ماہ ستمبر کے فکری مباحثے سے متعلق

ڈاکٹر خالد مبشر

راشد الغنوشی،تیونس کی اسلامی تحریک کے صفِ اول کے قائد ہیں اور اسلامی تحریکات کو درپیش چیلنجوں کے حوالے سے حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ کا حامل ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی حالیہ تحریر ’’اسلامی تحریکات بڑی کامیابیاں اوربڑے سوالات‘‘ سامنے ہے،یہ تحریرتحریکات اسلامی کے غیرجانب دارانہ عملی تجزیہ کا حسین مظہر ہے جس میں محتاط لیکن نہایت کارگر جراحی ہی نہیں کی گئی ہے بلکہ ممکنہ اورموثر علاج بھی تجویز کیےگئے ہیں۔ زیر نظر تحریر کی تجزیاتی سطح بہت عمیق نہیں ہے اس لیے کہ اس میں فکر سے زیادہ عملی رویوں اور رجحانات کو موضوع بنایا گیا ہے، لیکن پھر بھی اس طرح کے بے لاگ تبصرے غور و فکر کی جرأت مندی،متنوع تدبیر وں کو سجھانے اور نئی راہوں کی تلاش کا حوصلہ بڑھانے میں مہمیز کا کام کرتے ہیں۔

ارتقا زندگی کی علامت ہے اور تبدیلی ارتقا کا جزو لاینفک۔ میری نظر میں تحریک اسلامی میں فکر کے ارتقا کا عمل مستقل جاری رہنا بے انتہا ضروری ہے۔ بلکہ اس ارتقا کو دنیا میں آرہی تبدیلیوں کے ساتھ کامل ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ دنیا کے سامنے دین کا ہمہ گیر تصور ہی نہیں اس کی عملی تطبیقات کو پیش کرنے کے منصوبے بنانا بھی ضروری ہے۔ تحریکات اسلامی کی حکمت عملی جامع ہو جامد نہیں، درکار صلاحیتوں کی فراہمی اور ارتقا کا وسیع منصوبہ بنے۔ اسلامی تحریک صرف ملت ہی کی نہیں بلکہ سارے انسانوں کی قیادت کا فریضہ انجام دے۔ نصب العین کی جانب سفر کے جامع منصوبے کے علاوہ قابل جانچ چھوٹے اور کم مدتی منصوبے بنائے جائیں تاکہ مستقل مہمیز ملتی رہے۔ تحریک میں تابندہ ذہن اور فعال جسم کو تیار کریں جو تعطل کا شکار نہ ہو، وہ اسلام کی وسعتوں کو بھی سمجھتا ہواور حالات کی پیچیدگیوں کو بھی جانتا بوجھتاہو۔ فی الوقت اسی تعطل کے نتیجے میں حقیقی تجزیے کی روشنی میں صحیح ویژن اور سائنٹفک منصوبہ بندی کی راہ بند ہے۔ تحریک اسلامی مراکز قوت و طاقت تک رسائی اور ان میں نفوذ کی موثر منصوبہ بندی کرے۔ اس کے لیے افرادی قوت میں اضافہ اور ان افراد کے موثر استعمال کو یقینی بنا یا جائے، ہم توانائیاں اکٹھا تو کررہے ہیں مگر ان سے کام نہیں لے رہے ہیں۔ میری نظرمیں راشد الغنوشی کا تحریکات اسلامی پر محاکمہ، نقد ونظر اوراٹھائے گئے سبھی سوالات بر صغیر ہندو پاک کی تحریک اسلامی میں موجود ارتعاشات اور اندرونی تلاطم کا نامکمل ہی سہی لیکن خوب صورت مظہرہیں۔ یہاں کی جغرافیائی وسعت اور بڑی اور متنوع افرادی قوت ہمیں اپنی تحریک کا خود بہت گہرائی وگیرائی سے جائزہ لینے کی طرف متوجہ کررہی ہے۔ اسلامی تحریک کی نمایاں کامیابیوں کاغیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لینا،،آزمائشوں اور چیلنجوں کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کرنا اور کم زوریوں اور ناکامیوں کا بے لاگ محاسبہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پروفیسر محمد خالد مبشرالظفر

(صدر شعبہ ترجمہ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد)

راشد غنوشی صاحب کی یہ معرکہ آرا تحریر نہ صرف عالم عرب بلکہ پوری دنیا کی اسلامی تحریکات کے ماضی اور حال کی غماز ہے۔ مصنف نے اسلامی تحریکات کا دقیق تجزیہ بڑے ہی مختصر اور بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ دور حاضر میں تحریکات اسلامی کو درپیش گوناگوں مسائل اور چیلنجز کا سامنا کس طرح سے کیا جائے اور تحریکات اسلامی خواہ کسی بھی خطہ ارض سے تعلق رکھتی ہوں ، ان کے درخشاں مستقبل اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل کے ماضی اور حال کا پیش کردہ دقیق تجزیہ موجودہ اسلامی تحریکات کو مستقبل کی ایک جامع منصوبہ بندی کی طرف ضرور ابھارتا ہے۔

سید موسیٰ کلیم فلاحی

(پریسیڈنٹ ، اسلامی بینک آف افغانستان)

یہ کامیابی تو یقیناً تحریکات اسلامی نے حاصل کی ہے کہ ’’امت کے سامنے دین کا ایسا ہمہ گیر تصور پیش کیا جس میں سلوک، عقیدہ اور معاشرت کے پہلو ساتھ ساتھ اور ہم آہنگ نظر آتے ہیں‘‘ تاہم راشد غنوشی صاحب کے یہ دعوے صرف تحریک اسلامی ہند نہیں بلکہ عالمی تحریکات کے پس منظر میں بھی محل نظر ہیں کہ ’’اسلامی تحریک نے چوتھائی صدی کی طویل جدوجہد کے بعد یہ کامیابی حاصل کرلی کہ اسلام پر چھائی ہوئی دور زوال کی گرد کوجھاڑ دیا ‘‘اور یہ کہ’’ مغربی ثقافت کی بالادستی سے اسے آزاد کرالیا۔ ‘‘  اگرفی الواقع غنوشی صاحب کا ماننا ہے کہ تحریکات اسلامی نے اسلام پر چھائی ہوئی دور زوال کی گرد کوجھاڑ دیا ہے، تب تو پہلے اس پر گفتگو کرنی ہوگی کہ غنوشی صاحب کی راے میں امت کے زوال کا مطلب کیا ہے؟ اگر غنوشی محض سیاسی محکومی کو زوال سمجھتے ہیں، تب تو ان کا دعوی کسی حد تک درست ہوسکتا ہے۔ غالب خیال ہے کہ غنوشی صاحب سیاسی محکومی ہی کو اصل زوال خیال کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک ہی تحریر میں پہلے وہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلامی تحریکات نے دور زوال کی گرد کو جھاڑنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے، پھر اسی تحریر میں یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ’’مسلم دماغ تعطل کا شکار ہے‘‘ اور ’’مسلم دماغ صدیوں سے یا تو ابونواس والی مے خواری میں مدہوش رہا ہے یا حلاج والے صوفیانہ حال میں مست رہا ہے ‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسلم دماغ صدیوں سے تعطل کا شکار رہا ہے ،تو آخر وہ کون سا زوال ہے جس کی گرد جھاڑنے میں تحریکات اسلامی نے کامیابی حاصل کرلی ہے؟ میرے نزدیک تو امت مسلمہ کا بحیثیت امت اُس نصب العین کو فراموش کردینا، امت کا سب سے بڑا زوال ہے جسے اللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے چھین کر امت مسلمہ کو عطا کیا تھا۔ اس زوال کا راست تعلق زوال علم وفکر اور الّذینَ یَنْقُضُونَ عَھْدَ اللَّہِ سے ہے۔ اس حوالے سے اگر آج امت مسلمہ کا جائزہ لیا جائے ،تو یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ اس سلسلے میں ابتدائی بیداری امت میں عالمی سطح پر آئی ہے،البتہ وہ وقت ابھی نہیں آیا ہے کہ ہم یہ دعوی کرسکیں کہ ’’تحریکات اسلامی نے اسلام پر چھائی ہوئی دور زوال کی گرد کوجھاڑ دیا ہے ‘‘۔

امت کو ’’مغربی ثقافت کی بالادستی‘‘ سے آزاد کرالینے کی بات بھی معلوم نہیں کہ غنوشی صاحب نے کس تحریک اسلامی اور کس ملک یا خطہ ارضی کے حوالے سے کہی ہے۔ کم از کم زیر بحث اقتباس سے تو اس کی وضاحت نہیں ہوتی۔

بات اسلام کے تصور عروج و زوال کی ہو،امت کے زوال کی ہو یا مغربی ثقافت، اس کی بالادستی، اور اس کی بالادستی سے امت کو ’آزاد‘ کرالینے کی ہو، یہ تمام مباحث وسیع اور گہرے ہیں۔ ان کے حوالے سے محض ایک sweeping statement [عمومی بیان] جاری کرکے ہم اپنے فکر کی صحیح ترجمانی نہیں کرسکتے۔ ضروری ہے کہ غنوشی صاحب ان مباحث پر قدرے تفصیل سے قلم اٹھائیں، تاکہ ان کے دعوؤں کا صحیح طریقے سے جائزہ لیا جاسکے۔

’’اسلامی تحریکات کا سب سے بڑا مسئلہ‘‘ کے عنوان سے جو باتیں غنوشی صاحب نے رقم کی ہیں وہ بلا شبہ عالمی تحریکات اسلامی کے لیے بھی اور تحریک اسلامی ہند کے لیے بھی اہم اور مفید ہیں۔ البتہ جب تحریک اسلامی کے مسائل پر اصولی نوعیت کی گفتگو ہو رہی ہو ،تو کسی ایک مسئلہ کو generalize [تعمیم] کرتے ہوئے اسے ’’سب سے بڑا مسئلہ‘‘ قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ ’’سب سے بڑا‘‘ اور ’’سب سے چھوٹا‘‘ کی بحث ایک غیرضروری بحث ہے، جس سے ممکن ہے کہ ہم بعض دیگر اہم مسائل کو نظر انداز کربیٹھیں یا ان پر اتنی توجہ نہ دے سکیں ،جتنی کہ وہ توجہ کی مستحق ہیں۔

غنوشی صاحب کی اس تحریر کے تناظر میں چند باتیں تحریک اسلامی ہند کے تعلق سے بھی ذہن میں آئیں ،جنہیں بغیر کسی منطقی ترتیب کے میں یہاں پیش کررہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ وہ باتیں ہیں جن پر تحریک کے ارباب حل و عقد کو غور کرنا چاہیے۔ اور اگر ان میں کوئی بات مناسب اور relevant [برمحل]معلوم ہو،تو اس کے مطابق تحریک کے لائحہ عمل میں تبدیلی لانی چاہیے۔

تحریک اسلامی ، اپنی اصل کے اعتبار سے ایک علمی و فکری تحریک کا نام ہے۔ جس کا کام نہ صرف یہ کہ ملکی و عالمی حلقۂ علم و فکر میں جو موضوعات زیر ِبحث ہیں ،ان پر اسلامی نقطہ نظر کی کامیاب ترجمانی کرنا ہے،بلکہ از خود ایسے افکار کو متعارف کرانا بھی ہے ،جو علمی حلقوں کا غالب ڈسکورس بن جائیں۔ اوریوں دانش ور طبقے کی اسلام سے متاثر ہونے کی راہ ہم وارہوسکے۔ اپنے قیام کے ابتدائی مراحل میں تحریکات اسلامی کی بنیادی شناخت اسی حوالے سے تھی۔ تحریک اسلامی کے نظریہ سازوں نے،اور بہت نمایاں طور پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے یہی کارنامہ انجام دیا تھا۔ انھوںنے اپنے زمانے کی علمی و فکری ضروریات کی شناخت کرکے ، ان پر بھرپور اسلامی لٹریچرفراہم کیا تھا۔ یہ ان بزرگوں کا علمی کام ہی تھا جس نے اسلامی ڈسکورس کو عالمی ڈسکورس میں تبدیل کردیااورسرمایہ دارانہ استعماری ذہنیت رکھنے والی اسلام مخالف طاقتیں دفاعی پوزیشن میں جا کر ’سیاسی اسلام‘ کا ہوّا کھڑا کرنے لگیں۔اب صورتِ حال خاصی بدل چکی ہے۔ اب تحریکِ اسلامی کی یہ شناخت باقی نہیں رہی کہ یہ خالص علمی و فکری تحریک ہے۔

تحریک کی علمی و فکری شناخت کو دوبارہ بحال کرنے،اس کے لیے کارگر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں اپنے چند مقالات میں محترم امیر جماعت نے اس کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اب وقت ہے کہ اس کے طریقہ کار پر بھی ڈسکشن ہو۔ سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف ومخالف افکار رکھنے والے علما  اور  اسکالرس سے واقفیت کے بعد تحریک کے نوجوان حلقے میں بھی ایک محدود حد تک بیداری آئی ہے، علمی تحقیق اور فکری مکالمات میں حصہ لینے کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔ اس تبدیلی کو مناسب رہ نمائی اور صحیح سمت دینے کی ضرورت ہے۔

سعود فیروز

( مدیر ماہ نامہ رفیق منزل)

اکتوبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau