اسلاموفوبیا – ہندوستان کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں

سید سعادت اللہ حسینی

(حالیہ انتخابات میں اسلام اورمسلمانوں کے تئیں خوف پیدا کرنے کو باقاعدہ سیاسی مہم کا حصہ بنایا گیا۔ اس تناظر میں، اسلاموفوبیا پر تین سال پہلے منعقد ایک سیمینار کی افتتاحی تقریر یہاں پیش کی جارہی ہے، اس امید کے ساتھ کہ قارئین اس بحث کو اور آگے بڑھائیں گے)

اسلاموفوبیا کے موضوع پر منعقد ہورہے اس اہم سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے مجھے خوشی ہورہی ہے۔ اسلاموفوبیا کا موضوع اس وقت ایک بڑا اہم موضوع بن چکا ہے بلکہ اسلام کےحوالے سے پیدا کیا گیا خوف اور توحش ہماری تاریخ کے اہم ترین چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ اس وقت اسلاموفوبیا کے سلسلے میں کچھ اصولی باتیں پیش کرنا مقصود ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے عملی طریقوں اور اس کے حل کی تفصیلات پر سیمینار کے دیگر شرکااظہار خیال کریں گے۔

اسلامو فوبیا کیا ہے؟ اسلاموفوبیا دراصل زینو فوبیا (xenophobia)کی ایک قسم ہے۔ زینو فوبیا کا مطلب ہوتا ہےاجنبیوں کا خوف یعنی جو لوگ نسلی، تہذیبی یالسانی لحاظ سے مختلف ہوں اُن کے سلسلے میں خوف، غلط فہمی، بے زاری اور نفرت کو زینو فوبیا کہتے ہیں۔ یہ خوف خاص طور پر ان جگہوں پر پیدا ہوتا ہے جہاں باہر سے لوگ ہجرت کرکے آتے ہیں۔ ملک کے پرانے باشندے ا ن نووارد بیرونی لوگوں پر شک کرتے ہیں۔ ان سے اپنی تہذیبی، نسلی یا قومی شناخت کو خطرہ محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انھیں یہاں سے نکال باہر کیا جائے۔اسی تناؤ کو زینو فوبیا کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے سلسلےمیں جب زینو فوبیا کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو وہ اسلامو فوبیا کہلاتی ہے۔ اس لیے اسلاموفوبیا کی اصطلاح کا استعمال بھی زیادہ تر ان ملکوں کے لیے کیا جاتا رہا ہے جہاں مسلمان گذشتہ صدی میں پہلی بار مہاجر کی حیثیت سے آئے۔اس لیے ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں جو مسلم دشمنی کی کیفیت ہے وہ فرقہ پرستی (communalism) ہے اسلاموفوبیا نہیں ہے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ہم آگے وضاحت کریں گے کہ غلط فہمیاں پھیلاکر اور اجنبیت پیدا کرکے اس ملک میں صدیوں سے رہنے والے مسلمانوں کے سلسلے میں بھی زینوفوبیا یعنی اسلاموفوبیا کی لہر پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں، جو اپنے مذموم مقاصد میں کام یاب بھی ہیں۔

اسلاموفوبیا کو سمجھنے کے لیے اس سے متعلق کچھ اور اصطلاحات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک اصطلاح ہے نسل پرستی (Racism)جس کا مطلب ہے کسی خاص نسل کی برتری کا تصور یا یہ تصور کہ اچھائی اور برائی، ذہانت و صلاحیت،شرافت و شائستگی اور اخلاقی خوبیوں کا تعلق نسل سے ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر کسی نسل کوذہین و باصلاحیت، نافع و کار آمد اور شائستہ وبااخلاق سمجھنا یا کسی دوسری نسل کو کند ذہن، ناکارہ، اخلاق سے عاری، جرم پیشہ اور دشمن سمجھ لینا نسل پرستی کہلاتا ہے۔ ایک اور اصطلاح جو ہمارے ملک میں رائج رہی ہے وہ فرقہ پرستی (communalism)کی اصطلاح ہے۔ مذہب کی بنیاد پربننے والے فرقوں کو محبت و نفرت کی اساس بنانا اور صرف اپنے فرقے کے مفاد کے بارے میں اور دوسرے فرقے کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنا،دوسرے فرقے کو اپنا دشمن سمجھنا، دوسرے فرقے کی معاشی، سیاسی یاتہذیبی ترقی سے حسد کرنا اور اسے اپنے فرقے کے مفاد کے خلاف محسوس کرنا، فرقہ پرستی یا کمیونلزم ہے۔

ہمارے ملک میں تاریخی طور پر یہ دونوں مسائل ہمیشہ رہے ہیں۔ ایک کمیونلزم یعنی فرقہ پرستی اور دوسرا برادری واد (Castism)جو نسل پرستی یا (Racism)ہی کی ایک قسم ہے۔ہمارا ملک ایک ہمہ تہذیبی ملک ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ یہ تنوع دوسرے ملکوں کے برعکس صرف بڑے کاسموپولیٹین شہروں تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے ہر حصے میں، گاؤں گاؤں تک میں یہ تنوع پایا جاتا ہے۔ایسے ہمہ تہذیبی سماجوں میں، الگ الگ تہذیبی پس منظر اور رہن سہن رکھنے والے گروہوں کے درمیان ٹکراؤ یا تصادم، کوئی غیر معمولی یاخلاف توقع بات نہیں ہے۔ چناں چہ یہاں مختلف ذاتوں اور فرقوں کے درمیان تصادم کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ اکثر تصادم کے ان واقعات کے پیچھےمعاشی یا سیاسی محرکات ہوتے تھے۔ کوئی گروہ معاشی طاقت حاصل کرتا ہے تو دوسرا گروہ اس کو اپنے لیے معاشی چیلنج سمجھتا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی لمبے عرصے تک یہی تاریخ رہی ہے۔آزادی کے بعد تقسیم ہند کے نتیجے میں مسلمان یہاں کم زور ہوگئے اور اکثر اس طرح کے ٹکراؤ میں ان کا بھاری نقصان ہوتا رہا۔ ان کی طاقت کو توڑنے کے لیے، فرقہ وارانہ جذبات کا استحصال کرکے جگہ جگہ فسادات کرائے جاتے رہے۔ سیاسی کشمکش میں عوام کی ہمدردی حاصل کرنے یا مخالف سیاسی قوت کو کم زور اور بدنام کرنے کا آسا ن نسخہ بھی یہی سمجھا گیا کہ فسادات بھڑکادیے جائیں اور ماحول کو تناؤ سے بھردیا جائے۔

لیکن جس چیز کو ہم اسلاموفوبیا کہتے ہیں وہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ جیسا کہ کہاگیا، یہ اصلاًاجنبیوں کا خوف، ان پر شک، ان سےبے زاری و نفرت کی کیفیت کا نام ہے۔ مسلمان تو اس ملک میں اجنبی نہیں ہیں۔نسلی لحاظ سے تو وہ بالعموم وہی پس منظر رکھتے ہیں جو دیگر ہندوستانی باشندوں کا ہے۔ رہن سہن کے بہت سے طور طریقے بھی مشترک ہیں۔تہذیبی فرق یقیناً ہے لیکن یہ کوئی نئی پیداشدہ کیفیت نہیں ہے۔ مسلمان اپنے تہذیبی تشخص کے ساتھ صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ اس لیے ان کی تہذیبی قدریں بھی اس ملک کے باشندوں کے لیے ایسی اجنبی نہیں ہیں کہ وہ یہاں زینوفوبیا پیدا کرسکیں۔ اس لیے یہاں اسلاموفوبیا کوئی فطری کیفیت نہیں ہے۔بلکہ منصوبہ بند طریقوں سے پیدا کردہ ایک مصنوعی صورت حال ہے۔

ہمارے ملک میں فرقہ پرستی تو صدیوں سے رہی ہے لیکن اسلامو فوبیا ایک نئی صورت حال ہے۔ فرقہ پرستی اور زینو فوبیا میں جوہری فرق پایا جاتا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ فرقہ پرستی میں عام طور پر مفادات کی لڑائی ہوتی ہے۔ ایک فرقے کی ترقی یااس کو ملنے والی مراعات سے دوسرا فرقہ خطرہ محسوس کرتا ہے تو اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوتا ہے۔ نقصان پہنچانے کی یہ کوشش عام سماجی اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے اور تشدد کے ذریعے بھی۔ چند بااثر لوگ سماج کے جرائم پیشہ افراد کو استعمال کرکے فساد بھڑکا دیتے ہیں۔جس وقت تناؤ ہوتا ہے، عام انسانوں کے جذبات یا باہمی تعلقات پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے لیکن یہ اثر دیرپا نہیں ہوتا۔ ا س کے بالمقابل زینوفوبیا سماج کے ایک بڑے حصے میں مستقل پھیل جانے والے زہر کا نام ہے۔ فرقہ پرستی میں جذبات کا اشتعال عارضی ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ نارمل ہوجاتا ہے جب کہ زینوفوبیا ایک دیرپا کیفیت کا نام ہے۔ ہمارے ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے تھے وہ زیادہ تر ملک کے چند علاقوں یا شہروں تک محدود ہوا کرتے تھے۔ فسادات کے موضوع پر تحقیقی کام کرنے والے ممتاز محقق، اشیتوش وارشنی نے تفصیلی اسٹڈی کے بعد یہ نتیجہ نکالا تھا کہ فرقہ وارانہ فسادات اصلاً ملک کے چند شہروں کا مسئلہ ہے۔ زینو فوبیا کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک وبا کے مانندہے۔ جب پھیلتا ہے تو آبادی کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تشدد بھڑکانے کے لیے کسی منصوبے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تشدد اچانک بھڑک اٹھتا ہے۔ ایک عام آدمی بھی، اجنبی فرقے یا نسل کے فرد کو سامنے دیکھ کر اچانک مشتعل ہوسکتا ہے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تینوں طرح کی کیفیات موجود اور کارفرما ہیں۔ نسل پرستی بھی ہے اور احساس برتری کے شکار بعض نسلی گروہ، مسلمانوں کو بھی ایک نسل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک ایسی نسل جو ان کی بالاتری کی راہ میں مزاحم ہے، اس لیے وہ دشمن ہے۔چناں چہ نسل کی بنیاد پر تعمیم (generalisation)کے تصورات عام ہیں۔مسلمان گندے ہوتے ہیں۔ جارح ہوتے ہیں۔ وغیرہ۔یہاں فرقہ پرستی بھی ہے۔ یعنی نسل کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا مذہبی وجود بھی وقتاً فوقتاً پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ اور اب زینوفوبیا کے طرز پر اسلامو فوبیا بھی پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں موجود فرقہ پرستی اور نسل پرستی کی جڑوں کو استعمال کرکے اسلاموفوبیا پیدا کرنے کی مسلسل اور منظم کوششیں ہورہی ہیں۔

اسلاموفوبیا کیسے پیدا ہورہا ہے؟ اس پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔اسلاموفوبیا (جو زینو فوبیا کی ہی ایک شکل ہے) پیدا کرنے کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہاں اجنبی بنادیا جائے۔ انھیں ملک کی تہذیب، رسوم و رواج اور عقیدوں کے لیے بڑا خطرہ بنادیا جائے۔ اسلاموفوبیا کے جذبات جانے پہچانے گروہ کے سلسلے میں پیدا نہیں ہوسکتے خواہ اس سے کتنی ہی دشمنی ہو۔ یہ جذبات ایک اجنبی گروہ کے سلسلے ہی میں پیدا ہوتے ہیں۔ اجنبیت فطری بھی ہوسکتی ہے اور پروپیگنڈے اور منصوبہ بند دوری پیدا کرنے کے نتیجے میں بھی ہوسکتی ہے۔ یہ اجنبیت ہی اسلاموفوبیا کی جڑ ہوتی ہے۔دور حاضر میں انسانوں کے حقیقی تعلقات بہت کم ہوگئے ہیں۔ ایک دوسرے کے بارے میں جاننے اور ایک دوسرے سے بات کرنے کا ذریعہ میڈیا بن گیا ہے۔ چناں چہ میڈیا کو کنٹرول کرلیا جائے تو یہ آسانی سے ممکن ہوجاتا ہے کہ جس کی جیسی چاہے امیج بنادی جائے۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں کو اجنبی بنادینے کی کوششوں کی کئی سطحیں ہیں۔

ایک سطح وہ ہے جسے مکانی حاشیہ سازی (Spatial Marginilisation)کہا جاتا ہے۔ مکانی حاشیہ سازی کی متعدد قسمیں ہیں۔ ایک قسم گھیتو (ghetto)ہے، یعنی کئی شہروں میں فسادات کے ذریعے مسلمانوں کی بستیاں الگ تھلگ کر دی گئی ہیں۔ پہلے یہ صورت حال شہروں تک محدود تھی، جہاں مسلمانوں کے گھیتو پائے جاتے تھے۔ اب دیہاتوں میں بھی یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اور ملک کے کئی علاقوں میں مسلم دیہات اورغیر مسلم دیہات الگ ہونے لگے ہیں۔ دوسری قسم انکلیو (enclave)کی ہے یعنی بڑے شہروں میں مسلمان تہذیبی وجوہات سے، یا موجودہ حالات کے دباؤ کی وجہ سے، تحفظ و سلامتی کے پیش نظر خود اپنے الگ علاقوں میں رہنا پسند کرنے لگے ہیں۔ تیسری کیفیت سلم (slum)کی ہے یعنی معاشی بنیادوں پر علیحدگی۔ مسلمانوں کی غریب آبادیاں، غربت و پس ماندگی کی وجہ سے الگ تھلگ علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ لوگ ایک ساتھ نہیں رہیں گے اور الگ الگ ہو جائیں گے تو اجنبیت کے احساس کو تقویت دینا آسان ہوگا۔ اس وقت ایک طرف مسلمان بڑے پیمانے پر شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں اور شہروں میں مذکورہ تینوں بنیادوں پر مسلمانوں کی آبادیاں غیر مسلموں کی آبادیوں سے الگ تھلگ ہوتی جا رہی ہیں۔

دوسری سطح ادارہ جاتی دوری کی سطح ہے، الگ سیاسی جماعتیں، الگ تعلیمی و معاشی ادارے، الگ تجارتی علاقے و بازار، اس طرح الگ تھلگ ہو جانے سے بھی میل جول اور ایک دوسرے پر انحصار (Interdependence) کم ہو جاتا ہے اور اجنبیت پھر اسلاموفوبیا کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔

تیسری سطح ذہنی دوری کی سطح ہے۔ مذکورہ بالا دونوں طریقوں سے جسمانی دوری پیدا ہوجائے تو ذہنی دوری پیدا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ ذہنی دوری کے لیے بہت سے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس کے لیے چند طریقے بہت کام یاب رہے ہیں۔ ایک تاریخ کا مخصوص بیانیہ جس کے ذریعے یہ احساس پیدا کیا جاتا ہے کہ مسلمان اس ملک کے لیے اجنبی ہیں۔ وہ ملک کو لوٹنے کے لیے آئے۔ان کے آنے سے پہلے یہ ملک ایک سنہری تاریخ رکھتا تھا۔ انھوں نے اس ملک میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا کیں۔ اسے غربت و افلاس اور پسماندگی کی دلدل میں دھنسادیا۔ چناں چہ اس وقت عہد وسطی کی پوری تاریخ کو مسخ کرکے مسلمانوں کے ساتھ اجنبیت اور وحشت کو جوڑنےکی طاقتور مہم جاری ہے۔ اس کے لیے اس وقت کئی سطحوں پر کام ہورہا ہے۔سنجیدہ علمی کاوشیں اور ان کے ذریعے تاریخ کی جھوٹ اور غلط بیانیوں کی اساس پر تدوین نو،پاپولر میڈیا یعنی فلم، پریس، سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے اس تاریخ کو اور اس سے متعلق تصورات کو عوام کے لاشعور میں نقش کردینا اور سیاسی بیانیوں کے ذریعے ان کی یاددہانی اورتکرار کرانا، جیسی سبھی سطحوں پر مسلسل کوششیں ہورہی ہیں۔

ذہنی اجنبیت پیدا کرنے کے لیے دوسرا اہم وسیلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے سلسلے میں یہ تاثر عام کیا جائے کہ وہ ملک کے وفادار نہیں ہیں۔ یہاں کے لوگوں سے انھیں کوئی جذباتی اُنس نہیں ہے۔ ان کی وفاداریاں بیرونی ہیں۔ اس کے لیے بہت سی کہانیاں (narratives)تخلیق کی گئی ہیں جو عام کی جاتی ہیں۔

ایک اور وسیلہ مسلمانوں کے بعض مخصوص رواجوں یا عادتوں سے متعلق ہے۔ ان کو مبالغے اور تکرار کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے اور یہ تاثر عام کیا جاتا ہے کہ مسلمان ’دوسرے ‘ ہیں۔ ان کے رواج نہ صرف مختلف ہیں بلکہ اس ملک کے عوامی جذبات سے متصادم ہیں۔ اس میں سب سے کارگر معاملہ گائے کُشی کا رہا ہے۔ جسے اس وقت بھی ایک طاقتور آلے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

ہمارے ملک میں جس فرقہ پرستی کا رواج رہاہے، اُس میں کشمکش کی بنیاد عام طور پر سیاسی مسائل یا سماجی رویے رہے ہیں۔ مذہبی معتقدات کو تنازعے کی بنیاد بہت کم بنایا گیا۔ عام طور پر مذہبی عقیدوں کا احترام ہی رہا ہے۔ لیکن اسلامو فوبیا کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کی اساسیات اور دین کی بنیادی تعلیمات کے سلسلے میں خوف اور بے زاری کا رویہ پیدا کرتاہے۔ یہ رجحان بھی اب خاصا عام ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا میں مسلمانوں سے متعلق ہر بحث اب ہمارے ملک میں بھی قرآن مجید یا نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی یا اسلام کی بنیادی تعلیمات کی ہجو پر ختم ہوتی ہے۔ دین اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مغربی روایت اب یہاں کے مباحث میں بھی عام ہونے لگی ہے۔حجاب، حلال ذبیحہ، نماز وغیرہ جیسے شعائر کو لے کر جو اضطراب پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے وہ بھی اسلاموفوبیا کے مخصوص مغربی رجحان کو ہندوستان میں درآمد کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ ورنہ تاریخی طور پر ہندوستان میں اس طرح کااضطراب کبھی بھی نہیں رہا۔ یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ اب فرقہ پرستی کے ساتھ اسلامو فوبیا بھی باقاعدہ رجحان بن چلا ہے۔

ہمارے ملک میں اسلاموفوبیا کے فروغ کے لیے کئی داستانیں گھڑی جارہی ہیں اور انھیں عام کیا جارہا ہے۔ مثلاً ایک اہم بیانیہ مسلم آبادی کا بیانیہ ہے۔ یہ تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسےمنضبط نہ کیا گیا تو دوسرے بڑے گروہ اقلیت میں آجائیں گے یا مغلوب ہوجائیں گے۔اسی طرح ایک اوربیانیہ ’امت کے تصور‘ کا بیانیہ ہے۔ یعنی یہ کہ مسلمانوں کے تعلقات دوسرے ملکوں سے ہوتے ہیں۔ اس پر کنٹرول نہ کیا گیا تو وہ ملک کے لیے خطرہ بنیں گے۔ دہشت گردی کی عالمی بحث تو پہلے سے موجود ہی ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات اور جہاد کو خاص طور پر خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لو جہاد اور کرونا جہاد جیسی اصطلاحات بھی اسی کا نتیجہ ہیں۔

مصنف اور ماہر عمرانیات ارجن اپودورائی نے زینو فوبیا کی نفسیات کا جائزہ لیتے ہوئے ایک بڑی اچھی اصطلاح ’ ناقصیت کا اضطراب‘ (Anxiety of Incompleteness) استعمال کی ہے۔یعنی خودکونامکمل یا ناقص سمجھنے کا احساس اور دوسرے تہذیبی گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے ایک نامکمل قوم ہونے کا احساس بعض اوقات شدید اندیشوں کو جنم دیتا ہے۔ یہ بے چینی ہی نسل کشی (Ethnocide) اور دوسرے تہذیبی گروہوں کے افکار و خیالات سے شدید دشمنی اور ان افکار کو ختم کردینے کے جذبے(Ideocide)، کی صورتوں میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں ناقصیت کا یہ اضطراب (Anxiety of Incompleteness) عالمی سطح پر بھی کارفرما ہے اور ہمارے ملک میں بھی۔ اس اضطراب کو ختم کرنے کے لیے اعتماد پیدا کرنا ضروری ہے۔اعتماد اسلام کے اصولوں کے تئیں بھی مطلوب ہے اورمسلمانوں کے وجود کے تئیں بھی۔

اصل سوال یہ ہے کہ ا س صورت حال کے مقابلے میں ہمارا ردّ عمل کیا ہو؟ اس سوال کے جواب میں ہمارے درمیان سوچ کی کئی دھارائیں پائی جاتی ہیں۔ اس پر غور کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنی حیثیت متعین کریں۔ ہم کیا ہیں؟ اگر ہم کوئی قوم ہوتے، کوئی نسلی یا لسانی گروہ ہوتے جس کی نسلی یا قومی شناخت پر حملہ ہوتا تو ہم وہ اسٹریٹجی اختیار کرتے جسے جدید اصطلاح میں‘شناخت کی سیاست‘ (Identity Politics)کہتے ہیں۔ ہم اس مسئلے کوشناختوں کے تصادم (Identity Conflict)کے روپ میں دیکھتے۔ اپنی شناخت پراصرار کرتے۔ اس کی بقا کی لڑائی لڑتے۔ وہ طریقے اختیار کرتے جوامریکہ اور جنوبی افریقہ میں سیاہ فام لوگوں نے اپنی نسلی شناخت کی لڑائی کے لیے اختیار کیے یا جو امبیڈکر نے دلتوں کو درپیش نسلی تفریق ختم کرنے کے لیے استعمال کیے۔

اگر یہ صرف سیاسی مسئلہ ہوتا اور ہمیں صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس مسئلے کا سامنا ہوتا تو ہم اپنی پوری توانائی اس کام پرمرکوز کردیتے کہ ہم سیاسی قوت حاصل کریں، دیگر طاقتوں کو حلیف بناکر طاقتور سیاسی مورچہ کھڑا کریں یا اپنے حریفوں سے لین دین کرکے مصالحت کرلیں۔

اگر ہم باقی آبادی سے پوری طرح ہم آہنگ ہوتے اور ہم میں، ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا، یہ صرف وقتی جزوی تنازعات پر پیدا ہونے والا اختلاف ہوتا تو ہم صرف میل ملاپ کی کوشش کرتے۔ وقتی غلط فہمیوں کو دور کرتے۔ ملنے جلنے، ساتھ تیوہار منانے اور خیر سگالی کی باتیں کرنے سے مسائل حل ہوجاتے۔

اس وقت زیادہ تر جو فارمولے تجویز کیے جاتے ہیں وہ انھی تین چار باتوں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے بعض باتوں کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ لیکن مسئلے کے حل کو ان تک محدود سمجھنا صحیح نہیں ہے۔ یہ سولوشن کا حصہ ہوسکتے ہیں مکمل سولوشن نہیں بن سکتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تمام تدبیروں میں ہماری اصل پوزیشن کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے۔ ہم نسلی اعتبار سے زیادہ تر اسی ملک کا حصہ ہیں۔ ہماری عظیم اکثریت کے آبا و اجداد اسی ملک کے تھے۔ یہیں کی زبانیں ہم بولتے ہیں۔ ہمارا رنگ روپ بھی ایک ہی ہے۔گو کہ ہم اپنے آپ کو الگ نسل سمجھنے لگے ہیں اور دوسرے لوگ بھی مسلمان کا مطلب ایک نسل یا نسلی گروہ سمجھتے ہیں لیکن تاریخی حقیقت یہی ہے کہ ہماری عظیم اکثریت اسی ملک کی نسل سےہے۔یہاں اختلاف کی بنیاد ہماری نسل نہیں ہے۔ اس لیے نسلی یا قومی کشمکش کے نہ اصول ہم پر لاگو ہوتے ہیں اور نہ نسلی و قومی شناخت کی لڑائیوں کی نظیریں یا شناخت کی سیاست (Identity Politics)کے نمونے ہمارے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔

ہمارا اصل امتیاز ہمارا عقیدہ اور ہماری سوچ ہے۔یہی ہماری شناخت کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید نے کہیں بھی مسلمانوں کے لیے قوم کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔ قوم کا لفظ قرآن مجید نے عام لغوی معنوں میں استعمال کیا ہے یعنی ان لوگوں کا مجموعہ جن کے درمیان نسل، زبان یا وطن کا اشتراک ہو۔ انبیا علیہم السلام نے خدا پر ایمان نہ رکھنے والے اپنے مخاطبین کو بھی یا قومی کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لیے قرآن نے قوم سے ہٹ کر الگ الفاظ یعنی ملت، امت اور حزب یعنی پارٹی جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِینَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ یاشُعَیبُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْیتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِی مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِینَ [الأعراف:  88] (قومِ شعیب کے متکبر سرداروں نے کہا:  شعیب ! ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں، اپنی بستی سے نکال دیں گے یا پھر تمھیں ہماری ’ملت‘ میں واپس آنا ہوگا۔ شعیب نے کہا:  خواہ ہم اسے ناپسند کرتے ہوں تو بھی؟ اگر ہم تمھاری ’ملت‘ میں دوبارہ چلے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا جب کہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے۔) اس آیت میں بیک وقت قوم اور ملت کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ شعیب علیہ السلام اور ان کے مخاطبین دونوں ایک قوم کے فرد تھے البتہ ان کی ملتیں الگ الگ تھیں۔

ملت کا مطلب کیا ہے؟ ہم مسلمانوں کے لیے ملت کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن اسے بھی قوم ہی کے معنوں میں بولنے لگتے ہیں۔ ملت کے معنوں کی وضاحت قرآن کی ایک اور آیت سے ہوتی ہے۔ مِلَّةَ أَبِیكُمْ إِبْرَاهِیمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِینَ مِنْ قَبْلُ وَفِی هَذَا لِیكُونَ الرَّسُولُ شَهِیدًا عَلَیكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ [الحج:  78] (قائم ہوجاؤ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔اللہ نے پہلے بھی تمھارا نام مسلم رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تمھارا یہی نام ہے۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔)

اس سے قوم اور ملت کا فرق اور واضح ہوجاتا ہے۔ قوم ایک نسلی گروہ یا کسی جغرافیائی علاقہ میں رہنے والے لوگوں کا نام ہے۔ (یا موجودہ دنیا میں کسی ریاست کے باشندوں کا مجموعہ ہے) اپنی قوم کا اکثر انتخاب نہیں کیا جاتا، وہ فطری اور پیدائشی طور پر متعین ہوجاتی ہے۔لیکن اس کے بالمقابل جب ہم حزب یا پارٹی بولتے ہیں تو اس سے ایک گروہ مراد ہوتا ہے جو کسی خاص مشن کی خاطر تشکیل دیا گیا ہے۔ جس کی رکنیت رضاکارانہ ہے، جو اس مشن سے اتفاق اور وابستگی پر مبنی ہے۔ پارٹی کا اپنا اجتماعی وجود ہوتا ہے لیکن وہ قوم سے بالکل الگ نہیں ہوتی بلکہ قوم کے اندر ہی اپنے مشن کے حصول کے لیے کوشاں ہوتی ہے۔ حزب یا پارٹی ہی کی طرح ملت بھی ایک نظریاتی گروہ کا نام ہے۔

ملت اسلامیہ کے لیے قرآن نے جو دیگر اصطلاحات استعمال کی ہیں، وہ بھی انھی معنوں میں ہیں۔امت کا لفظ قرآن میں مسلمانوں کے نصب العین کی وضاحت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًااور كُنتُمْ خَیرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِجیسی آیتیں ہم بار بار پڑھتے اور سنتے ہیں جن میں امت کا لفظ مسلمانوں کے مشن اور مقصد کی وضاحت کے ساتھ آیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کوئی قوم یا نسل نہیں بلکہ ایک مشن اور نصب العین رکھنے والا گروہ ہیں۔ جب ہم مسلمانوں کو ایک قوم قرار دیتے ہیں تو ساتھ رہنے والے دیگر افراد ان کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ غیریت کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ وہ اپنا الگ گھیتو بنا لیتے ہیں۔

اگر ہم اپنے مقام و حیثیت کے سلسلے میں کنفیوژن دور کرلیں تو اسلاموفوبیا کے اس مسئلے کے حل کی راہیں بھی ہم پر روشن ہوں گی۔ اسلام ایک نظریے اور ایک سوچ کا نام ہے۔ نظریے یا سوچ کے حوالے سے پیدا ہونے والے یا پیدا کیے جانے والے خوف کا حل صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اس نظریے کی وضاحت کی جائے۔ یہاں لوگ ہم کو ایک علحدہ یا اجنبی گروہ بنادینا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش اس کے مقابلے میں یہ ہونی چاہیے کہ ہم یہ اصرار کریں کہ ہم کوئی اجنبی گروہ نہیں ہیں۔ ہم اس ملک کا حصہ ہیں۔ نسل، زبان، جغرافیائی وطن، ان سب حوالوں سے یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہمارا اشتراک ہے۔ ہم یہاں کے انسانوں کے حریف یا دشمن نہیں بلکہ ان کے دوست اور خیر خواہ ہیں۔ ہم جس دین یا نظریے میں یقین رکھتے ہیں وہ یہاں کے انسانوں کے لیے بھی رحمت کا پیغام ہے۔ یہ دین کسی خاص نسل یا خاص گروہ کا مذہب نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کو مخاطب کرتا ہے۔یہ تمام انسانوں کے لیے مفید ہے۔ اسے جان کر اور سمجھ کر آپ چاہیں تو اس سے اتفاق کریں یا اختلاف کریں، لیکن اس دین کی وجہ سے اس کے ماننے والوں کو اجنبی سمجھنے کا کوئی جواز نہیں۔ وہ آپ کے اپنے ہیں اور آپ کی بھلائی ہی کے لیے اس دین کی طرف بلارہے ہیں۔

ہم اپنے اس مقام اور حیثیت کو سمجھیں تو معاملہ چاہے دعوت دین کی بنیادی ذمے داری کا ہو یا اسلاموفوبیا کے خاتمے کا، دو اہم کام انجام دینا ضروری ہیں۔ ایک ملک کی آبادی سے جڑنا اور اجنبیت  (Otherness)کے احساس کو ختم کرکے خیر خواہی کا اعتماد پیدا کرنا اور دوسرا ملک کے سامنے اسلام کا صحیح تعارف کرانا اور اسلام کے سلسلے میں غلط فہمی، شک، خوف اور نفرت کو ختم کرنا۔

ان سب حوالوں سے رائے عامہ کو مثبت طریقے سے متاثر کرنا ہی اسلاموفوبیا کا علاج ہے۔ رائے عامہ کی تبدیلی، اہل اسلام کا اہم ترین اقدامی ایجنڈا (Proactive Agenda)بھی ہے اور دفاعی ایجنڈا (Defensive Agenda)بھی۔اقدامی اس لیے کہ مسلمان کی اصل حیثیت داعی الی اللہ کی ہے اوررائے عامہ کی اسلام کےحق میں تبدیلی داعی الی اللہ کا ایک اہم ہدف ہوتا ہے۔ دفاعی اس لیے کہ اس وقت اسلام دشمن طاقتوں کا بنیادی ایجنڈا اسلام کو بدنام کرنا اور اس کے تعلق سے غلط فہمیاں اور توحش پیدا کرنا ہے۔

ملک کی رائے عامہ پر اپنے نقطہ نظر سے اثر ڈالنے کے لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہمارا گہرا تعلق ملک کے عام سماج سے ہو۔ اسلاموفوبیا کی تحریک کا سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ آپ کو اجنبی بنادیا جائے۔ آپ اجنبی بن جائیں گے تو آپ کی سوچ کا کوئی اثر باقی ملک پر نہیں پڑے گا۔ بار بار یاد دلانے کی بات یہ ہے کہ ملک کے معاشرے سے ہمارا وہی تعلق ہونا چاہیے جو انبیا علیہم السلام کا اپنی قوموں سے تھا. قرآن نے پیغمبروں کے سلسلے میں‘‘قوم کے بھائی ’’ یا ’’ان کی برادری کا فرد‘‘کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ یاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَیرُهُ [الأعراف:  65] (اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑکو بھیجا اس نے کہا “اے برادران قو م، اللہ کی بندگی کرو، اْس کے سوا تمھارا کوئی خدا نہیں ہے۔ قرآن نے انبیا علیم السلام کے بارے میں متعدد جگہ یہ بات کہی ہے کہ وہ اپنی قوم کے خیرخواہ تھے۔اور ان کی خیر خواہی پر ان کی قوم کو اعتماد تھا۔ جیسے:  أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّی وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِینٌ [الأعراف:  68] (تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمھارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسا کیا جاسکتا ہے)۔قولی دعوت کے آغاز سے پہلے مدعو قوم کے درمیان نبی کریم ﷺ کی یہ امیج بن چکی تھی کہ آپ اپنی قوم کے مسائل سے گہری دل چسپی رکھتے ہیں، اُس کے خیر خواہ ہیں اور اُس کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

ہم بحیثیت ملت، اس ملک کی اکثریت سے کمیو نکیشن کی ضرورت کو سمجھیں اور اس کی صلاحیت پیدا کریں۔ ہمیں ان کے ذہن کو بھی سمجھنا ہے اور اپنا ذہن ان کو بھی سمجھانا ہے۔ اب بڑے پیمانہ پر برادران وطن سے ربط و تعلق، ان سے بامعنی ڈائیلاگ اوران کے ساتھ اشتراک ضروری ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان ان کے مسائل میں بھی دل چسپی لیں اور مشترک مقاصد کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔یہ کام ہر سطح پر ہونا ہے۔ دانش وروں اور مصنفین کی سطح پر، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی سطح پر، مذہبی قائدین کی سطح پر، عام محلوں، کالونیوں اور دیہاتوں میں عوام کی سطح پر، خواتین کے درمیان، خاندانوں کے درمیان، نوجوانوں کے درمیان، وغیرہ۔

مہماتی انداز میں ہم سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے کہ ہر سطح پر ایسے مستحکم تعلقات قائم ہوں کہ اسلام کیا ہے، یہ لوگوں کو میڈیا کے ذریعے معلوم نہ ہو بلکہ ہمارے ذریعہ معلوم ہو۔ ہمارے قول اور عمل سے اسلام سمجھ میں آئے۔ اسلامو فوبیا کا ایک بڑا سبب، ’میڈیا پرمنحصر اسلام کاعوامی شعور‘(Media Dependent Public Understanding of Islam) ہے۔ اسے بدلنے کا طریقہ یہی ہے کہ انسانی رابطہ بہت زیادہ بڑھ جائے۔ راست رابطے سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ ہر ایک کے لیے زیادہ یقینی ہوتی ہے۔ میڈیا یا تھرڈ پارٹی انفارمیشن وہاں کارگر ہوتی ہے جہاں راست رابطہ نہیں ہوتا۔ اس لیے راست رابطہ بڑھایا جائے۔ کمیونکیشن میں ان امور کو خاص طور پر پیش نظر رکھنا ضروری ہے جو اسلامو فوبیا کی بنیاد بن رہے ہیں۔ تاریخ کے سلسلے میں تاریخی حقائق واضح ہوں۔ جہاد، خواتین وغیرہ کے سلسلے میں اسلامی احکام کی معقولیت واضح ہو۔اس کے لیے علمی کام بھی ہو، میڈیا مباحث بھی ہوں، سوشل میڈیا پر بھی کوششیں ہوں اور فلم، کارٹون، کامیڈی جیسے عوامی میڈیا کا بھی استعمال ہو۔ یہ سب کام ہم کو کرنے ہوں گے۔ پھر اپنے ذاتی کردار، اپنے خاندانوں اور اپنے اداروں سے اسلام کی عملی شہادت اور اسلام کے عملی نمونوں کو بھی سامنے لانا ہوگا۔ ملک میں اس وقت جگہ جگہ جماعت کے مختلف ادارے بلاسودی مائکرو فینانس کے فروغ کی کوششیں کررہے ہیں۔ اس سے اسلامی معاشیات و مالیات کی برکتیں نمایاں ہورہی ہیں۔ ایسی کوششیں مختلف میدانوں میں کرنی ہوں گی۔تاکہ لوگوں کو سمجھ میں آئے کہ اسلام کی تعلیمات سارے انسانوں کے فائدے کے لیے ہیں۔

ان سب کاموں کو انجام دینے کے لیے ہمیں خود کو کئی پہلوؤں سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ اپنی حیثیت و مقام کا ہم شعور حاصل کریں۔ ہم خود دین پر عمل کرنے والے اور دین کا اچھا نمونہ بنیں۔ سیاسی لحاظ سے مضبوط ہوں اور تعلیم و معیشت میں ترقی کریں۔ ملک اور سماج کو دینے والے (Contributor) بنیں۔ جذباتیت کا شکار ہوئے بغیر اپنی ترجیحات بھی متعین کریں اور ان پر صبر کے ساتھ لمبی جدوجہد کے لیے تیار ہوں۔ انھی سب باتوں سےہمارے اندر وہ طاقت پیدا ہوگی جو اس وسیع الاطرف مسئلے کے مقابلے کے لیے ضروری ہے۔

اس بحث سے درج ذیل اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

اسلاموفوبیا، زینوفوبیا کی قسم ہے۔زینو فوبیا اجنبیوں سے خوف کا نام ہے۔ زینو فوبیا، نسل پرستی اورفرقہ پرستی تین الگ الگ چیزیں ہیں۔

ہندوستان میں روایتی طور پر فرقہ پرستی رہی ہے۔اسلاموفوبیا یازینوفوبیا نہیں رہا۔ یہ اصلاً یوروپی رد عمل ہے جسے ہندوستان میں در آمد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چوں کہ ہندوستان میں مسلمان اجنبی نہیں ہیں اس لیے اسلاموفوبیا پیدا کرنے کے لیے ان کو مصنوعی طور پراجنبی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اجنبی بنانے کے لیے مکانی حاشیہ سازی(spatial marginalisation)، ادارہ جاتی دوری اور ذہنی دوری، تینوں طرح کی دوریا ں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ صورت حال اسی طرح جاری رہی تو اگلی نسلوں کے غیر مسلموں کے لیے مسلمان ویسے ہی اجنبی بن جائیں گے جیسے یوروپی ممالک میں مہاجرین ہیں۔

ملک میں مسلمانوں سے ذہنی دوری پیدا کرنے کے لیے طرح طرح کے غلط بیانیے عام کیے جارہے ہیں۔

مسلمانوں کے رد عمل میں سب سے بڑی کم زوری یہ ہے کہ اس مسئلے کی جڑ اور مسلمانوں کی حیثیت کو صحیح سے سمجھ کر جوابی حکمت عملی کا تعین نہیں کیا جارہا ہے۔مسلمان محض نسل نہیں ہیں اس لیے شناخت کی سیاست اس مسئلے کاحل نہیں ہوسکتی، یہ مسئلہ محض سیاسی نہیں ہے اس لیے صرف سیاسی قوت اس کو حل نہیں کرسکتی اور یہ صرف چند وقتی غلط فہمیوں کانتیجہ نہیں ہے اس لیے صرف میل ملاپ اور خیر سگالی کے ذریعے اسے حل کرلینا خام خیالی ہے۔

مسئلے کا حل دو کاموں پر مشتمل ہے۔ ایک اجنبیت اور دوری کو ختم کرنا اور دوسرا اسلام کے اصولوں اور مسلمانوں کے وجود کے سلسلے میں پیدا کردہ توحش کو دور کرنا اور اس اضطراب کو ختم کرنا جو ’ناقصیت کے اضطراب ‘(anxiety of incompleteness)کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے۔

اسلاموفوبیا کے مسئلے کی طرف قرآن مجید واضح اشارہ بھی کرتا ہے اور اس کا حل بھی بتاتا ہے۔ ارشاد ہوا ہے۔

لَتُبْلَوُنَّ فِی أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِینَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِیرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ[آل عمران:  186] (مسلمانو! تمھیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔) اس آیت سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کے مخالفین کی جانب سے تکلیف دہ بیانیوں کی تکرار، کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے بلکہ اہل ایمان کی آزمائش کا حصہ ہے اور دوسری اہم بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان حالات میں اللہ کی ہدایت اور اس مسئلے کا قرآنی حل یہ ہے کہ ہم تقویٰ اور صبر کی روش اختیار کریں۔ صبر کا مطلب بزدلی یا فرار نہیں ہے بلکہ جذبات پر عقل اور دین کا کنٹرول ہو، یہ صبر ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی کا ہرعمل عقل و شعور اور قرآن سے ماخوذ فہم و حکمت سے طے پائے، اسے اپنے آپ پر پورا کنٹرول حاصل ہو اور اس کا کوئی قدم بھی شعوری فیصلے کے بغیر نہ اٹھے۔ تقویٰ یہ ہے کہ انسان کا ہر عمل خدا کے دین کی تعلیمات اور اپنے مقام و منصب کے شعور کے ساتھ ہو۔ اسی میں کام یابی کا راز پوشیدہ ہے۔

اسلاموفوبیا کا حل تلاش کرتے ہوئے یہی دو اصول اصلاً ہمارے پیش نظر ہونے  چاہئیں۔

جون 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau