دعوت اسلامی اور حالات کے نشیب وفراز

سجاد احمد میر

امام ابن القیمؒ کاشمار آٹھویں صدی ہجری کے ممتاز اورمایہ ناز علماء میںہوتاہے ۔امام موصوف نے اسلامی ، فکری وعلمی میدان میں ناقابل قدرخدمات انجام دی ہیں۔ آپؒ کی تصانیف دقیق علمی وفنی مباحث کے ساتھ احسان وسلوک کے حسین امتزاج سے متصف ہے۔ امام موصوف نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی حقیقت وحقانیت کو عالم انسانیت کے سامنے پیش کرنے میںصرف کی ۔امام موصوف کی ساری تصانیف آپ کی تبحر علمی ،فطانت فقہی اور امانت فنی کی منہ بولی مثال ہے ۔آپؒ کی جملہ تصانیف میں ’’بدائع الفوائد‘‘ گراں قدر اوربیش بہا اہمیت کے حامل ہے،یہ کتاب متنوع دینی، علمی،فنی اور روحانی فوائد سے سرشار ہے ۔اس کتاب میںموصوف نے ایک عمدہ مثال اورنادرفائدہ کاتذکرہ نباتات کی رمزیہ زبان (Symbolic language)میںبیان کیاہے کہ درختوں میں صنوبر (Pine Tree) کے درخت کوپھلنے پھولنے اور قدآورشخصیت تک پہنچنے کے لئے تقریباً تیس (۳۰) سال کا طویل اوردرازسفرطے کرنا پڑتاہے جبکہ دُباء درخت (Pumpkin Tree) کو پھلنے پھولنے اوراپناتشخص سنوارنے میںصرف دوہفتے درکار ہوتے ہیں ۔امام ابن لقیم ؒ فرماتے ہیں ،ایک دفعہ دُباء نے صنوبر سے کہا:

’’ان الطریق التی قطعتھا فی ثلاثین سنتۃ ، قطعتھا فی اسبوعین‘‘۔

دُباء درخت نے فخرومستی میں صنوبرسے کہا :اے صنوبر:’’جوسفر تم نے تیس سال کے لمبے عرصے میں طے کیا ،وہی می ںنے صرف دوہفتوں میںطے کیا ‘‘(اور نام ،مقام اورمنصب میں ہم دونوںمساوی وبرابرہیں)۔ کیونکہ :یقال لی شجرۃ ، ولک شجرۃ’’مجھے بھی لوگ درخت کے نام سے موسوم کرتے ہے اورتمہیں بھی درخت ہی کے نام سے پکارتے ہے‘‘۔(یہاں دُباء درخت اپنی عُجب پسندی ،خودنمائی وخودسرائی کے طورپر صنوبر کویہ باورکرانا چاہتاہے کہ میں کسی بھی طرح تم سے کمتر نہیں بلکہ میرامرتبہ تم سے کہیں زیادہ بڑاہے کیوں کہ دُباء ظاہری شکل وشناخت ، سرسری تشابہ اور اس تخمین وظن میں ہے کہ جوطویل مسافت صنوبر نے تیس سال میں طے کی اور تب جاکے اس کودرخت کہاجانے لگا، وہ میں نے صرف پندرہ دنوںمیں طے کی۔ فخروانبساط ،نازوامتیازاورغروروتکبر میںمگن نظرآتاہے اوراصول بقاء وفناء کویکسر نظرانداز کرکے محض حال پرستی کے جنوں میں ایساسست نظرآتاہے گویاماضی اورمستقبل اپنے معانی کھوچکے ہیں ۔ایسالگتاہے کہ فریڈرک نطشے ؔنے اپنے نظریات کی آبپاشی سے دباء کوسیراب کیاہے ۔نطشےؔکاماننا ہے کہ ’’ماضی تودفن ہوچکا ، مستقبل کاکوئی پتہ نہیں،لہٰذا آج (حال )کے لئے ہی جیو‘‘۔ جوحال میں طاقتور ہے وہی اصل طاقتورہے۔

“Past is dead, future is ahead”

صنوبرانتہائی سنجیدگی ،اعلیٰ متانت اوربلندپایہ وقارورزانت میں مخاطب ہوکرکہتی ہے :

’’ٹھہروتوذرا! خزاں کی تندوتیز ہواؤں کوآنے دو۔اگر ان تندوتیز ہواؤں کے مقابلے میں تمہارے پیرجمے رہے تو تمہارا فخر قابل اعتبارہے‘‘}اور اگر ان شدید ہواؤں نے تمہارے پیراکھاڑ دئیے توتمہارا عارضی غروراوربے ثباتی وجود،گردش ایام کی دھول کے نیچے دفن ہوکررہ جائے گا۔‘‘ (بدائع الفوائد :ج ۳۔ص۳۸۶)

اس مثال میں بہت سارے فوائد موجود ہے لیکن راقم یہاں صرف ایک اہم فائدے کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتاہے وہ ہے اصول بقاء وفنا،یہ فائدہ جہاں عالم انسانیت کے لئے انتہائی اہمیت کاحامل ہے ،وہی دین اسلام کے ماننے والوں کے لئے بھی عبرت کاسامان مہیارکھتاہے۔ تاریخ انسانی میں بے شمار تصورات ونظریات نے جنم لیا، مختلف ادوار میں آراء واھواء کاسیلاب اُمنڈآیا، مختلف افکار نے دھوم مچائی ،متعدد مذاہب وادیان نے تاریخ کے صفحۂ قرطاس پراپنے نام ثبت کروائے ،مختلف فلاسفہ وحکماء نے انسانیت کو مقصد سے روشناس کرانے کے لئے ان گنت فلسفہ ہائے جات وضع کئے۔ہرایک فلسفہ ،نظریہ اور فکروخیال اس بات کامدعی رہا کہ انسانیت کی فلاح ونجات ہمارے وضع کردہ اصولوں اورضوابط میںمُضمر ہے ،تاریخ انسانی کامطالعہ اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ دورقدیم میں فلسفۂ یونان کی مشرکانہ موشگافیوں سے رومی استبدادی تصورات تک یہود ونصاریٰ کے خودتراشیدہ نظریات،ہندومت کی دیومالائی خرافات، جین مت اوربودھ مت کی خودساختہ وتخیلاتی روحانیت جدیدمغربی فلسفہ کے ملحدانہ افکار(جن میںنطشےؔ، فرائڈؔ، ھیگلؔ،مارکس ؔاوررسلؔ قابل ذکر ہیں)۔دباء کے درخت کے مانند گردش ایام کی تندوتیز ہوا میں تنکے کی طرح بکھر کرمعدوم ہوتے چلے گئے،یہ سارے تصورات ایک محدود طبقہ کی ذہنی عیاشی کاتوسبب بن سکتے ہیںلیکن واقعی اورعملی دنیا میں یہ اپنامقام کھوچکے ہیں،ان تمام تصورات کے اندر اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ عالم انسانیت کی امانت کی زمام کارسنبھال سکے ، ان تمام افکارونظریات کابانجھ پن چیخ چیخ کرکہتاہے کہ عالم انسانیت کاذہین اورحساس طبقہ ہم سے مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں پاسکتا۔اس کے برعکس اسلام کاشجرصنوبر ،مرورایام کے تمام نشیب وفرازسے گزرتے ہوئے ہردورمیں عالم انسانیت کے ذہین افرادکو اپنے سایہ ٔ عاطفت میں پناہ دیتے ہوئے رواں دواں ہے۔ یہودیت کے مایہ ناز عالم عبداللہ بن سلام ؓ ہو یاعیسائیت کے رمزشناس عدی بن حاتم  ؓ،زبان وادب کاشہسوار مجوسی (قبل ازاسلام ) عبداللہ بن مقفع ہو یا کھیل کے میدان سے تعلق رکھنے والے محمدیوسف اورمحمدعلی،انگریزی ادب کی شہسوار ثریاکملہ ہویامغربی صحافت کی تیزرفتاریووُن ریڈلے،علم جنین کے ماہرسربراہ پروفسیرکیتھ مور ہویاالہامی کتابوںکے تجربہ کارنقادوتجزیہ نگارماریس بوکائی،مغربی موسیقی کے بلندپایہ فنکار کیٹ سٹیون (یوسف الاسلام)ہویاعالمی بیروکریسی کے تاج جارج بش کی بیٹی لورابش ۔یہ تمام عبقری شخصیات اس بات کے واضح اعلان کرتی ہیں کہ ٹھوس اورمضبوط عقائد ،منظم ومربوط فکروعمل اورحیاتِ انسانی کی غیرمبہم وقابل عقل وفہم تعبیرات ہی کے سائے میں انسانیت کی فلاح وکامیابی کاراز پنہاں ہے۔ اسلام کی اسی ثباتی خوبی نے مذکورہ اقابرہ کومشرف بہ اسلام ہونے پرابھارا،اسلام کایہ مضبوط درخت ہردورمیں فکری اباطیل کی شورش کے مقابلے میںراحت کاسایہ فراہم کرتارہاہے ۔تھامس کارلائل کے مطابق :

“Why a false man cannot build a brick house! if he does not know and follow truely the properties of mortar, burnt clay and what else be works in, it is no house that he makes, but a rubbish heap. It

will not stand for twelwe centuries, to lodge a hudred and eighty millions; It will fall straightaway”.

(Hero Worship and the Heroics in History.P287 by Thomas Carlyle)

’’کیوںکر ایک جعلی انسان }جعلی معمار{ایک گھر کوتعمیر نہیںکرسکتا۔ اگراس کوعلم نہیں ہے اورنہ ہی اینٹ،مٹی اوردیگر ضروری اشیاء کی خاصیتوں سے واقف ہے ،ایسا شخص کوئی بھی عمارت تعمیر نہیںکرسکتا سوائے ایک بے ڈھنگے مٹی کے ڈھیر کے،ایسی تعمیر بارہ سوسال کے لمبے عرصے تک قائم نہیںرہ سکتی اوراپنی آغوش میںلاکھوں ،کروڑوں انسانوں کوسمیٹ کرنہیں رکھ سکتی بلکہ ایسی عمارت سیدھے طورسے دھڑام سے زمین بوس ہوگی‘‘۔

کارلائل مزیدوضاحت کے ساتھ اس بات پراصرار کرتے ہیں کہ مذکورہ معروضہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ جعلی بینک نوٹ ، جو }بینک سے منسلک{ نااہل ہاتھوںسے جاری توہوتے ہیںلیکن دوسرے لوگ اس جعلی نوٹ کو پرکھنے میںبھی بہت ہی زیرک وحساس ہوتے ہیں ۔(قانون )قدرت ان تمام افکار ونظریات کوآگ کے شعلوں میںجلا کرراکھ کردیتی ہیں ۔فرانسیسی انقلاب ہویااس سے مماثل دوسرے انقلابات ،اس بات کا نہایت راست گوئی اورصاف گوئی سے اعلان کرتے ہیں کہ جعلی نوٹ، جعلی ہی ہوتے ہیں}اگرچہ شکل وصورت میںاصلی نوٹ کے مشابہ ہوتے ہیں{۔

It is like a forged bank note; they get it passed out of their worthless hands; others, not they have to smart for it; French Revolution and such like, proclaiming with terrible varacity that forged notes are forged. (Ibid)

یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ کامل طرززندگی کی بنیاد پائیدار فکروعمل پرہوتی ہے اورفکر وعمل کے  نام پر کسی بھی جعلی نظریے کوصدیوں پرمحیط دورحاصل نہیںہوسکتا۔ وہ افکارونظریات جن کی تین یاچار بمشکل تمام پانچ دہائیوں میںہی سانس اٹک جاتی ہے ،وہ فلسفہ ہائے جات وتصورات جومحض چارپانچ دہائیوںکے بعد ہی داستان پارینہ بن جاتے ہیں،اسی شجردباء کے مانند ہے جوحال اوراپنے شباب کے دورمیںمگن ومغرورنظرآتاہے لیکن وقت کے تھپیڑے اس کو ہوامیں بکھیر کررکھ دیتے ہیں لہٰذا عالم انسانیت کے لئے اس مثال میںیہ پیغام ہے کہ اسلام کے شجر صنوبر کی پائیداراورروح پرورچھاؤں میںہی انسانیت اپنے حقیقی مقصد سے روشناس ہوکر اپنی زندگی کابامقصد اورپرسکون سفرطے کرسکتی ہے۔ یہ ایسا مبارک درخت ہے جس کی جڑیں زمین میں پیوست ہیں جبکہ اس کی شاخیں عالم کومحیط ہے۔

دوسری طرف اس مثال میںاہل اسلام کے لئے عظیم پیغام پنہاں ہے کہ پیغمبر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کوایک صاف وشفاف اورواضح شاہراہ پرگامزن فرمایا اور لیلھا کنھارھا کامژدہ سناکر اس کی راتوں کی تابناکی کودن کی روشنی کے مماثل قراردیا اورترکت فیکم امرین }یعنی میں تم  میں سے دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں ، کتاب اللہ اور سنت رسول ؐ{ کے واضح ارشادسے اس شاہراہ کے خدوخال اوراصول وضوابط متعین فرمائے،اس پر مستزاد اپنی زندگی مبارک میںہی ان اصولوں کی روشنی میں ایک ایسی مقدس جماعت تیار فرمائی کہ ان کے ایمان وکردار، اقوال وافعال کو بطوررول ماڈل ومثال کے پوری نوئے انسانی کے لئے ناگزیر قراردیا،آپؐ نے اپنی امت کو پیشگی طورسے تمام فتنوں سے آگاہ کیا اور ارشادفرمایا کہ ’’بارش کے قطروں کے مانند فتنے رونما ہوں گے‘‘۔آپؐ کی وفات طیبہ کے بعد سے ہی فتنے رونما ہونے شروع ہوئے، خوارج کی گمراہ کن انتہاپسندی، روافض کی امامت پرمبنی ضلالت ، معتزلہ کی منحرف عقلی موشگافیاں،جھمیہ کاتذلیل شدہ انکارصفات کی روش، یہ سارے کھوکھلے درخت اسلام کے شجرصنوبر کے مقابلہ میں دباء درخت کی طرح غلط فہمی میںمبتلا ہوئے کہ ہمارانظریہ ہی صحیح اسلامی تعبیر کاترجمان ہے لیکن مرورایام کے تندوتیز اوربادمرمرکے سامنے ان کے پیراکھڑتے چلے گئے اورشجراسلام نے اپنے لئے صرف اسی تعبیر کی سینچائی قبول کی جس کاصاف وشیریں پانی ’’ماأناعلیہ واصحابی‘‘کے چشمۂ صافی سے جاری ہوتاہے ۔عصرحاضر میں مستشرقین کی ناپاک غذاسے پرورش پانے والے متجددین ہویا انکارحدیث کی روش اختیار کرنے والے کم علم وفہم رکھنے والے ’’دانشور‘ ‘ ، حدیث رسول ؐ کواپنی سستی عقل کے تابع کرنے والے جدیدمعتزلہ ومفکرین ہویا اسلام کی بگڑی ہوئی ’’تعبیر جدید ‘‘کے شیدائی ۔ان کامقدر،دباء درخت کے مثال تاریخ کے دھول کے نیچے دھنسنااوردفن ہونا ہے جیسا کہ ماضی میں ان کے ہمنواؤں کے ساتھ ہوا اورہوتا آیاہے لہٰذا مسلمانوں کے لئے یہ مثال چشم کشاں ہے کہ ہرایک’’ نئی آواز‘‘پرلبیک کہنے کے بجائے ،شجراسلام کی اُسی حقیقی تعبیرکے ساتھ ہمہ تن ومن وابستہ ہوکر بہارکے منتظر رہیں،جس کوصحابہ کرام ؓ نے خود رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم سے سند توثیق حاصل کرکے امت کومنتقل کیاورنہ شاخ نازک پہ جوآشیاں بنے گا،ناپائیدارہوگا۔

جون 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau