موسیقی کی مضرتیں

وصفی ابن عاشور | ترجمہ : تنویر آفاقی

چرچ کی تمام کوششیں ناکام ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کو کرسچین بنانے کے لیے کلیسا نے اپنی پوری طاقت جھونک دی، لیکن نتیجہ امید کے برخلاف۔ عیسائیت کے رنگ میں رنگنے کے لیے تمام وسائل و ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں، لیکن کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے۲۰۰۶؁میں قاہرہ میں اس پر غو روفکر کرنے کے لیے کانفرنس منقعد کی گئی، پوری دنیا سے عیسائیت کے پیشوا اکٹھے ہوئے۔ بحث ومباحثہ کے دوران کانفرنس کے صدر زدیمر نے کہاکہ اس کے لیے سب سے اہم ذریعہ مسلمانوں کے درمیان موسیقی کو فروغ دیناہے۔ تمام پادریوں نے اس رائے کو سراہا کہ اس کے ذریعہ سے بہتر اور نتیجہ خیز طریقے پر مسلمانوں کے درمیان عیسائیت کی تبلیغ ہوسکتی ہے۔ اس رنگ میں رنگنے کے بعد بھی اگر وہ مسلمان رہے تو صرف نام کے مسلمان ہوں گے۔ اپنی فکر اور سوچ کے اعتبار سے وہ مکمل طورپر نصرانی ہوں گے۔

علمائ یہودی، مفکروں اور دانشوروں نے پوری دنیاپر بالواسطہ یہودی حکومت قائم کرنے کے لیے پلاننگ کی، اس کے لیے باقاعدہ تجاویز اور قراردادیں مرتب کیں، ان میں کہاگیاکہ لوگوں کے ذہنوں کو مائوف کرنے کے لیے اور انھیں غفلت اور مدہوشی کی نیند سلانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے درمیان ’’اسپورٹ‘‘ اور ’’آرٹ‘‘ کے نام سے ایسی چیزیں رائج کی جائیں، جو انھیںحقیقی مسائل سے غافل کردیں،اس کے نتیجے میں وہ ہمارے حقیقی مقاصد سے ناآشنا ہوںگے اور ہر چیز میں ہماری ہم نوائی کریں گے۔

راہِ حق سے روکنے کی سعی

اسلام کی روزافزوںترقی، پھیلائو، وسعت اور ہمہ گیری کو روکنے کے لیے مکہ کے مشرکوں نے متعدد حربے اور طریقے اپنائے۔ قصّے اور کہانیوں کی کتابیں پھیلائیں تاکہ اس میں مشغول ہوکر لوگ قرآن مجید سننے سے محروم ہوجائیں۔ گانے اور ناچنے والی باندیاں خرید لائی گئیںتاکہ اس میں ملوث ہوکر قرآن کی اثرپزیری کو وہ بھول جائیں۔ ایسے ہی لوگوں کی حکایت اس آیت میں بیان کی گئی ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَشْتَرِی لَھْوَالْحَدِیثِ لِیُضِلَّ عَن سَبِیلِ اللّٰہِ بِغَیْرِعِلْمٍ وَیَتَّخِذَھَاھُزُوًاط أُوْلَئِٓکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِینٌ o وَاِذَاتُتْلَیٰ عَلَیْہِ اٰیٰتُنَاوَلَّیٰ مُسْتَکْبِراً کَأَن لَّمْ یَسْمَعْھَا کَأَنَّ فِیٓ أُذُنَیْہِ وَقْراً ج فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ ﴿لقمان: ۶،۷﴾

‘‘اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتیں خرید لاتے ہیں، تاکہ بے سمجھے، بوجھے اللہ کی راہ سے لوگوں کو بھٹکادے، اور قرآنی آیت کا مذاق اڑائے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہے۔ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ غرور اور گھمنڈکی وجہ سے منہ موڑلیتاہے، گویا اس نے سنا ہی نہیں، گویا اس کے کان میں ڈاٹ ہو، سو اسے دردناک عذاب کی خوش خبری سنادو‘‘۔

صحابہ کرام اور تابعین عظام کااتفاق ہے کہ اس آیت میں ’’لھوالحدیث‘‘ سے مراد گانا ،بجاناہے اور واقعہ ہے کہ دوسری لغویات اور خرافات کی بہ نسبت گانابجانا حق سے روکنے اور قرآن سننے اور سمجھنے سے بازر رکھنے اور گمراہی کی طرف لے جانے میںزیادہ کردار ادا کرتاہے۔ گانے اور موسیقی کاعادی کبھی سنجیدہ نہیں ہوتا ہے۔ ہر بات کو وہ ہنسی مذاق سمجھتا ہے۔سنجیدہ اور حق بات اس کے پلے نہیں پڑتی ہے۔ وہ حیرت اور شکوک وشبہات کاشکار ہوتا ہے۔ سورہ نجم میں اسی حقیقت کو بیان کیاگیا ہے۔

اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنoلا وَتَضْحَکُوْنَ وَلَاتَبْکُوْنَ oلا وَاَنْتُمْ سَامِدُوْنَo فَاسْجُدُوالِلّٰہِ وَاعْبُدُوْاoع ﴿النجم: ۵۹۔۶۲﴾

‘‘سو کیا ایسے خوف کی باتیں سن کر بھی تم لوگ اس کلام الٰہی سے تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو ﴿خوف غذاب سے﴾ روتے نہیں ہو۔ اور گانا گاتے ہو۔سواللہ کے لیے سجدہ کرو اور ﴿بلاشرکت غیرے﴾ اسی کی عبادت کرو﴾

ابلیس کی انسان دشمنی

سوچنے کی بات ہے کہ مشرکین اور یہود و نصاریٰ سب کے ذہن میں ایک ہی تدبیر آتی ہے۔ زمانہ اور عقائد کے اختلاف کے باوجود تینوں ایک ہی حربہ اپناتے ہیں۔ راہ حق سے روکنے، قرآن سے غافل رکھنے ، خواہشوں کاغلام بنانے اور اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے ہر ایک موسیقی اور گانے کو سب سے مؤثر ہتھیار سمجھتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کاآزمایاہوا نسخہ ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کا سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے جب شیطان راندۂ درگاہ ہوا تو اس نے بارگاہ حق میں یہ التجا کی:

قَالَ اَرَئَ یْتَکَ ھٰذَاالَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ ز لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلَی یَومِ الْقَیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیََّتَہٓ’اِلَّاقَلِیْلاًo قَالَ اذْھَبُ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآئُ کُمْ جَزَآئً مَّوْفُوْراًo وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْہِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجَلِکَ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَاْلاَوْلَادِ وَعِدْھُمْ ط وَمَایَعِدُھُمْ الشَّیْطَٰنُ اِلَّاغُرُوْراًo اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ ط وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًاo  ﴿بنی اسرائیل: ۶۲۔۶۵﴾

‘‘شیطان نے کہا اس شخص کو آپ نے میرے مقابلے میں عزت دی ہے، بقسم اگر آپ نے قیامت تک مجھے مہلت دے دی تو تھوڑے کو چھوڑکر اس کی تمام اولاد کو گمراہ کردوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا توان سب کے لیے بھرپور سزاجہنم ہے، اور ان میں جس پر تیرا بس چلے اپنی آواز کے ذریعہ اس کا قدم اکھاڑدے، اور ان پر اپنے پیادہ اور سوار لشکر کے ذریعہ حملہ کردے اور مال و اولاد میں ان کا شریک بن جا، اور ان سے کچھ وعدہ کرے اور شیطان کا وعدہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ میرے بندوں پر تیرا کچھ بھی بس نہیں چلے گا۔ اور آپ کا رب کافی کارساز ہے‘‘۔

شیطان کی آواز کیا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے صحابی رسول حضرت عباس بن عباس فرماتے ہیں کہ گناہ کی دعوت دینے والی ہر بات آواز شیطانی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ گانے سے بڑھ کر معصیت پر ابھارنے والی کونسی چیز ہوسکتی ہے۔ اس لیے بعض تابعین عظام سے منقول ہے کہ آواز شیطانی سے مراد گانا، موسیقی اور بانسری ہے۔

موسیقی کے اثرات

لچھے دار تقریر، پُرفریب لکچر، جاذب نظر کتاب اور موثر اسلوب تحریر ، راہ حق سے بھٹکانے میں اس درجہ موثر نہیں ہوتی جتنا کہ گانا اور موسیقی ، الفاظ کی سیٹنگ، آواز اور موسیقی کا جادو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کردیتا ہے۔ بسا اوقات ایسے گانے کے سننے میں بل کہ باربار دہرانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی ہے، جو بے ہودہ الفاظ ، ناشائستہ خیالات ، تہذیب و اخلاق سے عاری افکار پر مشتمل ہوتا ہے۔ بل کہ فحاشی اور کفرو شرکت پر ابھارتا ہے، آہستہ آہستہ یہ چیزیں دل و دماغ میں پیوست ہوجاتی ہیں اور عقائد ومسلمات میں شمار ہونے لگتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ذہن و دماغ کو مائوف کرنے ، حقیقت سے آنکھ بندکرلینے، ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیارکرنے، فحاشی پر ابھارنے اور بے حیائی کی طرف مائل ، اور سفلی جذبات کو برانگیختہ کرنے میں گانا اور موسیقی شراب کی طرح ہیں۔ دونوں کی لت میںپڑ کرانسان ، دین و ایمان اور تہذیب و اخلاق سے عاری اور لذت چشی وعیاشی کاعادی ہوجاتاہے۔ اگرشراب ’’ام الخبائث‘‘ توگانا اور موسیقی ’’ام الفواحش‘‘ ہیں۔ اس لیے جس نے بھی کہاہے سچ کہاہے کہ گانا بدکاری کا منتر ہے اور یہی وجہ ہے کہ گانے کی شناعت کو زنا اور شراب کے ساتھ بیان کیاگیا ہے۔ حضرت ابومالک اشعری سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لیوکنن من امتی یستحلون الحروالحریر والخمر والمعازف

‘‘میری امت کے کچھ لوگ زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال کرنے کی کوشش کریں گے۔’’

یشعربن ناس منی امتی الخمر یسمومنھابغیر اسمھایعزف علی رؤسھم المعازف والمغنیات یخسف اللہ بھم الارض ویجعل منھم قردۃ وخنازیر

‘‘میری امت کے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے استعمال کریںگے، انسان کے پاس موسیقی بجائی جائے گی، اور گانے والی عورتیں ہوںگی، اللہ انھیں زمین میں دھنسادے گا، اور کچھ کو بندر اور خنزیر بنادے گا۔’’

کیا آج وہ دور نہیں ہے جہاںبدکاری کو باہمی رضامندی کا سودا، شراب کو روحانی مشروب اور ناچ ، گانے کو آرٹ اور ثقافت قرار دے کر رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے :

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ حرم الخمر والمیسر والکوبۃ وکل مکرحرام

‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا، طبلہ کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔’’

ایک دوسری حدیث میں گانے کو فجور اور بے وقوفی کی آواز کہاگیاہے۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف(رض) سے روایت ہے کہ کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انی لم انہ عن البکائ انما نھیت عن صوتین فاجرین احمقین صوت عند نعمۃ لھو ولعب ومزامیر الشیطان و صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ و شق جیوب ورنۃ،

‘‘میں نے رونے سے منع نہیں کیاہے، بلکہ میں نے فجور اور حماقت پر مبنی دو طرح کی آوازوں سے روکا ہے، ایک خوشی کے وقت لھوولعب اور شیطان کی بانسری کی آواز سے اور دوسرے مصیبت کے وقت چہرہ نوچنے، گریبان چاک کرنے اور کیں کیں کرنے سے۔’’

حضرت عمران بن حصین سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یکون فی امتی قذف و مسخ وخسف فقال رجل من المسلمین متی ذالک یارسول اللہ قال اذا ظہرت القیان والمعازف و شربت الخمور

‘‘میری امت کے کچھ لوگوں کو آسمانی پتھروں سے ماراجائے گا، ان کی شکل بگاڑدی جائے گی اور انھیں زمین میں دھنسادیاجائے گا، ایک صحابی نے عرض کیا، اللہ کے رسولﷺ ایسا کب ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب کثرت سے گانے والیاں، موسیقی اور شراب پی جائے گی‘‘۔

ظاہروباطن

گناہ کی وجہ سے انسان کی فطرت بدلتی جاتی ہے اور اس گناہ جیسی خصلت رکھنے والے جانور کی مشابہت اختیارکرتاجاتا ہے۔ جیسے کہ حرص اور لالچ میں مبتلا انسان کتے کی مشابہت اختیارکرلیتا ہے، ابتدائی طورپر یہ مشابہت ہلکی ہوتی ہے اور صرف باطن متاثر ہوتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ اس میں اضافہ ہوتارہتا ہے اور چہرے کے خدوخال پر اس کے آثار نظرآتے ہیں۔ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ وہ مکمل طورپر اس جانور کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو ایمانی فراست سے نوازا ہے، وہ دیکھتے ہیں کہ انسانوں کی اس بھیڑ میں انسان کم اور بھیڑیے، کتے، بندر، ور خنزیرزیادہ ہیں اورکبھی کبھار عبرت کے لیے اس کی صورت اس درجہ مسخ کردی جاتی ہے کہ تمام لوگ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی چرواہے کو بانسری بجاتے ہوئے سنا تو اپنے کان میں انگلی ڈال لی اور راستہ بدل دیا۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایاکہ گھنٹی شیطان کی بانسری ہے اوریہ کہ فرشتے ایسے قافلے کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں کتا یا گھنٹی ہو۔ چرواہے کی معمولی بانسری کے سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کایہ طرزعمل اور جانور کے گلے میں لٹکی ہوئی گھنٹی کے سلسلے میں آپ کا یہ ارشاد، جس میں موسیقی کادسواں حصہ بھی نہیں ہوتاہے، تو پھرموسیقی کے ایسے آلات کے بارے میں کیا حکم ہوگا جس کے تھاپ پر انسان تھرکنے لگتاہے اور جسم کا رواں رواں مدھوشی میں ڈوب جاتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گانے کی وجہ سے دل میں نفاق اسی طرح پیدا ہوتاہے، جس طرح کہ پانی کی وجہ سے کھیتی اُگ آتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے، جو بظاہر مسلمان تھے لیکن ان کادل ایمان سے خالی تھا۔ ایسے لوگوں کو منافق کہاگیا۔ عقیدے میں فساد کی وجہ سے عملی طورپر کجی کا پایاجانا ضروری ہے۔ چنانچہ یہ لوگ نماز میں سستی کیاکرتے تھے، کثرت سے جھوٹ بولاکرتے ، وعدہ و عید کاپاس ولحاظ نہ کرتے، ذرا سااختلاف ہوجائے تو گالی گلوج پر اترآتے، امانت میں خیانت کرتے وغیرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود(رض) کی اس روایت میں کہاگیاہے کہ گانا ایک ایسا گناہ ہے کہ اس کے ذریعے ظاہری اور باطنی طورپر نفاق کی خصلت پیدا ہوتی ہے۔ عقیدہ اور عمل میں انحراف پایاجاتا ہے۔ کیا اس سے انکارکیاجاسکتا ہے کہ گانے کا عادی شخص نماز کاپابند نہیں ہوتا ہے۔ وہ قرآن کی حلاوت سے محروم ہوجاتاہے۔ اپنا وقار کھودیتا ہے۔ جھوٹ اور لایعنی چیزوں کا خوگر ہوتاہے اور خواہش نفس اور شیطان کاغلام ہوتا ہے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بچے کے مربی اور اتالیق کے پاس خط میں لکھاکہ سب سے پہلے ان کے دلوں میں گانے، بجانے اور لہوولعب کی نفرت پیداکرو۔اس لیے کہ اس کی ابتدا شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور انتہار حمن کی ناراضی پر ہوتی ہے۔ ثقہ اور قابل اعتماد اہلِ علم کی طرف سے مجھے معلوم ہواہے کہ موسیقی اور گانے سے دل میں نفاق اسی طرح سے پیدا ہوتاہے جیسے کہ پانی کے ذریعہ سبزہ۔ قاسم بن محمد نے فرمایاکہ گانا باطل عمل ہے اور ظاہر ہے کہ باطل کا ٹھکانا جہنم ہے۔ فقہ حنفی کی کتابوں میں لکھا ہے کہ گانا سننا معصیت ہے۔ اس کے لیے بیٹھنا فسق ہے۔ اور اس سے لذت حاصل کرنا کفر ہے۔ امام مالک نے فرمایاکہ یہ فاسقوں کا کام ہے۔امام شافعی نے فرمایاکہ گانے والے کی گواہی قبول نہیں ہوگی۔امام احمد نے موسیقی کے بعض آلات کے سلسلے میں فرمایاکہ حرام ہیں۔امام عمرو بن صلاح کہتے ہیں کہ جس گانے کے ساتھ آلات موسیقی ہوں اس کے حرام ہونے پر علمائ امت کااتفاق ہے۔

فروری 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau