اسلام میں کمزوروں اور محروموں کے حقوق

ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی

کوئی معاشرہ سماجی ومعاشی طورپر مستحکم اور خوشحال نہیں کہاجاسکتااگر اس کے کمزور، محروم اور پسماندہ افراد اور طبقوں کے حقوق ادا نہ کئے جائیں اور وہ معاشرہ میں اپنے کو محفوظ و مامون تصور نہ کریں۔ چند افراد اور گروہوں کےدرمیان دولت گردش کرتی رہے اور وہی ملک کے وسائل و اسباب اور رزق پر قابض رہیں اِسے ترقی و خوشحالی سے تعبیر نہیں کیاجاسکتا۔ بلاشبہ افرادِ معاشرہ میں، ان کی صلاحیتوں اور قابلیتوں میں، ان کی ذہنی وفکری سطح میں فرق واختلاف پایا جاتاہے جو فطری اورقدرتی ہے۔ قدرت نے سارے انسانوں کو یکساں صلاحیتیں نہیںدیں اور نہ شکل و صورت اور علم و فضل میں انہیں برابر پیدا کیاہے اس لئے معاشرہ میں مساوات اپنے مغربی معنوں میں ناقابل نفاذ اور ناممکن العمل ہے۔ مگر ذہنی و فکری سطح ، صلاحیت وقابلیت اور محنت وسعی کے تناسب سے ہرفرد کو اس کاجائز حق ملنا چاہیے۔ یہ متوازن اور متناسب مساوات اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔

احسان نہیں، انفاق

معاشرہ میں بہت سے افراد اور طبقے محروم رہ جاتے ہیں۔ اپنے جسمانی وذہنی نقص کی وجہ سے، ناگہانی آفات کی بنا پر یا چندافراد کے ظلم واستحصال کا شکار ہوجانے کے سبب وہ وسائل حیات میں سے اپنا حصہ وصول نہیں کرپاتے اور ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، ایسے افراد اور طبقوں کے حقوق کی نگہداشت اور کفالت کرنا معاشرہ کی ذمہ داری ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کے اندر یہ شعور جاگزیں کرتاہے۔ قرآن اہل ایمان کو مختلف حوالوںسے یہ باور کراتاہے کہ اللہ نے جو احسان وانعام تمہارے اوپر کیا ہے، اس میں کمزوروں اور محروموں کابھی حق ہے۔ یتیموں، غریب رشتہ داروں، مسکینوں اور معذور و محروم افراد کے حقوق ادا کرنے کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید کی ہے۔ قرآن کریم کی یہ آیات اس سیاق میں بڑی اہم ہیں:

وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ۝۰ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝۰ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ۝۰ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۝۰ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ۝۱۷۷   (البقرہ۲:۱۷۷)

(بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموںپر، مسکینوں اور مسافروں پر، مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرےاور زکوٰۃ دے۔ اور نیک لوگ وہ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے پورا کریں اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

قرآن اہلِ ایمان کو صرف یہ ہدایت نہیں کرتاکہ وہ معاشرہ کے کمزور اور بے سہارا افراد پر خرچ کریںاور ان کی معاشی کفالت کریں بلکہ انہیں یہ تاکید بھی کرتاہے کہ وہ یہ انفاق احسان جتانے کی نیت سے یا مستحق اور محروم افراد کا دل دُکھاکر نہ کریں بلکہ اللہ کی رضا کی خوشنودی کی خاطرکریں، صدقہ و خیرات اُسی وقت نافع ہوتے ہیںجب کہ حقیقی نیک نیتی موجود ہو:

اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًى۝۰ۙ لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۲۶۲                            ۞ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ يَّتْبَعُہَآ اَذًى۝۰ۭ وَاللہُ غَنِىٌّ حَلِيْمٌ۝۲۶۳ يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى۝۰ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَا لَہٗ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَكَہٗ صَلْدًا۝۰ۭ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا۝۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۝۲۶۴  (البقرہ:۲۶۲۔۲۶۴)

(جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دُکھ دیتے ہیں، اُن کا اجر اُن کے رب کے پاس ہے اور اُن کے لئے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔ ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہترہے، جس کے پیچھے دُکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور بُردباری اس کی صفت ہے۔ اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دُکھ دے کر اُس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتاہے نہ آخرت پر۔ اُس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہیں آتا۔ اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔)

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ۝۰ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝۱۳۴ۚ (آل عمران۳:۱۳۴)

(جو ہرحال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصّے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔)

یتیموں اور مسکینوں کی کفالت

۞ وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ     (النساء۴:۳۶)

(اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو۔ ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں اور مسکینوں سے، نیک برتائو کرو۔)

اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى۝۶۠ وَوَجَدَكَ ضَاۗلًّا فَہَدٰى۝۷۠  وَوَجَدَكَ عَاۗىِٕلًا فَاَغْنٰى۝۸ۭ فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْہَرْ۝۹ۭ  وَاَمَّا السَّاۗىِٕلَ فَلَا تَنْہَرْ۝۱۰ۭ    (الضحیٰ ۹۳ : ۶۔۱۰)

(کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟ اور تمہیں ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی۔ اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کردیا۔ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو۔)

(عبدالعزیز ابن ابی حازم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعدؓ سے سنا اور انہوںنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں دونوں اِس طرح ہوںگے ، آپؐ نے انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا۔)

(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوائوں اور مسکین کے لئے دوڑدھوپ کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی مانند ہے یا اُس شخص کے برابر ہے جو مسلسل دن میں روزہ رکھے اور راتوں میں قیام کرے۔)

مزدور کا حق

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت مزدوری کرنے اور خون پسینہ بہاکر رزق حلال کمانے کو باعث اجروثواب قرار دیا، اس کی ہمت افزائی کی اور اسے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر ترجیح دی۔ آپؐ نے دست و بازو کی کمائی کو افضل کمائی سے تعبیر کیا:

(حضرت مقدام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی آدمی کے لیے اِس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے ہاتھ سے کمائی کرکے کھائے اور اللہ کے پیغمبر دائود علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کمائی کرکے کھاتے تھے (کیونکہ وہ زرہ بناتے تھے۔)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اصحاب رسول اپنے ہاتھ سے کام کرنے اور کسی خدمت گار سے خدمت نہ لینے کو ترجیح دیتے تھے۔

(حضرت عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اپنے کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کے خوگر تھے اور اس کی وجہ سے اُن کے بدن سے ایک قسم کی بو نکلتی تھی۔ اُن سے کہاجاتاتھا کہ اگر آپ لوگ غسل کرلیتے تو بہتر ہوتا۔)

(ابوعبیدہولیٰ عبدالرحمن بن عوف سے مروی ہے کہ انہوںنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سناکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص لکڑیوں کا گٹّھا (جنگل سے کاٹ کر) اپنی پیٹھ پر لادکر لائے  (اور اسے بازار میں بیچ کر اپنی بھوک مٹائے) تو یہ بہتر ہے۔ اِس سے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور وہ اسے دیں یا منع کردیں۔‘‘)

اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدوری کرنے والے افراد کے حقوق بیان کئے اور اُن کے حقِ محنت کو خوش دلی سے تسلیم کرنے کی تعلیم دی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مزدوروں کی مزدوری اُس کاپسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔)

ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے صراحت کی:

(مزدور کی مزدوری کم کرنا گناہ کبیرہ ہے)

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک ہدایت کی کہ پہلے مزدوری طے کرو، اس کے بعد کام پر لگائو تاکہ مزدور کااستحصال نہ ہو:

(نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدور کی مزدوری متعین کرنے سے پہلے اُس سے کام لینے سے منع فرمایا۔)

گھریلو خادموں کا حق

(واصل الاحدب نے بیان کیا وہ کہتے ہیں میں نے معرور بن سوید سے سنا۔ وہ کہتے ہیں میں نے ابوذر غفاری کو دیکھا وہ ایک جوڑا زیب تن کئے ہوئے تھے اور اسی طرح ان کا غلام بھی پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس بارے میں ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے ایک شخص سے گالم گلوج کیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کردی۔ آپؐ نے مجھ سے فرمایا: ’’تم نے اسے ماں کی گالی دی ہے؟‘‘ پھر فرمایا: ’’دیکھو تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ نے انہیں تمہارا زیردست بنادیا ہے جس شخص کا بھائی اُس کے ماتحت ہوتو اُسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہو اور اُسے وہی پہنائے جو خود پہنتا ہو۔ تم انہیں ایسے کاموں کا مکلّف نہ بنائو جو اُن کی طاقت سے باہر ہو اور اگر ایسے کام کرنے کاحکم دوتو اُن کی مدد کرو۔‘‘)

(ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا۔ یہ کہتے ہیں ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سناکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کاخادم اس کا کھانا لےکر آئے تو اگر وہ اُسے اپنے ساتھ (دسترخوان پر) نہ بٹھاسکے تو اسے اس میں سے ایک دو لقمہ دے دے کیونکہ کھانا تیار کرنے کی زحمت اُسی نے اُٹھائی ہے۔‘‘)

(العباس بن جلید الحجری کہتے ہیں۔ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سناکہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیا: اے اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں؟ آپؐ سن کر خاموش رہے۔ پھر اُس نے اپنا سوال دوہرایا، آپؐ خاموش رہے۔ جب تیسری بار اُس نے اپنا سوال دوہرایا تو آپؐ نے فرمایا: ’’روزانہ ستربار اُسے معاف کرو۔‘‘)

(ہلال ابن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن کے گھر مہمان ہوئے۔ ہمارے ساتھ ایک تیزمزاج بوڑھا تھا جس کے ساتھ ایک لونڈی تھی۔ اُس نے اس کے چہرے پر طمانچہ ماردیا۔ اُس دن سوید کو جس قدر غضبناک میں نے دیکھاپہلے کبھی ایسا نہ دیکھاتھا۔ انہوںنے فرمایا: تیرے پاس اسے آزاد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ تو نے ہمیں دیکھاہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا۔ سب سے چھوٹے بھائی نے ایک بار اس کے منہ پر طمانچہ ماردیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے آزاد کرنے کا حکم دیا۔)

معذوروں کےحقوق

اسلام معاشرہ کے معذور افراد کو خصوصی توجہ کامستحق سمجھتاہے۔ تکریم وحریت، عدل ومساوات، بنیادی انسانی حقوق معاشرہ کے عام افراد کی طرح اس کے معذوروں کو بھی یکساں درجہ حاصل ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر قرآن اہلِ ایمان کو ہدایت دیتا ہے کہ ایسے افراد اور طبقات پر وہ خصوصی عنایت کریں۔ انہیں معاشرتی روابط میں نظرانداز نہ کریں۔ ان سے میل جول اور ربط و ضبط قائم رکھیں۔ یہاں تک کہ وعظ و نصیحت اور ترغیب وترہیب کے مواقع پر بھی ان پر توجہ مبذول رکھیں۔

مفسرین اور محدثین کا اتفاق ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ’عتبہ، شیبہ، ابوجہل، امیہ بن خلف، ابی بن خلف اور دوسرے سرداران قریش بیٹھے ہوئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اسلام کاپیغام سنارہے تھے۔ اِتنے میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ایک نابینا آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام سے متعلق کچھ پوچھنا چاہا۔ آپ کو یہ مداخلت ناگوار ہوئی۔ آپ کا رجحان یہ تھا کہ قوم کے بااثر لوگ دعوت اسلامی قبول کرلیں تو کام آسان ہوجائے ورنہ عام بے اثر، معذور یا کمزور لوگوں میں دعوت پھیل بھی جائے تو اس سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑسکتا۔ اس احساس کے تحت اللہ کے رسول نے اُن سے بے اعتنائی برتی مگر اللہ نے اس پر ناگواری کااظہار کیا اور قرآن نے داعیان دین کے لیے یہ اصول مقرر کردیاکہ دعوتِ دین کے نقطۂ نظر سے ہر اُس انسان کی اہمیت ہے جو طالبِ حق ہو چاہے وہ معذور اور بے اثر ہو۔ اور ہر وہ شخص غیراہم ہے جو حق سے بے نیازی برتے خواہ وہ معاشرہ میں کتنا ہی بڑا مقام رکھتا ہو:

(ترش رُو ہوا اور بے رُخی برتی اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا۔ تمہیں کیا خبر، شاید وہ سُدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اُس کے لئے نافع ہو؟ جو شخص بے پروائی برتتا ہے اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو، حالانکہ اگر وہ نہ سُدھرے تو تم پراس کی کیا ذمہ داری ہے؟ اور جو خود تمہارے پاس دوڑ آتا ہے اور وہ ڈررہا ہوتا ہے، اس سے تم بے رُخی برتتے ہو!)

اسلام نے جہاد اور دفاعی ذمہ داریوں سے معذور افراد اور طبقوں کو مستثنیٰ قرار دیاجب کہ عام افرادِ معاشرہ کے لیے جہاد میں شرکت کو فرض قرار دیا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے کو عذاب الیم کا سبب بتایا:

لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ۝۰ۭ وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ يُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝۰ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّ يُعَذِّبْہُ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۝۱           (الفتح۴۸:۱۷)

(اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لیے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں۔ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اُسے اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ دردناک عذاب دے گا۔)

سورۃ النور آیت ۶۱ میں اللہ نے اسلامی معاشرت کے جو قوانین اور ضابطے بنائے ہیں اُن سے معذور افراد کو مستثنیٰ کیا ہے۔ رشتہ داروں اور احباب کے گھروں میں آنے جانے، بے تکلف ہونے اور کھانے پینے کے جو آداب بیان ہوئے ہیں ان سے معذور افراد کو مستثنی قرار دیا ہے۔ اس کامطلب ہے کہ انہیں معاشرہ میں ترجیح حاصل ہوگی اور پوری عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کاحق ہوگا۔

قیدیوں کے حقوق

قرآن نے قیدیوں سے حسن سلوک کرنے کی تعلیم دی اور ان کے اصلاحِ احوال کی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا۔ قدیم زمانے میں دستور یہ تھا کہ قیدیوں کو ہتھکڑی اور بیڑیاں لگاکر روزانہ جیل سے باہر نکالاجاتا تھا اور وہ سڑکوںپر یا محلّوں میں بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے تھے۔ اسلام نے اس دستور پر پابندی لگائی۔ قرآن نے اعلان کیاکہ اہل ایمان قیدیوںمسکینوں اور یتیموں کو محض اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلاتے ہیں:

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا۝۸ اِنَّمَا نُـطْعِمُكُمْ لِوَجْہِ اللہِ لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَاۗءً وَّلَا شُكُوْرًا۝۹

(الدھر۷۶ : ۸۔۹)

(وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور اُن سے کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلارہے ہیں۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ!)

مولانا مودودیؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں قیدی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قید میں ہو، خواہ کافر ہو یا مسلمان، خواہ جنگی قیدی ہو یا کسی جرم میں قید کیاگیاہو، خواہ اسے قید کی حالت میں کھانا دیاجاتا ہو یا بھیک منگوائی جاتی ہو، ہر حالت میں ایک بے بس آدمی کو جو اپنی روزی کے لیے خود کوئی کوشش نہ کرسکتا ہو، کھانا کھلانا ایک بڑی نیکی کاکام ہے۔

اسلام میں مذہبی جبر کی سخت ممانعت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت کردی کہ قیدی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کیاجائے۔ اس سے اسلامی قانون کی یہ دفعہ اسلامی تاریخ میں مسلّم ہوگئی کہ قیدیوں کو بھی مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے:

(ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ (کفر کے زمانہ میں) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کابچہ زندہ نہ بچتا تو وہ نذرمانتی کہ اگر اس کا بچہ زندہ بچے گاتو اسے یہودی بنادے گی۔ جب بنونضیرکو جلاوطن کرنے کاحکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے۔ انصار نے کہا: اپنے لڑکوں کو ہم نہ چھوڑیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:  لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ۝۰ۣۙ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۝ (دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت گمرہی سے واضح ہوچکی ہے)

امام ابوداؤد السجستانی (۲۰۲۔۲۷۵ھ) نے، باب فی الاسیر یکرہ علی الاسلام (قیدی کو اسلام کے لئے مجبور نہ کئے جانے کاباب) کے تحت اس حدیث کی تخریج کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں کے متعلق، جو واجب القتل ہوں اور جن کی رہائی کی کوئی صورت نہ بن پارہی ہو، یہ حکم دیاکہ ان کے ساتھ وحشت و درندگی کا معاملہ نہ کیاجائے:

(ابن تِعلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے عبدالرحمن بن خالد بن ولید کے ساتھ مل کر جہاد کیا تو سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور اور توانا کافر لائے گئے۔ انہوںنے اُن کو باندھ کر قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کی تعمیل کی گئی۔ ابودائود کہتے ہیں: ہم سے سعید بن منصور کے سوا دیگر لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ وہ کفار پکڑکر باندھ دیے گئے اور تیروں سے نشانہ لگاکر قتل کردیے گئے۔ یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوںنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح قتل کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے! اگر مرغی غبی نہ ہوتومیں اسے اس طرح نہ ماروں۔ یہ خبر عبدالرحمن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوںنے (اپنی غلطی کی تلافی کے لئے) چار غلام آزاد کئے۔)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں کو بغیر وزیر کی فدیہ کی ادائیگی کے بطور احسان رہا کرنے کے احکام بعض مواقع پر جاری کئے۔ اسیران بدر کے متعلق فرمایاکہ اگر مطعم بن عری زندہ ہوتے اور وہ سفارش کرتے تو میں انہیں فدیہ لئے بغیر رہا کردیتا۔ معطم بن عری مشرک تھے۔ طائف سے لوٹتے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اُن کے ہاں پناہ لی تھی اور انہوںنے مشرکین کے حملوں سے آپ کا دفاع کیاتھا۔ ایک مشرک شخص کا یہ احسان اللہ کے رسول کو یاد تھا اور آپ نے احسان شناسی کے بطور فرمایاتھا:

(محمدبن جبیر بن معطم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسیرانِ بدر کے بارے میں فرمایا: ’’اگرمطعم بن عدی زندہ ہوتے اور اِن ناپاک قیدیوں کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں انہیں اُن کی خاطر رہا کردیتا۔‘‘)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی کو اس کے بچے سے جدا کرکے خریدا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انسانی جذبات کے ساتھ ایک مذاق تصور کرتے ہوئے اس بیع کو فسخ کردیا۔ امام ابودائودؒ نے اس واقعہ کو بیان کرنے کے لئے ایک باب قائم کیا: (قیدیوں میں جدائی کرنے کا بیان)۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قیدیوں کے درمیان اس طرح کی جدائی کرنا ممنوع ہے۔

(میمون بن ابی شبیب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرادی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کردی اور بیع کو رد کردیا۔)

(حضرت عمروفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ جب جنگ بدر واقع ہوئی تو کچھ لوگ قید کرکے لائے گئے جن میں عباس بھی تھے اور ان کے جسم پر کوئی کپڑا نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے لئے قمیص تلاش کرنے لگے۔ لوگوں نے عبداللہ بن اُبی کی قمیص تلاش کی جو اُن کے جسم پر راست آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ قمیص پہنادی۔ یہی وجہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کرتا اتارکر عبداللہ بن ابی کو پہنا یاتھا۔)

صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج کے کمزور ، معذور اور محروم طبقات کے حقوق کی ضمانت دی اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی مسلمانوں کو تلقین کی اور اہل ایمان نے معاشرہ کے تمام افراد اور طبقوں کے حقوق کی بھرپور رعایت کی تب جاکر وہ معاشرہ وجود میں آیا جس کے بارے میں قرآن نے اعلان کیا:

كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــــَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِہٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِہِمُ الْكُفَّارَ۝۰ۭ وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا۝۲۹ۧ           (الفتح ۴۸: ۲۹)

(گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار اُن کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے اُن سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔)

مشمولہ: شمارہ فروری 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau