اسلام کی ابدیت اور ہمہ گیری

مولانا محمد جرجیس کریمی

اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ پر جو انعامات واحسانات کیے ہیں ،ان میں سب سے بڑاانعام واحسان یہ ہے کہ اس نے اس کو مکمل دین اور مکمل شریعت عطا کی۔ اب اس کے لیے کسی دین اور شریعت اور اپنے نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب نہ کوئی نئی شریعت آئے گی اور نہ اس میں قیامت تک کسی قسم کا حذف واضافہ یا ترمیم وتنسیخ کا امکان ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے تقریباً تین ماہ قبل حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف صاف اعلان کردیاگیا:

الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الاِسْلاَمَ دِیْناً ۔   ﴿المائدہ:۳﴾

آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کردیااور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر میں نے پسند کرلیا۔

اس آیت کے ذیل میں حضرت ابن عباس ؓسے منقول ہے کہ دین سے مراد اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی او راہل ایمان کو بتایا کہ اس نے ان کے ایمان کو مکمل کردیا ہے۔ اب اس میں نہ کسی اضافے کی ضرورت ہے نہ وہ اس میں کچھ کمی کرے گا اور اس نے اسے پسند کرلیا ہے اس سے کبھی ناخوش نہ ہوگا۔  ﴿تفسیر ابن کثیر۲/۱۲﴾

دین اسلام کی تکمیل مختلف پہلوؤں سے کی گئی ہے- جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کو تاقیامت جن وانس کے لیے عام کردیاگیااور آپﷺ پر اس کا سلسلہ ختم ہوا۔ اس دین کے مطابق قیامت میں حساب وکتاب ہوگا۔ اس میں حرام وحلال واضح کردیاگیا ہے۔ سیرت رسول کو ساری انسانیت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا ہے اور اُمت مسلمہ پر اس دین کی تبلیغ کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ ذیل میں ان پہلوؤں پر کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالی جاتی ہے۔

عموم رسالت

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے رشدوہدایت کے لیے نبوت ورسالت کا طریقہ جاری کیا تاکہ قیامت کے دن ان پر اتمام حجت ہوسکے اور وہ لاعلمی کا بہانہ نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

اِنَّآ أَوْحَیْْنَآاِلَیْْکَ کَمَآ أَوْحَیْْنَآ اِلَی نُوحٍ وَالنَّبِیِّیْنَ مِن بَعْدِہٰ وَأَوْحَیْْنَآ اِلَیٰٓ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ وَاِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَعِیْسَی وَأَیُّوبَ وَیُونُسَ وَہَارُونَ وَسُلَیْْمَانَ واٰ تَیَیْْنَا دَاوُودَ زَبُوراً o وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنَاہُمْ عَلَیْْکَ مِن قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْْکَ وَکَلَّمَ اللّہُ مُوسَی تَکْلِیْماo  ﴿النساء:۱۶۳،۱۶۴﴾

اے نبیﷺہم نے تمھاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوحؑ  اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی، ہم نے ابراہیمؑ  ، اسماعیل ؑ ، اسحاقؑ ، یعقوبؑ ، اور اولاد یعقوبؑ  ، عیسیٰؑ ، ایوبؑ ، یونسؑ ،ہارونؑ  اور سلیمانؑ  کی طرف وحی بھیجی ہم نے داؤد کو زبور دی ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے سے کرچکے ہیں اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا۔ ہم نے موسیٰ سے اسی طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی تھی۔

آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حضرت نوح سے حضرت عیسیٰؑ  تک جتنے بھی نبی اور رسول مبعوث کیے گیے سب کی بعثت تین تقاضوں کے تحت تھی:

﴿۱﴾ اس مقام یا جگہ کے لیے اس سے پیش تر کوئی نبی مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ وہاں نبی یا رسول بھیج کر وہاں کی آبادی پر حجت تمام کردی گئی۔

﴿۲﴾  اس سے پہلے کوئی نبی مبعوث کیاگیا تھا مگر اس کی تعلیمات مٹ چکی تھیں اور لوگ اسے فراموش کرچکے تھے۔ ایسے میں گزشتہ رسول کی تعلیمات کی تجدید کے لیے نئے نبی کو بھیجا گیا تاکہ وہ لوگوں کو سابقہ تعلیمات کی یاد دہانی کرائیں۔

﴿۳﴾  کسی قوم میں نبی موجود تھا مگر حالات کا تقاضا ہوا کہ اس کی معاونت دوسرے نبی کے ذریعے کی جائے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معاونت کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام کو نبی بنایاگیا۔

ان تینوں تقاضوں میں سے کوئی تقاضا اگر موجود نہ تھا تو ایسے میں کوئی نبی نہیں بھیجا گیا۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے تقاضے کے تحت مبعوث کیے گئے۔ ان سے پیشتر ان کی قوم میں کوئی نبی نہیں تھا۔ اکثر انبیاے بنی اسرائیل دوسرے تقاضے کے تحت مبعوث ہوئے۔ جب کہ حضرت ہارون اور حضرت یحییٰ علیہما السلام تیسرے تقاضے کے تحت مبعوث کیے گیے نبیوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ انسان نے اس درجہ ترقی کرلی کہ ایک ہی نبی ورسول کی تعلیمات کی ساری دنیا میں اشاعت کی جاسکے ۔ چنانچہ گزشتہ انبیائ کے برعکس ایک نبی کو بھیجا گیا اور اس کی نبوت ورسالت کو ساری دنیا کے لیے عام کردیاگیا۔ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بعث اسی حیثیت سے ہوئی کہ آپ کی رسالت ونبوت ساری دنیا۔ انس وجن اور قیامت تک کے لیے ہے۔

اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَاکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْراً وَّنَذِیْراً وَلٰ کِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَo ﴿سبا:۲۸﴾

اور ﴿اے نبیﷺ ﴾ ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

قُلْ یَآ اَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُولُ اللّہِ اِلَیْْکُمْ جَمِیْعاً ۔﴿الاِعراف:َ۱۵۸﴾

اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

قرآن مجیدمیں ایسی اور کئی آیات ہیں جن میں آپﷺ کو تمام دنیا کے لیے اور قیامت تک پوری انسانیت کے لیے مبعوث کیے جانے کی توثیق کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر الانبیائ:۱۰۷،الفرقان:۱،الانعام:۱۹وغیرہ یہ آیات مکی دور میں نازل شدہ ہیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ مکی دور ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عمومیت وابدیت کا اعلان کردیاگیا تھا۔ مزید یہ کہ خود رسول کریم ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے بھی وضاحت کی ہے کہ ماقبل انبیائ صرف اپنی قوموں کے لیے مبعوث ہوتے تھے مگر میں ساری انسانیت کے لیے بھیجا گیاہوں ۔ ارشاد ہے:

وکان النبی یبعث آل قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ۔

﴿بخاری کتاب التمم باب:۱، حدیث نمبر ۳۳۵﴾

پہلے نبی صرف اپنی قوم کے لیے خاص مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام انسانوں کے لیے مبعوث کیاگیا ہوں۔

ایک دوسری حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

بعث الی کلِّ احمر واسود۔ ﴿مسلم کتاب المساجد باب المساجد ومواضع الصلاۃ﴾

میں ہر گورے اور کالے سب کی طرف مبعو ث کیا گیا ہوں۔

اسلام کی جب تبلیغ واشاعت ہوئی تو نہ صرف عربوں نے بلکہ دوسری قومیتوں کے لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا ۔جیسے مکہ مکرمہ میں مقیم بعض غیر ملکی بلال حبشی اور مداس نصرانی وغیرہ ۔اس طرح حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور ان کے بعض مؤیدین نصرانیوں اورحبشیوں نے بھی اسلام قبول کیا۔ اس طرح اسلام کی ہمہ گیری کو عہد رسالت ہی میں تسلیم کیا۔ علاوہ ازیں آپﷺ نے مختلف ممالک روم ایران کے حکمرانوں کو مکاتیب لکھ کر اسلام کی دعوت دی۔ اس سے بھی اسلام کی آفاقیت کااظہار ہوتاہے۔ قرآن وحدیث کی بعض نصوص سے پتا چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ونبوت صرف انسانوں کے لیے نہیں تھی بلکہ جنوں کے لیے بھی تھی۔ قرآن مجید میں سورۂ جن کے نام سے ایک پوری سورت ہے جس میں جنوں کا قرآن مجید اور نبوت محمدی پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔

قُلْ أُوحِیَ اِلَیَّ أَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌمِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوااِنَّاسَمِعْنَا قُرْآناً عَجَباًo  یَہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٰ وَلَن نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ أَحَدo ﴿الجن:۱،۲﴾

اے نبی کہہ میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا، پھر ﴿جاکر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا﴾ ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے جو راہِ راست کی طرف رہ نمائی کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔

اس کے علاوہ قرآن مجید میں اور کئی آیات ہیں جن میں جنوں کا تذکرہ کیاگیا ہے اور اس بات کی صراحت ہے کہ وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت پر ایمان لائے اور اپنی قوم کو بھی اس کی دعوت دی اور اس کو مسترد کرنے کے نتائج سے آگاہ کیااور مان لینے والے کو انعامات کی خوش خبری سنائی۔ ﴿الاحقاف:۲۹-۳۲﴾ بعض روایات میں بھی جنوں کا آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قرأت سننے کا واقعہ وارد ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے چند اصحاب کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لے جارہے تھے، راستے میں نخلہ کے مقام پر آپﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی ، اس وقت جنوں کا ایک گروہ، ادھر سے گزررہا تھا، تلاوت سن کر وہ ٹھہرگیا اور غور سے سنتا رہا۔ ﴿بخاری کتاب التفسیر باب سورۂ قل اوحی الیَّ﴾بعض روایات سے بعض جنوں کا آپﷺ پر ایمان لانے کا واقعہ وارد ہے۔ ﴿مسلم کتاب التفسیر باب ،فی قولہ اولٰٓئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ﴾ رسالت محمدی کے جنوں اور انسانوں میں عام ہونے کے تعلق سے امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

والمراد ان محمدا صلی اللہ علیہ وسلم أرسل الی الثقلین الانس والجن وقداخبر اللہ فی القرآن ان الجن استمعوا القرآن وانھم آمنوا بہ۔ ﴿ایضاح الرلالۃ فی عموم الرسالہ لابن تیمیۃ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ، ۱۳۷۳ھ﴾

مراد یہ ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ثقلین جن اور انس کی طرف مبعوث کیے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خبردی ہے کہ جنوں نے قرآن سنا اور اس پر ایمان لائے۔

اسلام کی ابدیت اور ہمہ گیری کا ایک ثبوت حفاظت دین کا وہ وعدہ ہے، جو اللہ رب العالمین نے کیا ہے۔ ارشاد ہے:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَo

بلاشبہ ہم ہی نے یہ ذکر ﴿قرآن﴾ نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ونگہبان ہیں۔

عربی قواعد کی روشنی میں غور کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ آیت بالا میں تاکید در تاکید کے اسلوب میں کہا گیا ہے کہ دین کی حفاظت کااللہ کا وعدہ ہے۔ ’’ا نَّا‘‘ کا لفظ بات کو مؤکد اور شک وشبہ سے بالاتر کرنے کے لیے ہے۔ پھر ’’لہ‘‘ ضمیر کو پہلے لاکر اور مؤکد کیا اتنا ہی نہیں اس کے بعد ’’حافظون‘‘ پر لام تاکید وارد کیا۔ اور فعل کے بجائے اسم فاعل کا صیغہ استعمال کیا جس میں استمرار اور ابدیت کا مفہوم پایاجاتا ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح لازماً اس کی حفاظت کرے گا۔ قرآن مجید کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ موکدّ وعدہ یقینا اس لیے ہے تاکہ یہ دین باقی رہے اور نبوت ورسالت کے مقصد کی تکمیل ہوتی رہے۔

ختم نبوت

دین اسلام قیامت تک باقی رہے گا اس کا ایک واضح ثبوت سلسلۂ نبوت کا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر خاتمہ ہے۔ جس طرح حجۃ الوداع کے موقع پر دین وشریعت کی تکمیل کی خوشخبری سنائی گئی، اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیائ قرار دیاگیا۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْئٍ عَلِیْماًo           ﴿الاحزاب:۴۰﴾

محمد﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء  ہیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

اس آیت کے الفاظ ،اسلوب معنی ومفہوم اور پس منظر پر غور کیاجائے تو ختم نبوت کا عقیدہ اور نمایاں ہوکر سامنے آتا ہے۔

لغت اور اصطلاح میں نبی اور رسول وہ چیدہ ہستی ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہو۔ مگر نبی اور رسول میں تھوڑا سا فرق ہے۔ نبی اس کو کہا جاتا ہے جس کو حق تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے چن لیا ہو اور اس پر وحی آتی ہو اور رسول اس کو کہا جاتا ہے، جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے نئی شریعت اور نئی کتاب بھی بھیجی گئی ہو۔ گویا نبی اور رسول کے درمیان عموم و خصوص کی نسبت ہے۔ ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے آیت مذکور میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم المرسلین کے بجائے خاتم النبیین کہا گیاہے۔ اگر خاتم المرسلین کہا جاتا تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ ممکن ہے۔ آپﷺ کے بعد کسی نبی کی آمدہو مگر اب نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم کردیاگیا۔

علامہ ابن کثیر اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:

فھذہ الآیۃ نص فی انہ لابنی بعدہ واذا کان لانبی بعدہ فلا رسول بعد بالطریق الاَوَّل والاحری لان مقام الرسالۃ اخض من مقام النبوۃ فان کل رسول نبی ولاینعکس۔

﴿تفسیر ابن کثیر۳/۱۸۶۱، مطبوعہ قطر﴾

یہ آیت نص ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور جب نبی نہیں ہوگا تو بدرجہ اولیٰ رسول نہیں ہوسکتا کیونکہ رسالت نبوت سے زیادہ خاص ہے کہ ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر اس کے برعکس نہیں ہوتا۔

خاتم کی دو قرأتیں منقول ہیں۔ امام عاصم اور امام حسن نے خاتم کو’ت‘ کے زَبر کے ساتھ پڑھا ہے جب کہ دیگر قرّاء نے ’ت‘ کے زِیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ زبر کے ساتھ ہو تو لفظ خاتم بمعنی مہر ہے۔ اگر زیر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی ختم کرنے والا آخر قوم کے ہیں۔ دونوں صورتو ں میں معنی آخری نبی کے ہیں جس کے بعد اور کوئی نبی نہ آئے گا کیونکہ مہر بھی آخر میں ہی لگائی جاتی ہے۔

آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عرب میں ایک جاہلی رسم رائج تھی کہ کوئی شخص اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح نہیں کرسکتا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ حضرت زید کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا کہ اور ان کی بیوی حضرت زینب سے جن کو حضرت زید نے طلاق دے دی تھی نکاح کرلیا۔ اس پر کفار ومشرکین نے واویلا مچایا اور طعن وتشنیع کی روش اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ زیر بحث میں وضاحت کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ ﴿آپﷺ کی تمام اولاد نرینہ بچپن ہی میں انتقال کرگئی تھی﴾ جب کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں اور چونکہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں لہٰذا اس لیے اس جاہلی رسم کو ختم کرنا بھی آپﷺ کی ذمہ داری ٹھہری۔حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ورسالت کے خاتمے کی توثیق خود آپﷺ نے اپنے متعدد ارشادات کے ذریعہ فرمائی ہے ۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے نبوت کو ایک محل سے تعبیر کیا اور اپنے آپﷺ کو اس کی آخری اینٹ قرار دیا۔ ارشاد ہے:

ان مثلی ومثل الانبیاء من قبل کمثل رجل بنیٰ بیتاً فاحسنہ، واجملہ، الا موضع لنبۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہٰ ویعجبون لہ ویقولون ھلاً وضعت ھذہ اللنبۃ فانا اللنبۃ وانا خاتم النبیین۔  ﴿بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین﴾

میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہارِ حیرت کرتے تھے مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔

اس مضمون کی مزید روایات کتب احادیث میں وارد ہیں۔ مثال کے طور پر مسلم کتاب الفضائل باب خاتم النبیین میں چار روایات وارد ہیں ، یہی روایت ترمذی کتاب المناقب باب فضل النبی اور کتاب الآداب باب الامثال میں بھی وارد ہے۔ اس کے علاوہ متعدد روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایاکہ مجھ پر نبوت ورسالت ختم کردی گئی ۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلارسول بعدی ولا نبی۔  ﴿ترمذی کتاب الرویا، ذہاب النبوۃ﴾

رسالت ونبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف انقطاع نبوت ورسالت کی اطلاع دی ہے بلکہ جھوٹے مدعیان نبوت سے بھی آگاہ کیا ہے۔ارشاد ہے:

وانّہ سیکون فی امتی کذَّابون ثلاثون کلھم یزعم أنّہ نبی وانا خاتم النبیین بعدی۔   ﴿ابوداؤد، کتاب الفتن﴾

میری اُمت میں تین جھوٹے مدعیان نبوت ہوں گے ان میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اس مفہوم کی دیگر بہت سی روایات وارد ہیں۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے بعد نبوت ورسالت کا ہر دعویٰ جھوٹا ہے۔ خود آپﷺ کی زندگی میں دو تین لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ آپ نے ان کے قتل پر صحابہ کو مامور کیا تاکہ فتنہ پیدا نہ ہو۔

۹ہجری میں قبیلہ بنی حنیفہ کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں مسیلمہ کذاب بھی تھا۔ اس نے آپﷺ سے اپنی نبوت میں شریک کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر آپﷺ کے دست مبارک میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر مسیلمہ مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے گا تو وہ میں نہیں دوں گا۔ چہ جائے کہ میں اس کو نبوت ورسالت میں شریک کروں اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اسود عنسی نے بھی جھوٹی نبوت کادعویٰ کیا ۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فیروز دیلمی کو اس کے قتل کے لیے یمن روانہ کیا اور وہ ذلت کے ساتھ مارا گیا۔     ﴿بخاری، کتاب المغازی باب وفد نبی حنفیہ، وباب قصہ الاسود العنسی﴾

اسی طرح ایک اور شخص طلیحہ بن خویلد اسدی نے پہلے اسلام قبول کیا پھر حیات نبویﷺ کے آخری دور میں نبوت کا دعویٰ کیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ضرار بن الازور کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ بعد میں وہ دعویٰ نبوت سے تائب ہوا اور دوبارہ اسلام قبول کرلیا۔

﴿تاریخ اسلام، اکبر شاہ نجیب آبادی،۱/۲۷۱﴾

ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا ہر دعویٰ قابل رد ہے۔ اس بات پر تمام صحابہ کرام اور پوری اُمت کااجماع ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد جب حضرت ابوبکر نے مسیلمہ کذاب کے خلاف فوج کشی کی اور قبیلہ بنی حنیفہ کے لوگوں کو قتل کیا اور زندہ بچ جانے والوں کو غلام بنایا تو کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی اور تمام صحابہ ؓنے اس کی تحسین کی۔ امت کایہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول اور نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ علامہ ابن حزم اپنی کتاب الفصل فی اعلل والا ھواءوالنحل میں لکھتے ہیں:

واما من قال ان بعد محمدصلی اللہ علیہ وسلم نبیاً غیر عیسیٰ بن مریم فانہ لایختلف اثنانِ فی تکفیرہٰ ﴿۳/۲۴۹﴾

جس نے کہا کہ حضرت محمدﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا یہ جُزعیسیٰ بن مریم کے تو اس کے کافر ہونے میں دو لوگوں کا بھی اختلاف نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساری انسانیت کے لیے اسوہ ہونا

اسلام کی ابدیت وہمہ گیری کا ایک ثبوت یہ ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کو ساری انسانیت کے لیے اسوہ قرار دیا گیا ہے اور تمام افراد امت کے لیے آپ کی اطاعت کو واجب قرار دیاگیا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا میں سینکڑوں ممالک ہیں اور ہزاروں قومیں آباد ہیں، جن کی اپنی الگ بودوباش ہے۔ زبان جغرافیہ، رہن سہن اور رسوم، رواج کے اختلافات کے باوجود ، تمام لوگوں کی نجات وفلاح اسوۂ رسول میں محصور ومشروط ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَن کَانَ یَرْجُو اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْراo﴿الاحزاب:۱۲﴾

درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اوریوم آخر کا اُمیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔

ایک حدیث میں ہے:

عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’کل امتی یدخلون الجنّۃ الا من ابیٰ‘‘ قالوا یا رسول اللہ ومن یا بیٰ ؟ قال من اطاعتی دخل الجنۃ ومن عصانی فقد أبیٰ۔ ﴿بخاری کتاب الاعتصام، باب الاقتدائ بسنن رسول اللہﷺ ، نمبر۷۲۸۰﴾

حضرت ابوہریرہؓسے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اُمت کا ہر شخص جنت میں داخل ہوگا مگر وہ جس نے انکار کیا صحابہ کرامؓنے دریافت کیا کہ آپﷺ کاکون انکار کرے گا؟ آپﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے میرا انکار کیا۔

﴿جاری﴾

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau