اسلامی نظام اجتماعی کی علمی اساس

(2)

مفتی کلیم رحمانی

(منقول معارف القرآن جلد چہارم صفحہ نمبر۴۹۰۔۴۹۱)

اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے فرض عین علم کا عنوان قائم کرکے تحریر فرمایا۔

ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے کہ اسلام کے عقائد صحیحہ کا علم حاصل کرے اور طہارت نجاست کے احکام سیکھے، نماز روزہ اور تمام عبادات جو شریعت نے فرض وواجب قرار دی ہیں ان کا علم حاصل کرے، جن چیزوں کوحرام یا مکروہ قرار دیا ہے ان کاعلم حاصل کرے ، جس شخص کے پاس بقدر نصاب مال ہو اس پرفرض ہے کہ زکوٰۃ کے مسائل و احکام معلوم کرے ، جس کوحج پر قدرت ہے اس کیلئے فرضِ عین ہے کہ حج کے احکام و مسائل معلوم کرے جس کو بیع وشراء کرنا پڑے یا تجارت و صنعت یا مزدوری و اجرت کے کام کرنے پڑیں اس پرفرض عین ہے کہ بیع واجارہ وغیرہ کے مسائل واحکام سیکھے، جب نکاح کرے تونکاح کے احکام و مسائل اور طلاق کے احکام و مسائل کا علم حاصل کرنا بھی ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے ۔ ( معارف القرآن جلد چہارم ص ۴۸۹)مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اورمفتی محمد شفیع صاحبؒ کے تفسیری کلمات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دین کی تعلیم کا اصل مقصد قرآن وحدیث کی مکمل تعلیمات میں سمجھ بوجھ اور فہم و بصیرت پیدا کرنا ہے ، چاہے وہ اساتذہ کے ذریعہ ہو یاکتابوں کے ذریعہ ، ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اصل فقہ کا علم قرآن وحدیث کی بنیادی اورواضح تعلیمات میں فہم و بصیرت پیدا کرنے کا نام ہے ، نہ کہ نماز، روزے، زکوٰۃاورحج کے جزوی مسائل کو جاننے کانام، جیسا کہ موجودہ دور میں عبادات کے چند جزوی اوراختلافی مسائل کوجاننے کانام فقہ رکھ دیا گیا ہے تویہ علم فقہ کے سلسلہ میں بہت بڑی غلط فہمی ہے جس میں آج بہت سے علماء  مبتلاء ہیں۔ لہٰذا دین کی تعلیم  وتبلیغ کے سلسلہ میں اصل اہمیت قرآن وحدیث کی واضح اوربنیادی تعلیمات کو دی جائے نہ کہ جزوی اجتہادی واختلافی مسائل کو، لیکن افسوس ہے کہ آج دین کی تعلیم و تبلیغ میں زیادہ اہمیت جزوی اوراجتہادی واختلافی مسائل کو دیدی گئی ہے ، جس کی وجہ سے دین کی بنیادی اورواضح تعلیمات نظرو ں سے اوجھل ہوگئی ہیں، اور علماء وعوام نے جزوی اوراجتہادی واختلافی مسائل ہی کو کل دین سمجھ لیا ، اور یوں اپنوں اور غیروں کی نظر میں دینِ اسلام چند جزوی اوراختلافی مسائل کا گہوارہ بن کر رہ گیا ۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنا نصابِ تعلیم اورنظامِ تعلیم سورہ توبہ کی آیت نمبر۱۲۲میں بیان کئے ہوئے مقصدِ تعلیم ،  لِيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ یعنی دین میں سمجھ بوجھ کو بنائیں، ساتھ ہی اِسی آیت کے دوسرے جزو ،    وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ یعنی واپس جانے کے بعد وہ اپنی قوم کوڈرائیں ، کوبھی اپنے نصاب تعلیم میں رکھ دیں، کیونکہ دیکھا یہ جارہا ہے کہ دینی مدارس کے فارغین کی ایک بڑی تعداد اپنی قوم کواللہ سے ڈرانے کی بجائے خود ہی اپنی قوم سے ڈرنے میں لگی ہوئی ہے ، یہاں تک کہ مساجد کی امامت کے مقام پر فائز ہوتے ہوئے بھی قوم کواللہ سے ڈرا نے کی بجائے قوم ہی سے ڈرنے میں لگی ہوئی ہے ،لیکن حقیقت کے برعکس یہ طرزِ عمل معاشرہ میں یوں ہی پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کے دو بنیادی سبب ہیں، اول یہ کہ مدارس کے فارغین نے اپنے اندر ََتفَقُّہْ فِیْ الدِّیْنِ یعنی دین میں سمجھ بوجھ کی صلاحیت پیدا نہیں کی ، جومدارس کے قیام اورمدارس میں داخلہ کا بنیادی مقصد ہے ، اور دوسرا یہ کہ اپنے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرنے کی بجائے قوم کا ڈر پیدا کرلیا، ظاہر ہے جو خود اللہ سے نہ ڈرے وہ اپنی قوم کواللہ سے کیا ڈراسکتا ہے ، اور قوم کیوں کر اس کا سن کر اللہ سے ڈرےگی بلکہ اُلٹی قوم اس کو اپنے سے ہی ڈرائےگی  اور آج معاشرہ میں یہی دیکھنے کومل رہا ہے ، اس لئے مدارس کے فارغین اگر چاہتے ہیں کہ قوم ان کے مقام کوپہچانے توپہلے فارغین خوداپنا مقام پہچانیں، کیونکہ جواپنے مقام کو نہ پہچانے تودوسرے کیوں کر اس کے مقام کوپہچانیں گے ، اورمدارس کے فارغین کا مقام شرعی لحاظ سے متعین ہے وہ یہ کہ وہ قوم کے روحانی وایمانی معالج اور ڈاکٹرہیں،  جس طرح جسمانی ڈاکٹر اورمعالج کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ جسمانی مریض کا علاج کرے ،اسی طرح علماء اورمدارس کے فارغین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے ایمانی واخلاقی مرض کا علاج کرے، اورجس طرح اللہ تعالیٰ نے جسمانی بیماریوں کی دوا پیدا کی ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن وسنت کی صورت میں  عقائدی اوراخلاقی بیماریوں کا علاج بھی بتلایا ہے ۔

مدارس کے فارغین اگراپنی اس حیثیت کوسمجھیں تو قوم کے مرض کے علاج سے پہلے ان پر ایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ دینی مدارس سے فراغت کے باوجود ََتفَقُّہْ فِیْ الدِّیْنِ    یعنی دین میں سمجھ بوجھ کی جو کمی رہ گئی اس کمی کو قرآن وحدیث کے تحقیقی و تفصیلی مطالعہ سے دور کریں، چاہے قرآن وحدیث کو سمجھانے والی کتابوں کے ذریعہ یا قرآن وحدیث کے محققین ومعلمین کی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ ، اورمعلمین اور محققین کے درمیان قرآن وحدیث کی جن باتوں میں اختلاف  پایا جاتا ہے ، اس اختلاف کوقرآن مجید کے سورۂ نساء کی آیت ۵۹میں بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق حل کیا جائے جس میں فرمایا گیا ،  فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا   ۝۵۹ۧ (سورہ نساء آیت نمبر۵۹)

ترجمہ:’’پس اگرکسی چیز میں تمہارے درمیان تنازعہ ہوجائے تواُسے اللہ اوررسول ؐ یعنی قرآن وحدیث کی طرف پھیردو، اگرتم اللہ اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تویہی طریقہ تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے بہتر ہے ۔‘‘ مذکورہ آیت میں اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی تنازعہ کے حل کے سلسلہ میں صرف اورصرف قرآن و حدیث ہی کوقولِ فیصل قرار دیا گیا ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت تک کسی بھی تنازعہ میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کے علاوہ کسی بھی شخص کا قَوْل، قَوْلِ فَیْصلْ نہیں ہوسکتا ، اور جب تک امتِّ مسلمہ میں یہ فکر تھی تب تک امتِّ مسلمہ تمام معاملات میں متحد تھی،جب سے امتِّ مسلمہ میں تنازعات میں اللہ اور اس کے رسولؐ کے فرامین کوقَوْل کو قَولِ فَیصل ماننے کے بجائے دوسرے انسانوں کے قول کو بھی   قَوْلِ فَیْصل کا درجہ دے دیا گیا تب سےاُمّت میں اختلاف وانتشار پیدا ہوا ۔ تنازعات میں اللہ اوراس کے رسولؐ کے فرامین کو  قَوْلِ فَیْصَلْ ماننے کے بعد صرف تعبیر اورتطبیق کے اختلاف کی گنجائش رہ جاتی ہے لیکن اس کواجتہادی اختلاف کہتے ہیں ، اور اجتہادی اختلاف میں کسی بھی جانب شر نہیں ہوتا بلکہ دونوں ہی جانب خیر ہوتا ہے ، اوراس سے اُمّت کے اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، کیونکہ اوّل یہ کہ دین کی بنیادی اوراہم باتوں میں اجتہادی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اوردوم یہ کہ اجتہادی اختلاف اخلاص پر مبنی ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ بڑے بڑے صحابہ کرام میں بھی بعض امور میں اجتہادی اختلاف تھا،لیکن اس کے باوجود وہ دین کے غلبہ کےلئے شیشہ پلائی ہوئی دیوار تھے اورباطل کےلئے ان میں انگلی دھنسانے کی جگہ نہیں تھی ۔

دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے بعد مدارس کے فارغین پرامّت کی اصلاح سے متعلق جواوّلین ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ اُمّت کے عمومی مرض کو جانیں، کیونکہ مرض کوجانے بغیر اس کا علاج نا ممکن ہے ، جس طرح جسمانی ڈاکٹربھی اگر مریض کے مرض کو نہ جانے تووہ مرض کا علاج نہیں کرسکتا، اسی طرح اگرروحانی وایمانی معالج جس کو دینی اصطلاح میں معلمّ  اورمربی کہتے ہیں وہ دینی وایمانی مریض کا علاج نہیں کرسکتا۔اس لحاظ سے امّت کے دینی مرض کواگر دیکھا جائے تومعلوم ہوگا کہ ابھی امّت نے دینِ اسلام کوصرف عبادات کے طور پر قبول کیا ہوا ہے ، جس میں دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں،ماہِ رمضان کے روزے بھی ہیں، صاحبِ نصاب مسلمان پرسال میں ایک مرتبہ زکوٰۃ ہے ، اسی طرح حج کی استطاعت ہونےپر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا ضروری ہے ۔

جبکہ دینِ اسلام مکمل طریقۂ زندگی کا نام ہے ، اور دینِ اسلام کومکمل طریقۂ زندگی کی حیثیت سے ہی قبول کرنا ضـروری ہے ، اگر کوئی شخص دینِ اسلام کو صرف عبادات ہی کی حیثیت سے قبول کرے تواس کا قبول کرنا ہی صحیح نہیں ہے ، جب تک وہ دینِ اسلام کومکمل طریقۂ زندگی کی حیثیت سے قبول نہ کرے تب تک اس کا دینِ اسلام میں داخلہ ہی معتبر نہیں ہوتا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تمام ایمان کو خطاب کرکے فرمایا :یٰاَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِیْ السِّلْمِ کآفَّۃً۔ ترجمہ ’’ اے لوگوجوایمان لائے ہو اسلام میں پورے طورپر داخل ہوجاؤ‘‘ مطلب یہ کہ دینِ اسلام کومکمل نظامِ زندگی کے طور پر قبول کرواورزندگی کے ہر شعبہ میں اسلام ہی کا حکم مانو۔

یہ بات کہ فی الحال مسلمانوں نے دینِ اسلام کو صرف عبادات کی حیثیت سے قبول کیا نہ کہ مکمل نظامِ زندگی کی حیثیت سے ۔ یہ مسلمانوں کی مجموعی صورتِ حال کا اظہار ہے ۔ورنہ جہاں تک خاص مسلمانوں کی صورتِ حال کی بات ہے توالحمداللہ آج بھی بے شمار مسلمان ایسے ہیں جونہ صرف یہ کہ اسلام کومکمل نظامِ زندگی کی حیثیت سے قبول کئے ہوئے ہیں بلکہ دوسروں کوبھی اس کی دعوت دینے میں لگے ہوئے ہیں اورجب بھی انہیں معاملاتِ زندگی سے متعلق کوئی کام کرنا ہوتا ہے ، چاہے وہ نکاح ہو، طلاق ہو، وراثت کی تقسیم ہو، زراعت ہو، تجارت ہو، سیاست ہو، وہ سب سے پہلے اس سلسلہ میں قرآن وحدیث کی رہنمائی روک دیتی ہے اُس سے رُک جاتے ہیں ، لیکن موجودہ مسلمانوں میں ان کی تعداد آٹےمیں نمک کے برابر ہے ۔

جب کہ موجودہ مسلمانوں کے حوالہ سے مسلمانوں کا سب سے بڑا دینی نقص اور دینی مرض دینِ اسلام کا صرف عبادات کے طور پر قبول کرنا ہے نہ کہ مکمل طریقۂ زندگی کی حیثیت سے توعلماء، ائمہ اور دینی جماعتوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں میں دین کے حوالہ سے اسلام کومکمل نظامِ زندگی کی حیثیت سے قبول کرنے کی تحریک چلائے، یہ تحریک مسلم معاشرہ میں جتنے زور وشور سے چلے گی مسلم معاشرہ سے باطلِ تحریکات اورباطلِ خیالات کا اثر اتنے ہی تیزی سے چھٹے گا ، کیونکہ عام مسلمانوں کا دینِ اسلام کے متعلق  یہ خیال ہے کہ جب ہم نے دینِ اسلام کونماز، روزہ ، زکوٰۃ اورحج کی حیثیت سے قبول کرلیا توکسی بھی باطل تحریک کا ساتھ دینے سے ہمارے دین پر کوئی اثر نہیں پڑتا جبکہ مسلمان دنیا کے باطل نظریات اورباطل پارٹیوں کے طریقۂ کار سے ہی اگرسبق حاصل کرتے تو کبھی دینِ اسلام کے متعلق ایسا خیال نہیں رکھتے ۔ مثلاً ہرمسلمان سمجھتا ہے کہ جوکمیونزم کا حامی ہے وہ جمہوریت کا حامی نہیں ہوسکتا یا اُسے نہیں ہونا چاہیے ، اسی طرح جوکمیونسٹ پارٹی کا ممبر ہے وہ غیر کمیونسٹ پارٹی کا ممبر نہیں ہوسکتا یا اُسے نہیں ہونا چاہیے ، لیکن افسوس ہے کہ یہی مسلمان دینِ اسلام کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ ایک مسلمان اسلامی نظریہ کا حامی ہوتے ہوئےباطل نظریہ کا حامی بھی ہوسکتا ہے یا اُسے ہونا چاہئے اسی طرح ایک مسلمان اسلام کا ممبر ہوتے ہوئے غیراسلامی پارٹی کا ممبر بھی ہوسکتا ہے یا اُسے ہونا چاہئے ،واضح رہے کہ جوشخص بھی مسلمان ہے وہ موت تک دینِ اسلام کی ممبر شپ میں داخل ہوگیا اب اس کے لئے موت تک جائز نہیں ہے کہ کسی غیر اسلامی پارٹی کی ممبر شپ تھوڑے وقت کے لئے بھی قبول کرے یا اس کی حمایت کرے ۔

لیکن افسوس ہے کہ آج بہت سے مسلمان اس مرض میں مبتلا ہیں اس کے پیچھے بھی در اصل مسلمانوں کی یہی سوچ ہے کہ دینِ اسلام چونکہ صرف عبادت کا دین ہے اور کوئی بھی باطل پارٹی نماز، روزہ، زکوٰۃ ، حج سے نہیں روکتی اس لئے ان کی رکنیت قبول کرنے اور ان کی حمایت کرنے سے دین پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جبکہ اس دنیا میں اسلام کی رکنیت سے مضبوط کسی بھی  نظریہ اورکسی بھی پارٹی کی رکنیت نہیںہے ، لیکن مسلمانوں نے دین کے ناقص تصوّر کواختیار کرکے اسلام کی رکنیت کو بہت کمزور اور ڈھیلی چیز سمجھ لیا ، یہاں تک کہ غیر اسلامی پارٹیوں کی رکنیت کی جواہمیت ہے مسلمانوںنے اسلام کی رکنیت کواتنی بھی اہمیت نہیں دی ، چنانچہ کانگریس پارٹی کا رکن ہوتے ہوئے کوئی بھارتیہ جنتا پارٹی کا رکن نہیں ہوسکتا اسی طرح کوئی سماج وادی پارٹی کا رکن ہوتے ہوئے بہوجن سماجوادی پارٹی کا رکن نہیں ہوسکتا ، رکن ہونا تو درکنار کوئی رکن اپنی پارٹی کے علاوہ دوسری پارٹی کی حمایت کرتا ہے توپارٹی اس کواپنی پارٹی سے نکال دیتی ہے ، جبکہ ہندوستان کی تمام سیاسی پارٹیاں ایک ہی نظام یعنی جمہوری نظام کی حامی پارٹیاں ہیں لیکن پھر بھی کوئی پارٹی یہ گوارہ نہیں کرتی کہ اس کا کوئی ممبر دوسری پارٹی کا ممبر بنے یا دوسری پارٹی کی حمایت کرے۔

لیکن افسوس ہے کہ یہی پارٹیاں مسلمانوں سے تقاضہ کرتی ہیں کہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی وہ تمام غیر اسلامی پارٹیوں کے ممبر بنیںیا ان کی حمایت کریں، اس لئے ان پارٹیوں کے نزدیک وہ مسلمان جوغیر اسلامی پارٹیوں کے ممبر نہیںبنتے اورنہ ان کی حمایت کرتے ہیں تنگ نظر ، بنیاد پرست اور بُرے مسلمان شمار ہوتے ہیں اور جومسلمان غیر اسلامی پارٹیوںکے ممبر بنتے ہیں یا ان کی حمایت کرتے ہیں وہ بڑے روشن خیال اوراچھے مسلمان شمار ہوتے ہیں۔

توسوال یہ ہے کہ جب تمام غیر اسلامی نظریات کی حامل پارٹیوں کے نزدیک ایک شخص کا بیک وقت ایک سے زائد کسی پارٹی کی رکنیت اور حمایت صحیح نہیں ہے بلکہ غلط ہے تواسلام او  ر مسلمانوں کے متعلق انہوںنے یہ کیسے سمجھ لیا کہ وہ مسلمان صحیح ہے جواسلام کی رکنیت بھی رکھتا ہے اور اس کی حمایت بھی کرتا ہے ، جبکہ ان پارٹیوں کے سربراہان کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ حقیقت کا اعتراف کرتے اور اس کا اظہار بھی کرتے کہ وہی مسلمان سچے ہیں جواسلام کے علاوہ کسی بھی نظریہ کی حمایت نہیں کرتے اورنہ ہی کسی غیر اسلامی پارٹی کی رکنیت قبول کرتے ہیں اور وہ سب کے سب مسلمان جھوٹے ، نقلی اورمفاد پرست ہیں جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی کسی غیر اسلامی نظریہ کی حمایت کرتے ہیں  یا کسی غیر اسلامی پارٹی کے رکن بنتے ہیں ، لیکن اس وقت مسلمان غیر اسلامی پارٹیوں کے سربراہان سے یہ توقع اس لئے نہیں رکھ سکتے کیونکہ ابھی خود مجموعی لحاظ سے مسلمانوںنے دینِ اسلام کونظامِ زندگی کی حیثیت سے قبول نہیں کیا اورنہ ہی ان کے سامنے اسلام کومکمل نظامِ زندگی کی حیثیت سے پیش کیا ، بلکہ صرف نظامِ عبادات کے طور پر قبول کیا اورپیش کیا توانہیں وہ مسلمان بہتر اورفراخ دل معلوم ہوتے ہیں جو غیر اسلامی نظریات کی حمایت بھی کرتے ہیں اور وہ مسلمان تنگ نظر معلوم ہوتے ہیں جو غیر اسلامی نظریات کی حمایت نہیں کرتے، گویا کہ غیر مسلموں کی اس غلط فہمی میں بھی ، دینِ اسلام کے متعلق مسلمانوں کے ناقص داخلہ اورناقص سوچ کا ہی دخل ہے ۔ ورنہ مسلمان اگر دینِ اسلام سے اپنے تعلق کو کم از کم دنیا کی پارٹیوں ہی کی طرح برقرار رکھتے تودنیا کی غیر اسلامی پارٹیاں ہرگز مسلمانوں سے رکنیت اورحمایت کی امّید نہیں لگاتیں ، جس طرح وہ اپنی مخالف پارٹیوں سے رکنیت اورحمایت کی امید نہیں رکھتیں۔

بعض نادان لوگوں کو آنحضورؐ کے دورِ مکّی کے طرزِ عمل اورجدّ وجہد سے یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ اسلام کے پاس اسلامی سیاست کی کوئی اہمیت اورضرورت نہیں ہے اوراس کے ثبوت میں وہ آنحضـورؐ کے دورِ مکّی کوپیش کرتے ہیں جس میں آپؐ کے ہاتھ میں سیاسی اقتدار تونہیں تھا اورنہ ہی مکہ میں آنحضورؐ کوہجرت سے پہلےسیاسی غلبہ نصیب ہوا تھا ، لیکن یہ نادان ذرا بھی غور کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ کسی نظریہ کا سیاسی ہونا اورچیز ہےاوراس سیاسی نظریہ کوغلبہ و اقتدار ملنا دوسری چیز ہے ، اور اگر کسی سیاسی نظریہ کواقتدارو غلبہ نہیں ملا تواس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سیاسی نظریہ نہیں ہے ، چنانچہ دنیا میں ایسے بے شمار سیاسی نظریات اورسیاسی پارٹیاں ہیں جنہیں سیاسی اقتدار و غلبہ نہیں ملا، خود ہندوستان میں کئی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جنہیں آج تک کسی جگہ اقتدار نہیں ملا،  تو کیا وہ پارٹیاں اقتدار نہیں ملنے کے سبب کیا غیر سیاسی پارٹیاں شمار ہوںگی، گویا سیاست و اقتدار دونوں لازم وملزوم نہیں ہیں ۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی ہولیکن اسے اقتدار وغلبہ نہ ملے ، یہی حال آنحضورؐ کے دورِ مکّی کا ہے کہ آپؐ نے دورِ مکّی میں بھی دینِ اسلام کوسیاسی نظام کے طور پر پیش کیا ، لیکن اس سیاسی نظام کو دورِ مکّی میں اقتدار و غلبہ نہیں ملا ، بلکہ ہجرت کے فوراً بعد مدینہ میں ملا اور پھر آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد مکّہ بھی اسلام کے کلمہ کوسیاسی اقتدار و غلبہ مل گیا ۔

جولوگ آنحضورؐ کے تیرہ سالہ دورِ مکّی کودیکھ کر دینِ اسلام کے متعلق غیرسیاسی دین ہونے کا خیال قائم کرلیتے ہیں اُنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کی سب سے پہلی آیت  جوآنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں نازل ہوئی،  اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۝۱یعنی’’ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ‘‘ رَبْ کے معنی میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی حاکمیت وفرمانروائی شامل ہے ، دوسرے لفظوں میں اُسے اسلام کا نظریۂ سیاست بھی کہہ سکتے ہیں جس میں شروع سے اخیر تک صرف اللہ ہی کی بڑائی و بالا دستی ہے ، اور اس نظریۂ سیاست کا کامل نمونہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک ہے ۔ ویسے کسی بھی نظریاتی سیاسی تحریک کولازماً پہلے مغلوبیت ومظلومیت کے دور سے گزرنا پڑتا ہے ، چاہے وہ اسلامی تحریک ہو یا غیر اسلامی تحریک ۔ پھر جس تحریک کے پاس جتنا زیادہ ہمہ جہت اورانسانی زندگی کے تمام شعبوں کی رہنمائی کا نظریہ ہوگا ، اُس تحریک کو اتنا ہی زیادہ مغلوبیت اورمظلومیت سے گزرنا پڑے گا ، کیونکہ مضبوط اوروسیع نظریہ کوقبول کرنے والے لوگ کم ہی ہوتے ہیں ۔ چونکہ اس دنیا میں صرف اسلامی تحریک ہی کا نظریہ مضبوط اورہمہ گیر ہے ، اس لیے اس کو قبول کرنے والے اوراس کا ساتھ دینے والے لوگ ہر دورمیں کم ہی رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انسانی تاریخ کے زیادہ ترحصہ میں اسلامی تحریک کوسیاسی مغلوبیت و مظلومیت ہی سے گزرنا پڑا ہے اوردورِ حاضر میںبھی پور ی دنیا میں اسلامی تحریک سیاسی مغلوبیت اورمظلومیت ہی سے گزررہی ہے ۔

سیاسی مغلوبیت ومظلومیت کے دور میں کسی بھی تحریک کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مخالف تحریکات کی موافقت نہ کرے اورنہ ان کی حمایت کرے اورنہ ان کے غلبہ اورظلم سے ڈرے، بلکہ عزم وحوصلہ کے ساتھ اپنے موقف پر جمی رہے اور صبر و استقامت کے ساتھ مخالف حالات کا مقابلہ کرتی رہے ، چنانچہ اسلامی تحریک کی کامیابی بھی یہی ہے کہ وہ مظلومیت ومغلوبیت کے دور میں اپنی مخالف تحریکات سے اپنی دوری بنائے رکھے اوران کی مسلسل مخالفت کرتی رہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تحریک نے کبھی بھی دورِ مغلوبیت و مظلومیت میں باطل تحریکات کی حمایت نہیں کی اورنہ ان کے ظلم وستم سے تنگ آکر اسلامی تحریک کے غلبہ کا کام چھوڑا بلکہ مسلسل باطل تحریکات کے خلاف جدّ وجہد جاری رکھی ، چاہے حضرت نوح علیہ السلام کا دور ہو، یا حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دور ہو ، یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دور ہو، یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کا دور ہو یا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ہو، یا اس کے بعد کا دور ہو، یہاں تک کہ بعد کے دور میں سیاسی غلبہ کے دوران یہ تو دیکھنے کوملتا ہے کہ اسلامی نظریہ کی طرف سے مسلمانوں نے بے توجہی کی ہے ، لیکن یہ دیکھنے کونہیں ملتا کہ مسلمانوں نے سیاسی مغلوبیت ومظلومیت کے دوران مجموعی لحاظ سے غیر اسلامی نظریہ سے سمجھوتہ کرلیا ہو اوراس کی حمایت کی ہو، لیکن بدقسمتی سے اس وقت عالمی سطح پر زیادہ تر مسلمانوں نے اسلامی نظریہ زندگی کوچھوڑ کر باطل نظریۂ زندگی کو قبول کرلیا صرف اس وجہ سے کہ باطل نظریۂ زندگی کوسیاسی غلبہ حاصل ہے ، اورسب سے زیادہ افسوسناک بات یہ کہ مسلمانوں میں جو دینی جماعتیں ، ادارے اور افراد ہیں انہوں نے بھی مجموعی لحاظ سے باطل نظریۂ زندگی کوقبول کرلیا ، واضح رہے کہ کسی بھی نظامِ زندگی میں اس کا سیاسی و تعلیمی نظام بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ، بلکہ یہ کہا جائے توبے جانہ ہوگا کہ کسی بھی نظامِ زندگی کی بنیاد دراصل اس کا سیاسی و تعلیمی نظام ہی ہوتا ہے چاہے وہ اسلامی نظامِ زندگی ہویا غیر اسلامی نظام زندگی۔

چنانچہ باطل نے جوسیاسی وتعلیمی نظام وضع کیا اس میں انسان ہی کوسب سے بڑا رکھا گیا ہےالبتہ اس کے نام الگ الگ ہیں، مثلاً بادشاہت ، قومیت ، کمیونزم، سوشلزم ، سیکولراز، جمہوریت، وطنیت لیکن ان تمام نظاموں میں انسانوں ہی کی بڑائی و حاکمیت مسلّم رہی ہے ، انسان کی بڑائی کا مطلب در اصل شیطان کی بڑائی ہے ، کیونکہ شیطان ہی اس کوبڑا بننے کیلئے کہتا ہے ، ورنہ انسان اگرخود کی بات مانے تواس کا ضمیر خودہی اس کو اپنی بڑائی چھوڑ کر خدا کی بڑائی کوقبول کرنے کی دعوت دے گا۔آج کے د ور کے باطل نظام کا مشہور و معروف نام جمہوریت ہے ، لیکن ابلیسِ لعین یعنی شیطان نے اس کو کچھ اسطرح خوبصورت دُلہن کی طرح بناؤ سنگار کرکے پیش کیا کہ بڑے بڑے عالم وزاہد اورتارکِ الدنیا لوگ اس کے دامِ فریب میں آگئے، آج سے ایک سو سال پہلے  مفکّر اِسلام علّامہ اقبالؒ نے امّت کو جمہوریت کے فتنہ اورقباحت سے آگاہ کیا تھا اس کوبھی نظر انداز کردیا ۔ چنانچہ علّامہ اقبالؒ نے جمہوریت کی حقیقت وقباحت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا :

جمہوریت  اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کوگنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

جلالِ پادشاہی ہوکہ جمہوری تماشہ ہو

جدا ہو دیں، سیاست سے تورہ جاتی ہے چنگیزی

(جاری)

اکتوبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau