نقدو تبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

افکار و اقدار

مصنف:                    مولانا طیب عثمانی ندوی

ترتیب وتہذیب:       ڈاکٹرشاہ رشاد عثمانی

صفحات:                    ۱۶۰                         ٭قیمت:                  پچاس روپے

ناشر:                        مجلس مصنفین بیت الرشاد، شانتی باغ، نیاکریم گنج، گیا﴿بہار﴾

مولانا شاہ طیب عثمانی ندوی ﴿پ:۱۹۳۰﴾ کا نام شعرو ادب کے سنجیدہ شائقین کے لیے ایک معروف و معتبر نام ہے۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء  کے جیّدفضلامیں ہیں، وہاں کے اکابرخصوصاً حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے خصوصی تعلقات رہے ہیں اور وہ خود بھی ایک روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہ ایں ہمہ وہ تحریک اسلامی کے بزرگ و خاموش خادم اور حلقہ ٔ ادب اسلامی کے بنیادگزاروں میں ہیں۔ انھوں نے تحریک ِادب اسلامی کے دورِ اوّل میں اس کی فکر کی توسیع واشاعت اور اس کے پیام کی ترسیل و تفہیم میں بڑی سرگرم جدوجہد کی ہے، پچاس کی دہائی میں لکھنؤ سے نکلنے والے اس کے ترجمان ’نئی نسلیں‘ کی مجلس ادارت میں بھی وہ شامل رہے ہیں اور اس عہد کے اہلِ نقد وادب کو اس کی طرف متوجہ کرنے میں انھوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔

’افکار واقدار‘ مولانا طیب عثمانی ندوی کے ان مقالات اور مضامین کامجموعہ ہے، جن میں انھوں نے دوسرے علمی و ادبی نظریوں کے مقابلے میں نظریۂ ادب اسلامی کی فوقیت وبالاتری ثابت کرنے کی ایک سنجیدہ اور باوقار کوشش کی ہے۔ انھوں نے کسی تحریک یا رجحان کانام لے کر اُس کو کو سنے یا بے معنی کڑوی کسیلی باتیں نہیں سنائیں، مگر نقد سب پر کیا ہے۔ وہ خواہ مولانا ابوالکلام آزاد اور سیّد قطب شہیدؒ  کے علمی وفکری افکار پر گفتگو کریں، خواہ اقبال وجگر کی شاعری یا رشید احمد صدیقی، ڈپٹی نذیر احمد اور اختر ادرینوی کے فن پر، اسلامی ادب کی فکر ان پر ہر جگہ سایہ فگن رہتی ہے۔ وہ اپنے اصول اور نظریے سے کبھی غفلت نہیں برتتے۔ یہی ایک باکمال ناقد کا امتیاز ہوتا ہے۔

’افکارواقدار‘ کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۶میں منظرعام پر آیاتھا۔ اس وقت سنجیدہ ادبی وتنقیدی حلقوں میں اس کی خاصی پزیرائی ہوئی تھی۔ رسائل وجرائد میں بھی اس کا استقبال کیاگیاتھا۔ مارچ ۱۹۸۸میں جب میں رانچی کے ایک پروگرام سے واپسی پر حمزہ پور ہوتے ہوئے محض نیازحاصل کرنے کی غرض سے ان کے دولت خانے ’بیت الرشاد‘ پر حاضر ہوا تھا تو انھوں نے ازراہِ شفقت حوصلہ بخش عبارت کے ساتھ دست خط فرماکر اس کا ایک نسخہ مجھے بھی مرحمت فرمایاتھا۔ اس کے بعد سے یہ کتاب نایاب ہوگئی تھی۔ اُن کے لائق فرزند ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اِسے نئی ترتیب و تہذیب اور مفید اضافوں کے ساتھ دوبارہ شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ امید ہے کہ موجودہ عہد میں ادب اسلامی کی تفہیم وترسیل اور اس کے فروغ وارتقا میں یہ کتاب بڑا اہم کردار ادا کرے گی۔

پرچھائیاں خیالوں کی

شاعر:                       حسنین سائر

صفحات:                    ۱۶۰         ٭قیمت:  -/۱۰۰ روپے

ملنے کاپتا:                   مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی- ۱۱۰۰۲۵

جناب حسنین سائر ایک سنجیدہ اور بالغ نظر شاعر ہیں۔ وہ کم و بیش تین دہائیوں سے شعرو ادب کی خاموش خدمت میں مصروف ہیں۔ شاعری میں اُنھیں دبستانِ داغ  کے معتبر استاذ اور ہندو پاک کے نامور اسلام پسند شاعر علاّمہ ابوالمجاہدزاہد  سے شرفِ تلمّذ حاصل ہے۔ تحریکِ اسلامی سے فکری و عملی وابستگی اور اپنے طبعی و مزاجی میلان کی وجہ سے تحریکِ اسلامی کے زیرسایہ پروان چڑھنے والے ادارۂ ادب اسلامی ہند سے وہ ذہنی تعلق بھی رکھتے ہیں اور عملی بھی۔ ادارۂ ادب اسلامی کے پلیٹ فارم سے انھیں جب بھی آواز دی جاتی ہے وہ لبیک کہتے ہیں۔

زیرِ نظر کتاب ’پرچھائیاں خیالوں کی‘ جناب حسنین سائر کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ اس کے مطالعے سے اس بات کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر انسانی جذبات کی گہرائیوں میں اترنے کا ہنر جانتا ہے اور اس نے انسانی کیفیات کے درون میں جھانک کر زندگی کے پُراسرار حقائق سے آنکھیں چار کرنے میں کام یابی حاصل کی ہے۔ نمونے کے طورپر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

موت ہے آدمی کی مجبوری

ورنہ ہرآدمی خدا ہوتا

جانے کب ساتھ چھوڑدے تیرا

زیست کا اعتبار ناممکن

ہائے کیسے مشغلے میں کاٹ دی یہ زندگی

چاند ہاتھوں میں لیے ہم روشنی ڈھونڈا کیے

خامیاں اپنی دیکھیے سائر

مت کسی کو بُرا بھلا کہیے

سچ بولنے کی جب اسے جرأت نہ ہوسکی

پیرایۂ بیان ہی اس کا بدل گیا

مجھے خبر نہ ہوئی کب گلوں نے تھام لیا

میں خوش تھا کانٹوں سے دامن بچالیا میں نے

صفحات کی تنگ دامنی کے پیش نظر نمونے کے طورپر محض چند اشعار پیش کرنے پر اکتفا کرلیاگیا۔ کتاب کے بہ غور مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ اِس طرح کے پھولوں سے حسنین سائر کا پورا گلشن سخن مہک رہا ہے۔

’پرچھائیاں خیالوںکی‘حسنین سائر کا پہلا شعری مجموعہ ہے، یہ ایک تکنیکی بات ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی کیفیت اور معنویت کے اعتبار سے کئی مجموعوں پر بھاری ہے۔ مجھے ڈاکٹر احمدمحفوظ کی اس رائے سے کامل اتفاق ہے کہ حسنین سائر کی نظر میں شعری تقاضے مقدم ہیں اور یہی بات بہ حیثیت شاعر ان کے روشن امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

اکتوبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau