خود کشی ۔ ایک سنگین مسئلہ

محمد اسعد فلاحی

ہر انسان کو زندگی عزیز ہوتی ہے ۔دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو زندگی کو پسند نہ کرے ۔لیکن دنیا میںبہت سے ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو حقیقی معنوں میں تو زندہ نہیں ہوتے البتہ سانس لے رہے ہوتے ہیں اوربسا اوقات چھوٹی سی محرومی ان کی زندگی کے مقاصد کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ کبھی وہ  دنیاوی الجھنوں سے گھبرا کر اپنے اعزّاو اقارب سے منہ پھیر کر ایسی جگہ جانے کا ارادہ کر لیتے ہیں جہا ں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ اسی عمل کو خودکشی کہا جاتا ہے ۔

خود کشی ایک ایسا فعل ہے جس میں انسان اپنے ارادہ سے اور اپنے ہاتھوں اپنی جان گنوا تا ہے ۔ اس میں مرنے والے کے ارادہ کا مکمل دخل ہوتا ہے ۔ اس کا تعلق انسان کے اندرون سے ہے ۔اس کی اندرونی ،ذہنی ،قلبی ،جذباتی اور سوچنے کی کیفیت اس کو اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں وہ اپنی زندگی کا خاتمہ خود کر بیٹھتا ہے ۔گویا اندر رہنے والی ’غیر مادی ‘ چیز ہی تو  انسانیت کا جوہر ہے ۔اس کے ہونے ہی سے سب کچھ ہے ۔ اسی کو ’روح‘ کہتے ہیں ۔ یہ جسم بلکہ ساری کائنات اسی کی خدمت پر ما مور ہیں ۔اسی کا نام ’نفس ‘بھی ہے ۔یہی دراصل انسان کو خودکشی کے اقدام پر مجبور کرتا ہے ۔

انسان اپنی پیدائش سے لے کر موت تک مختلف ادوار سے گزرتا ہے ۔ کبھی خوشیاں اس کی جھولی میںہوتی ہیں تو کبھی اس کا دامن آنسؤں سے بھرجاتا ہے ۔ بسا اوقات اس پر بہت زیادہ دبائو پڑتا ہےجو اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہےچناں چہ وہ اپنی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے اور بعض اوقات اس میں کام یاب بھی ہو جاتا ہے ۔

حالات ہر دور میں مختلف ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً ، چھوٹی عمر میں والد ین کی وفات کا صدمہ ،جوانی میں کسی عزیز کی جدائی ، مستقل بیماری ،بے روزگاری ، نشے کی لت، منتشر خیالات کی یلغار وغیرہ ۔ یہ عوامل انسان کی زندگی میں کسی بھی وقت زہر گھول سکتے ہیں۔ ان حالات میں اگر انسان کے پاس اچھے دوست یا قابلِ اعتماد اعزّا و اقارب نہ ہوں تو اسے اس کا حل خود کشی ہی میں دکھائی دیتا ہے ۔

طلبہ میں خود کشی

ہندوستان میں طلبہ میں خودکشی کرنے کی روایت بہت پرانی ہے ۔معاشرے میں بہترین مقام ، کسی بڑی یونیورسٹی میں داخلے اور اسی طرح کے دیگر خوابوں کی تعبیر میں طلبہ کو اندرونی اور بیرونی دبائو کا سامنا رہتا ہے ۔پھر امتحان میں اچھے نمبرات سے کام یاب ہونا اور اپنے ساتھیوں سے بہترین کارکردگی ، مزید ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے ۔ بسا اوقات کام یاب ہونے کا دبائو اور ناکامی کا خوف اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اس کا انجام بُرا ہوتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ میں بم دھماکوں ،زلزلے ،اور دیگر واقعات سے زیادہ امتحانات کا خوف ہوتا ہے ۔8.1بلین آبادی والے ہمارے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے طلبہ کو سخت جدّ وجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کام یابی نہ ملنے کی صورت میں انہیں زندگی کا خاتمہ ہی واحد راستہ نظر آتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں طلبہ میں خودکشی کے رجحانات میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے ۔اس کی ایک بڑی وجہ امتحان میں ناکامی بتائی گئی ہے ۔اس کے علاوہ بھی ہزاروں ایسے واقعات ہیں جن کا تحریری ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔

کسانوں میں خود کشی

ہندوستان میں ۶۰ فی صد لوگوں کا گذر بسرکاشت کاری پر منحصر ہے ۔ان کسانوں ہی کے پیدا کر دہ غلہ سے بقیہ چالیس فی صد لوگ استفادہ کرتے ہیں ۔ اور لوگ ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ کسا ن اسے کتنی محنت سے اگاتا ہے ؟ اس غلّے کو دوسرے لوگ ساھو کار سے مہنگی سے مہنگی قیمت میں خرید لیتے ہیں لیکن ایک کسان اپنی بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی اس کے ذریعہ پورا کرنے سے محروم رہتا ہے اور تنگ دستی اور مفلسی سے تنگ آکر اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیتا ہے ۔ این۔سی ۔آر۔بی (نیشنل کرا ئم ریکارڈ بیورو)کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ۴۶کسان یومیہ خود کشی کرتے ہیں ۔ ۱۹۹۵ء سے ۲۰۱۳ تک ،یعنی کل اٹھارہ سالوں میں دو لاکھ پچانوے ہزار چار سو اڑتیس( ۴۳۸,۹۵,۲ ) کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔ہندوستان کی خود کشی کی کل شرح میں ۱۱.۲ فی صد تناسب کسانوں کا ہے ۔ہندوستان میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۹ میں تقریباً ساڑھے تیرہ ہزار(۵۰۰،۱۳) کسانوں نے خود کشی کی ۔ملک کی جن ریاستوں میں سب سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے اس میں مہاراشٹرا،کرناٹک ،آندھرا پردیش اور چھتیس گھڑھ سب سے اوپر ہیں۔گزشتہ دس برسوں میں کسانوں کی خودکشی کا جو ریکارڈ جمع کیا گیا ہے اس میں اب تک سب سے آگے ریاست مہاراشٹرا ہے ۔اسی طرح کرناٹک میں ۲۸۲,۲کسانوں نے اپنی جان گنواں دی۔ جب کہ مغربی بنگال میں ۰۵۴،۱،راجستھان میں ۸۵۱،اتر پردیش میں ۶۵۶، گجرات میں ۵۸۸اور ہریانہ میں ۲۳۰ کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔(بی ۔بی۔سی اردو ،۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۰ء) کسانوں کے اس خطرناک قدم اٹھانے کے پیچھے مختلف وجوہ بیان کی جاتی ہیں ۔مثلاً مانسون کی آنکھ مچولی ،قرض کا بوجھ ،تباہ شدہ فصلیں ،حکومت کی پالیسیاں اور ذاتی اور خاندانی مسائل وغیرہ ۔

اسبا ب و وجوہ

لوگ اپنے آ پ کو موت کے حوالے کرنے کے لیے مختلف حربوں کا استعمال کرتے ہیں ۔کوئی بہتے دریا میں چھلانگ لگاتا ہے، کوئی زہریلی دوائیوں کا استعمال کرتا ہے ،کوئی کنپٹی پر پستول رکھ کر ٹریگر دبانا پسند کرتا ہے اور بہت سے لوگ ٹرین کے نیچے آکر مرنا پسند کرتے ہیں ۔عورتیں زیادہ تر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگانے کو ترجیح دیتی ہیں۔

٭ خودکشی کی ایک بڑی وجہ نفسیاتی مسائل ہیں ۔جوں جوں انسان ترقی کی راہ پر گام زن ہے، اسی کے بہ قدر اس کے نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان مسائل کی سب سے بڑی وجہ میڈیا ہے ۔ ٹی وی پر دکھائےجانے والے تقریباً ہر پروگرام ،سیریل ، ڈرامہ،فلم یہاں تک کہ کارٹون میں بھی مرد اور عورت کی محبت دکھائی جاتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑتا ہے ۔اس کے نتیجے میں ان کے دل و دماغ پرایسا خمار چھا جاتا ہے کہ وہ محبت کو اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد سے زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں ۔پھر لوگ پروگرام کے ان مصنوعی کرداروں کو اپنی حقیقی زندگی میں عملی جامہ پہنانے کے لیے کوشاں ہو جاتے ہیں۔ اور جب محبت کے حصول میںانہیں ناکامی نظر آنے لگتی ہے تو ان پر مایوسی پوری طور سے حاوی ہو جاتی ہے ۔نتیجتاً وہ ایسے خطرناک فعل کو انجام دیتے ہیں جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتااور ان کا یہ’ کارنامہ‘ والدین اور اعزا و اقرباکے لیے پوری عمر کا پچھتاوا بن جاتا ہے ۔

٭اس کی دوسری بڑی وجہ والدین کی جانب سے اولاد کی تربیت میں لاپروائی ہے ۔والدین کو اولاد کی تربیت اس طرح کرنی چاہیے کہ وہ اپنا ہرمعاملہ ان سے شئیر کر سکیں اور اپنے ہر مسئلہ میں ان سے رائے لیں اور والدین کو بھی اپنی اولاد کے احساسات و جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔کیوں کہ اوقات ان کی طرف سے سختی اور لاپروائی جذباتی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنتی ہے ۔اس طرح وہ لوگ نفسیاتی طور پرکم زور ہو جاتے ہیں اور انتہای قدم اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔

٭ خود کشی کی ایک وجہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال بھی ہے ۔اس نے جہاں رشتوں میں دوریاں پیدا کردی ہیں وہیں والدین کو بھی اس حد تک مصروف کر دیا ہے کہ ان کے پاس اپنی اولاد کے لیے وقت ہی نہیں ہے ۔عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے سے کوسوں دور کسی دوسرے شخص کے لیے تو پریشان نظر آتے ہیں، لیکن وہ اپنے ہی گھر میں بسنے والے افراد کی حالت سے ناواقف ہو تے  ہیں ۔

اولاد میں باغیانہ خیالات کی ایک بڑی وجہ والدین کا حد سے زیادہ لاڈ پیار اور حد سے زیادہ سختی بھی ہے ۔ دونوں ہی صورتیں نقصان کا باعث بنتی ہیںاور والدین اور اولاد کے درمیان حدفاصل قائم کر دیتی ہیں ۔حد سے زیادہ لاڈ پیار انسان کو بدتمیز اور ضدی بنا دیتا ہے ، وہیں بے جا سختی اسے بد ظن کر دیتی ہے۔کچھ لوگ اپنی اولاد کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کچھ بچوں پر والدین کا خوف بُری طرح حاوی ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ بہت سے کام چوری چھپے کرنے لگتے ہیں اور والدین کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوپاتا کہ ان کی اولاد کس ڈگر پر چل رہی ہے ؟ان کے علاوہ خود کشی کےاور بھی بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں ۔مثلاً مقصد کے حصول میں ناکامی (مطلوبہ مقام پر شادی نہ ہونا ،امتحان میں فیل ہوجانا ) ، گھریلو جھگڑے (اولاد اور والدین ،شوہر اور بیوی ،ساس اوربہو، بھابھی اور نند کے درمیان)،غربت و تنگ دستی، قرض ، بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ،بے روزگاری ،بیماری ، بدنامی( مثلاً کسی پوشیدہ گناہ کا آشکار ہو جانے کا) خوف،جانی و مالی نقصان(کاروبار تباہ ہو جانا،کسی بہت عزیز شخص کا انتقال کر جانا)وغیرہ ۔ خودکشی کرنے والا شخص خود تو اپنی زندگی کو ہلاکت میں ڈالتا ہی ہے ، ساتھ ہی اپنے اعزّا و اقارب کو جن ذہنی اذیتوں میں مبتلا کر جاتا ہے وہ بھی کچھ کم نہیں ۔اگر خودکشی کرنے والا شخص اس بات پر غور کرلے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے اہلِ خانہ کن مصائب سے دوچار ہوں گے تو شاید وہ اپنے ارادہ کو ترک کر دے اور زندہ رہنے کو ترجیح دے ۔

عالمی صورتِ حال

W.H.O (ورلڈ ہیلتھ اور آرگنائزیشن )کی رپورٹ کے مطابق ہر سال پوری دنیا میںآٹھ (۸) لاکھ سے زیادہ لوگ خود کشی کرتے ہیں ۔ اس معاملے میں سرِ فہرست لیتھوایانیا،گانا،سائوتھ کوریا، سری لنکا،قزاخستان،سلوانیا،ہنگری ، جاپان،لتھاویا،بیلا رس اور ہندوستان شامل ہیں ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود کشی میں آگے زیادہ تر یورپی ممالک ہیںجن میں سیکو لر اور اور لبرل نظام قائم ہے ،جہاں ہر قسم کوشخصی آزادی حاصل ہے۔عورت ،مرد،نوجوان،بوڑھے اور بچےسب آزاد ہیں،یہاں تک کہ مذہب اور اس کی پابندیوں کی بھی کوئی قید نہیں ہے ۔ خود کشی کے معاملے میں جو ممالک آگے ہیں وہ غریب نہیں، بلکہ خوش حال ہیں ۔یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سرِ فہرست بارہ ممالک میں سے ایک بھی مسلم ملک شامل نہیں ہے ۔جاپان میں خودکشی پر کوئی پابندی نہیں ہے ،یہاں خودکشی کو ایک مقدس اور اور دلیرانہ عمل سمجھا جاتا ہے ۔جاپانی شہری معمولی معمولی باتوں پر اپنی جان دے  دیتے ہیں۔ ۲۰۰۶ء تک جاپان خودکشی کے واقعات کی تعداد کے حوالے سے ایشیائی ممالک میں اول مقام پر تھا،لیکن بعد میں جنوبی کوریااس سے آگے نکل گیا۔

ہندوستان کی صورتِ حال

خبروں کے مطابق ،ہندوستان میں گزشتہ سال ہر گھنٹہ میں تقریباً ۱۵ ؍افراد نے خود کشی کی ۔اس طر ح ایک لاکھ اکتیس ہزار سے زائد افراد نے اپنی زندگی گنوادی ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبوں میں مہاراشٹرا اس معاملے میں سرِ فہرست رہا، جب کہ شہروں میں چنئی سب سے آگے تھا ۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو نے یہ تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ۷ء ۶۹فی صد افراد، جنہوں نے خودکشی کی، ان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے بھی کم تھی ،جب کہ ہر ۶ ؍افراد میں سے ایک، جس نے خود کشی کی، وہ گھریلو خاتون تھی ۔سال ۲۰۱۴ ء میں مہارشٹرا میں ۳۰۷,۱۶،تمل ناڈو میں ۱۲۲,۱۶ اور مغربی بنگال میں ۳۱۰,۱۴خود کشی کے واقعات پیش آئے ۔بڑےشہروں میں چنئی میں سب سے زیادہ (۲۱۴،۲ )جبکہ بنگلور میں ۱۹۰۶ ؍اور دہلی میں ۱۸۴۷ خودکشی کے واقعات پیش آئے۔ اسی طرح خود کشی کے معاملے میں مردوں اور خواتین کی شرح با لترتیب ۶۸ اور ۳۲  فی صد رہی ۔خود کشی کی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا کہ ۸؍۴۱ فی صدنے پھانسی سے اور ۲۶ فی صد نے زہر کا استعمال کرتے ہوئے خود کشی کی ،جب کہ ۹ء۶ فی صد نے خود سوزی اور ۶ء۵ نے پانی میں کود کر اور ۱ء۱ ؍نے فی صد نے عمارت سے چھلانگ لگا کر یا ٹرین کے نیچے آکر انتہائی قدم اٹھائے ۔ (سچ ٹائمز ،۲۰ ؍ جولائی ۲۰۱۵ء (

اسلامی نقطۂ نظر

اسلام میں انسانی جان کو بیش قیمت قرار دیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے فرد کو ناحق قتل کر دیا ،تو اسلام اسے پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے ۔اسلام خود کشی کو حرام قراردیتا ہے ۔ انسان کا اپنا جسم اور زندگی درحقیقت اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ چیزیں اللہ تعالی کی طرف سے دی ہوئی امانت ہیں۔ ان میں خیانت کرنے والا آخرت میں اللہ کے حضور جواب دہ ہوگا ۔اس دنیا میں کوئی بھی واقعہ اتفاقیہ پیش نہیں آتا ،بلکہ اللہ تعالی جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔اور جس وقت چاہتا ہے ٹھیک اسی وقت ہوتا ہے ۔ اس میں لمحہ بھر بھی تاخیر نہیں ہوتی ۔اللہ کی مرضی کے بغیر ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے جنبش نہیں کر سکتا ۔

خود کشی کی حرمت

زندگی اور موت کا حقیقی مالک اللہ تبارک و تعالی ہے ۔جس طرح بلا وجہ کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ،اسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلا وجہ ہلاکت میں ڈالنا بھی سخت ناپسندیدہ ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَأَنفِقُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ تُلْقُواْ  بِأَیْدِیْکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ وَأَحْسِنُوَاْ إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمحْسِنِیْنَ (البقرۃ:۱۹۵)

’’اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔احسان کا طریقہ اختیار کرو اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے ۔‘‘

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ إِنَّ اللّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْماً۔وَمَن یَفْعَلْ ذَلِکَ عُدْوَاناً وَظُلْماً فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَاراً وَکَانَ ذَلِکَ عَلَی اللّہِ یَسِیْراً (النساء :۲۹۔۳۰)

’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو ،یقین مانو اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے ۔جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔‘‘

دنیا مومن کے لیے آزمائش ہے:

اللہ تعالی نے دنیا اس طرح بنائی ہے کہ یہاں خوشی بھی ہے اور غم بھی ،راحت بھی ہے اور تکلیف بھی تنگ دستی بھی ہے اور خوش حالی بھی ۔ ان حالات سے ہر انسان کا سابقہ پڑتا ہے ۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ان حالات سے انسان کی آزمائش مقصود ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَہُوَ الْعزِیْزُ الْغَفُور(ا لملک :۲)

’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے ۔اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر کرنے والا بھی ۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو اس لیے پیدا کیا تاکہ ان کا امتحان لے اور دیکھے کہ وہ کیسے اعمال انجام دیتے ہیں۔ قرآن کریم کی دیگر متعدد آیات (الکہف :۷، الانبیاء : ۳۵، محمد  :۳۱، دھر :۲)میں بھی یہ بات مذکور ہے کہ انسانوں کی پیدائش کا مقصد ان کا امتحان لینا اور انہیں آزمانا ہے ۔ تاکہ معلوم ہو کہ کون اللہ کا شکر گزار ہے اور کون نا شکرا؟ ۔کون صبر کا دامن تھامے رہتا ہے اور کون غلط راستہ اختیار کرتا ہے ؟

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَئیٍ   مِّنَ الْخَوفْ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمرَا تِ وَبَشِّرِ   الصَّابِرِیْن    (البقرۃ :۱۵۵)

’’اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر،فاقہ کشی ،جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے ۔اور (ایسے حالات میں )صابرین کے لیے بشارت ہے ۔‘‘

صبر ہی واحد حل

انسانی زندگی میں دکھ  اورسکھ ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔انسان کے حصے میں کبھی خوشیاں آتی ہیں اور کبھی اس کا سامنا مصیبتوں سے ہوتا ہے ۔جس طرح ایک طالب علم کو امتحان میں کچھ مشکل اور کچھ آسان سوالات دیے جاتے ہیں ویسے ہی انسان کا دشواری اور آسانی دونوں طرح سے ٹیسٹ لیا جاتا ہے ۔ اس صورت حال میں قرآن تلقین کرتا ہے کہ انسان کو آسانی کی حالت میں اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہئے اور مشکل حالات میں صبر سے کام لینا چاہئے ۔ مشکل حالات میں صبر نہایت مثبت عمل ہے جب انسان اس امتحان میں کھرا اترتا ہے تو خدائی قوتیں اس کی حمایت میں آجاتی ہیں ۔ رسول ﷺ جیسی عظیم الشان ہستی کا بھی بارہا آزمائشوں سے سامنا ہوا ۔ایسے مواقعے پر آپؐنے جو رویہ اختیار فرمایا وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے ۔مشکل حالات میں آپؐ ہمیشہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتے اور نماز ادا کرتے تھے ۔ اولاد کی وفات کا صدمہ ہو یا نادان مخاطبین کی جانب سے پتھرائو ،منافقین کی چالبازیاں ہوں یا کفار کے حملے ۔ان سب حالات میں آپؐ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے اور نماز اور صبر کے ذریعہ مدد طلب کرتے ۔صبرکی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ اللہ تعالی نے صبر کرنے والوں کو اپنی معیّت کا اعزاز بخشا ہے۔ اس کا ارشاد ہے :

إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ (البقرۃ:۱۵۳)

’’یقیناً اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔‘‘

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کو اللہ کا سہارا صبر کرنے کی صورت میں ملے گا ۔ اس دنیا میں بے شمار مواقعے آتے ہیں ،جب ہمیں اللہ کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ صابر شخص کو پہلے ہی مرحلے میں ایک نفسیاتی تفوّق حاصل ہوتا ہے ،وہ یہ کہ مصائب اور مشکلات پر چیخنے چلانے اور ان سے گھبرانے کے بہ جائے وہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے ۔صبر ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان ایک موقع پر دو عمل کر رہا ہوتا ہے :ایک مصیبت کو برداشت کرنا اور دوسرے برے  اقدام سے رکے رہنا ۔ یہ چیز انسان کو  دوہر ے اجر کا  مستحق بناتی ہے ۔

احادیث میں خودکشی کی مما نعت

اللہ کے رسول ﷺ نے خود کشی کے مرتکب شخص کو دہرے عذاب کا مستحق قرار دیا ہے ۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐ نےفرمایا:

’’جس شخص نے خود کو پہاڑ سے گرا کر ہلاک کر دیا تو وہ دوزخ میں جائے گا ،ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ وہیں رہے گا اور جس نے زہر کھا کر اپنے آپ کو ختم کیا تو وہ زہر دوزخ میں بھی اس کے ہاتھ میں ہوگا ،جسے وہ برابر کھاتا رہے گا اور ہمیشہ وہیں رہے گا۔جس شخص نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ اپنے پیٹ میں مارتا رہے گااور ہمیشہ دوزخ میں ہی رہے گا ۔‘‘ ( بخاری : کتاب الطب باب: شرب السُّم والد واء بہ وبما یخاف منہ والخبیث ،۵۷۷۸)

حضرت ثابت بن ضحاکؒ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

’’جس شخص نے کسی چیز سے خود کشی کی تو اسے جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا ۔ ‘‘ ( بخاری ،باب ما جاء فی قاتل النفس کتاب الادب، ۲۲۶۴)

حضرت جندب ابن عبداللہ البجلیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’پچھلی امتوں میں ایک شخص کے جسم پر ایک پھوڑا نکلا جب اسے اس میں زیادہ تکلیف محسوس ہونے لگی تو اس نے اپنے ترکش  سے ایک تیر نکال کر اس پھوڑے کو چیر ڈالا، جس سے مسلسل خون بہنے لگا ۔ اس کی وجہ سے وہ شخص مر گیا۔ اللہ نے فرمایا:میں نے اس پر جنت حرام کردی ‘‘    (مسلم:باب: غلط تحریم قتل الانسان نفسہ وان من قتل نفسہ؟ )

حضرت جابر بن سمرۃ ؓ کہتے ہیں :

’’کہ حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص لایا گیا، جس نے اپنے آپ کو نیزے سے ہلاک کر لیا تھا ، آپؐ نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی‘‘ ۔ (ابوداؤد، کتاب الجنائز باب ترک الصلوٰۃ علی من قتل نفسہ)

اس تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ انسان پر مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ ٹوٹ جائیں لیکن اسلام اس کو خودکشی کی اجازت نہیں دیتا ، بلکہ صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے اوراس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجر کا وعدہ ہے ۔

دسمبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau