رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

ہبہ کی قانونی حیثیت

سوال:  ایک صاحب کا انتقال ہوا۔ ان کے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ وہ صاحب پراپرٹی کا بزنس کرتے تھے۔ انھوں نے مختلف مواقع پر جو زمینیں خریدیں ان میں سے کچھ کی رجسٹری اپنی بیٹیوں اور ایک بیٹے کے نام سے کروائی۔ دوسرے بیٹے کے نام سے کسی زمین کی رجسٹری اس لیے نہیں ہو سکی، کیوں کہ ایک مرتبہ جب انھوں نے اس کے نام سے رجسٹری کا ارادہ کیا تو اس نے اعتراض کر دیا کہ یہ زمین میرے بھائی یا بہنوں کے نام رجسٹری کی جانے والی زمینوں سے کم ہے۔ انھوں نے رجسٹری کراتے وقت کبھی اپنی کسی اولاد سے کہا کہ یہ میں تم کو دے رہا ہوں، تمھارے بچوں اور تمھارے کام آئے گی اور کسی سے کہا کہ یہ میری ملکیت ہے، صرف قانونی ضرورت سے اس میں تمھارا نام شامل کیا ہے۔ انھوں نے جو رجسٹریاں کروائیں ان کے کاغذات اپنے پاس رکھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بچوں میں تنازع ہوگیا ہے۔ ان کے درمیان اس بات پر تو اتفاق ہے کہ جو پراپرٹی والد مرحوم کے نام سے ہے وہ ان کے ورثہ میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوجائے، لیکن جو پراپرٹی ان کی اولاد کے نام سے ہے، اس کے سلسلے میں ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ جو پراپرٹی جس کے نام سے ہے، وہ اس کا مالک ہے، اس لیے کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں اسے ہبہ کر دیا تھا، جب کہ بعض کہتے ہیں کہ والد صاحب نے کسی کو ہبہ  نہیں کیا تھا، بلکہ محض قانونی ضرورت سے اس کا نام شامل کیا تھا، اس لیے کل جائیداد کو ترکہ سمجھ کر تقسیم کیا جائے۔

براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں۔ کون سی بات درست ہے؟

جواب:  زمین جائیداد یا کوئی دوسری چیز ایک شخص کی ملکیت سے دوسرے کی ملکیت میں منتقل ہونے کی تین صورتیں ہوتی ہیں:   ہبہ، وصیت اور وراثت۔ کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کی مملوکہ تمام چیزیں اس کے ورثہ کے درمیان شریعت کی بتائی ہوئی تفصیل کے مطابق تقسیم ہوتی ہیں۔ اس سے قبل وصیت(will) نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (النساء:   ۱۱۔۱۲) وصیت کے تعلق سے دو احکام ہیں:   ایک یہ کہ ورثہ کے حق میں وصیت جائز نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت نہیں کی جا سکتی۔ اسلامی شریعت نے ہر شخص کو اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کی کوئی چیز دوسرے کو ہبہ (gift) کرنے کی اجازت دی ہے۔ اگر وہ اس کا مالک ہے تو اسے اس میں تصرف کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ وہ اپنی زمین جائیداد وقف کر سکتا ہے، اپنے کسی اہلِ تعلق یا رشتے دار کو دے سکتا ہے اور اپنی اولاد کے درمیان بھی تقسیم کر سکتا ہے۔

اولاد کے درمیان ہبہ کرنے کی صورت میں شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ سب کو برابر دیا جائے۔ انھیں دینے میں کمی بیشی نہ کی جائے۔

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد انھیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا:    ‘‘میں نے اپنے اِس بیٹے کو فلاں چیز دی ہے۔ آپ نے دریافت کیا:   ‘‘کیا تم نے یہ چیز اپنی دوسری اولادوں کو بھی دی ہے؟ انھوں نے جواب دیا:   نہیں۔ آپ نے فرمایا:   پھر اسے واپس لے لو۔’’ (بخاری:   ۲۵۸۷، مسلم:   ۱۶۲۳)

اسی حدیث میں ہے کہ آپ نے مزید یہ بھی فرمایا:

فاتقو اللہ واعدلوا بین أولادکم

‘‘اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و انصاف سے کام لو۔’’

ہبہ کے لیے دو شرطیں اہم ہیں:   پہلی شرط ایجاب و قبول ہے، یعنی ایک شخص دوسرے سے کہے کہ میں نے تم کو فلاں چیز ہبہ کی ہے اور دوسرا اسے قبول کر لے۔ دوسری شرط قبضہ ہے۔ فقہا (احناف اور شوافع) کے نزدیک جس شخص کو کوئی چیز ہبہ کی گئی ہے، جب تک وہ اس پر قبضہ نہ کر لے، اس وقت تک ہبہ مکمل نہیں ہوتا۔ اسے فقہی اصطلاح میں ‘تخلیہ و تسلیم’ کہا جاتا ہے، یعنی وہ چیز ہبہ کرنے والے کے قبضے سے نکل جائے اور جس کو ہبہ کی گئی ہے اس کے قبضے میں پہنچ جائے۔

سوال میں جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ صورت میں  ہبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی اولاد میں سے بعض کے نام زمینوں کی رجسٹری میں شامل کیے، لیکن انھیں ان پر قبضہ نہیں دیا، بلکہ رجسٹری کے کاغذات اپنی تحویل میں ہی رکھے۔ اسی طرح اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے درمیان ہبہ میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کے درمیان برابر تقسیم نہیں کی گئی اور ایک بیٹے کو کچھ بھی ہبہ نہیں کیا گیا۔

اس لیے مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور میت کے حق میں ورثہ کی خیر خواہی کا تقاضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمینوں کی جو رجسٹریاں بعض ورثہ کے نام سے ہیں انھیں ہبہ نہ مانا جائے، بلکہ پوری جائیداد کی تقسیم وراثت کے شرعی اصولوں کے مطابق کی جائے۔

یہاں یہ بات یاد دلانا ضروری  معلوم ہوتا ہے کہ  مال و دولت اور اولاد کے سلسلے میں انسان کو احتیاط اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ انسان  کا مال اولاد کے لیے فتنہ نہ بنے، اس کے مرنے کے بعد اس کے چھوڑے ہوئے مال کو لے کر اولاد میں تنازعات نہ کھڑے ہوں اور اس کا مال شریعت کی روح اور مقاصد کے مطابق صرف ہو، ان باتوں  کا خیال رکھنا  ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ باپ اگر اولاد کو یا کسی دوسرے کو کچھ ہبہ کرے تو اس کی واضح تحریر بنائے  اور معتبر گواہیوں کے ساتھ ہبہ کرے۔کسی کے حق میں  وصیت کرے تو وہ بھی تحریری شکل میں گواہیوں کے ساتھ ہو۔  اگر وہ کوئی چیز ہبہ نہیں کرتا ہے، لیکن کسی بھی وجہ سے اپنی اولاد میں سے کسی کے نام یا کسی اور فرد کے نام کرتا ہے، تو اس کی بھی تحریری وضاحت اور گواہیاں ہونی چاہئیں۔  غرض اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وارثوں کے درمیان کسی قسم کے کنفیوژن کی گنجائش نہ رہے۔

رخصتی سے قبل بیوہ ہوجانے والی عورت کی عدت؟

سوال:  ایک لڑکی کا نکاح ہوا۔ نکاح کے بعد اسے سسرال لے جایاجارہاتھا کہ راستے میں کسی انجان شخص کی فائرنگ کی زد میں آکر اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ کیا اس لڑکی کو عدّت گزارنی ہوگی؟

جواب:  عدّت کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک‘ عدتِ وفات ’ ہے، یعنی کسی شخص کی وفات ہوجائے تواس کی بیوہ کوعدت گزارنی ہوگی۔قرآن مجید میں اس کی مدت چارماہ دس دن بیان کی گئی ہے:

 

وَالَّذِینَ یتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَیذَرُونَ أَزْوَاجًا یتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا  (البقرۃ:  ۲۳۴)

‘‘تم میں سے جن لوگوں کی وفات ہوجائے اور ان کے پیچھے ان کی بیویاں زندہ ہوں تووہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔’’

یہ عدت ان عورتوں کے لیے بھی ہے جن کا نکاح توہوگیا ہو، لیکن ابھی شوہروں سے ان کی خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی ہو۔

نکاح کے بعد، لیکن رخصتی سے قبل جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے اسے پورا مہر ملے گا، جسے شوہر کے ترکے میں سے اداکیاجائے گا۔ اسی طرح وہ شوہر کے ترکے میں سے بیوی کے حصے(چوتھا یا آٹھواں)کی بھی مستحق ہوگی۔ قرآن مجید میں ہے:

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ یكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم (النساء:  ۱۲)

اور وہ تمہارے ترکے میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگرتم بے اولاد ہو۔اور اگر تم صاحبِ اولاد ہوتو ان کا حصہ آٹھواں ہوگا۔’’

حاملہ عورت کی عدّت

سوال :  شوہر کے انتقال کے ایک ہفتہ بعد بیوہ خاتون کے یہاں ولادت ہوگئی۔ ان کے لیے عدت کے کیا احکام ہیں؟

جواب:  قرآن مجید میں عدت کی مختلف صورتوں کا ذکر ہے۔ کوئی عورت بیوہ ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن بیان کی گئی ہے۔(البقرۃ:  ۲۳۴)اور کوئی عورت حمل سے ہوتواس کی عدت اس وقت تک ہے جب تک ولادت نہ ہوجائے۔قرآن مجید میں ہے:

وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن یضَعْنَ حَمْلَهُنَّ  (الطلاق:  ۴)

‘‘اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حدیہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔’’

قرآن مجید کے اس صریح حکم کی بناپر تمام علما وفقہا  کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل تک ہے، لیکن ان کے درمیان اس امر میں اختلاف ہوگیاہے کہ اگر عدت کی دوصورتیں جمع ہوجائیں، یعنی کوئی عورت بیوہ ہوجائے اور وہ حاملہ بھی ہوتووہ کون سی عدت گزارے گی؟

ابن ابی لیلیٰؒ اور سحنونؒ کہتے ہیں اور صحابہ میں سے حضرت علیؓ اور (ایک روایت کے مطابق)حضرت ابن عباسؓ کی بھی یہی رائے ہے  اور شیعہ امامیہ کا بھی یہی مسلک ہے کہ بیوہ حاملہ کی عدت ‘آخر الاجلین’ ہے، یعنی دونوں عدتوں میں سے جو طویل ہو وہی اس کی عدت ہوگی۔ مثلا اگربچہ چارماہ دس دن سے پہلے پیداہوجائے تواسے چار ماہ دس دن تک عدت گزارنی ہوگی اور اگر اس مدت میں اس کے یہاں ولادت نہیں ہوئی تواس کی عدت اس وقت پوری ہوگی جب وضع حمل ہوجائے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ بیوہ کی جو عدت (چار ماہ دس دن)بیان کی گئی ہے اس میں حاملہ اور غیر حاملہ دونوں قسم کی عورتیں شامل ہیں اور وضع حمل کی عدت کا اطلاق بیوہ عورت پر بھی ہوتاہے۔ اس لیے زیادہ مدت والی عدت کو نافذ کرنے سے دونوں آیتوں میں مذکور احکام پر عمل ہوجائے گا۔

جمہور فقہا کہتے ہیں اور صحابۂ کرام میں سے حضرات عمربن الخطاب، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے ہے کہ حاملہ عورت کی عدت کی آخری حد وضعِ حمل ہے۔اس کے یہاں ولادت ہوتے ہی اس کی عدت پوری ہوجائے گی،خواہ یہ ولادت شوہر کی وفات کے تھوڑی دیر کے بعد ہی ہوجائے، یا حمل چارماہ دس دن سے زیادہ عرصہ جاری رہے،بہر حال وضع حمل ہونے کے ساتھ اس کی عدت پوری ہوگی۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ سورہ  طلاق کی آیت ۴ میں حاملہ عورتوں کی جو عدت بیان کی گئی ہے وہ مطلقہ اور بیوہ سب کو شامل ہے۔ سورہ  بقرہ میں بیوہ کی عدت مذکور ہے اور سورہ  طلاق میں حاملہ کی عدت کا بیان ہے۔سورہ  طلاق سورہ  بقرہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ بعد کے حکم نے پہلے حکم کو غیر حاملہ بیوہ کے لیے خاص کردیاہے۔

جمہور فقہا کی مضبوط دلیل عہد نبوی میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔قبیلۂ اسلم کی ایک خاتون حضرت سبیعہ بنت حارثؓ جو حضرت سعد بن خولہؓ کی بیوی تھیں، حجۃ الوداع کے موقع پر حالتِ حمل میں بیوہ ہوگئیں۔ شوہر کی وفات کے چند روز بعد ان کے یہاں ولادت ہوئی۔ انھوں نے دوسرے نکاح کا ارادہ کیاتو ایک صاحب نے کہا کہ تم چار ماہ دس دن سے قبل نکاح نہیں کرسکتیں۔وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس معاملے میں فتویٰ پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ تم وضع حمل ہوتے ہی حلال ہوگئی ہو۔ اب چاہو تودوسرا نکاح کرسکتی ہو۔ (بخاری:  ۳۹۹۱،۵۳۱۸،۵۳۱۹،۵۳۲۰،مسلم:  ۱۴۸۴)

یہ فقہا یہ بھی کہتے ہیں کہ حائضہ عورت کے سلسلے میں عدت کا مقصد برأت رحم کا علم ہے، یعنی عورت حمل سے نہیں ہے۔ وضع حمل سے یہ مقصد پوراہوجاتا ہے۔

وضع حمل کے ذریعے عدت پوری ہوجانے پر جمہور فقہا کا اتفاق اس صورت میں ہے جب عورت کے یہاں نارمل ولادت ہوئی ہو۔ لیکن اگر اسقاطِ حمل ہو اور مردہ بچے کے انسانی نقوش نمایاں نہ ہوئے ہوں تواس صورت میں احناف کے نزدیک وضع حمل سے عدت مکمل نہ ہوگی۔ شوافع اور حنابلہ سے دونوں طرح کے اقوال منقول ہیں، یعنی ایک قول کے مطابق چوں کہ وضع حمل سے برأت رحم کا اثبات ہوگیاہے اس لیے عدت کو مکمل سمجھاجائے گا اور دوسرے قول کے مطابق عدت مکمل نہیں ہوگی۔ مالکیہ کے نزدیک اسقاط کے نتیجے میں مردہ پیداہونے والے بچے کے انسانی نقوش نمایاں ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، دونوں صورتوں میں برأتِ رحم کی بناپر عدت مکمل سمجھی جائے گی۔

دسمبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau