عقیدۂ توحید اور وحدتِ اُمت

(6)

احراز الحسن جاوید

اگراسلامی عقیدہ میں خلافت کے موضوع سے صرف نظر کرکے کہ کس کوملنی چاہیے تھی واقعی غور کیا جاتا توخلافت کے معاملات میں ذہنی انتشار و پرا گندگی اور اس کے نتائج کا جس طرح مسلمانوں کوشکار ہونا پڑا وہ ان سے محفوظ رہتے اوریہی وہ کلیدی بات ہے جس کی طرف میں آنا چاہتا ہوں اوروہ یہ کہ اگر رسول اللہ کے بعد خلافت۔یا آپ چاہیں تواسے امامت کہہ لیں۔ اگر کوئی آسمانی حکم ہوتا اورکوئی نصِ الٰہی  نازل ہوئی ہوتی تو اس سے مراد حضرت علیؓ ہوں یا کوئی اور، تووہ ساری تاویلیں اورباتیں جوشیعہ راویوں اورامامی مسلک کے علماء نے پیش کی ہیں(اورجن کی ساری بنیاد اس پر ہے کہ امام علیؓنے اپنے سے پہلے کے خلفاء کے ہاتھوں پر صرف اسلام کو تباہی سے بچانے ، رسول اللہ ؐ کے بعد لوگوں کو مرتد ہونے کے خوف سے یا تقیہ کی وجہ سے بیعت کی ہے ) ہوا میں بکھرجاتیں کیونکہ اگر خلافت کی نص الٰہی  اور حکم خدا وندی کی وجہ سے ہوئی تو کوئی بھی شخص چاہے اسلام میں اس کا درجہ اورمرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو ۔ یہ قدرت ہی نہیں رکھتا کہ وہ اس کے خلاف کھڑا ہوتا اوراپنے مفروضہ دلائل کی بنیاد پر اس کی مخالفت کرتا ۔ یہ طاقت نہ حضرت علیؓ میں تھی اورنہ دوسرے صحابہ میں کہ وہ وحی کے ذریعہ نازل ہونے والی کسی نص پر عمل در آمد روک دیں۔

اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسولِ خدا ہوتے ہوئے یہ حق واختیار نہیں رکھتے تھے کہ الہٰی پیغام کوپہنچانے میں کچھ تذبذب سے کام لیں جیسا کہ آیت کریمہ میں صاف کہا گیا ہے :۔(۱)

يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۝۰ۭ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

’’اے رسول پہنچادے جوتجھ پر اترا ہے تیرے رب کی طرف سے اوراگر ایسا نہ کیا تونے تواس کا پیغام کچھ نہ پہنچایا اوراللہ تجھ کو لوگوں کے شر سے بچالے گا ۔‘‘ (المائدہ:۶۷)

اگرامامت الٰہی  نص سے ہوتی جیسا کہ شیعہ حضرات سمجھتے ہیں اوروہ یہ کہ وہ بارہویں امام تک حضرت علیؓ کی ہی اولاد میں ہوتی توحضرت علیؓ اپنے بعد اپنے فرزند حضرت حسن کوخلیفہ وامام بناتے لیکن محدثین اور راویوں کا اس پر اتفاق ہے کہ امام علیؓ جب ابن ملجم مرادی کی زہریلی تلوار کھا کر بستر مرگ پرتھے اورآپ سے جانشین کے بارے میں پوچھاگیا توآپ نے یہی فرمایا :

’’میں تمہیں اسی طرح چھوڑرہا ہوں جس طرح تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑاتھا ۔‘‘

امام علیؓ کی وفات کے بعد مسلمان اکٹھا ہوئے اورانہوںنے حضرت حسنؓ کو منتخب کرکے ان کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن امام حسن نے امیر معاویہؓ سے صلح کرلی اورخلافت سے دستبردار ہوگئے اوریہ فرمایا کہ صلح مسلمانوں کو خونریزی سے بچانے کے لیے کی گئی ہے ۔

آپ کیا سمجھتے ہیں اگر خلافت کوئی منصب الٰہی ہوتا توکیا امام حسنؓ کویہ حق ہوتا کہ وہ خو نر یز ی بچانے کے لیے اس سے دستبردار ہوجاتے ۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ جب حکم و شریعت کے دفاع کا معاملہ ہوتو خونریزی بچانے کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔ ورنہ دین و شریعت اوراوامر و نواہی کومستحکم بنانے کے لیے جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کا کیا مطلب رہ جائے گا    (۱)

شیعہ حضرات کی اکثر کتابوں میں خلفاء کی مذمت و نکتہ چینی پرمبنی جوباتیں ملتی ہیں ان کا کوئی جواز نہیں ہے ، اس طرح کی باتیں اسلامی اخلاقی معیار کے خلاف ہیں اورحتیٰ کہ حضرت علیؓ کے کلام سے ٹکراتی ہیں۔ شیعہ حضرات پر واجب ہے کہ وہ خلفائے راشدین کا احترام کریں اور رسول اللہؐ کے یہاں ان کے مرتبہ و مقام کی قدر کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی صاحبزادیوں سے شادیاں کیں ۔ حضرت عثمان ؓ کو دومرتبہ نبیؐ کا داماد بننے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت عمرؓ بن خطاب نے حضرت علیؓ کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم سے شادی کی ۔ ہم شیعہ حضرات سے اس سے زیادہ نہیں  چاہتے کہ وہ حضرت علیؓ سے پہلے کے تینوں خلفاء کے بارے میں وہی سمجھیں اور کہیں جوان کے بارے میں خود حضرت علیؓ کہہ چکے ہیں۔ اگرشیعہ حضرات خود امام علیؓ کے عمل پرقائم رہیں تو سارا اختلاف ختم ہوجائے اور ملتِ اسلامیہ گہرے فکری امن وسکون سے بہرہ مند ہوجائے۔

ان شیعہ کتابوں کی چھان ٹھیک کی جائے جن میں شیعہ ائمہ سے خلفائے راشدین کی مذمت میں روایات منسوب ہیں اور چھان ٹھیک کے بعد انہیں دوبارہ شائع کیا جائے۔

شیعہ حضرات کویہ پوری طرح یقین کرلینا چاہیے کہ شیعہ کتابوں میں خلفاء کے بارے میں اورخلافت  کے سلسلے میں الٰہی نصوص کے وجود کے بارے میں جتنی روایات منقول ہیںوہ سب عیبوبتِ کبریٰ کے بعد گھڑی گئی ہیں۔ جب شیعوں کے آخری امام مہدی تک پہنچنے کے سارے دروازے بند ہوچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسن عسکری ؒ جوامامی شیعوں کے گیارہویں امام ہیں ، کے دور تک خلافت کے بارے میں نص الٰہی کے وجود اورخلفائے راشدین کے بارے میں دل آزار روایات کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔

شیعہ حضرات اپنے خول سے باہر نکلیں اورامام علیؓ کے راستے پر چلیں اگروہ واقعی انہی کے حامی ہیں اوراپنے لڑکوں کے نام  خلفائے راشدین کے نام پر اوراپنی لڑکیوں کے نام ازواج مطہرات خاص طور پر حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے نا م پر رکھیں، کیوں کہ شیعہ حضرات ان دونوں ناموں کوپسند نہیں کرتے؟جب کہ خود امام علیؓ اپنے فرزند کےنام ابوبکرؓ عمر وعثمان رکھ چکے ہیں اور شیعہ ائمہ بھی اس راستے پر چلتے رہے ہیں ائمہ کی کتنی صاحبزادیوں کے نام عائشہ و حفصہ رکھے جا چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ خلفائے راشدین کے نام رکھنے کا فائدہ فرقہ بندی اورتنگ نظری کے خول سے باہر آنا اور مسلمانوں کے ساتھ عظیم اتحاد کی صفوں میں شامل ہونا ہے ۔(۱)

اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کا ایک دوسرا نام ’امت وسط‘ بھی بتایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ امت اعتقادی ونظریاتی اور علمی وعملی ہر اعتبار سے افراط و تفریط سے پاک اورمکمل طورسے اعتدال پر قائم رہے اورکسی بھی طرح کے غلو میں مبتلا نہ ہو کیونکہ پچھلی قومیں اورملتیں غلو کے باعث ہی زیادہ اعتدال سے ہٹ کر فرقوں میں بٹتی چلی گئیں ۔ اسی لیے اللہ نے غلو سے بچے رہنے کی ہدایت اپنی کتاب پاک میں اور اللہ کے رسول نے بھی سختی  سے ہدایت کی: لَا  تُطْرُوْنِی (بخاری) مجھے حد سے نہ بڑھاؤ -اس کے باوجود لوگ غلو سے باز نہیں آئے۔

ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے اپنی کتاب میں ’’ غلو‘‘ کے عنوان پر بڑی تفصیل سے گفتگو کی ہے ۔ اسی ضـمن میں وہ فرماتےہیں :۔

’’غلو کے بہت سے مظاہر ہیں جونظریاتی غلو سے شروع ہوکر عملی غلو پر ختم ہوتے ہیں۔ نظر یا تی  غلو کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ وہ ایسی کر ا ما ت ، معجزات اور غیر معمولی محیر العقول کارنامے پیش کرسکتا ہے جوعام آدمی کے بس سے باہر ہیں۔اسی طرح یہ یقین کہ کوئی انسان چاہے زندہ ہویا مردہ، دوسرے انسان کی زندگی میں دنیا وآخرت میں اچھا یا برا اثر ڈال سکتا ہے غلو کا ایک بڑا مظہر ہے ۔‘‘

’’نظریاتی غلو‘‘ جوروایات واحادیث کی کتابوں میں ائمہ واولیاء و مشائخ سے عجیب و غریب معاملات منسوب کرنے کے تعلق سے پایا جاتا ہے عملی غلو کو پروان چڑھانے کا بڑا سبب ہے اور اسی کے نتیجہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عوام الناس ائمہ واولیاء و مشائخ کی قبروں پر بندگی کےاظہار کے لیے کیا کیا نہیں کرتے ہیں ۔وہاں نذریں چڑھاتے ہیں، ان سے براہِ راست حاجت روائی چاہتے ہیںاورایسی ایسی نہ جانے کتنی باتیں سامنے آتی ہیں……..ائمہ و اولیاء کے تعلق سے شیعوں کے غلو میں دیگر اسلامی فرقے بھی شریک ہیں۔ صرف ہم سلفی لوگوں کو مستثنیٰ کرسکتےہیں جنہوںنے لوگوں کے قلوب ودماغ کوجکڑنے والی ساری بیڑیوں کو توڑ رکھا ہے۔

تاہم شیعہ اس میدان میں دیگر اسلامی فرقوں سے بہت آگےہیں اوراس کی بڑی وجہ روایات کی وہ کتابیں ہیں جن کی چھان ٹھیک نہیں کی گئی، پھر ان روایات کے سلسلے میں فقہاء کا موقف بھی ہے ۔ شیعہ کتابوں میں جنہیں معتبر سمجھا جاتا ہے ائمہ کے ایسے ہی معجزات وکرامات کا ذ کر پایا جاتا ہے جیسے دیگر اسلامی فرقوں کی کتابوں میں مشائخ واولیاء وصوفیہ کے بارے میں ملتا ہے۔

میں یہاں اس بیکار بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ روایات سچی ہیں یا محض خیال آرائی یا یہ کہ انہیں اس دور میں گھڑا گیا جب عام ذہن اپنے بڑوں کے بارے میں حیرت ناک قصے سن کر ہی مطمئن ہوتا تھا ۔ بلکہ بنیادی نقطہ جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم مسلمان کی حیثیت سے یہ اعتقاد رکھتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت عقل ہے جوہمیں سراب کے پیچھے بھاگنے سے روکتی ہے۔(۱)

اب دیکھئے ڈاکٹر موسیٰ موسوی مذکورہ بالا باتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کتنی اہم اوربہترین  بات لکھتے ہیں :۔

’’ ہم شیعہ اپنے ائمہ کووہ حق کیوں نہیں دیتے جووہ اپنے مقام بلند پر فائز ہونے کی وجہ سے رکھتے ہیں یعنی مکمل انسان کے مرتبہ پر پہنچنا جوہر معجزہ سے بڑا معجزہ ہے ……..یہ عظیم ترین انسانی مرتبہ جس پر اللہ تعالیٰ نے ائمہ اوراپنے نیک بندوں کوفائز کیا کہ وہ فرشتوں سے بھی بلند تر ہوگئے۔ ربِ کعبہ کی قسم وہ انہیں اس سے بے نیاز کردیتا ہے کہ ان کی شخصیتوں کے ارد گرد مضحکہ خیز خرافات کے تانے بانے بنے جائیں۔ پھر غلو کبھی کبھی تعریف کے مرحلہ سے گزر کر مذمت کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ مثلاً ائمہ کے ساتھ معصومیت کی نسبت کا مقصد ان جھوٹی روایات کوثابت کرنا تھا جوعقل و منطق سے ٹکرائی ہیں  اورجن کی نسبت ائمہ سے اس لیے کی گئی ہے کہ اہل عقل وفہم پران کے مضمون کے سلسلے میں بحث ومباحثہ کا دروازہ بند کردیا جائے اورلوگوں کواس بناء پر انہیں ماننے پر مجبور کردیا جائےکہ یہ روایتیں معصوم سے منسوب ہیں اور معصوم سے غلطی نہیں ہوسکتی۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ معصومیت کا تصور امام کے حق میں تعریف کے بجائے تنقیص کا سبب ہے کیونکہ شیعہ مفہوم کےمطابق معصومیت کی تفسیر یہ ہے کہ ائمہ اپنی ولادت سے وفات تک خدا کی مرضی کی وجہ سے کسی بھی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں شر پر خیر کو ترجیح دینے کا اختیار نہیں تھا ۔ اگر کوئی شخص کوئی برا کام کرنے کی قدرت و صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو تو خدا کے یہاں اس کی فضیلت کیا ہوگی؟ ہاں اگر معصومیت کا مطلب یہ لیا جائے کہ گناہ کی صلاحیت وطاقت رکھنے کے باوجود ائمہ نے کوئی گناہ نہیں کیا کہ وہ اپنے نفس کواس سے بلند پاتے تھے اور ان کی اخلاقی قوت زبردست تھی اورمعصیت الٰہی سے ان کا دل ودماغ انہیں روک دیتاتھا تویہ عقل ومنطق کے مطابق ایک معقول بات ہوگی ۔ لیکن ایسی حالت میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ نفسیات چند گنے چنے لوگوں کے ساتھ یعنی صرف ہمارے ائمہ کے ساتھ خاص ہے بلکہ یہ ایسی صفت ہے جس سے ہروہ شخص بہر مند ہوسکتا ہے جواللہ کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کرے اور اس کےاوامر و نواہی کی اطاعت کرے ۔ اس خدائی عنایت وتوجہ کی ایک بہترین مثال خود قرآن کریم نے سورۂ یوسف کی آیت ۲۳،۲۴ میں بیان کی ہے ۔

علم لدنّی ( اس سے مراد وہ علم ہے جوانسان کو الہام کے ذریعہ بغیر محنت و مشقت کے حاصل ہوجائے) بھی اسی نوع سے ہے ۔ بھلا بغیر کسی جد وجہد اورکوشش و مشقت کے علم حاصل کرنے میں کیا فضیلت ہے ؟ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے بعض علماء نے یہاں تک کہہ دیا کہ امام ہرچیز جانتا ہے اوراسے تمام علوم وفنون کی جانکاری ہوتی ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ امام کے تعلق سے یہ کون سی فضیلت کی بات ہوگی اگروہ انجینئرنگ یا میکینک یا مثلاً جاپانی زبان کا ماہر ہو ۔ امام کی فضیلت تویہی ہوسکتی ہے کہ وہ متقی فقیہ، عالم ربانی اوردینی امورسے کما حقہ آگاہ ہو اور اسی میں ساری فضیلت ہے۔ پھر جب قرآ ن اللہ کے رسول کے بارے میں یہ کہتا ہے جسے روشنی بناکر لوگوں کے لیےبھیجا گیا تھا :۔

وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا  (بنی اسرائیل: ۸۵)

اورتم کو تھوڑا سا علم دیا ہے۔

وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْـتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ  (اعراف: ۱۸۸)

اوراگر میں جان لیتا غیب کی بات توبہت کچھ بھلائیاں حاصل کرلیتا۔

تو ہمیں یہ کیسے گوارہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے اللہ کی طرف ایسی صفات منسوب کریں جو رسول اللہ کی صفات سے بڑھ کر ہوں، رہے معجزات و کرامات جووقتاً فوقتاً انبیائے کرام سے صادر ہوتے تھے اورجن کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے تویہ ان وقتوں کی بات ہے جب آسمانی رسا لتو ں کوانسانی چیلنج در پیش  ہوتے تھے اورجس دور میں انسانوںمیں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ منطق و استدلال کی زبان میں عقلی مطالب اور اعلیٰ فضـائل کوسمجھ سکیںاورانہیں ایمان کی طرف لانا بھی ضروری تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کومعجزات کے انعام سے نوازا تا کہ وہ لوگوں کے لیے حجت بن سکیں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو  ایک دائمی معجزہ دے کر بھیجا جوقرآن کریم ہے اورجوہمیشہ باقی رہنے والا ہے ۔(۱)………اگرچہ ہم اپنے بعض علماء ومراجع کومستثنیٰ قرار دیتے ہیںجنہوںنے نظریاتی و عملی غلو کے تعلق سے منصفانہ اور معتدل موقف اختیار کیا ہے لیکن اکثریت بہرحال شروع سے آخرتک غلو کے راستہ پرچلتی رہی ہے۔ جن باتوں میں زیادہ غلو سے کام لیاگیا ہے وہ یہ ہیں ۔ ۱۔ معصومیت ائمہ  ،۲۔  علم لدنی   ۳۔ الہام  ۴۔ معجزات  ۵۔ غیب کی خبریں ، ۶۔ کرامات،۷۔ قبر و ں کوبوسہ دینا اورحاجت قلبی—جن شیعہ کتب میں غلو کی زیادتی پائی جاتی ہے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ مـثلاً ’’اصول الکافی ‘‘ ’’ الوافی‘‘ ’’ الاستبصار‘‘ ’’ من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ ’’وسائل الشیعہ‘‘ جوشیعوں کے اہم مآخذ ہیں۔(۲) اس کے علاوہ ’’بحار الانوار‘‘ نامی انسائیکلوپیڈیا ہے جسے مولانا محمد باقر مجلسی نے بیس سے زیادہ جلدوں میں عربی زبان میں لکھا ہے ۔ یہ نفع ونقصان کے لحاظ سے ساری کتابوں سے بڑھ کر ہے ۔ اس میں جہاں قابل قدر علمی ورثہ جمع کیا گیا ہے جس سے علماء و محققین فائدہ اٹھاتے ہیں وہیں ایسےمضر رساں اورسطحی اقوال و موضوعات بھی ہیں  جنہوںنے شیعوں اوراسلامی اتحاد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔(۳)

اس کتاب کا دوسرا تباہ کن پہلویہ ہے کہ اس میں خلفائے راشدین پر طعن وتنقید اور بعض مقامات پر تونہایت گندے انداز میں تبصرہ کیا ہے  جس سے نفرت انگیز فرقہ پرستی کے تاجروں کو سنہرا موقع مل گیا کہ وہ شیعوں اورسنیوں کے درمیان دشمنی کی آگ بھڑکائیں …… بحار الانوار جیسی کتاب کی تالیف کا اہم سبب یہ تھا کہ یہ کتاب ایران کے شیعوں اورمسلمانوں کی بھاری اکثریت جن پر پڑوس کی اسلامی خلافت امیرالمومنین کے نام سے حکومت کررہی تھی کے درمیان دائمی اختلاف کی ضمانت  دے رہی تھی ۔

تقریباً تیس برس پہلے جب ایران کے ایک ناشر نے ’’بحار الانوار ‘‘ کو سو جلدوں میں از سر نو شائع کرنے کا پروگرام بنایا تواسی وقت کے شیعوں کے سب سے بڑے رہنما امام طبا طبائی بروگردی نے حکم دیا کہ کتاب کی چھان پھٹک کی جائے اورخلفائے راشدین پر طعن و تعریض کرنے والی ساری روایتیں نکال دی جائیں ۔ لیکن ناشر نے جوفرقہ پرستی کے بڑے تاجروں میں تھا ۔ بدنیت حلقوں کی تائید وتعاون سے کتاب کی طباعت شروع کردی پھر امام بروگردی کے انتقال کے بعد ضرر رساں جلدیں بھی چھپ کر اسلامی کتب خانوں میں پہنچ گئیں۔……ابھی جلدہی مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ کتاب لبنان میں بھی چھاپی گئی ہے اوراس میں اسی حلقہ کا ہاتھ ہے جس کے استعماری حلقوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں اور جن کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ پھوٹ ڈالی جائے۔(۱)

پھر مصنف علام نے اسی باب کے درمیان اور آخر میں ہرفرقہ کے علماء سے اپیل کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے :۔

’’یہاں میں صاف طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ جب میں شیعہ کتابوں کی چھان پھٹک اورانہیں ایسی روایتوں سےپاک کرنے کی اپیل کررہا ہوں جوعقل انسان کو صیقل کرنے کے بجائے اسے بگاڑتی ہیں تب میں ساتھ ہی دیگر اسلامی فرقوں کے علماء سے بھی اپیل کروںگا کہ اپنے طور پر اپنی کتابوں کی چھان پھٹک کریں اور انہیں ان روایات سے پاک کریں جو شیعہ کتابوں میں درج روایات سے مضحکہ خیزی اورحیرت انگیزی میں کسی طرح سے کم نہیں۔میں خدا وند کریم سے دعا کرتا ہوں کہ وہ امتِ محمدیہؐ کے مصلحین کواس کی توفیق دے کہ وہ بھی اس طرح کی کتابوں کی چھان پھٹک کریں تا کہ ہماری مہم اورجامع بن سکے ۔‘‘(۲)

ڈاکٹر موسیٰ موسوی نے ایک عنوان ’ائمہ کی قبروں کی زیارت ‘ کا دیا ہے جس کے تحت فرماتے ہیں:۔

’’آج لاکھوں شیعہ روزآنہ دن رات ایران، عراق اور مدینہ منورہ میں واقع ائمہ کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں اور میرے علم کی حد تک ایک بھی شیعہ ایسا نہیں ہے جواس موقع پر سورۂ فاتحہ یا قرآن کریم کی دیگر سورتیں پڑھتا ہو، بلکہ صدیوں سے شیعوں میں یہ رواج ہے کہ جب وہ اپنے ائمہ کی قبروں کے سامنے پہنچتے ہیں تو وہ لمبی لمبی عبارتیں پڑھتے ہیںجنہیں ’’زیارت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اوران میں ائمہ کی مدح سرائی اوران کے دشمنوں کی مذمت اور آخر میں تھوڑی سی دعا ہوتی ہے ۔ کم ہی شیعہ گھرانے ایسے ہوں گے جن میں ’مفاتح الجنان‘ نہ ملے جس میں ائمہ  اوران کی اولاد کے لیے سینکڑوں ’’زیارتیں ‘‘ جمع کردی گئی ہیں اورکم وبیش تھوڑے فرق کے ساتھ سب کی عبارتیں یکساں ہیں ۔ آئیے ہم ایک ’’زیارت ‘‘ (جامعہ کبیرہ) کے بعض حصے پڑھیں جو سب سے اہم ’زیارت ‘ مانی جاتی ہے۔

’’آپ پرسلامتی ہو جو نبوت کے اہل بیت ہیں ، رسالت کا مرکز ہیں، وحی اور فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہیں…..اللہ تعالیٰ کے امین نبیوں کے خاندان سے اور مرسلین میں منتخب اوررب العالمین کے منتخب کردہ خاندان کے ہیں…..میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہدایت یافتہ، معصوم، مکرم، مقرب، متقی اور سچے امام ہیں……آپ سے روگردانی کرنے والا بدبخت آپ کومضبوطی سے پکڑنے والا خوش نصیب اور آپ پر اعتراض کرنے والا مٹ جانے والا ہے ۔ حق آپ کے ساتھ اورآپ کےاندر ہے اورآپ ہی سے نکلتا ہے اورآپ ہی کی طرف لوٹتا ہے ۔ آپ ہی اس کے حقدار اوراس کے سرچشمہ ہیں، نبوت کی میراث آپ کے پاس ہے ، خلق کی نشانیاں اوران کا حساب آپ کے ذمہ ہے‘‘ ……(مفاتیح الجنان ۔ القمرص ۱۰۰۸)   (جاری)

اکتوبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau