اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

’’موجودہ نظامِ سیاست میں مسلمانوں کی شرکت‘‘ایک ایسا موضوع ہے، جو اسلامی حلقوں میں ہمارے ملک ہندوستان کے سیاق میں زیرِ بحث رہتا ہے۔ لیکن بحث کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے لیے یہ مناسب ہے کہ پہلے اصولی گفتگو کی جائے۔ اصولی سوال یہ ہے کہ دنیا میں جو مختلف قسم کے نظام ہائے حکومت پائے جاتے ہیں، اُن کے بارے میں اور اُن میں شرکت کے بارے میں ایک مسلمان کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟

نظام ہاے حکومت کی قسمیں

مولانا امین احسن اصلاحی صاحبؒ نے اپنی کتاب‘‘تزکیۂ نفس’’ میں ایک بحث حکومت کی قسموں پر کی ہے۔اس کتاب کے آخری باب کا عنوان ہے ‘‘آدمی کا تعلق ریاست سے’’۔ اس باب میں محترم مصنف نے حکومت کی چار قسمیں قرار دی ہیں اور اُن میں سے ہر ایک بارے میں اسلامی نقطۂ نظر کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔

پہلی قسم کی حکومت

پہلی قسم کی حکومت کا تذکرہ مولانا امین احسن صاحب نے اس طرح کیا ہے:

’’ایک شکل… یہ ہوسکتی ہے کہ حکومت غیر مسلم کی ہو، آئین اور قوانین غیر اسلامی ہوں، لیکن پرسنل لا کی حد تک ایک اقلیت کی حیثیت سے آپ کے حقوق محفوظ ہوں۔ دین کی تبلیغ و دعوت کی اجازت ہو اور اگر کوئی شخص آپ کی دعوت سے متاثر ہوکر اس کو قبول کرلے تو اس کو ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنایا جاتا ہو۔‘‘

اِس طرح کی حکومت کے تحت رہنے والے مسلمان اُسے کس نظر سے دیکھیں، اس بارے میں اصلاحی صاحب لکھتے ہیں:

’’ جو مسلمان اس کے اقتدار کے زیرِ اثر زندگی بسر کریں گے، اُن کے لیے اپنے عقیدہ و مسلک اور اپنی تہذیب و روایات کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنا کوئی سہل بات نہیں ہے۔ یہ چیز جب بھی گوارا کی جائے گی بدرجہ مجبوری ہی کی جائے گی۔‘‘

یہ تو ہوئی دل کی ناگواری کی بات۔ جہاں تک اس طرح کی حکومت کے تحت رہنے والے مسلمانوں کے عملی رویے کا تعلق ہے، تو اس سلسلے میں مولانا اصلاحی فرماتے ہیں:

’’اس زمانے کی ترقی یافتہ جمہوری حکومتوں میں بالعموم آدمی کو اپنے دین و عقیدہ کی تبلیغ کی آزادی بھی ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص اس کی دعوت کو قبول کرکے دین و عقیدہ میں اُس کا شریک بن جاتا ہے تو اُس ﴿قبول کرنے والے﴾ کی راہ میں بھی ﴿کوئی﴾ رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی۔ اگر یہ آزادی کسی ریاست میں حاصل ہے تو ایک مسلمان اُس کے اندر اپنا دینی فریضہ شہادتِ حق ادا کرسکتا ہے اور اس طرح کے ماحول میں اس کے اوپر دین کی اس سے زیادہ کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

یہ بات یہاں یاد رکھیے کہ ایک مسلمان سے اسلام کا اصل مطالبہ صرف یہی ہے کہ وہ جہاں رہے حق کی شہادت دیتا رہے۔ اگر یہ کام وہ کررہا ہے، تو وہ اپنا اصل ملّی فریضہ جو اُس پر آیتِ قرآنی:

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطَاً لِتَکُوْنُوا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْداً۔   ﴿البقرۃ:۵۴۱﴾

’’ اور اسی طرح ہم نے تمھیں ایک بیچ کی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے۔‘‘

کی رو سے عائد ہوتا ہے، ادا کررہا ہے۔‘‘

دوسری قسم کی حکومت

مولانا اصلاحی کی تقسیم کے مطابق حکومت کی جو دوسری قسم ہے اس کی خصوصیات یہ ہیں:

’’حکومت غیر مسلموں کی یا نام نہاد مسلمانوں کی ہو، لیکن اُس میں ایک خاص غیر اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ کسی اور نظریے یا عقیدے کی دعوت و اشاعت ممنوع ہو اور اگر کوئی اس کی جرأت کرلے تو اسے قابلِ سزا سمجھا جاتا ہو۔‘‘

اِس طرح کی حکومت کو مولانا اصلاحی ایک فتنہ قرار دیتے ہیں اور اگر کسی مسلمان آبادی پر اِس طرح کی ظالم حکومت مسلط ہوجائے تو مولانا اس آبادی کو ’’جہاد اور ہجرت‘‘ کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کی عملی شکل کیا ہوگی، اس سلسلے میں مولانا لکھتے ہیں:

’’رہا ہجرت اور جہاد کا معاملہ تو اس کا تعلق حالات اور مواقع سے ہے اور اس پر غورکرنا، رہنمائی دینا اور اس کے اسباب و وسائل فراہم کرنا، اُن مسلمان حکومتوں کا کام ہے، جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اشتراکیت کی یلغار سے محفوظ ہیں۔ ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ باہمی تعاون سے اس مسئلے کا حل سوچیں اور اس کو بروئے کار لانے کے لیے جرأت کے ساتھ اقدام کریں۔‘‘

تیسری قسم کی حکومت

حکومت کی ایک تیسری قسم بھی ہے، جس کا ذکر کرتے ہوئے مولانا اصلاحی فرماتے ہیں:

’’تیسری شکل یہ ہے کہ حکومت مسلمانوں کی ہو، لیکن آئین و قوانین جاہلیت اور اسلام دونوں کا ملغوبہ ہوں۔ زبان پر نعرہ اسلام کا ہو لیکن عمل میں ایک قدم اسلام کی طرف اٹھتا ہو تو دوسرا قدم جاہلیت کی طرف بھی بڑھتا ہو۔‘‘

مولانا اصلاحی پاکستان کو اسی طرح کی حکومت قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ:

‘‘اس اعتبار سے تو ﴿پاکستان کی صورتِ حال﴾ بسا غنیمت ہے کہ ﴿حکومتِ پاکستان﴾ کا آغاز اسلام کے نعرے سے ہوا ہے… جتنی پارٹیاں اور جتنے لیڈر اس کی سیاست کے میدان میں اترے ہیں، سب نے کسی نہ کسی پہلو سے اس نعرے کا سہارا ضرور لیا ہے۔ اس کے بغیر کسی نے میدان میں اترنے کا حوصلہ نہیں کیا ہے۔ اس ملک کی تاریخ کا یہ پہلو اُن لوگوں کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے، جو اس کو ایک حقیقی اسلامی ریاست کی شکل میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔‘‘

اسلامی ریاست کی اس تمنا کو بروئے کار کس طرح لایا جائے، اس سلسلے میں مولانا اصلاحی نے چند مشورے دیے ہیں:

‘‘﴿الف﴾ … ﴿اسلامی﴾ نصب العین کے حصول کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں کو نیانصب العین بھی دینا ہوگا… نیا موادِ تعلیم اور جدید نظامِ تربیت بھی فراہم کرنا ہوگا اور معلّموں و مربیوں کو نئے تصورِ تعلیم و تربیت سے آشنا بھی کرنا ہوگا… اور ﴿اس اصلاحی کام کی﴾ مزاحمت کے لیے جو عناصر سَر اٹھائیں گے… اُن سے نمٹنا ﴿بھی﴾ ہوگا۔

﴿ب﴾…﴿ضروری ہے کہ﴾ تعلیم وتربیت کے نظام میں ﴿اِس وقت﴾ جو دو عملی… پائی جاتی ہے، وہ یک قلم ختم کردی جائے، صرف ایک نظامِ تعلیم ہو جو شہدائ اللہ فی الارض کی ایک امت تیار کرنے کے نصب العین کو سامنے رکھ کر ہر شعبہ تعلیم کی نگرانی کرے۔

﴿ج﴾…تعلیم کا ایسا بندوبست کیا جائے کہ ہمارے نوجوان، نہ دنیا کے علوم میں کسی احساسِ کمتری کا شکار ہوں، نہ اپنے دین کے معاملے میں۔

﴿د﴾… ٹی وی کو اگر تعلیم و تبلیغ کے لیے خاص کیا جاسکے تو اس کی بڑی افادیت ہے۔

﴿ہ﴾… ہمارے اردو اخبارات کا حال . مایوس کن ہے، لیکن اس ﴿صورتِ حال﴾ کی اصلاح ناممکن نہیں ہے۔ اگر حکومت چاہے تو ایک دن میں اُن کو شریفانہ روش اختیار کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ بلکہ اس کا امکان ہے کہ ﴿حکومت سنجیدہ ہو تو﴾ وہ کسی جبر کے بغیر ہی درست ہوجائیں۔

﴿و﴾… مساجد کے ائمہ کے ذریعے جو فتنے لوگوں کے اندر پھیلتے ہیں، اُن کا سدِّ باب فی الحال مشکل ہے… تعلیمی نظام کی اصلاح سے یہ خرابی ﴿بتدریج﴾ دور ہوسکے گی۔

چوتھی قسم کی حکومت

حکومت کی آخری قسم صحیح اسلامی حکومت ہے۔ اس سلسلے میں مولانا اصلاحی فرماتے ہیں:

’’چوتھی شکل یہ ہوسکتی ہے کہ حکومت ظاہر اور باطن دونوں میں اسلامی ہو۔ آئین و قانون کتاب و سنت پر مبنی ہو، حکومت کے چلانے والے قولاً و عملاً مسلمان ہوں، خواہ اشخاص اور نظام، دونوں میں بعض اعتبارات سے خامیاں بھی ہوں۔‘‘

اس طرح کی حکومت کے سلسلے میں مولانا اصلاحی فرماتے ہیں:

’’چوتھی قسم کی حکومت اصل آئیڈیل اسلامی حکومت ہے۔ یہی ہر مسلمان کا مطلوب و مقصود ہونی چاہیے۔ یہ اگر حاصل ہو تو اس کی خدمت و حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینا مسلمان کے لیے سعادتِ دارین ہے…یہ کوئی خیالی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ عملاً اس دنیا میں وجود پذیر ہوچکی ہے۔ صحیح نہج سے جدوجہد کی جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں ہے کہ وہ پھر اس کا جلوہ دکھادے۔ فرض کیجیے کہ یہ سعادت نہ بھی حاصل ہوسکے تو ﴿بھی﴾ اس کے حصول کے لیے جدوجہد کی راہ ﴿تو﴾ کھلی ہوئی ہے۔ ہم اس مبارک مقصد کے لیے جدوجہد کرکے اپنی پاکیزہ نیت کا ثواب تو حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘

ہندستان کی موجودہ حکومت

ہندستان کی موجودہ حکومت مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی مذکورہ بالا تقسیم کے مطابق پہلی قسم کے تحت آتی ہے۔ اصولاً یہاں اسلام کی تبلیغ کی آزادی ہے ﴿گرچہ بعض صوبوں نے قبولِ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے قوانین بنادیے ہیں﴾ اور یہاں پرسنل لا کی آزادی بھی اصولی طور پر حاصل ہے ﴿گرچہ ذیلی قوانین اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کی کوشش ہوتی رہتی ہے﴾ مولانا اصلاحی کے تجزیے کے مطابق مسلمانوں پر یہاں سے ہجرت کرکے کہیں اور چلے جانے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ اُن کی ذمہ داری یہ ہے کہ یہاں رہیں اور شہادتِ حق کا فریضہ ادا کریں۔

شہادتِ حق کا فریضہ ایک وسیع فریضہ ہے۔ حق کی شہادت قولی بھی ہوتی ہے اور عملی بھی۔ اسی طرح یہ شہادت انفرادی بھی ہوتی ہے اور اجتماعی بھی۔ اس اعتبار سے مسلمان آبادی کے مجموعی رویے کا رول بڑا اہم ہے۔ اگر کسی اجتماعی معاملے میں کسی ملک کے رہنے والے مسلمانوں کا رویہ اسلامی اصولوں کے تابع ہو اور اسلامی اقدار کا آئینہ دار ہو تو اس رویے کو حق کی عملی شہادت کہنا صحیح ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس اگر مسلمان بحیثیتِ مجموعی کسی مسئلے میں ایسی اجتماعی پالیسی یا موقف اختیار کریں جو اسلامی تعلیمات و اقدار کے مغائر ہو تو یہ حق کے بجائے باطل کی شہادت ہوگی۔ چنانچہ ’شہادتِ حق‘ کسی محدود کام کا نام نہیں ہے۔ بلکہ شہادتِ حق کا عین تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کی ملّی پالیسی کو ٹھیک ٹھیک اسلام کا نمائندہ بنایا جائے۔

نظامِ ریاست سے تعلق

مسلمان جہاں بھی رہتے ہوں، اُن کی دلی تمنّا یہ ہونی چاہیے کہ اجتماعی زندگی کا پورا نظام ہدایتِ الٰہی کے تابع ہوجائے۔ اس مکمل اجتماعی نظام کے اندر نظامِ ریاست بھی شامل ہے۔ فطری طور پر مسلمان تمام جائز اور معقول ذرائع سے اس امر کی کوشش کریں گے کہ غیر اسلامی نظامِ ریاست کے بجائے اسلامی ریاست قائم ہو۔ یہ اُن کے ایمان کا بھی تقاضا ہے اور خلقِ خدا کی خیرخواہی کا بھی۔

لیکن بہرحال جب تک غیر اسلامی ریاست عملاً موجود ہو اُ س کے متعلق مسلمانوں کو کوئی نہ کوئی رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ خود ہندستان کے مسلمانوں کے سامنے بھی یہ سوال ہے کہ وہ موجودہ نظامِ ریاست کے سلسلے میں فی الوقت کیا رویہ اختیار کریں۔ اس سوال کے تین جواب دیے جاسکتے ہیں:

﴿الف﴾ نظام سے قطعِ تعلق کیاجائے۔

﴿ب﴾ نظام میں پورے طور پر شریک ہوکر اطمینان کے ساتھ اس کے چَلانے میں حصہ لیا جائے۔

﴿ج﴾ تیسرا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ نظام سے ربط رکھا جائے جسے آج کل Interaction ﴿تعامل﴾ یا Engagement کہا جاتا ہے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ ربط ﴿Interaction﴾ اور Engagementکے معنی شرکت ﴿Participation﴾ سے مختلف ہیں۔ شرکت کے معنی تو یہ ہیں کہ نظام کے تصورات اور عملی طریقے جیسے کچھ بھی ہوں… اُن کے مطابق نظام کو چلایا جائے۔ ربط اور interactionکے معنی اس سے مختلف ہیں۔ ربط سے مراد یہ ہے کہ نظامِ وقت کو گفتگو،بحث و تمحیص اور عوامی رائے کے اظہار کے ذریعے متاثر کرنے کی منصوبہ بند ومنظم سعی کی جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ شہادتِ حق کا تقاضا کیا ہے؟ یہ ظاہر ہے کہ اگر نظام سے قطعِ تعلق کرلیا جائے تو شہادتِ حق کے مواقع بہت ہی محدود ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قطعِ تعلق کا رویہ عملاً بہت مشکل اور بعض حالات میں ناممکن ہے۔ اس لیے یہ تو طے سمجھنا چاہیے کہ مندرجہ بالا تین رویوں میں سے پہلا رویہ اختیار کرنے کا مشورہ ہندوستان کے مسلمانوں کو نہیں دیا جاسکتا۔

نظامِ ریاست کو چلانا

اگر قطعِ تعلق کا رویہ خارج از بحث ہو تو عملی سوال مسلمانوں کے سامنے یہ آتا ہے کہ کیا وہ نظام کے چَلانے میں پورے اطمینان کے ساتھ حصہ لیں؟

اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں نظام کے تین طرح کے اداروں میں فرق کرنا ہوگا۔ نظام کے ایک قسم کے ادارے وہ ہیں، جن کا دائرہ اصلاً مباح امور ہیں مثلاً محکمہ ڈاک، ٹرانسپورٹ، ریلوے وغیرہ۔ دوسری قسم کے ادارے وہ ہیں جن میں مباح امور بھی آتے ہیں اور ایسے امور بھی آسکتے ہیں، جہاں شریعت کی خلاف ورزی لازم آئے مثلاً تعلیم، صحت و علاج، حکومتی ذرائع ابلاغ وغیرہ۔ تیسری قسم کے ادارے وہ ہیں جہاں شرعاً ممنوعہ کام ہوتے ہیں مثلاً بینک۔

ان تینوں طرح کے اداروں کی ملازمت اختیار کرنے کا معاملہ ہو یا ذمہ دارانہ حیثیت میں ان کو چَلانے کا سوال درپیش ہو، بہرحال اداروں کی نوعیت کے مندرجہ بالا فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:

﴿الف﴾ جہاں تک پہلی قسم کے اداروں کا تعلق ہے، جن کا دائرہ مباح امور تک محدود ہو، شرعی اصولوں کا تقاضا یہ ہے کہ اُن کی ملازمت درست سمجھی جانی چاہیے اور ذمہ دارانہ حیثیت میں اُن کو چَلانا بھی درست ہونا چاہیے۔

﴿ب﴾ رہے دوسری قسم کے ادارے تو اُن میں ملازمت اُن سطحوں پر درست ہوگی، جہاں خلافِ شریعت کام نہ کرنے پڑیں۔ رہیں اعلیٰ سطحیں جہاں غلط پالیسیوں کا نفاذ بھی کرنا ہو تو ایسی سطح کی ملازمت ہو یا ذمہ دارانہ شرکت بہرحال وہ درست نہ ہوگی۔

﴿ج﴾ تیسری قسم کے اداروں میں کسی بھی نوعیت کی شرکت جائز نہیں سمجھی جاسکتی۔ کیوں کہ وہاں شرعاً ممنوع کام ہی کرنے ہوں گے۔

نظامِ حکومت کو چَلانا

ابھی تک ‘‘نظامِ ریاست’’ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس اصطلاح ‘‘نظامِ ریاست’’ کا مفہوم ‘‘نظامِ حکومت’’کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے۔ کیوںکہ اس میں سارے اجتماعی ادارے آجاتے ہیں۔ یوں بھی آج کل جمہوری ریاستوں میں زندگی کا کوئی پہلو اس ہمہ گیر ‘‘نظامِ ریاست’’ سے آزاد نہیں رہ پاتا۔ البتہ ‘‘نظامِ حکومت’’ کی اصطلاح نسبتاً محدود معنوں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ یعنی وہ اِدارہ جہاں اقتدار مرکوز ہو۔

اگر یہ محدود معنی لیے جائیں تو ہندوستان کے سیاق میں ‘‘‘‘نظامِ حکومت‘‘ سے مراد مرکزی وزرائ پر مشتمل کا بینہ ﴿Cabinet﴾ اور صوبوں کی حکومتوں کی cabinetsپر مشتمل نظام ہوگا۔ یہ واقعہ ہے کہ ہمارے ملک میں حکومت کے سارے اختیارات بالآخر انھی مجالسِ وزرائ کے پاس ہوتے ہیں، خواہ وہ مرکزی سطح کی مجلس ہو یا صوبائی سطح کی مجالس ہوں۔ یہی مجالس پالیسیاں بناتی ہیں جو اندرونِ ملک کے امور سے بھی متعلق ہوتی ہیں اور خارجہ پالیسی سے بھی۔ یہ مجالس بجٹ اور وسائل پر پورا اختیار رکھتی ہیں۔یہی مجالس طے کرتی ہیں کہ کن موضوعات پر کون سے قوانین اسمبلی یا پارلیمنٹ کے سامنے منظوری کے لیے رکھے جائیں اور اِن قوانین کا تفصیلی مسودہ بھی یہی مجالس طے کرتی ہیں۔ یہی مجالس حکومت کا روز مرّہ کا کام ﴿Routine Work﴾ چلاتی ہیں اور اس سلسلے میں انہیں عملاً بہت سے اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں۔ گو بعض امور میں یہ مجالس پارلیمنٹ یا اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہیں لیکن بہت سے معاملات میں ان پر جوابدہی کا کوئی بار نہیں ہے اور وہ اپنے منصوبوں، پالیسیوں اور اقدامات کی رسمی منظوری بھی پارلیمنٹ یا اسمبلی سے لینے کی محتاج نہیں ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جمہوری نظام میں عوام حکومت کو چلاتے ہیں۔ چنانچہ مشہور تعریف کے مطابق جمہوری حکومت “Government by the people”ہوتی ہے۔ لیکن واقعہ یہ نہیں ہے۔ اصل واقعے کے اعتبار سے اقتدار اور فیصلے کی طاقت مجالس وزارئ کے پاس ہوتی ہے۔ عوام فیصلے کی طاقت نہیں رکھتے۔ البتہ جب الیکشن کا وقت آجائے تو حکومت چَلانے والوں کو بدلنے کی کوشش ضرور کرسکتے ہیں۔

کابینہ میں شرکت

اوپر کی بحث سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ نظامِ حکومت اصلاً مجالس وزرائ کانام ہے۔ چنانچہ نظامِ حکومت میں ذمہ دارانہ شرکت کے معنی یہ ہوں گے کہ ایک شخص کابینہ میں شریک ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی شرکت کسی مسلمان کے لیے درست تصورکی جاسکتی ہے؟اس سوال پر اہلِ علم و فکر کو غور کرنا چاہیے۔ بظاہر شرعی اصولوں کی روشنی میں جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسا نظامِ حکومت جو اسلام کا پابند نہ ہو، اُس کے چلانے کی ذمہ داری ایک مسلمان قبول نہیں کرسکتا۔ مجلسِ وزرائ میںوہی شخص شریک ہوسکتا ہے، جو اطمینان کے ساتھ نظامِ وقت کے تصورات، پالیسی سازی کے اُس کے طریقوں اور قانون سازی کی بنیادوں کو قبول کرچکا ہو اور کم از کم عملاً انھی کے مطابق کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ جو شخص نظامِ وقت کے اساسی تصورات سے اتفاق نہ رکھتا ہو یا عملاً ان کا پابند نہ رہنا چاہتا ہو اس کو کوئی مجلسِ وزرائ برداشت نہیں کرسکتی۔

اقتدار کا مرکز

اب تک کی گفتگو سے درج ذیل باتیں واضح ہوچکی ہیں:

﴿الف﴾ اقتدار کا حقیقی جوہر ہندوستان میں مرکزی اور صوبائی مجالسِ وزرائ کے پاس ہے۔

﴿ب﴾ اصلاً یہ مجالس ہی نظامِ حکومت کوچَلاتی ہیں۔ چونکہ اپنے تصورات اور اقدار کے اعتبار سے یہ نظام اسلامی نہیں ہے، اس لیے ان مجالس میں کسی مسلمان کی شرکت درست نہیں سمجھی جاسکتی۔

﴿ج﴾ نظامِ حکومت کی محدود اصطلاح کے مقابلے میں ‘‘نظامِ ریاست‘ اُن تمام اجتماعی اداروں کا نام ہے، جو حکومت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ متعلق ہوں۔

﴿د﴾ اِن اجتماعی اداروں میں کچھ ایسے ہیں جن کا دائرہ مباح امور تک محدود ہے۔ ان کی ملازمت کی اجازت ہونی چاہیے اور اُن کو ذمہ دارانہ حیثیت میں چَلانا بھی درست سمجھا جانا چاہیے۔

﴿ہ﴾ اجتماعی اداروں میں کچھ ایسے ہیں جن کے دائرے میں مباح امور بھی آتے ہیں اور ممنوعہ امور بھی۔ ان اداروں میں اُن سطحوں پر ملازمت یا ذمہ دارانہ شرکت درست ہوگی جہاں غلط پالیسیوں کے نفاذ کی ذمہ داری نہ ہو۔

﴿و﴾کچھ اجتماعی ادارے ایسے ہیں جن کا دائرہ تمام تر ممنوعہ امور ہی سے متعلق ہے۔ ایسے اداروں میں کسی طرح کی ملازمت یا شرکت درست نہ ہوگی۔

ہندستان کے نظام میں پارلیمنٹ اور اسمبلیاں مقننہ کا حصہ ہیں۔ ان کے ممبران میں حکمراں جماعت ﴿Ruling Party﴾ کے لوگ بھی ہوتے ہیں اور حزبِ اختلاف ﴿Opposition﴾ کے بھی۔ جہاں تک ‘‘نظامِ حکومت‘ کو چَلانے کی بات ہے، یہ کام صرف حکمراں پارٹی کرتی ہے ﴿چونکہ مجلسِ وزرائ اسی پارٹی کی نمائندہ ہوتی ہے۔ بالفاظِ دیگر حکمراں پارٹی مجلسِ وزرائ کے ذریعے سے اپنی حکومت چلاتی ہے﴾ اس لیے یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ پارلیمنٹ یا اسمبلی کا ہر ممبر نظامِ حکومت چلانے میں شریک ہوتا ہے۔ صحیح بات یہ ہوگی کہ حکمراں پارٹی کے لوگ حکومت چَلانے میں شریک ہوتے ہیں۔ رہے اسمبلی یا پارلیمنٹ کے باقی ممبر تو وہ صرف بحث مباحثے میں شریک ہوتے ہیں اور اس شرکت کے ذریعے وہ حکومت کی پالیسیوں یا طرزِ عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

نظام سے ربط

شہادتِ حق کا فریضہ انجام دینے کے لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نظامِ وقت سے مؤثر ربط رکھیں۔ اس کے طریقے درج ذیل ہیں:

﴿الف﴾ ہمارے ملک میں اجتماعی زندگی کے مختلف معاملات سے متعلق غوروفکر اور بحث و مباحثہ کا عمل جاری ہے۔ یہ مباحثہ اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی ہوتا ہے اور تعلیمی و تحقیقی اداروں اور سیاسی ایوانوں میں بھی۔ نظام سے مؤثر ربط کا ایک اہم ذریعہ ان مباحث میں حصہ لینا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو اس غوروفکر اور مباحثے میں پوری تیاری کے ساتھ حصہ لینا چاہیے۔ اور درست نقطہ نظر پیش کرنا چاہیے۔ درست نقطۂ نظر کی تعیین کے لیے اسلام نے جو رہنما اصول فراہم کیے ہیں، وہ شہادتِ حق اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کے لیے ایسی پالیسیاں تجویز کریں، جو معروف کے مطابق ہوں، جن سے منکر کو ختم کیا جاسکتا ہو اور جو حق و صداقت کی عکاس ہوں۔بحث و مباحثہ کے اِن اجتماعی فورموں کے علاوہ اُن نجی گفتگوؤں کی بھی بڑی اہمیت ہے، جو منتخب افراد سے کی جائیں۔ بسا اوقات ایک فرد کی رائے پالیسی سازی میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔

﴿ب﴾     نظامِ ریاست کو متاثر کرنے کے لیے دوسرا ضروری کام حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر نظر رکھنا ہے۔ اگر حکومت ملک کے آئین، ذیلی قوانین یا پالیسیوں میں ایسی تبدیلیاں کرنا چاہتی ہو، جو عدل و انصاف اور اخلاق و دیانت کے تقاضوں کو مجروح کریں یا باشندگانِ ملک یا اُن کے کسی طبقے کو اُن کے فطری حقوق سے محروم کردیں تو ایسی ہر تجویز کی مزاحمت کی جانی چاہیے۔اسی طرح اُن مثبت اقدامات کی تائید کی جانی چاہیے، جو ملک کے نظام کو عدل و انصاف کا آئینہ دار اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ بناسکتے ہوں۔

جون 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau