مولانا ابو محمدامام الدین رام نگریؒ

ڈاکٹر تابش مہدی

مولانا ابومحمد امام الدین حافظ رام نگری رحمۃ اللہ علیہ بیسویں صدی عیسوی کے نہایت سرگرم وفعال اہل قلم تھے۔ وہ اُن لکھنے والوں میں تھے، جن پر بسیارنویسی کا محاورہ صادق آتاہے۔ لیکن ان کی بسیار نویسی سطحی یا غیرمعیاری نہیں تھی، جو کہ عام بسیار نویسوں کے ہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔ انھوں نے جب اور جس موضوع پر بھی لکھا، اس میںعلم وادب کی تمام فنّی و روایتی قدروں کو ملحوظ رکھا اور انھیں برتا۔ وہ ادب، شاعری، صحافت،سیاسیات، عمرانیات، مذہب، تصوف غرض کہ ہرموضوع پر لکھتے تھے اور جس موضوع پر بھی لکھتے تھے، اس کے لیے پوری تیاری اورمطالعہ کرتے تھے۔ تقسیم ہند سے پہلے تک وہ صرف شعرو افسانہ اور ترجمہ و صحافت تک محدود تھے۔ اس سلسلے کی ان کی چیزیں مولانا تاج ور نجیب آبادی کے رسالے ’شاہ کار‘ وماہ نامہ پریم لاہور، مصوّرفطرت حضرت خواجہ حسن نظامی ؒ کے رسالوں ماہ نامہ نظام المشائخ و ماہ نامہ خطیب دہلی اور ملاّواحدیؒ کے ماہ نامہ درویش دہلی میںشائع ہوتی تھیں۔ ان کی صلاحیت اور حسب ضرورت بروقت مضمون نویسی کی وجہ سے انھیں ان رسالوں سے ماہانہ معاوضہ بھی ملتاتھا۔ جماعت اسلامی سے فکری پھر عملی وابستگی کے بعد انھوں نے اپنے قلم کا رخ مذہب کی طرف موڑدیا۔ پوری سرگرمی کے ساتھ اقامت دین اور اسلام کے غلبہ ونفاذ کی کوششوں میں لگ گئے اور اپنے قلم کے ذریعے اس کے لیے ذہن سازی کرنے لگے۔ اس سلسلے کے ان کے تمام مضامین دعوت، زندگی، الحسنات، تجلّی اور دوسرے تحریکی رسائل کے فائلوں میں اب بھی موجود ہیں۔

مولاناابومحمد امام الدین رام نگری تحریک اسلامی کے ایک نہایت مخلص اور سرگرم سپاہی تھے۔ جس زمانے میں بعض حلقوں کی طرف سے جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ پر کفرو ضلالت کے فتوے صادر کیے جارہے تھے ، الزامات و اتہامات کی موسلا دھار بارشیں ہورہی تھیں اور کہیں کہیںاس کے ارکان وہم دردان پرعرصۂ حیات تنگ کیاجارہاتھا، وہ قلم و کاغذ سنبھال کرمسلسل محاذ پر ڈٹے رہے۔ انھوں نے ہر الزام کا مدلّل اور دو ٹوک جواب دیا اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی زبانی گفت و شنید سے بھی نہیں چوکے۔ میرے ناقص علم اور محدود مطالعے کے مطابق جماعت اسلامی اور مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی حمایت و دفاع میں مجاہد قلم حضرت مولانا عامرعثمانی رحمۃ اللہ علیہ ﴿ایڈیٹر ماہ نامہ تجلّی دیوبند﴾ کے بعد سب سے زیادہ قلمی جنگ مولانا ابومحمد امام الدین رام نگری ہی نے لڑی ہے۔ شاید اسی مزاجی مناسبت اور فکری ہم آہنگی کی وجہ سے دونوں میں بڑی گہری دوستی بھی تھی۔ میں نے جب بھی زبانی یا اپنے کسی خط میں بنارس، مرزا پور یا جون پور کے سفرکاذکر کیا استاذی مولانا عامرعثمانی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ ضرور لکھاکہ موقع ہوتو رام نگر جاکر ابومحمد امام الدین رام نگری سے بھی مل لینا۔

مولانا ابومحمد امام الدین کو یہ شرف بھی حاصل رہاہے کہ وہ دارالاسلام جمال پور، پٹھان کوٹ ﴿پنجاب﴾ میں منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے پہلے کل ہند اجتماع میں بھی شریک رہے ہیں۔ وہاں سے واپسی پر انھوں نے لاہور جاکر ملک نصراللہ خاں عزیز ، علامہ تاج ور نجیب آبادی اور بعض دوسرے ادبی رفقا اور ہم فکر اہلِ قلم سے بھی ملاقات کی،جماعت کا تعارف کرایا اور اس کی رفاقت کے لیے انھیں متوجہ کیا۔ مولانانے کسی موقعے پر مجھے لکھاتھاکہ دین فہمی میں اُن کے پہلے استاذ مولانا ابوالکلام آزاد  ہیں، پھر مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ ۔ انھوں نے یہ بھی لکھاتھاکہ مولانا آزاد کے مقالات سے ان کے اندر اتنی استعداد پیداہوگئی تھی کہ وہ مولانا مودودیؒ ، ان کی فکر اور جماعت اسلامی کے پیغام کو سمجھ سکیں۔ سیرت کے فہم کا وہ سارا کریڈٹ مولانا شبلی نعمانی ؒ کو دیتے تھے۔ اِس ذیل میں سیرت النعمان، الفاروق اور المامون کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرتے تھے۔

مولانا ابومحمد امام الدین رام نگری سے میری واقفیت تو بہت پہلے سے تھی۔ ان کی تحریریں آئے دن رسائل و اخبارات کے ذریعے سے مرکزِ توجّہ ہوتی رہتی تھیں۔ اپنی شاعری اور نثر دونوں سطحوں پر وہ مجھے وہ پسند تھے۔ لیکن ان سے باقاعدہ رابطہ یا خط و کتابت کاسلسلہ ۱۹۸۰ میں اس وقت قائم ہوا، جب ماہ نامہ الایمان دیوبند کا خصوصی شمارہ ’تنقیدو تبصرہ‘ نمبر شائع ہوا۔ سہ روزہ دعوت ، دہلی میں جب اس کا اشتہار چھپاتو انھوں نے درج ذیل خط تحریر فرمایاتھا:

جنابِ محترم تابش مہدی صاحب!     السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ‘

’دعوت‘میں الایمان کے خاص نمبر کا اعلان دیکھا۔ بڑی خوشی ہوئی۔ مزید خوشی یہ جان کر ہوئی کہ الایمان، ’الایمان‘ ہے۔ یعنی دعوتِ اسلامی کا ترجمان۔ آپ خاکسار راقم الحروف سے واقف ہوںگے۔ اگر آپ براے تبصرہ یہ شمارہ بھیج سکیں تو بنارس کے روزنامے ’قومی مورچہ‘ میں جو مشرقی یو-پی کا واحد اخبار ہے، تبصرہ کردیاجائے۔ اگر اس طرح نہ بھیج سکیں، توبھی ارسال فرمادیں۔ قیمت کی بہ قدر ڈاک ٹکٹ بھیج دیے جائیں گے۔ مولانا عامر عثمانیؒ سے میرے کیسے تعلقات تھے، جاننے والے جانتے ہیں۔ وہ مکتبہ تحفظ ملت سے میری کتابیں منگایاکرتے تھے، رقم جب طلب کی جاتی تھی بھیج دیتے تھے۔بہ ہرحال الایمان کا انتظار رہے گا۔

یکم جولائی ۱۹۸۰   ابومحمد امام الدین

میرے نام یہ ان کاپہلا خط تھا۔ یا یوں کہیے کہ میرے اور ان کے درمیان رابطے کی یہ پہلی سلسلہ جُنبانی تھی۔ ان کے اِس خط نے مجھے باغ باغ کردیا۔ میں نے فوراً اعزازی طورپر ان کے نام رسالہ جاری کردیا اور ایک خط بھی لکھا، جس میں ان سے پرانی واقفیت کا بھی تذکرہ تھا۔ میرا خط تو انھیں مل گیا، لیکن رسالہ تقریباًایک ہفتے کی تاخیر سے پہنچا۔ ان کایہ خط میرے اُسی خط کا جواب ہے:

برادرعزیز!  السلام علیکم ورحمتہ اللہ!!

آپ کا خط آئے کئی روز ہوگئے، مگر رسالہ اب تک نہ آیا۔ نہ خاص نمبر نہ عام۔ یہ معلوم کرکے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ میرے جماعتی بھائی ہیں۔ آپ کا خط پڑھ کر درج ذیل باتیں جاننے کو جی چاہتا ہے:

۱-       پرتاپ گڑھ کاضلع چھوڑکر آپ دیوبند کیوں گئے؟

۲-       کیا آپ دارالعلوم دیوبند کے تعلیم یافتہ ہیں، اِسی تعلق سے وہاں آمد ہوئی؟

۳-       آپ رکنِ جماعت کب ہوئے، کس کے ذریعے اور کہاں کی جماعت سے متعلق ہیں، کیا دیوبند میں کوئی اور رکن ہے اور وہاں کچھ اور متفق ہیں؟

۴-       الایمان کب سے نکل رہاہے اور کیا اس کی اتنی اشاعت ہے، جو اس کے مصارف کے لیے کافی ہو؟جواب کاانتظار رہے گا۔ والسلام

۴/اگست ۱۹۸۰

رام نگر، بنارس، ابومحمدامام الدین

اس خط سے تحریک اسلامی سے ان کی بے پناہ دل چسپی اور اس کے خادموں کے ساتھ ہم دردی و خیرخواہی کے جذبے کا اندازہ ہوتاہے۔ اس کے بعد ان سے مسلسل خط و کتابت کاسلسلہ رہا۔ وہ اپنے مضامین سے بھی الایمان کو تقویت دیتے رہے۔ جب الایمان کے ’عظمت صحابہ نمبر‘ کا فیصلہ ہوا تو انھیں خصوصیت کے ساتھ مضمون کے لیے لکھاگیا۔ لیکن میرا خط پہنچنے سے پہلے انھوںنے رسالے کے سلسلے میں دل چسپ خط لکھا۔ اسی دوران میں میرا خط بھی پہنچ گیا، اپنے پہلے سے لکھے ہوئے خط میں انھوںنے میرے خط کا بھی تفصیلی جواب تحریر فرمادیا۔ واضح رہے کہ مولانا بالعموم کارڈ ہی پرخط لکھتے تھے۔ چاروں طرف سے اسے بھردیتے تھے۔ حاشیوں پر نمبر یا اشارات ہوتے تھے، جن کی مدد سے خط کو مربوط کیاجاسکتاتھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ قلم کی نِب موٹی ہوتی تھی اور حروف چھوٹے۔ ایسی صورت میں حروف کے دائرے اور کرسیاں سب غائب ۔پڑھنے میںخاصی دشواری پیش آتی تھی۔

برادر عزیز!  السلام علیکم و رحمتہ اللہ!!

بحمدللہ میں ابھی زندہ ہوں۔ پھر آپ نے الایمان بندکیوں کردیا۔ کیا آپ کو میرے ایمان میں شک واقع ہوگیا، اس لیے آپ کے نزدیک میں مستحق الایمان نہیں ہوں؟ دعوت میں الایمان کا اشتہار دیکھ کر یہ کارڈ لکھ رہاہوں۔ جس شمارے میں میرا مضمون شائع ہواتھا، اس کے بعد سے تااپریل مجھے پرچے نہیں ملے۔ پتا نہیںچلاکہ مولاناظفراحمد عثمانی ؒ اور مولانا مودودیؒ کے دستاویزی مراسلات شائع ہوئے یا نہیں۔ بہ ہرحال تمام باقی شمارے واپسی ڈاک سے بھیج دیجیے۔

۹/اپریل ۱۹۸۱  ابومحمد امام الدین

جیساکہ اوپر عرض کرچکاہوں، ابھی یہ خط ڈاک کے حوالے نہیں ہواتھاکہ میرا خط انھیں مل گیا، انھوںنے اسی کارڈ پر تحریر فرمایا:

کچھ اور ﴿۱۰/اپریل ۱۹۸۱﴾:

آپ کا ۳۰/مارچ کا خط مجھے آج ملا۔ نہ دیوبندکی مہر صاف ہے نہ رام نگر کی۔ اس لیے یہ معلوم نہ ہوسکاکہ کب پوسٹ ہوا اور کب یہاں آیا۔ جس شمارے میں میرا مضمون شائع ہوا ہے، اس کے بعد کے پرچے نہیں ملے۔ اِن شائ اللہ صحابہ کرامؓ  پر کچھ لکھوںگا۔ آپ کا کون سا مسلک ہے؟ دوہی مسلک رائج ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی۔ مسلک کے بارے میں میرا نقطہ نظر بریلویت اور دیوبندیت دونوں سے مختلف ہے۔ میں بریلویت کا سخت مخالف ہوں۔ میں مذہباً حنفی ہوں۔ جس بات کو حق سمجھتاہوں، وہی کرتاہوں۔ میرا مسلک بڑی حد تک دیوبندیت کے مطابق ہے۔ مگر اس لیے نہیں کہ میں اہلِ دیوبند کامقلد ہوں اور ہر امر میں ان کے مسلک پر ہوں۔ میں اہلِ حدیث مسلک کو بھی اہلِ سنت والجماعت کے اندر مانتاہوں۔

میری گزارش پر انھوںنے عظمتِ صحابہ نمبر کے لیے دو مضامین لکھے اور سادہ ڈاک سے بھیج دیے۔ سوئ اتفاق کہ وہ لفافہ مجھ تک نہ پہنچ سکا۔ میں نے تقاضے کے طورپر جب خط لکھا تو انھوں نے بڑے ماتمی انداز میں اس کا جواب تحریر فرمایا:

برادرعزیز!                  السلام علیکم ورحمتہ اللہ!!

ابھی آپ کا خط ملا۔ یہ پڑھ کر دل بیٹھ گیاکہ صحابہؓ  نمبر کے لیے دو ہفتوںکی محنت سے لکھے دو مضامین آپ تک نہیں پہنچ سکے۔ ڈاک کی نذر ہوگئے۔ ایک مضمون جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ پر توہینِ صحابہؓ  کے الزام کے مسکت رد میں تھا اور دوسرا مضمون شیعوں کے حضرات صحابہ خصوصاً حضرت صدیقؓ  اور حضرت فاروقؓ  پر تبراّ کا ایسا جواب تھاکہ … یہ نکتہ آج تک میرے علاوہ کسی سنّی عالم کے ذہن میں نہیں پیداہوا۔ یہ مضمون معتبر شیعہ علما کے مستند حوالوں سے لکھا گیاتھا۔ اس کے ضائع ہونے کا بڑا غم ہے۔

مولانا عبدالعلیم فاروقی کی کتاب پر آپ کا تبصرہ پڑھا۔ آپ نے جتنا پڑھا ہے،اس سے زیادہ اپنی تعلیم سے فائدہ اٹھایاہے۔ آپ کی خدادادصلاحیت آپ کی تعلیم سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ کا مقام مدرسہ نہیں صحافت ہی ہے۔ حالات ساتھ نہ دیں، یہ الگ بات ہے۔

۲۵/جون۱۹۸۱                             ابومحمد امام الدین

مولانا ابومحمد امام الدین رام نگری نہ کسی مدرسے کے فارغ التحصیل عالم دین تھے نہ کسی کالج یا یونیورسٹی کے ڈگری یافتہ ڈاکٹریا کچھ اور۔ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جہاں علم وادب کا دور دور ذکر نہ تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے، جب خود رام نگر میں بھی کوئی یاکسی بھی سطح کی تعلیم گاہ نہ تھی۔ پورے رام نگر میں پانچ یا سات آدمی تعلیم یافتہ تھے، ان میں بعض فارسی بھی جانتے تھے۔ اس زمانے میں غیرمسلم گھرانوں میں بھی اُردو اور فارسی کا چلن تھا۔ خصوصاً کائستھ برادری میں اردو و فارسی کازیادہ رواج تھا۔ عربی داں تو پورے رام نگر میں کوئی نہ تھا۔ کسی عالم یا مولوی کے ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیداہوتا۔ راجا رام نگر کے اصطبل میں گھوڑوں کی خدمت کے لیے جو مسلمان سائیس مقرر تھے، وہ کہیں باہر سے آئے ہوے تھے ۔ اُنھیں تعلیم سے دل چسپی تھی، انھوں نے اپنی ذاتی دل چسپی کی وجہ سے راجا صاحب سے منطوری لے کر اصطبل کے اندر ہی ایک مکتب قائم کر رکھا تھا۔ وہی وہاں کا اکلوتا تعلیمی ادارہ تھا۔ اسی میں بچے پڑھتے تھے۔

مولانا کو چوں کہ تعلیم سے فطری دلچسپی تھی، انھوں نے اپنی کوشش سے اردو نوشت و خواند کی معمولی صلاحیت پیداکرلی تھی۔ اس میں اضافے کی طلب و جستجو تھی، اس لیے وہ ہر وقت علم اور اہل علم کی تلاش میں رہتے تھے۔ پیشے کے اعتبار سے درزی تھے، گھر کے مصارف زیادہ تھے، لیکن ان سب کے باوجود رام نگر کے اِرد گرد یا بنارس میں جہاں بھی کسی اہلِ علم کا سراغ لگتا تھا، وہ وہاںپہنچتے تھے۔ ہفتے میں ایک دن یا دو دن گھنٹے دو گھنٹے کے لیے وہاں جاکر کسب علم کرتے تھے۔ فارسی کی کتاب صفوۃ المصادر جو ’آمدنامہ‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، اِسے ازخود تجھ سے مجھ سے پوچھ پوچھ کر پڑھا اور اس کی گردانوں کی مشق کی۔ راجا رام نگر کے دربار میں ایک طبیب حکیم نعیم الدین نام کے تھے، اہل علم میں شمار ہوتے تھے، مولانا ان کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتے تھے اور کافی کافی دیر تک بیٹھ کر ان سے استفادہ کرتے تھے۔

مولانا نے عربی کی تعلیم بھی اسی جدوجہد اور تگ و دو کے ساتھ حاصل کی۔ بنارس کے مدرسہ مظہرالعلوم میں ان دنوں مولانا حبیب الرحمن اعظمی تھے، ہفتے میں ایک دن جمعہ کو ان کے پاس جاتے تھے، ان سے بھی علم حاصل کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب علامہ شفیق جون پوری، مولانا محمد اسحاق اور منشی ظہیرالحق نشاط سیمابی جیسے لوگ وہاں زیرتعلیم تھے۔مولانانے اپنی مسلسل اور انتھک کوشش اور جدوجہد سے اتنی استعداد پیداکرلی تھی کہ حدیث وتفسیر کے سلسلے میں وہ اصل مآخذ سے براہِ راست استفادہ کرتے تھے۔ ان دنوں درزی کے کام میں زیادہ آمدنی نہیں تھی، اس کے باوجود انھوں نے حدیث و تفسیر کی متد اول کتابیں خریدیں اور حسب موقع ان سے استفادہ کیا۔ مشکوٰۃ اور حدیث کی بعض دوسری کتابیں انھوں نے ہفتے میں ایک دو دن جاکر بنارس کے بعض علما سے سبقاً سبقاًپڑھیں۔ انھوںنے ۱۹/ستمبر ۱۹۸۱ کے اپنے ایک خط میں اپنے حالات بیان کرتے ہوئے تحریرفرمایاتھا:

میرے علمی ذوق کا یہ حال تھا کہ میں درزی کاپیشہ کرتاتھا۔ ہاتھ سے کام کرتے وقت بھی کوئی کتاب سامنے ہوتی تھی یا کوئی رسالہ۔ اس پر بھی میں نظر ڈالتاچلتاتھا۔ آج مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مشین پر بھی اس طرح مطالعہ جاری رہتاتھا۔ دکان کے اندر کئی کمرے تھے، راجا کی لائبریری سے کتابیں لاتاتھا، اندر جاکر رکھ دیتاتھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اندر جاکر تھوڑا تھوڑا پڑھ آتاتھا۔ رام نگر کا بازار اور گلیاں میرا دارالمطالعہ تھیں اور مکان سے دریاآتے آجاتے دریاکا ناہم وار راستا بھی۔ چوں کہ میں اب مضامین لکھنے لگاتھا، رسالے مفت آنے لگے تھے، کتابیں بھی تھیں، کوئی بارہ سال تک میں نے راستا چلتے مطالعہ کیا ہے۔ ناشتہ کرتے اور کھانا کھاتے مطالعہ کیا ہے۔

مولانا ابومحمد رام نگری نے اِسی محنت اور جاں فشانی سے ہندی اور سنسکرت کابھی علم حاصل کیاتھا اور قابل رشک استعدادپیداکرلی تھی۔ ان کی کتاب ’ہندی اردو لغت‘ کو بے حد مقبولیت ملی۔ عمر کے آخری حصّے میں تو مذاہب وادیان کا تقابلی مطالعہ ان کا دل چسپ مشغلہ بن گیاتھا۔ اس سلسلے میں ان کی متعدد کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ اچھے اچھے غیرمسلم اہلِ علم ان کی تحقیقات سے متاثر ہوکر اسلام سے قریب ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنے دوست احباب اور ملنے جلنے والوں کو بھی متوجہ کرتے رہتے تھے۔ فرماتے تھے: یہ ایک دینی فریضہ ہے، اس کی ادائی حسب صلاحیت و استعداد ہر مسلمان پر لازم ہے۔

مولانا ابومحمد امام الدین رام نگری شعر گوئی بھی فرماتے تھے، حافظ تخلص تھا۔ ملک کے رسائل وجرائد میں ان کی نظمیں اور غزلیں شائع ہوتی رہتی تھیں۔ شدّتِ جذبات اور سادگی و پرکاری کے نمونے ان کے ہاں بہ کثرت ملتے ہیں۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح وہ شاعری میں بھی کسی کے باقاعدہ شاگرد نہیں تھے۔ البتہ حضرت امیر مینائی کے معتبر شاگرد حضرت آفاق  بنارسی سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ ان کے پاس جاتے رہتے تھے اور فنّی و عروضی معاملات میں حسب ضرورت ان سے استفادہ بھی کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز بھی شاگردی کے درجے میں آتی ہے۔ نمونے کے طورپر تین قطعات ملاحظہ کریں:

جن کو ہے ادراک اپنی ذات کا

پاس جو رکھتے ہیں اپنی بات کا

آئینہ سورج کو دکھلاتے ہیں وہ

دن ادب کرتا ہے ان کی رات کا

مجھ کو تلقین نہ کر شیشہ گری کی اے دوست

میں ابھی حوصلۂ کوہ کنی رکھتا ہوں

پھونک سکتی ہے جو باطل کے ہزاروں خرمن

حق کی وہ آگ بھی سینے میں دبی رکھتاہوں

کفر کی نذر ہو اسلام یہ ناممکن ہے

اپنے ایمان کی تحقیر نہیں کرسکتا

میرا شیوہ ہے صنم خانوں میں تعمیر حرم

میں صنم خانوں کو تعمیر نہیں کرتا

مولانے جس طرح خود محنت اور جفاکشی سے علم حاصل کیاتھا اور اسی کی بدولت ملک کے کثیرالتصانیف لوگوں میں ان کا شمار ہوتاتھا، اسی طرح انھوں نے اپنی اُفتاد طبع اور وسائل کی قلت بل کہ فقدان کی وجہ سے اپنے اہل خاندان کو بھی کالج اور یونی ورسٹیوں سے بے نیازہوکر تعلیم وتربیت سے سرفراز کیا اور سب اپنی اپنی جگہ آفتاب و ماہ تاب بن کر چمکے اور علم و ادب کی دنیا میں نام روشن کیا۔ان کو ہمارے درمیان سے اُٹھے ہوئے اٹھائیس ﴿۲۸﴾ برس کا عرصہ گزرگیا، لیکن انھوں نے اپنی محنت، لگن، مشقت اور پیہم جفاکشی سے علم وادب اور دعوت وتربیت کے جو چراغ جلائے ہیں، ان سے ہمیںتادیر روشنی ملتی رہے گی۔

دسمبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau