تحرّک بالقرآن -ایک کامیاب تجربہ

سمیہ رمضان احمد

تحرک بالقرآن و الحدیث کا دورہ مکمل کرکے طالبات اس کی عملی تطبیق کے لیے اپنے گھروں کو واپس چلی گئیں۔  معلّمات نے ان کو دوبارہ آنے کے لیے وقت دے دیا تھا۔  کچھ عرصہ بعد طالبات طے شدہ وقت پر اس اجتماع میں حاضر ہو گئیں۔  مقصد یہ تھا کہ ہر طالبہ نے دورۂ تربیت میں جو کچھ پڑھا اور سیکھا تھا اُس کے انطباق اور عملی اطلاق کے دوران اسے جو تجربہ ہوا، اُسے ایک اجتماعی ملاقات میں بیان کیا جائے۔  معلّمات کی موجودگی میں بتایا جائے کہ تحرک بالقرآن و الحدیث کے تجربات میں کہاں تک کامیابی ملی؟ کس طرح کے مسائل و مشکلات کا سامنا رہا؟ ان باتوں کو اجتماعی طور پر بیان کرنا مقصود تھا تاکہ معلّمات اس پر رہنمائی دے سکیں اور طالبات ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔

اس اجتماع میں بیان کیے گئے تجربات میں سے ایک طالبہ کا تجربہ اُسی کے طرزِ بیان میں پیش کیا جاتا ہے۔  یہ ایک امریکی یونی ورسٹی کی ایک طالبہ کا تجربہ ہے۔  یہ لڑکی محسوس کرتی تھی کہ اُس کی یونی ورسٹی پروفیسر ہمیشہ اُس کے جواب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی اور اُس کے ساتھ ناروا سلوک کرتی ہے لیکن اس نفرت اور بے جا سختی کا سبب لڑکی کو معلوم نہیں تھا۔  اُس کا خیال تھا کہ شاید میرا امتیازی اسلامی تشخص اس کی وجہ ہے؟ لیکن اِس حلیے اور تشخص کی اور بہت سی طالبات بھی تھیں۔  ان کے ساتھ تو ایسا معاملہ نہ تھا۔  ایک بات یہ اُس کے ذہن میں آئی کہ وہ اسلامی مسائل پر جرأت مندی سے بحث کرتی ہے، ہو سکتا ہے یہ سبب ہو؟مگر اس معاملے میں بھی وہ تنہا نہیں تھی۔  طالبہ نے سوچ بچار کے ذریعے اس مشکل کا سبب معلوم کرنے کی بہت کوشش کی مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی جس کی بنیاد پر وہ اس مشکل کا فوری ازالہ کر سکتی۔  پروفیسر کی طرف سے ہونے والی سختی کا عالم یہ تھا کہ طالبہ نہایت محنت اور مشقت سے جو تحقیقات تیار کرتی اور جن کے اوپر سالانہ کامیابی کا انحصار ہوتا، پروفیسر ان کو بھی کسی تجزیے اور تحلیل کے بغیر مسترد کر دیتی۔  یہ بات طالبہ کے لیے نہایت پریشان کن اور قلق و اضطراب کا باعث تھی۔  پروفیسر کے اس رویے سے طالبہ کے لیے کس قدر مشکلات و مسائل پیدا ہوئے، اس کا انداز ہ نہیں کیا جا سکتا۔

طالبہ نے دورۂ تحرک بالقرآن و الحدیث میں شرکت کے دوران جو کچھ پڑھا اور سنا اُس کی شدید تمنا تھی کہ کاش وہ اپنی زندگی میں اس کی تطبیق کا تجربہ کر سکے۔  مگر مشکل یہ تھی کہ کوئی ذریعہ اور وسیلہ ایسا پیدا نہیں ہو رہا تھا جس کا سہارا لے کر وہ یہ تجربہ کرتی۔  جب بھی اُس کی پروفیسر کا کوئی مسئلہ اُس کے نزدیک اہم ہوتا وہ تحرک بالقرآن و الحدیث کے طریق سے اُس کا حل تلاش کرنے لگتی مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ پاتی۔

ایک روز پروفیسر معمول کی نسبت کچھ زیادہ پریشان اور غمگین تھی۔  اُس نے طلبہ کو بتایاکہ اُس کا بیٹاچار سال کا ہے۔  وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا ہے کہ اُسے بولنے میں رکاوٹ ہے۔  اُس کی حالت روزبروز بگڑتی جا رہی ہے۔  یہ وہ چیز ہے جس کے سبب اُس کا رویہ طلبہ کے ساتھ بعض اوقات منفی ہو جاتا ہے۔  لہٰذا اس معاملے میں طلبہ اُسے معذور سمجھیں۔

مسلمان طالبہ کو فوراً ایک لڑکی یاد آ گئی جس کا بچہ بالکل اسی مرض میں مبتلا تھا۔  طالبہ کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی گردش کرنے لگا:

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔ (حم السجدہ۴۱:۳۴)

’’تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔  تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ ‘‘

طالبہ نے محسوس کیا کہ بالآخر اُس کی گمشدہ شے اس کے ہاتھ آ گئی ہے۔  اُس نے اِسی آیتِ قرآن پر عمل کے ذریعے اپنی پروفیسر کی مدد کا عزم کر لیا۔  وہ فوراً کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ گئی اور نیٹ سے وہ تمام معلومات جمع کرنے لگی جس کی پروفیسر کو اپنے بچے کے علاج میں ضرورت تھی۔  طالبہ نے اپنی اُس ہمسائی سے بھی اس مرض کے معالج ڈاکٹر کا نام پتا اور فون نمبر معلوم کر لیا۔  مرض کی علامات اور طریقِ علاج کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر لیں۔  اُس نے یہ سب کچھ ایک فائل میں رکھا اور اپنی پروفیسر کے پاس چلی گئی تاکہ اُسے خوشخبری سنائے کہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔  تاہم طالبہ کے ذہن میں یہ خیال پیوست تھا کہ پروفیسر کبھی اُس کے کام کو خندہ پیشانی سے نہیں دیکھتی اور کبھی تو معمول سے زیادہ سختی سے اس کے ساتھ پیش آتی ہے۔

طالبہ ابھی سیڑھیاں چڑھ کر پروفیسر کے دفتر میں نہیں پہنچی تھی کہ راستے میں ہی اس کو پتا چلا کہ امتحانات کے نتائج کا اعلان ہو گیا ہے۔  پھر اُس کو ہلا کر رکھ دینے والی خبر یہ تھی کہ وہ اِس پروفیسر کے مضمون میں فیل ہے۔  یہ خبر پڑھی تو زمین اُس کے پائوں تلے گھومنے لگی۔  پورا سال اس پروفیسر نے اُس کے ساتھ جو رویہ اختیار کیے رکھا، وہ سب اُس کی نظروں کے سامنے گھوم گیا۔  معلّمہ کیسے اُس کی تحقیقات کو مسترد کر دیتی تھی، اور کس طرح اُس کی مدد اور رہنمائی سے پہلو بچا لیتی تھی؟ طالبہ کو یہ سب کچھ یاد تھا۔  لیکن طالبہ کو جس چیز نے سب سے زیادہ غضبناک کیا وہ اُس کا یہ یقین تھا کہ اُس نے اس امتحان میں بیشتر سوالات کے جوابات درست لکھے ہیں۔  طالبہ کے غصے اور پریشانی کا عالم یہ تھا کہ اُس کے ہاتھ میں موجود فائل زمین پر گر پڑی اور اس کا سبب صرف طالبہ کا یہ سوچنا تھا کہ اُس کی پروفیسر نے یہ رویہ قصداً اُس کے ساتھ روا رکھا۔

بہرحال طالبہ نے زمین پر بکھرے اوراق اکٹھے کیے اور نہایت غصے میں یہ سوچا کہ وہ پروفیسر کے پاس نہ جائے گی۔  وہ ایسے فرد کی کیسے مدد کر سکتی ہے جس نے اس کے اوپر ظلم کیا ہو؟ طالبہ نے اپنے گھر کی طرف واپسی کے لیے اپنا رُخ موڑ لیا۔  مگر فوراً اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ تُو حق پر ہے اور اگر اس عورت کو اس کے رویے کی بنا پر دیکھا جائے تو وہ قطعی مدد کی مستحق نہیں ہے، مگر تجھے تو اپنے آپ کو دیکھناچاہیے کہ وہ کیا چیز تھی جس نے تجھے اس کی مدد کے لیے یہ معلومات اور مواد جمع کرنے پر آمادہ کیا تھا؟ ذرا دیر پہلے اس عورت کے اندر کیا تبدیلی واقع ہوئی تھی؟ کیا تُو اس سے کچھ توقع وابستہ نہیں کر چکی تھی؟ ذراخود کو سنبھالو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشی کے لیے تحرک بالقرآن (قرآن پر عمل) کا فیصلہ کیا تھا۔  لہٰذا اللہ کی رضا اور خوشی کو اپنے لیے منتخب کر لو۔

عین اسی لمحے لڑکی نے قرآنِ مجید کی اس آیت کو اپنے دل سے مخاطب پایا:

وَمَا یُلَقّٰہَآ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقّٰہَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ۔ (حم السجدہ۴۱:۳۵)

’’یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ ‘‘

اپنے اوپر طاری اس کیفیت کے دوران طالبہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔  یہ رب سے بخشش اور استغفار کے آنسو تھے۔  اُس ظلم کو محسوس کرنے پر آنکھوں سے نکلنے والے آنسو تھے جس کو وہ سہہ چکی تھی۔  اُس نے اپنے دل کی آواز کا جواب دینے کا فیصلہ کر لیا کہ اپنے جذبات پر قابو پا لینا چاہیے۔  اور پھر پُراعتماد انداز میں اپنی پروفیسر کے دفتر کی طرف چل پڑی اور وہاں پہنچ کر اندر جانے کی اجازت چاہی۔  اُسے دیکھ کر پروفیسر جلدی سے اپنی نشست سے کھڑی ہو گئی۔  اُس کا خیال تھا کہ طالبہ اُس سے اپنے فیل ہونے کے بارے میں پوچھے گی۔  لہٰذا وہ پوری قوت اور شدت سے جواب دینے کے لیے تیار تھی۔  مگر طالبہ نے فائل اُس کے حوالے کرتے ہوئے نہایت نرمی سے کہا: ’’اس فائل میں آپ کے بیٹے کی بیماری سے متعلق بہت مفید معلومات ہیں اور طریق علاج پر مواد ہے۔  میں نے یہ اُسی دن سے جمع کرناشروع کردیا تھا جس روز مجھے بچے کی بیماری کا علم ہوا تھا۔  اگر آپ اپنا ای میل پتا مجھے دے سکیں تو میں اس سلسلے میں مزید مواد آپ کو ای میل کر سکوں گی۔ ‘‘

پروفیسر کی زبان سے کچھ ادا نہ ہو سکا، اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دیا جائے؟ وہ تو طالبہ کا شکریہ بھی ادا نہ کر سکی۔  اُس نے فوراً اپنا ای میل پتا طالبہ کو دے دیا۔  طالبہ بوجھل قدموں سے سیڑھیاں اتر رہی تھی، وہ اپنے آنسوبھی چھپا رہی تھی تاکہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو جائے۔  کچھ دیر بعد اُس نے مزید معلومات پر مبنی مواد بھی پروفیسر کو ای میل کر دیا۔

اب لڑکی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے احساس سے باہر نہیں نکل پارہی تھی۔  اس کے دل کی گھٹن صرف رو کر ہی دور ہوسکتی تھی۔  موجودہ کیفیت میں اپنے جذبات پر قابو رکھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہو رہا تھا۔  مگر اپنے رب سے محبت اُس کے معاملے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی تھی۔  لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہی کہ اللہ اُس کے غم کو دور کر دے اور اس کیفیت کو ختم کر دے جس میں وہ گھری ہوئی ہے۔

کچھ ہی دیر بعد اُس کے فون کی گھنٹی بجی تو لائن پراُس کی پروفیسر تھی۔  اُس نے طالبہ کو فوراً یونی ورسٹی آنے کے لیے کہا۔  لڑکی یونی ورسٹی جا کرپروفیسر سے ملی تو کچھ شرمندہ لہجے میں پروفیسر نے اُس کا پُرجوش استقبال کیا اور کہا: ’’مائی ڈیئر، مجھے معلوم ہے کہ تم محنتی ہو لہٰذا میں کالج پرنسپل سے ملی ہوں اور اُس سے درخواست کی ہے کہ ایک مہینے بعد تم دوبارہ امتحان دے لو، تاکہ تم اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اگلی جماعت میں جا سکو۔  یہ سن کر طالبہ کا چہرہ کھل اٹھا، اُسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ جو کچھ سن رہی ہے وہ سچ ہے۔  اب کی بار وہ پروفیسر کے کمرے سے نکلی تو خوشی سے اڑی جا رہی تھی۔  اس کو امتحانی مشکل میں آسانی ملنے پر خوشی کی نسبت ’’قرآن پر عمل‘‘ کے تجربے کی کامیابی سے  زیادہ خوشی ہورہی تھی۔  وہ چونکہ خود اس تجربے سے گزری تھی، اس لیے اس کی خوشی اور مسرت دیدنی تھی۔  وہ اپنی کار میں داخل ہوئی اور کار کی چابی گھماتے ہوئے کہہ رہی تھی:

وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰـلَمِیْنَ۔ (الانبیاء۲۱:۱۰۷)

’’اے نبیؐ! ہم نے تو تم کو دنیاوالوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ ‘‘

یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم جس سعادت سے بہرہ ور ہوئے ہیں، وہ سب کے لیے عام ہے۔  دین اسلام کی عظمت کے کیا کہنے! لڑکی نے بلند آواز سے کہا: ’’میں اپنے ربِ کریم کی عبادت پر کس قدر نازاں ہوں! میرے رب نے مجھے پیدا کرکے جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ایسا دستورِ حیات عطا کیا جس کی آیاتِ بیّنات پر عمل کرکے ہم زمین پر اَمن و سکون کی زندگی جی سکتے ہیں۔  یہ نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر ہی خیر ہے!(mugtama.com)

جون 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau