رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

تبلیغِ دین کے کام میں زکوٰۃ کااستعمال

سوال:برادران وطن میں دین کی دعوت وتبلیغ کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیاہے۔ اس کے تحت ایک موبائل وین کا بھی انتظام کیاجارہاہے ،جس کے ذریعہ دینی کتابیں شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچائی جائیں گی، دینی کتابیں اور فولڈرس مفت تقسیم کیے جائیں گے اور کچھ کتابیں برائے نام قیمت پر فروخت بھی کی جائیںگی۔ ان سے جو رقم حاصل ہوگی وہ اسی کام میں صرف ہوگی، یعنی مزید کتابیں خرید کر اسی مقصد کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اس ادارہ سے کوئی نفع کمانا مقصد نہیںہے۔ اس کا واحد مقصد دعوت دین ہے۔کیا اس کام میں زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے؟ بہ راہ کرام قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔

خلیل احمد

امیر مقامی جماعت اسلامی ہند ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی ۲۵

جواب:قرآن کریم میں زکوٰۃ کے مصارف کا بیان درج ذیل آیت میں ہواہے:

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِیْ الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌo﴿التوبۃ :۶۰﴾

’’یہ صدقات تو دراصل فقیروں اورمسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو، نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا وبیناہے۔‘‘

اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ﴿اللہ کی راہ میں﴾ ہے۔ قرآن وحدیث میں فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کا استعمال بہ طور اصطلاح ہوا ہے۔ اس سے مراد اللہ کی راہ میں جہاد وقتال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بہ الفاظ جہاں جہاں آئے ہیں، ان میں سے بیش تر مقامات پر ان سے پہلے جہاد وقتال کی صراحت موجود ہے۔ حدیث میں بھی ان کا زیادہ تر استعمال جہاد کے معنی میں ہوا ہے۔ ایک حدیث ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لَغَدْوَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْرَوْحَۃٌ خَیْرٌمِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْھَا۔﴿بخاری: ۲۷۹۲، مسلم:۱۸۸۰﴾

’’اللہ کی راہ میں صبح یا شام جہاد کے لیے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔‘‘

اسی بنا پر جمہور علماء زکوٰۃ کی اس مد کو جہاد کے لیے خاص کرتے ہیں، لیکن علماء  کا ایک دوسرا طبقہ اس کی توسیع وتعمیم کا قائل ہے۔ وہ تمام وجوہِ خیر کو اس میں شامل قرار دیتا ہے۔ اس کے قائلین میں ایک نام مشہور حنفی فقیہ امام کا سانیؒ  ﴿م ۵۸۷ھ﴾ صاحب بدائع الصنائع کا ہے۔ امام رازیؒ  ﴿م۶۰۶ھ﴾ نے لکھا ہے کہ امام قفال ؒ نے اپنی تفسیر میں بعض فقہائ کا یہی قول نقل کیا ہے۔ نواب صدیق حسن خاںؒ  ﴿م۱۸۹۰ئ﴾ کی بھی یہی رائے ہے۔ موجودہ دور کے علماء  میں مولانا ابوالکلام آزادؒ  ﴿۱۹۵۸ء﴾ مولانا سید سلیمان ندویؒ ﴿۱۹۵۳ء﴾ مولانا امین احسن اصلاحیؒ  ﴿۱۹۹۷ء﴾ اور مولانا محمد شہاب الدین ندوی ؒ وغیرہ بھی اس مد میں تعمیم کے قائل ہیں۔

کچھ علماء  نے بین بین کی راہ اپنائی ہے۔ وہ ’فی سبیل اللہ‘ کو نہ تو قتال اور عسکری جدوجہد کے معنی میں محدود کرتے ہیں اور نہ اس میں اتنے عموم کے قائل ہیں کہ اس میں ہر کار خیر شامل ہوجائے۔ وہ کہتے ہیں کہ جہاد کا وسیع مفہوم ہے۔ اس میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی ہر کوشش شامل ہے۔ موجودہ دور میں عالم اسلام کے مشہور فقیہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اپنی کتاب فقہ الزکوٰۃ میں اس نقطۂ نظر کو تفصیل سے پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’میں سبیل اللہ کا مدلول متعین کرنے میں ایسے توسع کا قائل نہیں کہ ہر قسم کے مصالح اور تقرب کے کام اس میں شامل ہوجائیں اور نہ اس کے دائرہ کو اتنا تنگ سمجھتا ہوں کہ وہ صرف عسکری جہاد کے لیے خاص ہوکر رہ جائے۔ جہاد جس طرح تلوار اور نیزہ سے کیا جاتا ہے اسی طرح زبان اور قلم سے بھی کیا جاتا ہے اور جس طرح جہاد عسکری ہوتاہے اسی طرح فکری، تربیتی، اجتماعی، اقتصادی اور سیاسی بھی ہوتا ہے۔‘‘ ﴿فقہ الزکوٰۃ ، ادارہ دعوۃ القرآن، ممبئی ۲/۶۵۷﴾

اسی طرح کے ایک سوال کا جواب ڈاکٹر قرضاوی نے ان الفاظ میں دیا ہے:

’’میری رائے یہ ہے کہ فی سبیل اللہ کونہ صرف جہاد پر محمول کیا جائے اور نہ اسے عام کرکے ہر اس کام پر محمول کیاجائے جو اللہ کی راہ میں اللہ کی خوشنودی کے لیے ہو۔ بے شبہ فی سبیل اللہ سے مراد اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ لیکن جہاد کا مفہوم صرف جنگ کرنانہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر اس سے وسیع تر مفہوم اس میں شامل ہے۔ یعنی ہر وہ قدم جو اللہ کے دین کی نصرت اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اٹھے۔ جہاد صرف تلوار اور توپ سے نہیں ہوتا، بلکہ کبھی قلم سے ہوتاہے اور کبھی زبان سے ۔کبھی اقتصادی جہاد ہوتا ہے اور کبھی سیاسی۔ ان میں سے ہر جہاد میں مالی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر وہ کوشش اور قدم جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اٹھے اسے فی سبیل اللہ کے مفہوم میں شامل کیاجاسکتاہے۔‘‘ ﴿فتاویٰ یوسف القرضاوی، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ،نئی دہلی، ۲۰۰۷ء، ۱/۱۴۴﴾

آگے انھوں نے زکوٰۃ کے ترجیحی مصارف ان الفاظ میں بیان کیے ہیں:

’’میری رائے میں زکوٰۃ کی رقم جہاد کی ان صورتوں میں بھیجنا زیادہ بہتر ہے جنہیں لسانی، ثقافتی اور اعلامی جہاد سے تعبیر کرتے ہیں۔ ذیل میںمَیں بعض ایسی صورتیں پیش کرتا ہوں:

﴿۱﴾ اسلامی دعوتی مرکز کاقیام ، جہاں سے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچائی جائے۔

﴿۲﴾ خود اسلامی ممالک کے اندر اسلامی ثقافتی مراکز کا قیام ، جہاں مسلم نوجوانوں کی عملی تربیت ہوسکے اور انھیں اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر تیار کیا جاسکے۔

﴿۳﴾اسلامی اخبارات وجرائد کا اجراء  جوغیراسلامی صحافتی سرگرمیوں کے لیے چیلنج ہو۔

﴿۴﴾ اسلامی کتب کی نشرواشاعت جس میں اسلام کی صحیح تصویر پیش کی جائے اور کفر کی ریشہ دوانیوں کو اُجاگر کیا جائے۔

یہ وہ چند صورتیں ہیں جہاں زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنی چاہئے۔ بلکہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی ہر ممکن طریقے سے ان تمام سرگرمیوں میں دل کھول کر مالی تعاون کرناچاہئے۔ ﴿فتاویٰ یوسف القرضاوی، ۱/۱۴۶﴾

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ  نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں آیت زکوٰۃ ﴿التوبۃ:۶۰﴾ میں ’فی سبیل اللہ‘ کی جو تشریح کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کے مفہوم میں ہر کارِ خیر کو شامل نہیں کرتے، بلکہ اسے جہاد ہی کے لیے خاص کرتے ہیں، لیکن جہاد ان کے نزدیک وسیع تر معنیٰ میں ہے۔ لکھتے ہیں:

’’راہِ خدا کالفظ عام ہے۔ تمام وہ نیکی کے کام، جن میں اللہ کی رضا ہو، اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس حکم کی رو سے زکوٰۃ کا مال ہر قسم کے نیک کاموں میں صرف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حق یہ ہے اور ائمہ سلف کی بڑی اکثریت اسی کی قائل ہے کہ یہاں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے… یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ ائمہ سلف کے کلام میں بالعموم اس موقع پر غزو کا لفظ استعمال ہواہے ،جو قتال کا ہم معنیٰ ہے۔ اس لیے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مصارف میں فی سبیل اللہ کی جو مد رکھی گئی ہے وہ صرف قتال کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ قتال سے وسیع تر چیز کا نام ہے اور اس کااطلاق ان تمام کو ششوں پر ہوتاہے جو کلمۂ کفر کو پست اور کلمۂ خدا کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو ایک نظام زندگی کی حیثیت سے قائم کرنے کے لیے کی جائیں، خواہ وہ دعوت وتبلیغ کے ابتدائی مرحلے میںہوں، یا قتال کے آخری مرحلے میں۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی ،۲/۲۰۸﴾ اس موقع پر موجودہ دور کی دو فقہی اکیڈمیوں کے فیصلوں کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتاہے۔

اسلامک فقہ اکیڈمی ﴿انڈیا﴾ کے پانچویں سمینار منعقد جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ ۱۹۹۲ء میں یہ موضوع زیر بحث تھا۔ عام شرکائے سمینار کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ سورۂ توبہ:۶۰ میں مذکو فی سبیل اللہ کا مصداق غزوہ اور جہاد عسکری ہے۔ دور حاضر میں دینی اور دعوتی کاموں کے لیے درکار سرمایہ کی فراہمی میں پیش آنے والی دشواری کے باوجود شرعاً اس کی گنجائش نہیں ہے کہ زکوٰۃ کے ساتویں مصرف فی سبیل اللہ کا دائرہ وسیع کرکے اس میں تمام دینی اور دعوتی کاموں کو شامل کرلیا جائے۔ البتہ تین حضرات ﴿جناب شمس پیرزادہ، مولانا سلطان احمد اصلاحی اور ڈاکٹر عبدالعظیم اصلاحی﴾ نے اس کے اختلاف کیاتھا۔ ان کے نزدیک میں سبیل اللہ فی عسکری جہاد کے ساتھ وہ تمام کوششیں شامل ہیں جو آج کے دور میں واقعتا دعوتِ اسلام اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کی جارہی ہوں۔‘‘ ﴿نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے، ایفا پبلی کیشنز، نئی دہلی،۲۰۱۰ء ص:۶۹-۷۰﴾

عالم اسلام کی ایک دوسری فقہی اکیڈمی کا فیصلہ اس سے مختلف ہے۔ المجمع الفقہی الاسلامی مکہ مکرمہ رابطہ عالم اسلامی کاایک ذیلی ادارہ ہے۔ اس نے اپنے آٹھویں اجلاس منعقدہ مکہ مکرمہ ۱۴۰۵ھ /۱۹۵۸ء میں اس موضوع پر غور کیا۔ علما کی دو رائیں سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ مصرف فی سبیل اللہ کا مصداق صرف اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور دوسری یہ کہ اس کا مفہوم عام ہے۔ موضوع پر غور اور فریقین کے دلائل پر بحث ومباحثہ کے بعد اکثریت کی رائے سے درج ذیل فیصلے کیے گئے:

﴿۱﴾دوسری رائے کو بعض علماء ے اسلام نے اختیار کیا ہے اور قرآن کریم کی بعض آیات میں یک گونہ اس مفہوم کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

﴿۲﴾جہاد بالسلاح کا مقصد چوںکہ اعلائے کلمۃ اللہ ہے اور اعلائے کلمۃ اللہ جس طرح قتال سے ہوتاہے اسی طرح داعیوں کی تیاری اور ان کی مدد اور تعاون کے ذریعے دعوت الی اللہ اور اشاعت دین سے بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں طریقے جہاد ہی کے ہیں۔

﴿۳﴾اسلام پر آج ملحدین، یہود ونصاریٰ اور دشمنانِ دین کی طرف سے فکری اور عقائدی حملے ہورہے ہیں اور دوسروں کی طرف سے انہیں مادی اور معنوی مدد مل رہی ہے۔ ان حالات میں انتہائی ضروری ہے کہ مسلمان ان کا مقابلہ انھی ہتھیاروں سے کریں جن سے وہ اسلام پر حملے کرتے ہیں یا ان سے سخت ہتھیار سے مقابلہ کریں۔

﴿۴﴾اسلامی ممالک میں جنگ کے لیے مخصوص وزارتیں ہوتی ہیں اور ہر ملک کے بجٹ میں ان کے لیے مالی ضوابط ہوتے ہیں، جب کہ دعوتی جہاد کے لیے بیش تر ممالک کے بجٹ میں کوئی تعاون ومدد بھی نہیں ہوتی ہے۔

ان مذکورہ بالا امور کے پیش نظر اکثریت کی رائے یہ طے کرتی ہے کہ دعوت الیٰ اللہ اور اس کے معاون اعمال آیت کریمہ میں مذکور زکوٰۃ کے مصرف فی سبیل اللہ کے مفہوم میں داخل ہیں۔‘‘ ﴿مکہ فقہ اکیڈمی کے فقہی فیصلے، ایفا پبلی کیشنز ، نئی دہلی، ۲۰۰۴ء،ص:۱۸۰-۱۸۱﴾

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بعض معتبر علماء  کے نزدیک اسلام کی دعوت وتبلیغ کے کاموں میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ بعض فقہی اکیڈمیوں کا فیصلہ بھی اسی کے حق میں ہے اور راقم سطور بھی اسی کا قائل ہے۔

اعتکاف کے آداب

سوال:میں ایک مدرسہ میں کام کرتاہوں، مدرسہ کے ناظم ہر سال رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ مدرسہ کے دیگر ذمہ دار اور اساتذہ بھی اعتکاف کرتے ہیں۔ مدرسہ میں نئے سال کی تعلیم شوال سے شروع ہوتی ہے، اس لیے داخلہ فارم رمضان میں آتے ہیں، انہیں چیک کرکے جواب دینا ہوتا ہے۔ یہ سارا دفتری کام ناظم صاحب دوران اعتکاف انجام دیتے ہیں۔ داخلہ چاہنے والے جو لوگ آتے ہیں ان سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ اس طرح ایک اعتبار سے پورا دفتر نظامت رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں منتقل ہوجاتا ہے۔ ناظم صاحب اعتکاف میں موبائل بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ باہر کے لوگوں سے برابر رابطہ میں رہتے ہیں۔

یہ چیز یں مجھے اعتکاف کی روح کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔ بہ راہ کرم رہ نمائی فرمائیں۔ کیا دورانِ اعتکاف ان کاموں کی انجام دہی کی اجازت ہے؟

رضوان احمد، سدھارتھ نگر

جواب: اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت اور عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرنے کو اعتکاف کیا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس کا تذکرہ تحسین کے انداز میں کیاگیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپﷺ  نے ایک مرتبہ رمضان کے ابتدائی دس دنوں میں اور ایک مرتبہ وسطی دس دنوں میں اعتکاف کیا، مگر پھر رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا معمول بنالیا۔ ایک مرتبہ بعض وجوہ سے آپ نے اعتکاف نہیں کیا تو شوال کے ابتدائی دس دنوں میں اس کااہتمام کیا۔

اعتکاف کی روح یہ ہے کہ آدمی کچھ عرصہ نفسانی خواہشات اور دنیاوی کاروبار سے الگ ہوکر کلی طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر میں لگا رہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے لکھا ہے۔

’’مسجدمیں اعتکاف دل جمعی، صفائی قلب، اللہ کی عبادت واطاعت میں انہماک ،ملائکہ سے تشبہ اور شب قدر کے حصول کا ذریعہ ہے۔‘‘

﴿حجۃ اللہ البالغۃ، دارالجیل، بیروت، ۲۰۰۵ء، ۲/۸۶﴾

الموسوعۃ الفقہیۃ کویت میں اعتکاف کے بارے میں لکھاگیاہے:

’’اعتکاف کرنے والا اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنی ذات کو اس کی عبادت کے لیے وقف کردیتا ہے اور ان دنیاوی مشاغل سے خود کو الگ کرلیتا ہے جو تقرب الٰہی میں مانع بنتے ہیں۔ وہ اپنے تمام اوقات کو نمازوں کی ادائی یا ان کے انتظار میں صرف کرتا ہے۔ اعتکاف کی مشروعیت کا مقصد اصلی یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والے کی تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا ہوں اور اس کی ذات ملائکہ کے مشابہ ہوجائے، جو اللہ کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرتے اور وہ تمام کام انجام دیتے ہیں جن کا انہیں حکم دیاجاتا ہے اور دن رات بغیر کسی  توقف کے اس کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں۔‘‘ ﴿الموسوعۃالفقہیہ کویت، ۵/۲۰۷، بہ حوالہ فتاویٰ عالم گیری، ۱/۲۱۲﴾

حافظ ابن قیم الجوزیہ نے اپنی کتاب زاد المعاد میں اعتکاف کے سلسلے میں بہت اچھی بحث کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:

’’اعتکاف کا مقصود اور اس کی روح یہ ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کی جانب پورے طور سے متوجہ ہو، اس کی طرف اسے مکمل انہماک اور دل جمعی حاصل ہو، مخلوق سے وہ بالکل کٹ جائے اور صرف اللہ سبحانہ سے اس کا رابطہ ہو اور یہ حال ہوجائے کہ تمام افکار وترددّات اور ہموم ووساوس کی جگہ اللہ کا ذکر اور اس کی محبت لے لے، ہر فکر اس کی فکر میں ڈھل جائے، اس کی زبان ہر وقت اس کے ذکر سے تر رہے، ہر وقت وہ اس کی رضا اور قرب حاصل کرنے کے لیے فکر مند رہے، اس میں مخلوق سے اُنس کے بجائے اللہ سے اُنس پیدا ہو، تاکہ قبر کی وحشت میں جب کوئی اس کا غم خوار نہ ہوگا یہ انس اس کا زاد سفر بنے۔ یہ ہے اس اعتکاف کا مقصد جو رمضان کے آخری عشرے کے ساتھ مخصوص ہے۔‘‘

﴿زادالمعاد فی ہدی خیر العباد، موسسۃ الرسالہ بیروت، ۱۹۹۴ء، ۲/۸۳﴾

اس کے بعد علامہ ابن قیمؒ  نے اعتکاف کے معمولات نبوی کا تذکرہ کرکے آخر میں لکھا ہے:

’’اس کے برخلاف جاہل لوگ جائے اعتکاف کو ملنے جلنے کی جگہ بنا لیتے ہیں۔ اعتکاف کی حالت میں لوگ ان سے ملنے کے لیے کثرت سے آتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ اعتکاف کاایک انداز ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کا دوسرا انداز تھا۔‘‘ ﴿زاد المعاد، ۲/۸۶﴾

فقہا ء نے اعتکاف کے آداب پر تفصیل سے لکھاہے۔ ان کے مطابق :

’’اعتکاف کرنے والے کو چاہئے کہ وہ کثرت سے نوافل پڑھے، قرآن کی تلاوت کرے، سبحان اللہ، الحمد اللہ، لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر اور دوسرے اذکار کا وردکرے، توبہ واستغفار کرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجے۔ دُعا کرے اور دیگر ایسے اعمال انجام دے جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور بندہ خالق سے قریب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح وہ دوران اعتکاف حصول علم کی تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے لیے وہ تفسیر، حدیث،  انبیاء  وصالحین کی سیرت ، فقہ اور دیگر دینی موضوعات پر کتابوں کامطالعہ کرے۔‘‘

﴿فقہ السنۃ، سید سابق، دارالکتاب العربی بیروت ،۱۹۷۷ء ،۱/۴۸۰﴾

اس تفصیل سے واضح ہوا کہ دورانِ اعتکاف دفتری مشاغل اختیار کرنا اعتکاف کی روح کے خلاف ہے۔ جولوگ کسی مدرسہ، تنظیم یا ادارہ کے ذمہ دار ہوں وہ اگر اعتکاف کرناچاہیں تو انہیں اپنی ذمہ داری کسی دوسرے کو منتقل کردینی چاہئے۔ اسی طرح دورانِ اعتکاف موبائل فون کے استعمال سے بھی حتی الامکان اجتناب کرناچاہئے کہ اس سے ذکر وعبادت میں خلل کا قوی امکان رہتاہے۔

ستمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau