دنیا کے موجودہ حالات میں جنگ و امن کا مسئلہ ایک نہایت اہم اور حساس موضوع بن چکا ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے دنیا کے بعض خطوں میں جو جنگی کیفیت پیدا ہوئی ہے اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہے، بلکہ عالمی سطح پر اس کے سیاسی، سماجی اور فکری اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ جنگ بہ ظاہر چند ممالک کے درمیان ہے، لیکن اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
حالیہ واقعات میں ایک اہم مثال امریکہ و اسرائیل کی جانب سےایران پر اچانک کیا جانے والا حملہ ہے، جو اس وقت کیا گیا جب باقاعدہ مذاکرات جاری تھے اور آئندہ ملاقات کی تاریخیں بھی طے ہو چکی تھیں۔ اس غیر متوقع اور دھوکے پر مبنی حملے میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد شہروں میں شدید بمباری کی گئی۔ اس کے بعد سے خطہ مسلسل کشیدگی کا شکار ہے اور اگرچہ وقفے وقفے سے مذاکرات کی خبریں آتی ہیں، مگر حالات پھر سے بگڑ جاتے ہیں۔
اس پس منظر میں مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد تجزیے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض لوگ کھلی جارحیت کے باوجود مظلوم کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، جب کہ کچھ عناصر اس صورتِ حال کو اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہوئے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام (نعوذ باللہ) جنگ پسند مذہب ہے۔ مزید برآں کچھ لوگ فرقہ وارانہ تعصبات کو ہوا دے کر اس مسئلے کو شیعہ سنی تقسیم میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذباتی اور وقتی تبصروں سے ہٹ کر اسلام کی اصولی تعلیمات کو سمجھیں،خاص طور پر جنگ اور امن کے حوالے سے۔ اسی مقصد کے تحت اس مضمون میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس موضوع کا ایک اصولی اور متوازن جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
اسلام کا بنیادی مزاج: امن، نہ کہ فساد
اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام کا اصل مزاج امن، عدل اور اصلاح پر مبنی ہے، جب کہ وہ فساد، ظلم اور بدامنی کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں بار بار انسانوں کو اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ وہ زمین میں فساد برپا نہ کریں اور اصلاح و بھلائی کے راستے کو اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (الاعراف:۵۶)
’’زمین میں فساد نہ پھیلاؤ جب کہ اس کی اصلاح کی جا چکی ہو۔‘‘
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک متوازن نظام کے ساتھ پیدا کیا ہے، جس میں امن اور استحکام بنیادی اصول ہیں۔ انسانوں کو یہ ذمے داری دی گئی ہے کہ وہ اس نظام کو برقرار رکھیں، نہ کہ اسے بگاڑیں۔ مزید فرمایا:
وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف:۵۶)
’’اور اللہ کو خوف اور امید کے ساتھ پکارو۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔‘‘
یہ آیت اس بات کی طرف رہ نمائی کرتی ہے کہ حقیقی امن کا تعلق اللہ سے تعلق اور اخلاقی اصلاح سے ہے۔
فساد پھیلانے والوں کی مذمت
قرآن مجید میں ان لوگوں کی مذمّت کی گئی ہے جو اقتدار حاصل کرنے کے بعد زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرۃ:۲۰۵)
’’اور جب اسے اقتدار ملتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے، کھیتیوں کو تباہ کرنے اور نسلوں کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ (الفجر:۱۱-۱۳)
’’ جنھوں نے ملکوں میں سرکشی اختیار کی، پھر ان میں بہت فساد پھیلایا، تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔‘‘
انبیا علیہم السلام کی دعوت کا ایک اہم پہلو یہ بھی رہا ہے کہ وہ لوگوں کو مفسدین کی پیروی سے روکتے تھے:
فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ (الشعراء:۱۵۰-۱۵۲)
’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے بڑھنے والوں کی اطاعت نہ کرو، جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔‘‘
یہ ہدایت ہر دور کے انسان کے لیے ہے کہ وہ صرف طاقت یا پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر فیصلہ نہ کرے، بلکہ حق اور عدل کو معیار بنائے۔ اسلام نہ صرف فساد کا سخت مخالف ہے، بلکہ وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں امن، عدل اور باہمی احترام ہو۔ اختلافات کے باوجود انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول پر زندگی گزارنی چاہیے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اسلام جنگ کو فروغ دیتا ہے، یا وہ امن کا مخالف ہے، ایک صریح غلط فہمی اور حقائق کے منافی بات ہے۔ اسلام کا اصل پیغام اصلاح، امن اور انسانیت کی بھلائی ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک متوازن اور پُرامن عالمی نظام قائم ہو سکتا ہے۔
’اسلام‘ کا مفہوم اور اس کا مزاج
اسلام کی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بنیادی مفہوم پر غور کیا جائے۔ لفظ ’اسلام‘ خود اپنے اندر ایک جامع پیغام رکھتا ہے۔ یہ عربی مادہ (س ل م) سے نکلا ہے، جس کے معنیٰ ہیں: سلامتی، امن اور خود کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ اس اعتبار سے اسلام کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات، اپنے ذاتی رجحانات اور اپنی خود ساختہ ترجیحات کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع کر دے۔ اسی بنا پر ’مسلم‘ اسے کہا جاتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے اور اپنی زندگی کو مکمل طور پر اطاعتِ الٰہی کے سانچے میں ڈھال لے۔ اسی مادّے میں ’امن‘ اور’سلامتی‘ کے معنیٰ بھی شامل ہیں، جو اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ یہ دین اپنی فطرت اور مزاج کے اعتبار سے سراسر امن و آشتی کا علم بردار ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک جامع اور بامعنی حدیث میں مسلمان کی حقیقی پہچان یہ بیان فرمائی ہے:
المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (صحیح بخاری:۱۰)
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
محدثین اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ایک اہم اصول بیان کرتے ہیں کہ یہاں ’مسلمون‘ کا ذکر غالب ماحول کے اعتبار سے ہے، یعنی جس معاشرے میں مسلمان اکثریت میں تھے، وہاں اس انداز میں خطاب کیا گیا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ حکم صرف مسلمانوں تک محدود ہے اور غیر مسلموں کے ساتھ کسی بھی طرح کا رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی عمومی تعلیم یہ ہے کہ انسان کی ذات سے کسی بھی دوسرے انسان کو تکلیف نہ پہنچے،خواہ وہ کسی بھی مذہب، قوم یا پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔ چناں چہ اسلامی اخلاقیات کا دائرہ پوری انسانیت کو شامل ہے۔
دنیا کے اکثر مذاہب کسی نہ کسی شخصیت کی طرف منسوب ہیں، جیسے یہودیت، عیسائیت، بدھ مت، ہندومت وغیرہ، لیکن اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اسلام کسی شخصیت کے نام پر نہیں، بلکہ ایک صفت اور ایک اصول کے طور پر پیش ہوا ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں نے لاعلمی یا تعصب کی بنا پر اسے ’محمڈنزم‘ (Muhammadanism)کہنے کی کوشش کی، لیکن یہ بالکل غلط تعبیر ہے۔ اسلام اپنی بنیاد میں ہی امن، سلامتی اور اللہ کے سامنے جھک جانے کے مفہوم کو لیے ہوئے ہے۔ ایسے دین کے بارے میں یہ الزام عائد کرنا کہ وہ جنگ پسند ہے،یا دوسروں کو پُرامن زندگی گزارنے کا حق نہیں دیتا، حقیقت کے سراسر خلاف ہے۔
جنگ اور امن: اصل حکم کیا ہے؟
اسلامی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں اصل اور بنیادی حکم ’امن‘ کا ہے، جب کہ جنگ ایک وقتی اور اضطراری حالت ہے، جسے مخصوص حالات میں اختیار کیا جاتا ہے۔
قرآن مجید اس حوالے سے نہایت واضح رہ نمائی فراہم کرتا ہے کہ اگر حا لتِ جنگ میں بھی مخالف فریق صلح کی پیش کش کرے تو اسے قبول کر لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الانفال: 61)
’’اور اگر وہ(یعنی دشمن) صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسا کرو۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں جنگ کا مقصد دشمن کو تباہ کرنا نہیں، بلکہ اس کی سرکشی کو ختم کرنا ہے۔ جیسے ہی مخالف فریق صلح پر آمادہ ہو، جنگ کو جاری رکھنا مطلوب نہیں رہتا۔
قرآن مجید نے اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا کہ دشمن صلح کی پیش کش محض دھوکے یا وقتی فائدے کے لیے کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کو صلح قبول کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِن يُرِيدُوا أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ (الانفال:۶۲)
’’اور اگر وہ تمھیں دھوکہ دینا چاہیں تو اللہ تمھارے لیے کافی ہے۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنی نیت اور عمل میں اخلاص کو برقرار رکھیں اور اللہ پر بھروسا کریں۔ اگر بعد میں دشمن عہد شکنی کرے تو پھر حالات کے مطابق اقدام کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت اللہ کی مدد اہلِ ایمان کے ساتھ ہوگی۔
قرآن مجید ایک اور مقام پر یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کم زوری کی حالت اختیار کرتے ہوئے خود سے صلح کی پیش کش نہ کی جائے:
فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (محمد:۳۵)
’’پس تم کم زوری نہ دکھاؤ اور صلح کی درخواست نہ کرو۔ تم ہی غالب رہو گے، اگر تم مومن ہو۔‘‘
اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنی عزتِ نفس اور وقار کو برقرار رکھیں اور کم زوری کا تاثر نہ دیں، تاہم اگر مخالف فریق خود صلح کی طرف آئے تو اس کو قبول کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔
صلح حدیبیہ کی مثال
اسلامی تعلیمات کا سب سے عملی نمونہ سیرتِ نبوی ﷺ میں ملتا ہے۔ صلح حدیبیہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس موقع پر کفارِ مکہ کی جانب سے جو شرائط پیش کی گئیں وہ بہ ظاہر مسلمانوں کے حق میں نہایت سخت اور یک طرفہ تھیں۔ مثال کے طور پر:
اگر مکہ سے کوئی شخص مدینہ آئے تو اسے واپس کیا جائے گا۔
لیکن اگر مدینہ سے کوئی مکہ جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔
یہ شرائط بہ ظاہر مسلمانوں کی کم زوری کو ظاہر کرتی تھیں، اسی لیے بہت سے صحابہؓ کو یہ معاہدہ قبول کرنے میں تردد ہوا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے وسیع تر مصلحت اور امن کے قیام کو مدنظر رکھتے ہوئے ان شرائط کو قبول فرمایا۔صحابہ کی ابتدائی ہچکچاہٹ فطری تھی، لیکن جب نبی کریم ﷺ نے خود عملی اقدام فرمایا،قربانی کی اور احرام کھولا تب سب صحابہؓ نے فوراً اس کی پیروی کی۔
فتح مکہ کی مثال
اسلامی تعلیمات میں امن کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس کی سب سے روشن اور عملی مثال سیرتِ نبوی ﷺ میں فتحِ مکہ کے موقع پر ملتی ہے۔ یہ وہ تاریخی مرحلہ تھا جب رسول اللہ ﷺ دس ہزار صحابۂ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ بہ ظاہر یہ ایک عظیم عسکری قوت تھی، جس کے ذریعے بہ آسانی زبردست جنگ برپا کی جا سکتی تھی، لیکن آپؐ کی حکمت عملی کا مقصد جنگ نہیں، بلکہ جنگ کو روکنا تھا۔مکہ کے قریب پہنچ کرآپؐ نے ایک نہایت حکیمانہ تدبیر اختیار فرمائی۔ آپؐ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ ہر شخص الگ الگ آگ جلائے۔ اس کے نتیجے میں پورے علاقے میں دوٗر دوٗر تک آگ روشن ہو گئی، جس سے دیکھنے والوں پر ہیبت طاری ہو گئی کہ مسلمان ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آئے ہیں، جن کا مقابلہ ممکن نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی کا مقصد بھی یہی تھا کہ اہلِ قریش جنگ پر آمادہ نہ ہوں۔ چناں چہ یہ تدبیر کام یاب ہوئی اور ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ اگلے دن آپؐ نے عام اعلان فرمایا کہ جو شخص مقابلہ نہ کرےاس سے جنگ نہ کی جائے۔ جو ہتھیار ڈال دے اسے قتل نہ کیا جائے۔ جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے اس کے لیے امان ہے اور جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ بھی محفوظ ہے۔ ان اعلانات کے نتیجے میں جنگ کی نوبت ہی نہ آئی اور مکہ بغیر خوں ریزی کے فتح ہو گیا۔ بعد ازاں آپؐ نے جس عفو و درگزر اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ فرمایا، اس نے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا۔
یہ اقدام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ترجیح خوں ریزی سے بچنا اور امن قائم کرنا تھا۔
جنگ۔ اسلام میں آخری چارۂ کار
ان واقعات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات امن کے فروغ پر مبنی ہیں۔ اگر امن اور جنگ دونوں راستے کھلے ہوں تو اسلام ہرگز جنگ کو اختیار نہیں کرتا بلکہ امن کو ترجیح دیتا ہے۔ گویا اسلام میں جنگ پہلا نہیں بلکہ آخری راستہ ہے، جسے اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب ناانصافی اور ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے۔
اسلامی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگ اسلام میں ’پہلا اختیار‘ (First Option) نہیں، بلکہ ’آخری چارۂ کار‘ (Last Option) ہے،یعنی جب تک امن کا راستہ ممکن ہو، اسلام جنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ جب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ ظلم، جبر اور ناانصافی اپنی انتہا کو پہنچ جائے اورپُرامن راستے مسدود ہو جائیں، تب اسلام دفاعی اقدام کی اجازت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقرۃ:۱۹۰)
’’اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
اسلام میں جنگ کی اجازت کا ایک اہم مقصد مظلوموں کی مدد اور ظلم کا خاتمہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید کی ایک نہایت اہم آیت رہ نمائی فراہم کرتی ہے:
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا (النساء: 75)
’’اور تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کم زور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جو دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حمایتی اور مددگار مقرر فرما۔‘‘
یہ آیت اس بات کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ جنگ کا مقصدظلم کا خاتمہ،مظلوموں کی مدد اور انسانی آزادی کا تحفظ ہے، نہ کہ توسیع پسندی، غلبہ حاصل کرنا یا دوسروں پر اپنی مرضی مسلّط کرنا۔
اسلام کا تصورِ امن و جنگ: ترجیحات، حدود اور مقصد
اسلام نے جنگ کو ایک اعلیٰ اور اخلاقی مقصد کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کوئی شخص بہادری دکھانے کے لیے، کوئی قبیلے کی غیرت کے لیے، اور کوئی مالِ غنیمت کے لیے جنگ کرتا ہے، ان میں سے کس کی جنگ درست ہے؟ آپؐ نے فرمایا:
’’ان میں سے کسی کی جنگ درست نہیں، بلکہ اس شخص کی جنگ صحیح ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے۔‘‘
اسلام میں جنگ کسی دنیاوی مفاد، توسیعِ اقتدار یا نسلی و قومی برتری کے لیے نہیں، بلکہ صرف ایک اعلیٰ اخلاقی مقصد کے لیے جائز ہے اور وہ ہے ظلم کا خاتمہ اور عدل کا قیام۔
اسلام نے جنگ کے دوران بھی سخت اخلاقی حدود مقرر کی ہیں۔ جنگ صرف ان لوگوں سے کی جائے گی جو ہتھیار اٹھائیں اور میدانِ جنگ میں مقابلہ کریں۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، مذہبی راہبوں اور غیر جنگجو افراد کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں۔ درختوں کو کاٹنے، کھیتوں کو تباہ کرنے اور بلا ضرورت تخریب کاری سے بھی منع کیا گیا ہے۔خلفائے راشدینؓ کے دور میں جب بھی فوجی دستے روانہ کیے جاتے تو انھیں باقاعدہ ہدایات دی جاتی تھیں:
دھوکہ نہ دیا جائے۔
عہد شکنی نہ کی جائے۔
غیر متعلق افراد کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
یہ تعلیمات اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہیں کہ اسلام میں جنگ بھی اخلاق اور ضابطوں کی پابند ہے، نہ کہ بے لگام تشدد کا نام۔
آج کے دور میں جہاں جنگیں اکثر دھوکے، فریب اور اچانک حملوں پر مبنی ہوتی ہیں، اسلام کی تعلیمات اس کے برعکس شفافیت، انصاف اور اصول پسندی کی دعوت دیتی ہیں۔ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ جنگ کا اعلان بھی کھلے طور پر کیا جائے اور دشمن کو پہلے آگاہ کیا جائے۔
یہ بات بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ اسلام کی عمومی تعلیمات بقائے باہمی (Co-existence)پر مبنی ہیں۔ یہ کہنا کہ اسلام جنگجو مذہب ہے، یا دوسروں کو امن سے جینے کا حق نہیں دیتا، سراسر غلط اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔ قرآن مجید واضح طور پر کہتا ہے:
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ… (الممتحنۃ:۸)
’’اللہ تمھیں ان لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے۔‘‘
اسلام کا اصل مزاج امن، سلامتی اور بقائے باہمی پر مبنی ہے، جب کہ جنگ ایک ہنگامی اور مجبوری کی حالت ہے، جسے صرف مخصوص حالات میں اختیار کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام زمین میں فساد کو سختی سے روکتا ہے اور امن و اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ مختلف مذاہب اور افکار کے لوگ باہم امن کے ساتھ زندگی گزاریں اور اختلافات کو دشمنی اور فساد کا ذریعہ نہ بنائیں۔







