رسائل و مسائل

مولانا سید احمد عروج قادریؒ

رخصتِ عزل سے غلط استدلال

سوال: صاف دیکھا جارہا ہے کہ مغرب کی سائنس وتکنالوجی میں برتری اور ہمہ نوع غلبہ سے مشرق اور بالخصوص مسلم دانش وروں کا بڑا طبقہ بھی فکری، نظریاتی، علمی اور تہذیبی میدان میں بھی بہت متاثر اور مرعوب ہوا ہے۔ فیملی پلاننگ کے بہ ظاہر خوش نما نام سے برتھ کنٹرول کی حمایت سامنے آتی رہتی ہے۔ حال ہی میں انگریزی کے ایک دینی رسالے میں اس کے حق میں دلائل پر مشتمل ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اپروج وہی پرانا ہے۔ پہلے مغرب کے کسی نظریے یا قدر کو برحق تسلیم کرلو، پھر قرآن ، حدیث اسوۂ نبوی اور اسوۂ صحابہ کو توڑ مروڑ کر دوازکار تاویلیں کرکے اس کے حق میں دلائل پیش کردو۔ ایسے دانشوروں کے پاس’ عزل‘ ایک ہتھیار کی شکل میں ہے۔ براہ کرم رہ نمائی فرمائیں:

(۱) عزل صرف محصنہ باندیوں سے ہی کیاجاتا تھا یاآزاد عورتوں (بیویوں) سے بھی؟

(۲) عزل سے متعلق صرف ایک ہی حدیث پیش کی جاتی رہی ہے۔ کیا مزید احادیث ہیں۔ اگر ہیں تو کیا؟

(۳)زچہ بچہ کی صحت اور زندگی سے متعلق کسی ناگزیر اور یقینی خطرہ کے پیش نظر تو برتھ کنٹرول قابل فہم ہے اور یہ صرف انفرادی مسئلہ ہے نہ کہ ملّی وتمدّنی ، لیکن کیامعاشی بنیاد پر بھی برتھ کنٹرول کو جواز حاصل ہوسکتا ہے۔؟ اور وہ بھی انفرادی عمل نہیں، بلکہ سماجی ضرورت اور ملّی پالیسی کے طور پر ؟

(۴) خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر برتھ کنٹرول اسقاط حمل (Abortion)پر بھی منتج ہوتا ہے۔ اس کے ذرائع (مانع حمل اشیاء وادویہ) بدکاری کو فروغ دینے کا بہت بڑا وسیلہ واقع ہوئے ہیں۔ ان منطقی نتائج سے قطع نظر کرکے برتھ کنٹرول کی حمایت کرنا اور مسلم معاشرے میں اسے رواج دینے کی تحریک پیدا کرنا، کیا خلافِ اسلام نہیںہے؟

جواب:جولوگ رخصتِ عزل کی احادیث سے برتھ کنٹرول کی تحریک یاخاندانی منصوبہ بندی پر استدلال کرتے ہیں وہ ایک بڑی حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ غذا کی کمی اور ذرائع کی تنگی کے اندیشے کی بنا پر اگر عزل کی رخصت ہوتو اس کے معنی یہ ہوئے کہ نعوذ باللہ رخصتِ عزل کی احادیث نے خدا کی رزق رسانی کے عقیدے کو مجروح کردیا۔ قرآن میںقتل اولاد کی ممانعت جن آیتوں میں ہے ان کی بنیاد ہی اللہ نے نَحْنُ نَرزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ (ہم تمہیں بھی رزق دیتے یں اور انہیں بھی دیں گے) پرکھی ہے۔ اب اگر اندیشۂ فقرواحتیاج کی بنا پر عزل کرنا صحیح ہو تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کی رزّاقیت کا عقیدہ ختم ہوا اور وہ بنیاد ہی منہدم ہوگئی جس پر قتل اولاد کی ممانعت قائم کی گئی تھی۔ اصل میں یہ غلط فہمی اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ رخصتِ عزل کے پس منظر کو ذہن سے نکال کر گفتگو کی جاتی ہے۔ کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ہے جس میں اندیشۂ فقر واحتیاج کی بناپر پیدائشِ اولاد کو روکنے کی کراہتہً بھی اجازت دی گئی ہو اور یہ ممکن کیسے تھا کہ نبیؐ کسی ایسی چیز کی اجازت دیتے جس سے خدا کی رزق رسانی کے عقیدے پر حرف آتا۔ یہاں میں چند احادیث نقل کرتاہوں جن سے رخصتِ عزل کا پس منظر واضح ہوگا۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے:

قَالَ غَزوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَزْوَۃً فَسَبَیْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ فَطَالَتْ عَلَیْنَا الْعُزُوْبَۃُ وَرَغِبْنَا فِی الْفِدَاء فَاَرَدْنَا اَنْ نَّسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَظْھُرِنَا لَا نَسْاَلُہٗ فَسَأَلْنَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا عَلَیْکُمْ اَلَّا تَفْعَلُوْا مَا کَتَبَ اللہُ خَلْقَ نَسْمَۃٍ کَانَتْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اِلَّا سَتَکُوْنُ۔ (صحیح مسلم)

ابوسعیدؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بنوالمصطلق کے غزوہ میں شرکت کی۔ اس غزوے میں ہم نے نفیس لونڈیاں گرفتار کیں۔ ہمیں اپنی بیویوں سے الگ رہتے ہوئے کافی دن ہوگئے تھے اور ہمیں ان لونڈیوں کے دام وصول کرنے کی بھی رغبت تھی۔ ہم نے چاہا کہ ان سے فائدۂ جماع حاصل کریں اور عزل کریں، پھر ہم نے سوچا کہ ہمارے درمیان رسولِ خدا موجود ہیں، ان سے پوچھے بغیر ایساکرنا مناسب نہیں، تو ہم نے آپ سے سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: اگر عزل نہ کروتو تمہاراکچھ نہ بگڑے گا۔ قیامت تک جتنے انسانوں کی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ تو پیدا ہوکر ہی رہیں گے۔‘‘

پس منظر یہ ہوا کہ غزوۂ بنوالمصطلق میں کچھ لونڈیاں صحابۂ کرام کے حصوں میں آئیں۔ وہ عرصے سے اپنی بیویوں سے الگ تھے اور انہیں عورتوں کی شدید احتیاج تھی۔ وہ ان لونڈیوں سے تمتع چاہتے تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ ان کو فروخت کرکے ان کے دام وصول کریں۔ اگر وہ حاملہ ہوجاتیں تو اُم ولد (اُم ولد اس لونڈی کو کہتے ہیں جس کے بطن سے آقا کا بچہ پیدا ہو) ہونے کی وجہ سے ان کا بیچنا ممنوع ہوجاتایا ان کی قیمت فروخت پر اس کا اثر پرتا۔ اس چیز سے بچنے کے لیے ان کے ذہنوں میں عزل کی تدبیر آئی اور انہوں نے اس کے بارے میں سوال کیا۔ حضورؐ نے اس فعل کو پسند فرمایا اور اسے اس مقصد کے حصول کے لیے ، جس کا ذکر کیاگیا، ایک بے کار فعل قرار دیا، لیکن صراحۃً اس کی ممانعت بھی نہ کی۔ ایک اور حدیث میں ہے:

’’ایک شخص حضورکے پاس آیا اور اس نے کہا: میرےپاس ایک لونڈی ہے۔ وہی ہماری خادمہ بھی ہے اور وہی ہمارے لیے پینے کا پانی بھی لاتی ہے۔ میں اس سے وطی کرتا ہوں اور یہ نہیں چاہتا کہ وہ حاملہ ہو، تو کیا میں عزل کروں؟ آپ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو عزل کر، لیکن اگر اس سے بچہ پیدا ہونا ہے تو ہوکر رہے گا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ پھر آیا اور اس نے کہا: یارسول اللہ! وہ حاملہ ہوگئی ۔ آپ نے فرمایا: میں نے پہلے ہی کہاتھا کہ جو بچہ مقدّر ہے وہ ہوکر رہے گا۔‘‘ (صحیح مسلم)

ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے ایام رضاعت میں دودھ پیتے بچے کو نقصان پہنچ جانے کے اندیشے سے عزل کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے ان کو بھی یہی جواب دیا کہ جس بچے کو پیداہونا ہے وہ ہوکر رہے گا۔ (سنن نسائی)

ان احادیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں:

(۱) عزل کی عدم ممانعت کا اصل تعلق لونڈیوں سے ہے۔

(۲) اس کامحرک فقر واحتیاج یا کثرتِ اولاد کی وجہ سے معیار زندگی کے گرجانے کااندیشہ نہ تھا۔

(۳) آپ نے عدم استقرارِ حمل کے لیے عزل کی تدبیر کو فعل عبث قرار دیا، کیوں کہ اس صورت میں ننانوے فی صدی اس کا احتمال باقی رہتا ہے کہ مادۂ تولید کاکوئی جرثومہ اندر رہ جائے۔ آپ نے بار بار یہ جو فرمایا ہے کہ ’’جس بچے کی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ہوکر رہے گا۔‘‘ وہ اسی احتمال کی بنا پر فرمایا ہے۔ اس ٹکڑے کو ایک دوسری حدیث واضح کرتی ہے:

عَنْ أبِیْ سَعِیْدٍ الخُدْرِیِّ یَقُوْلُ سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ مَا مِنْ کُلِّ الْمَاءِ یَکُوْنُ الْوَلَدُ وَاِذَا اَرَادَ اللہُ خَلْقَ شَیْءٍ لَمْ یَمْنَعُہُ شَیْءٌ۔ (صحیح مسلم)

’’ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ حضورؐ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا: ہرمنی سے بچہ نہیں پیداہوتا اور جب اللہ کسی شے کو پیدا کرنا چاہے تو کوئی شے مانع نہیں ہوتی۔‘‘

ایک اور انداز سے آپ نے عزل کے بے فائدہ ہونے کی وضاحت کی۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ محض مادۂ تولید کاداخل ہوجانا تخلیقِ ولد کا اصل سبب نہیںہے، بلکہ ارادۂ الٰہی اس کااصل سبب ہے۔ کل کا کل مادہ بھی اندر پہنچ جائے اور ارادۂ الٰہی نہ ہو تو بچہ نہ ہوگا اور اگر ارادۂ الٰہی ہوتو کوئی نہ کوئی قطرہ اندر رہ جائے گا اور اس کو روکنے پر انسان قادرنہ ہوگا اور بچہ پیدا ہوکر رہے گا۔ جن ملکوں میں برتھ کنٹرول سے شرح پیدائش گرگئی وہاں اس کا سبب صرف عزل کی تدبیر نہیں، بلکہ اور دوسری تدبیریں تھیں۔ اس کاسبب مانع حمل دوائیں بلکہ سب سے زیادہ اس کا سبب چمڑے کے غلافوں کا استعمال تھا۔ محض عزل کی تدبیر سے شرح پیدائش بہت زیادہ کبھی نہیں گرسکتی اور اب تو شیطان نے آپریشن کی تدبیر بھی سکھادی ہے۔ بہت موقعوں پرتوعورتوں پر یہ ظلم بھی روا رکھا گیا ہے کہ آپریشن کے ذریعہ ان کے رحم ہی کو نکال کر پھینک دیاگیا ہے۔ اگر مغرب کے لوگ صرف عزل کی تدبیر پر قانع ہوتے تو ان کے وہ مقاصد کبھی حاصل نہ ہوتے جنہیں وہ حاصل کرناچاہتے تھے۔

تدبیر عزل اور منع حمل کی موجودہ تدابیر کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ اوّل الذکر میں ننانوے فی صدی استقرارِ حمل کا احتمال باقی رہتا ہے، اور موجودہ تدابیر میں اس احتمال کو بالکل ختم کرنے کی سعی کی جاتی ہے، اس لیے ان تدابیر کو تدبیر عزل پر قیاس کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ نیز یہ کہ فقر واحتیاج یامعیار زندگی کے گرجانے کے اندیشے سے عزل کی سرے سے کوئی رخصت موجود نہیں ہے، اس لیے بھی خاندانی منصوبہ بندی کو اس پر قیاس کرنا لغو ہے۔

اگر نبیؐ کے سامنے صحابہ کوئی ایسی تدبیر پیش کرتےجس سے استقرارِ حمل کااحتمال بالکل ختم ہورہا ہوتا تو آپ ہرگز اس کی اجازت نہ دیتے۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں ہے، بلکہ اس کی دلیل یہ ہے کہ شریعت میں اختصاء یعنی اپنے آپ کو خصی بنالینا بالاتفاق حرام ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اپنی قوتِ رجولیت کو ختم کرلینے کی کوئی رخصت اسلامی شریعت میں موجود نہیںہے۔ اس مسئلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے، جسے نظر انداز نہ کرنا چاہئے کہ عزل کی محدود رخصت بھی شریعت کاکوئی اجماعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ علمائے امت کے ایک گروہ کے نزدیک عزل مطلقاً ناجائز ہے۔

(مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے زیر طبع مولانا مرحوم کی کتاب ’قرآن کا فلسفۂ اخلاق‘ سے ایک اقتباس)

ستمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau