ہندوستان میں اقامت دین

مولانا سید احمد عروج قادریؒ

ہندوستان میں مسلمان جن حالات سے گزررہے ہیں وہ سخت اور صبرآزما ہیں۔ مختلف عوامل کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف تعصب کی فضا پیداہوگئی ہے۔ ایک عامل یہ ہے کہ مسلمان یہاں تقریباً ایک ہزار برس تک حکومت کرتے رہے ہیں اور اب اس ملک کے بعض عناصر اس کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ دوسرا عامل یہ ہے کہ آزادی ملک سے قبل مسلمانوں نے ایک تحریک چلائی تھی (خواہ اس کا سبب اکثریت ہی کا طرزعمل رہاہو) اس نے مسلمانوں کے خلاف تعصب کی فضا پیدا کرنے میں ایک موثر رول ادا کیا ہے۔ تیسرا عامل یہ ہے کہ حسن اتفاق یا سوئِ اتفاق سے اس سیاسی تحریک کے نتیجے میں ہندوستان بٹ گیا اور دنیا میں ایک نیا ملک پاکستان کے نام سے وجود میں آگیا۔ ان عوامل کا استعمال کرکے ہندوستان میں ایسی قوتیں کام کررہی ہیں جو اکثریت کے ذہن میں مسلمانوں کے مذہب، ان کی انفرادیت اور اسلامی تہذیب کے خلاف تعصب پیدا کررہی ہیںوہ بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔ اس نازک اور پیچیدہ صورت حال میں حق کے داعیوں پر دوذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں: بھارت کے مسلمانوں، ان کے مذہب ، ان کی انفرادیت اور اسلامی تہذیب کا تحفظ اور غیرمسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی جدوجہد۔ اس دوگونہ فریضے کو ادا کرنے اور اس ملک میں اقامت دین کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہمارے خیال میں دو باتیں ضروری ہیں:

(۱) اپنے قول وعمل کی شہادت سے فکری انقلاب پیداکرنے کی کوشش، تاکہ ایک طرف مسلمان اپنے مقصدِ حیات سے واقف ہوکر عملاً اسلامی زندگی بسر کرنے لگیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے بارے میں غیرمسلم عوام کی غلط فہمی کم ہو اور وہ اسلام پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔

(۲) اسلامی اصولوں پر مسلمانوں کی تنظیم، تاکہ اس جارحیت کا مقابلہ کیاجاسکے جس سے یہاں کے مسلمان دوچارہیں۔ ہر جگہ اور ہر زمانے میں کچھ عناصر ایسے رہے ہیں جن کے سامنے اپنے جاہ و منصب کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں ہوتی۔ وہ حق و انصاف کو اچھی طرح سمجھ کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔

تاریخی پس منظر

انگریزوں کےعہدِ حکومت میں مسلمانوں کا پرسنل لا بڑی حد تک محفوظ رہا اور انھیں نماز پڑھنے کی بھی آزادی رہی۔ کسی انگریز نے اس خیال کا اظہار نہیںکیاکہ مسجدوں کے بلند مینار دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اترتا ہے۔ محدود مذہبی آزادی اس حد تک رہی کہ بہت سے مسلمان ہندوستان میں اسلام کو آزاد سمجھنے لگے۔ اقبال نے اسی خیال خام کو دیکھتے ہوئے کہاتھا:

ملّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

لیکن اب شرپسند عناصر نے خود، ملا کے اس خیال پر ضرب لگانی شروع کردی ہے۔ نادانوںنے اس جذبے کا اظہار کیاہے کہ مسجدوں کے بلند مینار دیکھ کر اُن کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ چناںچہ نمازیں اور مسجدیں بھی ہدف بن رہی ہیں۔ بعض خِطّوں میں عیدالاضحی میں قربانی ایک مسئلہ بن گئی ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل کو نامسلمان بنانے کی سعی جارہی ہے، انھیں اجنبی تہذیب میں ضم کرلینے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اردو زبان مٹائی جارہی ہے۔ پرسنل لا کو ختم کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ مسلمانوں کو مرعوب کرنے اور ان کے دینی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے زبان وقلم کی تمام قوتیں صرف کی جارہی ہیں۔ مسلمانوں سے صاف کہاجارہاہے کہ یا تو ملک سے کہیں چلے جائو یا خالص بھارتی تہذیب میں مدغم ہوجائو۔ مسلمانوں کی جان، مال، آبرو، مذہب، زبان اور تہذیب ہدفِ انتقام بنی ہوئی ہے۔ یہ ہیں وہ نازک اور صبرآزما حالات جن میں مسلمان گھرے ہوئے ہیں۔ یہ حالات کیوں پیدا ہوئے ہیں؟ میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے : شامتِ اعمال ماصورتِ نادرگرفت۔ اسی شامتِ اعمال نے انگریزوں کو ہم پر مسلّط کیاتھا اور اسی نے اب شرپسندعناصر کو مسلّط کررکھا ہے۔ یہ ذہنیت صرف چند پارٹیوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

بنیادی فریضہ

ان حالات میں جب میں فریضۂ اقامت دین پر غور کرتاہوں تو میرے ذہن میں فوری طورپر وہ دوباتیں آتی ہیں جن کا اوپر میںنے ذکر کیا ہے۔ ان دوباتوں کی وضاحت سے پہلے یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ ’اقامتِ دین‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کیا ہوا فریضہ ہے۔ یہ کوئی ایسا فریضہ نہیں ہے جسے بطور خود ہم نے اپنے اوپر عائدکیاہو۔ اللہ نے یہ فریضہ عائد کیا ہے اور اس کے آخری رسولؐ نے اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر اسے انجام دیا ہے۔ اس لیے ہم اس بات کے پابند ہیں کہ وہی نمونہ اور وہی اصول اپنےسامنے رکھیں۔ کتاب و سنت ہی کی روشنی میں یہ فریضہ صحیح طورپر انجام دیاجاسکتا ہے۔ اب میں مذکورہ دو نکات کی وضاحت کروںگا:

(۱)ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین مقبول نہیں ہے:

وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۝۰ۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ (آل عمران:۸۵)

’’اور اسلام کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیاجائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامرادرہے گا۔‘‘

یہی دین ہمیں دنیا میں صاف ستھری اور مہذّب زندگی عطا کرسکتااور آخرت میں ہمیں خدا کے غضب اور بھڑکتی ہوئی دوزخ سے بچاسکتا ہے۔ یہ اللہ کی بھیجی ہوئی وہ نعمت ہے جو سورج کی روشنی اور ہوا کی طرح سب کے لیے عام ہے۔ مسلمان اس کے امین ہیں، اجارہ دار نہیں ہیں۔ اس کی رہ نمائی زندگی کے چند مسائل تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پوری انسانی زندگی کا دستور ہے۔ اس عقیدے اور یقین کا اظہار واقرار اس وقت قولی شہادت بنتا ہے جب ہماری گفتگو متضاد اقوال سے پاک صاف ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص اسلام کے بارے میں اپنے اس یقین کااظہار کرے، پھر انسانوں کے وضع کردہ کسی نظام کو بھی مفیدِ انسانیت کہے۔ مثلاً وہ کمیونزم یا سوشلزم یا سیکولرزم کا پرچار بھی کرے تو اسلام کے بارے میں اس کی قولی شہادت بے معنی ہوکر رہ جائے گی، کیونکہ اس طرح اللہ کے بھیجے ہوئے دین حق کے ساتھ انسان کے وضع کیے ہوئے کسی بھی دین باطل کا جوڑملاکر وہ اس بات کی شہادت دے گا کہ اسلام مکمل نہیں، بلکہ ناقص ہے۔ آج ہزاروں تعلیم یافتہ مسلمان اس تضاد میں مبتلا ہیں۔

عملی شہادت کے معنی یہ ہیں کہ ہماری پوری زندگی کو اسلامی احکام و قوانین کے سانچے میں ڈھلا ہوا ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص زبان سے تو اسلام، اسلام پکارتا ہے، لیکن اس کی عملی زندگی اس کے مطابق نہ ہو یا اس نے اپنی زندگی الگ الگ خانوں میں بانٹ رکھی ہو، کسی خانے میں اسلام کا نور ہو اور کسی خانے میں غیراسلام کی ظلمت تو ایسا شخص اسلام کی عملی شہادت سے کوسوں دور ہوگا۔

جو لوگ اقامت دین کا داعیہ رکھتے ہوں انھیں یہ قولی و عملی شہادت مسلمانوں کے سامنے بھی دینا ہوگی اور غیرمسلموں کے سامنے بھی۔ مسلمان اس قولی و عملی شہادت کو دیکھ کر اپنے تضاد و تناقض کو دور کریںگے اور غیرمسلم اس کی تجلی کو دیکھ کر اسلام کے حسن و جمال سے واقف ہوںگے، ان کا تعصب کم ہوگا اور وہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔

(۲)اسلام چونکہ ایک اجتماعی دین اور زندگی کا مکمل نظام ہے، اس لیے اس کے ماننے والوں کا متحد اور منظم ہونا اس کی عین فطرت میں داخل ہے اور اسی اتحاد وتنظیم سے امت مسلمہ اللہ کے دستِ شفقت و نصرت کی مستحق بنتی ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: یَدُاللہِ عَلی الجَمَاعَۃِ (اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے) اور اسی لیے حضورﷺ نے پوری تاکید کے ساتھ فرمایاہے: عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَاِیَّاکُمْ وَالْفُرْقَۃَ (تم پر لازم ہےکہ جماعت کے ساتھ جڑے رہو اور انتشار سے بچو) اتحاد و تنظیم کی یہ قوت نہ صرف اشاعتِ اسلام میں معاون ہوتی ہے، بلکہ یہی قوت مخالفین حق کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بھی بنتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تنظیم ان اصولوں کے تحت اور ان مقاصد کے لیے ہونی چاہیے جن کی تعلیم و ترغیب قرآن نے دی ہے اور نبی ﷺ نے عملاً ایک تنظیم بناکر دکھائی ہے۔ انھی اصولوں پر اور انھی مقاصد کے لیے بنی ہوئی تنظیم اللہ کی رحمت و نصرت کی مستحق بنتی اور اسی میں یہ قوت ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہر جارحیت کی مدافعت کرے۔

ان اصولوں اور مقاصد پرمفصل گفتگو یہاں نہیں کی جاسکتی اس لیے ہم سورۂ آل عمران کی صرف چند آیتیں پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۝۱۰۲ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۝۰۠ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا۝۰ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا۝۰ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللہُ لَكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ۝۱۰۳ وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۰۴ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝۱۰۵ۙ (آل عمران:۱۰۲۔۱۰۵)

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیساکہ اس سے ڈرنے کاحق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اس نے تمھارے دل جوڑدیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمھارے سامنے روشن کرتا ہے، شاید کہ ان علامتوں سے تمھیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظرآجائے۔ تمھیں ایک ایسی امت ہونا چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے، بھلائی کا حکم دے اور بُرائیوں سے روکتی رہے، جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔ کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے‘‘

ان چار آیتوں میں جو باتیں کہیں گئی ہیں ان کو ذیل کے چند نکات میں سمیٹاجاسکتا ہے:

(۱) انفرادی طورپر ہرمسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ سے پوری طرح ڈرتارہے اور مرتے دم تک اسلام پر قائم اور اللہ کاوفادار رہے۔

(۲) اجتماعی طورپر تمام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی رسی (اللہ کے دین) کو مضبوطی سے تھامے رہیں اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالیں۔

(۳) ہرزمانے کے مسلمانوں کو عرب کی تاریخ اور اس میں اسلام کے کارنامے کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام نے باہم دشمن قبائل کے دلوں کو جوڑکر ان میں ایسا اتحاد پیداکیاکہ روم و فارس کی عظیم قوتیں بھی اس سے ٹکراکر پاش پاش ہوگئیں۔ اگر اسلام ان میں اتحاد پیدا نہ کرتا تو وہ خود اپنے اختلافات کی آگ میں جل کر بھسم ہوجاتے۔

(۴) مسلمان جس طرح اسلام کے نور سے خودمنوَّر ہوئے ہیں اسی طرح انھیں دوسروں کو بھی اس نور سے منوَّر کرنا چاہیے۔ دنیا کی تاریکی اسی روشنی سے دور ہوسکتی ہے۔

(۵) یہودیوں اور عیسائیوں کی روش سے مسلمانوں کو بچنا چاہیے۔ اس لیے کہ وہ فرقوں میں بٹ گئے اور واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔

ان آیتوں کو پڑھ کر اپنا جائزہ لیجیے۔ آج مسلمانوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا تو کجا، اس کو اپنے ہاتھوں سے چھوڑرکھا ہے۔ وہ بے شمار گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنے باہمی اختلافات کی آگ میں جل رہے ہیں۔ انھوںنے یہودیوں اور عیسائیوں کی روش اختیار کرلی ہے اور ان میں ہزاروں ایسے بھی ہیں جنھوںنے اسلام کو باعث الفت و اتحاد نہیں، بلکہ باعثِ نفرت واختلاف سمجھ رکھا ہے۔ اس صورتِ حال میں جب تک ہم ان آیتوں میں دی ہوئی ہدایات کی طرف نہ پلٹیں اور اللہ کی رسی کو پھر مضبوطی سے تھام کر باہم جڑ نہ جائیں اس وقت تک ہم بچے کھچے اسلامی احکام و قوانین کو بھی نہیں بچاسکتے، چہ جائیکہ اقامتِ دین کا فریضہ انجام دے سکیں اور اگر ہم ان ہدایات کی طرف رجوع کریں تو بہت جلد دیکھیں گے کہ ناسازگار فضا ہمارے لیے سازگار بن رہی ہے۔ ہندوستان میں ابھی بڑی تعداد میں غیرمسلم افراد ایسے موجود ہیں جو متعصبانہ ذہنیت نہیں رکھتے۔ تھوڑی کوشش سے ان کی غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں اور وہ مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور اسلام پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔ اسلام کے دین حق اور دین فطرت ہونے کاایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں سعید روحیں اُس کے پیغامِ حق پر لبیک کہتی رہی ہیں۔

(ماہ نامہ زندگی ،اگست ،۱۹۶۹ء)

اگست 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau