جنگ وامن قرآن کی روشنی میں

(1)

ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی

قرآن کریم نے جنگ وامن کے اصول مختلف سورتوں اور آیات میں بیان کیے ہیں ہم ان اصولوں پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالیں گے۔

(۱)          اسلام میں ہوس ملک گیری کے لیے جنگ ناجائز ہے۔ محض فتوحات اور ہوس ملک گیری کے لیے جنگ جائزنہیں۔ صرف دفاعی اغراض اور ظالموں کے خلاف جنگ جائز ہے، مسلمانوں کو مدینہ پہنچنے کے بعد دشمنوں کے خلاف جنگ کی اجازت دی گئی تو اس میں اس اصول کی وضاحت کردی گئی۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

اذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌoالَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن یَّقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ o (الحج: ۳۹۔۴۰)

’’وہ لوگ یعنی مسلمان جن سے جنگ کی گئی اب ان کو جنگ کی اجازت دی جاتی ہے، یہ اس لیے کہ ان پرظلم کیاگیا اور اللہ ان کی نصرت پر پوری طرح قادر ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے علاقوں سے ناحق نکالے گئے، صرف اس لیے نکالے گئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۔‘‘

بات صاف ہے ان کو اس لیے جنگ کی اجازت دی جارہی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور وہ اپنے شہر (مکہ) سے ظالمانہ طور پر نکلنے پر مجبور کیے گئے۔ اس کے بعد ہی دوسرے سال رمضان میں اسلام کی پہلی اہم جنگ جنگ بدر ۲ ہجری میں پیش آئی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی ایک Pact کے ذریعہ مدینہ میں آباد یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کو میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مسلمان اور یہودی نئی ریاست مدینہ کے باشندے تھے، دونوں قوموں کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت تھی مدینہ پر حملہ کی صورت میں یہودیوں پر لازم تھا کہ وہ مسلمانوں کی مدد کریں جنگ میں شریک ہوں اور اس کے مصارف برداشت کریں انھوں نے میثاق یا Pact کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دشمنوں کا ساتھ دیا، اسی لیے ان یہودیوں کے خلاف بھی مدینہ کے مضافات اور خیبر میں جنگ کرنا پڑی۔

(۲)         باہمی مشورہ کیا جائے، جنگ احد کی مناسبت سے کہا گیا:

’’وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ‘‘  (آل عمران: ۱۵۹)

’’اور ان سے معاملات میں مشورہ کیا کرو۔‘‘

(۳)         جب جنگ کا پختہ ارادہ کرلیا جائے تو پھر اللہ پر پورا بھروسہ کرناچاہیے،تردد نہیں کرنا چاہیے۔ خدائے وحدہٗ لاشریک کاارشاد ہے:

فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنo (آل عمران: ۱۵۹)

’’(اوراے قرآن پڑھنے والے)جب تم نے عزم کرلیا تو اللہ پر توکل کرو اور اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔‘‘

(۴)         جنگ میں اپنی طاقت سے زیادہ اللہ کی نصرت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ احکم الحاکمین کا ارشاد ہے:

إِن یَنصُرْکُمُ اللّہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ وَإِن یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنصُرُکُم مِّن بَعْدِہِ وَعَلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکِّلِ الْمُؤْمِنُونَo(آل عمران: ۱۶۰)

’’اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں اور اگر اللہ تم کوچھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے علاوہ تمہاری مدد کرسکتاہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘

اپنی کثرت وطاقت کے گھمنڈ کا جوحشر ہوتا ہے اس کا ذکرسورہ توبہ میں اس طرح ہے:

لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّہُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍ وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنکُمْ شَیْئاً وَضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْۢo (التوبہ: ۲۵)

’’اللہ نے تمہاری بہت سے مواقع پر مدد کی اور جنگ حنین کے موقع پر بھی جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تم کو غرور میںمبتلا کردیا اور یہ تعداد کی کثرت تمہارے کام نہ آئی اورزمین اپنی تمام وسعت کے باوجود اس موقع پر تمہارے لیے تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔‘‘

جنگ حنین میں قبیلہ ہوازن وثقیف کے تیر اندازوں نے ان پر گھاٹیوں سے زبردست تیراندازی کی مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے وہ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے یہ اشعار پڑھتے ہوئے للکارا:

انا النبی لاکذب                                                      انا ابن عبدالمطلب

حضرت عباس کو جو آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑے کھڑے تھے حکم دیا کہ بھاگنے والے انصار و مہاجرین کو آواز لگائیں، ان کی آواز بلند تھی ان کے نعرے پر مسلمان واپس آئے گھمسان کی جنگ ہوئی اورمسلمان فتحیاب ہوئے۔

سورہ انفال میں اللہ رب العزت کاارشاد ہے:

وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ خَرَجُواْ مِن دِیَارِہِم بَطَراً وَرِئَاءَ  النَّاسِ وَیَصُدُّوْنَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَاللّہُ بِمَا یَعْمَلُونَ مُحِیْطٌo (انفال:۴۷)

’’اور ان لوگوں کی مانند نہ بننا جو اپنے گھروں سے اکڑتے اور لوگوں کے آگے اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے، اور جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، حالاںکہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ سب اللہ کے دائرہ علم میں ہے۔‘‘

(۵)         دورانِ جنگ اگر مسلمان کومشکلات پیش آئیں ، وہ زخمی ہوں یا شہید ہوں تو دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنے مورچوں یا پوزیشنوں پر جمے رہیں۔

وَکَأَیِّن مِّن نَّبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیْرٌ فَمَا وَہَنُواْ لِمَا أَصَابَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَکَانُواْ وَاللّہُ یُحِبُّ الصّٰابِرِیْنَo

(آل عمران:۱۴۶)

’’اور کتنے ہی انبیاء گزرے ہیں جن کے ساتھ ہوکر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ، تو وہ ان مصیبتوں کے سبب سے جو انھیں خدا کی راہ میں پہنچیں نہ تو پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی اور نہ دشمنوں کے آگے گھٹنے ٹیکے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کو پسند فرماتاہے۔‘‘

(۶)          دورانِ جنگ پیٹھ دکھا کر بھاگنا نہ چاہیے سوائے اس کے کہ اپنے حملے کی پوزیشن بدلنا ہو۔اللہ کا ارشاد ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ زَحْفاً فَلاَ تُوَلُّوہُمُ الأَدْبَارَoوَمَن یُوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہُ إِلاَّ مُتَحَرِّفاً لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَیِّزاً إِلَی فِئَۃٍ فَقَدْ بَاءَ  بِغَضَبٍ مِّنَ اللّہِ وَمَأْوَاہُ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُo

(الانفال:۱۵۔۱۶)

’’اے ایمان والو جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو، فوج کشی کی صورت میں تو ان کو پیٹھ نہ دکھائیو اور جو ان کو پیٹھ دکھائے بجز اس کے کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتا ہو یا کسی جماعت کی طرف سمٹ رہا ہو تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا، سو اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت بُراٹھکانا ہے۔‘‘

(۷)         دورانِ جنگ (جہاد) موت سے ڈرنا نہیں چاہیے:

وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّہِ وَرَحْمَۃٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَo(آل عمران: ۱۵۷)

’’اوراگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہوگے یا مروگے تو وہ مغفرت اور رحمت جو تمہیں اللہ کی طرف سے حاصل ہوگی اس سے کہیں بہتر ہے جو یہ (مال)جمع کررہے ہیں۔‘‘

(۸)         دشمن سے مقابلہ ہو تو ڈٹ کر لڑنا چاہیے اور کثرت سے اللہ کا ذکر زبان پر ہونا چاہیے۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُواْ وَاذْکُرُواْ اللّہَ کَثِیْراً لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَo(الانفال:۴۵)

’’اے وہ جو ایمان لائے ہو جب تمہارا کسی جماعت سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو زیادہ یاد کرو کہ تم کامیابی حاصل کرو۔‘‘

(۹)          جنگ کے موقع پر اپنے کمانڈر کی پوری اطاعت کرنا چاہیے، سوائے اس کے کہ وہ کسی حرام بات کا حکم دے۔ آپس میں اختلاف نہ کرنا چاہیے، جنگ بدر پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہا:

وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَo(الانفال:۴۶)

’’اور اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ تم پست ہمت ہوجاؤ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے، اورثابت قدم رہو، بیشک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔‘‘

(۱۰)        کمانڈر کو اپنی فوج کودشمن کی سمت لڑنے کی لیے بڑھانا چاہیے:

یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ إِن یَکُن مِّنکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُواْ مِائَتَیْنِ وَإِن یَّکُنْ مِّنکُمْ مِّئَۃٌ یَغْلِبُواْ أَلْفاً مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُونَo (الانفال:۶۵)

’’اے نبی مومنین کو جہاد پر ابھارو، اگر تمہارے بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر تمہارے سوہوں گے تو ہزار کافروں پر بھاری ہوں گے یہ اس وجہ سے کہ یہ (کافر) لوگ بصیرت سے محروم ہیں۔‘‘

چوں کہ رسول اللہ ﷺ غزوات کے موقع پر مسلمانوں کی افواج کے سپریم کمانڈر تھے آپ سے خطاب کیا گیا ہے فوج کے مورال کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ لازم ہے فوج کے قائدین اپنے فوجیوں کی ہمت بندھائیںان کی نظر فتح پر رکھیں ، کمانڈر ہی کم ہمتی اور بزدلی دکھائے گا تو اس کی فوج جنگ نہیں کرسکتی۔

(۱۱)         جنگ کی حالت میں زیادتیاں نہیں کرنی چاہیے، بوڑھوں اور عورتوں اور بچوں اور دیگر سویلین کوقتل نہیں کرنا چاہیے، نہ دشمن کے مقتول فوجیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرناچاہیے۔

وَقَاتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَo (البقرہ:۱۹۰)

’’جولوگ تم سے جنگ کرتے ہیں ان سے جنگ کرو اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

(۱۲)        جنگ اپنے دفاع میں ہونی چاہیے، یا اعلائے کلمۃ اللہ کے لیےقرآن میں بار بار جہاد فی سبیل اللہ عبارت اختیار کی گئی ہے۔ خالق کائنات کا ارشاد ہے:

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ الَّذِیْنَ یَشْرُونَ الْحَیْوٰۃَ الدُّنْیَا بِالآخِرَۃِ وَمَنْ یُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَیُقْتَلْ أَو یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ أَجْراً عَظِیْماًo(النسائ:۷۴)

’’وہ لوگ جنھوں نے دنیا کے عوض آخرت کا سودا کرلیا ہے ان کوچاہیے کہ وہ اللہ کے راستے میں جنگ کریں اور جوکوئی اللہ کے راستے میں جنگ کرے گا اور اس میں وہ قتل ہوجائے گا یا فتح یاب ہوگا تو ہر حال میں ہم اس کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔‘‘

یہی بات سورہ توبہ میں کی گئی ہے:

إِنَّ اللّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ o (التوبہ:۱۱۱)

’’بیشک اللہ نے اہل ایمان سے ان کے جان ومال کوجنت کے عوض خرید لیے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔‘‘

اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ضروری نہیں کہ سب کے سب غالب ہوں، وہ شہید بھی ہوسکتے ہیں لیکن کامیاب ہر حال میں وہی ہیں، ملک گیری اورکسی ملک کی دولت لوٹنے کے لیے جنگ جائز نہیں۔

(۱۳)       جنگ کا مقصود دنیا کا مال ودولت یا مادی فائدہ نہ ہونا چاہیے، جنگ بدر کے قیدیوں کےسلسلے میںاللہ تعالی کی طرف سے تنبیہ نازل ہوئی:

مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَّکُوْنَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِیْ الأَرْضِ تُرِیْدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّہُ یُرِیْدُ الآخِرَۃَ وَاللّہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌo لَّوْلاَ کِتَابٌ مِّنَ اللّہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌo

(الانفال:۶۷۔۶۸)

’’کسی نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ اس کو قیدی ہاتھ آئیں جب تک وہ ان کے لیے ملک میں ان کی خونریزی برپا نہ کردے، یہ تم ہو جو دنیا کے سروسامان کے طالب ہو، اللہ تو آخرت چاہتاہے، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے، اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہو تو جوروش تم نے اختیار کی اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آدھمکتا۔‘‘

(باقی آئندہ)

فروری 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau