راہ سر بسر منزل

(۱۱)

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

مجھے ہمیشہ گومگو کی کیفیت اور عدم فیصلہ سے نفرت رہی ہے۔ دوسروں کے بارے میں مجھے فرق نہیں پڑتا، لیکن میں اسے اپنے لیے برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود کئی ہفتوں تک—جو برسوں پر محیط محسوس ہوئے—میں نے قرآن کے اپنے تجربے کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں نے کتاب الہٰی کے ساتھ اپنے اس تجربے پر غور نہ کیا ہو، بلکہ درحقیقت یہ اس دوران ہر وقت میرے ذہن و دل پر چھایا رہا۔ میرے پاس کوئی راہ فرار نہ تھی، کوئی عملی متبادل نہیں تھا۔ مجھے کیا کرنا چاہیےاور کہاں جانا چاہیے؟ مانا کہ قرآن نے میری رہ نمائی کی تھی— میرے ملحد ہونے کے باوجود—جو کم از کم میرے نزدیک معقول مذہبی فلسفے پر مبنی تھی۔ مجھے یہ بھی تسلیم تھا کہ وحی الہٰی نے مجھے اس طرح متاثر کیا جس کی میں کبھی توقع بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے میرے اندر ایک ایسی روحانیت بیدار کردی تھی جس سے میں ہمیشہ انکاری رہا تھا۔ یہ بھی سچ ہے کہ میرے لیے یہ ناقابل فہم تھا کہ کسی قدیم دنیا کی پرانی، پس ماندہ بنجر زمینوں سے ایسی قوت، جمال اور ذہانت کا حامل صحیفہ نمودار ہوسکتا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود مجھے اب بھی خدا کے وجود پر تأمل تھا اور یہ کہ اسی خدا نے قرآن کو نازل کیا ہے۔‏

اب کوئی شخص ایسا نظر نہیں آتا تھا جو میرا ہاتھ تھام کر مجھے اگلے مرحلے تک لے جاتا۔ قرآن کا مطالعہ اچانک ختم ہوا تھا۔ اگر یہ وضاحت کرتا کہ خدا کے وجود کے امکان سے یقین کی منزل تک کس طرح پہنچنا ہے تو شاید کچھ مدد مل جاتی۔ اب میں الجھا ہوا سا رہ گیا تھا۔ میرے پاس نہ تو وجود ِباری کے خلاف کوئی دلیل باقی تھی اور نہ اس کے حق میں مزید کوئی دعویٰ تھا۔ قرآن نے عقلی اپیلوں پر اپنی بات ختم کرنے کے بجائے جاتے جاتے آخری تین نصیحتیں کی تھیں:‏

‏ کہو، وہ اللہ ہے، یکتا۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ (سورة الاخلاص: ۱ -۴) ‏

‏ کہو، میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔ ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے۔ اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔ (سورة الفلق: ۱-۵) ‏

‏ کہو، میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب۔ انسانوں کے بادشاہ۔ انسانوں کے حقیقی معبود کی۔ اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے۔ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ (سورة الناس: ۱-۶) ‏

میں نے سوچا‏کیا یہ اتنا آسان ہے؟ بس یہ کہہ دینے سے کام ہوجائے گا؟ صرف مان لینے سے بات بن جائے گی؟ یہ دعا کرنی ہے؟پھر کیا ہوگا؟ کیا خدا میرا سینہ کھول دے گا اور میں سمجھ سکوں گا؟ کیا قرآن مجھ سے کہہ رہا ہے کہ دوسروں سے شر کا خوف مجھے اگلے مرحلے تک جانے سے روک رہا ہے؟ کیا یہ کہا جا رہا ہے کہ شر انگیز نفسانی وساوس مجھے حق کو اختیار کرنے سے باز رکھ سکتے ہیں؟‏

‏اگر خدا موجود ہے، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میں تنہا ہوں۔ میں کسی ایسے شخص کے بارے میں نہیں جانتا جو اِسی طرح کے داخلی تجربے سے گزرا ہو جس سے میں گزرا ہوں۔ میں نے جن مسلمان دوستوں سے رابطہ کیا تھا، ان کے قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر رد عمل کا طریقہ مجھے تقریباً پوری طرح ثقافتی طور پر متاثر لگتا تھا۔ گویا ان کے نزدیک ہر آیت پر کیا ردعمل ہونا چاہیے یہ بہت پہلے سے طے تھا اور اس پر اتفاق کرلیا گیا تھا، اور تب سے قرآن سے اسی طرح اخذ و استفادہ کیا جاتا ہے اور اسے اسی طرح یاد کیا جاتا ہے۔ مجھے وہ اپنی مذہبی کتاب پر ’’غیر رسمی‘‘،  ’’اجنبی‘‘اور فوری ردعمل سے مضطرب سے محسوس ہوئے۔ شاید انھیں اپنے بزرگوں کے قبول کردہ مفاہیم ہی قبول تھے۔ ہر چند کہ قرآن کہتا ہے: ‏

’’زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی ۔ بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے۔‘‘ (سورة لقمان: ۲۷)‏

‏ یقیناً میرے پس منظر سے کوئی بھی شخص وہ محسوس نہیں کرسکتا تھا جو مجھ پر گزری تھی۔ میں کسی ایک بھی ایسے امریکی کے بارے میں نہیں جانتا تھا جس نے قرآن کا مطالعہ کیا ہو۔ یہ اس ماحول کا حصہ نہیں تھا جس کا سامنا میرے معاشرے کو تھا، جیسا کہ پیغمبر کے عرب میں تھا۔ میرے پاس دو متصادم تصورات کے بیچ کوئی راہ فرار نہ تھی۔ قرآن سے میری ملاقات بالکل اتفاقی تھی، گویا کسی دور دراز جزیرے پر مجھے ایک تیرتی ہوئی بوتل ملی ہو جس کے اندر ایک چٹھی میں میرے لیے پیغام درج ہو۔ ہوسکتا ہے یہ پیغام میرے لیے نہ ہو۔ کیا واقعی ایسا ہے!  اگر میں خدا کے وجود کا قائل ہوجاؤں تو کیا مجھے مسلمان بننا پڑے گا ؟ کیا مجھے ایک غیر ملکی ثقافت اور اجنبی فلسفہ حیات کو اختیار کرنا پڑے گا؟ ‏

‏اب کچھ بھی میرے بس میں نہیں تھا۔ میں ساحل سے اتنی دور آچکا تھا کہ جتنا پلٹنے کی کوشش کرتا لہریں مجھے سمندر میںاتنا ہی دور پھینک دیتیں۔ یہ سب کچھ کتنی خاموشی سے ہوگیا۔ میں نے قرآن کو ایک سادہ سی منطقی جستجو کے طور پر پڑھنا شروع کیا تھا ، جس نے رفتہ رفتہ گہری روحانی جہت اختیار کرلی۔ اس کے مطالعے سے میں نے جانا کہ وجود باری کے خلاف میرے فلسفیانہ دلائل—جنھیں میں کبھی ناقابل تسخیر سمجھتا تھا—میری سوچ سے کہیں زیادہ کم زور نکلے۔ میں نے پایا کہ یہ دلائل ان مقدمات پر مبنی تھے جنھیں قرآن قبول ہی نہیں کرتا۔ دوسری طرف قرآن نے انسانی وجود کی ایسی وضاحت پیش کی جس پر میں نے کبھی غور نہیں کیا تھا، اور وہ مجھے انتہائی فطری لگی۔ میں نے اس میں زبردست ربط پایا۔ جب خدا کے وجود پر میرے اعتراضات رفع ہونے لگےتو میرے ذہن میں شکوک و شبہات نے سراٹھانا شروع کردیا۔ پہلے یہ شکوک معمولی تھے۔ الحاد کے بارے میں۔ مجھے یقین ہے کہ اسی دوران مجھے روحانی لمحات کا تجربہ بھی ہونا شروع ہوا تھا، جو شروع میں کچھ مبہم تھے لیکن بعد میں ان کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا کیوں کہ خدا کے وجود کے اثبات کے لیے میرا ذہن کھل گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ تبدیلی منطقی تھی، یعنی سوچ کی تبدیلی کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس سے میرے اندر بتدریج روحانی بیداری پیدا ہونے لگی۔‏

‏کیا واقعی کوئی خدا ہو سکتا ہے؟ قرآن کی رو سے ہمارے پاس خدا کے بارے میں ایک فطری علم ہے یعنی اس کے وجود کا تقریباً ایک جبلی احساس جو دنیوی اہداف کے حصول یا گناہ یا تکبر کی وجہ سے مدھم پڑسکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ بہت سے منکرین حق شدید خوف کی حالت میں خدا کے وجود کے اس جبلی علم کا مظاہرہ کرتے ہیں ، جب انھیں لگتا ہے کہ موت ان کے بالکل قریب ہے تب وہ مصیبت کی ان گھڑیوں میں خدا کی طرف ایسے فطری انداز اور خلوص سے پلٹتے ہیں گویا اس کو پکارنا ان کی عادتِ ثانیہ ہو۔ تاہم قرآن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب خطرے کی گھڑی گزر جاتی ہے تو وہ عموماً انکار خدا کی اپنی پرانی روش کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ واقعات ’’نشانیاں‘‘ ہیں اور خدا منکرین کا باطن ان کے سامنے بے نقاب کردیتا ہے تاکہ ’’شاید وہ غور کرسکیں۔ ’’

‏مجھے یاد آیا کہ جن دنوں میں پرڈیو میں گریجویٹ کا طالب علم ہوا کرتا تھا ،  ایک دن سیر کو نکلا اور چلتے چلتے گھر سے میلوں دور نکل آیا ۔ تبھی اچانک شدید آندھی آگئی۔ آس پاس سرچھپانے کو کوئی پناہ گاہ نہیں تھی کہ وہاں طوفان کے تھمنے تک انتظار کرسکتا۔تیز ہواؤں، موسلا دھار بارش، شدید ژالہ باری ، تاریکی اور بجلی کی چمک گرج نے ایک ہیبت ناک سماں پیدا کردیا تھا۔ میں دہشت زدہ ہو کر دوڑنے لگا۔ مجھے یاد ہے کہ اس موقع پر میں نے خدا کو پکارا کہ اگر وہ واقعی موجود ہے تو مجھے مرنے سے بچالے! تقریبا ًدس پندرہ منٹ بعد طوفان تھم گیا ، اور میں بسلامت گھر پہنچ گیا۔ لیکن اس کے بعد میں نے اپنے ذہن سے اس مذہبی ہیجان انگیز لمحے کو جھٹک دیا۔ میں نے سوچا شاید یہ میری غیر منطقی گھبراہٹ کا نتیجہ تھا۔ ایک اور موقع پر میں نے ایسا ہی کیا۔ میں دہریت میں اتنا پختہ ہوچکا تھا کہ کبھی خود کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے نہیں دیا کہ مجھے اس طرح فطری طور پر اور اچانک خدا کی طرف کس چیز نے مائل کیا، حالاں کہ میں تو خدا کے عدم وجود پر یقین رکھتا تھا۔ ‏

‏قرآن پڑھتے ہوئے میں نے جن روحانی لمحات کا تجربہ کیا انھیں الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے مشکل ہے۔ میں نے کبھی ایسی چیز کے بارے میں نہیں جانا تھا۔ میں نے کبھی اس کی موجودگی کو محسوس نہیں کیا تھا جسے میں ’مغلوب کردینے والی رحمت‘ کا نام دیتاہوں۔ میں نے ان لمحات کی نہ جستجو کی تھی نہ تمنا۔ بلکہ اس کے برعکس عرصے تک میں ان احساسات سے لڑتارہا ، انھیں اپنےذہن سے جھٹکتا رہا۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ چونکایا وہ یہ تھی کہ میں نے ان کی امید یا خواہش نہیں کی تھی، بلکہ یہ فطری محسوسات تھے۔‏

مجھے سب سے زیادہ پریشانی اس بے نام سے خالی پن سے تھی جو میں محسوس کر رہا تھا ۔ اپنی بھری پری اور مصروف سماجی زندگی کے باوجود میرے اندر تنہائی کے یہ خوف ناک احساسات کیوں پیدا ہوئے تھے؟ ‏

‏میں نے خود سے پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اور کتنی نشانیاں یا دلیلیں یا آیتیں ابھی میرے دل میں اترنا باقی ہیں جو میرا آپ کھول کر رکھ دیں گی؟ خود کو پہچاننے کے لیے مجھے اور کتنی بار اپنی روح کے آئینے میں دیکھنا پڑے گا؟ کیا میں دنیوی مشاغل کے صحرا میں سرگشتہ ، راہ کھویا ہوا، تشنہ اور بھٹکا ہوا مسافر نہیں ہوں جو ایک کے بعد دوسرے سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے؟ ‏

‏میں کیوں اس سے انکار کر رہا ہوں؟ میں کیوں اس تجربے کو قبول نہیں کر لیتا جو کتاب الہی کو پڑھتے ہوئے مجھ پر گزرا تھا؟ میں کیوں تسلیم نہیں کرلیتا کہ مجھے قرآن کے تجربے کی شدت سے یاد آرہی ہے۔ مجھے اس آواز کی یاد آرہی ہے جو میرے اندر مجھ سے ہم کلام ہوتی تھی۔ میں اسی حیرت، جوش، جدوجہد، سکون، درد اور تڑپ کے لیے ترس رہا ہوں جو اس گفتگو سے مجھ میں پیدا ہوتی تھی؟ میں یہ تسلیم کیوں نہیں کرلیتا کہ مجھے اس قربت اور محبت کی یاد آتی ہے جو میں نے محسوس کی تھی لیکن اسے جھٹک دیا تھا؟ اب اس سے انکار کا کیا فائدہ؟ میں کیوں یہ تسلیم نہیں کر لیتا کہ یہی تو تھا جس کے لیے میں تڑپتا تھا، یہی تو تھا جس کی مجھے ضرورت تھی۔ یہ جو میرے تعاقب میں تھا کوئی اور نہیں بلکہ خود خدا تھا!‏

‏میں نے سوچا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ میرے ساتھ نہیں ہوتا۔ ایسا کسی ایسے شخص کے ساتھ نہیں ہوتا جو مذہب کو رد کرتا ہے، روحانیت سے انکار کرتا ہے اور ایمان کا مذاق اڑاتا ہے۔ پھر میں کیوں تڑپ رہا ہوں؟ میں اسے کیوں نہیں چھوڑ دیتا اور یہ مجھے کیوں نہیں چھوڑدیتا؟ ‏

‏۸ نومبر ۱۹۸۲کو سہ پہر تقریباً تین بجے میں اس مسجد میں داخل ہوا جو سان فرانسسکو یونیورسٹی میں سینٹ ایگنیٹیئس چرچ کے تہہ خانے میں واقع ہے۔ میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ میں بس چند سوالات پوچھنے جا رہا ہوں—تبدیلی مذہب کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد جب میں مسجد سے باہر نکلا تو بحمداللہ مسلمان تھا۔

فروری 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau