عقیدۂ توحید اور وحدتِ اُمت

(10)

احراز الحسن جاوید

مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ جانشین مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں:۔

’’حکومت الٰہیہ کا قیام جملہ انبیاء کی دعوت کا جزءرہا ہے ۔ آسمانی شریعتوں کے نزول کا مقصد ہی یہی ہے کہ انسان دنیا میں منشاء خداوندی کے مطابق زندگی گزارے اورجس طرح زندگی کا ایک شعبۂ شخصی اورگھریلو زندگی ہے اسی طرح سماجی اور ملکی زندگی بھی ہے ۔ جملہ انبیاء کی دعوت یہ تھی کہ انسان زندگی کے تمام شعبے قانون الٰہی کے مطابق ہوںوہی فطرت انسانی کے لیے سامان تسکین  بہم پہنچا سکتا ہے ۔اگرانسان اپنے خود ساختہ قوانین سے منشائےالٰہی کی تکمیل کرسکتا اوراپنی فطرت کے لیے سامان تسکین مہیا کرسکتا تورسولوں کوبھیجنے اور آسمانی کتابیں نازل کرنے اوران میں نظامِ سلطنت اورقوانین حکومت بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ اگرانبیاء ورسل کی ضرورت اوروحی کی طرف احتیاج مسلم ہے تودنیا میں نظامِ سلطنت منشائے خداوندی کے موافق قائم کرنا اوراس کے خلاف دوسرے نظاموں کو مٹانا یا مغلوب کرنا بھی ضروری ہے ۔‘‘(۱)

مولانا حسین احمد مدنیؒ فرماتے ہیں:۔

’’اسلام نے کسی صورت میں بھی غلامی پر قناعت نہیں کی بہت سی نصوص سے دلالۃً اورصراحۃً ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا تقاضا حکومت اورسربلند ی ہے ۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے ۔

ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۭ وَكَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًا۝۲۸ (سورۂ الفتح :۲۸)

’’وہی ہے جس نے اپنا رسول بھیجا سیدھی راہ پر اورسچے دین پر تاکہ اوپر رکھے اس کو ہر دین سے اوراللہ تعالیٰ کافی ہے اورحق ثابت کرنے والاہے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :۔ الاسلام یعلو ولایعلیٰ۔ (سربلندی تواسلام ہی کوہے ، کوئی اس پرحاکم نہیں)

اگرکسی اسلامی ملک پر کفار کا ہجوم ہوتو مسلمان پر ان کا دفع کرنا اوران سے جہاد کرنا فرض عین ہوجا تا ہے ، اگر اس ملک کے مسلمان تساہل سے کام لیں توبہ تدریج تما م مسلمانانِ عالم پر یہ فرض عاید ہوجاتا ہے (در مختار حاشیہ رد المحتارجلد ۳ص ۳۰۶ عالمگیری)

اس لیے ہندوستان کے تمام مسلمانوں کافرض ہے کہ اس ملک کوکفار کے تسلط سے نجات دلانے کے لیے احکام کفار کی نافرمانی سے لے کر جہاد باالسلاح تک جوذریعہ مفاہمت بھی ان کے امکان میں ہو اس کوکام میں لائیں ۔ مسلمانانِ ہند کی اجتماعی قوّت اوران کے موجودہ سیاسی احوال کے پیشِ نظر چوںکہ ہندوستان کے علماء اورتمام اہل الرائے حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ حکومت مسلطہ کے خلاف متشد دانہ ذرائع سے جنگ کرنا مسلمانوں کی وسعت وطاقت سے باہر ہے اس لیے ہر امن ذرائع ہی اختیار کرنا مسلمانوں کا فریضہ ہے ۔ بلاشبہ اسلامی قوانین ہی دنیا کے لیے حقیقی امن وسلامتی کے ضامن ہیں۔ ہندوستان کی مشترکہ حکومت میںان قوانین کی حاکمیت مطلقہً قائم نہ ہوگی اورنہ حدود شرعیہ جاری ہوںگی ۔ لیکن یہ خود مسلمانوں کا علمی وعملی فریضہ ہے کہ وہ دوسری قوموں سے اسلامی قوانین کی یہ حیثیت تسلیم کرائیں۔ اہون البلتین آخری منزل مقصود نہیں ہوسکتی ۔(۱)

مولانا عبدالماجد دریابادی ؒ فرماتے ہیں:۔

’’مسلمانوں کا سیاسی آئیڈیل ومطمح نظر کیا ہونا چاہیے ؟ جواب جامع اور دو لفظی صرف ایک ہی ہے۔ اسلام کی حکومت ، قرآن کی بادشاہت بس اس کے سوا کوئی اورنصب العین ناممکن ہے، نہ اب تک پیش ہوا ہے ۔ اس حقیقت کے ذہن نشین ہوجانے کے بعد اس طبقہ کی غلطی اورغلط روی از خود واضح ہوجاتی ہے جس نے اس سے کم ترکسی نصب العین پرقناعت کرلی ۔ یا کسی غیر اسلامی حکومت کوتسلیم کرکے اس کے اندر مسلمان نامی ایک قوم کی محض دنیوی سربلندی و خوشحالی کواپنا مقصود بنا رکھا ہے ۔ مسلمان تو صرف اللہ کا بندہ ہے ، اللہ کا غلام ہے ۔ اللہ کی رعایا ہے ، اس کا قانون صرف قرآن کا قانون ہے ۔ اس کا ضابطۂ تعزیرات ضابطۂ مال، ضابطۂ دیوانی صرف قانونِ شریعت ہے ۔ یعنی کتا ب وسنت او ران کے استنباط اسے چھوڑکر کسی غیر اسلامی نظام کے ماتحت اعلیٰ وادنیٰ ملازمتوں پر قانع ہوجانا تونہیں ہے اس کی اسلامیت کی اور تحقیر ہے اس کے مرتبۂ خلافت الٰہی ونیابت خداوندی کی ۔‘‘(۲)

مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کی صدارت میں اکتوبر ۱۹۴۵ء میں آل انڈیا جمعیۃ الاسلام کا ایک بہت بڑا اجلاس کلکتہ میں ہوا تھا جس میں پانچ سو سے زیادہ علماء و مشائخ اطراف ہند سے جمع ہوئے تھے اور پچا س  ہزار سے اوپر مسلمانوں نے اس میں شرکت کی تھی ۔ اس موقع پر اتفا قِ رائے سے جوتجویز پاس ہوئی وہ درج ذیل ہے۔

موتمر کل ہند جمعیۃ العلمائے اسلام (آل انڈیا جمعیۃ العلماء کانفرنس) کا یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کاسیاسی ودینی نصب العین عالم گیر خلافتِ اسلامی علی منہاج نبوت محمدی کی تاسیس اور شریعت اسلامیہ کے نظام کا قیام ہے اورلازم وضروری ہے کہ مسلما ن انفرادی اوراجتماعی طور پر اس نصب العین کوحاصل کرنے اور تاسیس خلافت کے ذریعہ عالم اوراسلام کی مرکزیت قائم کرنے کے لیے فی سبیل اللہ  جدوجہد جاری رکھیں ۔ موتمر اپنے اس ایمان کا اعلان کرتی ہے کہ عالم اسلام کے لیے اس کے سوا کوئی مضر نہیں ہے اورانسانیت کی نجات اس کے سوا ممکن نہیں ہے کہ خلافتِ اسلامیہ علیٰ منہاج نبوت محمدیہ کی عالم گیر سلطنت ودستور اساسی دنیا میں قائم کیا جائے۔(۱) (خطبات علامہ شبیر احمد عثمانی ’’پیغام‘‘ ص ۴۵۔۴۲)

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایران کے قائد اسلامی انقلاب جنہیں امام روح موسوی خمینی کہا جاتا ہے ان کے خیالات بھی سامنے رکھ دیے جائیں یہ خیالات انقلاب سے پہلے کےہیں جنہوں نے ذہن سازی کرکے اس کے لیے راہیں ہموار کیں۔ وہ کہتے ہیں۔

’’امام کی غَیبت  کے زمانے میں اس کی نیابت کے بارے میں کسی خاص شخص کے حق میں نص کے موجود نہ ہونے کے باوجود کیا کسی ایسے شخص کی اہلیت رکھتا ہوزیادہ سے زیادہ ان اعلیٰ اوصاف کا لحاظ نہیں کیا جاسکتا جوکسی شرعی حاکم  کےلیے ضروری ہیں۔ ان اوصاف سے مراد شریعت کا علم اورعدالت ہے ۔ یہ اوصاف ہمارے موجودہ دور کے فقہاء عظام میں یقیناً موجود ہیں۔ اگران اوصاف کے حامل فقہاء سر جوڑ کر بیٹھیں اورباہم مشورہ کریں تودنیا بھر میں عدل وانصاف اور مساوات قائم کرنے والی ایک بے نظیر عالمی حکومت کا قیام واستحکام ممکن ہے ۔ کوئی چیز اس میں سد راہ نہیں بن سکتی ۔(۲)

اللہ تعالیٰ نے غیبت امام کے زمانے میں اسلامی حکومت کی تشکیل جسےاس نے آیت کریمہ  شَرَعَ لَکُمْ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖ اِبْرَاہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی اَنْ اَقِیْمُوْ الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ (اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوحؑ کو د یا تھا اورجسے اے محمد! اب تمہاری وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اورجس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اور موسیؑ اور عیسیؑ کو د ے چکے ہیں۔ اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کواور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ) میں ان اقیمواالدین کہہ کر فرض قرار دیا ہے ۔ (۳)

جب تک اسلامی نظام قائم نہ ہو خدا سے بے نیاز اور طاغوتی حکومتوں کے لیے انہوں نے چار نکا تی حکمت عملی اس طرح بتائی ہے :۔

’’ظالم و بے لگام حکومتیں جن کے یہاں قانون کا سرچشمہ ایک مطلق العنان فرد واحد ہوتا ہے جن پر ایسے لوگوں کا گروہ قابض ہوجاتا ہے ۔ جو خدا کی شریعت سے بے نیاز ہوکر ملک میں من مانیاں کرتے رہتے ہیں۔ خدا کی ایسی باغی حکومتوں کے لیے ہمارے پاس چارنکاتی پروگرام ہے:۔

۱۔             خدا کی باغی حکومتوں کے زیر انتظام چلنے والے تمام اداروں( انتظامیہ ، مقننہ اور عدلیہ ) کا مقاطعہ کیا جائے ۔

۲۔        ان اداروں سے ہر لحاظ سے عدم تعاون کا طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔

۳۔  حکومت کے ہر اس اقدام سے لا تعلقی اور علاحدگی اختیار کی جائے جس کے مفید نتائج بالآ خر حکو مت کے حق میں جاتے ہوں۔

۴۔  نئے سیاسی، علمی اقتصادی اورعدالتی ادارے اورتنظیمیں قائم کی جائیں۔(۱)

ایک دوسرے عالم جنہوں نے انقلاب ایران میں علامہ خمینی کے ساتھ مل کر اہم رول ادا کیا تھا جناب آیت اللہ یحییٰ نوری ان کا بیان بھی دیکھتے چلیے ۔ فرماتے ہیں:۔

’’بعـض مسلمان مفکرین کا خیال ہے کہ دورِ حاضر میں حقیقی اسلامی حکومت کا قیام نا ممکن ہے ۔ مجھے اس بات سے اختلاف ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرایک بار اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آجائے تواس کی بے پناہ افادیت لوگوں کوخود بخود اپنا قائل کرے گی ۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ مسلمان اجنبی سیاست اور ثقافت کی بالادستی کا جواپنی گردنوں سے اتار پھینکیں اورمشرقی ومغربی نظریات کوتیاگ کر اسلام کی اعلیٰ قدروں کی طرف رُخ کریں۔ مگر یہ کام اس لیے مشکل ہوچکا ہے کہ جدید مسلمان حکومتیں سامراجی طاقتوں کے زیر اثر ہیں اوربعض ان کے مفادات کے لیے کام کررہی ہیں اگروہ حقیقی آزادی و خود مختاری کے راستے کواپنالیں تو حقیقی اسلامی حکومتوں کے قیام میں کوئی دشواری حائل نہیں ہوسکتی ۔ بہر حال ہمیں اس صورتِ حال سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ بلکہ خدا تعالیٰ سے استقامت طلب کرنی چاہیے کہ وہ ہماری مدد کرے۔‘‘(۲)

اصلاح دنیا کے لیے سیاسی طاقت کی ضرورت

اِنَّ اللہَ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَا لاَ یَزَعُ بِالْقُرْآنِ

اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سد باب کردیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں کرتا (حدیث)(۱)

اللہ سے کیا ہوا عہد وفا یاد کریں!

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کواس دنیا میں بھیجنے سے پہلے قیامت تک پیدا ہونے والی نسل آدم کو بیک وقت پیدا کرکے ان سے عہد لیا تھا کہ اللہ واحد القہار ورحمٰن ان کا رب ہے یا نہیں؟ اورسب نے جواب دیا تھا کیوں نہیں اورہم اس پرگواہ ہیں ۔ قرآن پاک میںاسے  اس طرح بیان کیا گیا ہے :۔

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّيَّــتَہُمْ وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ۝۰ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ۝۰ۭ قَالُوْا بَلٰي۝۰ۚۛ شَہِدْنَا۝۰ۚۛ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اِنَّا كُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِيْنَ۝۱۷۲ۙ اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّۃً مِّنْۢ بَعْدِہِمْ۝۰ۚ (الاعراف:۱۲۷۔۱۷۳)

’’اور اے نبی! لوگوں کویاد دلاؤوہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالاتھا اورانہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا ، ’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘ انہوںنے کہا ضرور، آپ ہی ہمارے  رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہدو کہ ’’ہم تواس بات سے بے خبر تھے‘‘ یا  یہ نہ کہنے لگو کہ ’’شرک کی ابتدا توہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے۔‘‘

یہ توحید کوماننے اورشرک سے دور رہنے کا اوّلین عہد تھا کہ ایک رب کی بندگی انہیں ہر معاملہ میں ساری زندگی کرنی ہوگی ۔ انسان اپنی اصل فطرت پر چاہے جتنے پردے ڈال لے لیکن یہ بات وہ اچھی طر ح جانتا ہے کہ کسی بھی انتظامی امور کو انجام دینے کے لیے کبھی بھول کر بھی وہ بیک وقت دو ذمہ دار نہیں بناتا بلکہ ہمیشہ ایک ہی فرد کوذمہ دار بناتا ہے ۔ کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی ملک کے دو صدر یا دو وزیر اعظم بیک وقت ہوں یا کسی یونیورسٹی کے بیک وقت دو وائس چانسلر ہوں۔ گویا انسانی فطرت کسی ایک ہی کوذمہ دار بنانا پسند کرتی ہے اوروہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگردو ذمہ دار کسی بھی طرح ہوگئے تووہاں کبھی  نظم ونسق درست نہیں رہ سکتا ۔ یہیں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس کی فطرت میں توحید موجود ہے اورشرک بالکل غیر فطری نظریہ ہے ۔

اللہ تعالیٰ ارض وسموات نے اس عہد کواپنی کتاب پاک میں بار بار یاددلایا ہے ۔ ایک جگہ فرمایا :

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَہْدِ اللہِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ۝۲۰   (الرعد:۲۰)

’’اور ان کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑنہیں ڈالتے۔‘‘

امتِ مسلمہ کووجود میںلانے سے پہلے اللہ نے جب امامت کا تاج بنی اسرائیل کے سرپر رکھا تو ان سے بھی اپنی بندگی کا عہد لیا تھا جس کا تذکرہ قرآن پاک اس طرح کرتا ہے :۔

وَاِذْاَخَذْ نَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لاَ تَعْبُدُوْنَ اِلاَّ اللہَ (بقرہ:۳۹)

’’یاد کرو اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔‘‘

اللہ نے بنی اسرائیل  پر بہت بڑے بڑے احسانات کیے تھے جن کا تذکرہ سورہ بقرہ میں بڑی تفصیل سے آیا ہے ۔ سب سے بڑا احسان ان پریہ کیا تھا کہ انہیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا اوروہ محکومی و ذ لت کی زندگی گزاررہے تھے انہیں حضرت موسیٰ کے ذریعہ آزادی دلائی اور ان کے سب سے بڑے دشمن فرعون کواس کے پورے لشکر کے ساتھ دریائے نیل میں غرق کرکے انہیں غلامی سے نجات دلائی ۔ آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ مؤمن کے لیے کسی غیر اسلامی نظام کی محکومی اورغلامی سب سے بڑی ذلت ہےجس میں وہ پوری یکسویٰ کے ساتھ ایک اللہ کی عبادت مکمل طور پر نہیں کرسکتا ۔ بنی اسرائیل پر صرف اتنا ہی احسان نہیں کیا بلکہ مصر سے نکال کر انہیں معاشی فکروں سے بے نیاز کردیا اور ان پر مدتوں  من وسلوی کی بارش کرتا رہا تا کہ وہ پوری یکسوئی اوراطمینان سے اپنی تربیت وتزکیہ کریں اور احکامِ الٰہی کی پورے خلوص کے ساتھ تعمیل کرسکیں ۔ لیکن غلامی کی زندگی گزارتے گزارتے ان کی فطرت اتنی  بگڑ چکی تھی کہ مصر سے نکلتے ہی انہوں نے  راستے میں ایک مشرک قوم کوبتوں کی پوجا کرتے دیکھا توحضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی جوتوحید کی دعوت لے کر آئے تھے انہیں سے فرمائش کربیٹھے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا ہی معبود بنادو جیسے ان کے ہیں۔ اس فرمائش پر حضرت موسیٰ نے انہیں سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تم کیسے جاہل ہو جوطریقہ تمہیں برباد کر دینے والا ہے اس کی فرمائش کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ نے دنیا کی ساری قوموں پر تمہیں فضیلت بخشی ہے ’’تم ایک اللہ کی عبادت کرو۔ اور غلط بات پر اصرار مت کرو۔ ‘‘(اعراف :۳۸تا۴۰)

انہیں اللہ نے آزادی کی جونعمت عطا کی تھی اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم نبی سے اسلام کی صحیح تعلیمات حاصل کرتے ‘ ان پر عمل کرنا سیکھتے اورخلافت کا حق ادا کرتے ۔ لیکن ان کی ذہنی کجروی کا یہ عالم تھا کہ باوجود حضرت موسیٰ ؑ کی تنبیہات اورفہمائش کے جب اللہ نے انہیں تورات دینے کے لیے چالیس شب وروز کے لیے کوہِ طور پر بلایا توان کی غیر موجودگی میں ان کے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے منع کرنے کے باوجود گائے کواپنا معبود بنا بیٹھے ۔(بقرہ: ۵۱‘طہٰ۸۷تا۹۱)

اللہ تعالیٰ مسلسل ان پراحسانات کرتا رہا ان سے اپنی بندگی کی عہد لیتا رہا تھا یہاں تک کہ کوہ طور کو ان کے اوپر اُٹھا کر پکا عہد لیا ۔ لیکن وہ قوم اپنی نافرمانیوں پراتنی ڈھیٹ اوربے مثال تھی کہ اللہ سے پکا عہد کرنے کے بعد اسے توڑتی رہی اور اس زعم وغرورمیں مبتلا ہوگئی کہ وہ اللہ کے چہتے ہیں انہیں دوزخ کی آگ میں نہیں ڈالا جائےگا اورڈالے بھی گئے توبس چند روز کے لیے اس میں رہیں گے ۔(بقرہ:۸۰ )  وہ آج بھی  اپنے آپ کواسی مقام پر فائز سمجھتے ہیں اوردنیا کی ہرقوم کواپنا غلام اورحقیر جانتے ہیں ۔ اللہ نے انہیں منصب امامت سے ہٹا کردوسروں کوسپرد کیا وہ یہود تھے جواس عہد پر قائم نہیں رہے اور اس ’عہد‘ کی بیشتر باتیں فراموش کردیں۔ان دونوں گروہوں کواللہ نے اس منصب سے معزول کردیا اور ایک گروہ کا مغضوب علیہم اوردوسرے گروہ کا ضآلین میں شمار ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل سے دونوں گروہوں کے عروج وزوال کی مستند تاریخی داستان اپنی کتاب پاک میں بیان کرکے مسلمانوں کو یہ بتادیا ہے کہ ان کے نقش قدم کی پیروی تمہارے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے اورہلاکت کا باعث ہوگی۔ تمہارے لیے صحیح ترین نمونہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہے جسے اختیار کرکے تم دنیا میں عروج کی بلندیوں تک پہنچوگے اورآخرت میں کامیابی  بھی اس کے صلہ میں ملے گی اورسب سے بڑی کامیابی آخرت کی ہی ہے ۔ دنیا میں کامیابی ملے یا نہ ملے تمہاری ساری کوششوں کا محور آخرت کی زندگی ہونی چاہئے ۔ وَالٰاَخِرَۃُ خَیْرٌوَّاَبْقٰی۔

دنیا کی عمرتمام ہوچکی ہے ۔ یہ آخری زمانہ ہے ۔ اللہ نے اپنے آخری نبی کوبھیج کر امت مسلمہ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کردی ہے جب تک اسلام نہیں آیا تھا باوجود دنیا کا بیش بہا سازو سامان دینے کے اس کی نعمتیں تمام نہیں ہوئی تھیں ۔ دین اسلام اللہ کی طرف سے بخشی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے جسے اللہ خالق کائنات نے اپنے نبی کے ذریعہ نازل کرکے یہ فرمادیا :۔

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا(المائد:۳)

’’آج میں نے تمہارے دین کوتمہارے لیے مکمل کردیا ہے اوراپنی نعمت تم  پر تمام کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کودین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ۔‘‘

اللہ نے اپنے دین کوصرف کامل ہی نہیں بلکہ ’اکمل‘ قرار دیا ہے ۔ اسی طرح اس کے نبی کا اسوۂ حسنہ ‘ صرف حسنہ نہیں بلکہ کامل ترین نمونہ یعنی وہ بھی اکمل ہے ۔ جوہر اعتبارسے مکمل ہے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی ہے اوراس میں کسی چیز کوبڑھانے کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ تزکیہ نفس کے لیے تصوّف کے نام سے بہت سی چیزیں بڑھا دی گئی ہیں۔ ہمیںاسی ’اکمل ‘ نمونہ کی ہرطرف سے نگاہیں پھیر کر مکمل یکسوئی کے ساتھ پیروی کرنے کا قرآن پاک میں حکم دیا گیا ہے :۔

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝۰ۥۙ حُنَفَاۗءَ  (البینہ:۵)

’’اوران کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دینِ کواس کے لیے خالص کرکے بالکل یکسو ہوکر‘‘

اس آیت میں ’مخلص‘ اور’حنفاء‘ کے دو الفاظ بہت معنیٰ خیز ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک اللہ کی اطاعت بغیر کسی ادنیٰ آمیزش کے مکمل یکسوئی کے ساتھ کی جائے ۔ یہی بات سورۂ روم آیت ۳۰اور دیگر سورتوں میںالفاظ بدل کر کہی گئی ہے مثلاً سورۂ انعام :۱۶۱اورآگے ۱۶۲،۱۶۳وغیرہ ۔ ایک اللہ کی اطا عت مکمل یکسوئی اوربغیر کسی آمیزش کامطلب یہ ہے کہ ہمارے دل ، دماغ اور نگاہ کا مرکز کسی دوسری جانب نہ ہو اورہر وہ فلسفہ، نظریہ اورطریقہ جودنیا میں رائج اورمقبول ہے ان سب کی طرف سے دل و دماغ اور نگاہ کوہٹاکر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےطریقے پرنظریں جمی رہیں اوراخلاص یہ ہے کہ ساری رضائے الٰہی کے علاوہ کسی دوسرے جذبے سے نہ ہو۔سب طرف سے  پھیر کر ایک اللہ کی طرف پوری یکسوئی کے ساتھ عمل کرنے کا عہد مسلمانوں سے بھی لیا گیا ۔ قرآن پاک میں مسلمانوں کومکمل اسلام کی نعمت عطا کرنے کے بعد اس کی تاکیداً یاددہانی کرائی گئی ہے فرمایا :۔

وَاذْكُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَہُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِہٖٓ۝۰ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۝۰ۡوَاتَّقُوا اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۝۷   (المائدہ: ۷)

اللہ نےتم کو جونعمت عطا کی ہے اس کا خیال رکھو اوراس پختہ عہد وپیمان کونہ بھولو جواس نے تم سے لیا ہے ، یعنی تمہارا یہ قول کہ!’’ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی ‘‘ اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے ۔‘‘

اس عہد سے راہ فرار اختیار کرنے والا ذہن یہ اشکال پیش کرسکتا ہے کہ یہ تونزول قرآن کے وقت زمانۂ رسالت کے مسلمانوں یعنی صحابہ کرام سے لیا گیا تھا آج کے مسلمان اس کے مخاطب نہیں۔ لیکن یہ سوچنا اورکہنا محض سطحی فہم کا نتیجہ ہوگا ۔ کلمہ طیبہ لا الٰہ اللہ کا اقرار ایک ان پڑھ مسلمان بھی کرتا ہے اوریہ اس بات کا عہد ہے کہ وہ ایک اللہ کی ہر معاملہ میں اطاعت کرے گا اورصرف اتنا ہی نہیں بلکہ نماز پڑھنے والا ہر مسلمان ہر دن اوررات میں متعدد بار اللہ سے یہ عہد کرتا ہے   اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ(ہم تیر ی ہی عبادت کرتے ہیںاور تجھی سے مدد مانگتے ہیں ) اس کے بعد پھر کسی اشکال کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

اس کے ساتھ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:

اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ (آل عمران:۱۹)

’’اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔‘‘

اس کے بعد سختی سے یہ تنبیہہ بھی کردی کہ :۔

وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۝۰ۚ وَھُوَفِي الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝۸۵  (آل عمران:۸۵)

’’اس فرمان برداری (اسلام )کےسوا جوشخص کوئی اورطریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔‘‘

امتِ مسلمہ کومنصبِ امامت پرفائز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسے تین اعزازی القاب سے نوازا ہے :۔(۱) امت وَسَط(بقرہ:۱۴۳)(۲) خیرامت: آل عمران۱۱۰) (۳) حزبَ اللہ: مجادلہ ۲۲)

۱۔ امت وَسَط کا مفہوم یہ ہے کہ یہ امت ہرطرح کی اعتقادی وعملی افراط وتفریط اورغلوسے بچتے ہوئے عدل واعتدال کے طریقے پر گامزن رہے ، قول سے زیادہ اپنے عمل سے عدل وصداقت کی گواہی دے اوراپنے مخالفین اوردشمنوں سے بھی انصاف کرے۔یہ کہنا جتنا آسان ہے اس پر عمل کرنا بڑے حوصلے اوراوالوالعزم کا کام ہے ۔

۲۔ خیر امت کا مطلب ہے کہ یہ امت، صرف ایک اللہ کوہی رب اورحاکم مانتی ہے اس  لئے اس کے بتائے ہوئے معروفات اوربھلائیاں جن کوقائم کرنے اور وہ تمام برائیاں جومنکرات کی شکل میں دنیا میں پائی جاتی ہیں انہیں ختم کرنے میں پوری جانفشانی سے لگی رہے گی جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے اور اس کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا اعلیٰ اخلاق ہوتا ہے جواپنی ایک امتیازی شان رکھتا ہے ۔

۳۔ حِزْبَ اللہ کے معنیٰ یہ ہیں وہ اللہ والوں کی جماعت اورپارٹی کے لوگ ہیں جواسلام کے علاوہ کسی دوسرے نظریہ کونہ تومانتے ہیں اورنہ اس کی طرف دیکھتے ہیں ۔ ان کی تمام مساعی کا رخ اسلام کو سربلند کرنے میں لگا ہوتا ہے وہ اسلام کے علاوہ ہراس نظام کو بدلنے اوراسے اکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتے ہیں جوخدا سے بے نیاز اوراس کے احکام سے بغاوت پر مبنی ہووہ کبھی غیر اسلامی اصولوں سے سمجھوتا نہیں کرتے اوران تمام رشتوں کوبھی ختم کردیتے ہیں جوان کے اصولوں کے آڑے آئیں۔

یہ تینوں صفاتی نام ہیں اگریہ صفات امت مسلمہ میںپائی جاتی ہیں تبھی وہ ان ناموں سے موسوم ہونے کا حق رکھتے ہیں اوراگر یہ صفات نہیں پائی جاتیں توان کا اوّلین فریضہ ان صفات کواپنے اندر پیدا کرتا ہے ورنہ وہ محض حسن وخاشاک کا ڈھیر ہیں جنہیں ایک ہوا کا ایک جھونکا اڑا کر دور پھینک سکتا ہے اوراگروہ ان صفات کے حامل ہیں توایک مضبوط اورتناور درخت کی مانند ہیں جس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں پیوست ہوں اورجسے بڑے سے بڑے طوفان بھی اپنی جگہ سے ہلانہیں سکتے۔

اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑنے کا انجام

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے اللہ اوراس کے رسول سے کیے ہوئے عہد کو فراموش کررکھا ہے ۔ اس لیے حالات کے تھپیڑوں میں ثابت قدم رہنے کے بجائے ’ثمن قلیل‘ پر اپنے ایمانوں کا سودا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ایسے مسلمانوں کے لیے اللہ نے اپنی کتاب پاک میں فرمایاہے :۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِہٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللہُ بِقَوْمٍ يُحِبُّہُمْ وَيُحِبُّوْنَہٗٓ۝۰ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ۝۰ۡيُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗىِٕمٍ۝۰ۭ  (المائد:۵۴)

’’اے لوگو!جوایمان لائے ہواگرتم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (توپھرجائے) اللہ  بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جواللہ کومحبوب ہوں گے اوراللہ ان کو محبوب ہوگا ۔ جو مومنوں پرنرم اور کفار پر سخت ہوں گے۔ جواللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔‘‘

ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔

وَلاَ نَقَضُوْاعَہْدَ اللہِ وَعَہْدَ رَسُوْلِہٖ اِلَّا سُلِّطَ عَلَیْہِمْ عَدُوٌّ مِنْ غَیْرِ ہِمْ فَیَأَخُذُ بَعْضَ مَا فِی اَیْدِیْہِمْ ، وَمَالَمْ تَحْکُمْ أَئِمَّتُہُمْ بِکِتَابِ اِلَّا جُعِلَ بَأَسُہُمْ بَیْنَہُمْ (بیہقی ۔ ابن ماجہ)

’’اللہ ورسولؐ سے غداری اورعہد شکنی ۔ یہ خرابی جب رونما ہوتی ہے تواللہ ان کے اوپر غیر مسلم دشمن کو مسلط کردیتا ہے جوان کی بہت کچھ چیزیں چھین لیتا ہے ۔ اگرمسلمان حکمراں خدا کی کتاب کے مطابق حکومت نہ کریں تواللہ مسلم معاشرے میں پھوٹ ڈال دیتا ہے اوروہ آپس میں کشت وخون کرنے لگتے ہیں۔‘‘

مشمولہ: شمارہ جنوری 2016

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau