اس مضمون کا اصل زیر بحث نکتہ دارا شکوہ کا شخصی کردار یا اس کے عقائد و نظریات نہیں ہیں بلکہ ہندو سماج کے ساتھ مکالمے میں ہندو سماج میں رائج اصطلاحات کے استعمال کی اہمیت وافادیت ہے۔ زیرِبحث مسئلہ اپنے آپ میں اہم ہے اور موجودہ حالات میں اس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مضمون نگار کے نقطہ نظر کے علاوہ اس موضوع پر مختلف نقطہ ہائے نظر ہوسکتے ہیں۔ اس امید کے ساتھ یہ مضمون شائع کیا جارہا ہے کہ اس سے اس بحث کو آگے بڑھانے کی ترغیب ملے گی۔ مدیر)
ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر تہذیبی اور متنوع لسانی پس منظر رکھنے والے معاشرے میں یہاں کی آبادی کے ساتھ بامعنی تعلق، دعوتی ربط اور سنجیدہ مکالمے کے لیے مقامی لفظیات (vocabulary) اور تہذیبی روایت سے واقفیت بے حد ضروری ہے۔ برادران وطن کے ساتھ گفتگو کے دوران بارہا یہ محسوس ہوتا ہے کہ سنسکرت اور ہندو مذہبی روایات میں رائج بہت سے الفاظ اور تصورات ایسے ہیں جو معنوی اور فکری جہت کے اعتبار سے اسلامی تعلیمات سے کم یا زیادہ قربت رکھتے ہیں۔ اگر ان اصطلاحات کو سمجھ کر اور جہاں وضاحتی بیان کی ضرورت ہو اسے برت کر ہندو سماج کے ساتھ مکالمہ کیا جائے تو ابلاغی مشکلات کم سے کم ہو سکتی ہیں۔ اس سے اسلام کی تفہیم میں نامانوسیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی تہذیب و زبان سے اخذ و تعامل کی مسلم روایت
جب اسلام عرب سے نکل کر مختلف تہذیبوں، زبانوں اور تمدنوں میں داخل ہوا تو اس نے وہاں کی مقامی لفظیات، فکری سانچوں اور تہذیبی تعبیرات سے بھی ایک بامعنی تعلق قائم کیا۔ ایران میں مسلم علما، فقہا اور صوفیاکا سامنا ایک قدیم تہذیب اور مضبوط لسانی روایت سے ہوا۔ اس وقت عربی اسلامی اصطلاحات کے ساتھ پہلوی اور فارسی زبان کے متعدد الفاظ بھی اسلامی معاشرے میں رائج ہوگئے۔ رفتہ رفتہ یہ الفاظ اس قدر مانوس ہوگئے کہ مسلم معاشرہ انھیں اپنی تہذیبی شناخت کا حصہ سمجھنے لگا۔ مثال کے طور پر صلوٰۃ کے لیے نماز، صوم کے لیے روزہ، جنت کے لیے بہشت، جہنم کے لیے دوزخ، معصیت کے لیے گناہ اور تقویٰ کے لیے پارسائی جیسے الفاظ عام بول چال اور مذہبی لٹریچر کا مستقل حصہ بن گئے۔ حالاںکہ یہ الفاظ اپنی اصل کے اعتبار سے اسلامی-عربی لفظیات میں شامل نہیں تھے۔ ان لفظیات کا اسلامی مفاہیم کے ساتھ ایسا امتزاج ہوا کہ ان سے کسی قسم کی اجنبیت باقی نہ رہی۔ مسلمانوں کی تاریخی روایات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کو دوسری زبانوں میں منتقل کرنا یا مقامی لفظیات کے ذریعے بیان کرنا کوئی نیا یا اجنبی عمل نہیں ہے۔ یہ اسلامی تہذیب کی قدیم علمی روایت کا حصہ ہے۔ البتہ علما ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ لفظیات وتعبیرات کو اختیار کرتے ہوئے اسلامی عقائد کی اصل روح، توحیدی تصور اور شرعی مفاہیم کو محفوظ رکھا جائے تاکہ منصوص عقائد واحکام کو سمجھنے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اسی توازن نے اسلامی تہذیب کو مختلف زبانوں اور ثقافتوں میں رچنے بسنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔
اس تاریخی تجربے کی روشنی میں ہندوستانی تناظر میں بھی یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ کیا سنسکرت اور مقامی مذہبی اصطلاحات کو، ان کے باطل یا شرکیہ پہلوؤں سے پاک کرکے، مکالمے اور دعوت کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی دعوت اور تہذیبی ہم آہنگی کے لیے اس نوعیت کی علمی کوششوں کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ برادران وطن کے ساتھ مکالمے میں اگر اسلام کو ان الفاظ کے ذریعے واضح کیا جائے جن سے وہ لسانی وتہذیبی طور پر مانوس ہیں، تو ابلاغ وتفہیم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ البتہ یہ عمل احتیاط، علمی تیاری اور لفظیاتی وضاحت کا متقاضی ہے تاکہ اسلام کی اصل روح متاثر نہ ہو اور التباس پیدا نہ ہو۔
داراشکوہ کا ہندوستانی مذہبی روایات سے فکری تعامل
دارا شکوہ، مغل بادشاہ شاہجہاں اور ممتاز محل کا سب سے بڑا بیٹا تھا، جو 20 مارچ 1615ء کو اجمیر میں پیدا ہوا۔ اس نے عربی وفارسی ادب، تفسیر، فقہ اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی، مگر اس کی اصل دل چسپی تصوف اور روحانی علوم سے تھی۔ اسی شوق کے تحت اس نے صوفیوں، ہندو فقرا اور جوگیوں سے تعلق قائم کیا اور مختلف مذاہب وافکار کا مطالعہ کیا۔ وہ نرم دل، علم دوست اور کشادہ فکر شخصیت کا حامل تھا اور مختلف مذاہب کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کی تصنیفات میں قرآن وحدیث کے کثرت سے حوالے ملتے ہیں، جو اس کے گہرے اسلامی مطالعے کی علامت ہیں۔ شاہجہاں نے اسے ولی عہد مقرر کیا، لیکن دارا شکوہ عملی سیاست اور جنگی معاملات میں اپنے بھائیوں، خصوصاً اورنگ زیب، کا مقابلہ نہ کرسکا۔ 1657ء میں شاہجہاں کی بیماری کے بعد جانشینی کی جنگ شروع ہوئی، جس میں بالآخر اورنگ زیب کام یاب ہوا۔ دارا شکوہ گرفتار ہوا، دہلی میں ذلت آمیز انداز میں پھرایا گیا اور پھر علمائے دربار کے فتوے کے بعد 29 اگست 1659ء کو قتل کر دیا گیا۔ دارا شکوہ نے اپنی جان بخشی کے لیے اورنگ زیب کو ایک مؤثر خط بھی لکھا، مگر اورنگ زیب نے اسے مسترد کر دیا۔ عام مؤرخین کے نزدیک دارا شکوہ بے دین نہیں تھا، بلکہ اصل مسئلہ اقتدار کی کش مکش تھا۔ اس کے صوفیانہ افکار اور مختلف مذاہب میں قربت پیدا کرنے کی کوششوں نے درباری حلقوں میں خدشات ضرور پیدا کیے تھے، لیکن مغل تاریخ کے تناظر میں یہ واقعہ بنیادی طور پر موروثی سلطنت، اقتدار کی سیاست اور جانشینی کی روایتی جنگ کا حصہ تھا، نہ کہ صرف مذہبی اختلاف کا نتیجہ۔
دارا شکوہ کی کتاب مجمع البحرین ایک اہم علمی وفکری کاوش ہے۔ دارا شکوہ نے اس کتاب میں اسلام اور ہندو دھرم بالخصوص تصوف اور ویدانت کے درمیان پائی جانے والی مماثلتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ دارا شکوہ کا مقصد دو مختلف مذہبی روایتوں کے درمیان مشترک نکات تلاش کرنا اور مماثل لفظیات کو تلاش کرنا تھا جس کے ذریعے دونوں مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ اس کتاب میں صرف نظری مباحث ہی پیش نہیں کیے گئے ہیں بلکہ اسلامی اور ہندو اصطلاحات کے قریب المعنی متبادلات بھی تلاش کیے گئے ہیں۔ دارا شکوہ کا یہ اسلوب بین المذاہب مکالمے کے ایک اہم اصول کی نشان دہی کرتا ہے، یعنی کسی قوم سے گفتگو اس کی علمی اور تہذیبی زبان میں کی جائے۔ قرآن مجید بھی انبیائے کرام کے بارے میں یہی اصول بیان کرتا ہے کہ ہر رسول اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا تاکہ وہ بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اسی حکمت کے تحت اگر ہندوستانی سماج میں رائج بعض مذہبی اصطلاحات کو محتاط انداز میں وضاحتی بیان کے ساتھ استعمال کیا جائے اور ان کے اندر پائے جانے والے شرکیہ اور باطل تصورات کی اصلاح کی جائے، تو اس سے بہتر ابلاغ ومکالمہ ممکن ہوگا۔ اس سے توحید، آخرت، اور اخلاقی اقدار سے متعلق اسلامی تصورات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے گا۔
مجمع البحرین – ایک تعارفی جائزہ
مجمع البحرین دارا شکوہ کی آخری تصنیف ہے اور اپنے موضوع کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اس نے یہ کتاب 1065 ہجری میں تصنیف کی جب کہ اس کی عمر 42 سال تھی۔ اس وقت میرے سامنے مجمع البحرین کا اردو ترجمہ ہے جسے پروفیسر یونس شاہ گیلانی نے کیا ہے۔ یہ کتاب الگیلان پبلشر ایبٹ آباد نے 1983ء میں شائع کی تھی۔ اس کتاب میں دارا شکوہ کا قدرے تفصیل کے ساتھ فکری وسوانحی تعارف پیش کرتے ہوئے مجمع البحرین کا فارسی متن اور اس کا اردو ترجمہ دیا گیا ہے۔ کتاب ۱۵۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ دارا شکوہ نے مجمع البحرین کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا سے کیا۔ وہ لکھتا ہے کہ خدا ایک ایسی ہستی ہے جس کا کوئی مخصوص نام نہیں، بلکہ اسے جس نام سے پکارا جائے وہی اس کے شایانِ شان ہے۔ وہی واحد وبے شریک خدا ہے جس کی قدرت ہر چیز میں جلوہ گر ہے۔ دارا شکوہ کے مطابق کفر واسلام کے ظاہری اختلاف کے باوجود دونوں میں خدا کی تلاش اور اس کی وحدانیت کا اقرار پایا جاتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ تمام مخلوقات سے پہلے بھی اللہ ہی موجود تھا اور آخرکار اسی کی ذات باقی رہے گی۔ حمد کے بعد دارا شکوہ نے رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجا اور آپؐ کو صفاتِ الٰہی کے کامل مظہر قرار دیا۔ اس نے آپؐ کے آل واصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بھی رحمت وبرکت کی دعا کی۔
تمہید کے بعد دارا شکوہ نے اس کتاب کے مقصد تصنیف کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ طویل مطالعے، گہرے غور وفکر اور مسلم اورہندو علما، صوفیااور جوگیوں کی صحبت نے اس پر یہ حقیقت واضح کردی کہ اسلام اور ہندو دھرم کی بنیادی تعلیمات میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس کے نزدیک یہ مشابہت محض اتفاقی نہیں، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ حقیقی روحانی معرفت کا سرچشمہ ایک ہی ہے۔ مختلف قومیں اور تہذیبیں ان بنیادی مذہبی حقائق کو اپنی اپنی زبان، اصطلاحات اور تعبیرات میں بیان کرتی ہیں۔ دارا شکوہ لکھتا ہے: ”میں اس بات کے درپے ہوا کہ ہندو فقراکا مشرب اور طریقۂ کار دریافت کروں۔ چناں چہ اس قوم کے بعض محققوں سے کئی بار گفتگو ہوئی اور میں نے انھیں خدا رسیدہ پایا۔ مجھے صوفیائے کرام اور جوگیوں میں سوائے لفظی اختلاف کے کوئی فرق معلوم نہیں ہوا۔ اس لیے میں نے فریقین کے کلام میں مطابقت پیدا کرنے کے لیے یہ رسالہ لکھا اور اس کا نام مجمع البحرین رکھا، یعنی دو سمندروں کا سنگم۔“
دارا شکوہ نے اپنی علمی وفکری استعداد کے مطابق یہ کوشش کی کہ اسلام اور ہندو دھرم کی ان اصطلاحات، تصورات اور روحانی تعبیرات کو سامنے لایا جائے جو معنی اور حقیقت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے قریب دکھائی دیتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اس نے مختلف مذہبی اور صوفیانہ مصادر کا مطالعہ کیا، علما، صوفیا اور ہندو جوگیوں سے گفتگو کی اور دونوں تہذیبی وفکری روایتوں کے مشترک پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی سعی کی۔ اس کوشش میں بہت سارے رطب ویابس صوفیانہ اور ویدانتی فلسفیانہ تصورات کو بھی قرآنی آیات سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں بعض علمی کم زوریاں اور فکری مغالطے بھی موجود ہیں۔ تاہم یہ ایک منفرد، جرأت مندانہ اور مخلصانہ علمی کاوش ہے۔ اس کی اہمیت اس پہلو سے بھی نمایاں ہے کہ اس میں اسلامی- عربی لفظیات کا قریب تر ہندو دھارمک متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب نے مذاہب کے تقابلی مطالعے، فکری مکالمے اور مشترکہ انسانی وروحانی اقدار کی تلاش کے لیے ایک نئی راہ کھولی ہے جس کی بنیاد پر مزید تحقیق وجستجو کی جا سکتی ہے۔
دارا شکوہ نے بیان کیا ہے کہ خدا یا حقیقت مطلقہ کو اسلام میں ’’ حق‘‘اور ’’اللہ‘‘کہا جاتا ہے، جب کہ ویدانتی فلسفے میں اسی حقیقت کو برہمن [ब्रह्मन्] یا ایشور [ईश्वर] کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ناموں اور اصطلاحات کے فرق کے باوجود دونوں کا اشارہ ایک ایسی ابدی، غیر محدود اور ہمہ گیر حقیقت کی طرف ہے جو پوری کائنات کی اصل بنیاد ہے۔ دارا شکوہ کا خیال تھا کہ صوفیاء کی توحید [एकत्व] اور ویدانت کا ادویت [अद्वैत] درحقیقت ایک ہی تصور کے دو مختلف اظہار ہیں، جن کا مقصد انسان کو ظاہری کثرت کے پردوں کے پیچھے چھپی وحدت کی حقیقت سے آشنا کرنا ہے۔ انسانی وجود کے بارے میں بھی دارا شکوہ نے دونوں روایتوں کے درمیان گہری مماثلت دکھائی ہے۔ اسلامی اصطلاح میں انسان کی اصل حقیقت روح کہلاتی ہے جب کہ ہندو فلسفے میں اسے آتما [आत्मा] کہا جاتا ہے۔ دونوں نظریات کے مطابق انسان کا جسم عارضی ہے لیکن اس کی باطنی حقیقت دائمی اور غیر فانی ہے۔ روح یا آتما کا حقیقی مقصد اپنے اصل سرچشمۂ وجود کو پہچاننا اور اس سے قرب حاصل کرنا ہے۔
دارا شکوہ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ بے شمار ہیں، اور مختلف قومیں اپنی اپنی زبان اور فکری روایت کے مطابق ان کے لیے الگ الگ الفاظ استعمال کرتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ذات مطلق، غیب الغیب اور واجب الوجود کو ہندو فقرا کی زبان میں اسن (असन)، ترگن(त्रिगुण)، نرنکار (निरंकार)، نرنجن (निरंजन) اور ست چت (सत्-चित्) کہا جاتا ہے۔ اگر علم کی صفت کو خدا کی طرف منسوب کیا جائے تو اہل اسلام اسے علیم کہتے ہیں، جب کہ ہندو فقرا اس کے لیے چیتن (चेतन) کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح حق تعالیٰ کو اننت (अनन्त) یعنی لا محدود کہا جاتا ہے۔ قادر کے لیے سمرتھ (समर्थ)، سمیع کے لیے سروتا (श्रॊता)، بصیر کے لیے درشٹا (द्रष्टा) اور کلیم کے لیے وکتا (वक्ता) کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ دارا شکوہ کے مطابق اللہ کے لیے اوم (ॐ) اور ھو کے لیے سہ (सः) کا لفظ بھی بولا جاتا ہے۔ فرشتوں کو ہندو روایت میں دیوتا (देवता) کہا جاتا ہے، جب کہ خدا تعالیٰ کے کامل مظہر، یعنی پیغمبر کو اوتار (अवतार) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اوتار سے مراد وہ شخصیت ہے جس میں قدرت الٰہی کا خاص ظہور ہو اور اس سے ایسے غیر معمولی کام ظاہر ہوں جو عام انسانوں کے بس کی بات نہ ہوں۔ دارا شکوہ کے مطابق انبیا پر نازل ہونے والی وحی کو ہندو اہل معرفت آکاش وانی (आकाशवाणी) کہتے ہیں۔ وہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ پیغام آکاش (आकाश) یعنی عالم بالا یا جلوۂ الٰہی سے صادر ہوتا ہے۔ اس موقع پر وہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث نقل کرتے ہیں کہ نزول وحی کا وقت آپؐ پر نہایت دشوار گزرتا تھا۔ کبھی آپؐ اسے گھنٹی کی آواز کی طرح سنتے اور کبھی شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کے مانند۔آسمانی کتابوں کو ہندو روایت میں وید (वेद) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کو منش (मनुष्य)، ولی کو رِشی (ऋषि) اور نبی کو مہا سدھ (महासिद्ध) کہا جاتا ہے۔
صوفیائے کرام کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی صفات کمال کو عموماً دو بنیادی جہات میں تقسیم کیا جاتا ہے: جمالی اور جلالی۔ صفت جمال رحمت، لطف، محبت اور پرورش کی مظہر ہے، جب کہ صفت جلال قدرت، ہیبت، قہر اور عظمت کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔ کائنات کی تمام مخلوقات انہی دونوں صفات کے مختلف مظاہر کے تحت وجود وبقا حاصل کرتی ہیں۔ دارا شکوہ نے لکھا ہے کہ ہندو دھرم میں صفات کائنات کی ایک دوسری درجہ بندی پائی جاتی ہے جسے ترگُن (त्रिगुण) کہا جاتا ہے۔ اس کے تین اجزا ہیں: ستو (सत्त्व)، رجس (रजस्) اور تمس (तमस्)۔ ستو سے مراد پاکیزگی، توازن اور ایجاد وظہور کی کیفیت ہے؛ رجس کو حرکت، بقا اور فعالیت کی علامت سمجھا جاتا ہے؛ جب کہ تمس کو فنا، سکون، تاریکی اور اختتام کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندو دھرم میں یہ تینوں صفات ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط اور ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں، اسی لیے ان کے مجموعے کو تری مورتی (त्रिमूर्ति) یعنی تین مظاہر کہا جاتا ہے۔اس تصور کے تحت ہر صفت کے ساتھ ایک مخصوص دیوتا منسوب کیا جاتا ہے۔ ایجاد اور تخلیق کی قوت کو برہما (ब्रह्मा) سے تعبیر کیا جاتا ہے، بقا اور نظام عالم کے نگراں کو وشنو (विष्णु) سے، اور فنا واختتام کی قوت کو مہیش (महेश) سے وابستہ کیا جاتا ہے۔
چوں کہ دارا شکوہ نے اپنی کتاب میں اسلامی عقائد اور ہندو فلسفیانہ تصورات کے درمیان مشترک نکات اور فکری مماثلتوں کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اس لیے انھوں نے بعض اسلامی اصطلاحات اور ہستیوں کو ہندو مذہبی تعبیرات کا متبادل یا قریب المعنی قرار دیا ہے۔ اسی تناظر میں فرشتوں کے مختلف وظائف اور کائناتی ذمہ داریوں کو ہندو تصورات کے ساتھ تقابلی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً جبرائیلؑ، جو وحی کے نزول اور نظام تخلیق کے ظہور سے متعلق سمجھے جاتے ہیں، انھیں برہما (ब्रह्मा) کے مشابہ قرار دیا گیا؛ میکائیلؑ، جو رزق رسانی اور نظام بقا کے موکل ہیں، ان کے لیے وشنو (विष्णु) کو مترادف قرار دیا گیا؛ جب کہ اسرافیلؑ، جن کا تعلق قیامت اور فنائے عالم سے ہے، انھیں مہیش (महेश) کے مماثل بتایا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جس طرح مشرکین عرب صفاتی بنیادوں پر فرشتوں کے درمیان الوہی اختیارات تقسیم کرکے انھیں خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، اسی انداز میں ہندوستان میں الوہی صفات کو مختلف دیوتاؤں یا فرشتوں سے منسوب کیا گیا ہوگا۔ اسلامی عقیدے میں فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے، اس کے مطیع فرمان اور معصوم عن الخطا ہیں لیکن وہ مخلوق ہیں، ان میں الوہیت یا خدائی صفات کا کوئی تصور درست نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہندو مذہبی روایت میں مذکورہ ہستیاں الوہی مظاہر یا دیوتاؤں کی حیثیت رکھتی ہیں۔
دارا شکوہ نے لکھا ہے کہ ہندو دھرم میں پہلا حاسہ بدھ (बुद्धि) کہلاتا ہے، جس کے معنی عقل کے ہیں۔ بدھ کا کام انسان کو نیکی کی طرف رہ نمائی کرنا اور برائی سے روکنا ہے۔ دوسرا حاسہ من (मन) ہے، جسے دل کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ من میں دو قوتیں پائی جاتی ہیں: ایک سنکلپ (संकल्प)، یعنی کسی کام کا پختہ ارادہ کرنا، اور دوسری وِکلپ (विकल्प)، یعنی اس ارادے کو توڑ دینا یا بدل دینا۔ تیسرا حاسہ چت (चित्त) ہے، جسے دل کا قاصد کہا جاتا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ وہ ہر طرف بلا امتیاز بھلائی اور برائی کی طرف دوڑتا پھرتا ہے۔ چوتھا حاسہ اہنکار (अहंकार) ہے، جس کے معنی ہیں اشیا کو اپنی طرف منسوب کرنے والا، یعنی “میں” کا احساس۔ دارا شکوہ کے مطابق اہنکار دراصل پرماتما کی ایک صفت ہے جو اسے مایا (माया) یعنی عشق یا ظہور کائنات کے سبب لاحق ہوئی ہے۔
اہنکار کی تین قسمیں بیان کی جاتی ہیں: ساتوک (सात्त्विक)، راجسک (राजसिक)اور تامس (तामसिक)۔ اہنکار ساتوک کو گیان سروپ یعنی علم ومعرفت کی اعلیٰ ترین کیفیت قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ پرماتما کہتا ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہے، وہ سب میرا ہی ظہور ہے اور میری ذات ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ دارا شکوہ اس مفہوم کی وضاحت قرآن مجید کی آیات سے بھی کرتا ہے، جیسے: اَلَا اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیءٍ مُّحِیطٌ یعنی آگاہ! اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اسی طرح: هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ یعنی وہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے۔ اہنکار راجس، اہنکار ساتوک اور اہنکار تامس کے درمیان درمیانی درجہ رکھتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ جیو آتما (जीवात्मा) کو سامنے رکھتے ہوئے فرماتا ہے کہ میری ذات جسم، بدن اور مادی عناصر سے پاک ہے، اور جسمانیت کو مجھ سے کوئی نسبت نہیں۔ اسی مضمون کو قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: لَیسَ كَمِثْلِهٖ شَیءٌ یعنی اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اسی طرح فرمایا گیا: فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِی عَنِ الْعَالَمِینَ یعنی اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ اہنکار تامس سب سے ادنیٰ درجہ کی کیفیت ہے۔ اسے ہندی میں اَوِدیا (अविद्या) یعنی بندگی اور عجز کا مرتبہ کہا جاتا ہے۔ اس مقام پر انسان اپنے آپ کو نہایت عاجز، نادان اور محتاج سمجھتا ہے اور اپنی فانی زندگی کو دیکھتے ہوئے اعتراف کرتا ہے کہ خالق اور مخلوق کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ خدا کی ذات یکتا اور بے شریک ہے، جب کہ انسان خطاکار اور محتاج بندہ ہے۔ دارا شکوہ اس مفہوم کی تائید میں قرآن مجید کی یہ آیت نقل کرتا ہے: قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یعنی اے محمدﷺ! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ میں بھی تمھاری طرح ایک انسان ہوں۔
دارا شکوہ نے اسلامی تصوف کے تصورفنا اور ہندو فلسفے کے تصور موکش [मोक्ष] یا مکتی [मुक्ति] کے درمیان بھی گہری مماثلت دکھائی ہے۔ صوفیانہ اصطلاح میں فنا سے مراد نفس اور انا کی نفی ہے جب کہ موکش مادی بندھنوں اور پیدائش وموت کے چکر سے آزادی کا نام ہے۔ دونوں کا مقصد انسان کو محدود خودی سے بلند کرکے حقیقت مطلقہ کے قرب تک پہنچانا ہے۔ اسی طرح صوفیا کے ہاں بقا اور ویدانت میں جیون مکتی [जीवन मुक्ति] کے تصورات ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ روحانی تربیت کے میدان میں اسلامی ذکر، مراقبہ اور مجاہدۂ نفس کو جو مقام حاصل ہے، تقریباً وہی حیثیت ہندو روایت میں سمرن [स्मरण]، دھیان [ध्यान] اور یوگ [योग] کو حاصل ہے۔ اگرچہ ان کے طریقے مختلف ہیں، لیکن مقصد ایک ہی ہے: انسان کے باطن کو پاک کرنا، ذہنی انتشار کو ختم کرنا اور اسے حقیقت الٰہی کے شعور سے قریب کرنا۔ تاہم اصل حقیقت جسے ذہن نشیں رکھنا ضروری ہے وہ اللہ کا صحیح تصور ہے جسے قرآن نے اس کی صفات کے ذریعے واضح کیا ہے۔
دارا شکوہ نے انسان کو عالم صغیر [सूक्ष्म मानव] اور کائنات کو عالم کبیر [ब्रह्माण्ड] قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق جو حقائق پوری کائنات میں موجود ہیں وہی انسان کے باطن میں بھی پوشیدہ ہیں۔ اسی لیے خود شناسی، خدا شناسی کا دروازہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح نور اور جیوتی [ज्योति]، معرفت اور گیان [ज्ञान]، ولی اورسنت [संत]، سالک اورسادھک [साधक] جیسی اصطلاحات کے تقابلی مطالعے کے ذریعے دارا شکوہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مختلف روحانی روایتوں کی زبان الگ ہو سکتی ہے، لیکن ان کے تجربات اور مقاصد میں بنیادی اشتراک پایا جاتا ہے۔
داراشکوہ کی فکری جستجو سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مختلف مذاہب میں، انسانی عقل اور تہذیبی اثرات کی آمیزش کے باوجود، بعض ایسے مذہبی تصورات موجود ہیں جن کی اصل صرف وحی الٰہی ہی میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ انسانی معاشروں میں مذہبی احکام اور عملی زندگی کے اصولوں کی مختلف درجہ بندیاں کی جاتی رہی ہیں۔ اسلام میں یہ نظام فقہ اسلامی کی صورت میں موجود ہے، جب کہ ہندو روایت میں دھرم شاستر (धर्मशास्त्र) مذہبی، اخلاقی اور سماجی فرائض کی وضاحت کرتا ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے ان دونوں میں کئی مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح شریعت کے قریب ترین تصور دھرم، فقہ کے قریب دھرم شاستر یا سمرتی روایت، اور فقیہ کے مماثل دھرم شاستری کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف اسلامی عقائد، عبادات اور اخلاق ہی نہیں بلکہ اسلامی فقہ اور معاشرتی وقانونی احکام وتصورات سے بھی سنسکرت اور ہندی لفظیات کے ذریعے برادران وطن کا ذہن مانوس ہو سکتا ہے۔
اسلام کی تفہیم اور علاقائی زبانوں کی لفظیات
ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ہندو اور مسلم معاشروں کے درمیان ایک گہرا لسانی اور تہذیبی تعلق پایا جاتا ہے۔ مختلف ریاستوں میں مقامی زبانیں دونوں معاشروں کی مشترک بول چال، سماجی روابط اور روزمرہ زندگی کا ذریعہ ہیں، جس سے ایک مشترک ذہنی اور ثقافتی فضا تشکیل پاتی ہے۔ ایسے ماحول میں دینی اور فکری گفتگو اسی وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسلامی تعلیمات کو مقامی زبان، مانوس انداز بیان اور تہذیبی شعور کے مطابق پیش کیا جائے۔ جب دین کی بات لوگوں کی اپنی زبان اور ان کے معروف اسلوب میں کی جاتی ہے تو وہ اسے زیادہ آسانی سے سمجھتے اور اس سے قلبی تعلق محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اجنبی اور غیر مانوس اصطلاحات اکثر ذہنی فاصلے اور اجنبیت کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسلامی تصورات کو ایسے الفاظ اور تعبیرات کے ذریعے بیان کیا جائے جو مقامی سماج کے فکری مزاج سے ہم آہنگ ہوں اور اسلام کے آفاقی پیغام توحید، انسانی مساوات اور تکریمِ انسان کو صحیح انداز میں واضح کرسکیں۔ تاہم یہ کام صرف الفاظ کے ترجمے تک محدود نہیں، کیوں کہ ہر زبان اپنے ساتھ ایک تہذیبی اور فکری پس منظر رکھتی ہے۔ اس لیے مقامی لفظیات کے استعمال میں دینی بصیرت، فکری حکمت اور معنوی احتیاط ضروری ہے، تاکہ اسلام کی اصل تعلیمات بھی محفوظ رہیں اور مخاطب کے ساتھ فکری قربت، مثبت مکالمہ اور باہمی اعتماد کی فضا بھی مضبوط ہو۔
جناب ٹی عارف علی [قیم جماعت اسلامی ہند] کا تعلق کیرلا سے ہے۔ ان کے مطابق اسلامی تعلیمات کو مقامی زبانوں میں بیان کرتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملیالم زبان میں بعض الفاظ ایسے ہیں جو پرانے ذات پات کے نظام یا مخصوص مذہبی تصورات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ان الفاظ کے مالہ وما علیہ کو بے سمجھے بوجھے استعمال کیا جائے تو لوگوں میں اسلام کے بارے میں غلط یا منفی تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے دعوتی اور بین المذاہب گفتگو میں ایسے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں جو اسلام کے پیغامِ توحید، مساوات اور عدل کو صحیح طور پر واضح کرسکیں۔ انھوں نے بتایا کہ کیرلا کے مسلم معاشرے میں کئی مقامی الفاظ اسلامی مفاہیم کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں، کیوں کہ یہ الفاظ لوگوں کے لیے زیادہ مانوس اور آسان ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ کے لیے دَیْوَم، نبی کے لیے پَرواچکن، جنت کے لیے سورگَم اور آخرت کے لیے پَرلوکم جیسے الفاظ۔ لیکن ان الفاظ کے استعمال میں وضاحت بھی ضروری ہے، کیوں کہ بعض الفاظ ہندو مذہبی پس منظر میں دوسرے باطل تصورات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے توحید کو واضح کرنے کے لیے ایک دَیْوَم یا سَرْو شَکتِمان دَیْوَم زیادہ مناسب ہے۔ اسی طرح بعض اوقات اسلامی تصورات کو مسلم پس منظر میں پیش کرنے سے بھی غیر مسلم حضرات کو غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک بار توحید کا تقاضا عام کرنے کے لیے ایک پوسٹر لگایا گیا جس پر لکھا تھا:” صرف اللہ سے مانگو‘‘۔ غیر مسلم بھائیوں نے سمجھا کہ صرف مسلمانوں کے اللہ سے مانگنے کی بات کہی جا رہی ہے، ہمارا دیوم کچھ نہیں ہے۔ اگر بات مقامی زبان اور مانوس الفاظ میں کہی جائے تو لوگ اسلام کے پیغام کو زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے اجنبیت اور بُعد محسوس نہیں ہوتا ہے۔ تحریک اسلامی کی کوششوں سے ملیالم، تمل، تیلگو،گجراتی اور دیگر علاقائی زبانوں میں اسلامی تصورات کو مقامی لفظیات کے ذریعے بیان کرنے کی ایک روایت پروان چڑھی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اسلامی اصطلاحات کی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے مقامی زبانوں کے مناسب الفاظ کو تحقیق اور سمجھ بوجھ کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے تاکہ اسلام کا پیغام زیادہ واضح، مؤثر اور مانوس انداز میں لوگوں تک پہنچ سکے۔
نئی لفظیات کو برتنے کی مسلم روایت
صوفیانے اسلامی تعلیمات کو مقامی زبانوں اور تہذیبوں سے جوڑنے کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے اپنے زمانے کے لوگوں کے مزاج، زبان اور تہذیبی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام کے روحانی اور اخلاقی تصورات کو ایسے انداز میں پیش کیا جو عام لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہوتا تھا۔ صوفیا نے خاص طور پر فارسی زبان کے ادبی استعاروں، شعری تمثیلوں اور مقامی تہذیبی لفظیات کے ذریعے اسلام کی روحانی تعلیمات کو عوام میں مقبول بنایا۔ چناں چہ عشق، فنا، بقا، سلوک، درویشی، پیر ومرید، خانقاہ، صحبت اور معرفت جیسے الفاظ صرف اصطلاحات نہیں رہے بلکہ ایک مکمل روحانی، اخلاقی اور تہذیبی روایت کا حصہ بن گئے۔ ان الفاظ نے لوگوں کے ذہنوں میں عبادت، اخلاق، روحانیت اور انسانی تعلقات کا ایک خاص ذوق اور احساس پیدا کیا۔ صوفیاکی اس حکمت عملی کا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اسلام کی تعلیمات لوگوں کو اجنبی محسوس نہیں ہوئیں بلکہ وہ ان کی اپنی زبان، ثقافت اور روزمرہ زندگی کے قریب تر دکھائی دینے لگیں۔ اس سے اسلام کے روحانی پیغام کو عوام تک پہنچانے، مختلف طبقات کے درمیان قربت پیدا کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں مدد ملی۔ اسلام کی صوفیانہ تعبیرات کی بنیاد پر داراشکوہ نے ہندو دھرم کی مماثل لفظیات کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
علمی اور تہذیبی تعامل کے دوران مسلم علما، فقہا، صوفیا نے ہر دور میں اس طرح کی کوششیں کی ہیں۔ جب مسلمانوں کا رابطہ یونانی تہذیب کے علمی وفکری سرمایے سے ہوا تھا تو علمائے اسلام نے محض لفظی ترجمے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسلام کو نئے فکری سانچوں میں واضح کرنے کی کوشش کی۔ علم کلام کی علمی روایت اسی فکری تہذیبی تعامل کی ایک شکل تھی۔ معتزلہ، اشاعرہ اور ماتریدیہ کے مکاتب فکر نے عقل، وحی، اختیار، جبر، عدل، حسن وقبح، جوہر وعرض، علت ومعلول اور ماہیت جیسے فلسفیانہ اور منطقی مباحث کو اسلامی عقائد کے تصورات اور مفاہیم کے ساتھ استعمال کیا۔ جس طرح قدیم ادوار میں علم کلام، فقہ، فلسفہ اور تصوف کے ذریعے اسلامی فکر کو نئے ذہنی سانچوں میں پیش کیا گیا، اسی طرح جدید دور میں اسلامی تحریکات نے جدید سیاسی، سماجی اور فکری لفظیات کے ذریعے اسلام کی جامع اور ہمہ گیر تعلیمات کو عصر حاضر کے تناظر میں واضح کرنے کی کوشش کی۔ تحریک اسلامی کے فکری لٹریچر میں اسلام کے ہمہ گیر پہلوؤں کی تفہیم کے لیےنظریہ(ideology)، تصور حیات وکائنات (worldview)، نظام زندگی(system of life)، حاکمیت الٰہ(Divine sovereignty)، خلافت جمہور(human vicegerency)، بنیادی انسانی حقوق(fundamental human rights)، اجتماعی عدل(social justice)، حقوق نسواں (women rights)، اسلامی دستور (Islamic constitution)، اور اسلامی ریاست(Islamic state)، وغیرہ جیسی لفظیات کا استعمال بتدریج اسلام کے تحریکی تصورات کے ساتھ معروف ہو گیا ہے۔ ان کے ذریعے اسلام کو ایک مکمل روحانی، اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی نظام کے طور پر سمجھنا زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ ان نئی لفظیات اور تعبیرات نے جدید دنیا کے ساتھ مکالمے کی راہ ہم وار کی ہے اور اسلام کو عصر حاضر میں جاری مباحث سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح اسلام کا علمی سرمایہ مزید وسیع ہوا ہے اور اسلام کو نئے زمانے کے مسائل اور انسانی سوالات کے تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کے امکانات زیادہ وسیع ہوئے ہیں۔
چناں چہ داراشکوہ نے جس طرح اسلام اور ہندو دھرم کے تقابلی مطالعہ سے نتیجہ اخذ کرنے کی ایک کوشش کی تھی، اس کی روشنی میں ہندوستان کی مقامی زبانوں اور تہذیبی روایتوں کا ازسرنو مطالعہ کرنا چاہیے۔ ان زبانوں میں کون سے الفاظ، استعارات اور مذہبی تصورات کو اسلام کی تفہیم اور ابلاغ میں معاون بنایا جا سکتا ہے، اس پر اہل علم وزبان کو غور کرنا چاہیے۔ یہ بھی متعین کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کون سے مقامی الفاظ اسلامی مفہوم کے قریب تو ہیں لیکن مکمل ترجمانی نہیں کرتے۔ کن الفاظ کو اسلامی تصور سے ہم آہنگ کرنے لیے وضاحتی جملوں اور تشریحی اسلوب کی ضرورت ہے۔ یہ کام محض لغوی ترجمے کا نہیں بلکہ تہذیبی، لسانی اور دعوتی پہلوؤں سے نئی لفظیات کو برتنے کا ہے۔
لفظیات کی معنوی تشکیل اور تغیر کی حرکیات
یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ الفاظ صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ مذہبی تصورات، تہذیبی روایات اور تاریخی پس منظر بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ ہر لفظ اپنے اندر ایک خاص فکری اور ثقافتی معنی رکھتا ہے اور اسی لیے مختلف معاشروں میں ایک ہی لفظ الگ الگ تصورات پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم زبان ایک متحرک عمل کا حصہ ہے۔ اس کے معنی وقت کے ساتھ بدلتے اور وسیع ہوتے رہتے ہیں۔ جب کسی لفظ کو کسی نئے دینی یا فکری مفہوم کے ساتھ مسلسل استعمال کیا جائے تو رفتہ رفتہ لوگ اسے اسی معنی میں سمجھنے لگتے ہیں۔ تاریخ میں مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے اختلاط کے دوران بہت سے الفاظ نئے مفاہیم کے ساتھ عام ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے بتدریج دیگر تہذیبوں کی لفظیات اسلامی تصورات کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی چلی گئیں۔ لفظ و معنی کی تہذیبی حرکیات اسی طرح اپنا کام کرتی ہے۔
اسلام خدائی ہدایت کی آخری اور محفوظ شکل ہے۔ توحید اس کی اساس ہے۔ ہدایت الہی کا نزول دنیا کی مختلف قوموں اور زمانوں میں پیغمبروں کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ اس لیے دنیا کی مختلف زبانوں اور تہذیبوں میں ایسے الفاظ اور تصورات پائے جاتے ہیں جن میں ہدایت الٰہی کی کم وبیش موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ وقت کے ساتھ بعض الفاظ کے معانی میں ایسی تبدیلیاں بھی آ گئیں جو خالص توحیدی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں رہیں۔ اس لیے مقامی مذہبی لفظیات کو اسلامی مفاہیم کے اظہار کے لیے استعمال کرتے وقت حکمت، وضاحت اور احتیاط ضروری ہے، تاکہ اصل اسلامی تصورات صحیح انداز میں واضح ہو سکیں۔ اس طرح مقامی زبان اور مانوس تعبیرات کے ذریعے دعوت دین، بین المذاہب مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
علمی تیاری اور عملی مشق کی ضرورت
اسلام کی تفہیم کے لیے مقامی لفظیات وتعبیرات کا استعمال ایک اہم مگر حساس کام ہے۔ اس کے لیے علمی تیاری اورعملی مشق کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف زبان کا جان لینا کافی نہیں ہے، بلکہ اسلامی تصورات کی سمجھ کے ساتھ ساتھ مقامی الفاظ کے معنی و مفہوم، تہذیبی پس منظر اور عوامی استعمال کی سمجھ بھی ضروری ہے۔ الفاظ صرف مطلب بیان نہیں کرتے بلکہ لوگ انھیں اپنے ذہنی، سماجی اور تہذیبی پس منظر کے مطابق سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ایک ہی لفظ مختلف معاشروں میں الگ اثر اور تاثر پیدا کرسکتا ہے۔ اس وجہ سے الفاظ استعمال کرتے وقت صرف ان کے لغوی معنی ہی نہیں بلکہ ان کے سماجی اور تہذیبی اثرات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے، تاکہ بات صحیح، مؤثر اور آسان انداز میں لوگوں تک پہنچ سکے۔
مکالمے کی تیاری اس طرح ہونی چاہیے کہ توحید، رسالت، آخرت، عبادات، اخلاق اور شریعت یا دیگر اسلامی تصورات و تعلیمات صحیح انداز میں لوگوں تک پہنچ سکیں۔ اس لیے مقامی لفظیات کا استعمال اس طرح ہونا چاہیے کہ کسی ابہام یا غلط فہمی کی گنجائش نہ ہو۔ بعض الفاظ بظاہر مناسب محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کے اندر ایسے مذہبی تصورات شامل ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس لیے کسی لفظ یا اصطلاح کو اختیار کرنے سے پہلے اس کے عوامی استعمال، تاریخی پس منظر اور ذہنی تاثر کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر کسی لفظ میں شرکیہ یا غیر اسلامی مفہوم شامل ہو تو اسے بغیر وضاحت کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ ابتدا میں اس لفظ کے ساتھ مطلوبہ اسلامی مفہوم بھی واضح کر دیا جائے تاکہ قاری یا سامع اسے صحیح تناظر میں سمجھ سکے۔ بعد میں جب وہی لفظ اسلامی مفہوم کے ساتھ معروف اور مانوس ہو جائے تو اسے زیادہ آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے نہ ہر مقامی لفظ کو مکمل طور پر رد کرنا درست ہے اور نہ بغیر تحقیق کے اس کا بے دھڑک استعمال مناسب ہے۔ اصل ضرورت ایسے موزوں الفاظ کے انتخاب کی ہے جو ایک طرف لوگوں کے لیے قابل فہم اور مانوس ہوں اور دوسری طرف اسلام کی صحیح اور خالص تعلیمات کو واضح انداز میں پیش کر سکیں۔
یہ کام صرف انفرادی کوشش یا محدود مطالعے سے بہتر طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے مذاہب، لسانیات اور تقابلی مطالعہ کے ماہرین اور دعوت کا کام کرنے والے افراد کے مابین علمی تبادلہ خیال اور عملی مشق ضروری ہے۔ اسی طرح مقامی زبانوں میں معیاری اسلامی لٹریچر، تراجم اور دعوتی مواد کی تیاری بھی بہت اہم ہے تاکہ اسلام کا پیغام لوگوں تک ان کی اپنی فکری اور تہذیبی زبان میں زیادہ مؤثر اور قابل فہم انداز میں پہنچ سکے۔ اگر یہ کام محنت وباریک بینی کے ساتھ کیا جائے تو مقامی لفظیات کا استعمال اسلام کی بہتر تفہیم کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف دعوت دین میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ بین المذاہب مکالمے، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ ملے گا۔






