اولاد کے حقوق

(2)

عتیق احمد شفیق

۵-امربالمعروف ونہی عن المنکر

امربالمعروف ونہی عن المنکر کے معنیٰ بھلائی کو پھیلانے اور برائی سے روکنے کے ہیں۔ بھلائی کو پھیلانا اور برائی سے روکنا ایک سکّے کے دورخ ہیں۔ ایک مثبت ،دوسرا منفی۔ بھلائی پھیلائی جائے گی تو اس کا نتیجہ برائی کاخاتمہ ہوگا اور برائی سے روکاجائے گا اور اس کاخاتمہ ہوگا تو اس کے نتیجے میں بھلائی پھیلے گی۔ قرآن نے مسلمانوں کی یہ ذمے داری ٹھیرائی ہے اور اس کو ایمان کے تقاضوں میں شامل کیاہے کہ جو خیرتمھارے پاس ہے اس پر خود عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں تک بھی پہنچائو۔کیونکہ انسانیت کی کامیابی کی ضمانت اسی میں ہے کہ وہ خیرپر عامل ہو، شر سے اجتناب کرے۔ خود انسان کی ذاتی کامیابی بھی اس میں مضمر ہے کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے۔

۶-صبرواستقامت

اوپر کی باتوںپر عمل کرنا آسان نہیں ہے۔ خواہ اسلامی تعلیمات پر عمل کا معاملہ ہو یا امربالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائی کا۔ اس کے لیے صبر و استقامت لازمی ہے۔ نماز و زکوٰۃ کاحکم دینے کے بعد قرآن نے خود بتادیاکہ یہ ایک مشکل امر ہے۔ اس کی پابندی آسان نہیں ہے:

وَاسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ وَاِنَّہَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِیْن﴿البقرہ:۵۴﴾

’مدد چاہو صبر اور نماز سے اور بے شک یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں‘۔

جب انسان بھلائیوں کاحکم دے گا اور بُرائیوں سے روکے گا،توجن کے مفادات پر چوٹ پڑے گی وہ اس کو آسانی سے برداشت نہیں کرسکیں گے۔ وہ مخالفت میں سامنے آجائیںگے۔ ایسے میں ان کے حربوں کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا بغیر صبر کے ممکن نہیں اور صبر کی صفت نماز سے پیدا ہوتی ہے اور نماز انسان نہیں ادا کرسکتا جب تک خدا کا خوف دل میں نہ ہو۔

۷- خوش اخلاقی

اوپرکے کاموں کی انجام دہی کے لیے جہاں صبرو استقامت کی ضرورت پڑے گی، وہیں حکمت عملی سے بھی کام لینا پڑے گا۔ لوگوں کی بدخلقی یا غلط رویے کے نتیجے میں انسان کو کنارہ کش ہوکر نہیں رہ جانا ہے۔ بلکہ لوگوں کی ترش کلامی کو برداشت کرتے ہوئے ان سے تعلقات کو بنائے رکھنا ہوگا، تبھی جاکر اوپر جن باتوں کی تلقین کی گئی ہے، ان کو انجام دیاجاسکتا ہے۔ نیک بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

 وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاس وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔  ﴿آل عمران:۱۳۴﴾

جو غصّے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کرتے ہیں۔ نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔

’جب کوئی نصیحت حاصل کرنے کے لیے آئے اگر دیہاتی ہے یا اس کے اندر کوئی کمی ہے تو اس کی کمی پر اس سے اغماض نہیں برتاجائے گا اور اللہ کے سولﷺ نے ایک موقع پر ایسا کیاتو اللہ تعالیٰ نے فوراً تنبیہ فرمائی:

عَبَسَ وَتَوَلَّی oأَن جَآئ ہُ الْأَعْمَیٰo  وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہُ یَزَّکّٰی oأَوْ یَذَّکَّرُ فَتَنفَعَہُ الذِّکْرٰی  ﴿عبس:۱-۴﴾

’ترش رو ہوا اور بے رخی برتی اور اس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا۔ تمھیں کیا خبر شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟

موسیٰ علیہ السلام کو کارنبوت سے نوازا اور فرعون کے دربار میں جانے کا حکم دیا تو گفتگو کس انداز سے ہوگی ، اس کی تلقین فرمائی:

فَقُولَا لَہ، قَوْلاً لَّیِّناً لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشٰی ﴿طہٰ:۴۴﴾

’اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔‘

نرم کلامی جہاں کار دعوت کوآسان کرتی ہے وہیں خود انسان کے اعمال درست ہوجاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاتحقرِنَّ من المعروفِ شیأً وَّ لَو اَن تلقیٰ اَخاکَ بِوَجہٍ طلقٍ ﴿مسلم﴾

’تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو خواہ اپنے بھائی سے شگفتہ روئی کے ساتھ ملنا ہی کیوں نہ ہو۔‘

اِنَّ اللہَ رَفیقٌ یُّحِبُ الرِّفْقَ وَ یُعْطِیْ عَلیَ الرِفْقِ مَالاَ یُعطِیْ علیَ العُنْفِ وَمَالَا یُعطِیْ علیٰ ماشّواہُ ﴿مسلم﴾

’اللہ نرم خو ہے نرم خوئی کو پسند فرماتاہے اور نرم خوئی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو درشتی و سختی پر عطا نہیں کرتا اور نہ نرم خوئی کے سوا کسی دوسرے وصف پر عطا کرتا ہے۔‘

الکلمۃُ الطَّیّبَۃُ صَدَقۃٌ﴿بخاری﴾ ’اچھی اور میٹھی بات بھی ایک صدقہ ہے۔‘

۸-غرور وتکبّر سے پرہیز

گھمنڈ، تکبر، انانیت بہت خراب اخلاقی بیماریاں ہیں۔ جو شخص اِن میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ خیر کے تمام سرچشموں سے محروم ہوجاتاہے۔ دنیا میں بھی اس کا انجام ذلت اور آخرت میں رسوائی ہوگا۔ ایمان جیسی دولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ قوموں کے، رسولوں کے جھٹلانے کا سبب اور احکام الٰہی کے انکار کا سبب استکبار کاجذبہ ہی کارفرما رہاہے۔اللہ نے اپنے نیک بندوں کی صفت یہ بتائی ہے کہ وہ نرم چال چلتے ہیں:

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً ﴿الفرقان:۳۶﴾

’رحمان کے بندے زمین پر نرم چال چالتے ہیں۔‘

اللہ نے استکبار سے روکا ہے۔ فرمایا:

 وَلاَ تَمْشِ فِیْ الأَرْضِ مَرَحاً اِنَّکَ لَن تَخْرِقَ الأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولا  ﴿بنی اسرائیل:۷۳﴾

’زمین میں اکڑکر نہ چلو تم نہ زمیں کو پھاڑسکتے ہو نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔‘

گھمنڈ میں مبتلا انسان ہدایت سے محروم رہ جاتا ہے:

قُلْ أَرَأَیْْتُمْ اِن کَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَکَفَرْتُم بِہِ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّن بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ عَلَی مِثْلِہِ فَاٰمَنَ وَاسْتَکْبَرْتُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ  ﴿الاحقاف:۱۰﴾

’اے نبی! ان سے کہو کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگریہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکارکردیا ﴿تو تمھارا کیا انجام ہوگا﴾ اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکاہے وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈمیں پڑے رہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘

متکبرین کا آخرت میں بھی بُراانجام ہوگا:

قِیْلَ ادْخُلُوآ أَبْوَابَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ   ﴿الزمر:۷۲﴾

’کہاجائے گا داخل ہوجائو جہنم کے دروازوں میں یہاں اب تمھیں ہمیشہ رہناہے۔ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لیے۔‘

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا یَدْخُلُ الجنَّۃَ مَن کانَ فی قَلبِہٰ مِثقالُ ذرۃٍ مِّنْ کِبرٍ ﴿مسلم﴾

’جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی کبرو غرور ہوگا۔‘

۹-چال میں میانہ روی

اسلام زندگی کے ہر معاملے میںمیانہ روی، توازن اور انصاف کی دعوت دیتا ہے۔ اوپر چال میں گھمنڈ سے روکاہے۔ اس سے کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مریل چال چلنے لگے۔ آدمی جب چلے تو متوازن و شریفانہ چال چلے۔

۱۰-آواز پست رکھنا

زبان کی مٹھاس اور شیریں کلامی، دلوں کو جوڑتی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں گھر بنالیتی ہے۔ دشمن دوست ہوجاتے ہیں جب کہ اس کاغلط استعمال، ترش کلامی دلوں کو جدا کردیتی ہے۔ انسان میں دوری پیدا کرتی ہے۔ دوستوں او رشتوں کے درمیان دراڑ ڈالتی ہے۔ زور زور سے بولنا، چیخ پکار کرنے والے لہجے میں تکبر کی بو آتی ہے۔ لہٰذا انکسار، تواضع، عجز چال میں بھی ہو زبان میں بھی۔ نرم چال ونرم گفتاری و ہ ہتھیار ہے جس کو انسان بھلائی کے فروغ اور بُرائی کے ازالے میں استعمال کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

قُولُوا لِلنَّاسِ حُسناً ﴿البقرہ:﴾ ’لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘

تیزآواز سے بولناعام طور سے جھگڑے کاباعث بنتاہے۔ شیطان اس حربے کو استعمال کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَقُل لِّعِبَادِیْ یَقُولُواْ الَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ اِنَّ الشَّیْْطَانَ یَنزَغُ بَیْْنَہُمْ اِنَّ الشَّیْْطَانَ کَانَ لِلاِنْسَانِ عَدُوّاً مُّبِیْناً  ﴿بنی اسرائیل:۳۵﴾

’اے نبی! میرے بندوں ﴿مومنوں﴾ سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔ دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘

اولاد کا والدین پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کی دنیا وآخرت کی کام یابی کے لیے دعا کریں۔ اولاد کی تربیت و اصلاح کی کوششیں اسی وقت کارگرہوںگی جب اس کو دعا کی کمک پہنچائی جائے۔ انبیاے علیہم السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعاے خیر کی۔ مثلاً ابراہیمؑ  نے اپنی اولاد ہی نہیں بلکہ آیندہ نسل تک کے لیے دعا فرمائی ہے:

قُولُوآْ اٰ مَنَّا بِاللّہِ وَمَآ أُنزِلَ اِلَیْْنَا وَمَآ أُنزِلَ اِلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ وَاِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَآ أُوتِیَ مُوسَی وَعِیْسَی وَمَآ أُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ وَنَحْنُ لَہ، مُسْلِمُونَ o ﴿البقرہ:۱۳۶﴾

’یادکرو کہ جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اترگیاتو اس نے کہا میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ ابراہیم ؑ  نے عرض کیا اور کہا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟ اس نے جواب دیا ’’میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے اور یہ کہ ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: ’اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں، انھیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے۔ جواب میں اس کے رب نے فرمایا: جو نہ مانے گا، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوںگا مگر آخرکار آخرت میں اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوںگا اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔‘

رَّبَّنَآ اِنِّیْ أَسْکَنتُ مِن ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِندَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُواْ الصَّلاَۃَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ اِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُونo              ﴿ابراہیم:۳۷﴾

 رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلاَۃِ وَمِن ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآئ﴿ابراہیم:۴۰﴾

’پروردگار میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لابسایا ہے۔ پروردگار یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں۔ لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنااور انھیں کھانے کو پھل دے۔ شاید کہ یہ شکرگزار بنیں۔اے میرے پروردگار مجھے نمازقائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں۔ پروردگار میری دعا قبول کر۔‘

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْْنِ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَآ أُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا  ﴿البقرہ:۱۲۸﴾

اے رب ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا۔ ہماری اولاد سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو اور ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔‘

چنانچہ ہم اس دعا کی تاثیر اپنے سر کی آنکھوں سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ عرب جہاں پینے کے لیے ایک قطرہ پانی نہ تھا۔ آج وہاں نہ صرف وافر مقدا رمیں پانی مہیا ہے بلکہ ہر موسم اور ہرزمانے میں ہر طرح کے پھل دستیاب ہیں۔ پٹرول کی وجہ سے وہ دنیا کی اہم مادی طاقت اختیار کرگیا ہے۔دوسری دعا کے نتیجے میں آپ کی نسل میں انبیائ کاسلسلہ جاری رہا۔ اسحق، یعقوب، یوسف، موسیٰ، عیسیٰ، شعیب، ہارون علیہم السلام سب سے آخر میں اسمٰعیل علیہ السلام کی نسل میں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔اور آپ پر اترنے والی کتاب کو تاقیامت کے لیے حفاظت کی ذمے داری اللہ نے خود لے لی۔ مشہور محدث حضرت عبداللہؒ جو امام بخاری کے نام سے مشہور ہیں، ان کے بارے میں آتاہے کہ بچپن میں ان کی آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی تھی۔ ان کی ماں نے اللہ کے حضور گڑگڑاکر دعائیں مانگیں۔ روایت میں آتاہے کہ نہ صرف ان کی بینائی واپس آگئی بلکہ اتنی تیز ہوگئی کہ چاندنی رات میں آپ نہ صرف پڑھتے تھے بلکہ بخاری شریف بھی لکھی۔

اولاد کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ جب اولاد جوان اور بالغ ہوجائے تو اس کانکاح ﴿صالح لڑکے/لڑکی سے﴾ کردیاجائے۔ ایک معاشرہ بے حیائی وبدکاری سے اسی وقت بچ سکتا ہے جب اس میں والدین اولاد کے حق میں نکاح کو ہر وقت اور صحیح سے انجام دیتے ہوں، ورنہ سماج یا معاشرہ بے حیائی و بدکاری کی آماجگاہ بن جائے گا۔ اس کی واحد وجہ والدین کا اس حق کی ادائی میں سرد مہری، سست رفتاراوربے جا قیود ورسوم کی پابندی ہوگا۔ قرآن اس سلسلے میں بڑی وضاحت کے ساتھ رہنمائی کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نکاح کا مطالعہ اس پس منظر میں کیاجائے تو یہ واقعہ بھی ہماری یہ رہ نمائی کرتا ہے کہ نکاح بروقت اور صالح رشتہ ملنے پر تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب مصر میں دو لوگوں کو لڑتے دیکھااور کمزور آدمی نے آپ کو مدد کے لیے بلایا تو آپ نے اس کی مدد میں ظالم کو ایک گھونسا مارا جس سے وہ مرگیا۔ دوسری طرف ان کو کسی نے یہ اطلاع پہنچائی : سرداران مملکت تمھارے قتل کامنصوبہ بنارہے ہیں۔ موسیٰ اس اطلاع کے ملنے پر وہاں سے بھاگ نکلے اور مدین پہنچ کر ایک کنویں پر جاکر ٹھہرگئے:

ولَمَّا وَرَدَ مَائ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْْہِ أُمَّۃً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِہِمُ امْرَأتَیْْنِ تَذُودَانِ قَالَ مَا خَطْبُکُمَا قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتَّی یُصْدِرَ الرِّعَائ وَأَبُونَا شَیْْخٌ کَبِیْرٌ oفَسَقَی لَہُمَا ثُمَّ تَوَلَّی اِلَی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَا أَنزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْْرٍ فَقِیْرٌ oفَجَائ تْہُ اِحْدَاہُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَائ قَالَتْ اِنَّ أَبِیْ یَدْعُوکَ لِیَجْزِیَکَ أَجْرَ مَا سَقَیْْتَ لَنَا فَلَمَّا جَائ ہُ وَقَصَّ عَلَیْْہِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ oقَالَتْ اِحْدَاہُمَا یَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْہُ اِنَّ خَیْْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْأَمِیْنُ oقَالَ اِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُنکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہَاتَیْْنِ عَلَی أَن تَأْجُرَنِیْ ثَمَانِیَ حِجَجٍ فَاِنْ أَتْمَمْتَ عَشْراً فَمِنْ عِندِکَ وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَیْْکَ سَتَجِدُنِیْ اِن شَائ اللَّہُ مِنَ الصَّالِحِیْنَ oقَالَ ذَلِکَ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکَ أَیَّمَا الْأَجَلَیْْنِ قَضَیْْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللَّہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْل o    ﴿القصص:۲۳-۲۸﴾

’اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا تو اس نے دیکھاکہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلارہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔ موسیٰ نے ان عورتوں سے پوچھا : تمھیں کیا پریشانی ہے؟انھوںنے کہا ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتے جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں اور ہمارے والدایک بہت بوڑھے آدمی ہیں۔ یہ سن کر موسیٰ علیہ السلام نے ان کے جانوروں کو پانی پلادیا۔ پھر ایک سائے کی جگہ جابیٹھا اور بولا پروردگار جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں ﴿کچھ دیر نہ گزری تھی کہ﴾ ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے والد آپ کو بلارہے ہیں۔ تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایاہے، اس کا اجر آپ کو دیں۔ موسیٰ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سنایا تو اس نے کہا: کچھ خوف نہ کرو اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو۔ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتاہے جو مضبوط اور امانت دار ہو۔ اس کے باپ نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: میں چاہتاہوں کہ اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمھارے ساتھ کردوں۔ بہ شرطے کہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو اور اگر دس پورے کردو تو یہ تمھاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرناچاہتا۔ تم اِن شائ اللہ مجھے نیک آدمی پائوگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ اِن دونوںمدتوں میں سے جو بھی میں پوری کردوں اس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو اور جو کچھ قول قرار ہم کررہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے۔

اس واقعے پر مختلف پہلووں اور نقطہ نگاہ سے غور کیاجاسکتا ہے۔

۱-   حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کو پانی پلاکر پریشان حال لڑکیوں کی مدد کی۔ اس کے بعد اللہ سے دعا کی کہ میں ضرورت مند ہوں ۔ میرے ساتھ تو اے اللہ خیر کامعاملہ فرما۔ اللہ نیک کام کے بعد کی جانے والی دعا کو قبول کرتاہے۔ موسیٰ علیہ السلام غریب الوطن اور بے سروسامانی کے عالم میں تھے لہٰذا نیکی کرنے کے بعد فوراًاپنے لیے خیرکی سبیل و راہ نکالنے کے لیے اللہ کے حضور دست بہ دُعاہوئے۔

۲-    اس روز لڑکیاں معمول سے ہٹ کر گھر جلد پہنچی ہوںگی تو حضرت شعیبؑ  نے ان سے جلد آنے کا سبب دریافت کیاہوگا۔ بہرحال دونوں میں جو بات بھی ہوئی ہو، حضرت شعیبؑ  پوری روداد سننے کے بعداس نتیجے پر پہنچے ہوںگے کہ یہ کوئی بھلا آدمی ہے،پردیسی ہے، اس سے ملاقات کی جائے۔

۳-   اسی وجہ سے حضرت شعیبؑ  نے اپنی لڑکی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلوایا۔

۴- لڑکی نے جب موسیٰ ؑ کے سامنے یہ بات رکھی کہ ابوجان معاوضہ دینے کے لیے بُلارہے ہیں ﴿حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو ان کی مدد پریشان حال اور شریف زادیاں سمجھ کر اللہ کے واسطے کی تھی﴾ ظاہرہے کہ وہ اتنے معمولی سے کام کی اجرت لینے کے لیے موسی کا چل پڑنا ان کی عالی ظرفی کے منافی ہے۔ مگر جیساکہ اوپرگزرچکاہے کہ وہ بکریوں کو پانی پلانے کے بعد اپنی جگہ جاکر بیٹھ گئے اور لڑکیوں سے کسی طرح کی بات نہیں کی۔ اور اسی طرح جب لڑکی بلانے آئی تو اس سے کسی طرح کی کوئی بات نہیں کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اجرت لینے کی بجائے اس ارادے سے چل پڑے ہوں گے کہ لائو ان کے والد سے ملاقات کی جائے۔ یہ لڑکیاں شریف زادیاں ہیں اُن کی تربیت کرنے والا ضرور اچھا ، بھلا اور شریف انسان ہوگا۔ اس سے مل کر شاید آیندہ کے لیے کوئی مشورہ کرسکوں اور کوئی حل نکل سکے ۔

۵-  لڑکی کی جانب سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملازم رکھنے کی سفارش اس بات کاعندیہ دیتی ہے کہ حضرت شعیبؑ  پہلے ہی سے گلّے کی نگرانی اور گھریلو ضروریات کے پیش نظر کسی موزوں و مناسب آدمی کی تلاش میں تھے۔ لڑکی کایہ گواہی دیناکہ یہ امانت دار و قوی ہیں، حضرت موسیٰ نے لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک و انداز اور رویہ اختیارکیا مزید سابقہ زندگی کی روداد سننے کے بعدان کو اطمینان ہوگیاکہ یہ امانت دار ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ حضرت شعیبؑ  کے ہاں بطور مہمان چند روزگزرے ہوں۔ اس درمیان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رویے سے ان کی شخصیت کے روشن پہلو نمایاں طورسے ان کے سامنے آئے ہوں۔

۶-    حضرت شعیبؑ  نے لڑکی کی اس درخواست پر غور کیااور معاملے کی مختلف نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے ہوں کہ جوان لڑکیوں کے درمیان جوان وتندرست آدمی کو رکھنا مناسب نہیں ہے۔ اگرچہ وہ نیک و صالح ہی معلوم ہوتاہے۔ کیوں نہ اس سے اپنی لڑکی کانکاح کردیاجائے۔ یہ رائے قائم کرنے کے بعد انھوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں یہ پیش کش رکھی کہ وہ اپنی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی ان سے بیاہنا چاہتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ آٹھ سال یا دس سال وہیں رہیں گے۔

دراصل یہ وہ بات ہے جس کی وجہ سے ہم نے یہ پورا واقعہ نوٹ کیاہے۔ جب جوان، تندرست، امانت دار لڑکا ملا تو حضرت شعیبؑ  نے اپنی لڑکی ان سے بیاہ دی۔

۷- حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی نکاح کے لیے اس لیے تیار ہوگئے کہ انھوںنے لڑکیوں کی ﴿کنویں پر، اور جب وہ بلانے آئی تھی اور ہوسکتاہے کہ جب وہ بطور مہمان ان کے یہاں دوچار روز رکے ہوںاس درمیان﴾ شرافت کا اندازہ لگالیاہوگا۔

گویا لڑکی کے باپ کی جانب سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نکاح کی پیش کش صرف اورصرف ان کی امانت داری اور ایمانی غیرت و حمیت کی وجہ سے کی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیش کش کو قبول کرنے کی وجہ سے بھی عورت کی غیرت ایمان، پاک بازی، راست بازی و شرافت تھی۔ ارشاد ربانی ہے:

 وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ اِن یَکُونُوا فُقَرَائ یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ﴿نور:۲۳﴾

’تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمھارے لونڈی غلاموں میں جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔‘

ایامی کا لفظ ہر اس مرد و عورت کے لیے بولاجاتاہے جس کے بیوی نہ ہو یا شوہر نہ ہو، اس آیت میں معاشرے کی ذمے داری ٹھیرائی گئی ہے کہ صالح افراد کو ازدواجی رشتے میں جوڑیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں بہت ہی واضح انداز میں نصیحت فرمائی:

۱- اِذا خَطبَ اِلیکُمْ مَّن ترضون دینہ‘ فزوجوہُ اِلاَّ تفعلُوا تکُن فتنۃٌ فی الارض و فساد عریضٌ ﴿ترمذی ابواب النکاح﴾

’جب تمھارے پاس وہ آدمی نکاح کا پیغام لائے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہوتو اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کردو اگر تم ایسا نہ کروگے تو ملک میں فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہوگا۔‘

۲-تُنکَحُ المرأۃُ لِاَربعٍ لِمالِہا و لحسبہا ولِجَمَالِہا وَلِدینھاَ فاظفربذاتِ الدین تُربَتْ یَداکَ ﴿بخاری و مسلم کتاب نکاح﴾

’عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر نکاح کیاجاتاہے ﴿۱﴾اس کی جائیداد کی وجہ سے ﴿۲﴾اس کی خاندانی شرافت کی وجہ سے ﴿۳﴾اس کے حسن وجمال کے باعث اور﴿۴﴾اس کی دین داری کی بنیاد پر۔ تم دیندار عورت کو حاصل کرو۔ یہ بات گرہ میں باندھ لو۔‘

۳-من عَالَ ثَلٰثَ بَنَاتٍ فَاَدَّ بَہُنَّ وَزوَوَّجَجُنَّ و اَحسَنَ اِلَیہِنَّ فَلَہُ الجنَّۃُ ﴿ابوداؤد﴾

’جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی ، انھیں اچھا ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان سے حسن سلوک کیا وہ جنت میں جائے گا۔

۴- حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نصیحت فرمائی:

یا علی ثلاثٌ لاتؤَخِرْھَا، الصَّلوٰۃُ اِذا اتتُ والجنازۃُ اذا حضرت والایمُّ اذا وحدتَ لہا کفواً ﴿ترمذی ابواب الجنائز﴾

’اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو: جب نماز کا وقت آجائے اور جب جنازہ تیار ہو﴿تو اسے بہت جلد زمین کے سپرد کردو﴾ اور جب غیرشادی شدہ عورت کا’ہمسر‘ پاؤ﴿تو اس سے اس کانکاح کردو۔﴾‘

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau