ازالہ غربت کی اسلامی تحریک

چند معروضات

ایچ عبد الرقیب

ڈاکٹر محی الدین غازی نے جولائی کے شمارہ میں ’’ازالہ غربت کی اسلامی تحریک، مابعد کووڈمعاشی بحران میں ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر سترہ صفحات میں، آج کے ہندوستان کے ایک اہم اور سلگتے ہوئے مسئلہ پر قرآن و سنت کی روشنی میں سیر حاصل بحث کی ہے جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ رسالہ کے سرورق پر فِی أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ‎لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ کی قرآنی آیت نے مضمون دیکھنے سے پہلے ہی قارئین کو اپنے مال میں غریب، مفلس اور محروم طبقہ کے حق کی طرف متوجہ کردیا ہے۔

موصوف نے بجاطور پر لکھا ہے :

’’ ازالہ غربت کی جو تحریک اللہ کے رسول ﷺنے مکہ میں برپا کی تھی، موجودہ حالات میں اسے ہندوستان میں برپا کرنا اسوۂ رسول ﷺکا تقاضا اور اسلامی دعوت کی اہم ضرورت ہے۔‘‘

آئیے ہم ملک کے موجودہ معاملات پر نظر دوڑاتے ہیں اور خاص طور پر ملت اسلامیہ ہند کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

ملک کی مردم شماری 2011 کے مطابق ملک کے کل فقیروں کی تعداد کا چوتھائی حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور ان میں مسلم خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ ہو یا نیشنل کونسل فار اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ ہو یا نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات ڈاکٹر امرتا سین کی SNAP رپورٹ، ان سب نے کئی چونکا دینے والے اعداد و شمار شائع کیے ہیں جن کے مطابق شہری علاقوں میں بسنے والے دس مسلمانوں میں تین کی حالت خط افلاس سے نیچے ہے اور بنگال میں 47 فیصد مسلمان یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں اور ترقی کے زینوں میں سب سے نیچے ہیں۔ خاص طور پر وہ بنیادی سہولیات: پانی، گندے نالوں کی کمی اور رسوئی گیس کی فراہمی سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ کووڈ کی وبا کے دوران ان کی حالت زار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ فقر و فاقہ اور غربت کی کیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

دسمبر 2014 کو آگرہ کے ویدنگر میں ایک دردناک واقعہ پیش آیا جس کی خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہوا یہ تھا کہ بنگال اور آسام سے آئے ہوئے غریب مسلمان جو زیادہ تر ردّی کے ڈھیر کو صاف کرنے والے، پرانی چیزوں کا کاروبار کرنے والے مزدور پیشہ غریب مسلمان تھے، بعض فرقہ پرست تنظیموں نے کی ان کو ورغلا کر اور بعض مراعات کا لالچ دے کر ہندومذہب میں لانے کی کوشش جسے ’’گھر واپسی‘‘ کا نام دیا گیا یہ سب غربت کا شکار اور زکوٰۃ کے مستحق تھے۔

حال ہی میں Christophe Jaffrelot (کرسٹوف جیفرے لوٹ) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مسلمانوں کی آبادی میں 18تا25 سال کی عمر کے تقریباً 30 فیصد لڑکے اور لڑکیاں ناخواندہ اور بےروزگار ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ ملک کے میٹرو شہروں کی جھگی جھونپڑوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فقر و فاقہ اور غربت سے اللہ کی پناہ مانگی ہے، آپ دعا فرمایا کرتے تھے

اللھم انی اعوذبک من الکفر والفقر (احد، ابو داؤد)

’’اے اللہ میں کفر اور فقر (غربت) سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

کسی صحابی نے سوال کیا۔ کیا یہ دونوں یکساں ہیں (ویعدلان) آپ نے جواب دیا: نعم (ہاں)۔ مخبر صادق کا قول کتنا سچا ہے کہ جہاں فقر و فاقہ اور غربت ہوگی وہاں انسان کفر کی طرف جائے گا۔

دین اسلام نے معاشرہ کے غریب اور نادار افراد کو فراموش نہیں کیا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دولت مندوں کے مال میں ایک مقررہ حق زکوٰۃ کی صورت میں مقرر کردیا ہے جو ایک فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے بارے میں محسن انسانیت نے حکم دیا تھا کہ وہ معاشرہ کے دولت مندوں سے زکوٰۃ کی شکل میں حاصل کرکے غربا و مساکین میں تقسیم کیا جائے۔

اجتماعی نظم زکوٰۃ کے دور نبوی اور خلیفہ راشد حضرت عمرؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکے دور کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔

جناب سید سعادت اللہ حسینی نے کوچین کی بین الاقوامی کانفرنس منعقدہ 28 اپریل 2018 میں اپنا ایک وقیع مقالہ ’’نظامِ زکوٰۃ اور ہندوستان میں سماجی ترقی‘‘ کے عنوان پر پیش کیا اور بتایا کہ زکوٰۃ ایک طاقتور معاشی آلہ ہے اور زکوٰۃ یا زکوٰۃ کی طرح کا کوئی نظام پورے ملک میں نافذ ہو تو غربت اور افلاس کا آسانی سے خاتمہ ممکن ہے۔ اور یہ بھی بتایا کہ ملک میں اندازاً دس ہزار کروڑ سے چالیس ہزار کروڑ روپیوں کی زکوٰۃ نکالی جاتی ہے اور زکوٰۃ کی یہ رقم غربت کے خاتمہ کے لیے کافی ہے اور آخر میں بتایا کہ اجتماعی نظم زکوٰۃ کے قیام کو باقاعدہ ایک تحریک کی شکل میں چلایا جائے۔ یہ نظام ابتدا میں گاؤں، قصبوں یا شہر کی سطح پر قائم کیا جاسکتا ہے یا شروع میں کالونی یا مسجد کو بنیاد بنا کر اس کا آغاز کیا جاسکتا ہے اور بتدریج ضلع، علاقہ اور ریاست کی سطح تک اسے ترقی دی جاسکتی ہے تو یقینی طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے سماجی و معاشی صورت حال میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور یہی زکوٰۃ کا حقیقی مقصد ہے۔

ڈاکٹر محمد رفعتؒ کا دعوت کے زکوٰۃ کے خصوصی نمبر میں ایک مضمون ’’زکوٰۃ کا اجتماعی نظام: ایک خاکہ‘‘ شائع ہوا،جس میں موصوف نے تحریر کیا کہ زکوٰۃ کے اجتماعی نظام سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کا قیام، اسلامی معاشرے کے قیام کی سمت میں ایک قدم ہے۔ بالفاظ دیگر اقامت دین کے کار عظیم کا ایک حصہ ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ازالہ غربت کی اسلامی تحریک کی ابتدا ’’اجتماعی نظم زکوٰۃ‘‘ سے شروع کرنی ہے اور اس کے لیے منظم اور منصوبہ بند لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مولانا صدرالدین اصلاحیؒ فرماتے ہیں:

’’مسلم بستیاں جس طرح اپنی نمازوں کے لیے مسجد کا، جماعت کا اور امامت کا انتظام کرتی ہیں اسی طرح اپنی زکاتوں کے لیے بھی بیت المال قائم کریں اور بستی بھر میں زکاتوں کو اکٹھی کرکے انھیں مستحقین تک پہنچانے کا انتظام کریں تاکہ اسلام کے اس اہم رکن کا جو منشا ہے وہ نظم حکومت کی عدم موجودگی میں اس قدر ضرور حاصل ہوتا رہے جس قدر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ اجتماعی غلط کاری ہوگی۔ ‘‘ (اسلام ایک نظر میں، ص ۹۲)

اس ضمن میں عوام اور خواص کی ذہن سازی کی بھی ضرورت ہے جو اس ٖغلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ فقرا کو یا اپنے مستحق رشتہ دار کو چند سو روپیے، چند کلو اناج یا چند میٹر کپڑے دے دیے جائیں،اس سے وہ چند دن یا زیادہ سے زیادہ چند مہینے اپنی ضروریات تو پوری کرلیتے ہیں لیکن اس کے بعد وہ حسب سابق فاقہ کش اور تہی دست رہتے ہیں اور مدد کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

چند سال پہلے اسوسی ایشن فار مسلم پروفیشنلز (AMP) نے ایک وسیع سروے کیا اور زکوٰۃ کے سلسلے میں چونکا دینے والی تفصیلات فراہم کیں ۔اسے دیکھنا چاہیے۔

آج کے دور میں دنیا کے مختلف ممالک میں اجتماعی نظم زکوٰۃ اور اس کی تقسیم کی بہتر کوشش ہورہی ہے۔ مثال کے طور پر ملیشیا میں غریبوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جسے پیداآوری غریب (productive poor) اور غیرپیدآوری غریب (unproductive poor) کا نام دیا جاتا ہے۔ غیرپیداآوری غریب میں عمررسیدہ بوڑھے بوڑھیاں، بیوہ، اپاہج و معذور، دائمی مریض وغیرہ ہوتے ہیں جن کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اور جن کی معاشی حالت خراب ہوتی ہے۔ ان کی مستقل اور مسلسل مدد کی جاتی ہے۔ ان پر زکوٰۃ کا 20تا25 فیصد حصہ صرف ہوتا ہے البتہ باقی 75تا80 فیصد پیداآوری غریبوں پر خرچ ہوتا ہے۔ اس گروپ میں ایسے مرد و خواتین ہوتے ہیں جو سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اپنا کاروبار نہیں کرسکتے۔ بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو کوئی ہنر سکھایا جائے اور ان کی مدد کی جائے تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں مشین یا آلہ و اوزار فراہم کیے جائیں تو وہ خود کفیل ہوسکتے ہیں۔ ان کی مدد مسلسل اور مستقل نہیں کی جاتی بلکہ ان کی درخواستوں کی جانچ کرکے ایک بڑی رقم یک مشت یا قسط وار زکوٰۃ کی رقم سے دی جاتی ہے اس طرح یہ لوگ بہت جلد خودکفیل ہوکر اپنے طور پر زکوٰۃ دینے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح پڑوسی ملک میں ’’اخوت‘‘ مالی تنظیم نے پورے ملک میں زکوٰۃ کی بنیاد پر بلاسودی مائکرو فائنانس کا جال بچھا دیا ہے اور غربت کے شکار لاکھوں مرد و خواتین کو خودکفیل بنانے کی طرف اہم پیش رفت کی ہے۔ سہولت مائکروفائنانس، جن سیوا، خدمت مائکرفائنانس کے اداروں کو زکوٰۃ کی وصولی کے ذریعے اس قسم کی شروعات کرنے کی ضرورت ہے۔

ورلڈ زکوٰۃ کانفرنس نے ایک وقیع دستاویز تیار کی ہے کہ کس طرح زکوٰۃ کےذریعہ دنیا کے مختلف ممالک نے کووڈ کا مقابلہ کیا ہے۔ اسی طرح انڈین سنٹر فار اسلامک فائنانس (ICIF) نئی دہلی نے ملک عزیز میں اجتماعی نظم کے قیام کے تعلق سے ایک خصوصی نمبر نکالا ہے کہ کس طرح زکوٰۃ کے صحیح اور بہتر جمع و تقسیم کے ذریعے ایک Caring ’ Sharing سوسائٹی کا قیام ممکن ہے۔ اس شمارہ میں دنیا کے چند ممالک میں زکوٰۃ کے مختلف الجہات کاموں کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر محی الدین غازی نے لکھا ہے:

مدینہ کی اسلامی ریاست کا جب قیام عمل میں آیا تو یہودیوں کی سودی پالیسیوں، برسہا برس سے جاری جنگ اور اس پر مزید نادار مہاجرین کی آمد کے سبب وہاں کی بڑی آبادی غریب تھی پھر بہت کم عرصے میں وہاں کی غربت دور ہوگئی۔

یہاں مضمون نگار نے ایک اہم بات کا ذکر نہیں کیا ہے،  مدینہ میں نبی کریم ﷺ نے جواہم ترین قدم اٹھایا، یعنی ’’سوق المدینہ‘‘ (مدینہ مارکیٹ) کا قیام۔ سیرت نبوی ﷺ کا یہ ایک گم نام گوشہ ہے جس کی تفصیلات جاننے کےلیے راقم کی کتاب ’’ہندوستان میں اسلامی معاشیات اور مالیات: موانع اور مواقع‘‘ کا مطالعہ مفید ہوسکتا ہے۔

اس مارکیٹ کے قیام کے بعد آپ نے اعلان فرمایا: جو ہمارے اس بازار میں مال لے کر آئے گا وہ اسی طرح کے اجر کا مستحق ہوگا جس طرح اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ) آپ نے یہ بشارت بھی دی کہ سچا اور امانت دار تاجر آخرت میں نبیوں اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔ مخبر صادق نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ انسانوں کو جو رزق دیا گیا ہے اس میں دس میں سے نو حصہ تجارت میں ہے۔ تسعۃ اعشار الرزق فی التجارۃ (الجامع الصغیر)

ازالہ غربت کی اس مہم میں جہاں مردوں کو متوجہ کرانا ہے وہیں خواتین بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ حضرت خدیجہؓ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مورخین نے لکھا ہے کہ مکہ سے جو تجارتی قافلہ نکلتا تھا اس میں آدھے سے زیادہ مالِ تجارت ام المومنینؓ کا ہوتا ہے۔ مدینہ مارکیٹ میں خواتین تاجرات بھی کاروبار کرتی تھیں مثلاً اسماء بنت مخرمہ، خولہ بنت صویب، ملیکہ أم سائب اور قیلہ انماریۃ۔ اسی طرح مارکیٹ کی نگرانی کے لیے جو محتسبین مقرر تھے اس میں بھی سمراء بنت نہیک اور شفا بنت عبد اللہ کا نام آتا ہے۔ آج بھی خواتین کو شریعت کے دائرہ میں رہ کر تجارت کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔

ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ اور غربت کی کثرت کی وجہ دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ مغربی معاشی نظام کی وجہ سے غریب، غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جارہے ہیں جیسا کہ کسی نے صحیح کہا ہے:

’’آج دنیا میں غربت کے اتھاہ سمندر (oceans of poverty) ہیں تو دوسری طرف دولت اور تونگری کے چند جزیرے (islands of prosperity)‘‘

امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے قوام متحدہ کے 2016 کے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: دنیا کے ایک فیصد لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے جتنی باقی ننانوے فیصد لوگوں کی دولت مل کر ہوتی ہے۔

اسلام ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے جس میں باہمی ہمدردی اور ایک دوسرے کے تعاون کی فضا عام ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ دولت چند افراد یا کسی مخصوص طبقہ کے قبضے میں ہو۔

کی لایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم (الحشر: ۷)

تاکہ دولت تمھارے مالداروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہے۔

اسی نابرابری کے خاتمہ اور ازالہ غربت میں نمایاں کمی کے لیے اقوام متحدہ نے 2000 میں پندرہ سالہ ایک ملنیم ڈیکلریشن تیار کیا اور پھر پندرہ سال بعد 2015 میں ایک نیا پندرہ سالہ منصوبہ تیار کیا جسے پائیدار ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals -SDG) کا نام دیا ہے اوراس کے سترہ اہداف خصوصی طور پر طے کیے جن میں غربت کا خاتمہ (end of poverty) یعنی (no poverty, zero hunger) کو سرفہرست رکھا ہے۔ ورلڈ زکوٰۃ فورم نے 2017 کے اپنے جکارتہ (انڈونیشیا) کے اجلاس میں مقاصد شریعت کی روشنی میں اقوام متحدہ کے اس پائیدار ترقی کے اہداف اور زکوٰۃ کے مقاصد پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ مقاصد شریعت جس میں انسانوں کے اپنے دین، زندگی، نسل، عقل اور مال کی حفاظت شامل ہے دراصل اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (SDG) کے حصول سے ہم آہنگ ہیں اور ان کے حصول میں زکوٰۃ کا اجتماعی نظم اور اسلامی سرمایہ کاری اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ازالہ غربت کے سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ مال کے تعلق سے ایک معقول اور متوازن رویہ اختیار کیا جائے۔ تکوین ثروت (Creation of Wealth) دولت کے حصول کے بعد اس کو بچا کر منافع بخش اور حلال و طیب تجارت اور صنعت و حرفت میں لگانا بھی ضروری ہے۔ آج کل entrepruenership کا نام بہت لیا جاتا ہے،جس میں نئے طریقوں اور نئی مصنوعات کی خاطر خطرے (risk) کو انگیز کرکے سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔

ملت اسلامیہ میں مالیات کے تعلق سے خودآگاہی (financial literacy) کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے حلال اور مبنی بر شریعت تجارت و کاروبار اور سرمایہ کاری کے نام پر بہت ساری جعلی اسکیمیں چلائی جارہی ہیں جن سے بچنا بھی ضروری ہے۔

دوسری طرف صارفیت (consumerism) اور کریڈٹ کارڈ سوسائٹی کے فروغ کی صورت میں انسانوں کو اسراف کی طرف ڈھکیلا جارہا ہے، اس کے بارے میں صحیح آگاہی کی ضرورت ہے۔

آج اسٹاک مارکیٹ چھوٹی بڑی بچت کو سرمایہ کاری کے بڑےمنصوبوں میں لگانے اور ملک کی صنعتی ترقی میں حصہ لینےکی ایک صورت ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے اس مارکیٹ کے ماہرین کے ذریعے جانکاری اور چھوٹے بڑے سرمایہ کے ذریعے اس میں شرکت و حصہ داری بھی ازالہ غربت کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس طرح زکوٰہ کا اجتماعی نظم، تجارت و صنعت میں آگے بڑھنے، تکوین ثروت کے لیے مالیات کے تعلق سے صحیح آگاہی، ملکی اور عالمی سطح پر چلائی جانے والی اسکیموں اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں شمولیت کے ذریعے مقاصد شریعت کی روشنی میں ایک منصوبہ بند طریقہ سے کام کا آغاز کریں گے تو چند برسوں میں ایک خودکفیل اور خوش حال معاشرہ کی تشکیل و تعمیر کی جاسکتی ہے۔

اللہ کرے ڈاکٹر غازی صاحب کا یہ مضمون قارئین کے لیے ایک نئی روشنی اور نئے راہ عمل کا خاکہ پیش کرسکے۔

اگست 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau