تعدد ازدواج – تاریخی حقائق

ڈاکٹر محمد شمیم اختر قاسمی

قدیم زمانہ سے ہی دنیاکے بیش تر ممالک میں تعدد ازدواج کارواج کسی نہ کسی شکل میں رہا ہے اب بہت سے ترقی یافتہ ممالک میںتعددازدواج پرقانونی پابندی عائدکردی گئی ہے ۔ بعض دوسرے ممالک میں بحث ومباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ درحقیقت یہ پابندی مذہب اور فطرت انسانی سے بغاوت ہے۔ اس وجہ سے ان ممالک میںشادی کے بغیرجنسی پارٹنر رکھنے اورLive in Relationship  کا رجحان  تیزی سے فروغ پارہا ہے ، جو غلط ہے اور بدکاری پر مبنی ہے۔اس کے نتیجے میںناجائز بچوں کی تعداد میں  اضافہ ہورہا ہے ،جس سے وہاں کی معاشرت تباہ وبرباد ہوکر رہ گئی ہے۔یہ منفی رجحان مسلم ملکوںکو بھی متاثر کر رہا ہے۔

اسلام نے زمانہ قدیم کی رسم یاتعدد ازدواج کو یکسر کالعدم قرار نہیں دیا ہے ،بلکہ ناگزیر حالات اور دوررس سماجی ومعاشرتی مصالح کے پیش نظر ضابطہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کو اس کی اجازت دی اور اسےچارتک کی تعداد میں محدود ومقید کردیا۔

بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اسلام نے اس کی اجازت دے کر عورتوںپر زیادتی کی جبکہ واقعہ یہ ہے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد شادیاںکی تھیں۔۱؎بعض نام نہاد جدت پسند مسلمان کہتےہیں کہ اس سے عورتوں کے حقوق پر زد پڑتی ہے۔وہ اس کوعورتوں پر مر د کی بالا دستی قرار دیتے ہیں۔ وہ  اسے ترقی کی راہ میں حائل سمجھتے ہیں۔نام نہاد مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو اسلام کے مسلمہ اصول وقوانین کی نفی کرکے کثیر زوجگی کو اس بناپر رد کردیتا ہے کہ یہ ان کے پراگندہ ذہن کے موافق نہیں ہے۔اس بارے میں وہ قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ کابھی انکار کردیتاہے۔۲؎

اسی طرح کی فکر کو ڈھال بنا کر ہندوستان میں مسلمانوں کی شبیہ خراب کی جارہی ہے اور اس کو منسوخ کرنے کی پرزور کوشش کی جارہی ہے۔ صحیح صورتحال یہ ہے کہ مسلمان برائے نام  اور مجبوری کی حالت میں اس پر عمل کرتے ہیں، وہ بھی  دوسری زوجہ سے آگے نہیں بڑھتے۔ اس کے برعکس غیر مسلم سماج میں اس کا رواج زیادہ ہے جن کے مذہبی اور ملکی قانون میں اس کی مطلق اجازت نہیں سروے سے یہی واضح ہوا ہے۔ یہاں یہ بتانا  ضروری ہے کہ اسلام نے اس کی محض اجازت دی ہے، یہ کوئی حکم نہیں ہےیہاںچند ضروری حقائق بیان کئے جاتے ہیں۔

ماضی کا رواج:

بہت سے انبیاء کرام نے اس پر عمل کیا ۔ حضرت نو ح علیہ السلام کے زمانہ میں ایک سے زائد بیویاں رکھنےرواج تھا۔ ۳؎حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق مشہور یہی ہے کہ ان کی تین بیویاں تھیں۔۴؎ ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بیویوں کی تعداد چار تھی۔ ۵؎حضرت یعقوب علیہ السلام کی چاربیویاں تھیں۔ ۶؎۔حضرت داؤد علیہ السلام کی نو بیویاں تھیں۔۷؎حضرت موسی علیہ السلام کی ایک روایت کے مطابق دو اور دوسری کے مطابق چار بیویاں تھیں۔۱۰؎حضرت عیسی اور حضرت یحییٰ علیہم السلام کے بارے میں کہاجاتاہے کہ انہوں نے شادی نہیں کی ،لیکن انجیل متیٰ کے ایک واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ ان کے عہد میں اس رواج پر عمل کیا جاتاتھا۔۱۱؎یہی وجہ تھی کہ ان کے اولین مبلغین نے چند زوجگی کی ممانعت نہیں کی تھی۔

توریتی قانون میں اس کی ممانعت کا کہیں ذکر نہیںملتا ہے۔۱۲؎تلمود اور شریعت موسی کے پیروکار کئی بیویاں رکھتے تھے۔’انسائیکلو پیڈیا ببلیکا ‘ کے مطابق ایک عام یہودی کو چار شادیاں کرنے کی اجازت تھی۔یہ دسویں صدی عیسوی تک برقرار رہی۔یہاں تک کہ ربی گرشوم بن یہودہ (۹۴۰-۱۰۳AD ) نے اس کے خلاف حکم نامہ جاری کیااور اس کے خاتمے کا حکم دیا۔ البتہ شیفارڈک یہودیوں میں یہ طرز عمل ۱۹۵۰ء تک جاری رہا۔ ۱۹۵۰ء میں اسرائیل میں یہودیوں کے چیف ربی کی آفس نے ایک سے زیادہ خواتین سے شادیوں کی عام ممانعت کردی۔۱۳؎

انجیل کے زمانہ نزول میں کثیر زوجگی کو قبول عام کا درجہ حاصل تھا ۔ اسی بنا پر انجیل مقدس میں اس موضوع پرکوئی بحث نہیں کی گئی ہے۔عہد نامہ جدید میں ایک شادی کو پسندیدہ ضرور قرار دیا گیا ہے ،لیکن  ایک سے زائد بیوی رکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔ابتدائِ عیسائیت کے بعدکئی سو برسوں تک کلیسا کی کسی مجلس نے اس کی مخالفت نہیں کی ۔یہی وجہ ہے کہ رہنمایان مذہب ، سلاطین اور امرا ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے۔البتہ’ شارَلمانی عہد‘ کے اواخر میں کلیسا کے حکم سے پورے یورپ میں اس کو منسوخ کردیا گیا۔ اس کے باوجودیہ یہاں سے کالعدم نہ ہوسکا۔ یورپین مصنف ’وِیسٹر مَارک‘ کے مطابق اس زمانے میں بعض عیسائی فرقے اس کی بڑی شدت سے وکالت کرتے تھے۔۱۵۳۱ء میں عیسائیوں کے ایک فرقہ نے اس بات کی تبلیغ کی کہ جو سچا عیسائی بننا چاہتا ہے ، اس کی کئی بیویاں ہونی چاہئیں۔ عیسائیوں کے بعض فرقے ایسے بھی تھے جو اس کو ضروری قرار دیتے تھے۔ قرون وسطیٰ میں Ribbi Grershor نے فتویٰ جاری کردیا تھا کہ ایک شخص جتنی بیویاں چاہے رکھ سکتا ہے۔۱۴؎

ہندوستان میں:

ہندوستان کی قدیم تاریخ میں ایسے کئی مذہبی رہنماؤں کے نام ملتے ہیں جنہوں نےتعدد ازدواج  پر عمل کیا تھا۔سری رام چندرجی کے والد مہاراجہ دَسرتھ کی تین ،سری کرشن کی اٹھارہ ، راجہ چانڈ اورراجہ سَنتَن کی دو بیویاں تھیں۔۱۵؎مو خرالذکر ویدک لٹریچر میں  ایسی شہادتیں ملتی ہیںکہ اس عہد میں یہ رسم ہندو معاشرے کے بعض طبقات میں پوری طرح سرایت کئے ہوئے تھی۔۱۷؎ ابوالریحان البیرونی کی صراحت کے مطابق اہل ہند میں سے بعض کی نظر میں طبقاتی اعتبار سے متعدد بیویاں ہوسکتی ہیں ۔برہمن کے لئے چار، چھتری کے لئے تین، ویس کے لئے دو اور شودر کے لئے ایک۔ ۱۸؎تاہم راجہ اور امرا کثرت سےبیویاں رکھتے تھے۔مَنُو کے مطابق ایک مردبیک وقت دس بیویاں رکھ سکتا ہے۔قدیم ویدک لٹریچر میں ایک سے زائد شادیوں کے رواج کا پتا چلتا ہے۔۱۹؎  یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ سپہ سالار محمد بن قاسم نے جب سندھ پر حملہ کیا تو اس وقت یہاں کے راجہ’داہر‘ کے پاس کئی بیویاں تھیں۔

ایران کے اندر بھی تعد دازدواج پر عمل کیا جاتا تھا ۔ ایک شخص کو متعدد عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت تھی۔’ژند واوستا ‘میں بیویوں کے بارے میں کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے مرد کئی بیویاں رکھتے تھے۔چین میں ’لیکی قانون‘ کی رو سے ایک شخص کئی عورتوں سے شادی کرنے کا حق رکھتا تھا۔عہد قدیم میں اس کابہت رواج تھا۔ ہان (Han) کے زمانے سے یہ روایت عام ہوئی کہ ایک مرد ایک ہی بیوی رکھ سکتا ہے ،افریقی ممالک میں امور خانہ داری کے علاوہ اقتصادی ضرورت کو فروغ دینے کے لئے امرا اور شرفا کئی کئی بیویاں رکھتے تھے۔ بعض قبائل میں زیادہ بیویاں رکھنے والے کو فخر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ فرد واحد تین سے بارہ عورتوں کو اپنی زوجیت میں رکھنے کا اختیاررکھتا تھا۔۲۰؎

عرب معاشرہ:

قبل از اسلام عرب معاشرے میں بھی تعدد ازدواج پر کثرت سے عمل کیا جاتا تھا۔ بیویوں کی کوئی تعداد متعین نہیں تھی۔مردوں کا ایک شادی کرنا کسر شان سمجھا جاتا تھا ۔زیادہ بیویاں رکھنے کو فخروتکریم گردانا جاتا تھا۔معاشرہ میں جاری بہت سی مثالیں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مل جاتی ہیں۔ ایک صحابی قیس بن حارث کے پاس آٹھ بیویاں تھیں۔۲۱؎ غیلان بن سلمہ ثقفی کے پاس دس بیویاں تھیں۔نوفل بن معاویہ کے پاس پانچ بیویاں تھیں۔۲۲؎ان سب کونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاتھا کہ اسلام میں بیک وقت چار بیویوں سے زائد رکھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ان میں سے انتخاب کرکے چار کو روک لیا جائے، بقیہ کو معروف طریقے سے جدا کردیا جائے۔

یہ واقعہ ہے کہ قبل از اسلام دنیا میں عورتوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی ۔نہ اس عہد کے قانون نے انہیں وہ تحفظ فراہم کیا، جس کی وہ مستحق تھیں۔وہ مردوں کے رحم وکرم پر تھیں ۔ڈاکٹر مصطفی السباعی نے بیان کیا ہے کہ قدیم اقوام مثلا یونانیوں،جینیوں، ہندوؤں، بابلیوں، آشوریوں اور مصریوں میں بھی اس کا رواج موجود تھا اور ان میں اکثر قوموں کے یہاں بیویوں کی کوئی تعداد بھی محدود ومقرر نہ تھی۔۲۳؎ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا کے ایک مضمون سے یہ بات  عیاں ہوتی ہے کہ تعدد کا رواج دنیا کے بیش تر ممالک اور قوموں میں تھا اور ماضی قریب تک اس کا عام رواج تھا۔۲۴؎ یہ کوئی عیب کی بات بھی سمجھی نہیں جاتی تھی۔ ۲۵؎ ماہر انسانیات’ جَارج مَرڈاک‘ کی رپورٹ ۱۹۴۹ء کے مطابق دنیا کی ۴۱۵ قوموں میں تعدد کا رواج تھا۔ مرڈاک ہی کی ایک دوسری رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ۲۵۰ تہذیبوں یا معاشروں میں سے ۱۹۳ میں اس کا رواج پایا گیا ۔۲۶؎

عالمی صورتحال:

محمد الغزالی لکھتے ہیں : ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی دین آئے، ان سب میں تعدد   کی اجازت موجود ہے۔۲۷؎عہد قدیم اور عہد وسطی کے تقریبا تمام ممالک میں تعدد  کی صورت حال تھی اسے ’انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ‘ میں اس طرح پیش کیا گیاہے:

’’تعدد ازدواج  قدیم تہذیب کے اکثر لوگوں میں پائی گئی ہے۔ چین میں قانونی خاص بیوی کے علاوہ کچھ اور عورتیں بھی بیویاں کہلائی جاتی تھیں، جو ’خوش اخلاقی‘ کے تحت رکھ لی جاتی تھیں یا قانونی داشتائیں ہوتی تھیں۔ جاپان میں چینی ٹائپ کا داشتہ عورتیں رکھنے کا رواج ایک قانونی نظام کی حیثیت سے ۱۸۸۰ء تک موجود تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قدیم مصر میں تعدد ازدواج کی اجازت تو تھی مگر بادشاہوں کے ماسوا اس کا عام رواج نہ تھا۔ حمورابی کابل والا قانون کہتا ہے کہ رشتہ ازدواج یک زوجگی والاہونا چاہیے۔ اس کے باوجود یہ بھی صراحت کرتا ہے کہ اگر کسی مردنے ایک عورت سے شادی کی اور بیماری نے اسے پوری طرح گھیر لیا تو وہ دوسری شادی کرسکتا ہے اور وہ لاولد رہ جائے تو داشتہ رکھ سکتا ہے۔ یہودیوں کے یہاں ایک مرد کسی بھی حالت میں بہت سی بیویاں رکھ سکتا تھا۔ ان بیویوں کی قانونی حیثیت میں کوئی فرق نہ ہوتا تھا اور نہ عورتوں کی تعداد کے سلسلے میں کوئی تحدید تھی۔بہت سے انڈو یورپین لوگوں میں تعدد ازدواج کی اجازت تھی… قدیم سیلو اور ٹیوٹنس میں قدیم آئرس اور ویدک عہد کے ہندوستانیوں میں — اگر چہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ طریقہ بادشاہوں ، سرداروں یا اشراف کے لئے مخصوص تھا… اس کے برعکس یونان میں یک زوجگی شادی کی واحد تسلیم شدہ شکل تھی ۔  داشتہ رکھنے کا رواج ایتھنز میں پایا جاتا تھا ،لیکن یہ طریقہ شادی سے بالکل ممتاز تھا اور داشتہ عورتوں کو کوئی حق نہ ملتا تھا۔ رومی تہذیب میں رشتہ ازدواج شدت سے یک زوجگی کا تھا اور شادی شدہ مردوں اور طوائفوں کے درمیان ناجائز تعلقات جمہوریہ کے اختتام تک عام تھے۔‘‘۲۸؎

عصر حاضر میں دنیا کےبیش تر  ممالک میں قانونی طور پراس کی اجازت نہیں ہے ۔ جب کہ زناکاری کو مہذب شکلوں میں انجام دیا جائے تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ بہت سے ترقی پزیر ممالک میں تعدد کو ممنوع قرار دیئے جانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔وہ ممالک جہاں اس کی اجازت نہیں ہے، وہاںشادی شدہ مرد دوسری شادی کرتا ہےتو یہ غیر قانونی سمجھا جائے گا اور سزا کا مستحق ہوگا۔ اس وقت جو نظریہ فروغ پارہا ہے وہ یہی ہے کہ ایک سے زائد بیویاں رکھنے کا عمل حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی حقوق انسانی کی تنظیمیں اور حقوق نسواں کی علم بردار جماعتیں اس کے منسوخ کئے جانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔ ۲۰۰۰ء میں United Nations Human Rights Committee نے عالمی سطح پر تعددکو جرم قرار دیا ہے۔کیوں کہ ان کے خیال میں یہ سیاسی اور شہری حقوق کے منافی ہے۔البتہ شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے یاری رکھتی ہیں تو ، اس قبیح عمل کو خواتین کی آزادی گردانا جاتا ہے۔

مسلم ممالک:

تقریباپچاس ملکوں میں جہاں مسلمانوں کی حکومت ہے یا وہ کثیر تعداد میں ہیں، تعدد کو جائز قراردیاگیا ہے۔ بر اعظم افریقہ کے کچھ حصوں میں بھی اسے قانونی جواز حاصل ہے۔مشرق وسطی کے علاقوں میں اس کا رواج ہے ، تقریبا ایک درجن ممالک ایسے ہیں جہاں تعدد کو حکومتی سطح اور قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا ،تاہم وہاں کے لو گ پرانے رسم ورواج کے مطابق اس پر عمل کرتے ہیں۔ شمالی امریکہ کے علاقے Saskatchwan کو اس حیثیت سے مستثنٰی قرار دیا جا سکتا ہے ،جہاں بڑی حد تک اس کی اجازت ہے۔نائیجریا کی شمالی ریاستوں میں کثیر زوجگی کو قانونی درجہ حاصل ہے ، اس لئے کہ یہاں کے قانون کی بنیاد اسلامی شریعت پر ہے۔پاکستان میں اس کی اجازت تو ہے ،مگر پہلی بیوی کی رضامندی ضروری ہے۔۲۹؎

برطانیہ،آسٹریلیااور نیوزی لینڈ  میں اگر دوسری یا تیسری شادی کسی دوسرے ملک کی خاتون سے کی جاتی ہے تواسے عمومی ممانعت کے مقابلے میں رعایت دی گئی ہے۔وہ ممالک جہاں اکثریت عیسائیوں کی ہے اس کی اجازت نہیں دیتے ،سوائے چند کے ۔ جیسے Republic of Congo ،یو گینڈااور زمبیا۔میانمار ( برما) واحد ایسا ملک ہے جہاں بدھسٹوں کی اکثریت ہے،قانونی ممانعت کے باوجود وہاں کے لوگ اپنی پرانی ریت ورواج کے مطابق اس پرعمل کرتے ہیں۔ہندوستان اور سری لنکا میں صرف مسلم شہریوں کے لئے تعددکی اجازت ہے۔لیکن  ہندوستان میں ایک مخصوص طبقہ کی طرف سے اسے کالعدم قرار دیئے جانے کی پرزور وکالت کی جارہی ہے۔

شمالی لینڈ اورپونٹ لینڈ کے بعض خود مختا رعلاقوںمیں(جو شمالی صمالیہ میں ہیں) تعدد کی اجازت ہے۔کیوں کہ  یہاںشرعی قوانین پر عمل کیا جاتا ہے۔فی الحال جنوبی سوڈان کے آزاد ممالک میں اس کو جائز سمجھا جاتا ہے۔فلسطینی قلم رو کے West Bank اور Gaza Strip  وغیرہ میں مسلم شہریوں کے لئے کثیر زوجگی کی اجازت ہے۔بھوٹان میں قدیم روایت کی طرح آج بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ نیپال کے کچھ علاقوں میں بھی اس پر عمل کئے جانے کا پتا چلتا ہے۔جب کہ قانونی طور پر یہاں یہ ممنوع ہے۔کینیا، نیمبیا اور بہت سے ایشیائی ممالک میں تعدد کے جواز کی جدو جہد کی جارہی ہے۔۳۰؎

اسلامی نقطہ نظر:

شریعت اسلامی کا واضح حکم ہے کہ اگر مرد اپنی زوجہ کے حقوق ادا کرنے کی پوزیشن میںنہیں ہے تو شادی سے بالکلیہ احتراز کرے۔ اگر وہ اس کے برعکس حالت میں ہے تو اپنی جائز اور فطری ضرورت کے پیش نظر بہ یک وقت ایک سے چار تک بیویاں رکھ سکتا ہے ، اس شرط کے ساتھ کہ وہ تمام بیویوں اور کے درمیان عدل وانصاف کو برقرار رکھ سکے: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ذَلِکَ أَدْنٰی أَلاَّ تَعُولُوْا۔ ‘‘(النساء:۳)یہ تواتر اور اجماع سے بھی ثابت ہے۔۳۱ ؎  اسلام کی اس محدود و مشروط اجازت پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ کئی اعتبار سے معاشرہ کی صالحیت کے ساتھ مردو عورت کے حق میں مفید ہے۔خاص کر اس صورت میںجہاں  جنگوں میں مردوں کی زیادہ اموات ہوتی ہیں،یا کسی وجہ سے عورت مطلقہ ہوجاتی ہے، یا پھر عورت بانجھ ہوتی ہے یا یہ کہ وہ کسی دائمی  بیماری میں مبتلا ہوتی ہے۔تعددازدواج اس طرح کے مسائل کا مناسب حل ہے۔

حوالے

۱۔                              سیرت پر مستشرقین نے جو اعتراضات کئے ہیں، ان کےجواب کے لئے ملاحظہ کریں راقم الحروف کی کتاب’سیرت نبوی ؐ پر اعتراضات کا جائزہ‘، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ،نئی دہلی،۲۰۰۳، باب تعدد ازدواج

۲۔                           تفصیل کے لئے دیکھئے:غلام احمد پرویز، قرآنی قوانین،طلوع اسلام ٹرسٹ، لاہور، پاکستان، ۵۷-۵۸

۳۔                           عہد نامہ قدیم(بائبل)کتاب پیدائش،باب:۴،درس:۱۹

۴۔                           عہد نامہ قدیم(بائبل)کتاب پیدائش،باب:۲۱،درس:۱۔باب:۲۵،درس:۱

۵۔                           حافظ عمادالدین ابو الفدااسمعیل ابن کثیر، تاریخ ابن کثیر(البدایہ والنہایہ)دارالاشاعت کراچی، پاکستان،۲۰۰۸ء،ج:۱،ص:۲۲۶-۲۲۷

۶۔                            عہد نامہ قدیم(بائبل)کتاب پیدائش،باب:۹،درس:۱

۷۔                          عہد نامہ قدیم(بائبل)کتاب سلاطین،باب:۱-۲سموئیل:باب:۱۹-۱۱ اورباب:۲۷

۸۔                           علی بن محمد الخازن،تفسیرالخازن،دارالکتب العربیہ، پشاور، پاکستان،… ج:۴، ص:۳۵، آیات:۳۸-۴۳، سورہ صٓ

۹۔                             عہد نامہ قدیم(بائبل)کتاب سلاطین،باب:۱۱،درس۱-۳، نیز دیکھئے :ڈاکٹر الشیخ مصطفی السبائی،المراۃ بین الفقہ والقانون،دارالوراق للنشر والتوزیع، بیروت، ۱۹۹۹ء،ص:۷۹

۱۰۔                      عہد نامہ قدیم(بائبل)کتاب خروج،باب :۲،درس:۲۲۔ گنتی:باب:۱۲،درس:۱۔ استثنا ، باب ۲۱،درس :۱۰-۱۳

۱۱۔                         انجیل متی، باب:۲۵،درس:۱-۱۲

۱۲۔                      المراۃ بین الفقہ والقانون،ص:۶۰-۶۶

۱۳۔                      سید حامد محسن،غلط  فہمیاں-اسلام کے متعلق  بدگمانیوں کا ازالہ(Islam Facts vs Fictions) سلام سینٹر، بنگلور،۲۰۰۳ء، ص:۱۸۲- ۱۸۳

۱۴۔                      المراۃ بین الفقہ والقانون،ص:۶۰

۱۵۔                       قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری،رحمۃ للعالمین،مرکز الحرمین اسلامی،فیصل آباد پاکستان،۲۰۰۷ء،ج:۲،ص:۳۷۸-۳۷۹

۱۶۔                       غلط فہمیاں، ص:۱۸۵

۱۷۔                     سہ ماہی تحقیقات اسلامی،علی گڑھ،اکتوبر-دسمبر۱۹۸۷ء، تعدد ازدواج پر ایک تحقیقی نظر، ص: ۶ -۷

۱۸۔                      ابوالریحان محمدالبیرونی،فی تحقیق ماللہند،مطبوعہ حیدرآباد،  ۱۳۷۷ھ،ص:۴۶۹-۴۷۰

۱۹۔  Pakistan Journal 0f Islamic research, 2012, Vol:11, P49 مضمون: اسلام اور دیگر مذاہب ومعاشرہ میںتعدد ازواج،مقالہ نگاران:حافظ شبیراحمد جامعی، محمد شفیق انجم، محمد الیاس

۲۰۔                   المراۃ بین الفقہ والقانون،ص:۶۰-۶۵

۲۱۔                      حافظ ابی عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی، الجامع الترمذی،کتاب النکاح، باب ماجاء فی الرجل یسلم وعندہ عشر نشوۃ۔ عبداللہ بن یزید ابن ماجہ، السنن ابن ماجہ، کتاب لنکاح،باب الرجل یسلم وعندہ اکثر من اربع نشوۃ

۲۲۔                   فخرالدین رازی، التفسیر الکبیر، دارالکتب العلمیۃ، طہران، اشاعت ثانی، ج:۵، جزو: التاسع ، ص:۱۷۵، تفسیر زیر آیت

۲۳۔                   المراۃ بین الفقہ والقانون،ص:۶۰

۲۴۔ The New Encyclopedia Briyanica, William Benton Publisher, CHicago/ London/ Torento/ Genva/ Sydnay/Tokyo/Manila,15 Edition, Vol: VIII, P:97

۲۵۔                   مولانا سید حامد علی،تعدد ازدواج،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،دہلی، ۲۰۰۳ء، ص:۳ ۶-۳ ۷

۲۶۔ Pakistan Journal 0f Islamic research, 2012, Vol:11, P46 مضمون: اسلام اور دیگر مذاہب ومعاشرہ میںتعدد ازدواج۔ نیز دیکھئے:تعدد ازدواج،ص : ۳۶- ۳۷

۲۷۔                  محمد الغزالی، فقہ السیرۃ(تحقیق وتخریج: محمد ناصر البانی) دارالکتب الحدیثیہ، ۱۹۶۵ء،ص: ۴۷۰

۲۸۔                   تعدد ازدواج، ص:۲۶-۳۷

۲۔  دیکھئے:http/.www.Polygamy in Pakistan-Wikipedia, the free encyclopedia.

۳۰۔  دیکھئے:http/.www.Legal status of polygamy-Wikipedia, the free encyclopedia.

۳۱؎  اس مسئلہ کی تفصیل کے لئے دیکھئے راقم کا مقالہ: تعددازدواج: قانونی اور فقہی احکام، ششماہی’ الاضوا‘ شیخ زائد اسلامک سینٹر،پنجاب یونیورسٹی ، لاہور،پاکستان، جون:۱۹۱۵ء ،ص:۲۱۵-۲۱۶

اپریل 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau