اپنے بچوں کو اچھا پڑوسی بنائیں

والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کی بہترین تربیت کریں اور انفرادی صلاحیتوں کے علاوہ اس کے اندر اعلی سماجی خصوصیات کو بھی نشو و نما دیں۔ بچہ اپنے ذاتی نفع و نقصان کے ساتھ دوسروں کے نفع و نقصان کے سلسلے میں بھی حساس اور فکر مند ہو۔ وہ اپنے گھر میں بھی اور اپنے سماج کے لیے بھی رحمت کا فرشتہ ہو۔ اس کی خیر پسندی اور خیر خواہی اپنی ذات کے دائرے سے آگے بڑھ کر پورے سماج میں پھیل جائے۔ دوسرے لفظوں میں بچے کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ اچھی اولاد ہی نہیں اچھا پڑوسی بھی بنے۔

محلہ یا سوسائٹی اکثر بچوں کے لیے گھر کے بعد پہلا بیرونی ماحول ہوتا ہے۔ گھر سے باہر بچے کی پہلی دوستی پڑوس کے بچے سے ہوتی ہے۔پڑوس ہی سے وہ بنیادی سماجی صلاحیتیں سیکھنا شروع کرتے ہیں، جیسے بات چیت کا سلیقہ، ہمدردی ، احترام ، ملنساری ، باہمی تعاون اور انسانیت کے دیگر بہت سے اصول واقدار۔ جب ہم بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہے تو بچے سماجی ذمہ داریاں بخوبی نبھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس بات پر زور دیں گے کہ بچوں کو اچھا پڑوسی بننے کی تعلیم دینا ضروری ہےاور والدین اس کے لیے وہ بہتر سے بہتر طریقے اختیار کریں جن سے ان کے بچوں میں اعلی سماجی صلاحیتیں نشو و نما پائیں۔

بچوں کو پڑوسیوں سے حسن سلوک کی تعلیم کیوں دی جائے؟

(الف ) اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے ،جو انسان کے معاشرتی تعلقات اور باہمی رویوں کو سنوارتا ہے۔ انہی تعلقات میں ایک اہم رشتہ پڑوسی کا ہے۔ پڑوسیوں سے حسن سلوک کا حکم قرآن و احادیث میں تاکید کے ساتھ کئی بار آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حق کے بارے میں اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے“(بخاری و مسلم)۔

والدین کو بچوں کی عام دینی تربیت کا تو خیال رکھنا ہی چاہیے لیکن جن معاملات پر خصوصی توجہ دلائی گئی ہو ان کے تئیں خصوصی تربیت بھی کرنی چاہیے ۔

(ب) مختلف ماہرین نفسیات نے اپنی تحقیق پیش کی کہ پڑوسیوں کا بچوں پر کیا اثر پڑتا ہے اور پڑوسیوں سے بچوں کا میل جول ہونا کیوں ضروری ہے۔ مثال کے طور پر یوری برونفن برینر کی تھیوری ماحولیاتی نظریہ ایک مشہور تحقیق ہے جس میں بڑے ہی منظم انداز میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ایک بچے پر اپنے آس پاس کے ماحول کا کیا اور کتنا اثر ہوتا ہے۔ اس اسٹڈی میں پڑوسیوں کا بھی شمار ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات ایک طرف پڑوسیوں سے شخصیت اور کردار پر ہونے والے اثرات کو بیان کرتے ہیں تو دوسری طرف بچوں کے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کی اہمیت بھی اجاگر کرتے ہیں۔

(ج) سوشل سائنس میں انسانوں کے آپسی تعلقات اور ان پر اطراف کے ماحول کے اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس میدان کے ماہرین بھی پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کی اہمیت بتاتے ہیں کہ ایک کامیاب معاشرہ پڑوسیوں اور کمیونٹی کے مضبوط رشتوں پر کھڑا ہوتا ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ بچوں کی سیکھنے کی اصل بنیاد سماجی تعلقات ہیں۔ وہ دوسروں (ماں باپ، اساتذہ، یا پڑوسیوں) سے سیکھتے ہیں۔بچوں کو کمیونٹی کا حصہ بننے کی تربیت دینا ان کے مستقبل کے لیے ضروری ہے ۔

(د) ماہرین لسانیات کا ماننا ہے کہ بچوں کی لفظیات (vocabulary)صرف ان کے والدین کی وجہ سے نہیں بڑھتی بلکہ گھر سے باہر آس پڑوس میں ، محلہ یا سوسائٹی میں مختلف لوگوں سے ملنے جلنے سے بچے مختلف زبانیں ، تلفظ اور لب و لہجوں سے متعارف ہوپاتے ہیں۔

(ھ) بچوں میں خود اعتمادی کی کمی ہو یا گھر کے باہر لوگوں سے میل جول اور گفتگو میں شرم محسوس ہوتی ہو تو والدین پڑوسیوں کے بچوں سے دوستی کرواکر ان کی اس دقت کو آسانی سے کم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔

(و) پڑوسیوں کا آپسی تعلق اگر کسی وجہ سے بگڑتا ہے تو اس کی ایک وجہ بچے بھی ہیں۔ بچوں کی وجہ سے تعلق بنتا بھی ہے اور بچےتعلقات کی خرابی کا سبب بھی بنتے ہیں ۔ اس لیے بچوں کو یہ سکھانا اہم ہے کہ پڑوسیوں سے اور ان کے بچوں سے کیسے برتاؤ کریں۔

پڑوسیوں سے ہمارا قرابت داری کا رشتہ نہ ہو تو بھی زندگی میں ان کی اہمیت کسی طور سے کم نہیں ہے۔ گھر کا دروازہ کھولنے پر جو دوسرا دروازہ نظر آتا ہے وہ انہی پڑوسیوں کا ہوتا ہے جن سے لگاؤ ، خوشی اور احساس تحفظ کی توقع ہوتی ہے اور یہی سب جب ہم بھی انھیں دیتے ہیں تو ایک خوشگوار ماحول بنتا ہے۔ اگر پڑوس کا ماحول شخصیت سازی کے لیے تعمیری اور خوش گوار ہو تو بچے زیادہ خوش اخلاق، ہمدرد اور پراعتماد بنتے ہیں، اور اگر یہ ماحول ساز گار نہ ہو تو بچے کی سماجی تربیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے والدین مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرکے اپنے بچوں کو اچھا پڑوسی بننے اور پڑوسیوں سے بہتر سلوک کرنے کی تربیت دےسکتے ہیں۔

بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین اور بڑوں کو کرتے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ دیکھیں گے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھتے ہیں، ان کی خیریت دریافت کرتے ہیں، خوشی اور غم کے موقعوں پر ان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، تو وہ بھی یہی رویہ اپنائیں گے۔ اس طرح بچے اپنے بچپن ہی سے ہمدردی، ایثار اور تعلقات کی اہمیت کو سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ عملی طور پر اپنے رویوں کے ذریعے یہ سبق دیں کہ پڑوسیوں کا احترام اور ان کی خبرگیری ایمان کا حصہ ہے اور ایک اچھے مہذب انسان کی پہچان بھی ہے۔

اگر کوئی نیا پڑوسی محلے یا سوسائٹی میں آ رہا ہو یا کوئی پرانا پڑوسی کہیں اور منتقل ہو رہا ہو تو ان سے ضرور پوچھیں کہ انہیں کسی مدد کی ضرورت ہے اور جہاں تک ممکن ہو ان کی مدد کریں۔ ساتھ ہی اپنے بچوں کو بھی اس عمل میں شریک کریں تاکہ وہ دوسروں کی خبرگیری اور تعاون کرنا سیکھیں۔ اس طرح بچے سیکھتے ہیں کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک اہم سماجی اور دینی ذمہ داری ہے۔

بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ کب باہر کھیلنا مناسب ہے اور کب نہیں۔ انہیں سمجھائیں کہ اگر کوئی آرام کر رہا ہو، بیمار ہو یا کسی کے گھر میں ننھا بچہ سو رہا ہو تو شور شرابہ کرنا درست نہیں ہے۔ کھیل کود کے وقت اور جگہ کا خیال رکھنا نہ صرف پڑوسیوں کے آرام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ اچھے اخلاق اور ذمہ داری کا بھی حصہ ہے۔ اس طرح بچے سیکھتے ہیں کہ دوسروں کی سہولت کا احترام کرنا اچھے پڑوسی اور مہذب انسان کی نشانی ہے۔

اپنے بچوں کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے کہ چیزیں بانٹنے (Sharing) کی عادت کیوں اہم ہے۔ انہیں سمجھائیں کہ کھلونے، کتابیں یا دیگر چیزیں دوسرے بچوں کے ساتھ بانٹنے سے محبت، دوستی اور بھروسہ بڑھتا ہے۔ جب بچے اپنی چیزیں دوسروں کو دیتے ہیں تو وہ ایثار اور قربانی کا جذبہ سیکھتے ہیں، اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خوشی صرف چیزیں جمع کرنے میں نہیں ہے بلکہ دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں بھی ہے۔ اس طرح بچے چھوٹی عمر سے ہی ہمدردی اور ملنساری سیکھتے ہیں۔

اپنی سوسائٹی یا محلے کے بچوں کے لیے اپنے گھر میں کھانے کی دعوت کا اہتمام کریں۔ اس موقع پر ان کے لیے کھلونوں یا دلچسپ سرگرمیوں کا بھی انتظام کریں تاکہ سب بچے خوشی خوشی یادگار وقت گزار سکیں۔ اس طرح آپ کے بچے سیکھیں گے کہ دوسروں کو اپنے گھر بلانا، ان کی خاطر مدارت کرنا اور مل جل کر کھیلنا اور خوشیاں بانٹنا نہ صرف دوستی کو بڑھاتا ہے بلکہ اچھے تعلقات قائم کرنے کا بہترین طریقہ بھی ہے۔

اپنی طرف سے محلہ یا سوسائٹی کے بچوں کے لیے کوئی مقابلہ منعقد کریں، جیسے ڈرائنگ ، مطالعہ، کھیل، نظم یا سورت کی تلاوت، یا اسپیل بی وغیرہ۔ ان مقابلوں کے اختتام پر بچوں کے لیے تحفوں اور انعام کا بھی انتظام رکھیں، بڑوں کی طرف سے نتائج کے اعلان کے بعد بچے ہی آپس میں ایک دوسرے کو یہ انعامات تقسیم کریں تاکہ وہ ایک دوسرے کی صلاحیت کو قبول کرنا ، سراہنا اور ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوشی منانا سیکھیں ۔

اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ ہمیں تمام مذاہب اور ان کے ماننے والوں کا احترام کرنا چاہیے۔ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔بچوں کو سمجھائیں کہ پڑوسیوں کے ساتھ ان کے مذہب کے بارے میں بحث و تکرار میں پڑنا درست رویہ نہیں ہے، اس کے بجائے وہ حکمت کے ساتھ ، اچھے کردار اور اچھے گفتار کے ذریعے اسلام کی تعلیمات دوسروں کے سامنے پیش کریں۔ اگر محلہ یا سوسائٹی میں کوئی چھوٹا بڑا مندر ، گرجا گھر ، گرودوارہ وغیرہ ہو تو بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام کرنا اسلام کی تعلیم ہے۔ ان عبادت گاہوں کے سامنے ہنگامہ اور شور نہ کیا جائے اور نہ ہی ان میں موجود مورتیوں اور دیگر چیزوں کو کسی طرح کا کوئی نقصان پہنچایا جائے ۔ اس طرح بچے باعزت اور قابل احترام مسلمان بنتے ہیں اور حقیقی معنوں میں اسلام کی صحیح نمائندگی کرتےہیں ۔

بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی بھی طرح کا چھوٹا بڑا کوڑا کرکٹ ادھر اُدھر پھینکنے کے بجائے ہمیشہ کوڑے دان ( ڈسٹ بن) میں ڈالیں۔ انہیں سمجھائیں کہ گندگی پھیلانے سے نہ صرف ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ صحت کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ صفائی رکھنے سے نہ صرف ہمارا گھر بلکہ پوری سوسائٹی صاف ستھری اور صحت مند رہتی ہے۔ اس عادت کے ذریعے بچے یہ سیکھتے ہیں کہ معاشرے کو صاف رکھنا سبھی کی ذمہ داری ہے اور وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں اپنا رول ادا کرسکتے ہیں ۔

اگر کسی بچے سے آپ کے بچے کا جھگڑا ہوجائے یا کوئی شریر بچہ یا بچوں کی ٹولی آپ کے بچے کو تکلیف دے تو آپ کو چاہیے کہ صبر و حکمت اور خوش اسلوبی کے ساتھ معاملہ حل کریں۔ اس کے لیے سب سے پہلے اپنے بچے سے دوستانہ تعلقات مضبوط کریں اور اسے احساس تحفظ فراہم کریں اور اگرآپ کے بچے کی طرف سے ابتدا ہوئی ہو تو اسے سمجھائیں کہ دوبارہ ایسا نہ کرے۔ پوری کوشش کریں کہ بچوں کے درمیان کوئی جھگڑا طول نہ پکڑے۔ اپنے بچے کی بے جا مدافعت کے بجائے متعلق بچوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ بات چیت کرکے معاملہ رفع دفع کریں۔اگر اس کے بعد بھی بچے کو ستانے کا سلسلہ نہ رکے تو کچھ دنوں کے لیے بچے کو گھر میں ہی روکیں اور باہر اپنے ساتھ لے کر جائیں۔ ضرورت پڑنے پر متعلق بچوں کے گھر والوں سے خوش اسلوبی سے گفتگو کریں لیکن اس طرح کہ بہتر نتیجہ نکلے اور بات مزید خراب نہ ہوجائے۔ ایسا بہت ہوتا ہے کہ بچوں کے معمولی معاملات کو لے کر بڑوں کے تعلقات بہت زیادہ خراب ہوجاتے ہیں۔
اپنے بچوں کو یہ تربیت دیں کہ وہ کبھی دوسروں کو نہ چھیڑیں ، نہ تنگ کریں اور نہ ہی کسی مارپیٹ میں شامل ہوں۔ اس کے علاوہ بچوں کے اندر صلح و مصالحت کے ہنر کو بھی پروان چڑھائیں تاکہ اگر پڑوسی بچوں کے ساتھ کسی بات پر ان بن ہوجائے تو وہ خود ہی تعلقات کو خوش گوار کرلیں ۔

بچوں کو پڑوس کے حدود و آداب سکھانا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہیں سمجھائیں کہ دوسروں کے گھروں کے سامنے زور سے چیخنا چلانا یا اونچی آواز میں بات کرنا درست نہیں ہے۔ اسی طرح پڑوسیوں کے سوکھتے کپڑے کھینچنا، پودوں کو نقصان پہنچانا یا بلا وجہ کسی کے دروازے کی گھنٹی بجا کر انھیں پریشان کرنا غیر اخلاقی عادات ہیں۔ بچوں کو یہ بھی سکھائیں کہ دوسروں کی جگہ (اسپیس) کا احترام کریں ۔ اس تربیت کے ذریعے بچے سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو تکلیف دیے بغیر پرامن اور مہذب طریقے سے رہنا ہی اچھے انسان اور اچھے پڑوسی ہونے کی پہچان ہے۔

اگر کوئی پڑوسی بچوں سے کسی معاملے میں مدد مانگیں تو بچوں کو ان کا تعاون کرنا سکھایا جائے ۔ جیسے دوکان سے کوئی سامان لانا ، سودا سلف اٹھانا یا کوڑا پھیکنا ہو۔ اس طرح بچے سیکھتے ہیں کہ کس طرح مدد کی جائے اور پڑوسیوں کو آسانیاں فراہم کی جائے۔

اگر کوئی پڑوسی بیمار ہو تو والدین ان کی عیادت ضرور کریں،اگر کسی کے گھر کوئی انتقال کرجائے تو تعزیت کریں اور جہاں تک ممکن ہو ان کا تعاون کریں تاکہ بچے یہ سیکھیں کہ مصیبت اور غم کے موقع پر ہم سایوں کی کس طرح دادرسی کرنی ہے۔
اگر پڑوسیوں کے گھر میں کوئی تقریب ہو تو ان کی خوشیوں میں بھی شرکت کریں اور ان کے لیے تحائف لے کر جائیں تاکہ بچے یہ سیکھیں کہ پڑوس کی خوشیوں میں کیسے شریک ہوا جاتا ہے ۔

بچوں کے سامنے پڑوسیوں کی برائی اور غیبت کرنے سے پرہیز کریں تاکہ بچوں کے دلوں میں پڑوسیوں کا احترام باقی رہے اور وہ ان کے سلسلے میں بدگمان نہ ہوں۔

بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ پڑوسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا ضروری ہے۔بچے پڑوسی کے گھر جاکر کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو انھیں پسند نہ ہو۔ جیسے بیڈ روم یا کچن میں جانا۔ پردے پکڑ کر کھینچنا ، صوفے پر اچھل کود کرنا، کمپیوٹر آن کردینا وغیرہ ۔ یہ اچھی بات نہیں ہے کہ آپ کے بچے سارا دن پڑوسی کے گھر میں رہیں ، اس لیے پڑوسی سے مشاورت کرکے ان کے لیے کوئی مناسب وقت طے کیا جائے۔

بچوں کی تربیت کی جائے کہ وہ پڑوس کے بچوں کے ساتھ اچھے کھیل کھیلیں اور کارآمد سرگرمیوں میں شریک ہوا کریں اور انھیں نصیحت کی جائے اور اس پر نظر بھی رکھی جائے کہ وہ گندی ویڈیو دیکھنے اور گندے کھیل کھیلنے میں ہرگز شامل نہ ہوں ۔ وہ سیکھیں کہ محلے پڑوس کے اچھے کاموں میں حصہ لینا ہے اور برائی سے ہر حال میں بچنا ہے۔

اگر پڑوس میں کسی گھر کا اخلاقی ماحول اچھا نہ ہو تو بچوں کو ان کے کردار اور شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کا پڑوسیوں سے میل جول محدود رکھیں تاکہ بچے سیکھیں کہ پڑوسی کے شر سے کیسے محفوظ رہنا ہے۔ اس کے علاوہ آپ اپنے پڑوسیوں کی اخلاقی تربیت کے فریضے سے غفلت نہ برتیں۔

بچے پڑوس سے کیا سیکھ رہے ہیں اس کا خیال رکھیں ۔ ضروری نہیں کہ ساری ہی زبانیں ، الفاظ ، لب و لہجے اور تہذیب آپ کے لیے قابل قبول ہو۔ بچوں کو اس بات کی ٹریننگ دی جائے کہ وہ اچھی عادات، طور طریقے اور الفاظ سیکھیں اور بری عادتیں یا الفاظ چھوڑ دیں ۔ اس لیے بچوں کو کم عمری سے ہی unlearning اور relearning سکھائیں تاکہ چاہے ان کو کیسی ہی صحبت اور ہم سائے ملیں لیکن وہ اپنی اصلاح اور تعمیر پر اٹل رہیں۔

اگر پڑوس میں ضعیف یا معذور افراد ہو ںتو بچوں کو ان سے ہمدردی کرنا اور ان کا احترام کرنا سکھایا جائے ۔ تاکہ بچوں میں انسانیت کے جذبات کی نشو و نما ہو۔

بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ انھیں پڑوسیوں کو سلام کرنا ہے اور اچھی گفتگو کرنی ہے۔ پڑوسیوں سے بے زاری اور بےرخی کا رویہ تہذیب کے خلاف ہے۔

خلاصہ کلام

”it takes a village to raise a child“

اس مشہور کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ایک بچے کی کامیاب اور بہترین تربیت میں، بچہ کے والدین کے علاوہ آس پاس کے دیگر افراد جیسے رشتہ دار ، دوست و احباب، اساتذہ اور پڑوسیوں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ جن کے گھروں میں چھوٹے بچے ہوں ان کے والدین کا تعاون کریں اور ان بچوں پر مثبت اثر قائم کریں تاکہ آپ کے بچے بھی خیرخواہی سیکھ سکیں۔

ہماری سوسائٹی یا محلہ ہمارے بڑے معاشرے کی چھوٹی شکل ہے، جہاں ایک بچے کے مشاہدے کے لیے مختلف کردار اور انداز مل جاتے ہیں۔ اپنے آس پڑوس سے بچہ بہت کچھ سیکھتا ہے اور اس کی شخصیت انہی سماجی تعلقات سے تشکیل پاتی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو تربیت دیں کہ معاشرے میں ان کا اہم رول ہے جو انہیں بخوبی انجام دینا ہے۔ والدین جب پڑوسیوں سے اپنے تعلقات کو مہارت اور خوبصورتی سے نبھاتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے دینی فرائض انجام دیتے ہیں بلکہ بچوں کو سماجی صلاحیتیں سیکھنے کے لیے ایک میدان دیتے ہیں۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

اپنے بچوں کو اچھا پڑوسی بنائیں

حالیہ شمارے

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223