تحریک اسلامی

روایتی تنظیم یا ہمہ گیر تحریک

ڈاکٹر محمد فاروق اعظم

شاعر نے ملتِ اسلامیہ کوللکارتے ہوئے کہا تھا کہ ؎

اُٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا بپا کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

مشاہدہ بتاتا ہے کہ دنیا کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔ تحریک اسلامی نے دنیا کے حالات کا تجزیہ کیاہے۔ ابتری کے اسباب وعلل اورقوموں کے عروج وزوال پر وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ تجزیہ کے علاوہ اہلِ فکر نے دنیا کے سامنے تحریک اسلامی کی ضرورت اوراہمیت بھی پیش کی ہے ۔ نتیجتاً سنجیدہ علماء اور دانشوروں کے علاوہ عامۃ المسلمین کا بھی قابلِ ذکر حصہ تحریک اسلامی کی ضرورت کا قائل نظر آتا ہے اوراس سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ دنیا میں آج مسلمان ستائے اورمارے جارہے ہیں اس لیے ان کی تمنا ہے کہ کوئی ایسی تحریک اُٹھتی جو ظلم واستبداد کا قلع قمع کرکے عدل وقسط کے قیام کویقینی بناتی ۔ مگر جب وہ ایسا دوردورتک ہوتا ہوا نہیں دیکھتے تو انہیں مایوسی ہونے لگتی ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے موجودہ حالت کیوںہے؟ آخر کیا بات ہے کہ تحریک اسلامی آگے نہیں بڑھ پارہی ؟ نظریاتی باتیں تو خوب ہوتی ہیں مگر عملی اقدام میں مختلف قسم کے اندیشوں کا شکار ہوکر تحریک پیچھے رہ جاتی ہے ۔ کیا تحریک اسلامی بھی دیگر روایتی تنظیموں اور جماعتوں کی طرح محض ایک تنظیم ہے؟

یہ چبھتے ہوئے سوالات ہیں جن پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریک اسلامی

تحریک اسلامی ایک ہمہ گیر تحریک (Full-fledged Movement) کا نام ہے اس کے نزدیک اسلام محض مذہب نہیں بلکہ مکمل نظام حیات ہے ۔پوری دنیا کے انسانوں کے مسائل کا واحد حل ہے ۔ یہ خالقِ کائنات کا نازل کردہ انسانی طریقۂ زندگی ہے جوقیامت تک ہر جگہ اورہر زمانے میں پوری طرح قابلِ عمل ہے ۔ اس مکمل نظامِ حیات کودنیا میں عملاً نافذ کرنا اور اس کے قیام کی جدوجہد کرنا تحریک اسلامی کا نصب العین ہے۔اس نصب العین کے حصول میں قرآن وسنت رہنمائی کے سر چشمے ہیں۔ چنانچہ تحریکِ اسلامی جو کچھ بھی کرتی ہے پہلے قرآن وسنت سے روشنی حاصل کرتی ہے ۔ یہ تحریکِ اسلامی کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس کا جواز قرآن وسنت میں نہ ہو۔ پیش نظر مساعی کے جواز وعدم جواز کا مسئلہ تمام اسلامی جماعتوں کے پیش نظر رہتا ہی ہے ۔ وہ شریعت کی روشنی ہی میں کام کرتی ہیں مگر تحریک اسلامی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دین اوراسلامی شریعت کوپوری انسانی زندگی میں عملاً نافذ کرنے کی اور موجود طرزِ اقتدار کواسلامی طرزِ اقتدار میں تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتی ہے ۔ انسانی زندگی کے سبھی شعبہ جات میں باطل طرزِ حکومت کی وجہ سے خامیاں اور خرابیاں در آئی ہیں انہیں دور کرکے صالح اصول وضوابط کوعملاً نافذ کرنا تحریک اسلامی کے لیے ضروری ہے ۔ اس اصلاح کے بغیر عوام الناس کے لیے ایماندارانہ زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ آج سرکاری اورغیر سرکاری دفاتر میں رشوت ستانیاں اور حق تلفیاں اپنے شباب پر ہیں انہیں دورکیے بغیر یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ایک عام آدمی بغیر رشوت دیے کوئی کام وقت پر کرواسکے ۔ یہ اب ایک عام بات ہے کہ اگر اپنا جائز کام بھی کروانا ہے تو اس کے لیے متعلقہ شعبہ کے کارکنان کوکچھ نہ کچھ دینا ہی پڑے گا ۔ اس طرح کی دوسری چھوٹی بڑی خرابیوں کودور کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک باطل نظام کی جگہ نظامِ حق عملاً نافذ نہ کردیا جائے۔

تحریک اسلامی کا اصل ہدف

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ تحریکِ اسلامی کا اہم ہدف باطل نظامِ حکومت کی جگہ اسلامی نظامِ حکومت کا قیام ہے۔ تحریکیں اُٹھتی بھی اس لیے ہیں کہ زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی لائی جائے ۔ تحریکِ اسلامی اس لیے اُٹھی ہے کہ دنیا سے باطل کومٹا کر حق کوقائم کیا جائے ، خواہ اس کے لیے تحریک سے وابستہ افراد کوقربانیاں دینی پڑیں۔ حق کے وضاحت کے ساتھ لوگوںکے سامنے آجانے کے بعد زمین پر اس حق کی آمد ہونی چاہیے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے۔

وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ۝۰ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَہُوْقًا  (بنی اسرائیل آیت، ۸۱)

’’ اور اعلان کردوکہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ۔ بلاشبہ باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔‘‘

اس اعلان سے پہلے اللہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کواوراہلِ ایمان صحابۂ کرام ؓ کوجس دعا کی تلقین وتاکید کی ہے اس پر بھی ایک نظر ڈا ل لیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا (بنی اسرائیل آیت ۸۰)

’’اوردعا کرو کہ پروردگار ، مجھ کو جہاں بھی تولے جا سچائی کے ساتھ لیجا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اوراپنی طرف سے ایک اقتدار کومیرا مدد گار بنادئے‘‘۔

اس کی تشریح کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودی کہتے ہیں۔

’’ یعنی یاتوخود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کومیرا مدد گار بنادے تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کودرست کرسکوں ، فواحش اورمعاصی کے اس سیلاب کوروک سکوں، اورتیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں ۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جوحسن بصریؒ اورقتادہؒ نے کی ہے اوراسی کوابن جریرؒ اورابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین کے اختیار کیا ہے اوراس کی تائیدنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث کرتی ہے کہ اِنَّ اللہَ لَیَزَعُ بِالسُّلطَانِ مَا یَزَعُ الْقُرْآنَ یعنی ’’ اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے اُن چیزوں کا سدِّ باب کردیتا ہے جن کا سدِّ باب قرآن سے نہیں کرتا‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جواصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ وتذکیر سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کوعمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے ۔ پھر جب یہ دعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامتِ دین اورنفاذ شریعت اوراجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اوراس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ومندوب ہے ‘‘۔ (تلخیص تفہیم القرآن ، سورہ بنی اسرائیل حاشیہ نمبر ۱۰۰)

آگے حاشیہ نمبر ۱۰۱ کی تشریح آیت وقل جاء الحق ۔۔۔۔۔۔زہوقا میں مولاناؒ فرماتے ہیں کہ۔

’’ یہ اعلان:’’ کہہ دوکہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اورباطل تو مٹنے ہی والا ہے ‘‘۔ اس وقت کیا گیا تھا جبکہ مسلمان (ہجرت سے قبل) سخت بے کسی اورمظلومی کی حالت میں مکہ اور اطرافِ مکہ میں زندگی بسر کررہے تھے ۔ ایسے وقت میں یہ عجیب اعلان لوگوں کومحض زبان کا پھاگ محسوس ہوا ۔ مگر اِس پر نوبرس ہی گزرے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی شہر مکہ میںفاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور آپؐ نے کعبے میں جاکر اُس باطل کومٹادیا جوتین سو ساٹھ بتوں کی صورت میں وہاںسجا رکھا گیا تھا ۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور ؐ کعبے کے بتوں پر ضرب لگارہے تھے اورآپؐ کی زبان پر جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ۝۰ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَہُوْقًا جا ء الحق وما یبدی الباطل ومایعید (تلخیص تفہیم القرآن، سورہ بنی اسرائیل حاشیہ ۱۰۱)

مندرجہ بالا دونوں آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامتِ دین کے لیے دعوت وتربیت کے ساتھ سیاسی قوت کے حصول کی کوشش نہ صرف جائز ہے بلکہ عین مطلوب ہے ۔ اب اگر کوئی اس کوشش کی نفی کرے تو کیا یہ درست ہوگا۔ ایک دوست کا خیال ہے کہ ’’ اسلامی تحریکات اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد تو کریں، مگر نظام چلانے کے لیے خود کوکبھی پیش نہ کریں۔ نہ تو انتخابی عمل میں حصہ لیں ، اورنہ ہی کسی منصب کے مقابلے میں شامل ہوں۔ نہ یہ شرکت اسلامی تحریک کے نام سے ہواورنہ ہی کسی دوسرے نام سے سیاسی پارٹیاں بناکر ہو۔ نہ یہ کام کی ابتدا میں ہو ، اورنہ ہی یہ مستقبل قریب یا مستقبل بعید کے لائحہ عمل میں شامل رہے ‘‘۔ (ملاحظہ ہو ’اسلامی نظام کا قیام ۔۔۔‘‘ عنوان سے ڈاکٹر محی الدین غازی کا مضمون شائع شدہ ماہنامہ زندگی نودہلی اکتوبر ۲۰۱۸ء )، یہ طرزِ فکر ، تحریک اسلامی کودوسری روایتی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی مانند بنادینے والا خیال ہی کہلائے گا۔

تحریک اسلامی کودر پیش خطرات وخدشات

بلا شبہ تحریک اسلامی کو خطرات وخدشات لاحق ہوتےہیں اس کی وجہ اس تحریک کا ’’ تحریک اسلامی‘‘ ہونا ہے ۔ تحریک اسلامی کا وجود ہی خطرات وخدشات کے ماحول میں ہوتا ہے ۔ یعنی جب غیر اسلامی نظام پوری دنیا میں حاوی ہو اوراسلامی پیغام کےسامنے ڈھیروں چیلنج موجود ہوں تبھی اسلامی تحریک کے نمو دار ہونے کی ضرورت دنیا کو محسوس ہوتی ہے تب کوئی مصلح اور مجدد شاہ ولی اللہ ، حسن البنا ، سید قطب یا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی شکل میں اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اورتحریک اسلامی کی بنیاد پڑجاتی ہے ۔ ظاہر ہے تحریک اسلامی کے لیے باطل حکومتیں بڑا چیلنج ہوتی ہیں۔ اس کا احساس بانیانِ تحریک کوبھی ہوتا ہے۔ بانیانِ تحریک‘ اپنے مخاطبین کو درپیش خطرات اور خارجی وداخلی مشکلات سے واقف بھی کراتےہیں البتہ نہ وہ خود گھبراتے ہیں نہ تحریکِ اسلامی سے وابستہ افراد کو گھبراہٹ میں مبتلا ہونے دیتے ہیں۔ وہ صبروتحمل کے ساتھ عزیمت کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔انہوںنے صاف کہا ہے  ؎

یہ قدم قدم بلائیں، یہ سوادِ کوئے جاناں

جسے زندگی ہوپیاری وہ یہیں سے لوٹ جائے

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒاپنی ایک تقریر میں ؒ فرماتے ہیں ——

’’ہم نے جماعت کے نظام کے ساتھ ہمدردوں کا ایک شعبہ محض وقتی اورعارضی مصالح کے لیے رکھا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوںکہ بہت سے ایسے لوگوں کے لیے بھی یہ شعبہ مامن کا کام دے رہا ہے، جن کی اصلی جگہ جماعت کے نظام کے اندر تھی نہ کہ ہمددردوں کی صف میں ۔ یہ حضرات بلا کسی سببِ معقول، محض اپنی بعض کمزوریوں کی وجہ سے اس آڑ میں چھپے بیٹھے ہیں اورسمجھ رہے ہیں کہ یہ ہمدردی ان کو اس حق سے سبکدوش کردے گی جوان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد ہورہا ہے ۔ یہ ایک سخت غلط فہمی ہے جس کا دور ہونا نہایت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق وفرائض صرف اس طرح ادا نہیں ہوسکتے کہ آپ اس جماعت کے ساتھ فی الجملہ ہمدردی رکھتے ہیںجوان فرائض کوپورا کرنے کے لیے اُٹھی ہے بلکہ آج ان کے ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ اپنا تمام سرمایۂ زندگی اس جماعت کوبرپا کرنے میں لگادیں جواس مقصد کے لیے اُٹھے۔

اگر آپ کے سامنے کوئی عاجز کردینے والی رکاوٹ نہیں ہے تو آپ کا فرض ہے کہ آپ میں سے ہر شخص اس جماعت کی صفِ اوّل میں پہنچنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرے تاکہ وقت کی بے روح فضا میں ایک حرکت پیدا ہوا ور جوراہ بند ہے ، اس کے کھولنے کے لیے دلوں میں ولولہ ابھرے۔ مجرد دعا گوئی اوراظہارِ ہمدردی کو ادائے فرض کی ایک قسم سمجھ لینا اوراس پرقانع ہوجانا سخت پست ہمتی اورکمزوری کی بات ہے۔ یہ در حقیقت راہ کی مشکلات سے مرعوب ہوکر نفس کی خواہشوں کے ساتھ مصالحت کی ایک صورت ہے جوممکن ہے ایک شخص کے خلوص نیت کی وجہ سے نفاق کے حکم میں نہ آئے۔ لیکن ایک مسلمان سے یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ وہ مصالحت کی یہ صورت اس وقت سوچے جبکہ اقامتِ دین کی جدوجہد کی دعوت بلند ہوچکی ہواور ہرشخص سے مطالبہ کررہی ہو کہ خدا کی بخشی ہوئی جوقوّت و قابلیت بھی موجود ہے اس کولے کر میدان میں اترپڑے ۔ اقامتِ دین کا فرض ایسافرض نہیں ہے جو محض اس طرح ادا ہوسکے کہ آپ اس جماعت کے ہمدردوں میں داخل ہوجائیں ، جواس مقصد کے لیے کھڑی ہورہی ہے ۔ اس کے لیے آپ کوہر ذمہ داری لینے کے لیے خود کوآگے بڑھانا چاہیے اورجذبۂ شوق کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے ‘‘۔         (روداد جماعت اسلامی ہند حصہ چہارم)

مولانا علیہ الرحمہ نے مندرجہ بالا باتیں ہمدردانِ جماعت سے خطاب کرتے ہوئے بیان کی ہیں۔ ارکان وکارکنان کے معاملے میں ظاہر ہے کہ وہ اس سے زیادہ توقع رکھتے ہوں گے ۔ علامہ اقبالؔ کہتے ہیں ؎

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

قرآن ایمان لانے والوں کو استقامت کی تلقین کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق سے خبردار کیا ہے، اس پر غور وتدبر کرنے سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ایمان واسلام کوسمجھ لینے کے بعد کسی قسم کی راہِ فرار اختیار کرنا اہلِ ایمان اورعلمبردارانِ اسلام کو قطعاً زیب نہیں دیتا۔

تحریک اسلامی کا میدانِ کار محدود نہیں

تحریک اسلامی کا واضح عقیدہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے ۔ اس کلمہ طیبہ میں جوانقلابیت ہے وہ اسلام کی نقلابی روح کی ترجمان ہے ۔اس پر غور کرنےسے ہم اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہتے کہ تحریکِ اسلامی کے میدانِ کار کومحدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام وہ واحد دین ہے جوانسانوں کے تمام تر مسائل کا حل پیش کرتا ہے اوراسی دین پر عمل کرکے انسان فلاح ونجات حاصل کرسکتے ہیں ۔ آج حال یہ ہے کہ دنیا امن وسکون کے لئے تڑپ رہی ہے، عدل وانصاف کا گلا گھونٹا جارہا ہے اورانسانیت کے نام پر ہر طر ف حیوانیت پھیلائی جارہی ہے، تحریک اسلامی اگر موجود ہے تو اسے ہر گز خاموش نہیں رہنا چاہیے یا محدود طرز پر نہیں سوچنا چاہیے ۔ اگر تحریک اسلامی بھی اندیشہ ہائے دورو دراز کا شکار ہوکر مصلحت پسندی اختیار کرنے لگے تو اس میں اور دوسری روایتی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں میں کیا فرق رہ جائے گا۔تحریکِ اسلامی ہمیشہ اور ہر حال میںمتحرک رہنے والی کوششوں کا نام ہے ۔ کام کرنے والوں کی راہوں میں رکاوٹیں آتی ہیں، آئی ہیںاورآتی رہیں گی، انہیں آلام ومصائب سے گزرنا پڑتا ہے ، گزرنا پڑا ہے اور گزر نا پڑ ے گا ۔ اس صورت میں انہیں ہمت سے کام لیتے ہوئے صبر واستقلال کے ساتھ آگے بڑھنا ہی ہوگا  ؎

جہاںان کی یورشیں ہیں وہیں آشیاں بنےگا

کوئی بجلیوں سے جاکر مرافیصلہ سنادے

جذباتیت مطلوب نہیں

البتّہ تحریک اسلامی جذبات کی رومیں بہنے کا نا م نہیں ہے۔ وہ سنجیدہ رویہ اختیار کرتی ہے ۔تحریک اسلامی دینِ اسلام کی علمبردار ہے جو تمام ادیان پرغالب ہونے کے لیے آیا ہے ۔ سورۃ التوبہ میں ہے :

ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ ’’ یعنی وہ اللہ ہے جس نے اپنے رسول کوہدایت اوردینِ حق کےساتھ بھیجا تاکہ اسے پوری جنس دین پرغالب کردے خواہ مشرکوں کویہ کتنا ہی ناگوار ہو ‘‘۔ (التوبہ آیت ، ۳۳)

اِس آیت ِ کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جوکچھ کہا ہے وہ سنجیدہ رویہ کی ترجمانی ہے:

’’متن میں ’’الدین‘‘ لفظ کا استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ’’ جنسِ دین‘‘ کیا ہے ۔دین کا لفظ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں ، عربی زبان میں اس نظامِ زندگی یا طریقِ زندگی کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے قائم کرنے والے کوسند اور مطاع تسلیم کرکے اس کا اتباع کیا جائے۔ پس بعثتِ رسول ؐ کی غرض اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ جس ہدایت اوردین حق کووہ خدا کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام طریقوں اورنظاموں پر غالب کردے۔ دوسرے الفاظ میں رسول کی بعثت کبھی اس غرض کے لیے نہیں ہوئی کہ جونظامِ زندگی وہ لے کر آیا ہے وہ کسی دوسرے نظامِ زندگی کا تابع اورمغلوب بن کر اس کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں میں سمٹ کررہے ۔ بلکہ وہ بادشاہِ ارض وسما کا نمائندہ بن کر آتا ہے اوراپنے بادشاہ کے نظامِ حق کوغالب دیکھنا چاہتا ہے ۔ اگر کوئی دوسرا نظامِ زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے خدائی نظام کی بخشی ہوئی گنجائشوں میں سمٹ کررہنا چاہیے جیسا کہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں ذمیوںکا نظامِ زندگی رہتا ہے ‘‘۔ (تلخیص تفہیم القرآن حاشیہ ۳۲)

سنجیدگی کا تقاضا

دین اسلام کے بارے میں اس سنجیدہ رویے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس دین کوپورے طور پر سمجھا جائے ۔ اس دین کے حق ہونے کودلائل کے ساتھ سمجھا یا جائے اوراس مکمل دین کا علمبرداربن کر اسے دوسرے تمام ادیان پرغالب کرنے کی جدوجہد میں لگ جایا جائے۔ خصوصاً ان حالات میں جبکہ اس دینِ حق کو مٹاڈالنے کی کوششیں ہرچہار جانب سے اپنے شباب پر ہوں۔

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَيَاْبَى اللہُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ ترجمہ:’’ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں ۔ مگر اللہ اپنی روشنی کومکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کویہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔ (التوبہ آیت ۳۲)

اللہ اس دین کو مکمل اور غالب کیے بغیر ماننے والا نہیں پھر اہلِ ایمان کیوں، جدوجہد سے جی چُر ائیں۔ وہ جس دین کے علمبردار ہیں وہ وہی دین ہے جسے غالب کرنے کا منشا خوداللہ کا ہے ۔ اس حقیقت کو جاننے کے بعد کیا یہ ممکن ہے کہ تحریک اسلامی کے خادم اس دین کودوسرے ادیان پر غالب کرنے کی جدوجہد کرنے کے بجائے لیت ولعل سے کام لینے لگ جائیں یا اندیشہ ہائے دورو دراز کا شکار ہوکر روایتی جماعتوں اورتنظیموں کی طرح محدود انداز میں سوچنے لگ جائیں ۔

جہاںتک مصائب ومشکلات اورآلام وآزمائشوں کی بات ہے تو یہ انسان کے دعووں اور عز ائم کے مطابق ہی سامنے آتی ہیں ۔ جولوگ دین اسلام کوقائم کرنے اوردوسرے تمام ادیان پر اسے غالب کرنے کے لیے اُٹھے ہیں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑے گا اور آزمائشی مراحل سے بھی گزرنا ہو گا ۔ دعوت اورتربیت پر خصوصی توجہ جاری رکھتے ہوئے سیاسی میدان کی طرف توجہ کا وقت آگیا ہے۔ ہندو پاک میں اور پورے عالم ِ اسلام میں سیاسی تبدیلی پر تحریک اسلامی کوخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آج باطل اور طاغوتی قوتوں نے انسانیت کو ظلم و جور کا شکار بنا رکھا ہے ۔ انسانیت کراہ رہی ہے ، طغیانی و ستم اپنے شباب پر ہے ۔ انصاف کے نام پر نا انصافی اورامن وسلامتی کے نام پر بدامنی کا دور دورہ ہے ۔ ان حالات میں اسلام کے علمبرداروں کو ز یب نہیں دیتا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ۔

چمن خطرے میں ہے فاروقؔ بچاؤ اس کو

یاں تو گلچیں بھی ہیں، دشمن کی صفوں میں شامل

مشمولہ: شمارہ جنوری 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau