مغربی مفکرین اور فلسفۂ مادیت

خان یاسر

﴿یہ مقالہ ۲۷/فروری۲۰۱۱ کو مرکز جماعت اسلامی ہند کے اسٹڈی اینڈ ریسرچ سنٹر کی نشست میں پڑھا گیا تھا۔ اس کی افادیت کے پیش نظر اسے ’’زندگی نو‘‘ میں شائع کیا جا رہا ہے۔  ادارہ﴾

حروف کو ایک خاص ترتیب سے یکجا کیا جائے تو الفاظ بنتے ہیں۔ اسی نہج پر الفاظ اکٹھا ہوں تو جملیبنتے ہیں۔ پھر جملوں کی عمدہ ترتیب سے مضامین اور کتابیں وجود میں آتی ہیں۔ یہ ساری قواعد اس لیے ہیں کہ لکھنے والا اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ تحریر بھی تقریر کی طرح اظہارِ خیال اور ترسیلِ پیام کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن تقریر کے بالمقابل تحریر کو صدیوں سے یہ شرف حاصل ہے کہ اسے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہزاروں سال قبل کے تحریری دفاتر آج بھی ان گزری ہوئی تہذیبوں اور اس دور کے افکارو خیالات کے ترجمان ہیں۔ جبکہ آواز کو محفوظ کرلینے کا فن ابھی پچھلی صدی کی ہی پیداوار ہے۔ پرانے زمانے کی جتنی تقریریں بھی آج موجود ہیں، وہ تحریری ذرائع سے ہی ہم تک پہنچی ہیں اور جو چیزیں تحریر نہیں کی گئیں وہ یا تو مٹ گئیں یا ان کی صورت کچھ ایسی مسخ ہوگئی کہ وہ کیا سے کیا ہوگئیں اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

کسی کلاسیکی تحریر(Classical Text)سے معلومات اخذ کرنا، اس کی تفسیر و توضیح کرناآج علم و تحقیق کے میدان میں باقاعدہ ایک فن کی حیثیت رکھتا ہے، جسے Hermeneuticsکہتے ہیں۔ کسی کلاسیکی تحریر سے معنی اخذ کرنے، اسے interpretکرنے کے کئی طریقے سماجی علوم میں رائج ہیں، لیکن ان میں سے تین بنیادی اہمیت کے حامل ہیں ﴿بقیہ اسی کی شاخیں ہیں یا انہی میں معمولی ردو بدل کا نتیجہ﴾۔ یہ تین طریقے درج ذیل ہیں:

﴿۱﴾  پہلا اور آسان طریقہ یہ ہے کہ مصنف نے اپنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس پر غور کیا جائے اور اس سے معنی اخذ کئے جائیں۔ اس اپروچ کو Textualismکہتے ہیں۔ Haecker, Plamenatz, Sabineوغیرہ اسی طریقے پر عامل ہیں۔

مثال کے طور پر جان اسٹوارٹ مل کہتا ہے کہ، ’’شخص اپنے جسم اور اپنی سوچ پر آپ حکمراں (sovereign)ہے‘‘ ، تو اس کا سیدھے سیدھ مطلب یہ ہے کہ وہ شخصی آزادی کی کھل کر حمایت کر رہا ہے۔ پھر اگر وہ کہتا ہے کہ عورتوں کو مردوں کے برابر کا درجہ ملنا چاہیے لیکن مردوں اور عورتوں کی ذمہ داریوں میں فرق ہے لہذا عورت کو آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے لیے گھریلو یا کاروباری کوئی بھی زندگی پسند کرلے تو اس کا صاف مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ وہ خاتونِ خانہ کے سبھا کی پری بننے کے خلاف تھا۔ ہاں! وہ عورتوں کو یہ آزادی ضرور دینا چاہتا تھا کہ انہیں خاتونِ خانہ بننا ہے یا سبھا کی پری اس کا وہ خود فیصلہ کرلیں۔

۲﴾ دوسرا طریقہ یہ فرض کرتا ہے کہ مفکرین اپنے زمانے سے آگے کی سوچتے ہیں۔ سماج ایسے لوگوں کی کبھی تائید نہیں کرتا جو مروجہ رسوم، رواج پر تنقید کریں اور اصلاح کی بات کریں۔ پھر رائج الوقت نظام پر تنقید اربابِ اقتدار مثلاً چرچ یا بادشاہ کے عتاب کو بھی دعوت دے سکتی ہے۔ لیکن اپنی بات کہنی بھی ضروری ہے، کہ یہ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ اس لیے مفکرین اپنی باتیں ایک قسم کی خفیہ زبان میں لکھتے ہیں۔ کئی بار جو کچھ ان کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے وہ سرے سے ان کا مطلب نہیں ہوتا۔ اصل مطلب اخذ کرنے کے لیے ان کی تحریروں میں موجود ’’کوڈس‘‘ کو ’’ڈی کوڈ‘‘ کرنا ضروری ہے۔ مفکرین ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ کتاب کی صورت میں ان کے خیالات کی عام اشاعت تو ہوجائے لیکن اس کی کنہ تک وہی لوگ پہنچیں جو عقلِ سلیم رکھتے ہوں، ان کی کتابیں نہ سنسر کی نذر ہوں، نہ اربابِ اقتدار کی ناراضی کا سبب بنیں۔ پھر جب آنے والا زمانہ ان کے خیالات کے لیے ساز گار ہو تو اس وقت ان کے خیالات لوگوں میں عام ہوں۔ یہ اپروچ Esotericismکہلاتا ہے اور اس کے موئدین میںاورLeo Straussاور Wolinجیسے مفکرین شامل ہیں۔ مثال کے طور پر جان اسٹوارٹ مل کا اصل پیغام شخصی آزادی ہے لیکن جب وہ یہ کہتا ہے کہ مردوں اور عورتوں کی ذمہ داریوں میں فرق ہے لہذا عورت کو آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے لیے گھریلو یا کاروباری کوئی بھی زندگی پسند کرلے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ عورتوں کی آزادی کے خلاف تھا۔ بلکہ وجہ یہ ہے کہ اس وقت کا سماج عورتوں کی اس قسم کی برابری پر کبھی تیار نہیں ہوسکتا تھا۔ لہذا مل نے شخصی آزادی کے تصور پر اپنی بحث کو مرکوز رکھا اور عورتوں کے تعلق سے وہیں تک باتیں کیں جہاں تک زمانہ برداشت کرسکتا تھا۔

﴿۳﴾  تیسرا طریقہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہر مفکر اپنے دور کی پیداوار ہوتا ہے۔ وہ زمانے سے کتنا ہی آگے کیوں نہ سوچ لے اس کی پرواز کی ایک حد ہوتی ہے، اس دائرے سے باہر اس کی سوچ کا پرندہ اڑان نہیں بھر سکتا۔ اس لیے کسی بھی فکر کو مفکر کی ذاتی زندگی اور مفکر کے ماحول سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس اپروچ کو Contextualism کہتے ہیں۔ Quentin Skinner اور JGA Pocock نے interpretationکے اس طریقے کو باقاعدہ ایک سائنس کی شکل دی ہے۔ مثال کے طور پر جان اسٹوارٹ مل نے اگر شخصی آزادی پر زور دیا ہے تو اس نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ اپنی ذاتی زندگی میں اسے کسی قسم کی کوئی آزادی حاصل نہیں تھی۔ اس کا باپ اس پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کیے ہوئے تھا۔ اس کے کھانے، پینے، اٹھنے، بیٹھنے حتی کہ پڑھنے پر بھی پہرے تھے۔ ان پابندیوں سے وہ اتنا دل برداشتہ تھا کہ بیس سال کی عمر میں ہی اسے دماغی شکایتیں لاحق ہوگئی تھیں۔ ذاتی زندگی کے یہ تلخ تجربات اسے شخصی آزادی کی اہمیت سمجھا گئے۔ عورتوں سے متعلق اس کے جو خیالات تھے وہ اس لیے تھے کہ اس وقت کے سماج میں جان اسٹوارٹ مل جیسا ذہین مفکر بھی اس کے آگے کی نہیں سوچ سکتا تھا۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے ارسطو نے کئی یونانی ڈھکوسلوں کے خلاف احتجاج کیا اور یونانی سماج کے کئی پہلوؤں پر تنقید کی، اس کا استاد افلاطون بھی اس کی زد سے بچ نہیں سکا۔ لیکن اس کے باوجود اس نے یونانی قوم کی دیگر اقوام پر فوقیت اور دیگر اقوام کا قدرتی طور پر یونانیوں کا غلام ہونا جیسی باتوں سے اتفاق کیا۔ کیونکہ اس وقت کے سماج میں اس کا ذہن غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک کی طرف تو جاسکتا تھا اور گیا، لیکن غلاموں کی آزادی کی طرف نہیں جاسکتا تھا اور نہیں گیا۔

ان تینوں میں سے تیسرا طریقہ متعدد وجوہ کی بنا پر قابل ترجیح ہے۔ لیکن تینوں کی اپنی اپنی افادیت ہے۔ لہذا یہاں ہم تحریر کے ساتھ ساتھ مصنف کے ذاتی حالات اور ماحول پر بھی نظر رکھیں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ اس کی تحریر میں اگر کوئی خفیہ پیغام پنہاں ہے تو وہ کیا ہے؟

سی ای ایم جوڈ نے ایک مرتبہ سوشلزم کی تعریف کچھ یوں بیان کی: سوشلزم ایک ایسی ٹوپی ہے جو اپنی اصل شکل کھوچکی ہے کیونکہ اسے ہر کوئی پہنتا ہے۔مراد اس سے یہ تھی کہ سوشلزم کا مطلب اس بات پر منحصر ہے کہ کون اس لفظ کا استعمال کر رہا ہے۔ سماجی علوم کی اکثر اصطلاحات کا یہی حال ہے۔ لہذا آگے بڑھنے سے پہلے بہتر ہوگا کہ ہم لفظ ’’مادیت‘‘یا materialismپر ٹھہر کر غور کرلیں۔مادیت سماجی علوم میں عموماً دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

﴿۱﴾  روحانیت کا ایک تصور یہ ہے کہ اس دنیا میں مادہ نام کی کوئی شئے نہیں ہے۔ صرف روح ہے۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے ﴿خوشی، غم، درد وغیرہ﴾یہ سب ویسا ہی ہے جیسا احساس ہمیں خواب میں ہوتا ہے۔ لیکن ان سب کی اس سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں جتنی خوابوں کی ہوتی ہے۔ روحانیت کے اس تصور کے بر خلاف کہ مادہ کچھ نہیں بلکہ ’’مایا‘‘ ہے؛ مادیت کے ایک معنی یہ ہیں کہ مادہ فی الواقع ایک حقیقت ہے ۔

﴿۲﴾  مادیت کا دوسرا تصور یہ ہے کہ مادہ ہی فی الواقع حقیقت ہے۔ دوسرے الفاظ میں مادہ کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس تصور سے جہاں خوشی، غم اور درد جیسے احساسات کو مختلف ہارمون اور پروٹین سے جوڑ دیا جاتا ہے، وہیںخوابوں کو انسان کی خواہشوں، مذہب اور خدا کے تصور کو عہد ماضی کے باقیاتِ غیر صالحات قرار دیا جاتا ہے۔

پہلی قسم کی مادیت ایک حقیقت ہے، جسے اسلام تسلیم کرتا ہے۔ جبکہ دوسری قسم کی مادیت جسے بجا طور پر مادہ پرستی کہنا درست ہے اسلام اس کا مخالف ہے کہ مادہ سے ماورائ روح کی حقیقت بھی اسی دنیا میں پائی جاتی ہے۔ جذبات کی مادی تشریح پر بھی سوالیہ نشان لگائے جاسکتے ہیں، لیکن فی الحال یہاں اس کا موقع نہیں ہے۔ مادیت کی یہی دوسری قسم یہاں ہمارے لیے موضوعِ بحث ہے۔

پرانے زمانے سے روحانیت میں غلو اگر رہبانیت اور شرک کی صورت میں موجود رہا ہے تو مادیت میں غلو خدا اور آخرت کے انکار کی صورت میں بھی موجود رہا ہے۔ یعنی یہ رجحان کہ اس دنیا میں مادہ ہی اصل ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور حقیقت نہیں پائی جاتی کوئی نیا نظریہ نہیں ہے۔ بلکہ ہر جاہلیت کی طرح یہ بھی پرانی جاہلیتوں کا ایک نیا ایڈیشن ہے۔ یونانی، رومی، ایرانی جاہلیتوں سے لے کر مکی جاہلیت تک میں اس کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ اس نظریے یعنی خدا کے انکار، کائنات کا اتفاق سے وجود میں آجانا، مر کر مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر تعجب کا اظہار کرنا وغیرہ پر قرآن میں بھی جابجا تنقیدیں ملتی ہیں۔

لیکن مادیت کے موجودہ ایڈیشن کے ساتھ ایک بات ضرور خاص ہے اور وہ یہ کہ موجودہ زمانے میں مادہ پرستی ایک مسلک (School of thought)، اور ایک disciplineکی شکل اختیار کر چکی ہے۔ پہلے اگر مادہ پرست خال خال پائے جاتے تھے تو اب اکثریت اس مرض میں مبتلا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں سے تھوک کے حساب سے مادہ پرست سماجی بازار میں اتارے جا رہے ہیں۔ اب مادہ پرستی انفرادی طور پر خدا کے انکار یا تشکیک کی حدود سے آگے بڑھ کر سماجی، معاشی اور سیاسی دائرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ سیاست میں سیکولرزم اور جمہوریت اسی کے شاخسانے ہیں۔ معیشت میں سود اور استحصال کا جواز یہیں سے برآمد ہوتا ہے۔ سماج میں عریانیت اور بدکاری سے لے کر ہم جنس پرستی کے مظاہر اسی بیج سے پھوٹتے ہیں۔ سائنس میں نظریۂ ارتقائ اور تاریخ کی جدلیاتی مادی تعبیر اسی کا نتیجہ ہے۔ الغرض آنکھیں کھول اگر ہم اپنے چاروں طرف دیکھیں تو مادہ پرستی کی آگ کی لپٹوں میں خود کو جھلستا ہوا پائیں گے۔ مسلمانوں میں یہ مادہ پرستی الوہیت میں تشکیک کی بجائے جہیز، کریرزم، کنزیومرزم اور ایسے ہی دیگر راستوں کے ذریعے نفوذ کر رہی ہے۔ لیکن مادہ پرستی کی اس آگ سے دنیا کو نجات دلانے کا نسخہ بھی ہمارے ہی پاس ہے۔

مادہ پرستی کے اس غلبے کا سبب کیا ہے؟ یوں تو اس کے مختلف اسباب گنائے جاسکتے ہیں، لیکن میری نظر میں اس کے بنیادی سبب صرف دو ہیں:

﴿۱﴾       چرچ کی سیادت میں عیسائیت کا مذہبی تصور فرسودہ ہوچکا تھا۔ مثال کے طور پر تثلیث کا عقیدہ، روٹی خون، اور کفارے وغیرہ کے عقیدے اب لوگوں خصوصاً ذہین اور تعلیم یافتہ طبقے کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہ تھے۔خدا کی لمبائی چوڑائی کے عقیدے، زمین کی پیدائش سے متعلق بائبل کی تصریحات، نسل انسانی سے متعلق بائبل کے بیانات، مادی حقائق کی غیر ضروری تفصیلات مثال کے طور پر زمین کا کائنات کا مرکز ہونا وغیرہ ایسے تصورات تھے، جنھیں سائنس نے تجرباتی بنیادوں پر جھٹلادیا تھا۔

۲﴾           مذہب کے اس فرسودہ تصور کے خلاف جس گلے نے آواز بلند کی اسے دبا دیا گیا۔ گلیلیو، برونو اور نہ جانے کتنوں کو چرچ نے تعذیب کا شکار بنایا۔ زیادہ تفصیل میں جائے بغیر میں ول ڈورانٹ کی کتاب  The Story of Civilisationسے کچھ اعدادو شمار پیش کرتا ہوں: 1480-1488 کے درمیان چرچ نے 8800 افراد کھمبوں سے باندھ کر جلادیے اور 96,494 افراد کو دردناک سزائیں دیں۔ 1480 سے1808 کے مکمل عہد کا اندازہ لگا یا جائے تو یہ تعداد 31,912 دردناک اموات اور 2,91,450 افراد کو تعذیب و تشدد اور قید کی سزاؤں تک پہنچ جاتی ہے۔ اہل عقل، اہل علم اور اہل سائنس کو چرچ کے اس ظلم و ستم پر چرچ سے جو مخاصمت تھی وہ فطری تھی۔ چرچ کے مذہبی تصور نے انھیں دین سے بیگانہ کردیا، تو چرچ کے ذمہ داران کی اخلاقی بدحالی، بدکاری، اور مغفرت کے سرٹیفیکیٹ بیچنے جیسی حرکات نے پادریوں کا تقدس بھی ختم کردیا۔ چرچ کے ظلم و ستم نے مذہب کو برداشت کرنے کی قوت بھی سلب کرلی۔ تعذیب کی زنجیروں میں جکڑا ہوا انسان جب آزاد ہواتو اس نے اخلاقی قدروں کا زیور بھی اتار پھینکا۔ دین و دنیا اور قیصر اور خدا کے حقوق میں تقسیم کردی گئی۔ دودھ کا جلا ہوا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پینے لگا اور آج تک پئے چلا جارہا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ اہل سائنس نے مذہب اور ہر اخلاقی قدر سے رشتہ توڑ کر مادیت کے سایے میں پناہ لی۔ یقینا یہ ایک بڑا قدم تھا اور اس کے لیے مفکرین نے عوام کو دلائل فراہم کیے۔ آج بھی ان دلائل و افکار کا سماج میں بول بالا ہے۔ اور انھی میں سے کچھ افکار کا ہم یہاں مطالعہ کرنے جارہے ہیں۔یہاں میں یہ بات واضح کردوں کہ چند مخصوص مفکرین کے ان خیالات کا مطالعہ مقصود ہے جن پر مادہ پرستی کی گہری چھاپ ہے۔ ان کے مکمل افکار اور قابل تعریف باتوں کا تذکرہ ﴿جو یقینا ان میں پائی جاتی ہیں﴾ اگر موقع کی مناسبت سے ہوجائے تو فبہا ورنہ وہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔

میکیاولی(1469-1527)

میکیاولی اٹلی کے شہر فلورنس کا رہنے والا تھا۔ جہاں ایک مدت تک میڈیسی خاندان کی بادشاہت قائم تھی۔لیکن 1498میں وہاں ایک عوامی جمہوریت کی بنا ڈالی گئی۔ میکیاولی اسی جمہوری دور میں فلورنس کی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہوا۔ لگاتار ترقی کرتے ہوئے اور کئی سفارتی خدمات انجام دینے کے بعد اس کے کریئر کا نازک موڑ تب آیا جب 1512میں میڈیسی خاندان نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ میکیاولی کو باغیوں میں شمار کیا گیا، اسے گرفتار کیا گیا، پھر بے گناہی کے ثابت ہوجانے پر رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد خالی ایام میں میکیاولی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب The Prince لکھی، جس میں اس نے اپنے تجربات کی روشنی میں اٹلی کے استحکام سے متعلق بادشاہِ وقت کو متعددمشورے دیے ہیں۔ اور یہی میکیاولی کے افکار کا خلاصہ ہے۔

Esotericistطریقے سے اگر میکیاولی کے افکار کا جائزہ لیا جائے جیسا کہ کچھ مفکرین نے کوشش کی ہے تو یہ باتیں سامنے آتی ہیں کہ میکیاولی جمہوری قدروں کا حامی تھا اور اس نے یہ ساری باتیں بادشاہِ وقت کی خوشنودی کے لیے لکھی تھیں۔ اس لیے اس نے اپنی کتاب میں بادشاہ کو بار بار عوام کے تئیں حساس رہنے کی بات کہی ہے۔ کچھ مفکرین یہ کہتے ہیں کہ پرنس میں میکیاولی نے بے رحمی کی تائید اس لیے کی ہے کہ بادشاہ اس کے مشورے پر عامل ہو اور عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ لیکن ان گمانوں کے ثبوت کے لیے ان مفکرین کے پاس دوردراز تاویلات کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔

Contextualistطریقے سے البتہ اگر میکیاولی کے افکار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ میکیاولی اٹلی کی مختلف ریاستوں کی باہمی خانہ جنگی سے نالاں تھا ۔ وہ ایک متحد اور طاقتور اٹلی کا خواب دیکھتا تھا۔ وہ اٹلی میں ایک بار پھر رومی سلطنت جیسی قوت دیکھنے کا خواہاں تھا۔ اس لحاظ سے اپنے تجربات کی روشنی میں اس نے کچھ باتیں لکھیں۔ فلورنس کے جمہوری دور میں عدم استحکام دیکھ کر وہ جمہوریت سے مایوس ہوگیا تھا، چرچ کی صورتحال نے اسے مذہب اور اخلاق سے برگشتہ کردیا۔ عیسائیت کو اس نے اٹلی کے زوال کا ایک اہم سبب قرار دیا۔ ان سب کے باوجود اس کتاب کے لکھنے سے وہ اپنا ایک ذاتی مفاد بھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ کتاب کے شروع اور آخر کا خوشامد بھرا حصہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ بادشاہِ وقت کو اپنی وفاداری اور خیر خواہی کا یقین دلانا چاہتا تھا۔ تاکہ اسے اس کے پرانے عہدے پر بحال کردیا جائے۔میکیاولی کو نشاۃ ثانیہ کے دور کا اہم ترین مفکر قرار دیا جاتا ہے۔ اپنے افکار کی وجہ سے جتنا بدنام میکیاولی رہا ہے شاید ہی ویسی بدنامی کسی اور مفکر کے حصے میں آئی ہو۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ اسے گالیاں دینے والوں اور اس کی تعریف کرنے والوں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں عمل اسی کے فلسفے پر کرتے ہیں۔ اب ہم اس کی کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔مختصراً اس کے افکار درج ذیل ہیں:

٭ میکیاولی اپنی کتاب کے آغاز میں بذریعہ جنگ بادشاہ کو اپنی سرحدیں پھیلانے کا مشورہ دیتا ہے۔ یہاں وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ نئے علاقوں پر قبضہ کرلینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے، لیکن ان پر قبضہ برقرار رکھنا خصوصاً جبکہ ان کی زبان، رسم و رواج اور رہن سہن کے طور طریقے الگ ہوںانتہائی مشکل ہے۔ ایسے میں ایک بادشاہ کو کیا کرنا چاہیے ، اس سلسلے کا ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ ’’بادشاہ کو نئے علاقے میں اپنی نوآبادی قائم کرلینی چاہیے ۔ یہ کوئی مہنگاکام نہیں ہے۔ زمینوں اور مکانوں کے مالکان معمولی یا بغیر کسی معاوضے کے بھگائے جا سکتے ہیں۔ یہ لوگ تعداد میں اتنے کم ہوں گے کہ کسی مزاحمت کے لائق نہ ہوں گے‘‘۔ سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتا ہے ’’عوام کو یا تو چمکارلینا چاہیے یا برباد کردینا چاہیے ۔ کیونکہ اگر انہیں صرف معمولی نقصان پہنچا کر چھوڑ دیا گیا تو وہ بدلہ لینے پر آمادہ ہوجائیں گے ۔ لہذا اگر نقصان پہنچانا ہی ہے تو کچھ ایسا پہنچانا چاہیے کہ دوبارہ ان کی طرف سے کسی مزاحمت اور بدلے کا خدشہ نہ رہے۔‘‘

٭ میکیاولی تاریخ کو بہت اہمیت دیتا ہے اور کامیابی کے لیے اس بات کو ضروری جانتا ہے کہ کامیاب لوگوں کے نقشِ قدم پر چلا جائے۔ اپنی کتاب میں وہ کچھ ایسے ہی ’’کامیاب‘‘ لوگوں کا تذکرہ کرتا ہے جن کے نقش قدم پر چل کر کوئی بادشاہ اپنی منزل مراد تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک مثال الیکژنڈر ششم کی ہے، اس نے کیسے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا اس کے بارے میں میکیاولی لکھتا ہے، ’’الیکژنڈر ششم نے ان تمام رئیسوں کے خاندان کے افراد کو چن چن کر قتل کردیا جنہیں اس نے برباد کیا تھا‘‘ یا اقتدار کی دوڑ میں وہ جن سے آگے نکل آیا تھا تاکہ اس سے بدلہ لینے کا دعویدار یا کوئی حریف زندہ نہ رہے۔ پھر اس نے بتایا ہے کہ کیسے کمال عیاری سے الیکژنڈر ششم نے کرائے کے cardinalsکے ذریعے پوپ کے اقتدار کو کم کرکے اپنی طاقت بڑھائی وغیرہ۔ اسی طرح ایک اور بادشاہ سیورس کا قصہ وہ تفصیل سے نقل کرتا ہے کہ کس طرح چالبازی اور دھاندلی سے اس نے اقتدار حاصل کیا۔میکیاولی لکھتا ہے:‘‘سیورس نے جب یہ دیکھا کہ وہ دونوں دشمنوں سے ایک ساتھ نہیں لڑ سکتا تو اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ نائجرپر حملہ کرے گا اور البائینوس کو دھوکہ دے گا۔ لہذا اس نے البائینوس کو خط لکھا کہ گو سینیٹ نے سیورس کو ہی بادشاہ چنا ہے لیکن وہ اس شرف میں البائینوس کو بھی حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ اس نے سینیٹ پر دباؤ ڈال کر البائینوس کو بھی برابر کا بادشاہ ڈیکلئیرکرادیا ۔اس کے بعد اس نے نائجر کا صفایا کردیا ، پھر وہ روم آیا اور سینیٹ سے شکایت کی کہ البائینوس نے باوجود اس کے احسانات کی بارش کی، اسے قتل کرنے کی سازش رچی تھی۔ اس کے بعد اس نے البائینوس کو بھی قتل کردیا۔‘‘

٭ انسان کی فطرت سے متعلق بحث کرتے ہوئے میکیاولی بادشاہ کو مشورہ دیتا ہے کہ لوگوں کا بادشاہ سے ڈرنا اس سے محبت کرنے سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ، ’’تمام ہی انسانوں کے بارے میں یہ عام اصول ہے کہ وہ ناشکرے، جھگڑالو، جھوٹے اور دھوکے باز ہوتے ہیں؛ خطرات سے ڈرنے والے اور فائدوں کے حریص۔ اگر آپ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے تو وہ آپ کے ساتھ رہیں گے، جب تک آپ کے ساتھ رہنے میں کوئی خطرہ نہ ہو۔لیکن خطرے کا وقت آتے ہی وہ ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ محبت ایک ایسی چیز ہے جسے وہ کبھی بھی اپنے فائدے کے لیے قربان کرسکتے ہیں لیکن ڈر میں چونکہ سزا کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے اس لیے انہیں قابو میں رکھتا ہے‘‘۔ انسان کی فطرت پر ایک کڑا تبصرہ کرتے ہوئے میکیاولی یہ بھی کہتا ہے کہ، ’’انسان اپنے باپ کی موت کو جلد ہی بھلا دیتا ہے لیکن کھوئی ہوئی جائیداد کو بھلا پانا اتنا آسان نہیں ہوتا‘‘ ۔

٭ میکیاولی کے مطابق بادشاہ کو بے رحم ہونا چاہیے اور بے رحمی ایک پسندیدہ صفت ہے۔ لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ متعدد بے رحم بادشاہ بھی ناکام ہوئے ہیںلہذا میکیاولی اس بارے میں کہتا ہے کہ، ’’میرا ماننا ہے کہ یہ ﴿ کامیابی یا ناکامی﴾ اس بات پر منحصر ہے بے رحمی کا استعمال احسن طریقے سے کیا گیا ہے یا بھونڈے طریقے سے‘‘۔ بے رحمی کے اچھے استعمال سے میکیاولی کی مراد ہے کہ، ’’بے رحمی کو اچانک استعمال کیا جائے، اسے بار بار استعمال نہ کیا جائے﴿بلکہ ایک shock therapyکے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عوام میں مزاحمت کے جذبات پرورش نہ پاسکیں﴾‘‘ بے رحمی کا برا استعمال یہ ہے کہ اس کو تھوڑا تھوڑا استعمال کیا جائے، بار بار استعمال کیا جائے اور اس کا استعمال وقت کے ساتھ ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا جائے۔ مختصراً یہ کہ میکیاولی کے مطابق ’’اچھے ہتھیارہی اچھے قانون کی بنیاد ہیں۔‘‘

٭ اسی خیال کی مزید توضیح کرتے ہوئے میکیاولی کہتا ہے کہ،‘‘ ایک بادشاہ کو جنگ کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بادشاہوں نے جب جب جنگ کو چھوڑ کر تہذیب و ترقی اور زندگی کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے انہوں نے اپنا مقام اور رتبہ کھودیا ہے۔‘‘ یہاں پھر وہ انسان کی فطرت پر ایک وار کرتے ہوئے زور دیتا ہے کہ، ’’یہ سوچنا کہ ایک مسلح آدمی ایک غیر مسلح کی اتباع کرے گا غیر دانشمندی کی علامت ہے۔‘‘

٭ اخلاقیات کا کوئی کائناتی تصور میکیاولی کے یہاں نہیں پایا جاتا۔ میکیاولی وہ پہلا مفکر ہے جس نے ببانگ دہل اس بات کا اعلان کیا کہ دنیا میں مستقل اقدار کا کوئی وجود نہیں ہے۔ لہذا بادشاہ کو بھی میکیاولی کا یہ مشورہ ہے کہ وہ اخلاق و کردار کے جنجال میں نہ پھنسے۔ میکیاولی بادشاہ کو بڑی تفصیل سے دوغلی اخلاقیات کا پاٹھ پڑھاتا ہے۔ اس کے مطابق، ’’اچھائیاں وقت کے مطابق بدلتی رہتی ہیں‘‘ ۔ اچھائیوں اور اچھی قدروں سے عموماً جو معنی اخذ کئے جاتے ہیں اس کے بارے میں میکیاولی کہتا ہے کہ، ’’کوئی بھی آدمی جو ہر وقت اچھا بننے کی کوشش کرے گا وہ یقینا برباد ہو جائے گا کیونکہ اسے ان لوگوں کے بیچ رہنا ہے جو اچھے نہیں ہیں۔ اس لیے ایک بادشاہ کو ’’کیسے اچھے نہیں رہنا ہے‘‘کا فن سیکھ لینا چاہیے ’’۔ وہ آگے لکھتا ہے، ’’ایک بادشاہ کو عام برائیوں میں ملوث ہوکر بدنام ہوجانے سے گریز کرنا چاہیے … لیکن اگر کسی برائی میں ملوث ہونا ہی پڑے تو اسے اس کے بارے میں زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسی کسی بدنامی سے نہیں ڈرنا چاہیے جو ان ریاست کے استحکام کے لیے ضروری برائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ لگے۔ کتنے ہی ایسے بھلے قدم ہیں جو اگر اٹھالیے جائیں تو بربادی مقدر بنے اور کتنی ہی ایسی برائیاں ہیں جنہیں کر گزرنے پر تحفظ اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے‘‘۔ میکیاولی گو کسی اخلاقی قدر پر ایمان نہیں رکھتا لیکن چونکہ بادشاہ کو ایسے لوگوں پر حکومت کرنی ہوتی ہے جو ان ’’ڈھکوسلوں‘‘ کو مانتے ہیں اس لیے وہ بادشاہ کو مذہب اور اخلاق کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے جس سے مثال کے طور پر عوام کو کسی دشمن کے خلاف اکسایا جا سکے۔ اس کام کے لیے کم از کم ایسا دکھنا ضروری ہے کہ بادشاہ خود اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہے اس لیے میکیاولی بادشاہ کو کھلے عام ریاکاری کا مشورہ دیتے ہوئے کہتا ہے، ’’اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ کو سخی اور فیاض جانا جائے تو آپ کو کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑنا چاہیے جسکے ذریعے آپ اپنی عنایات کا اشتہار کرسکیں‘‘۔ بادشاہ کو تاریخ کا ایک اہم سبق پڑھاتے ہوئے میکیاولی لکھتا ہے کہ، ’’اُن بادشاہوں نے نمایاں ترین کامیابی حاصل کی ہے جنہوں نے اپنے وعدوں کی پاسداری پر کم دھیان دیا‘‘۔ اپنے دہرے اخلاق کی اس مسلک کی تفصیل سے تشریح کرتے ہوئے وہ کہتا ہے، ’’ایک بادشاہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ درندوں کا کردار کیسے ادا کرے۔ اسے شیر اور لومڑی کی نقل کرنی چاہیے … آپ کو ایک لومڑی ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کے بچھائے ہوئے جالوں سے ہوشیار رہیں اور ایک شیر تاکہ بھیڑیوں سے مقابلہ کرسکیں۔ جو لوگ ہمیشہ شیر بنے رہنا چاہتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ ایک عقلمند بادشاہ کو کبھی اپنے وعدے ایفا نہیں کرنے چاہیے ، جب ایسا کرنا اس کے مفادات کے خلاف ہو۔ اگر تمام انسان اچھے ہوتے تو یقینا ایسا کرنا برا تھا لیکن جب تمام ہی انسان برے ہیں تو ہم پر اکیلے اخلاقیات کا بار اٹھانے کی ذمہ داری نہیں ہے… آپ کو سخت جھوٹا، مکار اور منافق ہونا چاہیے ۔ عوام اس قدر سیدھے، اور اپنی فوری ضروریات کی تکمیل میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ ایک دغاباز شخص کو ہزاروں ایسے افراد مل جائیں گے جو بیوقوف بننے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہوں گے‘‘۔ اس کا یہ مشورہ کہ بادشاہ کو کسی حال میں بھی یعنی صراحتاً غلط ثابت ہوجانے پر بھی اپنے فیصلے تبدیل نہیں کرنے چاہیے بھی اس زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

تھامس ہابس (1588-1679)

ہابس کا فلسفہ پڑھتے ہوئے ایک شخص کو بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ کسی ایسے شخص کے خیالات ہیں جس میں میکیاولی کی روح سما گئی ہے۔ انسانی فطرت کے تعلق سے ہابس کے خیالات اتنے ہی بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی مایوس کن ہیں جتنے کہ میکیاولی کے۔ ہابس ایسے دور میں پیدا ہوا جب انگلستان داخلی خلفشار، فساد اور خانہ جنگی کے دور سے گزر رہا تھا۔ خود اس کا کہنا ہے کہ، ’’ڈر اور میں جڑواں پیدا ہوئے ہیں‘‘۔ انہی وجوہات کی بنا پر وہ کہتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ڈر اور تحفظِ ذات یہ دو بنیادی محرکاتِ عمل ہیں ۔ اور اکثر انسان ان محرکات کے تقاضے پورے کرتے کرتے دوسرے انسانوں سے ٹکرا جاتا ہے۔انسان ہابس کے مطابق الگ تھلگ، خود غرض اور انانی ہوتا ہے، وہ خوشیاں بٹورنا اور درد سے بچنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے اور کچھ بھی کر گزرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اس کی زندگی کا اس کے علاوہ کوئی اور اعلیٰ مقصد نہیں ہوتا، یا کم از کم قدرتی طور پر نہیں ہوتا، انسان جب محفوظ ہو اور جب اس کے پاس کھانے کے لیے ہو تو بعد میں اس قسم کے مقاصد پیدا کر لیتا ہے۔ انسان کبھی جیو اور جینے دو کے فلسفے پر عامل نہیں رہتا وہ یہ چاہتا ہے کہ دوسرے اس کے رحم و کرم پر جئیں۔ ہابس کے الفاظ میں، ’’انسان میں قوت پر قوت حاصل کرنے کی ایک مستقل خواہش ہوتی جو قبر میں ہی ختم ہوتی ہے‘‘۔ انسانوں سے ہابس اتنا مایوس ہے کہ وہ کہتا ہے کہ، ’’انسانوں کی صحبت میں درد کے سوا کچھ بھی نہیں مل سکتا‘‘۔ ہابس کے نزدیک خانہ جنگی ، لامرکزیت اور لاقانونیت سب سے بری چیزیں ہیں۔ اور امن و امان کا قیام حکومت کا اہم ترین مقصد۔

سماج اور ریاست کی ابتدا کیسے ہوئی؟ یہ سوال ہابس کے فلسفے کا نقطۂ آغاز ہے۔ وہ خیالی قدرتی حالت جس میں اولین انسان رہے ہوں گے اسے ہابس State of Nature کا نام دیتا ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہابس انسانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد شک ، دشمنی اور بدگمانی کو قرار دیتا ہے۔ اس قدرتی حالت میں کوئی قانون، کوئی انصاف، کوئی معیار صحیح و غلط نہیں ہوتا کہ یہ ساری چیزیں مصنوعی ہیں۔ خاندان مصنوعی ہے، سماج مصنوعی ہے، ریاست مصنوعی ہے، اخلاق مصنوعی ہیں ، ہرہر معیارِ خیر و شر مصنوعی ہے۔ اس لاقانونیت کی حالت میں ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگلتی رہتی ہے۔ ہابس کی اس خیالی قدرتی حالت میں جب دو اجنبی انسانوں کا ایک دوسرے سے سامنا ہوتا ہے تو وہ کچھ یوں سوچتے ہیں، ’’ہوسکتا ہے کہ یہ میرا دوست ہو، لیکن اس کا بھی امکان ہے کہ اس کی نیت صاف نہ ہو اور یہ موقع پاکر مجھے قتل کردے اور میری چیزوں پر قابض ہوجائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ میں اسے ختم کرکے اس کی اشیائ پر قبضہ کر لوں‘‘۔ دونوں شخص اسی نہج پر سوچتے ہیں جو پہلے سوچ لیتا ہے وہ پہلے حملہ کردیتا ہے اور دوسرے کو اپنا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ایسے ماحول میں کوئی حقوق و فرائض نہیں ہوتے۔ لیکن ہابس کہتا ہے کہ ہر شخص کو ہر شئے پر حق حاصل ہوتا ہے۔ یہright to all thingsگو سبھی کو حاصل ہوتا ہے جس میں دوسرے انسانوں کی جان و مال بھی شامل ہے لیکن اس حق کا استعمال وہی کر پاتے ہیں جو زورآور ہوں۔

اس افراتفری اور عدم اطمینان کی حالت سے نکلنے کے لیے تمام ہی افراد ایک سماجی معاہدہ یا Social Contractکرتے ہیں۔ اس معاہدے میں ہر فرد ایک ہی حلف لیتا ہے؛ ’’میں اپنے تمام حقوق بادشاہ (Leviathan)کے سپرد کرتا ہوں اگر سبھی ایسا کرنے پر راضی ہوں‘‘۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ایک ریاست وجود میں آتی ہے۔ اس ریاست کا حاکم Leviathanخود مختار ہوتا ہے جو کسی کے آگے جوابدہ نہیں ہوتا۔ وہ کسی قانون کا پابند نہیں ہوتا بلکہ خود قانون ہوتا ہے۔ Leviathanسماج سے الگ اور سماج سے اوپر ایک وجود ہوتا ہے، جو سماج کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹکتا رہتا ہے۔ سماج کا اس سے رشتہ خوف کا رشتہ ہوتا ہے۔ حیران کن طور پر Leviathanاس سماجی معاہدے کا پابند بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اسے یہ کلی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اسے اپنے منصب سے ہٹایا نہیں جاسکتا یعنی سماجی معاہدے کو کالعدم قرار دینا نا ممکن ہے۔ ہابس انتہائی ہچکچاہٹ کے ساتھ بغاوت کا اختیار اس شخص کو دیتا ہے، جس کی جان کے پیچھے Leviathanہاتھ دھو کر پڑ جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ بالفرض محال بغاوت ہو بھی جائے اور اتفاق سے کامیاب بھی ہوجائے تو ہابس کے مطابق سماج دوبارہ قدرتی حالت کے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے لگتا ہے۔

Leviathanجیسے جابر کی اطاعت بھلا کیوں کی جائے؟ اس سوال کا جواب ہابس نے کافی شرح و بسط سے دیا ہے۔ اسے ہابس کی Theory of Political Obligationکہتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس کی دلیل یہ ہے کہ Leviathanکی اطاعت اس لیے ہونی چاہیے کہ اگر فرد اطاعت نہ کرے گا تو سزا پائیگا۔ ہابس یہاں اخلاق اور مذہب کا حوالہ بھی دیتا نظر آتا ہے صرف اس لیے کہ لوگ اس کے تقدس پر ایمان رکھتے ہیں وہ کہتا ہے کہ چونکہ معاہدے کی پاسداری اخلاقی فریضہ ہے لہذا معاہدے کی پابندی ضروری ہے اور ملک کا قانون یعنی حاکم کا حکم دراصل خدا کا حکم ہے اس لیے اس کی پابندی ہونی چاہیے ۔ ہابس Leviathanکو ’’زمین پر خد‘‘ا یا ’’فانی خدا‘‘ کا لقب دیتا ہے۔

فرائڈ(1856-1939):

فرائڈاس بات پر مذکورِبالادونوں مفکرین سے متفق ہے کہ انسان ایک مادی مخلوق ہے اور اخلاق محض ڈھونگ ہیں، دنیا میں کوئی کائناتی قدر نہیں پائی جاتی۔ فرائڈ ڈارون کے فلسفے کو تسلیم کرتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ حیوانات جس طرح اپنی فطرت اور جبلت کے ہاتھوں مجبور ہیں وہی معاملہ انسان کا ہے، اس میں بھی جبلی خواہشات خصوصاً جنسی خواہشات کی تسکین انسان کے لیے بنیادی محرک عمل ہے۔

محمد قطب فرائڈ کے انسانی تصور کو کچھ اس طرح سمیٹتے ہیں: ’’فرائڈ انسانیت کو ایسے فرد کی صورت میں پیش کرتا ہے جو اپنی زندگی میں شہوانی طاقتlibidoکی منہ زوریوں سے مجبور ہوکر اپنی لذتوں کی تکمیل میں لگا رہتا ہے۔ اگر اس کی خواہشوں کی تکمیل بروقت ہوتی رہے تو بہت خوب، ورنہ وہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ تمام رکاوٹیں دور کرکے تکمیل خواہش کا کوئی طریقہ دریافت کرلے۔ وہ اس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب سماج کے پہروں سے بچ بچاکر اسے کسی اخلاقی یا معاشرتی بندش کو توڑنے کا موقع فراہم ہوجاتا ہے اور پھر بھی وہ معاشرے کی نظروں میں پاکباز اور شبہ سے بالاتر رہتا ہے۔ حالانکہ اس کے من میں وہ کچھ پنہاں ہوتا ہے کہ اگر سماج اس سے واقف ہوجائے تو اسے سخت ترین سزا دے‘‘۔

اپنی کتاب Interpretation of Dreamsمیں فرائڈ کہتا ہے کہ انسان جن خواہشوں کو دباتا ہے، وہ خواب میں عود کر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر اس نے اپنے ایک خواب کی مثال دی کہ کسی ڈاکٹر ’’م‘‘ کو اس نے خواب میں بیوقوفانہ حرکات کرتے ہوئے دیکھا اور اس کی تعبیر اس نے یوں کی کہ چونکہ حقیقی زندگی میں یہ ڈاکٹر اس کا مخالف تھا اس لیے فرائڈ کے نفس نے اس مخالفت کا بدلہ اس طرح لیا کہ خواب میں اسے جاہل اور بیوقوف بنادیا۔

نفرت اور جنس یہ دونوں چیزیںفرائڈ کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ فرائڈ ہر قسم کے جذبات کو کھینچ کر جنس سے جوڑ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اسے بیٹے اور ماں کی محبت میں، بیٹی اور باپ کی محبت میں، بھائی اور بہن کی محبت میں جنسی عوامل کارفرما نظر آتے ہیں۔ ماں کا دودھ پینے سے لے کر انگوٹھا چوسنے اور رفع حاجت کرنے کی بھی فرائڈ نے جنسی توجیہہ کر رکھی ہے۔ فرائڈ کہتا ہے کہ تین سے چھے سال کی عمر میں ہی ماں کو حاصل کرنے کی خواہش بچے میں پنپنے لگتی ہے۔ لیکن اس کا باپ اس کی راہ کا روڑا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے بچے کو اپنی خواہشیں دبانی پڑتی ہیں۔یوں اس بچے کے ذہن میں خواہشوں کو دبانے اور ان کی عدم تکمیل کی وجہ سے ایک کشمکش پیدا ہوتی ہے، جسے فرائڈ Oedipus Complexکا نام دیتا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ فرائڈ نے اپنی کتاب Totem and Tabooمیں مذہب کی پیدائش کا سبب بھی اسی Oedipus Complexکو قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق بیٹے ماں کو حاصل کرنے کی راہ میں باپ کو ایک رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ بیٹوں نے اپنی خواہشوںسے مغلوب ہو کر اپنے باپ کو قتل کردیا۔ یہ قتل کرگزرنے کے بعد انہیں پچھتاوا ہوا اور انہوں نے کفارے کے طور پر یہ طے کیا کہ باپ کی یاد منائیں گے۔ دھیرے دھیرے اس یاد نے مختلف رسموں کی شکل اختیار کی مثلاً جانوروں کی قربانی یا کچھ جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلینا اور یوں مذاہب کی بنیاد پڑی۔ لوگ ماں باپ یا بھائی بہنوں سے اپنی محبت کی بنیاد پر فرائڈ کے نظریے کو یونہی رد نہ کردیں اس لیے فرائڈ نے جذبات کی دوئی کا نظریہ پیش کیا جس کے مطابق ایک شخص سے ہمیں بیک وقت محبت بھی ہوتی ہے اور نفرت بھی۔ جذبات کی یہ دوئی (ambivalance) ہی اس کی نگاہ میں وہ بنیاد ہے جس پر متعدد تہذیبوں کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ الغرض فرائڈ کہنا یہ چاہتا کہ انسان کا اپنی ان ’’قدرتی‘‘ خواہشات کو دبانا﴿ suppressکرنا ﴾ کئی نفسیاتی اور دماغی عارضوں کا سبب ہے لہذا سماج اور مذہب کی غیر فطری قید سے آزاد ہو کر اسے اپنی خواہشات کی تکمیل میں لگ جانا چاہیے ۔

درکھائم(1858-1917)

ڈرکھائم ایک فرد کی ذات پر سماجی حقائق کے اثرات کو خاطر خواہ اہمیت دیتا ہے۔ سماجی حقائق کی تعریف نہیں کی جاسکتی، اس کے منبع کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا، صرف فرد پر اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ۔ کسی ایک فرد کا ان سماجی حقائق کے بنانے میں کوئی رول نہیں ہوتا یہ ایک اجتماعی چیز ہے۔ یہ سماجی حقائق تعلیم گاہوں اور آپسی میل ملاپ کے ذریعے فرد کے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس طرح فرد سماج کی بندشوں میں جکڑ جاتا ہے۔ ڈرکھائم کے مطابق ہر فرد کی دو پہچان ہوتی ہے ایک اس میں اور اس کے سماج کے دیگر لوگوں میں یکساں ہوتی ہے یہ اس کی اجتماعی شناخت ہے، دوسری اس کی اپنی انفرادی شناخت ہے ، اس تصور کو ڈرکھائم Human Dualismسے تعبیر کرتا ہے۔ چونکہ سماجی شناخت زیادہ طاقتور ہوتی ہے لہذا بسا اوقات انفرادی شناخت کو اس سے دب جانا پڑ تا ہے جس سے فرد میں ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ آدمی اپنی انفرادی حیثیت میں کسی پابندی کے بغیر اپنی خواہشات پورا کرنا چاہتا ہے۔ پرانے زمانے میں جب تخصص (specialisation)اور کاموں کی تقسیم(division of labour)کا رجحان کم تھا تو سماجی تشخص کے سامنے انفرادی تشخص کی حیثیت دیو کے سامنے ایک بونے کی تھی۔ لیکن جیسے جیسے سماج میں تخصص اور کاموں کی تقسیم کا رجحان بڑھتا گیا ویسے ویسے فرد کو آزادی حاصل ہوتی گئی اور اس کے لیے میدان وسیع ہوگیا۔ زمانہ جدید میں سماجی قید سے آزادی دراصل فرد کے لیے اخلاقی قید سے آزادی ہے ۔ جب سماج سے کوئی شخص آزاد ہوتا ہے اور جتنا آزاد ہوتا جاتا ہے تو اس کی سوچ ’’یہ کام اچھا ہے یا برا؟‘‘یا ’’لوگ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے؟‘‘ سے ’’یہ کام میرے لیے فائدے مند ہے یا نہیں؟‘‘ پر آکر ٹھہر جاتی ہے۔

ڈرکھائم کے خیالات کے اس ہلکے سے تعارف کے بعد اب مذہب کے تعلق سے اس کے خیالات کا ایک مختصر جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ڈرکھائم کے لیے مذہب، جیسا کہ اب تک کی بحث سے واضح ہے، ایک مصنوعی اور سماجی طور پر قائم شدہ ڈھانچہ ہے۔ مذہب ہر حرکت کو حلال اور حرام کے خانے میں بانٹ دیتا ہے۔ sacredاور profaneکا یہ فرق ڈرکھائم کی نظر میں حقیقی نہیں بلکہ خیالی ہے۔ مثال کے طور ڈرکھائم کے مطابق سور کے گوشت میں بذاتِ خود کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کے حلال یا حرام ہونے کا موجب ہو، یہ مختلف سماج اور ماحول ہے جو اس کو حلال یا حرام ٹھہرا دیتا ہے ۔ اس کے مطابق حلال و حرام صرف اضافی قدریں ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ مذہب کی مادی تعبیر کو اور آگے بڑھاتے ہوئے ڈرکھائم زور دیتا ہے کہ مذہب کا روحانیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن کسی مذہب پر ایمان رکھنے والا اپنے آپ کو اندر سے طاقتور سمجھتا ہے، ڈرکھائم کے مطابق اس کی وجہ کوئی روحانیت یا غیبی طاقت نہیں بلکہ یہ بھروسہ ہے کہ اس کی قوم اس کے ساتھ ہے، اپنی قوم کے ساتھ متحد رہنے کا احساس اس میں ایک قوت بھر دیتا ہے۔ عصبیت کی یہی وہ قوت ہے جس کے بل پر وہ اجتماعی طور پر مصائب کا سامنا کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔

اب میں اس کی مشہور زمانہ کتاب The Elementary Forms of Religious Life سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں جس میں مذہب کے تعلق سے اس کے خیالات کا ایک خلاصہ ہمارے سامنے آجائے گا۔ ڈرکھائم کہتا ہے؛ ’’ماضی میں جن چیزوں کو عظیم قرار دیا گیا تھااور جنہوں نے ہمارے آبائ و اجداد کو جوشِ عمل سے سرشار کردیا تھا، آج ہمارے لیے اپنے اندر کوئی کشش نہیں رکھتیں… دوسرے الفاظ میں پرانے خدا یا تو بوڑھے ہوگئے ہیں یا مرگئے ہیںاور نئے خدا ابھی پیدا نہیں ہوئے… لیکن confusionکی یہ حالت سدا باقی نہیں رہے گی۔ ایک وقت آئیگا جب ہمارے سماج میں بھی نئے اصول ڈھلیں گے جو انسانیت کی رہنمائی ﴿نئے دور کے مطابق﴾ کریں گے… کوئی مذہبی کتاب غیر فانی نہیں ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ مان لیں کہ انسانیت ﴿نئے دور کے مطابق﴾کوئی نیا مذہب ایجاد نہیں کرسکتی ’’۔ الغرض ڈرکھائم نے کمالِ ہوشیاری کے ساتھ مذہب کو ’’حقیقت‘‘ سے دور کرکے ایک governing principleکی حیثیت دے دی، نئے دور میں نئے مذہب کی بات کرکے آسمانی مذاہب کی شناخت ختم کردی۔ اب مذہب بنانا انسان کے ہی ہاتھ میں ہو تو سرمایہ داری نظام ہو یا اشتراکیت، نازی ازم یا پوسٹ ماڈرنزم سبھی کو نئے دور کے حساب سے نئے مذاہب قرار دیا جاسکتا ہے۔

کارل مارکس (1818–1883)

مارکس کو اگر موجودہ زمانے پر سب سے زیادہ اثر انداز فلسفی کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ مارکس کے افکار کا خلاصہ اس مختصر وقت میں پیش کرنا ایک مشکل کام ہے۔ پھر بھی اس کے کچھ اہم نظریات کا ہم مطالعہ کرتے ہیں۔ جس طرح فرائڈ پوری دنیا کی تفسیر ایک آیتِ جنس سے ہی کرڈالتا ہے، اسی نہج پر مارکس پیٹ کی عینک سے ساری دنیا کا مطالعہ کرتا ہے۔ نظریات، جمالیات، اخلاق اور مذہب کے تصورات سب کچھ مارکس کے لیے سماج کے superstructure سے تعلق رکھتے ہیں جس کی بنیاد) (baseمعاشرے کے معاشی تعلقات پر رکھی جاتی ہے۔ ڈرکھائم کی طرح مارکس یہ تسلیم کرتا ہے کہ سماج کے فرد کی ذات پر دوررس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سماج میں ذرائع پیداوار سماج کے معاشی ڈھانچے کی صورت گری کرتے ہیں۔ اس معاشی بنیاد پر جو کہ اصل بنیاد ہے، سماج کے قوانین اور سیاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور اس طرح اس اجتماعی ذہن (collective conciousness)کی تشکیل ہوتی ہے جسے ڈرکھائم نے خاصی اہمیت دی ہے۔ چونکہ ذرائع پیداوار سماجی، سیاسی اور فکری ہر سطح پر اپنے اثرات چھوڑتے ہیں، بلکہ ذرائع پیداوار ہی معاشرے کی تشکیل کرتے ہیںلہذا اگر کبھی سماج میں پیداواری تعلقات بدلیں تو دیر سویر سارا معاشرتی superstructureیعنی سیاست، اقدار، اخلاق، مذہب سبھی کچھ بدل جاتا ہے۔ مارکس کا یہ نظریہ economic determinism بھی کہلاتا ہے۔

ہیگل سے جدلیت (dialectics)کا نظریہ مستعار لے کر مارکس نے تاریخ کی ایک مکمل مادی تفسیر پیش کی ہے۔ Historical Materialismکے اس نظریے کے مطابق ، ’’تاریخ کے نام پر سماج میں آج جو کچھ بھی پایا جاتا ہے وہ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے‘‘ ۔ مارکس نے انسانوں کو ازل سے ابد تک کے لیے دو خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ پہلا طبقہ havesکا ہے جس کے پاس وسائل ہیں، اقتدار ہے، زمینیں ہیں، جائیداد ہے اور دوسرا طبقہ have notsکا جس کے پاس اپنے جسم کی طاقت(labour)کے علاوہ کچھ اور نہیں، یہ طبقہ روز کنواں کھود کر پانی پینے پر مجبور ہے۔ تاریخ ان دونوں طبقات کی کشمکش سے عبارت ہے۔ کبھی یہ کشمکش مالک اور غلام، کبھی زمیندار اور مزدور، تو کبھی بورژوا اور پرولتاری طبقے کے مابین کشمکش کا روپ اختیار کر لیتی ہے لیکن ان طبقات کے درمیان ایک استحصالی تعلق ہے یہ بنیادی حقیقت ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔ تاریخ کے اپنے اس تصور کے مطابق مارکس نے بھی ہابس کی طرح انسانِ اول کیسے ہوں گے کا اپنا ایک تصور پیش کیا ہے۔ مارکس کے اس خیالی مثالی دور میں ذاتی جائیداد نہیں پائی جاتی تھی ، خاندان نہیں پائے جاتے تھے وغیرہ۔ primitive communismکے اس مثالی دور کے بعد جب خاندان اور ذاتی جائیداد کے تصورات فروغ پائے تب انسانوں میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اس کے بعد انسانی تاریخ مختلف مراحل سے ہوتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام میں داخل ہوئی۔ لیکن ہر نظام کی طرح یہ نظام بھی اندرونی تضادات سے لبریز ہے لہذا سرمایہ دارانہ نظام ایک نہ ایک دن سوشلزم کے لیے جگہ خالی کر دے گا پھر ایک عرصے تک مزدوروں کی ڈکٹیٹرشپ قائم رہے گی۔ اس کے بعد وہ غیر طبقاتی و غیر ریاستی یعنیclassless and statelessسماج وجود میں آئے گا جس کا مارکس خواب دیکھتا ہے۔

مارکس مذہب اور ریاست جیسے اداروں کو بورژوا طبقے کی سازش قرار دیتا ہے۔ وہ مذہب کو عوام کی افیون قرار دیتا جس کا نشہ لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے سے روکتا ہے، ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے بدلے صبر کی تلقین کرتا ہے اور آخرت میں اس کے عوض بہتر جزا کا یقین دلاتا ہے۔ پیداواری ڈھانچہ بدلنے کے ساتھ ساتھ اخلاق و اقدار اور مذہب بھی بدل جاتے ہیں۔ مارکس کہتا ہے؛ “The ruling ideas of each age have ever been the ideas of its ruling class”۔ جس طرح ruling class بدلتی رہتی ہے اسی طرح ruling ideasبھی بدلتے رہتے ہیں پھر چاہے وہ اخلاق ہوں یا مذاہب۔ وقت اجازت نہیں دیتا ورنہ مادہ پرستی نے عقل و خرد کی بات کرنے والوں کو کن کن اندھیری وادیوں میں بھٹکنے پر مجبور کیا ہے، اس کا تفصیلی مطالعہ خاصا دلچسپ ہوتا۔ مختصراً یہ کہ انسان کی فکر روحانی حدود و قیود سے آزاد ہوکر جب غور و فکر کے صرف مادی نقطۂ نظر کو اپناتی ہے تو اس کے درج ذیل نتائج پیدا ہوتے ہیں؛

٭ پہلا: انسان اپنی حیثیت سے گر جاتا ہے۔ جانوروں کی صف میں کھڑا ہونا باعث فخر سمجھتا ہے۔ ذرا دیکھئے ڈارون نے کس طرح انسانوں کو ایک جھٹکے میں ہی اخلاق و اقدار کے حدود و قیود سے یہ کہہ کر آزاد کردیا گیا کہ وہ تو جانوروں کی ارتقائی شکل ہیں۔ جب جانوروں کے لیے کوئی اقدار نہیں تو انسانوں کے ساتھ ہی یہ ’’زیادتی‘‘ کیوں؟

٭ دوسرا: پھر انسان خود غرضی کے علاوہ کسی اصول پر عامل نہیں رہ سکتا اور طاقت کے علاوہ کوئی زبان نہیں سمجھ سکتا۔ اپنی جبلتوں کا اسیر ایک درندہ بن جاتا ہے۔ دیکھئے ہابس ،فرائڈ اور مارکس کے انسان کو۔ پھر ڈارون کے بقائے اصلح کے ’’قدرتی‘‘ قانون کو ڈھال بنا کر طاقتور انسان کمزور انسانوں کو دبا لیتے ہیں، طاقتور قومیں کمزور قوموں پر چڑھ دوڑتی ہیں۔ انسان انسان کے ساتھ قومیں قوموں کے ساتھ تعاون نہیں کرسکتیں۔ clash within selfسے لے کرclash of civilisationsتک ہر طرف ٹکراؤ اور بگاڑ پھیل جاتا ہے۔ پھر کمزوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا مالتھس جیسے مفکرین غریبوں، بیماروں اور کمزوروں کو دھرتی کا بوجھ سمجھتے ہیں، اسپنسر جیسے فلسفی چاہتے ہیں کہ ریاست غریبوں کی بہبود کے لیے کوئی فلاحی کام نہ کرے۔اس کے اپنے الفاظ میں: جو جی سکتا ہے وہ جئے، جو نہیں جی سکتا اسے مر جانا چاہیے ۔ اس کا مرجانا ہی بہتر ہے۔

٭ تیسرا: اخلاقی قدروں کے زوال کے بعد بدگمانیوں کا بول بالا ہوجاتا ہے، کوئی کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ رشتے اور دوستیاں بکھر جاتی ہیں۔ خاندان ٹوٹ جاتے ہیں ذہنی سکون غارت ہوجاتا ہے۔

٭ چوتھا: اچھائی اور برائی کا کوئی معیار نہیں رہ جاتا۔ پھر انسان ہر اعلی قدر اور مذہب کو رد کردیتا ہے۔ خدا کا نہ صرف انکار کردیتا ہے بلکہ گستاخیوں اور شوخی سے بھی باز نہیں آتا۔ نطشے جیسا ’’عظیم‘‘ فلسفی زمانۂ جدید کی سائنسی ترقیوں سے مسحور ہو کر پکار پکار کر کہتا ہے کہ، ’’خدا مرگیا۔ خدا مرا ہوا ہے۔ اور ہم نے اسے مارا ہے‘‘۔ کامٹے کہتا ہے کہ سائنس نے خدا کو اپنے منصب سے معزول کردیا ہے۔

٭ پانچواں:شاید جس نتیجے پر سب سے کم نظریں گئی ہیں وہ یہ مادیت کے پرستار اخلاقی قیود سے دامن چھڑا کر آزادی کی جس نیلم پری کو حاصل کرنے دوڑے تھے وہ ایک سراب ثابت ہوئی۔ مادیت کے پرستار بدترین غلامی میں مبتلا ہوئے، آج تک ہورہے ہیں، اور ہوتے رہیں گے۔ سارٹر نے کہا تھا کہ چونکہ میں آزادی پر ایمان رکھتا ہوں اس لیے خدا پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔ لیکن ذرا دیکھئے مادیت کے دامن میں انسان نے کتنی آزادی حاصل کی۔ فکری طور پر دیکھئے تو ہابس کی ریاست میں فرد کو کتنی آزادی حاصل ہوئی خود فوکو کہتا ہے کہ ضمیر کی آزادی ڈکٹیٹرشپ سے زیادہ خطرناک ہے، اور یہ کہ لوگوں پر ﴿ریاستی﴾ قوت کی جانب سے کیا جانے والا تشدد ان کی تربیت کے لیے ناگزیرہے۔اٹھارویں اور انیسویں صدی کے استعمار کو جانے دیجئے، صرف بیسویں صدی میں ہی دیکھا جائے تو کمیونزم نے سویت روس کو کتنی آزادی دی؟ نازی ازم اور فاشزم نے دنیا میں کیا گل کھلائے؟ امریکی جمہوریت ہی ویتنام سے لے کر عراق اور افغانستان میں جتنی آزادی پھیلا چکی ہے اس سے کون ناواقف ہے؟ امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں صرف غربت نہیں بلکہ انسانی حقوق کی پامالی کا جوحال ہے اس کو چھپانے کی ہر کوشش کے باوجود اب رپورٹیں منظر عام پر آنے لگی ہیں۔

خلاصۂ گفتگو یہ کہ مادیت کی اس اندھی دوڑ نے انسانیت کو کس اندھے کنویں میں ڈھکیل دیا ہے اس کا ہم کچھ تقابلی مطالعوں کے ذریعے اندازہ کرسکتے ہیں۔ میکیاولی ریاست کی خود مختاری اور استحکام چاہتا ہے اور گاندھی بھی۔The Princeاور ہند سوراج کا ایک تقابلی مطالعہ ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے دو انتہا پسندوں کا نقطۂ نظر آپ کے سامنے لا دے گا۔ ہانس مارگنتھاؤ، کینیتھ والٹز اور جوژف گریکو کے طاقت کے تصور کا ہنریک اسکولیماؤسکی کے طاقت کے تصور سے موازنہ کیا جائے تو صاف صاف جسمانی اور ہتھیاروں کی قوت پر اخلاقی قوت کی برتری ثابت ہوتی ہے۔ نطشے کے ’’سوپر مین‘‘ اور فرائڈ کی ’’ایگو‘‘ کو کوئی اقبال کی ’’خودی‘‘ کے سامنے تو رکھ دیکھے اور پھر کہے کہ کس کا تصور دل کو ہی نہیں عقل کو بھی زیادہ اپیل کرنے والا ہے۔ ہابس نے اپنے State of Natureمیں انسانوں کی جو جھگڑالو اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کے طور پر تصویر کشی کی ہے اس کا مقابلہ اگر جان لاک کے State of Natureسے کیا جائے جہاں باہمی تعاون ، ایثار اور ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھا جاتا ہے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ انسانوں کی درندگی کے بدلے انسانوں کی انسانیت کا تصور عقل کے لیے زیادہ قابل قبول ہے۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ گاندھی کی طرح مادیت کی نفی اسلام کا مقصود نہیں۔ اسلام توازن اور اعتدال کا مذہب ہے۔ انسان کی مادی ضرورتوں کو اسلام نے کبھی نظرانداز نہیں کیا البتہ اسلام نے انسان کو جبلیات کا غلام بننے بھی نہیں دیا۔ اسلام نے انسان کے روحانی پہلو پر بھی یکساں زور دیاہے۔ مٹی سے بننے والے آدم میں کوئی خوبی نہیں تھی، یہ وہ روح تھی جو خدا نے اس کے اندر پھونک دی جس سے وہ مسجود ملائک بن اٹھا۔ لیکن اس اسلامی روحانیت کے ڈانڈے کبھی رہبانیت اور ترک دنیا سے نہیں ملے۔ اس روحانیت نے ایک مومن کو ایثار اور قربانی کا سبق تو ضرور سکھایا لیکن ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے میں کبھی آڑے نہیں آئی ۔ الٹا ہم دیکھتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں بھی نمازوں اور اذکار کی صورت میں یہ روحانیت مجاہدوں کی ہمت افزائی ہی کرتی رہی۔ محمد قطب کے الفاظ میں، ’’اسلام کی نظر میں انسانی وجود تین اجزائ پر مشتمل ہے : جسم، عقل اور روح … اور اسلام ان تینوں کے وجود کا معترف ہے اور ان کے مطالبات کی تکمیل اور ان کی پکارپر کھلم کھلا لبیک کہنے کی اجازت دیتا ہے‘‘﴿۵۳۱﴾۔ محمد قطب نے اپنی کتاب ’’اسلام اور جدید مادی افکار‘‘ میں نہایت خوبی کے ساتھ یہ بات واضح کی ہے کہ اسلام نے کس طرح بحسن و خوبی لذتِ اکل، جسمانی آرام، مسئلۂ جنس، جذبۂ انتقام اور جذبۂ ملکیت میں اعتدال کی روش اپنائی ہے۔ اسلام اچھا کھانے سے منع نہیں کرتا لیکن بھوک سے کم کھانے اور روزے ذریعے خواہشات کو قابو میں رکھنے کا تصور بھی پیش کرتا ہے۔ اسلام جسمانی آرام کا مخالف نہیں ہے لیکن فجر بھی فرض ہے اور تہجد کے فضائل بھی گنائے گئے ہیں۔ اسلام جنسی خواہشوں کو نہیں دباتا بلکہ چاہتا ہے کہ لوگ جلد نکاح کریں اور ضرور نکاح کریں لیکن اسلام فرد آزاد شہوت رانی سے بھی روکتا ہے۔ اسلام میں جہاں معاف کرنے کے اجروثواب بیان کئے ہیں وہیں یہ بھی کہا ہے کہ قصاص میں زندگی ہے۔ اسلام مال کمانے اور خرچ کرنے سے منع نہیں کرتا لیکن زکوٰۃ اور صدقات کا تصور بھی دیتا ہے، وہ ایک طرف کنجوسی کرنے والوں کو وعیدیں سناتا ہے تو دوسری طرف فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی بھی قرار دیتا ہے۔

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ان حالات میں ہمارے کرنے کا کیا کام ہے۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ایک علمی و فکری یلغار ہے جس کا اسی زبان میں جواب دینے کی ضرورت ہے۔ فلسفے کا جادو اس وقت تک سر چڑھ کر بولتا رہا جب تک کہ تلقینِ غزالی نے اسی زبان میں اس کا منہ توڑ جواب نہ دیا۔ سرمایہ داری نظام اور اشتراکیت کے خلاف پچھلی صدی میں مولانا مودودی، محمد قطب اور تحریک اسلامی کے دیگر اہل علم نے، مستشرقین کے جواب میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے، ڈارونزم کے مختلف پہلوؤں پر ہارون یحییٰ نے، جو لٹریچر تیار کیا اس کی افادیت سے کسے انکار ہوسکتا ہے لیکن اب نیا زمانہ نئے تصورات اور نئے چیلنجز کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارے آبِ حیات کا کوئی پرسانِ حال نہیں اور دوسروں کی زہریلی شراب کے لوگ دیوانے ہوئے جارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میکیاولی، ہابس، فرائڈ، ڈرکھائم، مارکس، نطشے، سارٹر، فوکو وغیرہ intellectual packagingکے ماہر ہیں۔ انہوں نے زہریلی شراب کو اس قدر خوبصورت اور مرصع علمی بوتل میں سجا رکھا ہے کہ …اے شیخ! بن پڑے گی نہ کچھ ہاں کئے بغیر … والا معاملہ ہوجاتا ہے۔ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ہر علم کی کچھ اساسی بنیادیں ہوتی ہیں اور عموماً وہ صحیح ہوتی ہیں؛ مختلف مفکرین ان سے جو نتائج اخذ کرتے ہیں خامی ان میں ہوتی ہے۔ ہم انہی اساسی بنیادوں پر اسلامی نظریے کی حقانیت ثابت کر سکتے ہیں۔ علم و تحقیق کے اعلیٰ معیار پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ثابت کیا کہ خطبۂ حجۃ الوداع حقوقِ انسانی کا پہلا بین القوامی چارٹر ہے اور میثاقِ مدینہ دنیا کا پہلا تحریری دستور ہے۔ ہیگل اور مارکس کی جدلیاتی مادیت پر تنقید کرتے ہوئے مولانا مودودی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دنیا ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف دوڑی چلی جاتی ہے لیکن انتہاؤں کے ان خطوطِ منحنی کے درمیان جو خطِ مستقیم کا تصور انہوں نے دیا وہ علمی نقطۂ نظر سے خاصا جاندار تصور ہے۔ پھر آج جب تقریباً تمام ہی اسکالرس اس بات پر متحد ہیں کہ ہر فلسفی ہر اسکالر ہر مصلح اپنے زمانے کی پیداوار ہے اور مذاہب اور انبیائ کے انکار کے لیے یہ تصور ایک اہم ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے تو مولانا مودودی نے سیرتِ سرورِ عالم میں اسی اصول کو بنیاد بناکر یہ ثابت کیا ہے کہ عرب کے اس ماحول میں آپﷺ جن نامانوس تصورات اور جس عالمگیر visionکے ساتھ مبعوث ہوئے وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپﷺ ماحول کی پیداوار کوئی عام مصلح نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر تھے۔ سائنسی میدان میں قرآن اور اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے یہ اصول اپنایا جارہا ہے، اس میں غلطیاں بھی سرزد ہورہی ہیں لیکن کم از کم کام کیا جارہا ہے، اصلاح کی گنجائش ہر انسانی کوشش میں ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی علوم میں بھی اسی نہج پر جنگی پیمانے پر کام شروع کیا جائے۔

مولانا سید سلیمان ندوی کہتے ہیں، ’’زمانہ بدل گیا ہے، لوگ اپنی وضع بدل رہے ہیں،مذاق، تمدن، معاشرت، تجارت، گفتگو، تہذیب ہر چیز میں نمایاں انقلاب ہے، اب اگر دلی کی ایک تنگ و تاریک گلی کے اندر پرانی وضع کی ایک چھوٹی سی دکان میں بیٹھ کر ولی دکنی اور مظہر جانِ جاناں کی زبان میں ہم اکسیر بھی بیچیں گے تو بھلا کون خریدنے آئے گا۔ ہمارے گزشتہ علوم و فنون کا بعینہ یہی حال ہے۔ ہم کو بزرگوں کی اس متاع کو لے کر نئے ساز و برگ سے موجودہ طرز کی ایک بڑی شاپ میں شیشہ دار الماریوں کے ساتھ اپنی دکان سجانی چاہیے ’’۔

اپریل 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau