اندھیروں سے ڈرے کیوں دل ہمارا

ایس امین الحسن

ہر طلوع ہونے والا سورج ہمارے سامنے کوئی نہ کوئی پریشانی کی خبر لاتا ہے۔‌ انھیں پڑھنے یا دیکھنے کے بعد یا تو ہمارا دل مغموم ہو جاتا ہے یا رد عمل کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں اور ہمیں دوسروں پر شدید غصہ آنے لگتا ہے۔ یہ دونوں ہی صورت حال حقیقت نا آشنائی کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔ کبھی حکومت کی چیرہ دستی ہوتی ہے تو کبھی عدلیہ کے بعض فیصلے ہمیں مایوس کر دیتے ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہی انصاف ہے؟ کبھی کسی میڈیا چینل کی کوئی شرارت سامنے آتی ہے تو کبھی کسی مذہبی رہ نما کا زہر اگلنے والا بیان انگارے کی طرح کانوں سے ٹکراتا ہے۔ ان سب باتوں سے ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہر طرف سے ہم سخت مسائل اور شدید حالات میں گھر گئے ہیں اور اب ہمارے سامنے ذلت ورسوائی کے سوا کوئی راستہ بچا ہی نہیں ہے۔ ہمارا یہ احساس نظر کی کوتاہی کا نتیجہ اور رب کی مصلحت سے ناواقفیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آگے ہم اس کی کچھ وضاحت کریں گے۔

کائنات اللہ کے زیر نگرانی ہے

حالات کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ عقیدہ راسخ کرلیں کہ یہ کائنات حق کے ساتھ بنی ہے اور دنیا کی نگرانی اللہ سبحانہ وتعالی فرما رہا ہے۔‌ وہ ہر پل رونما ہونے والے واقعات سے باخبر ہے یہاں تک کہ کسی شجر کا کوئی پتہ اس کے علم کے بغیر نہیں گرتا۔‌ یہاں دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کی کارفرمائی ہے، اس کی مصلحت اور منشا کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے۔‌۔ ہمیں اس کائنات میں بے یار و مددگار نہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہمارا ایک ولی اور نصیر ہے۔ اس عقیدے سے ہمیں اطمینان قلب اور جمیعت خاطر نصیب ہوتی ہے۔

درج ذیل آیتوں پر غور کریں کہ وہ کتنی امید افزا ہیں:

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَی الْقَیومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَّهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِی یشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ یعْلَمُ مَا بَینَ أَیدِیهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا یحِیطُونَ بِشَیءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِیهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا یؤدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِی الْعَظِیمُ. (البقرة:  255)

(اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے)

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِی الْأَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَیمْسِكُ السَّمَاءَ أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِیمٌ (الحج:  65)

(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گر سکتا؟ واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے)

وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِیرُ (الحج:  78)

(اور اللہ سے وابستہ ہو جاؤ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار)

خارجی زندگی باطنی زندگی کا عکس ہے

ہماری باطنی زندگی جیسی ہوگی اسی کا عکس ہمارے خارجی حالات ہوں گے، جیسے انفس ہوں گے ویسے ہی ان کے لیے افاق ہوں گے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا یغَیرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ یغَیرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (الرعد:  11)

(حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی)

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِیبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَیدِیكُمْ وَیعْفُو عَن كَثِیرٍ (الشورى:  30)

(تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے)

ایک کمیونٹی کے لیے اس کا بیرونی ماحول کمیونٹی کی اندرونی زندگی کی توسیع ہے۔ اگر شئے سیدھی ہے تو اس کا سایہ بھی سیدھا ہوگا۔ اگر شئے کی شکل بگڑ گئی ہے، تو اس کا سایہ بھی خم دار ہوگا۔ (امام شعرانی)

اللہ پاک کا قانون ہے:

كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِینَةٌ (المدثر:  38)

(ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے)

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَیهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیدِ ‎(فصلت:  46)

(جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے اچھا کرے گا، جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہوگا، اور تیرا رب اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے)

ایک پہلو سے غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ زمین وآسمان کے پیدا کیے جانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے، قرآن کریم نے صاف الفاظ میں وضاحت کر دی ہے:

وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا یظْلَمُونَ (الجاثیة:  22)

(اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے لوگوں پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا)

دیگر اقوام کے درمیان امت مسلمہ کے مقام کو اس مثال سے سمجھیں کہ ایک مڈل اسکول کا ٹیچر ریاضی کا سادہ معمہ آسانی سے حل کر سکتا ہے۔ اس سے پیچیدہ تر معمہ ایک پروفیسر آسانی سے حل کرسکتا ہے۔ ریاضیات کا ماہر مشکل ترین معموں کی گتھیاں سلجھاتا اور دقیق مسائل کو حل کرتا ہے۔‌ جو جتنا ماہر ہوگا اس کے سامنے زیادہ پیچیدہ مسائل پیش ہوں گے اور وہ مسائل کو اتنی ہی عمدگی سے حل کرسکے گا۔ زندگی ایک تربیت گاہ ہے۔ اللہ ہمارا معلم ہے۔ وہ ہمیں تعلیم بھی دیتا ہے اور ہماری تربیت کا سامان بھی کرتا ہے۔ بیرونی دنیا میں جو مسائل ابھرتے ہیں ان سے ہماری تعلیم مقصود ہوتی ہے۔ امت مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے خیر امت کا اونچا مقام دیا ہے اور دعوت الی اللہ کا عظیم کام اس کے سپرد کیا ہے۔ اس منصب کی بلندی کے تناسب سے اس کے سامنے مسائل بھی آئیں گے اوران کے ذریعے اس کی تربیت بھی ہوگی۔

آپ حالات پر غور کیجیے— یہ حالات اور مسائل ہم کو اپنے کام اور مشن کے لیے تیار کررہے ہیں۔

کیرالا کے ایک عیسائی پادری نے یہ شوشہ چھوڑا کہ مسلمان narcotics jihad کرتے ہیں۔ یہ سخت تکلیف دہ بات تھی۔ اس کے پیچھے جہالت اور شرارت دونوں ہی تھے۔ چند سکوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ایسا بیان دیا جس کے نتیجے میں قوموں کے درمیان دوریاں پیدا ہورہی ہیں۔

لیکن ان واقعات پر ہم کیا کریں اور انھیں کیسے ریسپانس کریں؟ حالات ہمیں اس کی تربیت دے رہے ہیں۔ ہمیں زندگی کے ان واقعات و تغیرات سے نہ پریشان ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ان سے نامناسب کشمکش کی۔ بلکہ ان واقعات کے ساتھ اشتراک عمل کرنا چاہیے یعنی ہمیں اس سبق پر نگاہ رکھنی چاہیے جو ہمیں ان واقعات اور تجربات کے ذریعے دیا جارہا ہے۔ کیوں کہ جب ہم سبق یاد کر لیتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی سیرت و کردار میں تغیر پیدا کرلیتے ہیں تو پھر یہ تکلیف دہ ناخوشگوار اور المناک واقعات وتجربات رفع ہو جاتے ہیں اور طمانیت نصیب ہوتی ہے۔

ہمارے منصب ومشن کا تقاضا ہے کہ تجربات کے ذریعے سیرت کی تشکیل کریں۔ اپنی پوشیدہ روحانی قوتوں کو ترقی دیں۔ تجربات و حالات خوشگوار ہوں یا ناخوشگوار، مسرت بخش ہوں یا غم ناک، بہار ہو کہ خزاں، یہ سب ہمیں خیر سے مالا مال کرنے کے لیے ضروری ہیں۔  زندگی کا ہر واقعہ خیر کے پوشیدہ امکانات رکھتا ہے۔ تصادم کے بجائے اس سے توافق ہی سب سے بڑی عقلمندی ہے جسے رضا بالقضا کہا جاتا ہے۔

ہم خیر کے علم بردار ہیں، اور اس وقت حالات کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہمیں دعوت الی الخیر پر توجہ دینی چاہیے۔

خیر کی طرف بلانے والا خیر کو انجام دینے والے کے مقام پر ہوتا ہے۔ ہماری دعوت سیدھی راہ کی طرف، زندگی اور نجات کی طرف، رحمت اور راست روی کی طرف ہو۔

پورے ہندوستان میں ساری امت کو مل کر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اصلاحی تحریک چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے نشہ اور منشیات کے خلاف، سٹہ اور جوا کے خلاف، زنا اور عصمت دری کے خلاف، جہیز کے خلاف، کرپشن کے خلاف، سود کے خلاف، ظلم کی مختلف صورتوں کے خلاف مہمات چھیڑنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے یہ سارے کام چھوڑدیے جو ہمیں انجام دینے تھے۔ حالات کی سختیاں ہم کو ہمارے ذمے کے ان کاموں کی طرف متوجہ کررہی ہیں۔

خدا سے رابطہ بڑھائیں

دعوت الی الخیر کے لیے اللہ سے مضبوط تعلق اولین ضرورت ہےخوشگوار حالات کے وقت، نعمت اور عافیت کے زمانے میں جو بندے خدا کو یاد کرتے ہیں ان کے لیے مصیبت کے وقت خدا کو یاد کرنا اور آسان ہو جاتا ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ نعمت و آسائش کی حالت میں زیادہ دعا کرتے رہو۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرتے رہو اور اس کا شکر ادا کرتے رہو۔ جب انسان نعمت و عافیت کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ عموما حق تعالیٰ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے اور دولت دنیا کو بڑھانے کی تدبیر میں لگ جاتا ہے، مال کی حفاظت کا بندوبست اور اس کے خرچ کا انتظام کرنے لگتا ہے۔ یہ تمام امور اس کے دل پر ہجوم کرتے ہیں اور اس کے دل کو سیاہ کردیتے ہیں۔

الهاكم التكاثر حتى زرتم المقابر

تکاثر اور زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی دھن اور مسابقت نے تمہیں اس چیز سے غافل کردیا جو تمہاری نیک بختی اور سعادت کی ضامن ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ تمہاری اس مسابقت نے جو زیادہ سے زیادہ مال و دولت سمیٹنے، اپنے جاہ و جلال کو بڑھانے اور اپنے حامیوں کی تعداد بڑھانے میں ہو رہی ہے، تم میں سے ہر ایک پر دوسرے سے آگے بڑھنے کی دھن سوار کر دی ہے۔ اس مسابقت نے تمہارے دل و دماغ پر اس طرح پر پھیلا دیے اور اس قدر تمھیں مشغول کر دیا ہے کہ تم نہ تو اس کھیل کے خطرناک انجام سے باخبر ہوسکے اور نہ اس چیز کو کوئی توجہ دے سکے، جس پر تمہاری دنیا اور آخرت کی فلاح کا دارومدار ہے۔ تم اس مسابقت کے مشغلے کے دلدل میں ایسے دھنس گئے کہ نہ صرف خدا اور آخرت کو بھول گئے بلکہ اپنی عزت اور حیثیت کو پامال کررہے ہو۔ تم میں سے کوئی پستی اور ذلت کی زندگی پر قانع ہو رہا ہے اور کوئی گناہوں کی راہ پر چل پڑا ہے۔ اپنی زندگی کے اختتام اور قبر میں پہنچنے تک اس میں مشغول رہے زندگی کے کسی پڑاؤ پر بھی اس مسابقت کو چھوڑنے پر قادر نہیں ہوسکے۔ حالات کی سختی کا ایک مقصد یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم اس تکاثر سے نکلیں اور اللہ کی طرف اور اللہ کی دی ہوئی ذمے داریوں کی طرف متوجہ ہوں۔

اندھیروں سے ڈرے کیوں دل ہمارا

بہت روشن ہے مستقبل ہمارا

نہ دیکھیں گے چمن برباد ہوتے

کہ اس میں خون ہے شامل ہمارا

 

اکتوبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau