ایشیا و یوروپ کا بدلتا ہوا جغ سیاسی، جغ اقتصادی و جغ ثقافتی منظر نامہ

(1)

ڈاکٹر جاوید ظفر | ترجمہ: عرفان وحید

اردو داں حلقے کے لیے جغرافیائی سیاسیات کا موضوع ابھی نیا ہے۔ دنیا میں ہونے والی سیاسی معاشی اور سماجی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے علم کی اس شاخ، اس کی اصطلاحات، اور اس کے انطباقات سے واقفیت یقینا مفید ہے۔ زیر نظر مضمون میں جغرافیائی سیاسیات کے زاویے سے ایشیا و یوروپ میں رونما ہونے والی تازہ ترین تبدیلیوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ ادارہ)

جیو پولیٹکس

جیوپولیٹکس، جُغ سیاسیات یا ارضی سیاسیات (geopolitics) سیاسیات کی وہ شاخ ہے جس میں اس امر کا مطالعہ کیا جاتا ہے کہ بڑی طاقتیں کس طرح اپنے محل وقوع، تجارتی راستوں اور قدرتی وسائل کے لحاظ سے دنیا کو کنٹرول کرتی ہیں۔[1] جیوپولیٹکس میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ اگر کوئی دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے تو اسے اس مرکزی خطے (heartland) پر کنٹرول حاصل کرنا ہوگا جو وسطی ایشیا، مشرقی یوروپ اور روسی خطہ ارضی پر مشتمل ہے۔ تاریخی اعتبار سے تمام بڑی طاقتیں ہارٹ لینڈ پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے کھیل میں مصروف رہی ہیں، اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اب یہ خطہ بڑی طاقتوں کی باہمی کشاکش کا کھلا مرکز بن چکا ہے۔[2[

اصطلاح ’جیوپولیٹکس‘ کا استعمال ماہرین سیاسیات اس شعبہ کے لیے کرتے ہیں جس میں بین الاقوامی تعلقات کے لیے جغرافیائی محل وقوع کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ جغرافیائی تحقیقات مختلف سطحوں پر کی جاسکتی ہیں جہاں گوناگوں اپروچوں کو اختیار کرکے اس کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ تین اپروچ بنیادی طور پر ماہرین سیاسیات کے ذریعہ اپنائےجاتے ہیں، معاصر عالمی جیوپولیٹکل نظم (geopolitical order) انھی تین اپروچوں پر مشتمل ہے: عسکری اپروچ، نظریاتی اپروچ، اور سیاسی و اقتصادی اپروچ۔[3[

کسی ملک کی خارجہ پالیسی اس کے ’قومی مفادات‘ کے حصول کی تگ و دو کا فن ہے۔ [4] جیوپولیٹکس خارجہ پالیسی کی جغرافیائی جہت ہے۔ قومی مفاد میں خود مختاری کا دفاع کرنا اور جغرافیائی سالمیت کو برقرار رکھنا اہمیت کے حامل ہیں، البتہ یہ بات ہمیشہ بحث طلب رہی ہے کہ کسی ملک میں قومی مفاد کی تعریف اور دفاع کون کرتا ہے۔ عموماً کسی ملک کی منتخبہ پارلیمنٹ کو قومی مفاد کی واحد نمائندہ سمجھاجاتا ہے، لیکن پارلیمنٹ متنوع ہوسکتی ہے اور پارلیمنٹ سے باہر بھی یہ تنوع دیکھنے میں آتا ہے۔ متعدد گروپ مثلاً کارپوریٹ گھرانے (لابیاں)، نظریاتی گروہ، فوج، شہری سوسائٹیاں (این جی اوز وغیرہ) اور بعض اوقات طاقت ور افراد بھی’قومی مفاد‘ کی بحث اور ایجنڈے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

عسکری قوت جیوپولیٹکس میں مداخلت کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ آج کی سب سے بڑی جیوپولیٹکل طاقت ہے اور اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے اس نے 80 ممالک میں تقریباً 800 عسکری اڈےقائم کر رکھے ہیں۔[5[

اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ باوجود کوشش بسیار کے عصر حاضر کا نظم عالم (world order) انارکی کا شکار ہے، اور ہر ملک اپنی بقا کے لیے زیادہ سے زیادہ طاقت کے حصول میں کوشاں ہے۔ مابعد سرد جنگ عہد میں، نیز امریکی بالادستی کے 30 سال بعد، اب معاصر نظم عالم میں ملے جلے رجحانات ابھر رہے ہیں۔

جغ اقتصادیات  (geoeconomics)

بسا اوقات جیوپولیٹکل مقاصد کے حصول میں اقتصادی آلات کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ 1990 میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد لٹواک (Edward Luttwak) نے اپنے ایک معروف مضمون میں یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اب عسکری قوت کی جگہ جیوپولیٹکس لے لے گی۔[6] رابرٹ بلیک وِل اور جینیفر ہیرس نے اپنی کتاب War by Other Means میں لکھا ہے کہ جغ اقتصادیات جیوپولیٹکل مقاصد کے حصول کے لیے اقتصادی آلات کو منظم طور پر استعمال کرنے کا نام ہے۔[7] معاصر دنیا کے معروف اقتصادی آلات ہیں تجارتی پالیسی، سرمایہ کاری کی پالیسی، اقتصادی اور مالی پابندیاں، کرنسی کی قدر میں کمی، مالیاتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونا، توانائی اور صارفی اشیا، امداد اور انٹرنیٹ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اور سرد جنگ کے دوران کے ادوار میں مغربی ممالک نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کو دیگر ملکوں پر اثرانداز ہونے کے لیے اپنے جیوپولیٹکل مقاصد کے حصول کا آلہ کار بنایا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اب چین ایک بڑی جغ اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ چین کے وَن روڈ وَن بیلٹ (OBOR) پروگرام اور دیگر مالیاتی ادارے عالمی سیاست پر اس کے جغ اقتصادیات کے بڑھتے ہوئے اثرات کی اچھی مثالیں ہیں۔

جغ ثقافت   (geoculture)

والر سٹین (Immanuel Wallerstein) نے یہ نکتہ پیش کیا کہ مابعد سرد جنگ دور میں امریکی غلبہ اور امریکہ کے توسیع پسندانہ خواب مستحکم ہونے کے بجائے زوال سے دوچار ہوں گے۔ انھوں نے مستقبل میں سرمایہ داری کی ناکامی اور ایک نئی ’عالمی ثقافت‘ یا تہذیب کے امکانات پر روشنی ڈالی ۔ والرسٹین نے گلوبلائزیشن کی جگہ کثیر عالم گیریت (multi-universalism) اور انفرادیت پسندی (particularism) کے تصورات دیے ۔[8[

ڈوگن (Alexander Dugin) نے نئے یوریشیائی مشن کے ساتھ روسی سامراج یا یوریشین ازم کے نظریے کا احیا کیا ہے۔ ان کے مطابق فاشزم اور کمیونزم اپنی موت مر چکے ہیں اور مستقبل قریب میں لبرلزم بھی ختم ہوجائے گا۔ روس یوروپ کا حصہ نہیں ہے تاہم یہ یوروپ سے مشترکہ اقدار و تہذیب رکھتا ہے ساتھ ہی اپنی ایک منفرد تہذیب کا بھی حامل ہے۔ ڈوگن موجودہ لبرل نظام کو ختم کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ اپنے جغ ثقافتی تصور کے فروغ کے لیے روس نے’یوریشیائی اقتصادی یونین‘ (Eurasian Economic Union, EEU) بنائی ہے جس میں اگرچہ صرف پانچ ارکان—آرمینیا، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور روس —شامل ہیں تاہم اس کا بنیادی مقصد ان تمام سابق سوویت یونین ریاستوں کو متحد کرنا ہے جو امریکہ مخالف یا لبرلزم مخالف ہیں۔ بہت سی سابقہ سوویت یونین ریاستوں کے شامل نہ ہونے کے باعث یہ یونین کامیاب تو نہیں ہے تاہم اتنا ضرور ہے کہ اس کے ذریعے روس ایک مخصوص جغرافیائی حیثیت میں منفرد روسی تشخص کی حامل تہذیب کو منوانا چاہتا ہے جو اپنے اوصاف میں مغرب جیسی نہیں ہے۔[9[

جیوپولیٹکل ایجنڈا کون طے کرتا ہے؟

داخلی سیاسی صورت حال

اکثر کہا جاتا ہے کہ جیوپولیٹکس مطلق یا اضافی حیثیت میں جغرافیائی یا مقامی اثر رکھتی ہے اور داخلی سیاسی بیانیے سے اس کا ایجنڈا طے ہوتا ہے اور یہ آگے بڑھتی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں —جن میں امریکہ، ہندستان اور برطانیہ شامل ہیں— ہونے والے حالیہ انتخابات اشارہ دیتے ہیں کہ بسا اوقات خالص قومی مفادات خارجہ پالیسی یا جیوپولیٹکس کی ترجیحات کی رہ نمائی نہیں کرتے۔ بھارت بنگلہ دیش سے ایک آبی معاہدہ کرنا چاہتا تھا، لیکن مغربی بنگال کی وزیر اعلی نے نہ صرف معاہدے کی مخالفت کی بلکہ کامیابی کے ساتھ مرکزی حکومت پر معاہدے سے باز رہنے کا دباؤ بھی بنایا۔ بعض یوروپی ممالک پناہ گزینوں کو رکھنا چاہتے ہیں، لیکن متعدد نیشنلسٹ پارٹیاں اپنی حکومت کے اس موقف کو چیلنج کرتی ہیں۔ برطانیہ کے یوروپی یونین سے نکلنے (Brexit) کی مثال بھی سامنے کی ہے،جہاں برطانوی حکومت تو یوروپی یونین میں شامل رہنے پر بضد تھی تاہم ملکی سیاست نے اسے وفاق سے علیحدہ ہونے پر مجبور کردیا۔

غیر ریاستی عناصر

غیر ریاستی عناصر دو قسم کے ہوتے ہیں: متحارب (violent) اور غیر متحارب (non-violent)۔ متحارب عناصر میں عموماً عسکریت پسند اور انتہا پسند گروپ نیز قانونی طور پر ممنوع دہشت گرد گروہ شامل ہوتے ہیں۔ یوریشیائی خطے کے بہت سے ممالک میں متحارب غیر ریاستی عناصر فعال ہیں جو جیوپولیٹکس کی صورت حال اور اپنے ممالک کی—خاص طور پر پاکستان، افغانستان، ہندستان اور وسطی ایشیا میں—خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہندو پاک تعلقات پر نہ صرف متحارب غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے اثر پڑتا ہے بلکہ وہ خارجہ پالیسی کے اہم فیصلوں پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ متحارب غیر ریاستی عناصر نے یوکرین میں روسی اور مغربی جیوپولیٹکل فیصلہ سازی پر اثر ڈالا ہے۔ حال ہی میں ترکی میں کئی معاملات بشمول تخت پلٹنے کی عسکری کوششیں (military coups) اور روسی سفارت کار کا قتل اس امر کے غماز ہیں کہ متحارب غیر ریاستی عناصر کسی بھی ملک کی جیوپولیٹکس اور خارجہ پالیسی پر کس قدر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

ملٹی میڈیا اور اسٹریٹجک اطلاعات کی جنگ

کسی ملک کی جیوپولیٹکل صورت حال پر ہمیشہ حکومت یا ادارے ہی اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ متعدد فریق اس پر مختلف ملٹی میڈیا آلات اور اسٹریٹجک اطلاعاتی وسائل (SIW) کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ [10] اسٹریٹجک اطلاعاتی وسائل کا بنیادی مقصد مختلف ملٹی میڈیا اور سائبر وسائل کے ذریعہ (داخلی اور بین الاقوامی سطح پر) کسی مخصوص خیال اور نقطہ نظر کو مقبول بنانا ہوتا ہے۔ انھیں دشمن یا حریف کا رویہ بدلنے کا ایک غیر متحارب وسیلہ کہا جاسکتا ہے۔ ملٹی میڈیا اور اسٹریٹجک اطلاعاتی وسائل کی اہمیت مخلوط جنگی حکمت عملی کے طور پر بڑھ ری ہے۔

مابعد سرد جنگ کے جیوپولیٹکل نظم عالم میں روس ایک بار پھر ابھر رہا ہے اور امریکہ کی حیثیت کو نہ صرف مشرقی یوروپ میں بلکہ افغانستان سمیت مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی چیلنج کر رہا ہے۔ یوکرین میں بھی روس نے کریمیا کے الحاق کی حمایت میں اپنے عوام اور بیرون ملک اپنے پروپیگنڈہ کی جنگ کو کامیابی کے ساتھ چلایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس معاملے پر روس سے کوئی قابل ذکر اختلاف نہیں پایا جاتا۔ عراق میں بڑی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) کا کوئی وجود نہیں تھا لیکن ملٹی میڈیا اور ایس آئی ڈبلیو کے ذریعے امریکہ نے اپنے عوام اور دنیا کو قائل کرلیا کہ عراق کے پاس تباہ کن ہتھیار موجود ہیں۔ امریکہ ایران کے میزائل کو روکنے کے بہانے مشرقی یوروپ میں ایک میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کر رہا ہے، لیکن اس کا اصل مقصد مشرقی یوروپ میں روس کے میزائل حملوں سے دفاع کرنا ہے۔

چین یوریشیائی جیوپولیٹکس میں ایک نیا کھلاڑی ہے، اور وہ بھی اپنے جغ اقتصادی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے وسطی ایشیا اور مشرقی یوروپ (جو یوریشیائی جیو پولیٹیکل جدوجہد اور جیو پولیٹیکل تھیوری کا بھی بنیادی عنصر ہے) میں اپنا اثر ورسوخ چاہتا ہے۔ یہ چینی ملٹی میڈیا اور ایس آئی ڈبلیو کی کامیابی کی ایک مثال ہے جس کے ذریعے چین نے جنوبی چینی سمندر پر بغیر ہتھیار اٹھائے قبضہ کر لیا، اور دل چسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی چین کے اس اقدام کے خلاف کوئی غم وغصہ نہیں پایا جاتا۔[11]

معیشت اور کارپوریٹ گھرانے (لابیاں(

یہ گلوبلائزیشن کے عروج کا دور ہے، عالمی کارپوریٹ اور تجارتی گھرانے اپنے آپریشن کو پوری دنیا میں توسیع دے رہے ہیں۔ عالمی کارپوریٹ گھر انے مختلف ممالک میں دل چسپی اور سرمایہ کاری رکھتے ہیں۔ انھیں دیگر ممالک کے کاروباری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی حکومتوں کا تعاون درکار ہوتا ہے۔ یہ بعض کلیدی نوعیت کے اسٹریٹجک جغرافیائی مقامات، جیسے افغانستان، افریقہ وسطی ایشیا میں، قدرتی وسائل میں بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر حکومتیں ان کے حق میں نہ ہوں تو یہ نہ صرف اپوزیشن کی حمایت کرنے لگتے ہیں بلکہ اپنی حکومتوں پر بھی دباؤ بناتے ہیں کہ ان کی حمایت میں آگے آئیں۔ یہ کارپوریٹ گھرانے پروپیگنڈے کا استعمال کرکے اس ملک کی جغرافیائی اہمیت کی حکمت عملیوں اور خارجہ پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ چوں کہ چین یوریشیا میں ایک اقتصادی دیو کی صورت میں ابھر رہا ہے، چنانچہ مختلف تجارتی لابیاں اور کارپوریٹ گھرانے یوریشیائی اقتصادی میدان پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ چین کا ون بیلٹ، ون روڈ (OBOR) منصوبہ خطے کے جیوپولیٹکل منظر نامے کو تبدیل کر رہا ہے۔

ثقافتی/نسلی تشخص اور نظریہ

بیسویں صدی کے اوائل ہی سے ثقافتی تشخص اور نظریے کو جیوپولیٹکل ماحول اور فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ نسلی تشخص ہی پہلی جنگ عظیم کے اہم اسباب میں سے ایک تھا۔ جرمنی کے ذریعے جرمن جیوپولیٹکس کا تصور تمام جرمن مسکن خطوں پر دعوی کرنے کی بنیاد بنا اور بعد ازاں یہی تصور دوسری عالمی جنگ کی وجہ بھی بنا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یوریشیائی انضمام اور عسکری نظم بندی کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ نسلی تشخص اور نظریہ جیوپولیٹکل، علاقائی ماحول اور فیصلہ سازی کی بنیاد نہیں ہوتی۔ لیکن مابعد سرد جنگ کی جیوپولیٹکس میں نسلی تشخص اور نظریے عالمی سیاست میں اتھل پتھل کے اہم اسباب رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے مذہب اور خطے کی بنیاد پر ویزا نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ، مذہب کی بنیاد پر تارکین وطن کو لینے سے انکار کرنا نہ صرف کئی ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا سبب بن رہا ہے بلکہ اس سے جیوپولیٹکل ماحول بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ روہنگیا کا مسئلہ صرف پناہ گزینوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہندستان اور خطے میں ثقافتی و تہذیبی مسئلہ بھی ہے اور اس سے کئی ممالک کی خارجہ پالیسی متاثر ہورہی ہے۔ شام اور دیگر عرب تارکین وطن ترکی اور دیگر یوروپی ممالک کے مابین کشیدگی کا سبب بن رہے ہیں۔[12]

دفاع اور سلامتی کے تقاضے اور ماحولیات، عسکری و صنعتی کمپلیکس، جنگ کی نج کاری

عسکری صنعتی کمپلیکس ان کھربوں ڈالر کی صنعتوں کا نیٹ ورک ہے جو ہتھیار اور عسکری ٹکنالوجیاں تیار کرتا ہے۔ یہ نیٹ ورک کسی ملک کے انتخابی عمل کی فنڈنگ کرکے اس ملک کی خارجی، دفاعی اور عسکری پالیسیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ کلسٹر میں یہ صنعتیں امریکہ اور یوروپ میں واقع ہیں۔ عسکری صنعتی کمپلیکس نہ صرف دنیا کے مختلف گوشوں میں جنگوں کی حمایت کرتا ہے بلکہ ایران عراق جنگ اور ہندوپاک تنازعے کی طرح، دونوں فریقوں کو اسلحے اور ہتھیار بھی فراہم کرتا ہے۔ عسکری صنعتی کمپنیاں شیئر بازاروں کی فہرست میں شامل ہوتی ہیں اور اپنے شیئر کی قدر اور نفع بڑھانے کے لیے وہ دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں اور تنازعات کو فروغ دیتی ہیں۔ بعض اوقات وہ امن معاہدوں کی بھی مخالفت کرتی ہیں۔ بہت سے ماہرین کوریا اور دیگر متعدد بین الاقوامی تنازعوں کی گتھی نہ سلجھنے کے پیچھے انھی عسکری صنعتی کمپنیوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔[13] مشرق وسطی اور مشرقی یوروپ میں امریکی پالیسی کو براہ راست عسکری صنعتی کمپلیکس متاثر کرتا ہے۔ مشرق وسطی میں وہ ایران کو ایک بڑا دشمن ظاہر کر کے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کو عسکری سازوسامان فروخت کرتے ہیں۔ یوریشیا میں وہ روس کے ساتھ تنازعات کو ہوا دے رہے ہیں اور مشرقی یوروپ اور دیگر ممالک پر امریکی اسلحہ خریدنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

جنگ کی نج کاری ایک نیا مظہر ہے۔ اس میں پرائیویٹ فوج کسی ملک کی باقاعدہ فوج کی جگہ لے لیتی ہے۔ یہ پرائیویٹ ٹھیکیدار دنیا بھر میں نفع کے خاطر جنگ یا خانہ جنگی بھڑکانے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ افریقی ممالک میں لامتناہی خانہ جنگی کے سلسلے کی ایک وجہ جنگ کی نج کاری ہے۔ اب افغانستان میں امریکی/ نیٹو افواج کی شکست کے بعد بدنام زمانہ’بلیک واٹر‘ لابی کر رہا ہے کہ افغانستان کی جنگ کی نج کاری کی جائے اور انھیں اس کا ٹھیکہ دے دیا جائے۔ اس سے افغان جنگ کو طول دے کر صرف مزید منافع خوری مطلوب ہے [14]، اگرچہ بہت سے ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جنگ کی نج کاری کا مطلب جنگ جیتنا ہرگز نہیں ہے۔

بساط عالم پر جیو پولیٹیکل تبدیلی

جیو پولیٹکس جغرافیائی حکمت عملی کی ایک متحرک سائنس ہے۔ بہت سے وجوہ کی بنا پر یہ ہمیشہ غیر مستحکم رہتی ہے۔ ابھرتے ہوئے ممالک اور علاقائی تشکیل و ترتیب ہمیشہ حالت موجودہ (status quo) کو توڑنے کے درپے رہتے ہیں۔ مابعد سرد جنگ دور کے آغاز میں جیوپولیٹکس روس اقتصادی، نظریاتی اور قیادت کے عوامل کی بنا پر دباؤ میں تھا۔ بعد میں پوتن نے اس کی پالیسیوں ازسرنو تشکیل کی اور ایک بار پھر خود منوایا اور دیگر علاقائی طاقتوں اور چین کے ساتھ نئے توازن (equations) پیدا کرنے کی کوشش کی۔ روس میں ایک نئی قسم کی نظریاتی تحریک ابھر رہی ہے جسے’یوریشیائی تحریک‘ کہنا مناسب ہوگا، اس میں روس انتہائی نزاکت کی حامل خارجہ پالیسی کے مضمرات رکھتا ہے۔ چین نہ صرف ایک اقتصادی سپر پاور کے طور پر ابھر رہا ہے بلکہ وہ بھی خطے میں اور عالمی سطح پر اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ چین اور روس اب امریکہ کی نظم عالم کی قیادت کو چیلنج دے رہے ہیں، اس سے یوریشیائی جیوپولیٹکس میں ایک مختلف اسٹریٹجک تبدیلی کا ظہور ہوتے ہوئے دیکھاجا سکتا ہے۔

یوریشیائی جیو پولیٹکس میں روس کا احیا

مابعد سرد جنگ کے آغاز میں روس مغرب کے دباؤ میں تھا اور اس کا عالمی اور علاقائی امور کا ایجنڈا طے کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ پوتن کے اقتدار میں آنے کے بعد صورت حال بدلنا شروع ہوئی۔ کچھ معاشی طاقت اور علاقائی استحکام حاصل کرنے کے بعد روس نے علاقائی اور عالمی سیاست میں اپنی موجودگی کا احساس کروانا شروع کیا۔ افغانستان میں اگرچہ روس امریکی جنگ کی حمایت کرتا ہے،، تاہم اس نے شام میں امریکی پالیسی کی مخالفت کی، یہاں تک کہ بشارالاسد کی حمایت میں عسکری طاقت کا بھی استعمال کیا۔ روس مشرق وسطی و شمالی افریقہ (Middle East and North Africa, MENA) میں اپنی پوزیشن کو اسی طرح بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جیسی کہ سوویت روس کے زمانے میں تھی۔

متحدہ سوویت وفاق کے زمانے میں MENAخطے سیاسی صورت حال کو اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اپنی دو میقاتوں میں پوتن نے 25 مرتبہ عرب لیڈروں کو اپنے یہاں بلایا، جو اوباما دور میں عرب وفود کے دوروں سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ سعودی عرب امریکہ اور مغرب کا قریبی حلیف رہا ہے لیکن اب روس اور سعودی عرب بعض امور پر قریب تر ہورہے ہیں خصوصاً تیل اور گیس کے امور پر۔ حال ہی میں دونوں ممالک کی طرف سے طے پائے چند توانائی کے معاہدے اس بات کے غماز ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی توانائی کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق جس طرح روس شام میں ایک مضبوط حریف کی شکل میں ابھر کر سامنے آیا ہے، اس سے سعودی عرب مرعوب ہوا ہے۔ اور اب سعودی عرب روس، امریکہ اور مغرب کے ساتھ ایسے متوازن تعلقات چاہتا ہے جو یک رخے نہ ہوں۔

روس ترکی سے بھی اپنے تعلقات استوار کر رہا ہے جو ایک اہم نیٹو (NATO)اتحادی ملک ہے۔ اپنی نئی پالیسی کے طور پرروس مشرق وسطی کو ہمسایہ بیرون (near abroad) قرار دیتا ہے۔ ماضی قریب میں ترکی و روس کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات سے امریکہ اور نیٹو ناخوش ہوئے تھے۔ لیکن ترکی جس طرح آزادانہ طور پر روس کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر رہا ہے وہ بین الاقوامی سیاست میں روسی طاقت کے ابھرنے کا عکاس ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ روس کے لیے ترکی نیٹو کو چھوڑ سکتا ہے یا نیٹو ترکی کو معطل کرسکتا ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ ترکی اور روس کے تعلقات مستقبل میں مزید بہتر ہوں گے۔

روسی جیوپولیٹکل حکمت عملی کا حیرت انگیز عنصر یہ ہے کہ روس پاکستان تعلقات تیزی سے استوار ہوئے ہیں۔ اگرچہ ماضی قریب میں پاکستان امریکہ کا قریبی حلیف رہا ہے لیکن حالیہ برسوں میں وہ روس کے بہت قریب آیا ہے اور متعدد عسکری معاہدے، ہتھیاروں کے سودے، خفیہ معلومات اطلاعات کے تبادلے کے معاہدے، مشترکہ عسکری مشقیں اور سب سے اہم روس میں پاکستان کی عسکری تربیت معاہدے کے معاہدے طے پائے ہیں۔ یہ متعدد اسٹریٹجک تعاملات روس کی جنوبی اور وسطی ایشیا میں طویل مدتی اسٹریٹجک وژن کی نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

روس صرف عسکری تعلقات ہی قائم نہیں کر رہا ہے بلکہ فولاد کی ملوں اور پائپ لائنوں کے منصوبوں میں بھی دل چسپی دکھا رہا ہے۔ روس گوادر میں چین پاک اقتصادی راہ داری (CPEC) منصوبے میں شامل ہے جس کی رسائی اسے بحیرہ عرب کے ذریعے حاصل ہوگی، یہ روس کا صد سالہ خواب تھا۔[15] روس افغانستان میں بھی اپنی دل چسپی بڑھا رہا ہے جہاں امریکہ 17 سال سے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے طالبان سے لڑ رہا ہے۔

ایک وقت تھا جب روس نے افغانستان پر امریکی جارحیت کی حمایت کی تھی، لیکن اب حیرت کی بات یہ ہے کہ روس افغانستان کا بحران سلجھانے کے لیے افغان –امریکی حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنے کے بجائے طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ روس نے پہلی بار 2017 میں طالبان سے تبادلہ خیال کے لیے رابطہ کیا تھا جس میں اس نے افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلے پر گفتگو کی تھی۔ لیکن اب اس سے آگے بڑھ کر وہ افغان بحران حل کرنے کے لیے امریکہ کو نظرانداز کرتے ہوئے افغانستان، ایران اور پاکستان کا علاقائی اتحاد بنانے پر زور دے رہا ہے۔ روس پہلے ہی سے وسطی ایشیا میں فعال ہے اور اب افغانستان اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک نوعیت کی شراکت داری سے یوریشیائی جیوپولیٹکس کا پلڑا روس کے حق میں بھاری ہوجائے گا۔

روس مشرقی ہارٹ لینڈ اور رم لینڈ (rimland) کے کچھ حصوں پر اپنی حیثیت بحال کررہا ہے، تاہم اسے مشرقی یوروپ میں نیٹو کی توسیع کی وجہ سے سخت چیلنج کا سامنا ہے جس کی وجہ سے روسی سرحد اور طاقت ور وسطی یوروپ یا نیٹو کے مابین بفر زون (buffer) ہے۔ اگرچہ بالٹک ممالک نیٹو کے رکن ہیں تاہم روس اپنی سرحد سے نیٹو کو دور رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، خصوصاً یوکرین اور جارجیا کو نیٹو میں عدم شمولیت پر قائل کرنے کے لیے پورا زور صرف کر رہا ہے، کیوں کہ یوکرین وسیع جغرافیائی رقبے اور آبادی والا سب سے بڑا مشرقی یوروپی ملک ہے، اور جارجیا بحیرہ اسود میں روس کے جنوب واقع ہے جہاں سے یہ قفقاز اور وسطی ایشیا پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر نیٹو یوکرین اور جارجیا میں عسکری اڈے قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو جیوپولیٹکل اعتبار سے یوروپ میں نیٹو کو روس پر فوقیت حاصل ہوجائے گی اور اسے مشرقی ہارٹ لینڈ پر بلاشرکت غیرے غلبہ حاصل رہے گا۔ چنانچہ روس کی کوشش رہے گی کہ کسی بھی طرح یوکرین اور جارجیا کو نیٹو کی رکنیت سے باز رکھے۔

روس چین کے ساتھ بھی اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات قائم کر رہا ہے۔ ماضی قریب میں روس اور چین نے بہت سے عسکری اور اقتصادی شراکت کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن میں توانائی کے بڑے سودے بھی شامل ہیں۔[16] دونوں ملکوں نے مشترکہ عسکری مشقیں بھی منعقد کیں۔ روس چین کی سربراہی والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)۔کا بھی رکن ہے۔ چین، پاکستان (جنوبی ایشیا)، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ مل کر روس ہارٹ لینڈ کے مشرقی گوشے میں اپنی حیثیت کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اب ہارٹ لینڈ کے مغربی گوشے یعنی مشرقی یوروپ پر توجہ مرکوز کرکے روس رِم لینڈ اور شمالی افریقہ (جو توسیع کردہ رم لینڈ ہے) کی جانب پیش رفت کرسکتا ہے۔[17]

معاصر صورت حال کی اہم خصوصیات

قومیت پر مبنی ریاستیں

پہلی جنگ عظیم کے سو سال گزرنے کے بعد (جو کٹر قوم پرستی قومیت پر مبنی ریاست قائم کرنے کے لیے برپا ہوئی تھی)آج بھی نظمِ عالم ناکام ہے، یا یوں کہیے کہ اسے حسب توقع کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ بریگزٹ، یوروپ، امریکہ اور ہندستان میں کٹر دائیں بازو کا عروج اس کی بہترین مثالیں ہیں۔

کثیر ثقافتی تہذیب یا بقائے باہمی کا انحطاط

دنیا کے بہت سے حصوں میں، بشمول یوروپ اور امریکہ کے، یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا مغربی اور امریکی اقدار ناکام ثابت ہوا ہے یا مغرب بحیثیت اقدار کے مقام اتصال (melting pot) ناکام یا کم زور ثابت ہوا ہے، کیوں کہ دیگر نسلی گروہوں، مذاہب اور ثقافتوں پر حملے ہنوز جاری ہیں بلکہ اس وقت اپنے عروج پر ہیں۔

یک قطبی دنیا کی ناکامی

اگرچہ یہ رجحان پچھلے ایک عشرے سے محسوس کیا جارہا تھا تاہم شام میں روسی مخالفت اور متعدد علاقائی وفاقوں کے قیام (عالمی مسائل، مثلاً افغان بحران کو حل کرنے کے لیے) اور ان کے امریکہ کے بغیر موثر انداز میں کام کرنے اور اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یک قطبی دنیا ناکام ہوچکی ہے۔ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کا ابھرنا بھی اسی مظہر کی علامت ہیں۔

مغرب کے اقتصادی اور عسکری تسلط کا خاتمہ

دنیا کی اقتصادی بساط پر جہاں ایک طرف کئی غریب ممالک تیزی سے پیش رفت کر رہے ہیں اور مغرب پر ٹکنالوجی اور عسکری طاقت کے لیے ان کا انحصار کم ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف بہت سے مغربی ممالک سنگین معاشی بحران میں مبتلا ہیں۔[18] چنانچہ اس صورت حال سے بوکھلاکر وہ اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے سازشوں اور جنگوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ دنیا کے بعض حصوں میں— مثال کے طور پر شام، لیبیا، افغانستان، پاکستان، روس، ایران اور ترکی میں —ان کی سازشیں جگ ظاہر ہوچکی ہیں۔ علیحدگی پسندی کا فروغ—مثلاً کردستان— اور ملکوں کو توڑنا—مثلاً سوڈان —مغرب کی عالمی بالادستی کے بکھرنے کے احساس ہی کا شاخسانہ ہیں۔

کثیر قطبی دنیا میں عدم اعتماد کی فضا

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اب ایک کثیر قطبی دنیا ابھر رہی ہے، اپنے ایجنڈا کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف طاقتوں کے درمیان بے اعتمادی کی فضا ہے۔ ہرچند کہ بیشتر ممالک مختلف علاقائی اور عالمی اتحادوں کا حصہ ہیں لیکن پھر بھی ان کے مابین اعتماد نہیں ہے۔ ہندستان–چین، روس-ترکی، ایران-ترکی، سعودی-پاکستان کے تعلقات اعتماد وتعاون کے فقدان کی چند مثالیں ہیں۔ (جاری) ■

حوالے:

  1. American Heritage Dictionary, 2000
  2. DeBlij, H.J & Muller, P.O. (2003). Concept and Region in Geography. New York: John Wiley and Sons.
  3. Dodds, K (2008). Geopolitics: A very Short Introduction, New York, Oxford.
  4. Colin S. Gray, Geoffrey Sloan (eds)(1999). Geopolitics, Geography and Strategy. NewYork Routledge.
  5. Slater, Alice (JANUARY 24, 2018). The US Has Military Bases in 80 Countries. All of Them Must Close.US bases are wreaking havoc to the health and well-being of communities across the world. https://www.thenation.com/article/archive/the-us-has-military-bases-in-172-countries-all-of-them-must-close/
  6. Luttwak, E (1993) The Endangered American Dreams, New York: Simon and Schuster
  7. Blackwill. Robert D, Harris. Jennifer M (2016). War by Other Means: Geoeconomics and Statecraft, London, Harvard University Press
  8. Wallerstein, Immanuel. “The rise and future demise of the world capitalist system: Concepts for comparative analysis.” In Introduction to the Sociology of “Developing Societies”, pp. 29-53. Palgrave, London, 1982.
  9. Dugin, Alexander. The Fourth Political Theory. Arktos, 2012.
  10. Kenneth L. Hacker and Vanessa R. Mendez (2016), Toward a Model of Strategic Influence, International Broadcasting, and Global Engagement, Media and Communication (ISSN: 2183-2439) 2016, Volume 4, Issue 2, Pages 69-91 Doi: 10.17645/mac.v4i2.355, available at https://commstudies.nmsu.edu/files/2017/02/Hacker-Mendez-2016.pdf.
  11. Thayer Carl (2014) China’s Information Warfare Campaign and the South China Sea: Bring It On! Available at https://thediplomat.com/2014/06/chinas-information-warfare-campaign-and-the-south-china-sea-bring-it-on/.
  12. Ferris Elizabeth, Kirişci.Kemal (2016) ‘Syrian Refuges: Challenges to Host and International Communities’. Book Chapter in The Consequences of Chaos: Syria’s Humanitarian Crisis and the Failure to Protect, pp 33-70, Washington DC, Brookings Institution Press.
  13. Thrall, A. Trevor , Dorminey Caroline (2018) Risky Business: The Role of Arms Sales in U.S. Foreign Policy. Available at https://www.cato.org/publications/policy-analysis/risky-business-role-arms-sales-us-foreign-policy.
  14. Mashal, Mujib (2018) As Afghanistan Frays, Blackwater Founder Erik Prince Is Everywhere. Available at https://www.nytimes.com/2018/10/04/world/asia/afghanistan-erik-prince-blackwater.html.
  15. Pandit Virendra (2016) Gwadar and Vadinar Oil Ports: To China and Russia, With Love!. Available at https://www.thequint.com/voices/blogs/essar-modi-vladimir-putin-gwadar-and-vadinar-oil-ports-to-china-and-russia-with-love-south-asia-india-pakistan.
  16. Kantchev Georgi (2019) China and Russia Are Partners—and Now Have a $55 Billion Pipeline to Prove It. Available at https://www.wsj.com/articles/china-and-russia-are-partnersand-now-have-a-55-billion-pipeline-to-prove-it-11575225030.
  17. Ellyatt Holly (2019) Russia conducts massive military drills with China, sending a message to the West. Available at https://www.cnbc.com/2019/09/17/russia-conducts-tsentr-2019-military-exercises-with-china-and-india.html.
  18. Juan R. Cuadrado-Roura Martin Ron, Rodríguez-Pose Andrés (2016) The economic crisis in Europe: urban and regional consequences, Cambridge Journal of Regions, Economy and Society, Volume 9, Issue 1, March 2016

ستمبر 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau