اصلاحِ معاشرہ میں صحابیات کا کردار

ڈاکٹر محمد امین عامر

صحابیات كا وصف یه تھاکہ شوہر کی اطاعت وخدمت کا حق ادا کرکے خدا کی رضا وخوشنودی کی طلبگار ہوتیں اور محنت ومشقت کرکے صحت وتندرستی کے راز سے واقف ہوتیں اور یوں خاندانی نظام ومعاشرت کی درستگی کاموجب بنتیں ۔ همارے لیے اس میں سبق ہے۔

اصلاح ِ معاشرہ کے ضمن میں تعلیم وتربیت اورحسنِ سیرت واخلاق وکردار اہم پہلو  ہیں۔ بغیر تعلیم کے کسی مہذب اور ترقی یافتہ سوسائٹی کاتصور بھی محال ہے مگر تعلیم وہی جو اخلاقی اقدار پر مبنی ہو ۔ برصغیر کے معروف عالمِ دیں مولانا سید جلال الدین عمری رقم طراز ہیں:

’’یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے آنے سے قبل اہل عرب بے قیدی اور آزادی کی زندگی گزار رہے تھے۔ زندگی کے بارے میں وہ نہ تو کوئی سنجیدہ اور ٹھوس فکر رکھتے تھے اور نہ اس بحث میں پڑنا ہی چاہتے تھے۔ ان کی ساری جدوجہد اس مادی دنیا اور اس کی آسائشوں کے لئے وقف تھی۔ وہ اس کاتصور بھی نہیں کرتے تھے کہ اس دنیا سے ماورا بھی کچھ حقیقتیں ہیں ۔ اسلام نے ان کے سامنے زندگی کا ایک فلسفہ پیش کیا جس میں اخلاقی پابندیاں تھیں۔ جائز وناجائز اور حرام و حلال کے ضابطے تھے۔ عذاب وثواب اور جنت ودوزخ کاتصور تھا۔ خدا اور اس کے رسول کا اقرار اور ان کی فرماں برداری کی تعلیم تھی۔ ‘‘  (۱۵)

مسلم معاشرہ کے افراد بشمول مرد وزن کے لئے ایسی تعلیم لازمی ہے جو انہیںزندگی کی حقیقتوں سے واقف کرائےانہیں خدا اوررسول کا مطیع و فرماں برداربنائے، حلال وحرام کی تمیز سکھائے اورانہیں معاشرے کا نیک اور شریف انسان بنائے جس سے سوسائٹی میں نیکیاں پروان چڑھیں اور امن وامان کی فضا بحال ہو۔قرآن مجید میں هے:

’’اے نبیﷺ! جب مومن عورتیں  بیعت کرنے کے لئے آئیںاور عهد كریں كه وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی  چوری نہ کریں گی اور زنا کا ارتکاب نہ کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ جانتے بوجھتے کسی پر بہتان باندھیں گی۔ نہ تمہارے کسی معروف حکم کی نافرمانی کریں گی تو تم ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے۔ ‘‘ (۱۶)

بنیادی امور:

یهاں چند اهم امور كا ذكر هے: شرک سے اجتناب ، چوری سے پرہیز، زنا سے دوری، قتل اولاد سے پرهیز، بہتان تراشی اورحکمِ نبوی کی خلاف ورزی سے اجتناب ۔ گویابنیادی باتوں اور احکام واصول کی تعلیم دی گئی ہے جو اصلاحِ معاشرہ کے لئے لازمی ہے۔  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں صحابیات کے اندر حصولِ تعلیم کی تڑپ تھی۔ وہ احکامِ دین معلوم کرنے کے لئے شب وروز بے چین رہتیں اور دربار رسالت میں حاضری دیتیں۔ حصولِ تعلیم کے متعلق انصار کی عورتوں کے بارے میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ وہ عورتیں بھی بہت خو ب تھیں۔ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے سلسلے میں (بے جا) حیا اور شرم ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنتی تھی ۔  صحابیات اسلامی تعلیمات کا مطالعہ گہرائی اور دقّت نظر سے کرتی تھیں حلال وحرام اور امرونہی پر مشتمل احکامات کو  وہ حفظ کر لیتیں۔   (۱۷)

صحابیات کو اپنی زندگی پاکیزہ  بنانے اور آخرت سنوارنے کی فکر تھی جس کااچھا اثر معاشرہ پرپڑتاتھا افسوس هے كه آج مسلم معاشرہ میں بدعت کا عام رواج ہوگیا هے۔ یہ وہ صورت حال ہے جو خدا اور رسول کونا پسند هے۔ چنانچه معاشرہ تباہی وبربادی سے دوچار ہے۔ مسلم معاشرہ کی خواتین اور طالبات کو حصول علم دین کی طرف توجہ دینی لازمی ہے تاکہ حلال وحرام كے احکامات معلوم ہوسکیں اور  زندگی خدا و رسول کی تعلیمات کے مطابق گزرسكے ۔صلاحِ معاشرہ میں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض كا احساس انهیں هونا چاهیے۔

حصولِ علم كا جذبہ:

صحابیات جمعہ اور عیدین کے علاوہ علمی مجالس میں بھی شریک ہوتیں اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطابات سے مستفیض ہوتیں ۔ ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت قیس الجہنیہؓ عنہا کا بیان ہے کہ وہ جمعہ کے دن عورتوں کی سب سے اخیر صف میں ہونے کے باوجود رسول صلعم کا خطبہ بہت انہماک اور توجہ سے سنتیں جس سے حصول علم میں ان کے ذوق وشوق اور اشتیاق کا اظہار ہوتاهے۔ اسی طرح حارثہ بن نعمان کی ایک صاحبزادی کا قول ہے کہ جمعہ میں شرکت کے سبب انہوں نے سورہ ق  مکمل یاد کرلی تھی جسے رسول صلعم لوگوں کی تذکیر کے لئے خطبہ میں پڑھا کرتے تھے۔ (۱۸)

آج  عورتیںعیدین اور علمی ودینی مجلسوں میں شریک ہونے سے کتراتی ہیں مگر میلوں ٹھیلوں، بازاروںکی زینت ضرور بنتی ہیں۔حسن معاشرت کے لئے اسوۂ صحابیات میں نیك كاموں كا اهتمام ملتا هے مثلاً: صلہ رحمی ، ہدایاکالین دین ، خادموں کے ساتھ حسن سلوک، باہمی اعانت ، عیادت، تیمار داری، خدمت والدین، پرورش یتامیٰ، یتیموں کے مال کی نگہداشت ، بچوں کی پرورش، شوہر کے مال و اسباب کی حفاظت، شوہر کی رضا جوئی اور اس کی خدمت ۔ صحابیات نیكیوں پر عمل پیرا ہوکر خاندانی نظام اور سوسائٹی کو پر امن اور خوشگوار ماحول عطا کرتی تھیں۔  یہودی عورتوں میں بال جھڑ جانے پر مصنوعی بال لگانے کا رواج تھا اس سے مسلمان عورتوں کوروکاگیا، اس لیے كه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ (۲۰)

علوم میں مہارت:

صحابیات نے اپنے علمی ذوق کو جلابخشنے اور اسے پروان چڑھانے کے لئے ضروری طریقے اختیار کئے تھے ۔ مثلاً رسول خدا کی مجلس میں شمولیت، معلمات کے پاس حاضری۔ بیت عائشہ، بیت ام سلمہ، بیت میمونہ، بیت اسماء بنت ابی بکر، بیت اسماء بنت عمیس، بیت ام حبیبہ ، بیت ام الفضل، بیت ام ہانی، بیت الشفا بنت عبداللہ اور بیت صفیہ بنت شیبہ جیسے مکاتب اور مراکز علوم میں جمع ہوکر مختلف قسم کے علوم کی حصولیابی کرتیں۔ ام المومنین، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہہ علم کتابت سے آشنا تھیں۔ حضرت سودہ اور حضرت زینب بنت حجش دباغت میں مہارت رکھتی تھیں۔ حضرت زینب بنت ابی معاویہ تفسیر وحدیث اور فقہ وفتاویٰ میں مہارت رکھتی تھیں۔ (۱۹) اور معاشرہ کی خواتین میں اس کی اشاعت بھی کرتیں تاکہ وہ دینی علوم سے بہرہ ور ہوکر اپنی سوسائٹی کو خوشگوار اور پاکیزہ ماحول عطا کریں۔ اس طرح معاشرہ میں صحابیات کے موثر کردار نے انقلاب برپا کیا ۔ضرورت ہے کہ ان کے نقش قدم پر چل کر مسلم معاشرہ میں  دینی حلقے اور مکاتب قائم کئے جائیں ۔ماهانه، روزانہ یاہفتہ وار دینی اجتماعات کا انعقاد ہوتاکہ معاشرہ کی خواتین اور طالبات وغیرہ اس سے استفادہ کر سکیں۔ صحابیات نے جو رول انجام دیا  اس کی آج بھی ایسی ہی معنویت واہمیت ہے جیسے چودہ سو سال قبل تھی ۔ آج بھی صحابیات کےکردار کو برت کر صالح انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

۱۔ طالب الہاشمی: تذکار صحابیات ، دہلی، ۲۰۱۷، ص، ۲۷

۲۔ سید سلیمان ندوی: سیرت حضرت عائشہ ؓ ، دہلی، ۲۰۱۳ء، ص، ۲۵

۳۔ ایضاً                                                                                                                                                              ۴۔ایضاً ، ص، ۲۶

۵۔ایضاً ، ص، ۲۹                                                                                                                      ۶۔ایضاً ، ص، ۶۱-۶۷

۷۔ ایضاً ، ص، ۷۱-۷۲                                                                                              ۸۔ ایضاً ، ص، ۱۳۶

۹۔ایضاً ، ص، ۱۳۷                                                                                                                  ۱۰۔ ایضاً ، ص، ۱۴۵

۱۱۔ایضاً ، ص،۱۷                                                                                                                       ۱۲۔ طالب الہاشمی، ص، ۱۰۴

۱۳۔ایضاً ، ص، ۱۱۱                                                                                                                  ۱۴۔ ایضاً ، ص، ۱۱۷

 

مئی 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau