اذان اور دعوت میں تعلق

(20)

مفتی کلیم رحمانی

مساجد میں بچوں کے تعلیمی مکاتب بھی هوتے ہیں، اس لئے مسجد کے مصلیوں کو اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ بچوں کی تعلیم كی  مد میں بھی اپنا کچھ مالی تعاون دیں، کیونکہ یہ بچے خود ان ہی کے ہیں، اس سلسلہ میں بھی وہ تعاون کا کوئی پیمانہ مقرر کر لیں تو بہتر ہے،  بطور تجویز  عرض ہے کہ مصلی اپنے بچوں کی عصری تعلیم پر جتنا روپیہ خرچ کرتے ہیں، اس کا کم از کم بیس(۲۰) فیصد حصہ بچوں کی دینی تعلیم پر خرچ کریں ، اس پیمانہ سے اگرمساجد کے مصلی مکاتب میںمالی تعاون دیں تو یہ مکاتب چند ہی سالوں میں اعلیٰ تعلیم کے مدارس میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

مساجد کے مذکورہ تعاون کے ذرائع کے علاوہ ایک اور اہم ذریعہ ہے، اور وہ ہے ہفتہ واری نماز جمعہ کا ذریعہ ضرور جمعہ کے موقع سے مسجد کو کچھ مالی تعاون دینا چاہئے، الحمد للہ مصلی حضرات جمعہ کے موقع سے کچھ نہ کچھ تعاون دیتے ہیں ، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مصلی دیں،اور ایک پیمانہ مقرر کرکے دیں، جمعہ کو عید المومنین بھی کہا جاتا ہے ۔

مسلم معاشرہ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جمعہ کے دن گھروں میں کھانا دیگر دنوں کی بہ نسبت ذرا اچھا ہی بنتا ہے ، اس لئے جب جمعہ کے د ن کھانے کے خرچ میں ہمارا ہاتھ کشادہ ہوتا ہے، تو اللہ کی راہ میں خرچ میں بھی کشادہ ہونا چاہئے، اور وہ بھی جمعہ کی نماز کے اختتام پر  تاکہ دینے اور وصول کرنے میں سہولت ہو۔ ویسے بھی نماز جمعہ اور خطبئہ جمعہ مسلمانوں کے لئے ایک ہفتہ واری دینی اجتماع ہے، اور کسی بھی دینی اجتماع  کے انتظام میں کچھ مسلمانوں کو مال خرچ کرنا پڑتا ہے، اس لئے یہ بات بڑی غیرمناسب ہوگی کہ ہم اپنی جماعتوں اور تحریکات کے اجتماعات میں تو روپئے خرچ کریں، اور اللہ اور اس کے رسولؐ کے ہفتہ واری اجتماع میں روپئے خرچ نہ کریں،  اس طرح مسجد میں مال نہیں ہونے کی بنا پر کوئی کام نہیں رکے گا،  جمعہ کے تعاون سے  امام وموذن کو معقول تنخواہ دی جا سکتی ہے۔

تجاویز

مسجد کے تعاون کا پہلا ذریعہ اس کی تعمیر میں تعاون ہے، اس کا پیمانہ یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے ذاتی مکان کی قیمت کا پانچ فیصد حصہ مسجد کی عمارت میں دے۔ مسجد کے تعاون کا دوسرا ذریعہ اس کے انتظامی امور میں تعاون ہے، اس کا پیمانہ بھی اپنے ذاتی مکان کے انتظامی امور کے خرچ کا پانچواں حصہ ہے،  ہر نمازی مسجد کی انتظامی چیزیں استعمال کرتا ہے ، جیسے طہارت خانے ، بیت الخلاء ، چٹائیاں ، لائٹ ، پانی وغیرہ ، تعاون کا تیسرا ذریعہ مسجد کے تعلیمی و تربیتی نظام میںمالی مدد ہے،اس کا پیمانہ یہ ہے کہ ہر مصلی اپنی کمائی کا ایک فیصد حصہ اس مد میں دے۔

مسجد کے تعاون کا چوتھا طریقہ مسجد میں چلنے والے تعلیمی مکتب میں تعاون ہے، اس کا پیمانہ یہ ہے کہ ہر مصلی اپنے بچہ کی عصری تعلیم پر آنے والے خرچ کا پانچواں حصہ یعنی بیس فیصد رقم اس مکتب کی تعلیم میں دے۔ مسجد کے تعاون كا پانچواں ذریعہ نماز جمعہ کے موقع سے تعاون دینا ہے ۔ واضح رہے کہ مذکورہ مساجد کے تعاون کے متعلق جو خاکہ پیش کیا  گیا ہے وہ زکوٰۃ اور عشر کے علاوہ ہے ، اس لئے کہ مسجد کی تعمیر و انتظام میں زکوٰۃ و عشر كا استعمال نهیں هوتا ۔ اس تحریر کا اصل موضوع اذان و دعوت میںتعلق ہے ، اور مقصد اذان کو سمجھنے اور سمجھانے کی تحریک چلانا ہے۔

جولائی 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau