اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات

ڈاکٹر علی محمد

اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات سید مودودی کے مضامین پر مبنی ایک مجموعہ ہے یہ کتاب اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کو کیسی اور کس طرح زندگی گزارنی چاہیے اور اسلام اُن کیلئے کس طرح کے اصول و ضوابط پیش کرتا ہے یہ کتاب سات اہم ابواب پر مشتمل ہے جن کو بعد میں مزید ذیلی ابواب میں منقسم کیا گیا ہے۔ کتاب ہذا کی ابتداَ توحید، رسالت اورآخرت جیسے تصورات  سے کی گئی ہے جن کوعقلی نقطہ نظر سے پیش کرکے اِن کی حقیقت عیاں ہو جائے۔موجودہ سائنسی طریقوں کو بنیاد بنا کراللہ کے کارہائی دنیا کی بھر پور وضاحت کی گئی نبوت محمدﷺ کو بھی عقلی علوم سےسمجھا نے کی کوشش کی گئی  اورتاریخ کو گواہ بنا کر اور عرب کی حالات کو سامنے رکھ کر محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ ساتھ عرب دنیا میں اُن علوم کا  پہلےنا پید ہونا جن کا بعد از نبوت ِمحمدﷺدنیامیں ظہور ہوا، کی پوری وضاحت کی گئی۔ زندگی بعد از موت کے موضوع میں یہ باور کرنے کی کوشش کی گئی کہ آخرت اصل میں انسان کے دنیائی عمل صالح اورعمل رذیل ہے کہ عدالت اِلہٰی میں جزا اور سزاکا فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ دنیا میں مکمل بدلہ مِلنا نا ممکن ہےگرچہ عقلی علوم  کے ماننے والے آخرت کو بعید از عقل ہی سمجھتے ہیں لیکن حق تو یہ ہے کہ عقل کے متوالوںکو اس کی نفی نہیں کرنی چاہئے اگر وہ اثبات کے قائل نہیں ہیں۔ امثال کے ذریعے انصاف اور عقلی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر انسان کو اِلہٰی نظام کے بارے میں سوچنے  اورذہن کو مبذول کیا گیا تاکہ حقیقت پسندی،اصلیت اور سچائی عیاں ہو جائے۔

مولانا نے اُن لوگوں پر  حیرت کا اظہار کیا ہے جودوسرے عالم کے بارے میں تذبذب کے شکار ہیں۔ توحید باری تعالیٰ کو سمجھانے کے لئے مختلف مِثالیں بیان کی گئی تاکہ کائنات کے خالق کے بارے میں کوئی شک ذہن میں نہ رہے اور قدرت اِلٰہی کا مقام ،طاقت اور علم کسی دوسرے کے سر باندھا جائے ۔ اصل میں مولانا مودودی  نے یہ خطاب ریاست کپورتھلہ میں ہندوں، سکھوں اور مسلمانوں کے ایک مشترکہ اجتماع سے کیا تھا اس اجتماع میں انہوں نے یہ باور کرنے کی کوشش کی تھی کہ سلامتی کا راستہ     جو کہ اس باب کا عنوان بھی ہے اسلام، وحدت اِلہٰی اور کائنات کےحقیقی مالک پر مکمل ایمان سے وابستہ ہے۔  اس مضمون میں عوام الناس کو ایک فرمانبر دار بندے کی حیثیت سے رہنے کی تلقین کی گئی ہے  اور انسان کی کامیابی کا واحد  ذریعہ اطاعت اِلہٰی کو قرار دیا گیا  ورنہ حکم عدولی  انسانیت کو تباہی کے دہانےپر لا کر کھڑا کر دےگی جیسے کوئی اناڑی کسی مشین کو اسکے تعلیمات کو یکطرف چھوڑ کرمن مانی انداز میں چلانے کی کوشش کرتا ہے تو حادثہ کا شکار ہو جاتاہے اسی طرح زندگی کی گاڑی کو خالقِ کائنات کے تعلیمات کے بغیر من مانی انداز میں آگے لینے کانتیجہ بھی تباہی ہے جن لوگوں کے اندر انارکی پیدا ہو جاتی ہے اس کی وجہ بھی بتائی گئی ہے جو بعد میں دوسروں کے حقوق سلب کر دیتی ہے اس لئے انسان اللہ کی طرف سے ملنے والی ڈھیل کو مکمل آزادی نہ سمجھےاور عذابِ اِلہٰی سے پہلے انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چائیے آخر میں ایک شبہ کا ازالہ بھی  پوری  وضاحت  کے ساتھ کی گئی  جو عذاب ِاِلٰہی سے تعلق رکھتا ہے ۔

دوسرا باب اسلام اور جاہلیت کے عنوان کے ساتھ بحیثیت مقالہ  ۲۳ فروری ۱۹۴۱ء کو مجلس اسلامیات، اسلامیہ کالج پشاور کی دعوت پر پیش کیا گیا۔اس مقالے کے ذریعےاس بات پر زور دیا گیا کہ انسان جو بھی کام، منصب یا صفات اختیار کر لیتا ہے وہ  اُس کے شعور میں ہوتے  ہیں کیونکہ  زندگی کے بنیادی مسائل کا ادراک ذہن میں متعین کیے بغیر آدمی  ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ مولانا نے اس کی تین مختلف صورتیں پیش کی؛   اول؛ انسان اپنے حواس کے اعتماد پر اپنی رائے قائم کر تا ہے، دوم؛ مشاہدہ حسی کے ساتھ  قیاس و وہم مِلاکر نتیجہ  اخذ کرنا اور سوئم  پیغمبروں کے براہِ راست علم تک رسائی کے دعویٰ پرتفصیلی  وضاحت کی ہے۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی کہ دنیا کوئی حادثاتی واقعہ نہیں ہے اگر کوئی ذہنی خلفشار کی بنیاد پر  اس کو ایک حادثہ قرار دیتا ہے تو گمراہی کے بہت سے دروازے اُس کےلئے کھل جاتے ہیں جن میں سب سے بڑا شرک ہے اس کے علاوہ رہبانیت ، ہمہ اوست جیسے فلسفے  کے گمراہ کن اثرات کی وضاحت کرکے انسان کو حاکمیت اِلہٰی کی صحیح پہچان کےذرائع پر گفتگو کی گئی۔ مولانا نے اسلام کے نظام زندگی کو مرکزی کردار کے طور پرپیش کیا ہے اور امپیریلزم ، ملک گیری،جنگ و فساد اور اقوام پرستی کے دینی اور دنیاوی نقصانات پر بھی بحث کی گئی ہےپھر اس طرح کی طرز زندگی  کے ذریعے جو علوم و فنون وجود پاتے ہیں اور اُن کےفلسفے سے انسان کبھی ترک دنیا اختیار کرتا ہے تو کبھی  چالاک لوگ نادان لوگوں سے خوب فائدہ اُٹھاتے ہیں اس باب میں اِن جاہلانہ فلسفوں کا واحد حل فلسفہ اسلام قرار دیا ہے اس پر پوری تفصیل سے  علمی مواددستیاب ہونے کی صورت میں اب چا لاک لوگ ہاتھ پاوں نہیںمار سکتے ہیں نہ ہی خود غرض انسان اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

اس مقالے میں جس با ت پر زیادہ زور دیا گیا  ہےوہ یہ ہے کہ مرکزی اقتدار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس میں تسلسل پایا جاتا ہے جو انسان کو انفرادی زندگی سے لے کر بین الاقوامی سطح تک خیر سگالی اور ہمدردی  کے بنیادوں پررہنمائی کرتا ہے۔ انسانی زندگی کے  جغرافیائی ، لسانی اور نسلی تقسیم  لاشعوری اور غیر عاقلانہ طرزکا مظہر ہےاور یہ تقسیم دین کے روح کے خلاف ہےاس سے انسان کےمسائل نہ حل  ہوتےہیں اور نہ اِن سے انسان کی حقیقت بدل  جاتی ہے مزید برآں کہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل طریقہ جو حالات کے بدلنے سے بدل نہ سکے اور جو ہر موڑ پر رہنمائی کرسکے اسلام کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے اس لیے مولانا نے  مذہب کے بدلے’’الدین ‘‘کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ اس کے ماننے والوں کے اخلاق پختہ اور ہمہ گیر اصولوں کے کاربند ہیں اور جو ذرائع اس زندگی کو فعال بنانے کےلئے ضروری ہیں وہ خواہش و عقل، مشاہدہ اور تاریخی ریکارڈ ہیں اس کے بر عکس تمام تر فلسفیانہ طرز عمل انسان کو غلط سلط، وقتی و مقامی اور نفسانی خواہشات کی روش میں ملوث کر دیتے ہیں۔ اللہ کے کلام سے استعفادہ کرکے اصل دین جو اُن کے ہاں قابل قبول ہے اسلام ہے اس کی فہم و ادراک کےلئے اللہ نے   لا محدود ذرائعےعلم  دنیا میں وارد کئے ہیں۔اس باب میں  خدائی نقطہ نظر کو حکمت و دانش سے تعبیر کرکے  تو ضیح و تشریح کی گئی اور آخر میں  معیا ر حق کو  غیر جانبدار، نسلی، لسانی اور جغرافیائی قعود سے ماورا کرکے  نیشلزم اور اس جیسے فلسفوں کو انسان سوز قرار دیا گیا۔

اگلا باب جس کا عنوان ’’ اسلام کا اخلاقی  نقط نظر‘‘بحیثیت ایک مقالہ  ۲۶ فروری  ۱۹۴۴ء کو اسلامیہ کالج  پشاور میں پڑھا گیا۔ اس مقالے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دنیا پستی میں ڈوبی ہوئی ہے کیونکہ اسلامی ا خلاقی نظام کا مسلم دنیا سے جنازہ نکلا ہواہےعصر حاضر میں ملک و قومیں جس کشمکش میں گھرے ہوئےہیںاب بڑے بڑے مجموعوں سے گزر کر فرد بھی اس کے شکار ہو چکے ہیں مولانا نے برملا اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ عصر حاضر میں خدا کو ماننے والوں کی اکثریت شرک میں مبتلا ہوئی ہے انہوں نے خدائی صفات  واختیارات یا تو دوسرے  ہستیوں میں تقسیم کئے ہیں یا پھر قانون اِلہٰی سے روگردانی کی ہےاس اخلاقی گراوٹ  کا فائدہ سامراجی قوتوں نے خوب اخذ کرلیا اور دانستہ طور پر ایسے فلسفے پیش کئے تاکہ من پسند انجمنوں کو وجود بخشا جائے  امریکن اتھیکل یونین اور اتھیکل یونین آف انگستا ن اسی نظرئے کی ایک کڑی ہے مولانا کا اسرار ہے کہ اِن انجمنوں کا بنیادی مقصد آخرت پسندی سے  روگردانی  اور سیکولر طرز زندگی کا فلسفہ  عام کیا جائے حالانکہ آخرت پسندی  جیسےاسلامی تصور، اخلاقیات کو  دوام  بخشتی ہے اور بنی نوع انسان کوانپی فطری حالت پر برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس اخلاقی نظام کو پائے تکمیل تک پہنچانے کےلئے ایک  صالح نظام اپنی منطقی انجام تک  لے جانے میں کارگر اور مفید ثابت ہو سکتا ہے جس کو عرف عام میں خلافت اعلیٰ منہج نبوت کہتے ہیں ۔ مولانا مودودیؒ نے۲۱ اپریل ۱۹۴۵ کو دارالاسلام  پٹھان کوٹ میں جماعت اسلامی  کے کُل ہند اجتماع کے آخری اجلاس میں ایک تقریرمیں انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اسلام  ہی ایک نظام  ہے جس کے پاس  اعلیٰ اخلاق  اور زندگی کے رہنمائی اصول ہیں۔جو اللہ کے نازل کردہ ہیں۔ اگر   حکو مت بدکردار اور بد اخلاق لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو زندگی کی گاڑی حادثہ کی شکار ہوگی مولانا  کے کہنے کے مطابق حکومت کی باگ ڈور صالح  لوگوں کے ہاتھوں میں ہونی چائیے اس لیے امامت صالحہ کے قیام اور نظامِ حق کی اقامت کو  مقصد حیات حاصل ہونی چائیے اور اس سے روگردانی کرنے والے زندگی اور دین کے حقیقی تصور کو پا نہیں سکتے اور نہ ہی اس کی تلافی نمازوں اور روزوں سے ہو سکتی ہے  اس مقصد حیات کو کیسے دوام حاصل ہو  اور باطل سے دوری کیسے ممکن ہو،اس کی پوری تشریح  اس کتاب میں موجود ہے اس کتاب میں  وضاحت ملتی ہے کہ جس کے دل میں  ایمان کی معمولی کرن بھی موجود ہے وہ نظام باطل سے اجتناب ضرور کرے گااور  نظام حق کےلئے جدو جہد ضرور کرے گا۔

اس مقصد کےلیے مولانا نے اصول بھی بیان کئےتاکہ حق آسانی کے ساتھ سمجھ آسکے۔ بنیادی انسانی اخلاق اور اوصاف حمیدہ(فاضی، رحم، ہمدردی، انصاف، امانت، اعتدال،شائستگی، طہار ت و نظافت اور ذہن و نفس کا انضباط ) جو اللہ نے تمام انسانوں کے اندر  ودیعت فرمائی اس سے  انسان اپنی فنی مہارت سے بھی ماحول کو اپنے گرویدہ بنا سکتا ہےجب کہ اسلامی اخلاقیات مولانا کے مطابق  بنیادی انسانی اخلاقیات کی تصحیح اور تکمیل قرار دیا ہے کیونکہ اس کا مقصد انسانون کو بندوں کی غلامی سے نکال کر  مسا وات اور اِلیک نسعٰی و نحفِدُ پر لاکھڑا کرنا ہےکیونکہ ہمارا مقصد حیات ایاک نعبد الک نصلی و نسجد اور یہ طرز عمل انسان کو اعلیٰ مقا م عطا کر کے انسانیت کے حقیقی مقصد کو دوام بخشتا ہے۔ مزید  وضاحت کرکے مولانا نے  بنیادی اور اسلامی اخلاق میں مادی اور روحانی فرق حسب ترتیب کی۔ محقق نے اسلامی اخلاق  کے چار مراتب؛ایمان، اسلام، تقویٰ اور احسان کو کامیابی کا راز قرار دیا ہے۔ اس کی وضاحت کےلئے سورۃ الانفال آیت ۶۵ کو بحیثیت مثال پیش کی گئی۔اِن یکن منکم عشرون صابرون یغلبوما ئتین: اگر تم میں سے بیس صابر آدمی ہوں تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے  یہاں مادی وسائل پرروحانی وسائل ترجیح دی گئی اور آخر میں سوالوں کا جواب  محققانہ انداز میں دیا گیا جو دین کے جزئیات میں سے ہیں جن کو  کل اسلامی نظام حیات سمجھا گیاہے۔

’’بناؤ و بگاڑ‘‘کا باب ۱۰ مئی ۱۹۴۷ء کو دارالاسلام نزد پٹھان کوٹ(مشرقی پنجاب) کی جلسہ عام میں کی گئی ایک تقریر  پر مبنی ہے یہ وہ دور تھا جب ہندوستان ایک آتش فشان کی کر پھٹنے  کےلئے تیار تھا جو تین مہینے  بعد ہی رونما ہو کر تواریخ کا بد ترین باب بن چکا ہے ۔یہ موضوع تواریخی  اعتبار سے بہت اہم ہے اس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بناؤ اور بگاڑ  انسان کے اپنے حدِاختیار میں ہے کہ وہ زندگی کے اس باغ کو کیسے بنائے یا کیسے بگاڑے۔ اصل میں  مولانا نے اس تقریر میں دنیا کو اللہ کی ملکیت قرار دیا اور  بعد میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو استعمال کرنے کے ابدی  حقوق  کچھ شرائط کے ساتھ عطا  کیے اب اس باب کی وضاحت کی گئی کہ جو بھی انسان  اس باغ کو  اِن شرائط کے ساتھ استعمال کرے ایسے لوگ اللہ کے نزدیک مستحق اور انتظام چلانے کے قابل مانے جاتے ہیں جب کہ سنت اِلٰہی یہ نہیں ہے کہ بناؤ کے بدلے بگاڑ ہی بگاڑ میں ملوث ہوپھر بھی ایسے لوگ مالکانہ حقوق کا حقدار ہیں اس کتاب میں مختلف مثالیں دے کر مولانا نے مالِکانہ حقوق کا اصل حقدار کی  تعریف اور  اُس کے طاقت کا اظہار قرآنی آیات  کی مددسے پیش کی ہے۔‘‘کہو کہ خدایا، مُلک کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے مُلک دیتا ہے جس  سے چاہتا ہے مُلک چھین لیتا ہے جیسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے (آل عمران:۲۶)

مولانا نے انگریزوں کو مثال بناکر پیش کیا ہے کہ جب تک اُن کے بناؤ کا طریقہ رائج تھا اللہ نے اُن کو سات سمندر پار ہندوستان پر حکومت کی باگ ڈور عطا کی لیکن جب اُن کے ذریعے بگاڑ کا کام آسمان کو  چُھونے لگا تو سنت اِلٰہی یہی رہا کہ وہ بگاڑ کو دفاع کرتا ہے اور اُن کو ہندوستان کی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑااس لئے اگر افراد یا اقوام کی اخلاقی حالت بگڑ جاتی ہے تو سُنت اِلٰہی اُسی انداز سے اپنا فیصلہ صادر کر دیتی ہے انسانی زندگی میں جن چیزوں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے اُن کو مولانا نے چار بڑے عنوانات میں منقسم کیا ہے ۱۔خدا سے بے خوفی۲۔ اللہ کی ہدایت سے بے نیازی۳۔خود غرضی ۴۔ جمود یا بے راہ روی اِن کی وضاحت کرکے انہوں نے کہا کہ اس کا لازمی نتیجہ قانون اِلہٰی کی روگردانی اور اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ اس کے بر عکس انہوں نے بناؤ کےلئے بھی چار اصول مرتب کئے ہیں ۱۔ خوف خُدا ۲۔خُدائی ہدایت کی پیروی  ۳۔ نظامِ انسانیت کا اِجرا  ۴۔عمل صالح ۔ اِن اصولوں کو بروئے کار لا کر انسان بدلاؤ کی اُمید، ماحول میں یکسانیت اور اخُوت اور انصاف پیدا کرسکتا ہے۔ جدوجہد انسانی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس سے ماحول میں تبدیلی کی اُمید اور حقوق انسانی کو اپنا مقام مل جاتا ہے جہاد فی سبیل اللہ اسی کی ایک کڑی ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ کا موضوع ۱۳ ؍اپریل ۱۹۳۹ء کو یوم اقبال کے موقع پر ٹاون ہال لاہور میں کی گئی ایک تقریر پر مُبنی ہے اس موضوع کو اصلاحی اور مذہبی بنیادوں پر پیش کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ  اسلام کو لفظ مذہب سے جدا کرکے زندگی کا مکمل نظامِ حیات پیش کیا گیا۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ اصل میں لفظ مذہب کچھ عقائد کا نام ہے اور جہاد کو مذہب سے وابستہ کرکے اس کی معنویت ختم ہو جاتی ہے اس کا فلسفہ ایک بے معنی سی چیز رہ جاتی ہے علاوہ ازیں جہاد کوئی دیوانگی کا نام نہیں ہے کہ دیوانہ ہو کر مسلمان تلوار اُٹھا کر  لوگوں کے سر تن سے جُدا کر دیتے ہیں مولانا کا اصرار ہےکہ جہاد کو بدنام کرنے کےلئے مغربی مفکروں کا بہت بڑا رول رہا ہے انہوں نے اسلامی جہاد کو عیسائی تصور مقدس جنگ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ تاریخ کے اندھیرےدور میں عیسائی قوم قتل و غارت میں مشغول رہی ہے مولانا کا اس بات پر سو فیصد اعتماد ہے کہ اسلام نہ ہی مذہب اور نہ کوئی قوم بلکہ یہ ایک عالمگیر  انقلابی دین ہے جس کا مقصد دنیا پر اِ لٰہی قانون کانفاذ ہے تاکہ انسانوں کو انسانوں کے چنگل سے آزاد کرکے ایک مساوی درجہ دنیا کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں تقویٰ اور پرہیزگاری کو اہمیت حاصل ہو۔ اس مقصد حیات کو حاصل کرنے کےلئے جہاد کا استعمال عمل میں لایا گیا ورنہ مختلف قسم کے لوگ جدوجہد کے حامل ہوتے ہیں اور اپنے  ذاتی مفاد کو حاصل کرنے کےلئے دوسروں سے برسر پیکار ہوتے ہیں۔اس کے بر عکس اسلامی جدوجہد کا بنیادی مقصد اللہ کےلئے لڑنا تاکہ کسی انسان کے حقوق پامال نہ ہوجائیں۔ قرآن وسنت سے استفادہ کرنے کے بعد پوری وضاحت کے ساتھ مولانانے  جہاد  بھی ’’فی سبیل اللہ ‘‘ کی قید لگائی کہ یہ جدوجہد اعلیٰ کلمتہ اللہ کےلئے ہے جس کا بنیادی مدعا اسلامی نظریے کی مطابق نیا نظام مرتب کرنا،نہ کہ اس کا مقصد  قیصر کو ہٹا کر خود قیصر بن جانا بلکہ بندگان خدا کے درمیان ایک عادلانہ نظام ِ زندگی قائم کیا جائے (ص:۲۱۰)

اس کتاب کے اندر مولا نا نےبتایا کہ اسلامی دعوت کا بنیادی مقصدیہ ہے کہ  لوگ صرف  اپنے رب کی بندگی کریں   دنیا کے عام انقلابی لیڈروں نے جو انقلاب برپا کئے وہ انصاف، عدل اور توسط کے صحیح مقام کو حاصل نہ کر سکے وہ یا تو خود مظلوم تھے یا مظلوم عوام کی آواز لے کر اُٹھے تھے اس کے برعکس اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور اسلامی جدوجہد کا مقصد دنیا سے تمام ظالمانہ اور مفسد نظام کو  اُکھاڑ کر ایک صالح نظام کا قیام ہے اس لئے یہ بات حد درجہ آسان ہوگئی کہ جنگ کےلئےجو جارحانہ اور مدافعانہ اصطلاحیں استعمال کی گئی اُن  کا اطلاق اسلامی جہاد پر سرے سےنہیں ہو تا  بلکہ یہ اصطلاحیں قومی یا  ملکی لڑائیوں کےلئے منطبق ہوتی ہیں۔ مولانا نے جس جہادی تصور کی منظر کشی کی، فی الحال  دنیا میں کہیں دِکھائی نہیں دیتا ہے بلکہ خود مولانا کے مطابق اس تصور کو دھند لا کرکے مسلمانوں کی توجہ تعویز گنڈوں، مراقبوں ،ریاضتوں اورمصلحتی سیاست کی طرف مبذول کرائی گئی تاکہ  اصل چیز سے بے خبر رہیں اور نتیجتاً  اسلام کی کل اصلیت اور اصول کو لپیٹ کر تاریک گوشوں میں دفن کیا گیا۔

’’اُمت مسلمہ کا فرض اور مقصد وجود ‘‘ اس باب میں یہ بات باور کرنے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور جس خالق، مالک اور حاکم کا ئنات نے  اُن کو پیدا کیا اور جو اپنے اندر کمال درجے کی حکمت، قدرت اور رحمت کا فرماں روائی کر رہا ہے اس باب میں مولانا نے دو اہم نقطوں کی طرف اشارہ کیا ہے  کہ اس باب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ایک حصہ جماعت کے کارکنوں کےلئے کہ وہ دعوت دین میں کہاں کھڑے ہیں اور ابھی آگے بڑھانے کےلئے کون سی حکمت درکار ہے دوسرا حصہ عام  انسانوں خاص کر غیر مسلموں کےلئےہے تاکہ وہ ہماری دعوت کو سمجھیں اور کس چیز کی طرف ہم بُلاتے ہیں اس عنواں کےلئے پہلے قرآن و سنت سے استعفادہ کیا گیاہے اور بعد میں شہادت حق کے مفہوم کی وضاحت کی گئی ادائے شہادت کا طریقہ ایک نازک ترین ذمے داری  ہے جس کو ادا کرنا ہم سب کا فرض ہے اس ادائے حق کو قولی شہادت  اور عملی شہادت میںمنقسم کرکے اس کے آثار و رموز کو واضح کیا ہے اس مقصد کو سمجھانے کےلئے کچھ مغربی مفکروں کے کتابوں کا حوالہ بھی دیا گیا جنہوں نے سامراجی دور میں اسلامی قوانین کی بیخ کنی کےلئے مسلم پرسنل لا کو اجرا کیا تھا ۔جس انداز کی گواہی دورِ حاضرمیں دے رہے ہیں اس کا حاصل عذاب الہِٰی کے سِوا کچھ بھی نہیں۔

جب بھی قوموں نے کتمانِ حق اور شہادت زُور کا طرز عمل اختیار کیا تو عذاب اِلہٰی کے مرتکب ہو گئے ہیں بنی اسرائیل   شہادت زُور کے مرتکب ہو کرعذاب اِلہٰی کے شکار ہوئے ہیں اور اُمت مسلمہ کوئی خاص نہیں اور نہ ہی اِ ن کی اللہ کے ساتھ کوئی خاص رشتہ داری  ہے جس کی وجہ سے غلطیوں کے با وجود اُن پر عذاب الٰہی   نازل نہ ہوگا۔ اس بات پر تاکید کی گئی کہ کہاں کہاں پر خرابی ہے اس کا علاج ضروری ہے ورنہ خمیازہ بُھگتنے کےلئے  تیار رہنا چائیے مولانا نے قدرے استدلال کے ساتھ وضاحت کی کہ اس خرابی کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے بعض مذہبی پیشوا اور سیاسی رہ نما ؤں کے معاملے کی ناسمجھی ہے یہی رہنما قوم کو غلط راہ پر لے جاکر اصل مسئلے پر پردہ داری کر رہے ہیں کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کی حقیقی معرفت سے نا بلد رکھ کر قوم کو گمراہی کی طرف ہانک رہے ہیں اس لئے اپنے نصب العین کا تعین کریں  اور من حیثُ اُمت اپنے اندر اجتماعیت اورصحیح اسلامی تصور پیدا کریں تاکہ اجتماعی زندگی سے کفر ناپید ہوجائے۔

اس اجتماعی زندگی کی مزید وضاحت کرکے مولانا نے  احادیث نبویﷺ سے استفادہ کیا ہے تاکہ اجتماعیت کا صحیح ادراک اور فہم حاصل ہو جائے آخر میں مولانا نے اپنی جماعت کے طریقے اور طرز عمل کو ہماری دعوت  و لائحہ عمل  کے عنوانات سے وضاحت کرکے  اُمت  مسلمہ کو مشورہ دیا کہ وہ اس میں شامل ہوجائیں یا پھر اس  سے بہتر جماعت کو تلاش کریں یا پھر ایسی جماعت قائم کریں جو مکمل دین کی طرف دعوت دےرہی ہو۔ مولانا کا اصرار ہے کہ اگر ہمیں بھی اپنی جماعت سے بہتر کوئی جماعت مِلے تو  جماعت اسلامی بھی اُس میں مدغم ہو کر اعلٰی کلمۃ اللہ کی کوشش کرے گی۔اس کے ساتھ ساتھ مولانا نے  اُن الزامات و اعتراضات کومحققانہ انداز میں جواب دے کر اُن کو تعصب اور مہمل قرار دے دیا۔مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل کے باب میں اِن حقائق کو اُجا گر کیا گیا ہے جو ہماری تواریخی اہمیت  کے حامل ہیں اور اُن حقائق کو  عصرِ حاضر میں اُبھارنے کی ضرورت  ہےاور یہ مستقبل  کی راہ فراہم کر سکتی ہے اس باب میں مختلف سوالات   سامنے لائے گئے ہیںتاکہ ملت کے اندر اس وقت جو جو بیماری پائی جاتی ہے اُن کا علاج کیا جائے  جو  وقتی نہیں  بلکہ ایک مستقل علاج  ہو علاوہ ازیں جماعت کے عالمگیر مقصد کی قدرے تفصیل  پیش کی گئی ہے جس کا نچوڑ یہ ہے۔

’’ ہر اس نظامِ زندگی کو مِٹا یا جائے جس کی بنیاد خدا سے خود مختاری اور آخرت سے بے پر وائی اور انبیاؑ علیہم السلام کی ہدایت سے بے نیازی ہو، کیوں کہ وہ انسانیت کےلئے تباہ کن ہیں اور اس کی جگہ وہ نظامٗ زندگی عملا قائم کیا جائے جو خدا کی اطاعت، آخرت کے یقین اور انبیائے علیہم السلام کی اتباع پر مبنی ہو، کیونکہ اس میں انسانیت کی فلاح ہے (ص: ۲۵۷-۲۵۸)

اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ہندوستان  میں اسلام کبھی بھی منظم انداز میں نہیں پھیلا بلکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسلام کوایک رسم کے طور پر پیش کیا گیا جس کی وجہ   سےجتنے بھی لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اُن کے اندر جاہلانہ رسوم  ابھی بھی موجود ہیں اس باب  میں اس بات کی تشریح کی ہے کہ اسلام کے گھر کی منتظم اور متولی  بند گانِ خدا کی تعلیم ، تربیت، ذہنی اصلاح اور زندگی کے تزکیے کا کوئی کام نہیں کر رہے ہیں اس کی بنیاد ی وجہ اِن لوگوں نے من پسند چیزوں کے پڑھنے اور پڑھانے میں عمریں گزار کر نہ قرآن و حدیث کے ساتھ خود ذوق رکھا اور نہ دوسرے لوگوں میں پیدا کیا اس کا نتیجہ اخلاقی حالت میں بگاڑ پیدا ہوگیا حالانکہ اخلاقیات کا فطری نظریہ ہے کہ انسان جس عقیدہ کا حامل ہے اس پر پورا اُتر کر اس کے مقصدِ حیات کو دوسروں تک پہنچادے نہ کہ اجرت کا سپاہی بن کر اپنی نسلوں کو تباہی کے دہانے  پر پہنچادے۔

جب مسلمانوں کے اخلاق میں ضعف پیدا ہوا تو دوسری قوموں نے اُن کے  اوپر حکومت کی اور مسلم مفاد پرستو ں نے مصلحت پسندی کو اختیار کرکے جزئیات دین کو کلیات دین  بنا کر پیش کیا اس لئے مولاناکا موقف ہے کہ جب قومیں ذہنی غلامی اختیار کرتے ہیں تو وہ زیادہ دیر تک آزاد نہیں رہتےکیونکہ اس طرز زندگی سے وہ  مفلوج اور بے حسی کے شکار ہو جاتے ہیں مزید برآں کہ  مغربی تہذیب کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے پہلے یورپ کے نشاۃ ثانیہ کا تصادم عیسائی مذہب سے ہوا تو نئے یورپ نے مادہ پرستانہ فلسفہ  پیش کرکے اقوام عالم کو گرویدہ بنا دیا اور ہر وہ باب غلط ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی جس کی تکمیل وحی پر مبنی ہے جن لوگوں نے  نشاۃ ثانیہ کی داغ بیل ڈالی اور تمام مادہ پرستانہ اصول مرتب کئے اُن میں ہیگل کا فلسفہ تاریخ، ڈارون کا نظریہ ارتقاء اور مارکس کی مادی تعبیر وتاریخ بہت اہم ہےاور اپنے مخصوص سیاسی نظریہ سیکولرزم کی شکل میں نیشلزم اور جمہوریت کی بھر پور تبلیغ کی۔اِن جدید  فلسفوں نے  زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کیا ہے پہلے تعلیم پر اپنے اثرات مرتب کئے پھر اخلاقی معیارات کو مکمل بدل کر نئے سجے سجائے اخلاقیات کا علم پیش کیا ۔ مسلم دنیا    اپنی اخلاقی اقدار کھو کر  نت نئے قومی اور جغرافیائی مصلحت  اپنا کر  دو حصوں میں منقسم ہوگئے ایک گروہ  علانیہ مغربی اقدار میں بہہ گئے اور دوسرا گروہ جمود کا شکار ہوکرمذہبی اصولوں کے بدلے روایتی طریقہ کار  پر تکیہ لگا کرنقصانات کے مختلف دروازے کھول دئیے۔ اِن میں سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مذہب اور سیاست کو الگ کرکے مسلم قیادت دنیا سے بے دخل  ہو تےگئے اور آہستہ آہستہ خرابی کا دائرہ وسیع تر ہو گیا ۔ اِن حالات سے نِمٹنے کےلئے مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو یک سو ہو کر کام کرنے اور لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت پر واضح دلیل پیش کی۔

اس کتاب کا آخری باب ’’ اسلام کا نظام حیات  ‘‘ کو پانچ ذیلی اکائیوں  میں منقسم کیا ہے جو کسی قوم یا مذہبی جماعت کےلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سب سے پہلےاسلام کے نظامِ اخلاق کی تشریح اس کو انسانیت کا فطری حس قرار دیا ہے کیونکہ اس کے ذریعے  انسان بعض صفات کو پسند اور بعض کو نا پسند کرتاہے یہ اوصاف حمیدہ؛ سچائی، انصاف، پاس عہد اور امانت کو ہمیشہ سے انسانی اخلاقیات میں تعریف کا مستحق قرار دیا ہے  اس کے بر عکس اوصاف رذیلہ مثلاً جھوٹ، ظلم، بد عہدی اور خیانت کو کبھی  پذیرائی حاصل نہیں ہوئی ہے۔یہ اس لئے کہ نیکی اوربدی دونوں اللہ نے انسان کے اندر الہامی طور ودیعت کی ہے۔ قرآن مجید کے زبان میں ’’فألھمھافُجورھاوتقوئٰھا‘‘(سورۃ الشمس:۸)الہامی طور پر عطا کی ہے۔دنیا کے مختلف  نظاموں نے اخلاقی اقدار کو کہیں لِسانی  تو کہیں جغرافیائی یا پھراس ذات پات اور کاروباری طرز عمل پر استوار کئے ہیں جس کا لازمی  نتیجہ  زمان و مکان کی قید  میں  رہ کر دوسروں کے حقوق سلب کرنا جب کہ اسلامی اخلاقی قدریں رضائی اِلہٰی کو معیار بنا کر اخلاقی نظام میں خیر و شر کو پرکھ کر فیصلہ کرتاہے۔ اس باب میں مولانا  کے مطابق معیار دینے کے ساتھ اسلام تصور کائنات و انسان سے اخلاقِ حُسن و قبیح کے علم کو ایک مستقل ذریعہ  فراہم کرتا ہے جو انفرادی زندگی سے لے کر بین الاقوامی سیاست کے بڑے بڑے مسائل تک رہنمائی فرماتا  ہے۔

بعد ازاں اسلامی نظامِ اخلاق کی تین امتیازی خصوصیات پیش کئے ہیں جن میں پہلی خصوصیت رضائے اِلہٰی، دوسری اسلامی اخلاق کلی طورپر  زندگی کا معیار بننا اور تیسری خصوصیت کہ انسانیت کا ایسے  نظام زندگی کا مطالبہ جو معروف پر قائم اور منکر سے پاک ہو اس کے بعد اسلامی سیاسی نظام کی بنیاد تین اصولوں توحید، رسالت اور خلافت پر رکھی گئی ہے جس کا نچوڑ توحید کا بنیادی مقصد حاکمیت اِلہٰی  ہےکیونکہ وہی قانون داں ہے اور  جب کہ رسالت کا کام قانون اِلہٰی کو بندوں تک پہنچا نا اس لئے اسلامی قانون کا منبع کتاب اِلہٰی ہے جب کہ رسالت اس کی تشریح ہے اور خلافت جو کہ نائبیت ہے اس کےلئے رائج کرنے کا واحد ذریعہ ہے اس ذیلی باب میں اسلام اور جمہوری نظام کے درمیان تقابلہ کرکے  یہ فرق واضح کی گئی ہے کہ اسلام کا سیاسی نظام ایک فعال ، پائیدار اور انصاف پر مبنی ہے جو بھلائی کو اُبھار تا ہے اور بُرائی کو روکتا ہے۔اس نظام میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے حقوق محفوظ ہیں اور اس نظام کے اندر عدلیہ مکمل آزاد ہے اور انسانی نظام کے بدلے براہِ راست خدا کی نمایندہ اور جوابدہ ہے۔

اس کے بعد معاشرتی نظام کی بنیاد نظریہ ؛اخوت اور بھائی چارہ پر رکھی گئی ہے کیونکہ انسان کی ایک ہی نسل ہے جو ایک وحدتِ تصور کو تکمیل کےلئے پیش کیا گیا ہے گرچہ موسمی بدلاو اور جغرافیائی حد بندیاں  اِن کے اندر مختلف طریقے اختیار کرنے پر مجبور کیے گئے۔ مولانا کا دعویٰ ہے کہ اسلام میں بھید بھاؤ، رنگ و نسل، وطن اور زبان کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے جب کہ اسلام خیالات میں فرق کو کچھ حد تک قبول کرتا ہے یہ انسانی معاشرہ ایک عالمگیر برادری کو قائم کرنا چاہتا ہے اس کے لئے اسلامی اصول کا نظریہ اخلاقی درس دیتا ہے اگر مشرق کے رہنے والے کو زخم لگے تو مغرب میں رہنے والا اس کا درد محسوس کرتا ہے اس معاشرے کی بنیاد خاندان سے شروع ہوکر تمام عالم میں محبت، ایثار، دلسوزی اور خیر خواہی پر مُبنی  ہے اس معاشرے میں  مرد کی اپنی منصبِ ذمہ داریاں ہیں اور عورت کی اپنی ذمہ داریاںہیں اسلام نے حد بندیوں کو کھڑا کرکے آزادانہ میل ملاپ اور بے راہ روی پرروک لگائی۔ اسلام ایک ایسا  صالحہ نظام چاہتا ہے جس میں امن و سکون  کے ساتھ آشتی ہو اور جو آشفتگی کے آلات  ؛موسیقی  و تصاویر کشی پر پابندی ہو، فواحش کی اشاعت نہ ہو اور بے راہ روی سے مکمل پاک ہو ۔

اس کتاب کے اس آخری باب میں رشتے داری کے تعلق کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی بہت کچھ تعلیمات ملتے ہیںآخر میں سات ایسے مضبوط اصول قرآن و سُنت کے حوالے سے پیش کئے گئے جو رہتی دنیا  تک عقلمندوں کے لئے مشعل راہ بن سکتے ہیں اسلامی اقتصادی نظام پر گفتگو کی گئی اور اسلام کے آفاقی نظامِ معیشت کے اصول مستقل طور پر قائم رہنے کےلئے قیود اور حدیں مقرر کی گئی ہیں جن کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہیں۔ اس ذیلی باب میں اس چیز کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اسلام شرعی طریقوں سے حاصل ہونے والی دولت اور مالکانہ حقوق کو تسلیم کرتا ہے اسلام کا بنیادی مقصد  اقتصادیات کو بےلگام نہیں بلکہ ایک  روحانی دائرہ کے اندر شرعی طریقے علاوہ ازیں فرد اور جماعت کے درمیان توازن قائم کرکے حلال ذریعے سے کمائی ہوئی دولت کو  اپنا مقام  ،قانون وراثت، سرمایہ داری اور جاگیر داری نظام کے بارے میں مکمل وضاحت  ملتی ہے اسلام کے روحانی نظام کی تفصیل پیش کرتے ہوئے  اس کے تصورات اور دوسرے مذاہب کے تصورات میں  فرق کرکے موضوع کے ساتھ انصاف کیا گیا اس بات پر زور دیا گیا کہ  جدید نظامِ اقتصاد نے روحانی زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا اور انسان کے لئے مادی نعمتوں کا   دلدادہ بنا کر اس کے روح اور جسم میں تفریق پیدا کردی اور روح کو سُن کر دیا۔ اس کے  بر خلاف اسلام نے انسانی روح و جسم کا مرکب پیدا کرکے زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے تاکہ انسان اپنی فطری خصوصیات کو استعمال کرکے اپنی قابلیتوں کا اظہار کرکے  رہبانی اصول کو مسترد کرکے فلاح و کامرانی کا موجب بن جائے۔

مولانا نے دین و دنیا کو ایک   مرکب  پیش کرکے دونوں کا دائرہ عمل ایک مقرر کیا ہے اس کتاب کا اختتام چند مبادی  روحانی اصولوں سے کیا گیا جس میں پہلا اصول ایمان باللہ  ہے  اس کا ثمر دوسر ے اصول ،اطاعت پر مدار ہے  اس کا  حاصل تیسری منزل یعنی تقویٰ ہے اور پھر چوتھی منزل  جو احسان پر مبنی ہے حاصل ہو جاتی ہے یہ اصول مرتب کرنے کے بعد مولانا نے اس طرح کے روحانی ترقی کو فرد سے لے کر جماعتوں اور قوموں کےلئے  انمول قرار دیا ہے اس روحانی  ترقی تک پہنچنے کےلئے چار بنیادی  ارکان  ؛ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج  پرعمل کرنا ضروری ہے۔ نفس پرستی سے آزاد ہو کر خُدا پرستی کی منزل ِ مقصود تک رسائی حاصل ہوجائے اور انسانوں کےلئے دنیا و آخرت میں فلاح وکامرانی یقینی حد تک ممکن ہو سکے۔مولانا مودودی ؒ کی یہ کتاب  اسلام کے آفاقی اصول اور نظام کی بھر پور ترجمانی کرتی ہے اس کتاب سے مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی اسلام کے آفاقی پیغام کا صحیح ادراک حاصل کر سکتا ہے اگر  اسلام کے مخالف بھی تعصب کی عینک اُتار کر اٗس کا مطالعہ کریں تو وہ اسلام کے نظام زندگی کو ہی مبنی برحق قرار دیں  گے اور استفادے سے  دریغ نہیں کریں گے۔

جولائی 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau