صالح معاشرے کی تشکیل اور تعلیمات نبویؐ

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی

آج پوری دنیا میں بدامنی اور خلفشار برپا ہے جس سے معاشرے کا سکون غارت ہورہا ہے اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہمارا واسطہ تعلیمات نبوی سے منقطع ہوچکا ہے۔جب تک ہم اپنے معاشرے کی کردار سازی اور قول و عمل میں اخلاص پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک اسی طرح ظلم و عدوان اور جور ستم کے شکار رہیں گے۔کیونکہ قرآن میں بجا طور پر ہمیں اس کا حکم دیا ہے :

’’فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ (ﷺ کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونہ (حیات) ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ (سے ملنے) کی اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے‘‘۔(الاحزاب،۳۳:۲۱)

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی معاشرے کے ان پہلوؤں اور مسائل پر روشنی ڈالی جائے جن کے بارے میں اسلام کی نہایت غلط تعبیر کی جارہی ہے اور فی زمانہ یہ موضوعات پوری دنیا میں زیرغور ہیں۔اسلام چودہ صدیاں قبل بنی نوع انسان کو رشد و ہدایت دینے کے لیے آیا اور حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا لیکن آج بھی آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ تمام دنیا کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انفرادی و اجتماعی سطح پر انسانی زندگی کے ہر پہلو میں کئی گنا تبدیلی آنے کے باوجود آپ ﷺ کے سوا کسی اور شخصیت کی زندگی نمونہ حیات ہے نہ اسلام کے سوا کوئی مذہب کامل رہنمائی فرماتا ہے اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ اور یہ سوال اس لیے نہیں کہ ہم بحیثیت مسلمان خود کو مطمئن کرسکیں بلکہ اس لیے بھی کہ اغیار کو اسلام کی عظمت کا قائل کیا جاسکے۔ آج ہماری زندگی کا سیاسی ، عمرانی ،نفسیاتی ،مذہبی ،یا اقتصادی پہلو ہو ان تمام تبدیلیوں کے باوجود انسانیت آج بھی اسلام سے ہی ہدایت اور رہنمائی حاصل کررہی ہے۔ اس کے لیے ہمیں اُس دور اور معاشرے کا مطالعہ کرنا ہوگا جس میں آپ ﷺ کی بعثت ہوئی۔ اسلام سے قبل خطہ عرب میں ہر سو ظلم و بربریت کادور دورہ تھا۔ قبائلی عداوتیں اپنے عروج پر تھیں، اخلاق و مروت کا نام و نشان تک نہ تھا، انسانی حقوق اور تکریم کاتصور بھی نہ تھا یہاں تک کہ خواتیں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا اور بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، معاشرے میں سچائی و رحم دلی اور علم کا نام و نشان بھی نہیں تھا، قوت حافظہ پر فخر کیا جاتا تھا، صرف خاندانی تفاخر اور نسلی تعصب کو ترجیح دی جاتی تھی۔ بے حیائی اس قدر عام تھی کہ خانہ کعبہ کا طواف بھی عریاں حالت میں کیا جاتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب دیگر تمام ترقی یافتہ تہذیبیں دم توڑ چکی تھیں، جیسے مصری تہذیب اپنی تمام تر ترقی کے باوجود روبہ زوال تھی اسی طرح یونانی، ایرانی اور ہندی تہذیبیں تھیں جو معاشرے میں اثر و رسوخ نہیں رکھتی تھیں۔

بنابریں رب کائنات نے بنی نوع انسان پر احسان فرمایا اور اپنے حبیب مکرم نبی آخر الزماں ﷺ کو رحمۃ اللعالمین ﷺ بناکر بھیجا۔

تعلیمات نبوی کا اجتماعی خاکہ:

چنانچہ آپ ﷺ نے دنیا کو برابری،عدل وانصاف، قومی یکجہتی، تہذیب و تمدن، اخلاق حسنہ معاشی، سیاسی، معاشرتی، آزادی، سخاوت اور تحمل و رواداری کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے تعلیمی انقلاب کی داغ بیل ڈالی اور معاشرتی مساوات بھائی چارگی اور انسانی تکریم کے زیور سے مزین کیا تصور کیجیے جس معاشرے میں تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ آپ ﷺ نے دنیا کو پہلی وحی سے ہی ایک رب کی پرستش کی تعلیم دی اور انہیں علم کی طرف راغب کیا۔لوگوں کو لکھنے کی تعلیم دی اور انہیں Embryologyسے متعلقہ مضامین سکھائے۔ گویا آپ ﷺ کا پہلا پیغام علم دیکرنوع انسانی  کو شعور عطا فرمایا گیا اور اُسے تکریم انسانیت کی تعلیم دیکرفہم و شعور، غور وتفکر، عقل و توزن کے انمول جواہر سے سرفراز فرمایا۔

’’اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی‘‘۔ (بنی اسرائیل،۱۷:۷۰)

پھر آپ ﷺ نے مساوات اور اخوت و بھائی چارے کی فضا قائم کی، جسے قرآن یوں بیان کرتا ہے:

’’اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا‘‘۔ (الحجرات، ۴۹:۱۳)

’’اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش کی ابتدا ایک جان سے کی‘‘۔(النسا،۴:۱)

آپ ﷺ نے معاشرتی و سماجی انصاف کا درس دیا:

’’فرمادیجئے: میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے‘‘۔ (الاعراف، ۷:۲۹)

آپ ﷺ نے آزادی کا تصور دیا:

’’دین میں کوئی زبردستی نہیں‘‘۔ (البقرۃ، ۲:۲۵۶)

یہ تو تھا اسلامی تعلیمات کا مجموعی خاکہ اب اس کے چنداہم گوشوں پر روشنی ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

حضورﷺ کا تصور امن

پوری دنیا بالخصوص عرب معاشرہ تشدد ظلم و وحشت اور سفاکی سے بھراہوا معاشرہ تھا، لیکن حضور نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو امن و سلامتی عام کرنے پر زور دیا:اور فرمایا سلام کو رواج دو سلامتی میں رہوگے(مسند احمد بن حنبل)

اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم ﷺ نے امن و سلامتی ،اخوت و محبت اور بھائی چارگی کو اپنانے پر زور دیا۔ اور سلام کوعام کرنے پر زور دیا اور انہیں یہ نوید دی کہ اس طرح تم بھی دائرۂ امن میں آجاؤ گے۔

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ اور تمہارا ایمان کامل نہیں ہوگا جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ اسے کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟آپس میں سلام کو پھیلاؤ‘‘ (سنن ابی داؤد کتاب الادب)

حضرت ابوہریرہؓ سے ہی ایک دوسرے مقام پر مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’تم اس وقت جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک اسلام نہ لاؤ اور تم اس وقت اسلام نہ لاؤ گے جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔

(لوگو!) سلام کوعام کرو تم باہم محبت کرنے لگو گے۔ اور بغض سے بچو کیونکہ یہ کاٹنے والا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ تمہاری گردنیں کاٹے گا بلکہ یہ تمہارا دین کاٹے گا‘‘۔(الادب المفرد)

ان احادیث میں اور دیگر کئی مواقع پر حضور نبی اکرم ﷺ نے اُس معاشرے کو امن و سلامتی عام کرنے کا حکم فرمایا جہاں جنگ و جدل انسانی گھٹی میں رچی بسی تھی۔ گویا آپ ﷺ کلی طور پر ایک پر امن ،محفوظ،صالح معاشرے کا قیام چاہتے تھے جہاں کسی کی جان مال، آبرو غیر محفوظ نہ ہو۔ذراغورفرمایے کہ ان اقوال رسولﷺ میںمسلمانوں کو باہمی تعلق ملاپ کا ایک واضح اور صاف ستھرا راستہ بتایا گیا۔

جب کہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ان یہودیوں کے ساتھ بھی نرمی اختیار کرنے کا حکم فرمایا جو آپ ﷺ کو بددعا دے رہے تھے۔

’’حضرت عائشہ صدیقہؓ روایت کرتی ہیں کہ کچھ یہودی آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: تمہارے اوپر موت ہو۔حضرت عائشہ نے جواباً کہا: تمہارے اوپر بھی ہو اور اللہ تم پر لعنت کرے اور تم پر اللہ کا غضب ہو۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! جانے دو، کج خلقی اور بدگوئی سے بچو‘‘۔ (صحیح بخاری)

بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر آپ ﷺ نے یثرب سے آئے ہوئے بارہ رکنی وفد سے جو تعلیمات ارشاد فرمائیں وہ صالح معاشرہ،امن وامان ، پیار و وفا، خلوص وللہیت ، جذبہ خیر سگالی، قومی یکجہتی اخوت و محبت ، مساوات اور نیکی جیسے اہم امور کی طرف نوع انسانی کی رہنمائی کرتی ہیں ۔

۱-            اللہ تعالیٰ اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ گے۔

۲-           کبھی چوری نہیں کرو گے۔

۳-          کبھی بدکاری نہیں کرو گے۔

۴-          کبھی اپنی بیٹیوں کو زندہ در گور نہیں کرو گے۔

۵-           کسی پر بہتان نہیں باندھو گے۔

۶-           جو کچھ میں تم سے کہہ رہا ہوں اگر وہ اچھا ہے تو اس کی پیروی کرو گے۔

اگر ہم مذکورہ تعلیمات پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اہل مکہ کی دشمنی کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ اپنے اوپر ہونے والے مظالم ومصائب کا بدلہ لینے کا کوئی اشارہ دیا بلکہ آپ ﷺ نے ان کی اخلاقی، معاشرتی و سماجی اصلاح پر زور دیا اور انھیں تکریم انسانیت کی تعلیم سے آراستہ کیا۔ یہ تعلیمات کا پہلا پیکج تھا جو یثرب سے آئے ہوئے پہلے وفد کو دیا گیا۔ بعد ازاں اس وفد نے یہ تعلیمات پھیلانا شروع کیں۔

جب آپ ﷺ مدینہ منورہ ہجرت فرما کرگئے تو اہل مدینہ کے دلوں میں آپ ﷺ کے لیے محبت کا سمندر موجزن تھا کیونکہ آپ ﷺ نے انہیں ان برائیوں سے نجات دلائی جو صدیوں سے ان کے اندر موجود تھیں۔ یہاں آپ ﷺ نے درج ذیل تعلیمات پر مشتمل پہلا خطبہ دیا:

۱-            اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تمہارے اعمال کی اصلاح ہوسکے۔

۲-           ہمیشہ ذہن نشین رکھو کہ تمہیں روز محشر اُس خدائے وحدہ لاشریک کے حضور اپنے اعمال پر جواب دہ ہونا ہے۔

۳-          صدقہ و خیرات کی کثرت کرو۔

۴-          اپنے رویہ اور باتوں میں ہمیشہ نرمی اور رحم دلی اختیار کرو اور اپنے دل کو سخت اور ظالم نہ ہونے دیں ۔

۵-           نفرت کی بجائے ایک دوسرے سے محبت کریں۔

۶-           اپنے نفس، دل اور ذہن کے شر انگیز پہلو سے پناہ مانگیں۔

۷-          قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کریں۔

۸-          ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاس داری کریں۔

مذکورہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ آپ ﷺ ایک کامیاب و کامران ، تعمیری وفلاحی معاشرے کےخواہاں تھے جس کی بنیاد غریب پروری اور احسان پر ہو۔ جہاں لوگ امن و آشتی اور صلح پسندی کے ساتھ رہیں، جہاں حقوق محفوظ ہوں، کسی کی حق تلفی نہ ہو یہ تعلیمات آج کے روشن خیال رہنماؤں سے سوال کر رہی ہیں جو جہاد کی غلط تعویل کرکےامت کے نوجوانوں اور پوری دنیا کو گمراہ کررہے ہیں۔ نیز یہ تعلیمات مغربی دنیا کے نام نہاد حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو اسلام کو تشدد، دہشت گردی اور انتہاپسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔

آمد مدینہ اور اقدامات نبوی ﷺ

حضور نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ آمد کے بعد درج ذیل اقدامات کو تمام امور پر ترجیح دی۔جو امن و امان بھلائی ،خیرخواہی سکون و اطمینان کا بیش خیمہ ہیں۔

۱-            آپ ﷺ نے اہل مدینہ سے خطاب فرماتے ہوئے باہمی محبت و یگانگت کے فروغ اور لوگوں کو اپنے قول و فعل اور رویے میں نرمی اور رحم دلی اختیار کرنے کا حکم دیا۔

۲-           اس کے بعد آپ ﷺ نے جو پہلا کام کیا وہ مواخات کا تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ محبت، اخوت اور امن کی بنیاد پر سماجی استحکام چاہتے تھے۔

۳-          مواخات کے بعد جو کام آپ ﷺ نے کیا وہ مدینہ کے یہود اور دوسرے غیر مسلم قبائل کے ساتھ سیاسی معاہدۂ امن تھا، جس کے ذریعہ آپ ﷺ نے ریاست مدینہ کو آئین دیا جو کہ دنیا کا پہلا تحریری دستور ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی معاشرتی اخلاقی روحانی ، معاشی مذہبی ،تہذیبی تمدنی،اور دیگر فلاحی شعبوں پر محیط ہے ۔

تاریخ عالم میں آئین سازی

اگر ہم دنیا کی آئینی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس سے بھی دستور مدینہ کی اہمیت وافادیت دو چند ہو جاتی ہے۔

برطانیہ میں آئینی تاریخ کا آغاز ۱۲۱۵ء  میں میگناکارٹا کی صورت میں ہوا جس میں محدود سطح پر حقوق دیے گیے بعد ازاں Bill of Rightsآیا جس کے بعد ۱۷۰۰ء میں Act of Settlement پاس ہوا۔

اسی طرح امریکہ کی آئینی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ۱۷۷۶ء میں Declaration of Indpendence بنا۔ پھر ستمبر ۱۷۸۷ء میں Philadelphia Conventionمیں امریکہ کا پہلا آئین وجود میں آیا۔ اس دوران آئینی طور پر غلامی برقرار رہی۔ ۱۸۶۸ء میں تیرھویں اور چودھوں ترمیم کے ذریعہ بنیادی انسانی حقوق کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔ ۱۹۲۰ء میں انیسویں ترمیم کے ذریعہ عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ یہی حالات آسٹریلوی، فرانسیسی اور جرمن سیاسی نظاموں اور آئین کے ہیں۔اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ آئین پورے طور پرانسانیت کی رہنمائی کرنے سے قاصر ہیں مگر حضور ﷺ نے دنیا کو پہلی ہجری میں جو دستور دیا وہ زندگی کے تمام پہلوؤں پر مکمل و مدلل رہنمائی فرماتا ہے۔

تاریخ اسلام میں آئین سازی

اس ضمن میں ہم اسلامی آئین سازی کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہوجاتی ہے کہ مغربی دنیا میں تمام حقوق کو آئینی تحفظ پچھلے ڈیڑھ دو سوسال کے عرصے کے دوران حاصل ہوا جب کہ اسلامی تاریخ  میں حضرت محمد ﷺ  نے چودہ صدیاں قبل ۵۵ شقوں پر مشتمل دنیا کا پہلا تحریری دستور دیا۔ اس آئین کے ذریعے آپ ﷺ نے تمام قوموں اور قبائل، مسلم، یہود ی یا عیسائی وغیرہ ان تمام کو ایک قوم قرار دیا۔ آپ ﷺ نے ریاست مدینہ کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیا۔ Devolution کے ذریعہ حکومت کو وفاقی، صوبائی اور لوکل سطحوں پر قائم کیا۔ اُس دور میں پہلی آئینی اسمبلی قائم ہوئی اور قوموں کو عدل وانصاف کا تصور اس زمانے میں دیا جب بادشاہ کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا اور پوری دنیا تہذیب اور انسانی حقوق وقانونی دستورکے تصور سے ناآشنا تھی۔ مقامی وقومی خاندانی رسوم و روایات کو آئینی تحفظ دیا گیا۔ تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی دی گئی اور دہشت گردی کی تمام راہیںقانونی طورپرختم کردی گئی۔ آئین مدینہ کی دفعہ نمبر ۱۶ کے ذریعے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف اجتماعی رد عمل کا اظہار قرار دیا گیا اور مدینہ کی حدود کے اندر قتال، دہشت گردی اور ظلم کو جرم عظیم قرار دیا گیا۔

ان تمام تصریحات کے بعد جب ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں تو نہایت کرب ناک منظر دکھائی دیتا ہے کہ چند لوگوں اور گروپوں نے اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیاہے جس سے تعلیمات نبوی کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔

مغرب اورآزادئی نسواں

برطانیہ میں عورت کی حق رائے دہی کے لیے جدوجہد کا آغاز ہی ۱۸۹۷ء میں Millicent Fawcett نے National Union of Womens Sufferageکے قیام سے کیا یہ تحریک اس وقت زیادہ زور پکڑ گئی جب ۱۹۰۳ء میں Emmeline Pankhurstنے Woman’s social and Political Union بنائی اور یہ یونین بعد میں Suffragettes کے نام  سے مشہور ہوئی۔

برطانیہ کے House of Commons نے ۱۹۱۸ء میں ۵۵ کے مقابلہ میں ۳۸۵ ووٹوں کی اکثریت سے Representation of people Act پاس کیا جس کے مطابق ۳۰ سال سے زائد عمر کی خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔ اگر چہ یہ خواتین کی حق رائے دہی کے اعتراف کا نقطہ آغاز تھا مگر ابھی عورتوں کو مردوں کے برابر مقام نہیں دیا گیا تھا کیونکہ عام مردوں کے لیے حق رائے دہی کی اہلیت ۲۱ سال اور مسلح افواج کے لیے ۱۹ سال تھی۔

امریکہ میں ۴؍جولائی ۱۷۷۶ کا اعلان آزادی (the Declaration of Indepedence)جدید جمہوری معاشرے کے قیام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے مگر اس میں بھی عورت کو بنیادی انسانی حقوق کے قابل نہیںسمجھاگیا Richard N.Currentکے مطابق نوآبادیاتی معاشرے کی عورت ہر طرح کے حق سے محروم تھی۔

اسی طرح جب جیفر سن(Jefferson) نے اعلان آزادی میں The People کا لفظ استعمال کیا تو اس سے مراد صرف سفید فام آزاد مرد تھے۔ اور آج دو صدیوں بعد بھی امریکہ میں عورت مساوی آزادی و مساوات کے لیے کوشاںہے۔ کیونکہ اس ڈیکلیریشن میں Men یا himکے الفاظ وارد ہوئے ہیں، Womanکے نہیں۔

جان بلم کے الفاظ میں ’’پرانے امریکی مرد خواتین کو اپنے مساوی نہیں تسلیم کریں گے‘‘

یہی وجہ ہے کہ ۱۹۴۸ء میں SenecFallsمیں ہونے والے تاریخی NewYork Woman’s Right Convention کے لیے Declaration of Sentimentsلکھتے ہوئے Elizabeth Cady Stantonنے اس بات پر زور دیا کہ اعلان آزادی میں عورت کے نجی عمومی مطالبے بھی شامل کیے جائیں۔

انیسویں صدی میں امریکہ کی عورتوں کو حقوق کی علم برداری SusanB Anthonyکو ۱۸۷۲ء میں صدراتی الیکشن میں ووٹ ڈالنے پر گرفتار کرلیا گیا اور ایک سو ڈالر کا جرمانہ بھگتناپڑا کیونکہ اسے قانونی طور پر حق رائے دہی حاصل نہیں تھا۔

Susan B Anthony نے امریکی آئین کے دیباچہ کے درج ذیل مندرجات کی روشنی میں یہ موقف اختیار کیا کہ آئین کی رو سے عورت بھی ایک فرد ہے جسے تمام آئینی حقوق حاصل ہونے چاہیں: ہم متحدہ ریاستوں کے عوام ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے آئین کی تشکیل اور نفاذ کریں تاکہ زیادہ مکمل یونین تشکیل دی جاسکے، انصاف قائم ہو داخلی امن واستحکام یقینی بنایا جائے، مشترکہ دفاع مہیا ہو فلاح عام کا فروغ ہو اور اپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کی نعمت کا تحفظ کیا جائے۔

۴؍جون ۱۹۱۹ء کوامریکی کانگریس اور سینٹ نے امریکی آئین کا ۱۹واں ترمیمی بل منظور کیا جس میں یہ قرار پایا:

’’آرٹیکل ۱۹: کوئی ریاست یامتحدہ ریاستیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے شہریوں کا حق رائے دہی جنس کی بنیاد پر ختم نہیں کریں گی۔‘‘

گویا امریکہ میں خواتین کو ۱۹۲۰ء تک رائے دہی کا حق حاصل نہ تھا اور جب انیسویں آئینی ترمیم منظور ہوئی تو جس کے تحت یہ حق دیا گیا۔

اسی طرح فرانس میں ۱۹۴۴ء میں عورتوں کو حق رائے دہی دیا گیا۔

آسٹریلیا میں ملک گیر سطح پر خواتین کو رائے دہی کا حق ۱۹۲۶ء میں دیا گیا۔ جبکہ ٓاسٹریلوی پارلیمنٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی پہلی خاتون Edith Cowanتھی جو مغربی آسٹریلیاکی قانون ساز اسمبلی کی ۱۹۲۱ء میں رکن منتخب ہوئی۔

یہی حال دیگر مغربی ممالک کا ہے جہاں پچھلی ایک ڈیڑھ صدی میں عورت کو قانونی شخص تسلیم کیا گیا اور پچاس یاسو سال قبل اسے حق رائے دہی دیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغرب میںتحفظ عورت کا نظریہ عرصہ دراز تک التوا میں پڑا رہا ا س کے باوجود بھی اسلام کی آزادی اور عصمت النساء پر کیچڑ اچھالتے ہیں جو آزادی عورتوں کو اب جاکر حاصل ہوئی ہے وہ اسلام نے پہلی ہجری میں ہی عطاکردی تھی نیز اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ اسلام نے آج سے ۱۴ سو سال قبل ہی ہرطبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے حقوق نہ صرف واضح فرمادیے بلکہ ان حقوق کی ادائیگی کی تاکید بھی کی۔ انہی انسانی حقوق میں سے اسلام نے عورتوں کے حقوق کی بھی حفاظت کی اور اپنی تعلیمات میں انہیں واضح انداز میں بیان بھی کیا۔

اسلام اورآزادی نسواں

اسلام نے آج سے چودہ صدیاں قبل عورت کو مساوی حقوق دیے نسلی امتیاز ختم کرتے ہوئے ، حق رائے دہی اور عورت کو انفرادی و اجتماعی حقوق دیکر ماں، بہن،بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے عائلی حقوق کا ذمہ دار بنایا اس طرح  ازدواجی ، معاشی و سیاسی اور قانونی حقو ق بھی مرحمت فرمائے۔

حضرت عثمانؓ کے انتخاب کے وقت مرد و عورت نے یکساں طور پر حق رائے دہی استعمال کیا۔ نیز خواتین کی سیاسی مشیر کے طور پر تقرری کی گئی۔ اور مختلف انتظامی ذمہ داریوں پر اس کی تعیناتی کی گئی۔عورت کو دفاعی ذمہ داریوں میں نمائندگی دی گئی۔ ملٹری آفیسرز کے طور پر ذمہ داریاں دی گئیں۔

عورت کی دی ہوئی امان کو مرد کی امان کے برابر قرار دیا گیا۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’عورت پوری قوم کے لیے امان دے سکتی ہے یعنی مسلمانوں کی طرف سے امان دے سکتی ہے‘‘۔(جامع ترمذی)

عورت کی امان کا صحیح ہونا رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانہ میں ایک عام بات تھی یہاں تک کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا:

’’اگر کوئی عورت (مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف بھی)کسی کو امان دے دے تو جائز ہے‘‘(سنن ابی داؤد )

اسی طرح اسلامی معاشرے میں عورت کو پارلیمنٹ میں بھی نمائندگی دی گئی ایک موقع پر جب حضرت عمر فاروقؓ نے مجلس شوریٰ سے عورتوں کے مہر کے مقدار متعین کرنے پر رائے لی تو مجلس شوریٰ میں موجود ایک عورت نے کہا ـآپ کو اس کا حق اور اختیار نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہوتب بھی اس میں سے کچھ واپس مت لو، کیا تم ناحق الزام اور صریح گناہ کے ذریعے وہ مال (واپس) لینا چاہتے ہو‘‘ (النسا،۴:۲۰)

اس پر حضرت عمرؓ نے اپنی تجویز واپس لے لی اور فرمایا:

’’عورت نے صحیح بات کی اور مرد نے غلطی‘‘۔(شوکانی، نیل الاوطار)

یہ عورت کو اسلام کی عطا کردہ عزت اور تکریم ہی تھی جس سے وہ معاشرے کا ایک موثر اور باوقارحصہ بن گئی اور اس نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سیاسی و انتظامی اور سفارتی کردار کے علاوہ تعلیم و فن کے میدان میں بھی عورتیں نمایاں مقام کی حامل تھیں روایت حدیث، قرآن و کتابت شعر و ادب اور دیگر علوم و فنون میں بھی بے شمار خواتین مہارت اور سند کا درجہ رکھتی تھیں۔ یہ ہے سیرت نبوی کا وہ پہلو جسے اغیار نے آج تک دباکر رکھا ہے اس لیے ضرورت ہے کہ حضور ﷺ کی ان تعلیمات کو اجاگر کریں جن پر معاندین اعتراضات و اتہام کی یورش کرتے ہیں۔تبھی جاکر صالح و صحت مندمعاشرے کا وجودممکن ہے۔

نومبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau