آپ کی رائے

قارئین

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

میری جماعت سے ۵۰سالہ وابستگی ہے۔ جماعت کی کل ہند حیثیت جماعت کے لیے مفید کے بجائے مضر ثابت ہورہی ہے۔ اس کامرکز اور نظام حکومت کا مرکز دونوں دہلی ہی میں ہیں۔ جس کے نتیجے میں جماعت کی کارکردگی پر ایک غیرمحسوس خوف طاری رہتا ہے۔ اس وجہ سے جماعت کی رفتار کار اور اس کی جدوجہد کی سمت کے تبدیل ہونے کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ سازگار ماحول کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تھی۔ تحریک اسلامی کے لیے کیرالہ سازگارماحول فراہم کرسکتا ہے۔

مرکزی قائدین کے تمام فیصلے ﴿بشمول اجتہادی فیصلوں کے﴾ پوری کُل ہند جماعت پر نافذ کیے جاتے ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں کے حالات اور کیفیات جداگانہ ہوتی ہیں، مگر تمام ریاستوں پر شوریٰ کی قراردادیں اور فیصلے یکساں طورپر نافذ کیے جاتے ہیں۔ متوسلین جماعت اور مختلف حلقے ان قراردادوں کوبڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ہمارا یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے مرشدی نظام میں مریدین اپنے مرشد کے حکم کو مقدس سمجھتے ہیں۔ نظماے ضلع ، امراے مقامی، نظماے علاقہ ، امراے حلقہ، سکریٹری وغیرہ اپنے دوروں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ اعداد وشمار سے واضح ہوگاکہ زکوٰۃ اور اعانتوں کی نصف رقم دوروں پر اور کفاف پر خرچ ہوجاتی ہے۔ جب کہ عام ارکان و کارکن اپنی جگہ متعین رہتے ہیں۔ اس خرچ کو کم کرنے اور مرکزی قائدین پر دوروں کی مشقت کو ختم کرنے کے لیے جماعت کو ڈی سنٹرلائز کردیاجائے۔

ہر شہر کی جماعت آزادانہ (Independent)کام کرے۔ وہ اپنے امراء کا انتخاب شوریٰ اور دیگر آفس بیررز کا انتخاب خود کریں۔ تمام یونٹوں کا آپسی تعلق صرف اخلاقی اور روحانی رہے۔ ہمہ وقتی کارکنوں کا تقرر بھی اپنی رقمی گنجایش کی بنا پر اور اپنی ضرورت کے مطابق کریں۔ جہاں تک اجتہادی مسائل کا تعلق ہے اچھے علماے دین کے مشوروں سے حل کریں۔

اب الیکشن میں حصہ لینے کا مسئلہ ہے۔ کسی بڑے شہر کی یونٹ کو علماے کرام کے مشورے سے حصہ لینے میں افادیت محسوس ہوتو ضرور حصہ لیں۔ یونٹوں پر مرکزی فیصلے پر عمل آوری ضروری نہ رہے اور اس میں کوئی شرعی قباحت بھی نہیں ہے۔ قرآن و سنت چونکہ ہماری بنیاد ہے۔ اس لیے یونٹوں میں کام کرنے والے موثر طورپر کام کریں گے اور ریاستوں اور شہروں میں اچھی لیڈر شپ ابھرسکتی ہے۔

مرکزی قائدین اور امرائے حلقہ بڑے شہروں میں متعین ہوتے ہیں ، ہر ماہ دس دس روز دورے کرتے ہیں جب کہ لاکھوں افراد انھی شہروں میں جماعت اور اسلام کی تعلیمات سے نابلد رہتے ہیں۔ ان پر توجہ کرنے کے بجائے دلی سے چھوٹے گاؤں اور دیہاتوں میں اپنا وقت ، صلاحیت اور پیسہ ضائع کرنے میں آخر کیا معقولیت ہے؟ تبلیغی جماعت کے لوگ جو دیہاتوں میں جاکر اپنی رقوم خرچ کرکے مسجدوں میں قیام کرتے ہوئے لوگوں کو دین سکھاتے ہیں اور دین کے لیے قربانی دیتے ہیں ان کا نعرہ ہوتاہے: ’سیکھے ،ہیں تو سکھانے کے لیے نکلو۔نہیں سیکھے ہیں تو سیکھنے کے لیے نکلو‘۔ بہرحال موجودہ مادہ پرستی کے دور میں چالیس چالیس دن اور تین تین ماہ دیہات دیہات جاتے ہیں۔ ہوائی سفر بھی اگر کوئی کرتاہے تو وہ اپنی جیب سے پیسہ لگاتاہے نہ کہ کسی بیت المال سے لیتا ہے۔ ان کی فکر میں ایک بڑی کجی پائی جاتی ہے، وہ مگر ایک کامن مینیمم پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ نہ عہدوں اور منصبوں کا لالچ ہے اور نہ بڑے بڑے القاب پائے جاتے ہیں۔بدلتے حالات میں ہم کو اپنی موجودہ حکمت عملی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہماری یہی رفتارکار رہی تو اسلامی انقلاب آنے کے لیے کم سے کم دوصدیاں درکار ہوں گی۔

ڈاکٹر عبدالحمید، گلبرگہ

 

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

’’زندگی نو‘‘ ماہ جولائی ۲۰۱۲ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کا ایک مضمون بعنوان ’’اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب‘‘ بے حد پسند آیا۔ مضمون مختصر، جامع اور پُراثر ہے۔ جماعت کے ارکان و کارکنان ہی نہیں بلکہ قائدین تحریک اور ذمہ داران تنظیم کے لیے بھی اس میں عبرت و نصیحت کا وافر سامان موجود ہے۔ ایسے مضامین اگر جماعت کے دیگراخبارات و رسائل میں بھی شائع ہوتے رہیں تو ان کی افادیت کا دائرہ کافی وسیع ہوسکتا ہے۔

محترم شکیل احمد انور صاحب کو شکایت ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں سے ’’نئے لٹریچر‘‘ کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے، مگر عملاً نتیجہ نہیں کے برابر ہے۔ سوال یہ ہے کہ ۱۹۶۱کے بعد سے اب تک مولانا صدر الدین اصلاحیؒ ، مولانا احمد عروج قادریؒ ، مولانا سید حامد علیؒ  اور پھر مولانا سید جلال الدین عمری، ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، مولانا محمد یوسف اصلاحی وغیرہ کی جو معرکۃالآرا تصانیف سامنے آئی ہیں کیا وہ ’’جدید لٹریچر‘‘ کی تعریف میں نہیں آتیں۔ کیا جدید لٹریچر سے مراد وہ لٹریچر ہے جس میں اُن سرگرمیوں کو برحق قرار دیاگیاہو، جو سیکولرزم کی تائید و تحسین پرمشتمل ہیں۔ الیکشن کے ذریعے قانون ساز اداروں تک رسائی کے سلسلے میں ۱۹۶۱ سے اب تک کا سفر دیکھ کر کچھ ایسا محسوس ہورہاہے کہ پچاس سال کم ہیں انتظار کی گھڑیاں مزید گزارنی ہوںگی تب جدید لٹریچر تیار ہوسکے گا۔

محترم شکیل احمد انور صاحب کے اس احساس اور تاثر سے مجھے سو فیصد اتفاق ہے کہ جماعتی حلقوں میں فکری الجھنوںکا اصل سبب جماعت کا بنیادی لٹریچر ہے جو تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا اور پڑھا جارہا ہے۔ اس کی زبردست مقبولیت ہی دراصل ’’جدید لٹریچر‘‘ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بنیادی لٹریچر اگر جماعتی حلقوں تک ہی محدود ہوتا تو اس کی طباعت اور ترسیل واشاعت پر بلاتاخیر پابندی لگوائی جاسکتی تھی۔ صِرف ’’تحریک اسلامی- مرحلے اور تقاضے‘‘ نام کی کتاب ہی شائع ہوتی۔ دِقّت یہ ہے کہ جماعت کا بنیادی لٹریچر پوری دنیا میں تمام قابل ذکر زبانوں میں شائع ہورہاہے اور پڑھا جارہاہے۔ دنیا بھر کی دینی تحریکیں اس سے رہ نمائی حاصل کرتی ہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں کارکنان تحریک کے لیے روحانی غذا بھی ہے اورراہ حق کے سنگ ہائے میل کا مظہر بھی۔ واقعتہً ابھی تک اِس لٹریچر کا کوئی بدل سامنے نہیں آسکا ہے۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔والسلام

ثمینہ مظہر فلاحی، ذاکر حسین کالونی، میرٹھ

اگست 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau