رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا

سوال: کہا جاتاہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب یہ بات عجیب سی لگتی ہے۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ بہ راہ کرم وضاحت فرمائیں۔

جواب:جھوٹ بولنا،یعنی خلافِ حقیقت کوئی بات کہنا اسلامی شریعت میں اصولی طور پر ایک ناپسندیدہ اور مذموم خصلت ہے۔ قرآن وحدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے، اسے ایمان کے منافی عمل قرار دیاگیا ہے اور اس پر اخروی سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ۝۰ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰذِبُوْنَ۝۱۰۵ (النحل:۱۰۵)

’’جھوٹ وہ لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے۔ وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں۔‘‘

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَاِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِیْ اِلٰی الْفُجُوْرِ وَاِنَّ الْفُجُوْرَ یَھْدِیْ اِلٰی النَّارِ۔ (بخاری:۶۰۹۴، مسلم:۲۶۰۷)

’’جھوٹ بولنے سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی تک پہنچاتا ہے اور برائی جہنم تک لے جاتی ہے۔‘‘

لیکن صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مخصوص مواقع پر بڑی مصلحت کے پیش نظر جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس کی طرف اوپرسوال میں اشارہ کیاگیا ہے۔

حضرت اسماء بنت یزیدؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لَا یَحِلُّ الْکَذِبُ الّا فِی ثَلَاثٍ: کَذِبُ الرَّجُل اِمْرَأتَہٗ لِیُرْضِیْھَا وَالْکَذِبُ فِی الْحَرْبِ وَالْکَذِبُ لِیُصْلِحَ بَیْنَ النَّاسِ۔(ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی اصلاح ذات البین، ۱۹۳۹، احمد:۶؍۴۵۹،۴۶۱)

امام ترمذی نے اس حدیث کو ’حسن‘ قرار دیا ہے۔ علامہ البانی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے، سوائے لفظ ’’لیرضیھا‘‘ کے کہ وہ ثابت نہیں ہے)

’’جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے، مگر صرف تین مواقع پر آدمی کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا اس کو خوش رکھنے کے لئے، دوران جنگ جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔‘‘

اسی مضمون کی ایک حدیث حضرت اُم کلثوم بنت عقبہؓ سے بھی مروی ہے۔ فرماتی ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ کبھی جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے ہوں، مگر تین مواقع پر (آپؐ نے اس کی اجازت دی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میں ایسے شخص کو جھوٹا نہیں مانتا: (۱) وہ شخص جو لوگوں میں مصالحت کرانے کے لیے ایسا کرے (۲) وہ شخص جو دوران جنگ ایسا کرے اور (۳) شوہر بیوی سے یابیوی شوہر سے گفتگو کے دوران ایسا کرے۔‘‘(ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی النصیحۃ، ۴۹۲۱، صحیح مسلم:۲۶۰۵) علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنے کی اجازت عام حالات میں نہیں دی گئی ہے۔ جن تین مواقع کا تذکرہ احادیث بالا میں ہے وہ مخصوص اور استثنائی صورتیں ہیں۔ دورانِ جنگ جھوٹ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ایسی باتیں کرے، جن سے مسلم فوج کا طاقت ور ہونا معلوم ہو، اس کا حوصلہ بڑھے اور دشمن دھوکے میں پڑجائے۔ اس چیز کو ایک حدیث میں اَلْحَرْبُ خُدْعَۃً (جنگ تو دھوکے کا نام ہے) سے تعبیر کیاگیا ہے۔(بخاری۳۰۳۰، مسلم: ۱۷۳۹) لوگوں کے درمیان مصالحت کے لیے جھوٹ بولنے کامطلب یہ ہے کہ وہ ایک شخص کی طرف سے دوسرے تک ایسی بات پہنچائے جس سے ان کے درمیان پائی جانے والی تلخیاں دُور ہوں اور ان کے تعلقات میں خوش گواری آئے، چاہے وہ بات اس نے اس شخص سے نہ سنی ہو۔ اور بیوی سے جھوٹ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ شوہر اس سے زیادہ سے زیادہ محبت اور تعلق خاطر کااظہار کرے، خواہ وہ اپنے دل میں اس سے اتنی محبت نہ پاتا ہو۔ اس کا مقصد ازدواجی تعلقات میں خوش گواری پیداکرنا اور اس کو جاری رکھنا ہے۔

شارح بخاری حافظ ابن حجرعسقلانیؒ فرماتے ہیں: ’’علماء کااس بات پر اتفاق ہے کہ شوہر کا بیوی سے یا بیوی کا شوہر سے جھوٹ بولنا صرف اسی وقت جائز ہوسکتا ہے جب ان میں سے کسی کی حق تلفی نہ ہوتی ہو یا کوئی ایسی چیز نہ وصول کررہاہو جس کا اسے حق نہ ہو۔‘‘

(فتح الباری، دارالمعرفۃ ، بیروت ۳۷۹اھ،۵؍۳۰۰)

اور شارح مسلم امام نوویؒ نے لکھا ہے: ’’شوہر کا بیوی سے یا بیوی کا شوہر سے جھوٹ بولنےکامطلب یہ ہے کہ وہ اظہار محبت کے معاملے میں ایسا کریں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرائض کی عدم ادائیگی یاناحق کے حصول میں وہ ایک دوسرے کو دھوکہ دیں۔ اس لیے کہ یہ بالاتفاق حرام ہے۔‘‘ (شرح صحیح مسلم، دارالکتاب العربی ،بیروت، ۱۴۰۷ھ۸؍۱۵۷)

مروی ہےکہ حضرت عمر بن خطابؓ کے عہد میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ’’اللہ کی قسم کھا کر کہو: کیا تم کو مجھ سے محبت ہے؟ عورت نے جواب دیا: تم نے قسم دلاکر پوچھا ہے تو میں صحیح بات کہوں گی۔ مجھے تم سے ذرا بھی محبت نہیں ہے۔ اس شخص نے غصہ میں آکر طلاق دے دی۔ حضرت عمرؓ نے اس عورت کو بلایا اور اس سے دریافت کیا: کیا تم نے اپنے شوہر سے کہا تھا کہ تمہیں اس سے محبت نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا: اے امیر المؤمنین! اس نے مجھ سے قسم دلاکر پوچھا تھا، پھر میں جھوٹ کیسے بولتی؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس موقع پر تم کو جھوٹ بولنا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید فرمایا : ’’تمام خاندانوں کی بنیاد محبت پر نہیں قائم ہوتی ہے، لیکن لوگ اسلامی تعلیمات اور خاندانی روابط کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔‘‘

حضرت عمربن خطابؓ کے مذکورہ بالاقول میں بڑی حکمت ودانائی پائی جاتی ہے۔ وہ جوڑے بڑے خوش قسمت ہیں جن کے درمیان بھرپور سچی محبت ہو، ورنہ بہت سے جوڑے ایسے ہوتے ہیں جن کے درمیان مزاجی ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ سرپرستوں کے ذریعے وہ نکاح کے بندھن میں باندھ دیے جاتے ہیں اور کافی عرصہ ایک ساتھ رہنے کے باوجود  ان کے درمیان  محبت پروان نہیں چڑھتی، بلکہ ایک دوسرے سے تنافر باقی رہتاہے۔ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ زوجین میں سے کوئی ایک اگر دوسرے کو ناپسند کرتاہو تو بھی اسے اظہار ناپسندیدگی سے اجتناب کرناچاہئے اور خوش گوار تعلق رکھناچاہئے۔ کیوں کہ اگر اس میں ناپسندیدگی کی ایک وجہ ہوگی تو عین ممکن ہے کہ ساتھ ہی خیر کے بہت سے پہلو بھی ہوں۔ اس نے شوہروں کو مخاطب کرکے حکم دیا ہے:

وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَہُوْا شَـيْــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللہُ فِيْہِ خَيْرًا كَثِيْرًا۔(النساء:۱۹)

’’ان (یعنی بیویوں) کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو، مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ رہی ہو۔‘‘

ازدواجی تعلقات میں خوش گواری کی بنیاد باہم اعتمادپر ہے۔ اگر کبھی اس میں دراڑ پڑجائے تو پوری زندگی اسے بحال کرناممکن نہ ہوسکے گا۔ حدیث میں بیوی سے جھوٹ بولنے کی اجازت اظہار محبت کے معاملےمیں دی گئی ہے۔ اگر شوہر اس کو مستقل اپنا وتیرہ بنالے تو قوی اندیشہ ہے کہ بیوی پر جلد یا بدیر اس کی حقیقت منکشف ہوجائے گی اور وہ اس کااعتماد کھودے گا۔ اس لیے دانائی اسی میں ہے کہ ازدواجی زندگی کے عام معاملات میں جھوٹ بولنے سے احتراز کیا جائے۔

میراث کا ایک مسئلہ

سوال: میرے والد صاحب نے دوشادیاں کی تھیں۔ میری ماں کے انتقال کے بعد میری سوتیلی ماں اور ان کے بچے میرے ساتھ برا سلوک کرنے لگے۔ کچھ عرصے کے بعد میرے والد کابھی انتقال ہوگیا۔

میری سوتیلی ماں اور ان کے بچے اب میرے والد کی پنشن، جائداد اور بینک میں موجود رقم کو ہڑپنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھے اس سے بالکل محروم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کیا اپنے باپ کی پہلی بیوی کا بیٹا ہونے کی بنا پر میں وراثت سے محروم رہوں گا اور مجھے کچھ حصہ نہیں ملے گا؟

براہ کرم مسلم لا کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب : وارثت کے احکام قرآن کریم کی چوتھی سورۃ النساء میں صاف صاف بیان کردیے گئے ہیں:

(۱)اگر کسی شخص کاانتقال ہوا اور اس کی بیوی بچے ہوں تو بیوی کو شوہر کی کل جائداد کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ (سورۃ النساء آیت۱۲)

(۲) بقیہ جائداد اس کے بچوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر لڑکی کو ایک حصہ اور ہر لڑکے کو دو حصہ ملے گا۔ (سورۃ النساء آیت۱۱)

(۳) اگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے تمام بچے جائداد کے مستحق ہوں گے۔ البتہ اگر اس شخص نے کسی بیوہ کے شادی کی ہو اور اس عورت کے سابقہ شوہر سے بھی بچے ہوں تو وہ بچے اِس شخص کی جائداد میں حصہ دار نہیں بنیں گے۔

اس تفصیل سے واضح ہے کہ آپ بھی اپنے والد کی میراث کے مستحق ہیں۔ آپ کی سوتیلی ماں اور سوتیلے بھائیوں کا کل میراث کو ہڑپنا اور آپ کو بالکلیہ محروم کرنا درست نہیں ہے۔ آیات میراث کے درمیان ایک آیت یہ بھی آئی ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا۝۰ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا(النساء:۱۰)

’’جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں، درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔‘‘

اس آیت میں روز قیامت انہی لوگوں کے برے انجام کی خبردی گئی ہے جو مال میراث پورا ہڑپ کر جاتے ہیں اور دوسرے مستحقین کو محروم رکھتے ہیں۔ جو لوگ اسلام کادعویٰ کرتے ہیں انہیں اس پر بھی ایمان ہوناچاہئے کہ مرنے کے بعد بارگاہ الٰہی میں ہر شخص سےدنیا میں اس کے اعمال کاحساب کتاب لیاجائےگا اور اگر اس نے کسی دوسرے انسان کاحق ہڑپ کیا ہوگا تو وہاں اس کی سزا بھگتنی ہوگی۔

دسمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau