کوششوں میں اضافہ اور کوششوں کا اتحاد

محی الدین غازی

ملک تقسیم اور آزاد ہونے کے ساتھ ہی ہندوستانی مسلمانوں پر بڑی ذمے داریوں کے بھاری پہاڑ آپڑے تھے۔ انھیں اپنے اندر اعتماد بحال کرنا تھا کہ وہ اپنے ملک میں معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ انھیں ملک کی دیگر اقوام سے یہ منوانا بھی تھا کہ تقسیم کے باوجود وہ اس ملک کے حقیقی حصے دار اور پہلے درجے کے شہری ہیں، ملک کی تقسیم سے شہریت کے ا ن کے استحقاق پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ ساتھ ہی انھیں اپنے ملّی تشخص کی حفاظت بھی کرنی تھی اور باعزت و خوش حال شہری کی حیثیت سے زندگی بھی گزارنی تھی۔

ان بڑے چیلنجوں کے علاوہ انتہا پسندی کی تلوار بھی ان کے سر پر لٹک رہی تھی۔ کسی بھی آبادی میں انتہا پسند عناصر کے کبھی نہ پائے جانے کی ضمانت نہیں لی جاسکتی ہے۔ اس لیے اول روز سے یہ بات عیاں تھی کہ ملک کے اکثریتی طبقے میں وقتًا فوقتًا اٹھنے والی انتہا پسند تحریکات ملک و ملت کے لیے بڑا خطرہ بنی رہیں گی۔

بہت قلیل تعداد میں سہی، کچھ نفوس کے سامنے یہ حقیقت بھی واضح تھی کہ اس ملک میں رہتے ہوئے انھیں شہادت حق کی ذمے داری انجام دینی ہے۔ ملک کے حالات خواہ کتنے ہی ناسازگار ہوجائیں وہ اس کام سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔

ہندوستانی مسلمانوں نے ان بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کیا تدبیریں اختیار کیں اور ان کے کیا نتائج سامنے آئے، اس کا تفصیلی جائزہ آئندہ کا لائحہ عمل بنانے میں یقینًا مفید ہوگا۔ بہرحال ملت کے اندر یہ احساس غالب رہا کہ صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے کوششوں کا انبار اور ملت کا اتحاد ناگزیر ہے۔ دفاعی و اقدامی جدوجہد اور اتحاد کے حصول کی خاطر مختلف مواقع پر متحدہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی کوششیں بھی ہوتی رہیں۔ اجتماعی پلیٹ فارموں کو قائم کرنے، انھیں فعال رکھنے اور انھیں ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کی کوششوں کی ایک الگ داستان ہے۔

ملک و ملّت کے حالات پر نگاہ رکھنے والے اور امروز و فردا کا غم کھانے والے یہ بات شدّت سے محسوس کررہے ہیں کہ ملت اسلامیہ ہند کے سامنے چیلنجوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے کرنے کے کام پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ یہاں ہم بطور مثال کچھ ایسے کاموں کا ذکر کریں گے جن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے محسوس ہورہی ہے:

نظریاتی سطح پر ہندتو انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہندتو انتہا پسندی کا وجود تو پہلے بھی تھا، لیکن اب وہ ایک غالب نظریہ بنتی جارہی ہے۔ سماج کے مختلف طبقات میں اس کا نفوذ بڑھتا جارہا ہے اور ملک کے تمام ہی شعبے اور ادارے اس کے زیر اثر آرہے ہیں۔

سیاسی سطح پر اپنے کھوئے ہوئے وزن کو بحال کرنا ہے۔ مسلمان اس وقت جس سیاسی بے وزنی کا شکار ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں رہے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی مسائل پر کوئی پارٹی کھل کر بولنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ کہیں وہ خود اکثریت پرستی (majoritarianism) کا نوالہ نہ بن جائے۔

معاشی تنگ حالی سے بھی خود کو نکالنا ہے۔ ملک تیزی سے غربت اور افلاس کی طرف جارہا ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان ہیں۔ سیاسی بے وقعتی کے ساتھ قومی کشمکش جاری رہنے کا اچھا خاصا نقصان مسلمانوں کی معیشت کو پہنچا۔ معاشی بہتری کے لیے گہری منصوبہ بندی، معاشی تنظیم اور انتھک کوشش درکار ہے۔

تعلیمی پس ماندگی سے باہر آنا ہے۔ مسلمانوں کو دینی اقدار و عقائد کے ساتھ بہتر سے بہتر عصری تعلیم ملے، یہ روشن مستقبل کے لیے ضروری ہے۔ اندیشہ ہے کہ ملک میں نئی تعلیمی پالیسی اور زعفرانی نظریہ تعلیم کو مسلط کرنے کی کوششیں مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی میں اضافے کا سبب بنیں گی، اگر تدارک کے لیے حکیمانہ جدوجہد نہ کی گئی۔

قیادت کے بحران کو دور کرنا ہے۔ ایک طرف حالات نے قیادت کو بے بس کر رکھا ہے اور دوسری طرف قیادت کے تعلق سے ملت اعتماد کے بحران میں مبتلا ہے۔ یہ صورت حال خوش آئند نہیں ہے۔ ہر سطح پر قیادت کا دانش مندانہ اور خیر خواہانہ کردار سامنے آئے اور عوام میں قیادت پر اعتماد میں اضافہ ہو، اس کے لیے بڑے پیمانے پر تدبیری کوششیں مطلوب ہیں۔

ملک کے اندر مضبوط اور مؤثر سول سوسائٹی کی تشکیل میں حصہ لینا ہے۔ ملک میں مقبولیت پرست (populist)حکم رانوں کے ذریعے سول سوسائٹی کو بے دست و پا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مسلمانوں کے لیے کسی بھی حکومت سے زیادہ معاون و سازگار، صاف ذہن اور زندہ ضمیر رکھنے والی سول سوسائٹی ہوسکتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مفاد پرست حکومتیں اور استحصال پسند طاقتیں کسی مضبوط و مؤثر سول سوسائٹی کو ابھرنے نہیں دیتی ہیں، تاہم رائے عامہ بنانے کی مسلسل کوشش سے اس منزل کا حصول ممکن ہے۔

الحاد کے حملوں سے بچانے کے لیے جدید نسل کے اندر خود حفاظتی نظام قائم کرنا ہے۔ پہلے الحاد کا نشانہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بنتے تھے اور وہ بھی زیادہ تر بطور فیشن۔ لیکن اس وقت الحاد کا عفریت گھر گھر پہنچ کر نئی نسل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو بری طرح اپنے شکنجے میں کس رہا ہے۔ ایسی صورت حال کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ملت کے ہر ہر فرد کو دلائل کی قوت سے آراستہ کیا جائے۔

امت کے اندر نصب العین کا شعور اور اس سے محبت کو عام کرنا ہے۔ اس ملک میں ملت کے روشن مستقبل کی ضمانت اس نصب العین سے مضبوط وابستگی میں پنہاں ہے، جو اللہ نے مسلم امت پر عائد کیا ہے۔ اس وقت ملت اپنے وقتی مسائل میں اس طرح الجھی ہوئی ہے کہ نصب العین کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں جاتا ہے۔ نصب العین کی طرف پیش قدمی کے لیے ذاتی اور جماعتی مفادات سے اوپر اٹھنا، مادی تقاضوں کو ان کی معقول حدوں میں رکھنا اور نصب العین کو زندگی کی پہلی ترجیح قرار دینا ضروری ہے۔

یہ وہ بہت بڑے کام ہیں جن کے لیے پوری ملت کا اٹھنا ضروری ہے۔ یہ بہت بڑے نشانے ہیں جن کی حصول یابی کے لیے سب کی فکر مندیاں اور کوششیں درکار ہیں۔ چند شخصیات کی انجمن یا کچھ جماعتوں کا وفاق یہ کام انجام نہیں دے سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ پوری امت اس جد و جہد میں شامل ہوجائے۔

مذکورہ بالا نہایت ضروری، بالکل فوری اور بہت بڑے کاموں کی انجام دہی کے لیے اس وقت جو فارمولہ کار آمد ہوسکتا ہے وہ دو اجزا پر مشتمل ہے۔ پہلا جز یہ ہے کہ کوششوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جائے۔ ابھی تک جو کوششیں ہوتی رہی ہیں یا ہورہی ہیں وہ بالکل ناکافی ہیں۔ ان سے بہت زیادہ کوششیں درکار ہیں۔ لازم ہے کہ ملت کا ہر فرد جو ان کاموں کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہو ،بے کار نہ رہے، کسی بھی ادارے کی کارکردگی کم زور نہ رہے اور کوئی بھی جماعت یا اجتماعی فورم معطل یا سست رفتار نہ رہے۔ سطحی کوششوں پر اکتفا نہ کیا جائے، رسمی بیانات سے آگے بڑھا جائے، تقریروں کو کافی نہ سمجھا جائے، بلکہ نتیجہ خیز کوششوں پر ساری توانائیاں صرف کی جائیں۔

فارمولے کا دوسرا جز یہ ہے کہ کوششوں میں اتحاد قائم کیا جائے۔

افراد اور جماعتوں کے اتحاد اور ان کی کوششوں کے اتحاد میں فرق یہ ہے کہ جماعتوں کے اتحاد کو قبول کرنے میں بہت سی جماعتوں اور شخصیات کو تردّد ہوتا ہے۔ بہت سی مصالح آڑے آتی ہیں۔ کس بینر کے تحت جمع ہوں اور قیادت کس کی ہو؟ جیسے سوالات اتحاد کو بے حد مشکل اور اس کی عمر کو بہت مختصر بنادیتے ہیں۔

لیکن کوششوں میں اتحاد کے سامنے ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ آپ کو صرف یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کن محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ طے ہوجانے کے بعد ہر جماعت، ہر ادارہ اور ہر شخصیت اپنے نام اور بینر کے ساتھ ان محاذوں پر سرگرم ہوجائے۔ یہ میدان بہت بڑے ہیں اس لیے ان کے درمیان مسابقت سے نقصان کے بجائے فائدہ ہی ہوگا۔ مسابقت کے نتیجے میں نشانوں کا زیادہ سے زیادہ حصول متوقع ہے۔

مثال کے طور پر اگر دیگر اہداف کے علاوہ یہ ہدف طے کرلیا جائے کہ اہل وطن کے سامنے اسلام کا صحیح تعارف پیش کرنا اور اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے، تو جتنی جماعتیں اور شخصیات اس کام کو جتنا زیادہ انجام دیں سود مند ہوگا۔

اگر یہ ہدف طے کرلیا جائے کہ مسلمانوں کے اندر دینی شعور پیدا کرنا اور الحاد و تشکیک سے محفوظ رکھنے والی کی قوت مدافعت پروان چڑھانا ہے، تو ہر شخصیت اور ہر جماعت اس ہدف کے حصول کے لیے سرگرم ہوجائے۔

غرض مختلف بڑے اہداف جن پر پوری ملت کی باعزت بقا کا انحصار ہے، اگر طے کرلیے جائیں اور ملت کی تمام شخصیات، ادارے اور جماعتیں انھیں اپنالیں اور اس طرح اپنی اپنی شناخت کے ساتھ متحدہ کوششوں کا آغاز ہوجائے تو اللہ کی ذات سے، جس نے محنت میں برکت رکھی ہے، قوی امید ہے کہ کم وقت میں بڑی تبدیلیاں ہمارا استقبال کریں گی۔

واضح رہے کہ یہاں ‘کم سے کم مشترکہ پروگرام'(common minimum program) تک محدود رہنے کا مشورہ نہیں دیا جارہا ہے، بلکہ کسی مشترکہ پروگرام کے بغیر ان تمام محاذوں پر اپنے طور سے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی تجویز ہے، جن محاذوں پر کام کرنا ملت کی بقا و ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

کوششوں کے اس اتحاد کا کبھی اظہار بھی ہوسکتا ہے، جیسے کہ کسی خاص موقع پر ملت کے قائدین کی طرف سے ملت سے مشترکہ اپیل کی جائے یا کسی اہم معاملہ میں حکومت سے کوئی مطالبہ کیا جائے اور اس اپیل یا مطالبے پر سب کے دستخط ہوں۔ ادھر حالیہ چند برسوں میں اس کے بہت کام یاب تجربات کیے گئے۔

متحدہ کوششوں کے لیے وقتی طور پر مشترکہ پروگرام بھی بن سکتا ہے، جیسا کہ بعض ریاستوں کے انتخابات کے موقع پر اس کا کام یاب تجربہ کیا گیا۔

موقع بموقع حکومت وقت سے گفت و شنید کے لیے نمائندہ گروپ تشکیل دیے جاسکتے ہیں، جو ہر طرح کے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بلند ہوکر دین اور ملّت کے موقف کو حکومت کے سامنے پیش کریں۔

لیکن سب سے بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ ملت کی مستقل بہبود کے لیے ضروری میدانوں کا تعین ہو اور ان میدانوں میں بھرپور کوششیں کرنے پر سب کا اتفاق ہوجائے۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ بڑے میدان کار طے ہوجانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہونے کا رجحان کم زور ہوجائے اور جو افراد یا جماعتیں ان بڑے میدانوں کو چھوڑ کر بے سود مشاغل اور آپسی تنازعات کو بھڑکانے میں دل چسپی لیں، ملت انھیں ضرر رساں قرار دے کر کنارے کردے۔

اب تک بعض جزوی اور فروعی مسائل بہت سی جماعتوں کی دل چسپی کا محور رہے اور ان میں ان کی توانائی صرف ہوتی رہی۔ لیکن اب صورت حال تبدیل ہوئی ہے اور نظری طور پر سبھی لوگ وقت کی ان بڑی ضرورتوں کا ادراک کر رہے ہیں۔ اس فکری یک جہتی کے بعد عملی کوششوں میں اتحاد بہت ممکن ہوگیا ہے۔

ملت اسلامیہ ہند کے سامنے راستے مسدود نہیں ہوئے ہیں، البتہ بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی ہیں، کوششوں میں اضافے اور کوششوں کے اتحاد کا فارمولہ ان رکاوٹوں کو دور کرسکتا ہے۔ اللہ کی نصرت کا وعدہ اہل اسلام کی کوششوں کا منتظر ہے۔ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِیرٌ ۔

نومبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau