اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

ایک فعّال مسلم معاشرے کی تعمیر کے لیے در کار بنیادی اداروں کاذکر اِس سے قبل اِن سطور میں آچکا ہے۔ ان اداروں میں مساجد اور تعلیم وتزکیہ کے مراکز سرفہرست ہیں۔ ان کے علاوہ مسلم معاشرے کے دیگر بنیادی امور کو انجام دینے والے اداروں کو معاشرے کے کلیدی ادارے قرار دیا جاسکتا ہے۔ اِن بنیادی کاموں میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر، اطعام مساکین، زکوٰۃ کا اجتماعی جمع وصَرف اور مسلمانوں کا دفاع جیسے امور شامل ہیں۔ مسلم معاشرے کی تعمیر کا مفہوم یہ ہے کہ یہ سارے ادارے موجود ہوں اور سرگرم وفعال ہوں۔ جو افراد مسلمان معاشرے کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں اُن کے لیے ضروری ہے کہ اِن بنیادی اداروں کے قیام کی اور اُن کو فعال وسرگرم بنانے کی منصوبہ بند کوشش کریں۔ دین کی اقامت کی راہ میں یہ ایک اہم قدم ہوگا۔ اِس منصوبہ بند سعی میں اُمت کے تمام مخلص عناصر کا تعاون حاصل کیاجانا چاہیے۔

معاشرے کی تعمیر کے موضوع پر گفتگو کا یہ ایک پہلو تھا جس کاتذکرہ سطورِ بالا میں کیاگیا۔ اِس میںمسلم معاشرے کو پیش نظر رکھا گیا تھا۔ تعمیرِ معاشرہ کا دوسرا پہلو پورے انسانی سماج سے متعلق ہے۔ اِنسانی سماج میں اجتماعی امور کو انجام دینے کے لیے متعدد ادارے موجود ہوتے ہیں جو معاشرے کی متنوع ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ اِنسانی سماج کے سیاق میں معاشرے کی تعمیر کا مفہوم یہ ہے کہ اِن اجتماعی اداروں کی اِصلاح کی جائے اور ان کو صالح خطوط پر قائم کیا جائے۔ یہ کوشش دین کی اقامت کا ایک اہم جز ہے۔

اِجتماعی اداروں کی اصلاح

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اجتماعی اِداروں کی اصلاح سے کیا مراد ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اِصلاح کے مفہوم میں تین باتیں شامل ہیں۔

﴿الف﴾ادارے کے مقاصد صالح ہوں۔﴿ب﴾اُس کے کام کرنے کے طریقے درست ہوں۔ اور﴿ج﴾اُس کے چلانے والے اہل لوگ ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا دین جس طرح ہر فرد کی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرکے اللہ کی رضا حاصل کرسکے اِسی طرح وہ اجتماعی اداروں کے سلسلے میں بھی مندرجہ بالا تینوں پہلوؤں سے رہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ سماج کااجتماعی ماحول ایک پاکیزہ ماحول بن سکے اور اُس میں صالح قدریں پروان چڑھ سکیں۔ اُمت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سماجی اداروں کے مقاصد اور طریقِ کار سے متعلق دین کی تعلیمات کو عام اِنسانی سماج تک پہنچائے۔ اِس طرح اُمت ، اِنسانیت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرے گی۔ ظاہر ہے کہ اِنسانیت کی یہ خدمت اُمت اُسی وقت انجام دے سکتی ہے جب وہ اجتماعی اداروں کے سلسلے میں دین کی تعلیمات سے خود بخوبی آشنا ہو اور جو ادارے مسلمانوں کے زیر اہتمام چل رہے ہوں وہ بھی ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔

اجتماعی اداروں کے مقصد کا تعین

اجتماعی ادارے انسانی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ انسان کی کچھ ضرورتیں ابتدائی ہیں جن کا پورا ہونا اُس کے زندہ رہنے کے لئے ناگزیر ہے۔ ہوا ، پانی اور غذا ایسی ہی ضرورتیں ہیں مگر محض ان ضرورتوں کی تکمیل تمدنی زندگی کے لیے کافی نہیں۔ ابتدائی درجے کی تمدنی زندگی بھی یہ چاہتی ہے کہ ہوا، پانی اور غذا کے ساتھ انسانوں کی لباس، مکان اور علاج کی ضروریات بھی پوری ہوں۔ اس کے بعد تمدن کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک انسانی نسل آئندہ آنے والی نسل کو اپنی معلومات منتقل کرتی رہے۔ اس کام کے لیے تعلیمی نظام کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی طرح ترقی کے لیے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے اِنسانوں کا باہم رابطہ ضروری ہے۔ چنانچہ خبررسانی اور سفر کے ذرائع بھی انسانی سماج کی ضرورت قرار پاتے ہیں۔ پھر معاشی اور سیاسی ادارے بھی انسان کی متمدن زندگی کے لیے ضروری ہیں تاکہ انسان کی بنیادی وثانوی ضرورتیں بآسانی پوری ہوسکیں، سماج میں امن کی فضا قائم رہے جس میں اطمینان کے ساتھ انسانی سرگرمیاں انجام پائیں اور تنازعات پیدا ہوجانے کی صورت میں اُن کا تصفیہ ہوسکتا ہو۔ تفریح بھی انسان کی ایک ضرورت ہے اور تمدن کے ارتقائ کے ساتھ تفریح کے نت نئے طریقے وجود میں آتے ہیں۔ انسان کی اِن متنوع اور گوناگوں ضروریات کی تکمیل کے لیے اداروں کی تشکیل ایک فطری امر ہے۔

اسلام انسان کی تمام فطری ضرورتوں کو تسلیم کرتا ہے۔ اُس کی نگاہ میں ان ضرورتوں کی تکمیل کے لئے انفرادی واجتماعی سعی کوئی بُراکام نہیں ہے بلکہ ایک مستحسن امر ہے۔ اگریہ سوال پوچھا جائے کہ ’’اجتماعی اداروں کے سامنے کیا مقصد ہوناچاہئے۔‘‘ تو غالباً اکثر لوگوں کا جواب ہوگا ’’انسانی ضروریات کی تکمیل‘‘ یہ مقبولِ عام جواب اسلامی نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہے۔ البتہ اسلام اِس مقصد کو دو اصولوں کاپابند بناتا ہے۔

پہلا اُصول یہ ہے کہ اِسلام کے نزدیک انسانی ضروریات کی تکمیل زندگی کا ایک ذیلی مقصد ہے جو انسانی فرائض کی انجام دہی کے اعلیٰ تر مقصد کے تابع ہے۔ چنانچہ کسی ادارے کے مقصد کی تعیین و تفہیم میں اعلیٰ تر مقصد کو لازماً سامنے رکھا جائے گا۔

اسلام کے نزدیک انسان پر دو بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کو اللہ کے حقوق کی ادائیگی اور اُس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کا حق یہ ہے کہ اُس کی عبادت کی جائے اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ بندوں کا حق یہ ہے کہ اُن کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔ ہر ادارہ جو کسی متعین انسانی ضرورت کی تکمیل کے لیے بنایا گیا ہو اُس کے لئے لازم ہے کہ ان دو بنیادی فرائض کو بہر صورت پیش نظر رکھے۔ انسانی ضروریات کی فراہمی کا جو تصور ادارے کے سامنے ہو اُس کی تفصیلی صورت گری(Conceptualization) کا کام انسانی فرائض کے سیاق میں کیا جانا چاہیے۔

دوسرا اصول جو اسلام پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر اجتماعی ادارے کے مقصد کو قیامِ عدل کے بنیادی مقصد کے تابع ہوناچاہئے۔ یہ اُصول خاص طور پر معاشی اور سیاسی اداروں کے سلسلے میں بڑی اہمیت کاحامل ہے۔ قرآن مجید بتاتا ہے کہ شرائع الٰہیہ نازل ہی اس لیے ہوئی ہیں کہ انسانی زندگی کی تنظیم عدل وقسط کی بنیادوں پر ہو۔

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَأْسٌ شَدِیْدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَن یَنصُرُہُ وَرُسُلَہُ بِالْغَیْْبِ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ o﴿ حدید :۵۲﴾

ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اُتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔ یہ اِس لیے کیاگیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اُس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔

مولانا مودودیؒ اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’دنیا میں خدا کے جتنے رسول بھی آئے وہ سب تین چیزیں لے کر آئے تھے ﴿۱﴾بیّنات، یعنی کھلی کھلی نشانیاں روشن دلائل اور واضح ہدایات۔ ﴿۲﴾کتاب: جس میں وہ ساری تعلیمات لکھ دی گئی تھیں جو اِنسانوں کی ہدایت کے لیے درکار تھیں تاکہ لوگ رہ نمائی کے لیے اُس کی طرف رجوع کرسکیں ﴿۳﴾میزان: یعنی وہ معیارِ حق وباطل جو ٹھیک ٹھیک ترازو کی تول تول کر یہ بتادے کہ افکار، اخلاق اور معاملات میں افراط و تفریط کی مختلف انتہاؤں کے درمیان انصاف کی بات کیاہے۔ انبیائ علیہم السلام کے مشن کو بیان کرنے کے معاً بعد ﴿لوہے کا تذکرہ کیاگیا ہے﴾ یہ فرمانا، خود بخود اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہاں لو ہے سے مراد سیاسی اور جنگی طاقت ہے، اور کلام کامدّعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو قیام عدل کی محض ایک اسکیم پیش کردینے کے لیے مبعوث نہیں فرمایاتھا، بلکہ یہ بات بھی اُن کے مشن میں شامل تھی کہ اُس کو عملاً نافذ کرنے کی کوشش کی جائے اور وہ قوت فراہم کی جائے جس سے فی الواقع عدل قائم ہوسکے، اور اُسے درہم برہم کرنے والوں کو سزا دی جاسکے، اور اُس کی مزاحمت کرنے والوں کا زور توڑا جاسکے۔‘‘﴿ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی سورۂ حدید، حاشیہ۱۶و۱۷﴾

اجتماعی اداروں کے مقصد کے تعین کے بارے میں مندرجہ بالا بحث کا خلاصہ یہ ہے: ’’اسلامی نقطہ نظر کے مطابق اجتماعی اداروں کے قیام کا مقصد انسانی ضروریات کی اِس طرز پر تکمیل ہے کہ لوگ اپنے انسانی فرائض کی ادائیگی کے قابل ہوسکیں اور معاشرے میں عدل قائم ہوسکے۔‘‘

ایک شبہ کا جواب

کہاجاسکتا ہے کہ اجتماعی اداروں کا مندرجہ بالا مقصد ان لوگوں کے لیے تو قابل قبول ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کے اور وحی ورسالت کے قائل ہوں لیکن جو لوگ اللہ کی ہدایات پر ایمان نہ رکھتے ہوں اُن کے لیے اجتماعی اداروں کی ماہیت کا مذکورہ بالاتصور کوئی پیغام نہیں رکھتا۔ لیکن تھوڑے سے غور وفکر سے اِس اعتراض کی کمزوری واضح ہوجاتی ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں جو لوگ ہدایت الٰہی کے قائل نہیں ہیں وہ بھی بالعموم انسان کی عظمت (Human  Dignity)کا ایک تصور اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔ ﴿ یہ الگ بات ہے کہ ایک حکیم ودانا اور ہادی ورہنما خالقِ کائنات کے انکار کے بعد انسانی عظمت کے لیے کوئی منطقی بنیاد باقی نہیں رہتی لیکن بہرحال تکریمِ انسانیت کے اِن قائلین کو اپنی فکر میں اِس تضاد کا احساس نہیں ہے﴾ انسان کی عظمت کا یہ تصور خود بخود تقاضا کرتا ہے کہ اِنسانی زندگی کا مقصد صِرف اُس کی ضروریات کی تکمیل تک محدود نہ ہو بلکہ انسان کے کچھ فرائض بھی ہوں جو اُس کے اعلیٰ مرتبے کے شایانِ شان ہوں اور جن کی انجام دہی کی اُس سے توقع کی جائے۔ ’’ یہ فرائض کیا ہیں؟‘‘ یہ بتانا ہر اُس شخص کا کام ہے جو انسانی عظمت کا قائل ہو ۔ چنانچہ جولوگ خدائی ہدایت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں کو یہ اُصول تو تسلیم کرنا ہوگا کہ انسان کے کچھ انسانی فرائض بھی ہیں ﴿کیونکہ انسانی فرائض کی نفی کے بعد انسانی عظمت بے معنی ہوجاتی ہے۔﴾ ہدایت الٰہی کے قائلین کے مطابق اِنسان کے بنیادی فرائض اللہ کی لاشریک بندگی اور خلقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت الٰہی سے بے نیازی اختیار کررکھی ہے اُن کو بھی بہرصورت اپنے تصورات کے مطابق انسانی فرائض کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ وہ انسان کو محض اپنی ضروریات کی تکمیل کرنے والی ہستی قرار نہیں دے سکتے اِس لیے کہ یہ تصور انسان کی عظمت سے مطابق نہیں رکھتا۔ ﴿جس کے وہ قائل ہیں۔﴾

یہی معاملہ قیام عدل کا ہے۔ اللہ کی شریعت قیام عدل کو مقصد قرار دیتی ہے اور وہ تفصیلی ہدایات اور قوانین بھی پیش کرتی ہے جن کے ذریعے عدل قائم ہوسکتا ہے۔ جو لوگ ہدایت الٰہی کے قائل نہیں ہیں وہ اُن تفصیلی قوانین کی برکات وفیوض سے محروم رہیں گے۔ ﴿اگر وہ ان قوانین سے استفادہ نہ کریں﴾لیکن ’’قیام عدل‘‘ کا اُصولی تصور اُن کے لیے قابلِ قبول ہوگا اور قابل قبول ہونا چاہیے۔

اِن اُصولی نکات کی روشنی میں موجودہ متمدن دنیاکے لیے درکار اجتماعی اداروں کے مقاصد کا تعین کیا جاسکتاہے۔ ہر ادارے کے سلسلے میں تفصیلی غور وفکر کی ضرورت ہے خواہ وہ سیاسی ومعاشی ادارے ہوں یا تعلیم، ثقافت اور ابلاغ سے متعلق ہوں۔ تفصیلی غوروفکر کا یہ کام اسلامی تصور کائنات اور اسلامی اقدار وتعلیمات کے سیاق میں انجام پانا چاہیے۔ مسلمان اہل فکر ودانش کو اِس کام کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ اگر اِس غور وفکر کا آغاز ہوجائے تو موجودہ انسانی معاشرے کے لیے اُس جاہلیت کی گرفت سے نکلنا آسان ہوجائے گا جو اِس وقت اُس پر مسلط ہے۔

مقاصد کی مثالیں

﴿۱﴾       پہلی مثال سیاسی اداروں کی ہے۔اسلامی تصور کائنات اور اقدار کی روشنی میں سیاسی اداروں کا مقصد حق وانصاف کا قیام ہے۔ قرآن مجید حضرت داؤد علیہ السلام کی سیرت میں ایک مثالی حکمراں کا کردار ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جوہدایت دی وہ درج ذیل تھی:

یَا دَاوُودُ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوی فَیُضِلَّکَ عَن سَبِیْلِ اللَّہِ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوا یَوْمَ الْحِسَابِ o وَمَا خَلَقْنَا السَّمَائ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا بَاطِلاً ذَلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَوَیْْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنَ النَّارِ o         ﴿ص:۲۶،۲۷﴾

’’ اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق وانصاف کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ میں بھٹکادے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقینا اُن کے لئے سخت سزا ہے کہ وہ یوم حساب کو بھول گئے۔‘‘ ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور اس دُنیا کو جو اُس کے درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں کردیا ہے ۔ یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنم کی آگ سے﴾

اِس آیت میں حکومت صالحہ کا مقصد اِسلامی تصور کائنات کے سیاق میں بیان کیا گیا ہے۔ استدلال کا منشائ یہ ہے کہ زمین وآسمان کایہ سارا نظام باطل کے بجائے حق پر قائم ہے اِس لیے انسان کے لیے بھی مناسب یہ ہے کہ وہ اقتدار کو حق و راستی کا خادم بنائے۔

﴿۲﴾      معاشی اِداروں کامقصد شریعت الٰہی میں یہ قرار دیاگیا ہے کہ دولت پورے معاشرے میں گردش کرتی رہے اور صِرف مال داروں کے درمیان محدود ہوکر نہ رہ جائے:

مَا أَفَائ اللّٰہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ کَیْْ لَا یَکُونَ دُولَۃً بَیْْنَ الْأَغْنِیَائ مِنکُمْ وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا وَاتَّقُوااللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ oلِلْفُقَرَائ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیْارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَاناً وَیَنصُرُونَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَئِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ o   ﴿الحشر:۷،۸﴾

’’جو کچھ بھی اللہ اِن بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتے داروں اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ مال تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اُس سے رُک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والاہے۔ ﴿نیز وہ مال﴾ اُن غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائدادروں سے نکال باہر کیے گیے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اُس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں۔‘‘

مولانا مودودیؒ اِن آیات کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’یہ قرآن مجید کی اہم ترین اُصولی آیات میں سے ہے جس میں اسلامی معاشرے اور حکومت کی معاشی پالیسی کایہ بنیادی قاعدہ بیان کیاگیا ہے کہ دولت کی گردِش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ مال صِرف مالداروں ہی میں گھومتا رہے، یا امیر روز بروز امیرتر اور غریب روز بروز غریب تر ہوتے چلے جائیں۔ اِسی مقصد کے لیے سود حرام کیاگیا ہے، زکوٰۃ فرض کی گئی ہے۔ اموالِ غنیمت میں سے خمس نکالنے کا حکم دیا گیا ہے، صدقاتِ نافلہ کی جگہ جگہ تلقین کی گئی ہے، مختلف قسم کے کَفَّاروں کی ایسی صورتیں تجویز کی گئی ہیں جِن سے دولت کے بہاؤ کا رُخ معاشرے کے غریب طبقات کی طرف پھیر دیاجائے۔ میراث کاایسا قانون بنایا گیا ہے کہ ہر مرنے والی کی چھوڑی ہوئی دولت زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے. اسلامی حکومت کی آمدنی کے ایک بہت بڑے ذریعہ، یعنی فے کے متعلق یہ قانون مقرر کردیاگیا ہے کہ اُس کا ایک حصہ لازماً معاشرے کے غریب طبقات کو سہارا دینے کے لیے صَرف کیاجائے. یہ کھلا ہوا اشارہ ، اس طرف ہے کہ ایک اسلامی حکومت کو اپنی آمدوخرچ کا نظام، اور بحیثیت مجموعی ملک کے تمام مالی اور معاشی معاملات کاانتظام اِس طرح کرنا چاہیے کہ دولت کے ذرائع پر مالدار وبااثر لوگوں کی اجارہ داری قائم نہ ہو، اور دولت کا بہاؤ نہ غریبوں سے امیروں کی طرف ہونے پائے، نہ وہ امیروں ہی میں چکر لگاتی رہے۔‘‘  ﴿تفہیم القرآن ، سورہ حشر، حاشیہ:۴۱﴾

عملی طریقے

اجتماعی اداروں کے مقاصد کی اِصلاح کے بعد جو دوسری بات مطلوب ہے وہ اِن اداروں کے کام کرنے کے طریقوں کی اِصلاح ہے۔ اِس سلسلے میں اِسلام نے دو اصول پیش کیے ہیں۔ ایک معروف کی پابندی کا اصول ہے اور دوسرا شورائیت کاالتزام ہے۔پہلے اُصول کا منشائ یہ ہے کہ اجتماعی ارادے معروف کے دائرے کے اندر اپنے کام انجام دیں۔’’معروف‘‘ اِسلامی تعلیمات کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ مولانا مودودیؒ معروف کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’معروف سے مراد وہ صحیح طریق کار ہے، جس سے بالعموم اِنسان واقف ہوتے ہیں، جِس کے متعلق ہر وہ شخص، جس کا کوئی ذاتی مفاد کسی خاص پہلو سے وابستہ نہ ہو، یہ بول اُٹھے کہ بے شک حق اور انصاف یہی ہے اور یہی مناسب طریق عمل ہے۔رواج عام (COMMON LAW)کو بھی اِسلامی اصطلاح میں ’’عرف‘‘ اور ’’معروف‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ ایسے تمام معاملات میں معتبرہے، جن کے بارے میں شریعت نے کوئی خاص قاعدہ مقرر نہ کیا ہو۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، سورۂ بقرہ، حاشیہ۱۷۹﴾

اُمت مسلمہ کا فرض منصبی یہ ہے کہ وہ انسانی معاشرے میں ﴿یعنی قرآنی اسلوب کے مطابق ’’الناس‘‘ کے درمیان﴾ معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے۔

کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَلَوْ آمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْْراً لَّہُم مِّنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَo                 ﴿ آلِ عمران:۱۱۰﴾

’’تم بہترین گروہ ہو جسے انسانوں ﴿کی ہدایت واصلاح﴾ کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کاحکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان والے بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیش تر افراد نافرمان ہیں۔‘‘

اس سلسلے میں دو امور قابلِ غور ہیں:

﴿۱﴾       اُمت مسلمہ کو معروف کی تلقین کا جو کام کرنا ہے اُس کے مخاطَب افراد بھی ہیں اور اجتماعی ادارے بھی۔ جس طرح اُمت کی کوشش یہ ہوگی اور ہونی چاہیے کہ افراد اپنے شخصی رویے میں معروف پر عمل پیرا ہوں اُسی طرح اُس کی کوشش یہ بھی ہونی چاہئے کہ انسانی معاشرے کے اجتماعی اداروں کا طریق کار معروف کا پابند ہوجائے۔

﴿۲﴾      جس طرح معروف کی تلقین کے مخاطَب تمام انسان ہیں خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں اِسی طرح تمام اجتماعی اداروں کے سلسلے میں مسلمانوں کی جانب سے یہ سعی کی جانی چاہئے کہ وہ اِدارے اپنے طریقِ کار میں معروف کے پابند ہوجائیں خواہ ان کے چلانے والے مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔

اجتماعی اداروں کو چلانے والے

اجتماعی اداروں کے مقاصد اور طریق کار کی اصلاح کے بعد تیسری اصلاح جو مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ اجتماعی اداروں کو چلانے کے لیے ایسے افراد مامور کیے جائیں جو اپنی صالحیت اور صلاحیت کے اعتبار سے اُس کام کی اہلیت رکھتے ہوں جو ادارے کے پیش نظر ہے:

اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ اِلَی أَہْلِہَا وَاِذَا حَکَمْتُم بَیْْنَ النَّاسِ أَن تَحْکُمُواْ بِالْعَدْلِ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعاً بَصِیْراًo ﴿النِّساء:۵۸﴾

’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔‘‘

مولانا مودودیؒ اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’بنی اسرائیل کی بنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے اپنے انحطاط کے زمانے میں امانتیں یعنی ذمہ داری کے منصب اور مذہبی پیشوائی اور قومی سرداری کے مرتبے (Positions of Trust) ایسے لوگوں کو دینے شروع کردیے جو نااہل، کم ظرف، بداخلاق، بددیانت اوربدکار تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ بُرے لوگوں کی قیادت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا بلکہ امانتیں اُن لوگوں کے سپرد کرنا جو اُن کے اہل ہوں، یعنی جن میں بارِ امانت اُٹھانے کی صلاحیت ہو۔‘‘﴿تفہیم القرآن، سورۂ نسائ، حاشیہ:۸۸﴾

اجتماعی اداروں کے سلسلے میں مسلمانوں کا رویہ

مسلمانوں کے گردوپیش میں جو انسانی معاشرہ موجود ہے اُس کے اداروں کے سلسلے میں مسلمانوں نے عام طور پر دو طرح کے رویے اختیار کررکھے ہیں۔

﴿الف﴾ ایک رویہ اُن لوگوں کا ہے جو دین سے ناواقف یا دینی تعلیمات سے بے نیاز ہیں۔ یہ لوگ بِلا جھجک ہر ادارے میں شریک ہو جاتے ہیں جو معاشرے میں موجود ہو خواہ اُس کے مقاصد کچھ بھی ہوں اور خواہ اُس کا طریق کار کیسا ہی ہو۔

﴿ب﴾    دوسرا رویہ اُن لوگوں کا ہے جو دینی مزاج اور دینی حِس رکھتے ہیں۔ کسی ادارے میں شرکت سے قبل عموماً وہ اِس سوال پر غور کرتے ہیں کہ یہ شرکت دینی نقطۂ نظر سے کیسی ہے؟ اِس سوال کا جو جواب بھی اُن کو ملتا ہے اُس کے مطابق عمل کرتے ہیں یا عمل نہیں کرپاتے تو اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتے ہیں یا کچھ تاویل پیش کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا دونوں رویے ناقص ہیں، پہلے رویہ کاغلط ہونا تو واضح ہے کیونکہ وہ دینی تعلیمات کو نظر انداز کرنے کا رویہ ہے۔ دوسرا رویہ گرچہ بساغنیمت ہے لیکن بہرحال یہ ایک منفی رویہ ہے اور مسلمانوں کے مقام کے شایان شان نہیںہے۔ مسلمانوں کے فرض منصبی سے جو رویہ مطابقت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ گردوپیش میں پائے جانے والے انسانی معاشرے پر اور اُس کے اداروں پر تنقیدی نظر ڈالیں۔ اِسلامی معیارات پر ان اداروں کے مقاصد کو بھی جانچیں اور طریق کار کو بھی۔ پھر جو امور اُن کو قابل اصلاح نظر آئیں اُن کی اِصلاح کی سعی کریں۔ یہ اِنسانی معاشرے سے ایجابی تعلق کا رویہ ہے اور یہی اُمت مسلمہ کے شایانِ شان ہے۔

اس کے بعد یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ مسلمان کن اداروں میں شرکت کریں اور کنِ میں نہ کریں۔ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر مقاصد اور طریق کار کے اعتبار سے کوئی ادارہ جائز نوعیت کاہو اور اُس ادارے کی اِس حد تک اصلاح ہو چکی ہو کہ اُس میں شرکت سے حدودِ الٰہی کی خلاف ورزی لازم نہ آئے تو مسلمانوں کی اُس میں شرکت درست ہوگی۔ لیکن اگر اُس ادارے کے مقاصد درست نہ ہوں یا اُس میں شریک ہونے کے لیے یا شریک ہونے کے بعد شرعی حدود سے تجاوز کرنا پڑے اورمعروف کے دائرے سے قدم باہر نکالنے پڑیں تو یہ شرکت درست نہ ہوگی۔ مولانا مودودیؒ نے ’’رسائل ومسائل ﴿حصہ اوّل﴾‘‘ میں اِس اصول کے انطباق کی ایک اچھی مثال پیش کی ہے جو’کاروبار میں اسلامی اصولِ اخلاق کااستعمال‘‘ کے عنوان کے تحت درج ہے۔ جو قارئین اِس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں وہ اس تحریر کو ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔ طوالت کے خوف سے ہم اسے یہاں نقل نہیں کررہے ہیں۔

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau