طاغوت کے انکار کے تقاضے

مسعود محبوب خاں

دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اللہ رب العالمین نے بندوں پر جو چیز فرض کی ہے، وہ ہے کفر بالطاغوت اور ایمان باللہ:

فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِن بِاللّہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَیٰ لاَ انفِصَامَ لَہَا وَاللّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْم۔  ﴿البقرہ: ۲۵۶﴾

’’اب جوکوئی طاغوت کاانکارکرکے اللہ پر ایمان لے آیااس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘

طاغوت سے کفر یہ ہے کہ تم غیراللہ کی عبادت اور بندگی کوقطعی باطل سمجھو، اس کی بندگی سے دستبردار ہوجائو اورجولوگ غیراللہ کی بندگی اختیار کیے ہوئے ہوں، انھیں باطل سمجھو۔ ایمان باللہ یہ ہے کہ تم یہ عقیدہ رکھو صرف اللہ تعالیٰ ہی الٰہ اور معبود ہے۔ صرف اللہ ہی حاکمِ اعلیٰ ہے۔ وہی قانون ساز ہے۔

طاغوت کا مفہوم

طاغو کا لفظ عام ہے۔ ہر وہ ہستی جو اللہ کے سوا پوجی جاتی ہے اور وہ اپنی اس عبادت اور بندگی پر راضی ہے، چاہے وہ ہستی معبود ہو چاہے پیشوا ﴿متبوع﴾ اور چاہے مطاع اللہ کی اطاعت سے بے نیاز اس کو لائق عبادت سمجھاجاتاہوطاغوت کہلاتی ہے۔ جو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے علاوہ کسی اور چیز یا قانون سے فیصلہ کرتاہے یا اپنا فیصلہ اس سے کرواتا ہے وہ درحقیقت طاغوت سے فیصلہ کرتااورکرواتا ہے ۔طاغوت کے سرغنوں کاذکر قرآن پاک میں کئی جگہ آیاہے:

أَلَمْ أَعْہَدْ ِٓلا  َیْکُمْ یَا بَنِیْ اٰدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْْطَانَ اِنَّہ‘‘ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْن  ﴿یٰسین: ۶۰﴾

’’اے بنی آدم کیا میں نے ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘

قرآن کی اس آیت کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ طاغوت کاپہلا سرغنہ شیطان ہے جو کہ غیراللہ کی عبادت اور بندگی کااصل داعی ہے۔ منافقین سے جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف اپنے فیصلے جاتے ہیں ان کے ایمان کی نفی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

أَلَمْ تَرَ ِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ اٰمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ اِلَیْْکَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ یُرِیْدُونَ أَن یَتَحَاکَمُواْ اِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوآْ أَن یَکْفُرُواْ بِہِ وَیُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُضِلَّہُمْ ضَلاَلاً بَعِیْداً﴿النساء:۶۰﴾

’’اے نبی! تم نے دیکھانہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو تمھاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کافیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں۔ حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیاگیاہے، شیطان انھیں بھٹکاکر دور لے جانا چاہتاہے۔‘‘

لفظ ’’یَزعُمُونَ‘‘نے ان کے دعویٰ ایمان کو جھٹلادیا۔ مگر اپنے فیصلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف لے جاتے ہیں۔ جب کہ یہ طرزعمل اور ایمان دونوں کبھی ایک بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ آیت سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ طاغوت کا دوسرا سرغنہ وہ ظالم اور جابر حکمران ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی جگہ کوئی اور حکم یا قانون چلاتا ہے۔

طاغوت کامفہوم مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اس اقتباس سے ملاحظہ فرمائیے:

’’طاغوت لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہاجائے گا جو جائز حق سے تجاوز کرگیاہو۔ قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے جو بندگی کی حد سے تجاوز کرکے خودآقائی اور خداوندی کادم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں۔ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرمانبرداری سے منحرف ہوکر یا تو خود مختار بن جائے یا اس کے سوا اور کی بندگی کرنے لگے۔ یہ کفر ہے۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہوکر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے اس کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ طاغوت کا منکر نہ ہو۔‘‘  ﴿تفہیم القرآن:ج:۱-۱۹۶﴾

بہ حیثیت مسلمان یہ بات ہمارے ذہنوں میں بالکل واضح ہوجانی چاہیے کہ اپنے ہر انفرادی اور اجتماعی عمل سے پہلے اور ہر مسئلے کے حل کے لیے ہمارے پاس کوئی شرعی دلیل ہونی چاہیے، اوریہ کہ قرآن، سنت اور اجماعِ صحابہ ہی شرعی دلیل تسلیم کی جاسکتی ہے۔ صرف ان ذرائع سے مستنبط حکم ہی ہمارے لیے قابل تسلیم ہے۔ یہ ہمارے ایمان کاجز ہے۔ جب ہم اقرار کرتے ہیں لآِاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ توگویا کلمہ شہادت ایک ایسے مکمل نظام کی بنیاد ٹھہرتا ہے، جس پر امت مسلمہ کی زندگی اپنی تمام تفصیلات اور ضروریات سمیت تعمیر ہوتی ہے۔ اس بنیاد کے قیام سے پہلے زندگی کی تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِہِ اِلآَّ أَسْمَآئ سَمَّیْْتُمُوہَآ أَنتُمْ وَاٰبَآؤُکُم مَّآ أَنزَلَ اللّہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّہِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوآْ اِلاَّ اِیَّاہُ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلَ کِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُون    ﴿یوسف: ۴۰﴾

’’جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی ﴿سن رکھوکہ﴾ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘

مَّنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّہَ وَمَن تَوَلَّی فَمَا أَرْسَلْنَاکَ عَلَیْْہِمْ حَفِیْظا   ﴿النساء:۸۰﴾

’’جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بیشک اُس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور نافرمانی کرے تو اے پیغمبر تمھیں ہم نے اُن کا نگہبان بناکر نہیں بھیجا۔‘‘

اسلام ایک مکمل دین اور کامل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے تمام پہلوئوں پر حاوی ہے اور اس کی تمام وسعتوں پر حاکمیت اِلٰہ قائم کرنے کادعویدار ہے۔ اسلام فکرو نظر اور علم وعمل میں ایک ہمہ گیر انقلاب کاداعی ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ زندگی کے ہرشعبے پر خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، معاشی ہو یا معاشرتی، سماجی ہو یا سیاسی اللہ کی حاکمیت قائم کرو۔ ہر اطاعت پر اللہ کی اطاعت اور ہر قانون پر اللہ کا قانون مقدم ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ آپﷺ کی دعوت حاکمیت الٰہ کی دعوت تھی۔ اسلام نے یہ ضروری قرار دیاہے کہ اس کی شریعت ہی زندگی کی حاکم ہو:

وَأَنِ احْکُم بَیْْنَہُم بِمَآ أَنزَلَ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَآئَ ہُمْ ﴿المائدۃ:۴۹﴾

’’اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ ان میں فیصلے کیا کر، لوگوں کی مرضی پر نہ چل۔‘‘

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَ ئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ ﴿المائدۃ:۴۴﴾

’’جو لوگ اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ حکومت نہ کرے وہ کافر ہے۔‘‘

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَ ئِکَ ہُمُ الظَّالِمُون﴿المائدۃ:۴۵﴾

’’جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ حکومت نہ کرے وہ ظالم ہے۔‘‘

وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَ ئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون﴿المائدۃ:۴۷﴾

’’جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ حکومت نہ کرے وہ فاسق ہے۔‘‘

دین اور حکومت کی علاحدگی اسلام میں نہیں ہے۔ کوئی حکومت دین کے بغیر نہیں اور کوئی دین شریعت اور نظام کے بغیر کے نہیں۔مشہور عالم سفر بن عبدالرحمن الحوالی فرماتے ہیں:

’’جس نے بشری قوانین کو حاکم بنایا اگر وہ کہے کہ میں عقیدہ رکھتاہوں کہ یہ قانون باطل ہے تو اس کی بات کی کوئی پروا نہ کی جائے، بلکہ یہ شریعت مطّہرہ کو معزول کرتاہے اور اس طرح ہے کہ کوئی بتوں کی عبادت کرنے والا کہے کہ میں عقیدہ رکھتاہوں کہ یہ باطل ہے یعنی یہ بت عبادت کے لائق نہیں۔‘‘

﴿فتاویٰ ومقالات الشیخ محمد بن ابراہیم ۶/۱۸۹ بحوالہ کتاب الجامع فی طلب العلم الشریف تألیف عبدالقادر بن عبدالعزیز اطلبعۃ الثانیۃ ص:۷۸۲﴾

اسلام جاہلیت سے سمجھوتا نہیں کرسکتا۔ یہ نہیں ہوگاکہ آدھا اسلام ہو اور آدھی جاہلیت ہو۔ آج جب کہ اللہ کے بندوں کی وفاداریاں اسلام کے ساتھ ساتھ جاہلیت جدیدہ، سرمایہ داری، جمہوریت،سوشل ازم، نیشنل ازم، ذاتی مفاد ، افادیت پسندی فخرو غرور اور توحید حاکمیت سے متصادم نظریات کو حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی اقدار ہم میں جگہ نہیں پاتیں۔ ہمارے ذہن و دماغ اسلامی تصورات سے روشن نہیں اور ہمارا طریقۂ زندگی فرقوں اورمسلکوں کے تابع ہوکر رہ گیاہے۔ مولانا صدرالدین اصلاحیؒ تحریک اسلامی کے فکری تنزل کے اسباب کے سلسلے میں فرماتے ہیں:

’’کسی خاص اور اہم مقصد کی علمبردار جماعت کی زندگی اس بات پر موقوف ہے کہ اس کی نگاہ اپنے مقصد اور نصب العین پر اچھی طرح جمی رہے اور مقصد و نصب العین پر نگاہ کا جما رہنا اس بات پر موقوف ہے کہ اس مقصد تک پہنچنے کے جو اصول ہیں انھیں یہ جماعت دل وجان سے عزیز رکھتی ہو۔ اگر اس کے افراد میں اپنے مقصد کاگہرا عشق اور اپنے اصول کاگہرا یقین موجود ہوتو موت اس کو آنکھیں نہیں دکھاسکتی۔ عشق ویقین کا یہ لازمی اورفطری تقاضا ہے کہ جماعت کا اجتماعی نظم ونسق اس کے اپنے ہاتھوں میں ہو۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتی کہ کوئی ایسا اجتماعی نظم اس پر مسلط ہو جو اس کے محبوب اصولوں پر تعمیر نہ کیاگیاہو اور اگر سوئے اتفاق سے اس پر کبھی ایسے دن آہی پڑے تو اس کا ایک ایک فرد اس مچھلی کی طرح بے قرار ہورہے گا، جس کو پانی سے نکال کر خشکی پر ڈال دیاگیاہو اور اپنے مقصد، اپنے اصول اور نظام حیات کی محبت اسے موت کی بازی کھیلنے پر مجبور کردے گی۔ وہ رائج الوقت نظام کے خلاف سراپا اضطراب بن جائے گا اور اس کے ساتھ کسی قسم کے اختیاری تعاون یا مداہنت کا تصور تک اس کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ کیونکہ وہ جانتاہے کہ میری انفرادی اور جماعتی زندگی کا تشخص جن اصولوں سے قائم ہے ان کا اسی نظام قاہر نے گلا گھونٹ رکھا ہے۔ یہ اضطراب، سکون سے اسی وقت بدل سکے گا جب کہ وہ اس نظام غیر کی دھجیاں بکھیرچکاہوگا۔ اس کے برخلاف اگر کسی جماعت کے اندر اپنے اصولوں کا یقین مرجھاگیااور اپنے مقصد ونصب العین کا عشق بے جان ہوگیا ہو تویہ اس کے مٹ جانے کی ناقابل انکار علامت ہے۔ اس کم یقینی اور سردمہری کے نتیجے میں اگر اس کے اندر کسی دوسرے نظام کے ساتھ تعاون اور مداہنت کارجحان ابھر آئے تو اس پر ہرگز کوئی تعجب نہ کرنا چاہیے اور کسی ایسے رجحان کا ابھرآنا اس کے سوا اور کوئی معنی نہیں رکھتا کہ حیات ملی کہ محافظوں نے خزانہ کی کنجیاں دشمنوں کے حوالے کردیں اور اب اس پونجی کا لٹ جانا بس کوئی دن کی بات ہے۔ جسے کوئی معجزہ ہی روک سکتا ہوتو روک سکے۔ پھر چونکہ زوال ہو یا کمال اس دنیا میں کسی کی فطرت میں ٹھہرائو نہیں ہے اس لیے اس کے یقین و عشق میں اس زوال کا عمل اپنی رفتار سے برابر آگے بڑھتا جاتاہے۔ اور آخرکار ایک مقام پر پہنچ کر وہ اسی لٹی ہوئی پونجی کے لٹ جانے کے احساس کو بھی لوٹ لیتاہے۔ یہ وہ وقت ہوتاہے جب افراد جماعت میں کسی دوسرے اصول و نظام زندگی کی غلامی کا ذوق پیدا ہوجاتا ہے۔ جب وہ تعاون اور مداہنت کی بھی حدیں پھاندچکے ہوتے ہیں۔ جب انھیں اپنا اصولی اور اخلاقی موقف ہی نہیں یاد رہ جاتا۔ جب وہ اپنے مقصد اور اصولوں سے اتنے بیگانے ہوجاتے ہیں کہ ان کا عملی رویہ تو ان چیزوں کے غلط اور ناقابل قبول ہونے کی گواہی دینے ہی لگتاہے۔ ان کو نظری طورپر بھی یہ گوارا نہیں رہ جاتاکہ معاشرے اور مملکت کی باگ ڈور پھر سے ان اصولوں کے ہاتھوں میں دے دیے جانے کی کوئی جدوجہد کی جائے اور اگر کسی گوشے سے اس طرح کی کوئی پکار بلند ہوجاتی ہے تو وہ اسے حیرت کے کانوں سنتے اور اختلاف وعناد کی زبانوں سے اس کا جواب دیتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر جماعت بحیثیت ایک اصولی جماعت ہونے کے فنا ہوجاتی ہے اور اس کے نالائق فرزند اپنے ہی ہاتھوں سے قبرکی گہرائیوں میں سلادیتے ہیں۔‘‘ ﴿مولانا صدرالدین اصلاحی﴾

سیداسعد گیلانی اپنی ایک تحریر میں فرماتے ہیں:

’’جب کہ تحریکِ اسلامی کا مقصد وجود ہی یہ ہوتاہے کہ وہ اللہ کے احکام و قوانین کااجرائ کرے۔ یہی مقصد ہر مسلمان کی زندگی کا فرداً فرداً بھی متعین کیاگیاہے۔‘‘ آگے مزید فرماتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ عام سیاسی جماعتوں اور تحریک اسلامی میں باہمی کوئی مماثلت نہیں ہوتی دونوں کی جنس الگ الگ ہے اور عام سیاسی جماعتیں غالب نظام باطل کی بہتر سے بہتر خدمت کاپروگرام بناکرمیدان میں آتی ہیں اور تحریک اسلامی اور اس نظام باطل کو اکھاڑپھینکنے اور ایک دوسرا نظامِ حق لانے کا داعیہ لے کر آتی ہے۔ باطل نظام کی خادم سیاسی جماعتوں کو ڈگڈگی بجاکر نعروںاور وعدوں کے زور سے صرف انتخابی فیصلے تک لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور سمیٹنا ہوتا ہے جب کہ تحریکِ اسلامی کو باطل کے مقابلے میں حقائق بیان کرکے دلائل کے ساتھ سچی سچی باتوں کے ذریعے مخاطب کو قائل کرکے اپنے ساتھ ملانا ہوتا ہے۔ اگرچہ قائل ہوکر آنے والا آدمی مضبوط اور پائیدار ساتھی رہتا ہے اور وعدوں سے مائل ہونے والا شخص جلد ہی ایفائے وعدہ سے مایوس ہوکر دوسری طرف لڑھک جاتاہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ قائل تو اِکّا دُکّا افراد ہوتے ہیں اور مجمع کی نفسیات کو سامنے رکھ کر جھوٹے وعدوں کے زور سے اخلاق سے بے نیاز جماعتیں بڑے بڑے مجمعوں کو اپنی طرف مائل کرلیتی ہیں۔‘‘

﴿راہ ورسمِ منزل صفحہ ۲۱۹﴾

مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ فرماتے ہیں :

’’ایسا ہی غلط تصور آپ کے ذہن میں مسلمانوں کی جمعیت ، مسلمانوں کی تنظیم اور مسلمانوں کی قیادت کا بھی ہے۔ اگر آپ کو معلوم ہوکہ اسلام کس تحریک کا نام ہے، اس کا مقصد کیاہے، اس کے اصول کیا ہیں اور وہ کیا طرزِ عمل چاہتاہے؟ تو آپ بڑی آسانی کے ساتھ فیصلہ کرسکتے ہیںکہ ان سیاسی جمعیتوںاور تنظیموںاوران قائدوں اور امیروں کی حیثیت کیاہے جو اسلام کے نام سے اس وقت کام کررہے ہیں۔ اسلام کی رو سے مسلمانوں کی جمعیت صرف وہ ہوسکتی ہے جو غیرالٰہی حکومت کو مٹاکر الٰہی حکومت قائم کرنے اور قانونِ خداوندی کو حکمراں کرنے کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ جو جماعت ایسا نہیں کرتی،بلکہ غیرالٰہی نظام کے اندر ’’مسلمان‘‘ نامی ایک قوم کے دنیوی مفاد کے لیے جدوجہد کرتی ہے، وہ نہ تو اسلامی جماعت ہے اور نہ اسے مسلمانوں کی جماعت ہی کہنا درست ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی تنظیم صرف وہی ہوسکتی ہے جو خالص اسلامی اصولِ اجتماع پر قائم ہو۔‘‘ ﴿تحریکِ اسلامی کا تنزل۔ اسباب اور علاج﴾

اسلامی خلافت کا نظام جس کی امتیازی خصوصیت ’’قانون کی بالادستی‘‘ ہے جس کی مثال کوئی دوسری جمہوریت حکومت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس نظام میں عدلیہ پر کسی بااثر یا بڑی سے بڑی شخصیت کاکوئی دبائو نہیں ہوتا۔ جہاں سربراہِ مملکت یا خلیفہ کو بھی عدالت میں طلب کیاجاتاہے۔ جس کی مثالیں اسلامی نظامِ حکمرانی میں بھری پڑی ہیں۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح ﴿گورنر شام﴾ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو رومیوں کے پاس سفیر بناکر بھیجا۔ رومیوں کے لشکر میں پہنچے تو دیکھاکہ خیمے میں دیبائے زریں کافرش بچھاہے۔ ایک عیسائی نے آکر کہاکہ میں گھوڑا تھام لیتاہوں آپ دربار میں جاکر بیٹھیے۔ معاذؓ نے کہا: ’’میں اس فرش پر جو غریبوں کاحق چھین کر تیار ہواہے، بیٹھنا نہیں چاہتا۔‘‘ یہ کہہ کر زمین پر بیٹھ گئے۔ دورانِ گفتگو بادشاہ اور اس کے اختیارات کاذکر چھڑگیاتو حضرت معاذؓ نے فرمایا: ’’تم کو اس پر ناز ہے کہ تم ایسے بادشاہ کی رعایا ہو جس کو تمھاری جان ومال کا اختیار ہے، لیکن ہم نے جس کو اپنا بادشاہ بنارکھاہے، وہ کسی بات میں اپنے کو ترجیح نہیںدے سکتا۔ اگر وہاںکوئی زنا کرے تو اس کو درّے لگائے جائیں، چوری کرے تو ہاتھ کاٹ دیے جائیں، وہ پردے میں نہیں بیٹھتا۔ اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا۔ مال ودولت میں اس کو ہم پر ترجیح نہیں۔‘‘

ایک بار حضرت عمرؓ نے مسجد نبویﷺ کی توسیع کاارادہ کیا تو حضرت ابی بن کعب کامکان اس میں رکاوٹ بنا۔ حضرت عمرؓ نے ابی بن کعب سے کہاکہ وہ جائز قیمت لے کرمکان دے دیں۔ لیکن حضرت ابی بن کعب مکان فروخت کرنے پرآمادہ نہ ہوئے۔ تنازع بڑھ گیا تو فریقین ﴿جس میں مدعی حکومت وقت تھی اور مدعاعلیہ حضرت ابی بن کعب﴾ نے حضرت زیدبن حارثؓ کو ثالث ﴿یاعدالت﴾ منظور کرلیا۔ حضرت زیدؓ نے فیصلہ حضرت عمرؓ کے خلاف دے دیا۔ جب ابی بن کعب نے مقدمہ جیت لیا تو انھوں نے وہ مکان بلاقیمت مسجد کی توسیع کے لیے دے دیا۔لیکن اس کے برعکس مغربی جمہوری نظام میں عوام بے بس ہوتے ہیں۔ ان کی زمینیں زبردستی Aquire کی جاتی ہیں۔

ایک واقعہ حضرت علیؓ کے دورِ خلافت سے ملتاہے: ’’حضرت علیؓ کی گمشدہ تلوار مسلم ریاست کے ایک عیسائی باشندے کے پاس ہے،چنانچہ انھوںنے یہ نہیں کیاکہ اپنی Postکاغلط استعمال کرتے ہوئے اس سے اپنی تلوار طاقت یا غنڈہ گردی کی شکل میں لے لی۔بل کہ قاضی القضاۃ (Chief Justice)کی عدالت میں اس عیسائی شخص پر مقدمہ دائر کردیا۔حضرت علیؓ کے پاس بطور گواہ ان کے بیٹے حضرت حسنؓ اور ان کے غلام تھے۔ قاضی القضاۃ نے آپ کامقدمہ صرف اس بنائ پر خارج کردیاکہ یہ شہادتیں اسلامی ضابطہ انصاف و عدل کے تقاضے پورے نہیں کرتیں۔ بیٹے کی شہادت باپ کے حق میں اور غلام کی شہادت آقا کے حق میں ناقابلِ قبول ہے۔ حالاں کہ عدالت کو خوب معلوم تھاکہ مدعی اور گواہ سب عادل اور ثقہ ہیں۔ لیکن کا تقاضا یہی تھا کہ مقدمہ خارج کردیاجائے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر عیسائی نے تلوار بھی واپس کردی اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے ہوئے کہا: ’’میں اس بات کی شہادت دیتاہوں کہ ایک سربراہِ حکومت کی طرف سے قانون کی بالادستی کایہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ اس قانون کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔‘‘ اسلام کی تاریخ اس قسم کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہیں جن سے غیرجانب دار انصاف اور مکمل مساوات کاتصور واضح طورپر جھلکتا ہے۔

مذکورہ بحث سے نظامِ خلافت اور نظام جمہوریت کے مابین نیز اسلامی خلیفہ اور جمہوری صدر کے درمیان فرق واضح ہوگیاکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اس لیے یہ نہیں کہاجاسکتاکہ اسلامی نظام جمہوریت کا نظام ہے یا جمہوریت اسلامی تصور ہے۔ کیوں کہ دونوں میں فرق نہ صرف اُن کی بنیادوں میں ہے ، جن پر یہ قایم ہیں۔ بلکہ اُن کی شکل اور تفصیل دونوں سراسر متضاد ہیں۔

گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ جس چیز میں انسانیت کی بقا اور ترقی وسلامتی کاراز ہے وہ ہے نظامِ خلافت۔ اہلِ ایمان کو اللہ پر کامل یقین اور اعتماد ہونا چاہیے کہ اللہ کی نصرت ضرور حاصل ہوگی اور ان شائ اللہ خلافت ضرور قایم ہوگی۔ ایسا یقین جس نے فرعون کے محل میں پرورش پائے ہوئے انسان کو یہ جرأت عطا کی تھی کہ اس نے غلامی کے پنجروں کو اپنے پیروں تلے مسل دیاتھا، یہ یقین ہی تو تھا جس نے خدائی کے دعویدار کے سامنے حضرت خلیل علیہ السلام کو قلندرانہ گفتگو کا سلیقہ اور اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کا جذبہ دیاتھا، یہ یقین ہی تو تھا جس نے ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس وقت یہ کہلوایا تھا جب عرب کا ذرہ ذرہ آپ کے خون کا پیاساتھاکہ:

’’چچا! خدا کی قسم اگر وہ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اس کام کو چھوڑدوں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو غالب کرے یا میں اس راستے میں جان سے گزرجائوں، تب بھی میں اس سے باز نہ آئوںگا یا تو اس راستے میں محمد﴿ صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی جان جائے گی یا پھر یہ دین غالب ہوکر رہے گا۔‘‘

یادرکھیے جن دلوں میں یقین پیدا ہوجاتاہے، ان کے لیے سمندر خشک ہوجاتاہے، لاٹھیاں سانپ بن جاتی ہیں، آگ ٹھنڈی ہوجاتی ہے، وہ ذبح ہونا چاہتے ہیں مگر انھیں بچالیاجاتا ہے، موت انھی کو آتی ہے جو موت سے دور بھاگتے ہیں۔ زندگی کی حرارت سے وہی محروم ہوتے ہیں جو سوز یقین سے خالی ہوتے ہیں اور جو شخص سوز یقین سے خالی ہو وہ چلتا پھرتا لاشہ ہے۔ معاشرہ نہیں بے جان ڈھانچہ ہے، امت نہیں بھیڑوں کا گلہ ہے اور آج شاید ہم بھیڑوں کا گلہ ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ ایسا گلہ جس کاکوئی چرواہا نہیں اور جس کا ہر فرد بھیڑئیے کے ہاتھوں چیرپھاڑہونے کے لیے اپنی باری کاانتظارکررہاہے۔‘‘

مئی 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau