اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

کسی انسانی گروہ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سامنے ایک واضح نصب العین ہو، اُس کو ایسی قیادَت میسّر آئے جو قائدانہ صفات کی حامل اور نصب العین کے عشق سے سرشار ہو اور اُس کے عوام قیادت کے ساتھ پورا تعاون کریں۔ کامیابی کے لیے مندرجہ بالا تینوں عناصر ضروری ہیں۔ یہ بات امتِ مسلمہ پر بھی صادق آتی ہے، دوسرے انسانی گروہوں کی طرح اُمتِ مسلمہ بھی اُسی وقت کامیابی سے ہم کنار ہوسکتی ہے ،جب یہ تینوں شرطیں پوری ہوجائیں۔ جو مخلص افراد اُمتِ مسلمہ کی کامیابی کے فی الواقع متمنّی ہیں، اُن کے لیے لازم ہے کہ اِن بنیادی شرائط کی تکمیل کی کوشش کریں۔ ان پر توجہ کے بغیر اُمت کی جزوی اِصلاح یا اُس کے بعض مسائل کے حل کی کوششیں جو عام طور پر کی جاتی رہتی ہیں، کچھ نہ کچھ افادیت تو ضرور رکھتی ہیں، لیکن اُمت کو ہمہ جہتی کامیابی سے ہم کنار نہیں کرسکتیں۔

نصب العین

اُمتِ مسلمہ کا نصب العین اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ اُمت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اُس کا ہر ہر فرد اِس نصب العین سے واقف ہو، اس سے مخلصانہ وابستگی اختیار کرے اور اپنی زندگی کی ساری سرگرمیوں کو اِس نصب العین کے تابع کردے۔ اعلاء کلمۃ اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ کاکلمہ بلند ہو اور دوسرے کلمے پست ہوجائیں۔ اعلاء کلمۃ اللہ کی اِس منزل کو پانے کے لیے اہلِ ایمان کو مسلسل جدوجہد کرنی ہوتی ہے۔ اِس جدوجہد کے اہم اجزاء دعوت اور جہاد ہیں۔ قرآنِ مجید میں کلمۃ اللہ کی بلندی اور جہاد کا تذکرہ ساتھ ساتھ کیا گیا ہے:

يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ﴿٣٨﴾ إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٣٩﴾ إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٤٠﴾ ﴿التوبۃ: ۳۸-۴۰﴾

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا؟ اگر ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔ تم نہ اٹھو گے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکوگے، وہ ہر چیزپر قدرت رکھتا ہے۔ تم نے اگر نبی کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں۔ اللہ اُس کی مدد اُس وقت کرچکا ہے، جب کافروں نے اُسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ ’’غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ اُس وقت اللہ نے اُس پر اپنی طرف سے سکونِ قلب نازل کیا اور اُس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کردیا اور اللہ کا بول ﴿کلمۃ اللہ﴾ تو اونچا ہی ہے، اللہ زبردست اور دانا و بینا ہے۔‘‘

اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ایک اور تعبیر جو قرآنِ میں استعمال کی گئی ہے، وہ فتح کی ہے۔ فتح سے مراد حق کی فتح ہے اور اس فتح کا ایک مظہر یہ ہے کہ لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہونے لگیں:

ذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ ﴿١﴾ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا ﴿٢﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ﴿٣﴾﴿النصر﴾

’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے اور ﴿اے نبی!﴾ تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں تو اپنے رَب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

حق کی فتح کا ایک دوسرا مظہر یہ ہے کہ اہلِ ایمان بے خوف و خطر اللہ کی بندگی کرسکیں اور کوئی باطلِ اقتدار بندگی رَب کی راہ میں حائل نہ ہوسکے۔ قرآنِ مجید میں ہے:

وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿النور:۵۵﴾

’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ اُن کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا، جِس طر اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جسے اس نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے اور اُن کی موجودہ حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘

امتِ مسلمہ کی کامیابی کے لیے پہلی ضروری شرط یہ ہے کہ اُمت کے ہر فرد کو اعلاء کلمۃ اللہ اور حق کی فتح کے عظیم نصب العین سے وابستہ کیا جائے۔

صالح قیادت کا ظہور

امتِ مسلمہ کے اندر نصب العین کے زندہ شعور کے بعد اُمت کی کامیابی کے لیے دوسری ضروری شرط یہ ہے کہ اُسے اچھی قیادَت میسر آئے اور وہ قیادَت اپنی ذمہ داریاں فی الواقع انجام دے۔ اچھی اور باصلاحیت قیادت کا میسر آنا اللہ کے فضل ہی سے ممکن ہے۔ اللہ کا یہ فضل اُمت پر اُس وقت ہوتا ہے، جب وہ اللہ کی راہ میں ثابت قدمی کا ثبوت دے۔ اللہ کی اِس سنّت کو قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل کی مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے:

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَائِهِ ۖ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿٢٣﴾ وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ ﴿السجدۃ: ۳۲،۴۲﴾

’’اِ س سے پہلے ہم موسیٰ کو کتاب دے چکے ہیں، لہٰذا اُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہیے۔ اُس کتاب کو ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا اور جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو اُن کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔‘‘

اہلِ ایمان گروہوں کے عروج کے متعلق یہ بہت اہم قانون ہے جو قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس قانون کے مطابق اُمتِ مسلمہ کے عام افراد کی روش فیصلہ کن رول ادا کرتی ہے۔ اگر افرادِ اُمت سخت حالات کے باوجود حق پر قائم رہیں اور ثابت قدمی کا ثبوت دیں تو اللہ اُن کو ایسی قیادت عطا فرمائے گا، جو اللہ کے حکم کے مطابق رہنمائی کا فریضہ انجام دے گی۔ ایسی مخلص اور بیدار مغز قیادت میسر آجائے تو یقینا اُمت کے قدم کامیابی کی طرف بڑھیں گے۔ اِس لیے اگر امتِ مسلمہ کے افراد فی الواقع کامیابی کے خواہاں ہیں تو انہیں ’’قیادت کے فقدان‘‘ کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنی اجتماعی روش کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ جائزہ اِس پہلو سے لیا جاناچاہیے کہ بحیثیتِ مجموعی اُمت راہِ خدا میں استقامت اور ثابت قدمی کا ثبوت دے رہی ہے یا نہیں۔ اگر فی الواقع اہلِ ایمان راہِ حق پر جمے ہوئے ہیں تو کچھ دیر نہ لگے گی کہ اللہ کے فضل سے اُن کو صالح اور مؤثر قیادت میسر آجائے گی۔ اور اُس قیادت کی رہنمائی میں وہ کامیابی کی منزلیں طے کرسکیں گے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اِن آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ بات تاریخ سے ثابت ہے. کہ بنی اسرائیل کئی صدی تک مصر میں انتہائی ذلت و نکبت کی زندگی بسر کررہے تھے۔ اِس حالت میں اللہ تعالیٰ نے اُن کے درمیان موسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا، اُن کے ذریعہ سے اِس قوم کو غلامی کی حالت سے نکالا، پھر اُن پر کتاب نازل کی اور اُس کے فیض سے وہی دَبی اور پِسی ہوئی قوم ہدایت پاکر دنیا میں ایک نامور قوم بن گئی۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، سورہ سجدہ، حاشیہ۳۲﴾

مولانا مودودیؒ بنی اسرائیل کے عروج کے اصل سبب کی نشان دہی فرماتے ہیں:

’’بنی اسرائیل کو اس کتاب نے جو کچھ بنایا اور جن مدارج تک پہنچایا، وہ محض ان کے درمیان کتاب کے آجانے کا کرشمہ نہ تھا کہ گویا یہ کوئی تعویذ ہو جو باندھ کر اس قوم کے گلے میں لٹکادیا گیا ہو اور اُس کے لٹکتے ہی قوم نے بامِ عروج پر چڑھنا شروع کردیا ہو، بلکہ یہ ساری کرامت اُس یقین کی تھی جو وہ اللہ کی آیات پر لائے، اور اُس صبر اور ثابت قدمی کی تھی، جو انھوں نے احکامِ الٰہی کی پیروی میں دکھائی۔‘‘ ﴿ایضاً،حاشیہ۳۷﴾

اُمتِ مسلمہ کی قیادت کے فرائض

ہم دیکھ چکے ہیں کہ اہلِ ایمان گروہ کی کامیابی کے لیے صالح قیادت کی موجودگی ایک ضروری شرط ہے۔ یہ شرط پوری ہوجائے تو اہلِ ایمان کامیابی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کامیابی کی یہ منزلیں طے کرنے کے لیے اُمت کی قیادت کو اپنی ذمہ داریاں عملاً انجام دینی ہوں گی۔ یہ ذمہ داریاں کیا ہیں، اِس کا علم ہمیں انبیائ علیہم السلام کی سرگزشت کے مطالعے سے ہوتا ہے، جو قرآنِ مجید میں بیان کی گئی ہے۔اللہ کے آخری نبی ﷺ اہلِ ایمان کے درمیان جو اہم وظائف انجام دیتے تھے، اُن کا تذکرہ قرآن مجید میں اِس طرح کیا گیا ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢﴾ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٣﴾ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿٤﴾  ﴿الجمعۃ:۲تا۴﴾

’’وہی اللہ ہے جس نے اُمیّوں کے اندر ایک رسول خود انہی میںسے اٹھایا، جو انھیں اس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالاںکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ اور ﴿اِس رسول کی بعثت﴾ اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ یہ اُس کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔‘‘

اِن آیات میں چار بنیادی کاموں کا تذکرہ ہے، جو نبی ﷺ اہلِ ایمان کے درمیان انجام دیتے تھے۔ یہ چار کام ہیں تلاوتِ آیات، تزکیہ نفوس، تعلیمِ کتاب اور تعلیمِ حکمت۔ نبی ﷺ کے اِس اُسوے کی پیروی میں ہر دور کے اندر اُمتِ مسلمہ کی قیادت کو اہلِ ایمان کے درمیان یہ چاروں کام انجام دینے چاہئیں۔ اِن کاموں کی انجام دہی اُس کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری قرار پاتی ہے۔

تلاوتِ آیات

مندرجہ بالا چار بنیادی کاموں میں پہلا کام ’’تلاوتِ آیات‘‘ ہے۔ اس اصطلاح کی تشریح کے ذیل میں مولانا صدر الدین اصلاحیؒ لکھتے ہیں:

’’تلاوتِ آیات کا مدعا صرف اتنا …نہیں ہے کہ آپ ﴿ﷺ﴾ قرآن کی آیتیں پڑھ کر لوگوں کو سنادیتے ہیں۔ بلکہ بات اس سے بہت آگے کی کہی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ اِن دلائل سے جو قرآنِ حکیم توحید اور معاد وغیرہ اصولِ دین پر دیتا رہتا ہے، لوگوں کے اندر ایمان کی حقیقتیں اتارتے ہیں، اور جن کے دلوں میں یہ حقیقتیں اترچکی ہیں اُن کے اندر انہیں اور زیادہ مستحکم کرتے ہیں اور اُن کے کیف و اثر کو تیز تر کرتے رہتے ہیں۔

…یہ حقیقت کہ ’’تلاوتِ آیات‘‘ کا مدعا … اسلام کے اصولی عقائد پر دلائل کا سنانا اور پیش کرنا ہے، دو باتوں سے بالکل واضح ہے۔ ایک طرف تو آیت کے معنی قرآن میں صرف آیتِ قرآنی یعنی قرآنی عبارت کے متعین ٹکڑوں ہی کے نہیں ہوتے، جیسا کہ اردو زبان میں ہوا کرتے ہیں، بلکہ اس کے معنی دلیل اور شاہد کے بھی ہوتے ہیں، چنانچہ اس معنی میں یہ لفظ قرآن کے اندر اِس کثرت سے استعمال ہوا ہے کہ اس کی مثالیں دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ دوسری طرف اس آیت میں یتلو علیہم آیاتہ کے بالمقابل رسالت کے باقی جو تین فرائض بتائے گئے ہیں، اُن کے پیشِ نظر ‘تلاوتِ آیات’ کے معنی مطلقاً قرآن سنانے کے لیے ہی نہیں جاسکتے۔ کیونکہ یہ دوسرے تین فرائض بھی تو قرآن ہی کے ذریعے یعنی اُس کی آیتیں سناکر ہی انجام دیے جانے کے ہیں۔ اس لیے ‘تلاوتِ آیات’ کا مدّعا اگر مطلقاً قرآن سنادینا ہوتا تو پھر اس کا کوئی موقع و محل باقی ہی نہ رہ گیا ہوتا کہ باقی تینوں کاموں کو ﴿بھی﴾ مستقل فرائض کی حیثیت سے بیان کیا جائے۔’   ﴿‘‘اساسِ دین کی تعمیر‘‘ از مولانا صدر الدین اصلاحیؒ باب دوم﴾

مولانا اصلاحیؒ کی مندرجہ بالا تشریح سے معلوم ہوا کہ اصلاً ’’تلاوتِ آیات‘‘ سے مراد آفاق و انفس کی اُن نشانیوں کی طرف سامعین کو متوجہ کرنا ہے جو قرآنِ مجید میں بیان کی گئی ہیں اور جو قرآن کے بیان کردہ عقائد اور تعلیمات کی صداقت اور حقانیت پر دلالت کرتی ہیں۔

تزکیہ نفوس

اسوہ نبویؑ کی روشنی میں مسلمانوں کی قیادت کی دوسری اہم ذمہ داری افرادِ امت کا تزکیہ قرار پاتی ہے۔ تزکیہ ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی فرماتے ہیں:

’’تزکیے… کا اصطلاحی مفہوم نفس کو غلط رجحانات و میلانات سے موڑ کر نیکی اور خدا ترسی کے راستے پر ڈال دینا اور اُس کو درجہ کمال تک پہنچنے کے لائق بنانا ہے۔

…اللہ تعالیٰ نے اِنسان کے نفس کو اِس طرح بنایا ہے کہ اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں صلاحیتیں ودیعت کردی ہیں اور اُس کو یہ صلاحیت بھی بخشی ہے کہ وہ اِن دونوں کے درمیان امتیاز کرسکے۔ پھر اِنسان کی لیے فلاح و کامرانی کا راستہ ﴿اللہ نے﴾ یہ ٹھہرایا ہے کہ وہ نیکی اور بدی کی اِس کش مکش میں نیکی کا ساتھ دے اور اس کو بدی پر غالب کرنے کی کوشش کرے۔ صحیح شعور کے ساتھ نیکی کو غالب کرنے اور بدی کو مغلوب کرنے کا یہ جہاد قرآنِ مجید کی اصطلاح میں تزکیہ ہے۔

…علم تزکیہ کا اصل کام صرف یہی نہیں کہ یہ ہمارے نفس کے ہر پہلو سے بحث کرتا ہے یا اُس کی خرابیوں کو دور کرکے اُن کی جگہ پر جو کچھ صحیح ہے، اُسے پیش کرتا ہے، بلکہ اُس کا اصل کام اِس بحث و تمحیص اور تعلیم و تلقین سے آگے ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ ہمارے نفس کی ہر پہلو سے ایسی تربیت کرتا ہے، جس سے ہمارا نفس ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ بن جائے۔‘‘

 ﴿تزکیہ نفس از امین احسن اصلاحی صاحب باب: دوم﴾

مولانا امین احسن صاحب کی مندرجہ بالا تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ کا حصول تزکیے کی اصل منزل ہے۔ یہ ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ کیا ہے؟ اِس سلسلے میں مولانا اصلاحیؒ فرماتے ہیں:

’’نفسِ مطمئنہ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے علم کی بنیاد ایسے مضبوط یقین پر قائم ہوجائے کہ رنج و راحت اور دکھ سکھ کی کوئی حالت بھی اللہ کے بارے میں ہمارے اعتماد اور حسنِ ظن کو بدل نہ سکے، بلکہ ہر حالت میں ہم اللہ سے راضی اور مطمئن رہیں۔ اِسی طرح ہمارے عمل کی بنیاد ایک ایسی مستحکم سیرت پر قائم ہوجائے کہ تنگی و فراخی اور خوف و طمع کی کوئی آزمائش بھی ہم کو اُس مقام سے نہ ہٹا سکے جہاں اللہ کی شریعت نے ہمیں کھڑا کیا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو کچھ چاہا ہے، ہم اُس کو پورا کرکے اُس کے پسندیدہ بندے بن سکیں۔ یہی نفسِ مطمئنہ تزکیے کا اصل مقصود ہے۔

یَا أَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَءنَّۃُا ارْجِعِیْ الَی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃًo      ﴿الفجر: ۷۲،۸۲﴾

’’اے نفسِ مطمئنہ چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔‘‘

تعلیمِ کتاب

تلاوتِ آیات اور تزکیہ نفوس کے علاوہ ایک اہم فریضہ جو نبی کریم ﷺ انجام دیتے تھے، اُس کو قرآنِ مجید میں ’’تعلیمِ کتاب‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس اصطلاح کی تشریح کرتے ہوئے جناب امین احسن اصلاحی صاحب مبادیِ تدبّرقرآن میں فرماتے ہیں:

’’آیت زیر بحث میں ہمارا خیال ہے ﴿کہ﴾ کتاب کا لفظ احکام و قوانین کے لیے آیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اس معنی کے لیے اِس لفظ کا استعمال مشہور ہے۔ چنانچہ سورہ بقرہ میں، جہاں سے احکام و قوانین کا باب شروع ہوتا ہے، اکثر احکام کُتِبَ کے لفظ سے بیان ہوئے ہیں ﴿مثلاً﴾

﴿الف﴾ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقَصَاص فِی القَتْلیٰ

’’تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض ٹھہرایا گیا ہے۔‘‘

﴿ب﴾   کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَام ۔ ’’تم پر روزے فرض کیے گئے۔‘‘

﴿ج﴾    کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَال۔’’تم پر کفار سے جنگ فرض کی گئی ہے‘‘۔

پھر متعدد جگہ صریح طور پر کتاب سے قانونِ مشروع مراد لیا گیا ہے۔ مثلاً:

وَلَا تَعْزَمُوْا عُقْدَۃ النِّکاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ اَجَلَہ،۔

اورعقدِ نکاح باندھنے کا فیصلہ اُس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدّت پوری نہ ہوجائے۔

اس آیت میں کتاب سے مراد قانونِ عدّت ہے۔ سورہ احزاب میں ہے:

وَاُوْلُو الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اوْلیٰ بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللّٰہِ ۔

’’کتاب اللہ کی رو سے ﴿عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت﴾ رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘

اِس آیت میں کتاب سے قانونِ وراثت مراد ہے۔

الغرض کتاب کا لفظ قرآنِ مجید میں شرائع اور قوانین کے لیے معروف ہے۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی اس تشریح سے معلوم ہوا کہ کتاب کی تعلیم سے مراد احکامِ شریعت کی تعلیم ہے۔ جب انسانی نفوس کا تزکیہ ہوجاتا ہے تو اُن میں یہ استعداد پیدا ہوجاتی ہے کہ خدائی احکامات کی تعمیل کرسکیں۔

تعلیمِ حکمت

نبی کریم ﷺکتاب کی تعلیم کے ساتھ حکمت کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ ’’حکمت‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اِس سلسلے میں جناب حمید الدین فراہیؒ کی تشریح کو امین احسن صاحب نے نقل کیا ہے:

’’…لفظ حکمت اُس قوّت کے لیے بولا جاتا ہے جو صحیح فیصلے کا سرچشمہ ہو۔ ﴿چنانچہ﴾ حضرت داؤد علیہ السلام کی تعریف میں فرمایا گیا: ’’ہم نے اس کو حکمت دی اور فیصلہ کُن بات کرنے کی لیاقت۔‘‘

… ﴿پھر﴾ جس طرح ’’فیصلۂ معاملات‘‘ حکمت کے اثرات میں سے ہے، اسی طرح اخلاق کی پاکیزگی اور حسنِ ادب بھی اُس کے اثرات میں سے ہے۔

اِس لیے اہلِ عرب اس لفظ کو اُس قوت کے لیے استعمال کرتے تھے جو عقل ورائے کی پختگی اور شرافتِ اخلاق دونوں کی جامع ہو اور عاقل و مہذب آدمی کو حکیم کہتے تھے۔

اِسی طرح ﴿اہلِ عرب﴾ لفظ حکمت کو ’’فصل الخطاب‘‘ کے لیے بولتے تھے جس سے مقصود ایسی پکّی بات ہے، جو عقل اور دل دونوں کے نزدیک واضح ہو۔‘‘ ﴿ایضاً﴾

فراہی صاحبؒ کی مندرجہ بالا تشریح نقل کرنے کے بعد امین احسن صاحب فرماتے ہیں:

’’﴿حکمت﴾ کی حقیقت وہ استحکام اور پختگی ہے جو دانش مندی پر مبنی ہے۔‘‘ ﴿ایضاً﴾

ان تشریحات سے معلوم ہوا کہ افرادِ اُمت کی تربیت کے لیے محض قانون شریعت سے واقفیت کافی نہیں ہے۔ قانونِ الٰہی سے واقفیت کے علاوہ اُن کو دین و شریعت کے مصالح اور اسرار سے بھی ﴿اپنی صلاحیت کے مطابق﴾ واقف ہونا چاہیے۔ تاکہ اُن میں وہ دانش مندی پیدا ہوسکے جو صحیح اور مضبوط بات کہنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، جو مبنی برحق فیصلے کرنا سکھاتی ہے اور جو مضبوط سیرت و کردار کی بنیاد بنتی ہے۔ امتِ مسلمہ کی قیادت کا ایک اہم فریضہ اِس حکمت کی تعلیم بھی ہے۔

عوام کی ذمّہ داری

اب تک اہلِ ایمان گروہ کی کامیابی کے لیے دو ضروری شرطوں نصب العین کے شعور اور صالح و مستعد قیادت کی موجودگی کا تذکرہ ہوچکا ہے، تیسری شرط یہ ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے افراد اِس مخلص قیادت کے ساتھ پورا تعاون کریں۔ اس کے دو تقاضے ہیں، خیرخواہی اور اطاعت فی المعروف۔

خیرخواہی

’’حضرت تمیم داری کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’دین نام ہے وفاداری اور خیرخواہی کا۔‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔ ہم نے عرض کیا: ’’کس سے وفاداری اور خیرخواہی؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ سے، رسول سے، کتاب اللہ سے، مسلمانوں کے اجتماعی نظام کے سربراہوں سے اور عام اہلِ اسلام سے۔‘‘

مندرجہ بالا حدیث کی تشریح کرتے ہوئے مولانا جلیل احسن ندوی ‘سفینۂ نجات’ میںلکھتے ہیں:

’’مسلمانوں کے اجتماعی نظام کے سربراہوں کے ساتھ خیرخواہی …کا مطلب یہ ہے کہ … اگر وہ حکم دیں تو وفادارانہ اطاعت ہونی چاہیے اور … وہ کسی غلط رخ پر آپ کے نزدیک جارہے ہوں تو محبت آمیز لہجے میں انہیں ٹوکنا چاہیے۔ اگر کوئی نہیں ٹوکتا تو یہ جماعتی خیانت کے ہم معنی ہے اور وہ اپنے ذمہ دار کا خیرخواہ نہیں ہے۔‘‘﴿حدیث:۲۹۹﴾

اطاعت فی المعروف

امتِ مسلمہ کے عوام کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اولوالامر کی، معروف کے دائرے کے اندر اطاعت کریں۔ بخاری و مسلم کی درجِ ذیل حدیث اس پر روشنی ڈالتی ہے:

’’عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ صاحبِ امر کی بات سنے اور اطاعت کرے چاہے وہ حکم اپنی طبیعت کے لیے خوش گوار ہویا ناگوار، بشرطیکہ وہ حکم معصیت کا نہ ہو اور اگر معصیت کا حکم دے دیا جائے تو نہ سننا چاہیے نہ ماننا چاہیے۔‘‘

خطوطِ بالا کے مطابق اگر امتِ مسلمہ کی قیادت اور عوام اللہ کے کلمے کی بلندی کی خاطر اپنی ذمّہ داریوں کی انجام دہی کی طرف فی الواقع متوجہ ہوجائیں تو کامیابی کی منزل دور نہیں رہے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

اکتوبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau