کیا ہم یاجوج و ماجوج کے دور میں ہیں؟

حبیب چودھری

قرآن وحدیث کے مطالعے سے یہ بات ہمارے علم میں آتی ہے کہ اس دنیا کے آخری دور میں بہت سے واقعات ایسے ہوں گے جن کا آپس میں ایک تعلق بھی ہوگا۔ اگر ہم اُن کے آپسی تعلقات کو سمجھ لیں گے تو بہت سی باتوں کو سمجھنا آسان ہوجائے گا۔

وہ واقعات یہ ہیں:

یاجوج وماجوج کا چھوڑ دیاجانا، ہلاک شدہ بستی کا پلٹ آنا، مسیح الدجال کا مسیح موعود بن کر ظاہر ہونا،مہدی علیہ السلام کا ظاہر ہونا، مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا، مسیح علیہ السلام کا مسیح الدجال کو قتل کرنا، قوم یہود کا ہلاک ہونا، اور اس کے بعد قیامت واقع ہونا۔

اس وقت میں سورۃ الانبیاء  کی چند آیات کے مطابق یاجوج وماجوج کے کھول دیے جانے کے تذکرے کے ساتھ ایک بستی جو ہلاک کردی گئی تھی واپس پلٹ آنے کے واقعے پر جو کچھ میں نے پڑھا اور سمجھا ہے اُسے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

سورۃ الانبیاء  کی آیات ۹۵، ۹۶ کے ترجمہ اور حواشی کو تفہیم القرآن سے نقل کر رہا ہوں:

’’اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہو وہ پھر پلٹ سکے۔۹۲یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے‘‘۔

مولانا مودودیؒ  نے حاشیہ نمبر ۹۲ لکھا ہے:

اس آیت کے تین مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جس قوم پر ایک مرتبہ عذاب الٰہی نازل ہوچکا وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتی اُس کی نشاۃ الثانیہ اور اُس کی حیات نو ممکن نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ہلاک ہوجانے کے بعد پھر اس دنیا میں اُس کا پلٹنا اور اسے دوبارہ امتحان کا موقع ملنا غیرممکن ہے۔ تیسرے یہ کہ جس قوم کی بدکاریوں ، زیادتیوں اور ہدایت حق سے پیہم روگردانیاں اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ اللہتعالیٰ کی طرف سے اُس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے اُسے پھرر جوع وتوبہ وانابت کا موقع نہیں دیاجاتا۔ اس کے لئے پھر یہ ممکن نہیں رہتا کہ ضلالت سے ہدایت کی طرف پلٹ سکے۔

مولانا مودودی ؒ  نے حاشیہ نمبر ۹۲ میں آیت کے تین مطلب بیان کیے ہیں۔ تینوں میں پہلے اور تیسرے کا تعلق اس دنیوی زندگی سے ہے اور دوسرے کا تعلق قیامت میں سارے انسانوں کے یکبارگی اٹھائے جانے سے ہے۔

پہلے مطلب کو اگرآیت کے اگلے ٹکڑے سے ملاکر پڑھیں تو بات کچھ اس طرح سے بنے گی:

جس قوم پر ایک بار عذاب نازل ہوچکا وہ پھر کبھی نہیں اٹھ سکتی اُس کی نشاۃ الثانیہ اور اس کی حیات نو ممکن نہیں ہے یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھول دیے جائیں گے تو ایسا ہونا بظاہر ممکن نظر آئے گا۔ اس بات کو ہم یہودیوں کے ارض مقدس میں لاکر بسائے جانے اور قیام ریاست یہود کے تناظر میں سمجھ سکتے ہیں۔ اُن کی نشاۃ الثانیہ اور حیات نو برطانیہ امریکہ اور فرانس وغیرہ کی مرہون منت ہے۔ جیسا کہ آیت میں اشارہ پایاجاتا ہے:

’’یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار ہی پڑی، کہیں اللہ کے ذمے یا انسانوں کے ذمے میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے۔ یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کردی گئی ہے اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے۔ ﴿سورۃ آل عمران: ۱۱۲﴾

تفہیم القرآن کے حاشیے کا آخری ٹکڑا یہ ہے : ’’اسی طرح بسا اوقات انھیں دنیا میں کہیں زور پکڑنے کا موقع بھی مل گیا لیکن وہ بھی اپنے زور بازو سے نہیں بلکہ محض ’’بپائے مردی ہمسایہ‘‘

اور اسی طرح مولانا مودودی ؒ  نے جو تیسرا مطلب اس آیت کا بیان کیا ہے اگر اسے بھی آیت کے اگلے ٹکڑے سے ملاکر پڑھیں تو بات کچھ اس طرح بنے گی:

’’جس قوم کی بدکاریوں اور زیادتیوں اور ہدایت حق سے پیہم روگردانیاں اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے اسے پھر رجوع و توبہ و انابت کا موقع نہیں دیاجاتا اس کے لیے پھر یہ ممکن نہیں رہتا کہ ضلالت سے ہدایت کی طرف پلٹ سکے اور اگر غور کریں تو متذکرہ قوم ، قوم یہود ہے اُس کی ہلاکت کا فیصلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور مسیح الدجال کے قتل کردیے جانے کے بعد تک کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہے اور جو دو ہزار سالوں تک اللہ تعالیٰ کے غضب کے شکار بن کر دنیابھر میں تتربتر ہوگئے تھے اور جواب نہ صرف ارض مقدس میں پلٹ پڑی ہیں بلکہ ان کی ریاست بھی قائم ہوگئی ہے اور وہ یہود ہی ہیں‘‘۔

اگر ہم آیت کے اس ٹکڑے کو یہود کے لیے مان لیں تو یہ بات اس طرح سے سمجھی جاسکتی ہے کہ یہود ہدایت حق سے روگردانیوں اور قتل انبیاء  جیسے شنیع فعل کے کرنے کے نتیجے میں سنت الٰہی کی زد میں آچکے ہیں اور ان کے لیے ایمان میں داخل ہونا حرام ہوچکا ہے اور ان کی ہٹ دھرمی کی پاداش میں ان کے لیے عذاب الٰہی مقدر ہوچکا ہے جو ان کے آخری دور میں ارض مقدس کو لوٹ آنے ،ان کی ریاست کے قیام اور اس ریاست کے سربراہی کے مقام پر دجالی کے فائز ہونے اور مسیح علیہ السلام کے اُسے قتل کرنے کے بعد نافذ ہوگا جس کا واضح ثبوت احادیث میں ملتاہے۔

اس طرح اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر حق ثابت ہوئی کہ یاجوج وماجو کھول دیے گئے ہیں اوروہ دنیا پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ ہم یاجوج وماجوج کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس بات کو جب ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کو ختم کردیا تھا اور یروشلم کو فتح کرلیا تھا تب علامہ اقبال نے اس حقیقت کو پالیا تھا ۔ انھوں نے کہا تھا:

’’کھل گئے‘‘ یاجوج وماجوج کے لشکر تمام

چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف ’’ینسلون‘‘

علامہ انور شاہ کشمیری نے بھی فیض الباری صفحہ ۲۵ پر اسی واقعے سے متاثر ہوکر لکھا تھا:

’’روسیوں کا تعلق یاجوج سے ہے او راہل برطانیہ ماجوج سے منسوب ہیں‘‘۔

سورۃ الکہف کی آیت میں ہے:

’’ذوالقرنین کہنے لگا کہ یہ تو میرے پروردگار کی خاص الخاص مہربانی ہے اب جب میرے رب کا وعدہ آپہنچے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ برحق ہے‘‘۔

مفتی محمد تقی عثمانی اپنی کتاب ’’ تکملۂ فتح الملہم‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’اس پوری بحث کی بنیاد یہ ہے کہ ذوالقرنین نے جو ’’وعدہ ربی‘‘ کے الفاظ کہے ہیں ان کی تفسیر یہ کی جائے کہ اس کی تعمیر کردہ سد قرب قیامت تک ٹوٹنے والی نہیں اور ’’وعدہ ربی‘‘ کو یوم قیامت پر محمول کیا جائے۔ جب کہ علماء ے کرام کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے کہ آیت مذکورہ کی یہ مراد نہیں بلکہ اس میں ’’وعدہ ربی ‘‘ سے اس کا مقررہ وقت مراد ہے۔ ’’یوم قیامت‘‘ نہیں۔‘‘﴿فتنہ یاجوج وماجوج: مولانا ظفر اقبال﴾

چنان چہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ   ’’فیض الباری ج ۴ ص ۲۳﴾ میں فرماتے ہیں:

’’قرآن میں یہ کہیں نہیں ہے کہ یاجوج وماجوج کے خروج کا واقعہ دیوار کے ڈھے جانے کے ساتھ ہی پیش آجائے گا۔ بلکہ دیوار کے ڈھے جانے کا وعدہ صرف سورہ الکہف والی آیت میں کیاگیا ہے اور دیوار حسب وعدہ ڈھے گی۔ لیکن یہبات کہ دیوار ڈھے جانے کے ساتھ ہی بغیر کسی وقفہ کے یاجوج وماجوج نکل پڑیں گے ۔ قرآن میں کوئی حرف ایسا نہیں پایا جاتا جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے‘‘۔  ﴿دجالی فتنہ کے نمایاں خدوخال، مولانا مناظر احسن گیلانی﴾

ایک حدیث میں ہے:

’’حضرت زینب بنت حجش ؓ  فرماتی ہیں کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوتے تو آپﷺ  کا چہرۂ مبارک سرخ ہورہا تھا۔ اورآپ ﷺ  کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے: لا الٰہ الا اللہ اہل عرب کے لیے قریب آنے والے شر میں تباہی ہے آج یاجوج وماجوج کی دیوار میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا اور سفیان نے انگلی بند کرکے دکھائی۔ کسی نے پوچھا کہ نیک لوگوں کی موجودگی میں بھی کیا ہم ہلاک ہوسکتے ہیں؟ فرمایا۔ ہاں! جب گندگی بڑھ جائے‘‘۔ ﴿البخاری، مسلم،ترمذی، ابن ماجہ﴾

اس حدیث سے ہمارے علما نے یہ سمجھا ہے کہ سید ذوالقرنین کے استحکام کی مدت ختم ہوگی اور اب اس میں رخنہ پڑنے کی ابتداء ہوچکی ہے گویا وہ اب آہستہ آہستہ شکست وریخت سے دوچار ہوجائے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شر کی اطلاع دے رہے ہیں جس کا اثر یہ ہوگا کہ عرب کے لیے سخت ہلاکت کا سامنا ہوگا اور خلافت قریش زوال پذیر ہوگی۔ شارح بخاری کرمانی بعض علماء  سے نقل کرتے ہیں کہ اس حدیث میں ایسے حادثے کا ذکر کیاگیا ہے جس کا ظہور قیامت کی علامت سے مختلف درمیانی وقفے میں پیش آنے والا ہے جو باعث ہوگا عرب کے زوال کا اور ’’فتح ردم‘‘ استعارہ ہے اس بات سے کہ جو حادثہ آئندہ پیش آنے والا ہے اس کی ابتدائ ہوگئی ہے اور یہ وہ حادثہ ہے جو معتصم باللہ خلیفہ عباسی کے زمانے میں ’’فتنہ تاتار‘‘ کے نام سے برپا ہوا اور جس نے عرب طاقت یعنی خلافت قریش کا خاتمہ کردیا۔  ﴿عمدۃ القاری﴾ ﴿فتنہ یاجوج وماجوج﴾

بالفرض ہمارے یہ علماء ے سلف آج کے حالات یعنی جنگ عظیم اول جس کے نتیجے میں خلافت کے ادارے کا ہی خاتمہ، ریاست یہود کا قیام، مشرق وسطیٰ کے جنگی حالات، خاک وخون کو دیکھ پاتے تو یا جوج وماجوج کے کھول دیے جانے سے تعبیر کرتے۔

تفہیم القرآن میں مختلف آیات کی وضاحت میں موجودہ حالات کی پیشین گوئیاں موجود ہیں جنھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق احادیث پیش کرنے کے بعد اور اسرائیلی ریاست کے ایک فوجی قوت بن جانے اور گرد وپیش کی مسلمان قوموں کے لیے ایک خطرہ عظیم بن جانے کے اظہار کے بعد مولانا مودودیؒ  فرماتے ہیں :

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیوں کے پس منظر میں ان کو دیکھ کر فوراً یہ محسوس کرے گا کہ اس دجال اکبر کے ظہور کے لیے اسٹیج تیار ہوچکا ہے‘‘۔

مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ  سورۃ الانبیاء  کی آیت ۹۵ کے حاشیے میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’’لیکن قرآن مجید اور احادیث میں یاجوج وماجوج کے متعلق جو کچھ بیان کیاگیا ہے اس سے یہ مترشح نہیں ہوتا کہ یہ دونوں متحد ہوں گے اور مل کر دنیا پر ٹوٹ پڑیں گے۔ ہوسکتا ہے قیامت کے قریب زمانے میں یہ دونوں آپس میں لڑجائیں اور پھر ان کی لڑائی عالمگیر فساد کی موجب بن جائے‘‘۔

جیسا کہ عرض کیاگیا کہ علامہ اقبال ؒ ، مولانا انور شاہ کشمیری ؒ  اور بھی دیگر علماء  نے روس، چین وغیرہ کو یاجوج اور امریکہ، برطانیہ، فرانس اوردیگر مغربی ممالک کو ماجوج سمجھا ہے۔ ان دونوں گروہوں میں دو عالم گیر جنگیں ہوچکی ہیں۔ مولانا مودودی ؒ  نے بھی درپردہ ان دونوں گروہوں کو ہی یاجوج وماجوج مانا ہے۔ اور عالم گیر فساد وہ آخر فساد ہوگا جو یاجوج وماجوج کے آخری طاقت ور گروہوں کے درمیان ہوگا جس کا مقابلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے روک دیے جانے کی وجہ سے نہ کریں گے اور اس حکم کے تحت مسلمانوں کو لے کر طور پہاڑ پر لے کر چلے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وجہ سے یاجوج وماجوج ہلاک ہوجائیں گے اور اس وقت سے متعلق حدیث میں ہے کہ قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے پورے پیٹوں کی حاملہ، نہیں کہہ سکتے کب وہ بچہ جن دے رات کو یا دن کو۔

مولانا مناظر احسن گیلانی   ؒ  نے یاجوج وماجوج کے چار دور گنائے ہیں۔پہلے دور میں ان کی قومی خصوصیت جو قرآن حکیم نے بیان کی ہے وہ زمین میں فساد پیدا کرنے کی ہے۔ دوسرے دور میں ذوالقرنین کی دیوار تعمیر ہوجانے کے بعد غیروں سے مایوس ہوجانے کے بعد آپس میں ہی لڑتے بھڑتے اور باہم دست وگریباں ہوتے رہتے۔ تیسرے دور کا تذکرہ سورۃ الانبیاء  کی آیت میں کیاگیا ہے یعنی ’’یہاں تک کہ کھول دیے گئے یاجوج وماجوج اور وہ ہر حدب سے تیزی کے ساتھ چل نکلے۔چوتھے دور کا تذکرہ سورۃ الکہف کی آیت ’’پھونک دیا جائے‘‘ سور پھر ہم ان کو یعنی یاجوج وماجوج کو اچھی طرح سمیٹ کر سمیٹ لیں گے۔

یاجوج وماجوج کی قومی زندگی کا تیسرا دور یعنی منقطع ہونے کے بعد پھر غیر قوموں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا موقع ان کو قیا م قیامت سے پہلے دیاجائے گا۔ ان کی قومی زندگی کے اس دور کی تعبیر فتح یاجوج وماجوج یا خروج یاجوج وماجوج سے کی جاتی ہے۔

بخاری میں ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’یاجوج وماجوج والے بند میں اس کے برابر اشارہ ایسا سوراخ آج کھول دیا گیا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ بہت ہی باریک سوراخ ہوگیا اس بند میں آپ کو دکھایا گیا‘‘۔

بہ ہر حال اس مشہور روایت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا اس کی اطلاع دے چکے تھے کہ یاجوج وماجوج کی قومی زندگی کے تیسرے دور کے ظہور کے احکام آپ ہی کے زمانے میں قریب آچکے تھے— بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر کوئی کہناچاہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ ظہور کے آغاز کی کرن عہد نبوت میں پھوٹ چکی تھی۔

بہ ہرحال یہ مسئلہ کہ خروج کے سارے سازوسامان اور زمین کی تیاری کا کام عہد نبوت میں جو شروع ہوچکا تھا اس کی تکمیل کا وقت بھی کیا کوئی متعین کیاگیا ہے۔ اسی سورۃ الانبیاء  کی آیت ’’تا آں کہ کھول دیے گئے یاجوج وماجوج اور ہر حدب سے تیزی سے چلتے ہوئے وہ نکل پڑے‘‘۔ کے آخری ٹکڑے یعنی ’’ہر حدب سے تیز چلتے ہوئے وہ نکل پڑے‘‘ یعنی زمین کے سارے معمورے میں پھیل پڑیں گے اور اس طرح پھیل پڑیں گے کہ ان کی آمد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور بڑی تیزی کے ساتھ آباد حصوں میں گھسنے لگیں گے تب سمجھا جائے گا کہ عہد نبوت میں جس خروج کے لیے سوراخ پیدا ہوا تھا وہ مکمل ہوگیا اور کھول دیے گئے یاجوج وماجوج کی پیش گوئی تکمیلی شکل میں سامنے آگئی۔ اس لیے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ  کا خیال یہ تھا کہ یاجوج وماجوج کے خروج کا واقعہ دفعتاً پیش آنے والا ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ ان کے یہ خروج یکے بعد دیگرے پیش آتے رہیں گے۔

﴿دجالی فتنہ کے نمایاں خدوخال، مولانا مناظر احسن گیلانی﴾

ذیل میں ہم ایک حدیث بیان کریں گے جس سے ان کے تین مختلف وقتوں کے خروج کا پتا لگتا ہے۔ اسرائیل کے قریب ایک جھیل ہے طبریاس۔ اس کا پانی اسرائیل اور غالباً شام استعمال کرتے ہیں اور آج کل اس کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ یاجوج وماجوج کی پہلی آمد پر وہ وہاں پانی پئیں گے دوسری آمد پر وہاں پانی نہیں کیچڑ ہوگا اور تیسری بار کی آمد پر وہاں پانی کا نام ونشان نہیں ہوگا۔ جھیل کے پانی کے بالکل ہی خشک ہونے کی حدت کئی سال ہی ہوسکتی ہے:

’’نواس ابن سمانؓ  سے روایت ہے ’ان حالات میں اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا۔ میں نے ایسے بندے تمھارے پاس بھیجے ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہ کرسکے گا۔ تم انھیں ﴿مسلمانوں کو﴾ حفاظت سے طورپر لے جاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ یاجوج وماجوج کو بھیجے گا اور وہ تمام بلندیوں سے اترتے نظر آئیں گے۔ جب ان میں سے پہلا طبریاس کی جھیل سے گزرے گا تو اس سے پانی پیے گا اور جب آخری آدمی گزرے گا تو کہے گا ’’یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔ عیسیٰؑ  طور پر محصور ہوجائیں گے اور ﴿خوراک کی کمی کے سبب﴾ ایک بیل کی قیمت سو دینار سے زیادہ ہوجائے گی‘‘۔ ﴿صحیح مسلم﴾

ایک اور حدیث میں ان کے تین گروہوں کا تذکرہ ہے۔

اس حدیث سے اور ایسی ہی دوسری احادیث سے جن میں یاجوج وماجوج اور ارض مقدس کا تذکرہ ساتھ ساتھ آتا ہے جس طرح کہ سورۃ الانبیاء  کی آیت ۹۵ اور ۹۶ میں ہلاک شدہ بستی کا تذکرہ یاجوج وماجوج کے کھول دیے جانے کے ساتھ ساتھ کیا گیا ہے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ وہ بستی جو ہلاک ہوجانے کے بعد پلٹ آئی وہ ارض مقدس ہے اور یہودی جو اللہ کے عذاب کی زد میں آکر وہاں سے نکالے گئے تھے یاجوج وماجوج کے فساد برپا کرنے کے نتیجے کے طور پر انہیں پھر سے لاکر بسایا گیا ہے۔

جنگ عظیم اول سے پیدا شدہ حالات نے ہمیں سورۃ الانبیاء  کی بیشتر آیات کو صحیح رخ سے سمجھنے پر متوجہ کیا ہے۔ حالات کی تبدیلی نے ان آیات پر پڑے پردے کو ہٹا دیا ہے اس پس منظر میں ہمیں ان آیات پر نئے سرے سے غور کرناچاہیے۔

سورہ حم سجدہ کی آیات ۵۳ بھی اس طرف توجہ دلاتی ہیں:

’’عن قریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی۔ یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن حکیم واقعی برحق ہے کیایہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہرچیز کا شاہد ہے‘‘۔

سورۃ الانبیاء  کے رکوع ۵ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا تذکرہ ہے اُس کے بعد اُن کی ارض مقدس کی ہجرت کا تذکرہ ہے۔ پھر مشرق وسطیٰ کے خطے میں آنے والے مختلف انبیاء  علیہم السلام کے خاص خاص واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ سلسلہ بیان حضرت مریم  ؑ  کے تذکرے پر ختم ہوتا ہے۔ اس سلسلۂ کلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ نہیں ہے ۔ اب ہم اپنی تحریر کو یہاں روکتے ہوئے تفہیم القرآن میں سورۃ الاحزاب میں ختم نبوت والی آیت کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر کے آخری حصے کی کچھ باتوں کو نقل کرتے ہیں:

’’حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعدجب بنی اسرائیل پے درپے تنزل کی حالت میں مبتلا ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ آخرکار بابل اور اسیریا کی سلطنتوں نے ان کو غلام بناکر زمین میں تتربتر کردیا، تو انبیاء ے بنی اسرائیل نے ان کو خوشخبری دینی شروع کی کہ خدا کی طرف سے ایک ’’مسیح‘‘ آنے والا ہے جو ان کو اس ذلت سے نجات دلائے گا۔ ان پیشین گوئیوں کی بنا پر یہودی ایک ایسے مسیح کی آمد کے متوقع تھے جو بادشاہ ہوکر ، لڑکر ملک فتح کرے، بنی اسرائیل کو ملک ملک سے لاکر فلسطین میں جمع کردے اور ان کی ایک زبردست سلطنت قائم کردے… یہ مسیح موعود ایک زبردست جنگی و سیاسی لیڈر ہوگا جو دریائے نیل سے دریائے فرات کا علاقہ ﴿جسے یہودی اپنی میراث کا ملک سمجھتے ہیں﴾ انھیں واپس دلائے گا۔

﴿۱﴾ ’’حضرت ابوہریرہؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور اتریں گے تمھارے درمیان ابن مریم حاکم عادل بن کر پھر وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اورخنزیر کو ہلاک کریں گے، جنگ کا خاتمہ کردیں گے۔ ﴿دوسری روایت میں حرب کی بجائے جزیہ کا لفظ ہے، یعنی جزیہ ختم کردیں گے﴾ اور مال کی وہ کثرت ہوگی کہ اس کا قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا اور ﴿حالت یہ ہوجائے گی کہ لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور﴾ ایک سجدہ کرلینا دنیا ومافیہا سے زیادہ بہتر ہوگا‘‘۔ ﴿مسلم،ترمذی، مسند احمد، مرویات ابی ہریرہؓ ﴾

درج بالا تحریر کردہ تفصیلات کو ذہن میں رکھیں اور سورۃ الانبیاء  کے پانچویں رکوع کی تفصیلات کو پھر ایک بار یاد کرلیں کہ حضرت مریم  ؑ  کے تذکرے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ نہیں کیاگیا ہے۔ اب آیت نمبر ۱۰۵ پر غور فرمائیں وہ اس طرح ہے:

’’اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے‘‘۔

اس آیت میں بڑی خبر یہ ہے کہ لفظ ارض کہہ کر ارض مقدس مراد ہے۔ جس طرح آیات ۷۱، اور ۸۱ میں ارض مقدس کا تذکرہ ہے۔ آیت نمبر ۱۰۵ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فلسطین پر حکومت کا تذکرہ ہے یا یوں کہیے کہ اُن کی ساری دنیاپر حکومت ہوگی اور فلسطین اُس کا دارالخلافہ ہوگا۔

جب دجال ’’مسیح موعود‘‘ ہونے کا دعوہ لے کر اٹھے گا تب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شام کی کسی مسجد کے سفید مینار پر نازل فرمائے گا اور مسیح الدجال اُن کے ہاتھوں قتل ہوگا اور یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ان کی ہلاکت کے بارے میں نافذ ہوگا اور وہ سارے کے سارے مارے جائیں گے۔ اور ساری دنیا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حکومت ہوگی۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سورۃ الانبیاء  میں حضرت مریم ؑ  کے تذکرے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ پوشیدہ طور پر موجود ہے۔

اس طرح وہ بستی جس کی ہلاکت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرلیا تھا دنیابھر میں بکھر جانے کے باوجود یاجوج وماجوج کی سرکشی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار بن جانے کے لئے ارض مقدس میں واپس پلٹ آتی ہے اور اس ہلاکت کے فیصلے کا نفاذ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ہوگا اور یہ وہ زمانہ ہوگا جب اسلام ساری دنیا پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالب ہوگا۔

آخر میں پھر ایک بار حدیث میں کہی بات کو دہراتا ہوں کہ ’آج ﴿یعنی دور نبوت ہی میں﴾ یاجوج وماجوج کی دیوار میں سوراخ ہوگیا ہے اور عربوں کے لیے اس میں تباہی ہے‘۔

جنوری 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau