رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

کیا  اللہ کے رسول ﷺ نے گائے کا گوشت کھانےسے منع کیا ہے؟

سوال: ہمارے یہاں ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے ، جس میں ایک مولانا صاحب بتاتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گائے کاگوشت کھانے سے منع کیا ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ ممانعت کی یہ حدیث کئی کتابوں میں درج ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ گائے عرب میں نہیں پائی جاتی تھی ، اس لیے اللہ کے رسول ؐ اورصحابۂ کرام نے کبھی گائے کا گوشت نہیں کھایا ۔ مولانا صاحب یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں گائے کھانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے اوراسے لازم نہیں قرار دیا گیا ہے ، اس صورتِ حال میں جب کہ کسی قوم کے جذبات مجروح ہوتے ہوں، گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانو ں کا اصرار کرنا درست نہیں ہے ۔

براہِ کرم اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں اوربتائیں کہ کیا واقعی احادیث میں گائے کا گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے ؟

جواب : یہ دیکھ کربہت افسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں جیسی صورت رکھنے والے بعض لوگ بہت آسانی سےباطل کے آلۂ کار بن جاتے ہیں اورچند سکّوں کے عوض اسلام کی تصویر مسخ کرنے اور مسلمانو ں کوبدنام کرنے کے معاملے میں سرگرمی دکھاتے ہیں۔

کسی حدیث کا حوالہ دیتے وقت یا اس کوپیش کرتے وقت ایک اہم بات کولازماً سامنے رکھنا چا ہیے۔ اسلام کے خلاف دشمنوں کی سازشیں ابتداہی سے شروع ہوگئی تھیں۔ اس ضمن میں سازشی افراد نے لا کھو ں حدیثیں گھڑیں اور انہیںاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیں۔اس فتنے کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے علمائے امت میںسے ایک طبقے کو کھڑا کیا ، جس نے احادیث وروایات کی تحقیق اور چھان پھٹک کا زبردست کارنامہ انجام دیا ۔ ان حضرات نے احادیثِ نبوی کی روایت کرنے والے ایک ایک فرد کے حالات معلوم کیے ، اس کے ذوق ومزاج ، عادات واطوار، سیرت وکردار کا جائزہ لیا ۔ جو روایات بیان کی جارہی تھیں ان کے متن کوبھی پرکھا۔ اس طرح انہوںنے صحیح ، ضعیف اور موضوع (من گھڑت ) احادیث کوچھانٹ کرالگ الگ کردیا ۔ آج ہم پو ر ے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں حدیث صحیح اورقابلِ استدلال ہے یا ضعیف ، موضوع اورقابل رد ۔ محدثین نے ایک کام یہ بھی کیا کہ تمام احادیث وروایات کو، خواہ وہ صحیح ہوں یا ضعیف یا موضوع، اپنی کتابوں میں درج کردیا اوران کی حیثیت بھی بتادی ۔ تاکہ اگرکوئی شخص آئندہ ان کوپیش کرے یا ان کا حوالہ دے تو تحقیق کرکے ان کے بارے میں معلوم کیا جاسکے کہ ان کی حیثیت کیا ہے ؟ ان سے استدلال درست ہے یا غلط ؟ یہ امت پر محدثین کا بہت بڑا احسان ہے ۔گائے کے دودھ اورگوشت کے سلسلے میں کئی احادیث مروی ہیں۔ایک حدیث حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

عَلَیْکُمْ بِالْبَانِ الْبَقَرِ، فَاِنَّہَا تَرِمُ مِنْ کُلِّ شَجَرٍ، وَہُوَ شَفَاءٌ مِّنْ کُلِّ دَاءٍ

’’تم لوگ گائے کا دودھ پیو، اس لیے کہ گائے تمام درختوں کے پتے کھاتی ہے ۔ اس کے دودھ میں ہر مرض سے شفاء ہے ۔‘‘

اس حدیث کوحاکم نے روایت کیا ہے ۔ اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے ، ذہبی نے اس کی تائید کی ہے اور علامہ البانی نے بھی صحیح قرار دیا ہے ۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ :۴؍۵۸۲)

دوسری حدیث میں اضافہ ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

عَلَیْکُمْ بِالْبَانِ الْبَقَرِ وَسَمُنَانِہَا وَاِیَّاکُمْ وَلُحُوْمَہَا فَاِنَّ اَلْبَانَہَا وَسَمُنَانَہَا دَوَاءٌ وَّشِفَاءٌ وَلُحُومَہَا دَاءٌ

’’گائے کا دودھ اورمکھن کھاؤ اوراس کا گوشت کھانے سے بچو۔ اس لیے کہ اس کے دودھ اور مکھن میں دوا اورشفاء ہے اوراس کے گوشت میں مرض ہے ۔‘‘

یہ روایت (۴؍۴۴۸)مستدرک ، حاکم ، سیوطی بہ حوالہ ابن سنی اورابونعیم (الطب ) نے نقل کی ہے لیکن اس کی سندمیں کئی علّتیں ہیں:

۱۔              اس کا ایک راوی سیف بن مسکین السلمی البصری ہے ۔ محدثین نے اسے غیر معتبر قرار دیا ہے۔ ابن حبّان نے لکھا ہے : ’’ یہ اپنی روایتوں میں الٹی سیدھی اورمن گھڑت باتیں کہتا ہے ۔(کتاب المجر و حین : ۱؍۳۴۷) دار قطنی کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ۔

۲۔             اسی حدیث کی دوسری سندوں میں ، جس کے روایت کرنے والے معتبر افراد ہیں ، گوشت والا اضافہ نہیں ہے ۔ اس میں صرف دودھ کا تذکرہ ہے ۔

۳۔              اس کی رویت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ان کے بیٹے عبدالرحمن سے کی ، جب کہ دونوں کا سماع ثابت نہیں ہے ۔ ابن مسعودؓکے انتقال کے وقت ان کے بیٹے عبدالرحمٰن بہت کم عمر تھے ۔ (تہذیب التہذیب : ۶؍۲۱۶)

۴۔            اس کے ایک راوی (عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عتبہ المسعودی ) کا ذہنی توازن آخری عمر میں بگڑگیا تھا ۔(تہذیب التہذیب : ۶؍۲۱۱)

اس بنا پر محدثین نے اس روایت کونا معتبر قرار دیا ہے ۔ ابنِ حبان نے اسے ’واہٍ‘  زرکشی کہتے ہیں : یہ حدیث منقطع ہے ۔ اس کی صحت محل نظر ہے (التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ ، ص ۱۴۸) سخاوی کہتے ہیں یہ روایت ضعیف اورمنقطع ہے (الاجوبۃ المرضیۃ:۱؍۲۳)حافظ ابن حجرؒنے فرمایا ہے : یہ روایت ضعیف سندوں سے مروی ہے ۔ (أسئلۃ وأجوبۃ ، ص ۶۱)

اسی مضمون کی ایک حدیث ان الفاظ میں ہے :

أَلْبَانُہَا (یعنی اَلْبَقَرُ)شِفَاءٌ وَسَمَنُہَا دَوَاءٌ ، وَلَحْمُہَا دَاءٌ

’’گائے کے دودھ میں شفاء ہے ۔ اس کا مکھن دوا ہے اوراس کے گوشت میں مرض ہے ۔‘‘

اس روایت کوعلی بن جعد نے اپنی مسند (ص ۳۹۳) ابوداؤد نے المراسیل (ص ۳۱۶) میں ، طبرا نی نے المعجم الکبیر(۲۵؍۴۲)میںا بونعیم نے معجم الصحابۃ (نمبر ۷۸۵۰) بیہقی نے السنن الکبریٰ (۹؍۳۴۵) او رشعب الایمان (۵؍۱۰۳) میںنقل کیا ہے ۔ لیکن یہ بھی ضعیف ہے ۔ اس لیے کہ ملیکہ کے صحابیہ ہونے میں اختلاف ہے ۔ امام سخاوی نے الاجوبۃ المرضیۃ (۱؍۲۱) میں، منادی نے فیض القدیر (۲؍۱۹۲) میں اور عجلونی نے کشف الخفاء (۲؍۱۸۲) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔یہ روایت دیگر سندوں سے بھی مروی ہے ۔ مثلاً ابن عدی (الکامل :۷؍۲۹۸)نے اسے مسند ابن عباس سے روایت سے لیا ہے ، لیکن اس میں ایک راوی محمد بن زیاد الطحان متہم بالکذب ہے۔ اسے ابن سنی اور ابونعیم نے اس کی روایت حضرت صہیب رومیؓ سے کی ہے ، لیکن اس کی سندبھی ضعیف ہے ۔ (زاد المعادلابن القیم : ۴؍۳۲۴۔۳۲۵) اس تفصیل سے واضح ہوا کہ گائے کا گوشت کھانے کی ممانعت میں اس روایت کوپیش کرنا درست نہیںہے ۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ اللہ کے رسول اورصحابۂ کرام نے کبھی گائے کاگوشت نہیں کھایا ۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:

ضَحّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِہِ بِالْبَقَرِ

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گایوں کی قربانی کی ۔‘‘

یہ روایت بخاری ( ۲۹۴) مسلم (۱۲۱۱) نسائی(۲۹۰) اورابن ماجہ(۲۹۶۳) میں آئی ہے ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے گائے کی قربانی ثابت ہے اورظاہر ہے کہ اس کا گوشت صحابہ کرامؓ ہی نے کھایا ہوگا ۔ اس سے یہ بات بھی غلط ثابت ہوتی ہے کہ عرب میں گائے نہیں ہوتی تھی۔

قرآن وحدیث میں محرمات (جن جانوروں کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے) کی صراحت کردی گئی ہے ۔ ان کے علاوہ دیگرجانوروں کا گوشت کھانا جائز قرار دیا گیا ہے ۔ سورۂ انعام میں اللہ تعالیٰ نے فرما یا ہے کہ جن چیزوں کواس نے حلال کیا ہے انہیں حرام ٹھہرانے والے خسارے میں ہیں(آیت :۱۴۰) آگے اس نے بتایا ہے کہ جانوروں کواس نے اس لیےپیدا کیا ہے کہ ان سے سواری اورباربرداری کا کام لیا جائے ۔ ان کا گوشت کھایا جائےاوران کی کھالوں سے فرش کا کام لیا جائے ۔ ساتھ ہی اس نے حکم دیا ہے کہ اس نے جوکچھ تمہیں رزق دیا ہے اس سے کھاؤ اورشیطان ، جو بہکانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ، اس کا کہنا نہ مانو (آیت : ۱۴۲) آگے ان جانوروں کی تفصیل ہے جنہیں اللہ نے حلال قرار دیا ہے ۔ ان میں گا ئے کا بھی ذکر ہے ۔ ارشاد ہے :

وَمِنَ الْاِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ۝۰ۭ قُلْ ءٰۗالذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَـيَيْنِِ …….(الانعام:۱۴۴)

’’اور اسی طرح دواونٹ کی قسم سے ہیں اوردوگائے کی قسم سے ۔ پوچھو، ان کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ …..‘‘

مسلمانوں کوگائے کا گوشت ترک کرنے کا مشورہ دینےکے بجائے ان نادان دوستوں کوچاہیے کہ ظلم کرنے والوںکومشورہ دیں کہ وہ اپنی جارحیت سے باز آجائیں اورملک کے تمام طبقات کواپنے عقا ئد ، تہذیب اورروایات کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیں ۔ اگرکسی علاقے میں گائے کے ذبیحے پر پابندی کا قانون منظور اورنافذ ہو تواُس کا تدارک کیسے کیا جائے؟یہ ایک دوسرا موضوع ہے ، جس پر گفتگو کا یہ موقع نہیں ہے۔

میراث کا ایک مسئلہ

سوال: ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں ۔ ہم نے ان کے انتقال کے بعد میراث تقسیم کردی تھی ۔ ایک درخت بچا تھا جوہمارے درمیان مشترکہ تھا اورسب لوگ اس کا پھل کھاتے تھے ۔ گزشتہ دنوں وہ سوکھ گیا ۔ ہم نے اسے فروخت کردیا ، جس سے ہمیں آٹھ ہزار روپے ملے ۔ ہماری والدہ زندہ ہیں ۔ ہم تین بھائی اورایک بہن ہیں۔ اس رقم کو کیسے تقسیم کریں؟ براہِ کرم رہ نمائی فر ما ئیں ۔

جواب: کسی شخص کا انتقال ہوا اوروہ صاحبِ اولاد ہو اوراس کی بیوی بھی زندہ ہوتواس کی وراثت اس طرح تقسیم ہوگی :

(۱)          بیوی کوآٹھواں حصہ ملے گا (النساء :۱۲)

(۲)         بقیہ مال وراثت لڑکوں اورلڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا ملے گا ۔ (النساء :۱۱)

صورتِ مسئلہ میں آٹھ ہزار کا آٹھواں حصہ ایک ہزار روپے ہوئے ۔ یہ اپنی والدہ کودے دیجئے ۔ بقیہ سات ہزار روپے میں دو دو ہزار روپے تینوں بھائیوں میں تقسیم کرلیجئے اورایک ہزار روپے اپنی بہن کو دے دیجئے۔

بچے کا پیشاب

سوال : بچہ دودھ پی رہا ہو ، ابھی اس نے روٹی کھانی شروع نہیں کی ہے ۔ کیا اس کے پیشاب کردینے سے اگرکسی کے کپڑے خراب ہوجائیں تووہ ان میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ بہ الفاظ دیگرکیا چھوٹے بچے کا پیشاب پاک ہے ؟

جواب : بچہ جب دوسال کا ہوجائے اورغذا استعمال کرنے لگے (خواہ وہ لڑکا ہویا لڑکی )تواس کا پیشاب بڑے شخص کی طرح ناپاک ہے۔ اگروہ کسی کپڑے میں لگ جائے تواسے دھونا ضروری ہے ۔ اس کی دلیل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے :

اِسْتَنْزِہُوْا مِنَ الْبَوْلِ ، فَاِنَّ عَامَّۃَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْہُ (دار قطنی ، مستدرک)

’’پیشاب سے بچو، اس لیے کہ اس سے نہ بچنے پر قبر کا عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘

لیکن بچہ اگر ابھی دودھ پی رہا ہو(مدتِ رضاعت کے اندر ہو) اوراس نے غذا ابھی شروع نہ کی ہو تواس کے پیشاب کا کیا حکم ہے ؟ اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے:

احناف اورمالکیہ کہتے ہیں کہ چھوٹے بچے کا پیشاب بھی بڑے شخص کی طرح ناپاک ہے ۔ اس سے پاکی حاصل کرنا ضروری ہے ۔ اس لیے کہ حدیث میں پیشاب سے بچنے کا عمومی حکم ہے ۔اس میں کوئی استشناء نہیں ہے ۔ البتہ مالکیہ کہتے ہیں کہ دودھ پلانے والی عورت (خواہ ماں ہو یا دایہ) ، جو صفائی ستھرائی کا اہتمام کرتی ہو، اگراس کے کپڑے یا بدن پربچے کا کچھ پیشاب یا پاخانہ لگ جائے تووہ قابل معافی ہے ،  لیکن اگراس کی زیادہ مقدار لگی ہو توبہتر ہے کہ وہ اسے دھولے۔ شوافع اورحنابلہ اس معاملے میں لڑکے اور لڑکی کے پیشاب میں فرق کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لڑکے نے پیشاب کیا ہو تواس پر چھینٹے مارلینا کافی ہے ، لیکن اگر لڑکی نے پیشاب کیا ہو توکپڑے کودھونا ضروری ہے ۔ ان کی دلیل وہ احادیث ہیں، جن میں صراحت سے یہ فرق کیا گیا ہے ۔ حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِیَۃِ وَیُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الْغُلاَمِ (ابوداؤد:۳۷۸)

’’لڑکی کے پیشاب سے (آلودہ کپڑا ) دھویا جائے گا اورلڑکے کے پیشاب سے (آلودہ کپڑے پر  )  چھینٹے مارے جائیں گے۔‘‘

متعدد فعلی احادیث سے بھی اسی کا اشارہ ملتا ہے ۔ مثلاً ایک مرتبہ حضرت حسین بن علیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے کہ انہوںنے پیشاب کردیا ۔ اس موقع پر موجود حضرت لبابہ بنت الحا ر ث (ام المومنین حضرت میمونہؓ کی بہن)نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولؐ !آپ دوسرا کپڑا پہن لین، مجھے اپنی ازار د ے دیں، میں اسے دھودوں۔ آپ ؐ نے فرمایا : لڑکی پیشاب کرے تواسے دھویا جائے گا ۔ لڑکا پیشاب کرے تواس پر چھینٹے مارنا کافی ہے ۔ (ابوداؤد:۳۷۵) ایسی ہی روایت حضرت ابوالسمعؓ نے بھی ، جوآپ ؐ کی خدمت کیا کرتے تھے ، مروی ہے ۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ حضرت حسن ؓ یا حضرت حسینؓ نے آپ ؐ کے سینے پر پیشاب کردیا ۔ میں اسے دھونے چلا تو آپؐ نے یہی بات فرمائی ۔ (ابوداؤد:۳۷۶)

حضرت ام قیسؓ اپنے دوھ پیتے بچے کے ساتھ خدمتِ نبوی میں حاضرہوئیںاوراسے آپؐ کی گود میں بٹھادیا ۔  اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا ۔ آپ ؐ نے پانی منگوایا ۔ اس پر پانی کے چھینٹے ما ر ے ،  دھو یا نہیں ۔ (بخاری : ۲۲۳، مسلم: ۲۸۷)اس موضوع کی تمام احادیث کو جمع کرکے ان کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بچہ خوا ہ لڑکا ہو یا لڑکی ، اس کا پیشاب کپڑے میں لگ جائے تواسے دھونا چاہیے۔لڑکے کا پیشاب ہونے کی صورت میں محض چھینٹے مارلینا کافی نہیں ۔ بعض احادیث میں اس کے لیے ’رشّ‘اور’نضح‘ کے الفاظ آ ئے ہیں ۔ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب اس پر’پانی بہانا ‘ ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک لڑکے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پیشاب کردیا :

فَدَعَا بِمَاءٍ فَاَتْبَعَہٗ بَوْلَہٗ وَلَمْ یَغْسِلْہٗ (بخاری : ۲۲۲، مسلم : ۲۸۶)

’’ آپ نے پانی منگوایا ، اس کے پیشاب پر بہادیا ۔ کپڑے کو(اچھی طرح) نہیں دھویا ۔‘‘

دوسری روایت میں وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پینے والی عمر کا ایک لڑکا لایا گیا ۔ اس نے آپ کی گود میں پیشاب کردیا :

فَدَعَا بِمَا ءٍ فَصَبَّہٗ عَلَیْہِ (مسلم : ۲۸۶)

’’آپؐ نے پانی منگوایا اوراس پر انڈیل دیا ۔‘‘

اس سے معلوم ہوتا ہےکہ ’رشّ‘ اور’نضح‘ کا مطلب بھی دھوناہے (محض چھینٹے مارلینا نہیںہے) اور’غَسْلَ‘ کا مطلب کپڑے کورگڑ کر دھونا اورنچوڑنا ہے ۔لڑکے اورلڑکی کے پیشاب کودھونے کے معاملے میں احادیث میں جوفرق کیا گیا ہے ، فقہاء نے ان کی حکمتیں بیان کی ہیںاورتوجہیں کی ہیں، ان کا یہاں تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بہرحال دونوں کے پیشاب کودھونے کی کوشش کرنی چاہیے۔

دسمبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau