسولوں کے ذریعے موت کے بعد کی دنیا کے ظہور سے آگاہ کرتا رہا ہے اور انسانی عقل و جذبات بھی اس امکانی دنیا کا کوئی نہ کوئی تصور قائم کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کے سامنے اخلاقی جواب دہی کا یقین ہی اخلاقی قدروں کی پاسداری کی معقول اور مضبوط بنیاد ہے۔ اگر اخروی جواب دہی کا یقین نہ ہو تو معقول بات یہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور ذاتی یا گروہی مفادات کا اسیر بنا رہے۔ یہ الگ بات ہے اخروی جواب دہی پر یقین کے بغیر بھی بہت سے لوگ اپنے فطری اوصاف یا نظریاتی وابستگی کی وجہ سے بہت سی اخلاقی قدروں پر جمے نظر آتے ہیں اور بہت سے لوگ اخروی جواب دہی کا تصور رکھنے کے باوجود اپنے کم زور شخصی اوصاف اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے ان قدروں کو پامال کرتے نظر آتے ہیں۔ دونوں ہی طرح کے مظاہر کی معقول توجیہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ انسان تضادات کا مجموعہ ہے۔ آزادئ ارادہ کی بنا پر وہ جو کچھ سوچتا ہے اس پر عمل کرے اور جس اصول کو تسلیم کرتا ہے وہی اس کے رویہ میں نظر آئے ضروری نہیں۔ تاہم یہ امر تسلیم شدہ ہے کہ انسان کو آزادئ ارادہ کی بنا پر اپنی شخصیت کو نکھارنا بھی ضروری ہے اور اپنے اخلاقی رویے کو اخروی جواب دہی پر استوار کرنا بھی ضروری ہے۔ ورنہ ہر دو صورتِ حال میں ایسے مرحلے آتے رہیں گے جب وقتی مفادات اور خواہشات سے مغلوب ہو کر انسان تسلیم شدہ اخلاقی قدروں سے روگردانی کرے یا افادیت پسندانہ رویہ اختیار کرے۔ 

اخلاقی قدروں کی پاسداری میں احساس جواب دہی کی لزومیت (essentiality) کے علاوہ سب سے اہم قوت محرکہ اخلاص نیت ہے — ایسی نیت جو ہر کھوٹ ہر ملاوٹ سے پاک ہو اور جس کا مقصود و مطلوب صرف رضائے الہی ہو۔ رضائے الہی کا جذبہ اخلاقی عمل کو اعلی ترین بلندی سے ہم کنار کرتا ہے اور اس کی پاسداری کو ہر مصلحت سے آزاد کر دیتا ہے۔ 

خلاصۂ بحث 

انسانی فطرت کا نمایاں پہلو اس کا اخلاقی وجود ہے جو ہر رویے کو پسندیدہ یا ناپسندیدہ کے خانے میں رکھتا ہے۔ 

ہر انسان کے اندر اچھائی اور برائی کی استعداد اور ان کی پہچان فطری طور پر موجود ہے۔ اسی لیے اچھے رویے پر مسرت اور برے رویے پر کھٹک محسوس ہوتی ہے۔ 

انسان عقل وعلم کی محدودیت اور جذبات سے مغلوبیت کی وجہ سے ارادی طور پر نہ صرف مسلمہ اخلاقی قدروں سے انحراف کرتا ہے بلکہ افادیت پسندی کے تحت من پسند قدروں کی بھی تشکیل کرتا ہے۔ 

فطری اخلاقی حس، عقل، جذبات اور آزادئ ارادہ کی بنا پر انسان اخلاقی جواب دہی کے مقام پر فائز ہے۔ لہذا! اخلاقی انحرافات نہ صرف اخروی جواب دہی کا تقاضا کرتے ہیں بلکہ اس کا ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں۔ 

انسانی رجحانات کے حوالے سے اخلاقی قدریں حالات کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہیں لیکن ہدایت الہی کے حوالے سے اخلاقی قدریں غیر متبدل اور آفاقی ہیں۔ 

اخلاقی قدروں کی تبدیلی اور ان کے طرز اظہار میں تبدیلی کے درمیان فرق ہے۔ اصل اہمیت فی نفسہ اخلاقی قدروں کی ہے جن کا تحفظ اور استحکام انفرادی نشو و نما اور اجتماعی صلاح و فلاح کے لیے لازم ہے۔ اچھی اخلاقی قدریں جتنی رائج ہوں گی اسی قدر معاشرہ انسانیت سے قریب ہوگااور جتنی پامال ہوں گی اسی قدر معاشرہ حیوانیت سے نزدیک ہوگا کیوں کہ جبلت و خواہشات کی عملداری حیوانی طرز عمل کا محرک ہے اور اخلاقی حس انسانی رویے کی اساس ہے۔ 

اخلاقی اعتبار سے قدروں کا تعین (یعنی اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے) خالق، مالک اور رب کائنات ہی کر سکتا ہے کیوں کہ اسی کی ذات اغراض و مفادات سے بے نیاز ہے اور انسانی مصالح کا کامل علم صرف اسی ہستی کے پاس ہے۔ 

انسان کی فطری خیر پسندی اخروی جواب دہی کے تصور کے بغیر بھی بہت ساری اخلاقی قدروں کی پاسداری کرواتی رہتی ہے۔ اور اس کی نفسانی خواہش اخروی جواب دہی کے تصور کے باوجود اسے اخلاقی قدروں کی پاسداری سے غافل کرتی رہتی ہے۔ اس کی معقول توجیہ یہی ہے کہ انسان تضادات کا مجموعہ ہے، وہ جو کچھ تسلیم کرتا ہے اس پر عمل کرے لازمی نہیں اور جو کچھ عمل کرتا ہے منطقی طور پر اسی کے مطابق اس کی سوچ ہو ضروری نہیں کیوں کہ وہ آزادئ ارادہ کا حامل ہے۔ 

انسانی فطرت کے لحاظ سے اخلاقی قدروں کی معقول و مضبوط بنیاد اخروی جواب دہی کا احساس اور رضائے الہی کا جذبہ ہے۔ ورنہ نفسانی خواہشات اور وقتی مفادات کی وجہ سے انحراف کی ترغیب ملتی رہے گی اور انسان کا رویہ اخلاقی قدروں کے اعتبار سے بدلتا رہے گا۔ 

اس لیےاخلاقی نشو و نما کے لیے رضائے الہی کی طلب اور اخروی جواب دہی کا احساس تازہ رکھنا اور اپنی عقل، جذبات اور ارادے کا اس پہلو سے ہر آن جائزہ لیتے رہنا ہر شخص کی بنیادی اور لازمی ذمہ داری ہے۔ 

 

اکتوبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau