منافقین کی صفات

مولانا انعام اللہ فلاحی

منافقین اپنے اعمال اورمظاہر کے اعتبار سے مختلف ہیںلیکن عام صفات میں وہ مشترک ہیںان کی چند صفات کا یہاں ہم ذکر کرتے ہیں۔

(۱)برائی کا حکم دینا اور بھلائی کے کاموں سے روکنا:

منافقین کی یہ بہت ابھری ہوئی پہچان ہے ، اگرچہ اپنے ظاہرکے اعتبارسے اس کا اظہار نہ کریں، کیوںکہ ان کا اصل حربہ حقیقت پر پردہ ڈالنا اوربات کوتوڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس صفت کوبہت واضح الفاظ میںبیان فرمایا ہے ۔

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُہُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۝۰ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ ِ (التوبہ:۶۷)

’’منافق مرد اور منافق عورتیں  سب ایک دوسرےکے ہم رنگ ہیں۔ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں۔‘‘

(۲)گومگو اورانتظار کی صفت:

منافقین عام طورپر اس انتظار میں رہتے ہیں، کہ کون سافریق غالب آتا ہے ۔ وہ اپنی راہ رسم حق  اورباطل دونوں سے بنائے رکھے ہیں، تاکہ جوفریق غالب آئے ، اس کے ساتھ جاملیں اور اس سے اپنی خیر خواہی کا صلہ حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ ان کے اس رویہ پر تبصرہ فرماتا ہے:

وَاِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّيُبَطِّئَنَّ۝۰ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَۃٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَھُمْ شَہِيْدًا۝۷۲ وَلَىِٕنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللہِ لَيَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَہٗ مَوَدَّۃٌ يّٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ مَعَھُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِيْمًا۝۷۳       (النساء ۷۲۔۷۳)

’’تم میں سے ایسے بھی ہیں جولڑائی سے جی چراتے ہیں، اگرتم پر مصیبت آجائے توکہتے ہیں اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا ہےکہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ، اوراگر اللہ کا فضل تم پر ہوتو کہتا ہے اوراس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اوراس کے درمیان محبت کا توکوئی تعلق تھا ہی نہیں۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا توبڑا کام بن جاتا۔‘‘

سورہ عنکبوت میں ہے :

’’ اورلوگوں میں سے ایسے ہیں جوکہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب وہ اللہ کے معاملے میں ستائے گئے توانہوںنے لوگوںکی ڈالی ہوئی مصیبت کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا ۔‘‘اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آئی تویہ کہیں گے ’’ ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو معلوم نہیں ہے ؟‘‘(آیات۹۔۱۰)

ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو ہر حال میں فائدہ چاہیے ۔ اگر مسلمان غالب ہوں توان سے ، اوراگر مشرکین غالب ہوںتوان سے۔ اللہ نے ان کی اس کیفیت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے :

الَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللہِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ۝۰ۡۖ وَاِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ۝۰ۙ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۝۰ۭ فَاللہُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝۰ۭ وَلَنْ يَّجْعَلَ اللہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا۝۱۴۱ۧ  (النساء ۔۱۴۱)

’’یہ منافق تمہارے بارے میں انتظار کررہے ہیں( کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ) اگر اللہ کی طرف سے فتح حاصل ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچالیا؟بس اللہ ہی قیامت کے روز تمہارے اوران کے درمیان فیصلہ فرمائےگا۔‘‘

’’ یہ لوگ کفر اورایمان کے درمیان ڈانو ا ڈول ہیں نہ پورے اس طرف نہ پورے اُس طرف‘‘              (النسا ۔ ۱۴۳)

۳۔  خوف اور اندیشوں میں گرفتار:

منافقین کے لیے اپنے مادی مفاد کا تحفظ اورذاتی مصلحت غالب ہوتی ہے اس وجہ سے وہ تذبذب کی راہ اختیار کرتے ہیں چنانچہ ان کی زندگی خوف سے پر ہوتی ہے اور ہر وقت اندیشوں میں گرفتار رہتےہیں۔

يَحْلِفُوْنَ بِاللہِ اِنَّہُمْ لَمِنْكُمْ۝۰ۭ وَمَا ہُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّہُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْہِ وَہُمْ يَجْمَحُوْنَ(التوبہ ۵۶۔۵۷)

’’ وہ خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہیں میں سے ہیں۔ حالاںکہ وہ ہرگز تم میں سے نہیں ہیں۔اصل میں وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوف زدہ ہیں۔ اگروہ کوئی جائے پناہ پائیں  یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ توبھاگ کر اس میں جاچھپیں۔‘‘

وہ دنیا کی محبت میں اس قدر گرفتار ہوتے ہیں، دولت پر اس قدر ریجھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا انہیں نہایت ناگوار ہوتا ہے ۔

وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَہُمْ كٰرِہُوْنَ  (التوبہ۔۵۴(

’’اور وہ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیںتوبادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘

ہُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا۝۰ۭ وَلِلہِ خَزَاۗىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَفْقَہُوْنَ        (المنافقون۔۷(

’’اوریہی لوگ ہیں جوکہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کردو، تاکہ یہ منتشر ہوجائیں ، حالاںکہ زمین وآسمان  کےخزانوں کا مالک اللہ ہے مگر منافق سمجھتے نہیں ہیں۔‘‘

منافقین کے کام اورحربے:

(i)   جھوٹی قسمیں کھانا:

منافقین کواندیشہ ہوتا ہے کہ لوگ ان کی باتوں پر یقین نہیں کریں گے ، اس لیے وہ جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں اور یہ ان کا بہت بڑا حربہ ہوتا ہے ۔قرآن ان کے اس پردے کوچاک کرتا ہے:

يَحْلِفُوْنَ بِاللہِ مَا قَالُوْا۝۰ۭ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَۃَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِہِمْ وَہَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا                   (التوبہ۔۷۴(

’’یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی ، حالاںکہ انہوںنے ضرور کافرانہ بات کہی ہے ۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے۔ انہوںنے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کرنہ سکے۔‘‘

اِتَّخَذُوْٓا اَيْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۭ اِنَّہُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ                           (المنافقون۔۲(

’’انہوں نے اپنی قسموں کوڈھال بنالیا ہے اور اس طرح وہ اللہ کی راہ میں خود رکتے ہیں اور دوسروں کوروکتے ہیں، کیسی بری  حرکتیں ہیں جویہ لوگ کررہے ہیں۔‘‘

(ii) فریب اوردھوکا دینا:

منافقین کی بنیاد دفریب اور دھوکا پرہے ، وہ اہل ایمان کواپنے نقلی چہروں سے دھوکا دینا چاہتے ہیں۔

يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝۰ۚ وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ )البقرۃ۔۹(

’’وہ اللہ اوراہل ایمان کے ساتھ دھوکا بازی کرتےہیںمگردر اصل وہ اپنے آپ کو دھوکا میں ڈال رہے ہیں اورانہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘

(iii) مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنا:

منافقین کوجب بھی موقع ملتا وہ مسلمانوں کے درمیان فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ، وہ اس ٹوہ میں رہے کہ کوئی موقع ملے جس سے فائدہ اُٹھا کر مسلمانوں کے درمیان آگ بھڑکادی جائے تا کہ آپس میں لڑ پڑیں اوروہ باہر سے تماشہ دیکھیں۔ اس طرح مسلمانوں کی قوت کمزور ہواور اس کا انہیں فائدہ ملے۔ قرآن ان کی اس کیفیت پرتبصرہ کرتا ہے :

فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ وَاللہُ اَرْكَسَھُمْ بِمَا كَسَبُوْا۝۰ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَہْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللہُ۝۰ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِيْلًا         (النساء۔۸۸(

’’پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دورائیں پائی جاتی ہیں حالاںکہ جوبرائیاں انہوں نے کمائی ہیں ۔ ان کی بدولت اللہ انہیں پھیر چکا ہے ۔کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ  نےہدایت نہ بخشی اسے تم ہدایت بخش دو؟ حالاںکہ جن کو اللہ نے راستے سے بھٹکا دیا اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔‘‘

(iv)خود کو عقل مند اور مسلمانوں کوبیوقوف سمجھنا:

منافقین خود کو عقلمند سمجھتے ہیں کہ جہاں جیسی ضرورت پیش آئی وہاں اس طرح کی بات کرکے خود کو بچالیا ہے۔ مسلمانوں کے پاس گئے توان جیسی بات کرلی، اورکافروں کے پاس گئے توان کے مطابق بات کرکے خود کوان کا خیر خواہ ظاہر کیا ۔ اس طرح وہ خود کو عقل مند اور حقیقی اہل ایمان کو بے وقوف سمجھتے ہیں ۔ قرآن مجید ان کی اس کیفیت پر یوں تبصرہ کرتا ہے :

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ كَمَآ اٰمَنَ السُّفَہَاۗءُ۝۰ۭ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَہَاۗءُ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ  (البقرۃ۔۱۳(

’’ اور جب ان سےکہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں۔ اسی طرح تم بھی ایمان لے آؤ، تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ’’ کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں؟‘‘خبردار حقیقت میں تویہ خودبے وقوف ہیںمگر یہ جانتے ہیں۔‘‘

(v) زمین میں فساد پھیلانا اور اصلاح کا دعویٰ کرنا:

فساد پھیلانے والوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے زمین میں اصلاح کا کام کررہے ہیں ۔ خواہ ان کا فساد علم و آگہی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی کی بنیاد پر ہو۔ یا خود اپنی روحانی اورسیاسی لیڈروں کی تقلید میں ہو۔ دونوں حالتوں میں وہ اپنے ماننے والوں کواپنے پروپیگنڈا سے دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ، حقائق پر پردہ ڈال کر مغالطہ دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیںکہ وہ حقیقت میں مصلح ہیں منافقین کی اس صورت حال پر قرآن تبصرہ کرتا ہے :

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۝۱۱ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ  (البقرۃ۔۱۲(

’’ اور جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو ، توانہوںنے یہی کہا کہ ’’ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔‘‘ خبردارحقیقت میںیہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔

اکتوبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau