نظام تعلیم وتربیت کی اصل اساس

قرآن مجید

ڈاکٹر عنایت اللہ اسد سبحانی

مدارس اسلامیہ کے نظام میں مطلوب تبدیلیوں پر جاری مباحث کے تناظر میں فاضل مصنف کی یہ تحریر ایک اہم نقطۂ نظر کے طور پرپیش کی جارہی ہے۔ قارئین کی آراء کا استقبال ہے۔

 

ایک اچھے اور کامیاب نظام تعلیم کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ قوم کے فرزندوں کو ولولوں سے سرشار کردیتا ہے۔

وہ ان کی چھپی ہوئی خدا دادصلاحیتوں کوابھارتا اور چمکاتا ہے۔

وہ ان کے اندر آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی بے پناہ امنگ پیدا کردیتا ہے۔

اس نظام تعلیم کے ساتھ طلوع ہونے والی ہر نئی صبح قوم کے لیے اک نئی زندگی کا پیغام لاتی ہے۔

لیکن اگر کوئی نظام تعلیم اس کے برعکس ہو، وہ ان خصوصیات سے خالی ہو، وہ قوم کو ولولوں سے سرشار،اوربلند وبالاشخصیات سے مالامال کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو،تووہ نظام تعلیم ناکارہ ہوتا ہے، جو قوم کو پسماندگی اوربربادی کی طرف لے جاتا ہے۔

قوم کی بھلائی اسی میں ہوتی ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہوایسے نظام تعلیم سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

ہمارے ہادی و رہ نما حضرت محمد ﷺ نے اپنی قوم کی تعلیم وتربیت کس طرح کی تھی؟

کس طرح انہیں علم وحکمت کے موتیوں سے مالامال کردیا تھا؟

کس طرح ان کی دبی ہوئی صلاحیتوں کو ابھار، اور نکھار کرانہیں دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور معزز قوم بنادیا تھا؟

اس کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن پاک کہتا ہے:

ھو الذی بعث فی الأمیین رسولا منہم یتلو علیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔ (سورۃالجمعہ: ۲)

(وہی اللہ ہے جس نے امیین، یعنی ام القری(مکہ) والوں میںانہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں سناتا ہے،ان کی خوبیوں اور ان کی اچھی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے،اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ بلا شبہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمرہی میں تھے۔ )

نبی اکرم ﷺ نے اسی قرآن پاک کے ذریعہ صحابۂ کرام کے ذہن ودماغ کی تربیت کی تھی۔ قرآن پاک کے ہی موتیوں سے انہیں مالامال کیا تھا۔ آپ ﷺ نے جاں نثاروں کی تعلیم و تربیت خالص قرآن پاک کی روشنی میں کی تھی۔ قرآن پاک ہی ان کی تعلیم وتربیت کا محور تھا۔ ان کی تعلیم و تربیت میں قرآن پاک کے علاوہ کسی اور کتاب کی حصے داری نہیں تھی۔

اس طرح وہ جاں نثاران رسول خالص قرآنی امت بن کر منظر عام پر آئے، اورچاند کی چاندنی، اور سورج کی تابانی کی طرح چمکتے دمکتے سارے عالم میں پھیلے، اورپھیلتے چلے گئے۔

ہمارے نظام تعلیم کی اصل بیماری، یااس کی بنیادی خامی یہ ہے کہ اس کا محو ر کتاب الہی نہیں ہے۔

اللہ کی کتاب ہی زندگی اور تونائی کا سرچشمہ ہے۔ جو نظام تعلیم کتاب الہی سے بے گانہ ہو،اس نظام تعلیم کے اندر زندگی اور توانائی آئے تو کہاں سے آئے؟

نظام تعلیم وتربیت کا محور قرآن مجید ہونا تو درکنار،ہمارے نظام تعلیم وتربیت میں قرآن مجید بالکل اجنبی بناہواہے!

اور جس نظام تعلیم وتربیت میں قرآن مجید کی حیثیت ایک اجنبی کی سی ہو،وہ نظام تعلیم وتربیت کبھی ملت کو عزت وسطوت، قوت و شوکت،اور بلندی و سرفرازی کا راستہ نہیں دکھا سکتا۔

ہماری معلومات کی حد تک اس وقت ملت اسلامیہ کے پاس کوئی ایسا دار العلوم، یا کوئی ایسا تعلیمی ادارہ نہیں ہے جس نے اپنے نظام تعلیم و تربیت میں قرآن پاک کو اس کا صحیح مقام دیا ہو۔

علم کا جامع تصور

ہمارے اداروں میں شرعی علوم کے ساتھ ساتھ عصری اور سماجی علوم کی تعلیم بھی ضروری ہے۔ ضروری ہی نہیں،بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ عصری اور سماجی علوم کو نظرانداز کرکے ہم اپنے منصبی فرائض سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔ ان علوم کو حاصل کیے بغیرنہ ہم دنیا کو قرآن پاک کا پیغام سنا سکتے ہیں،نہ اس زمین پر قرآنی نظام کے لیے راہ ہموار کرسکتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی زندہ اور حوصلہ مند قوم سماجی اور عصری علوم سے بے نیاز نہیں رہ سکتی، پھر ہم ان علوم سے کیونکر بے نیاز ہوسکتے ہیں؟ اس زمانے میں اپنے وجود کو منوانے، اقوام عالم کے درمیان عزت کا مقام حاصل کرنے،اور تمام انسانوںکے درمیان قرآن پاک کو صحیح طور سے متعارف کرانے کے لیے سماجی اور عصری علوم کی تحصیل از حد ناگزیر ہے۔

یہ بات بھی ہمارے ذہن میں واضح رہنی چاہیے کہ کتاب الہی علم وتمدن کا کوئی محدود تصور نہیں دیتی۔ اس کے برعکس وہ تمام علوم کی قدر کرنا سکھاتی ہے۔ علوم میں دینی اور غیر دینی کی تقسیم ہماری نا فہمی اور کوتاہ بینی کا نتیجہ ہے، اور یہ ہمارے عہد زوال،اوردور ادبار کی یادگار ہے۔

اس طرز فکرنے مسلم ملت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس طرز فکرنے مسلم امت کوعلمی دنیا سے دور، بہت دور پھینک دیا ہے۔

علوم کے درمیان تفریق کرنے کے بجائے ہمیں سارے علوم کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا۔ ہمارے کرنے کا کام علوم میں دینی اور دنیوی کی تفریق کرنا نہیں تھا۔ ہمارے کرنے کاکام تھاسارے علوم کو کتاب الہی سے جوڑنا، اور کتاب الہی کی مدد سے انہیں ساری انسانیت کے لیے نفع بخش بنانا۔

دنیا میںجتنے بھی مفیداور کار آمد علوم ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ سب مطلوب اور پسندیدہ ہیں۔ اور کار خلافت کی انجام دہی کے لیے وہ سب ناگزیر ہیں۔

دنیا میں جتنی بھی زبانیں ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں، اور یہ سب اللہ کی قدرت کی زبردست نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ومن آیاتہ خلق السماوات والارض واختلاف ألسنتکم وألوانکم ان فی ذلک لآیات للعالمین۔ (سورۃ الروم: ۲۲)

(اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا تنوع۔ بے شک اس میں بڑی نشانیاں ہیں علم رکھنے والوں کے لیے۔ )

چوتھے خلیفۂ راشد حضرت علیؓ کا مشہور قول ہے:

العلم ضا لۃ المؤمن فخذوہ ولو من أیدی المشرکین، ولا یأنف أحدکم أن یأخذ الحکمۃ ممن سمعہا منہ۔

(علم مومن کی گم شدہ پونجی ہے۔ تو تم علم حاصل کرو، اگرچہ مشرکین سے ہی حاصل کرنا پڑے۔ تم میں سے کسی کو اس کی حمیت اس بات سے نہ روکے کہ وہ اچھی اور مفید بات جس سے بھی سنے، اسے گرہ دے لے۔ )

( جامع بیان العلم وفضلہ۔ ابن عبد البرّ القرطبی: ۱۔ ۴۲۱)

مگر ان عصری اورسماجی علوم کا محوربھی قرآن پاک ہی ہوگا۔ ان عصری اور سماجی علوم کو قرآن پاک سے جوڑنا ہمارا فرض ہے۔ جب تک ہم ان علوم کو قرآن پاک سے نہیں جوڑیں گے،اس وقت تک ان علوم سے صحیح فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔ فائدہ اٹھاناتو درکنار،ہم ان کے نقصانات سے بھی نہیں بچ سکیں گے۔ نہ خود بچ سکیں گے، نہ دنیا کو بچا سکیں گے۔

آج دنیا عصری علوم سے جتنا فائدہ اٹھارہی ہے،اس سے کہیں زیادہ نقصان اٹھارہی ہے۔ ان علوم نے بہت سی آسانیاں تو پیدا کی ہیں، جو سب کے سامنے ہیں، مگر ان آسانیوں کے ساتھ ساتھ کتنے خطرات،اور کتنی مصیبتیں کھڑی کر دی ہیں ! اور زندگی میں کتنی پیچید گیاں پیدا کردی ہیں ! یہ بھی کسی صاحب نظر سے مخفی نہیں۔

اس کا احساس اب لوگوں کو ہورہا ہے، اور بہت شدت سے ہورہا ہے۔

جو لوگ جرأت مند اورحقیقت پسند ہیں، وہ برملا اس حقیقت کا اظہار کر رہے ہیں، بہت سے ایسے لوگ بھی ہیںجو اس بگڑے ہوئے ماحول میں اس حقیقت کا اظہار کرنے سے ڈرتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ خدائی تعلیمات سے بے نیاز ہوکرکوئی بھی علم انسانیت کے لیے نفع بخش نہیں ہوسکتا۔ وہ بظاہر نفع بخش نظر آئے گا،مگر اس میں نقصان کا پہلو غالب ہوگا۔

آج کی دنیا سائنس اور ٹکنالوجی میںکتنی آگے جا چکی ہے،مگرعام انسان کے لیے یہ زندگی کتنی کٹھن اور کتنی بے لذت ہوکر رہ گئی ہے!

جن لوگوں کے بارے میں ہمیں گمان ہوتا ہے کہ وہ بڑے خوش نصیب ہیں۔ وہ ملک کے خزانوں کے مالک ہیں،اورعیش وعشرت کے تمام وسائل ان کے قدموں میں ہیں، وہ لوگ بھی اس صورت حال سے مستثنی نہیں ہیں۔ وہ لوگ بس دیکھنے میں خوش نصیب نظر آتے ہیں،ورنہ حقیقت میں وہ حسرتوں کا مزار ہوتے ہیں۔

وہ نشہ آور یا خواب آور گولیوں کا سہارا لیے بغیر نہ ایک دن جی سکتے ہیں، نہ ایک رات سوسکتے ہیں !

اہل اساتذہ کی تیاری

انسانی وسماجی علوم کو پڑھانے کے لیے سیکولر یونیورسٹیوں سے نکلے ہوئے اسکالرس، جن کا قرآنی بیک گراؤنڈ نہ ہو،وہ ہمارے نظام تعلیم کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے۔ سیکولر یونیورسٹیوں سے نکلے ہوئے ان اسکالرس کوہمیں قرآن پاک کا فلسفۂ سیاست، قرآن پاک کا فلسفۂ معیشت، اور قرآن پاک کا فلسفہ سماجیات بھی پڑھانا ہوگا۔ جب تک وہ اس سے سرشار نہ ہوجائیں، ہمارے قرآنی نظام تعلیم میں فٹ نہیں ہوسکتے، ضروری ہے کہ ہمارے ہاں پڑھائے جانے والےتمام انسانی اور سماجی علوم کا محور قرآن پاک ہی ہو۔

قرآن پاک کا یہ زبردست اعجاز ہے کہ تمام علوم کے لیے اس میں رہ نمائی موجود ہے۔ بہت سے علوم کے لیے اس میں واضح اشارے ہیں، اور بہت سے علوم کے لیے اس نے بنیادی اصول دیدیے ہیں۔

مثال کے طورپرعلم معاشیات کے لیے مندرجہ ذیل اصول قرآن پاک سے معلوم ہوتے ہیں:

۱ ) کوئی ایسی تجارت جائز نہیں ہے جس میں ظلم کا شائبہ ہو۔ جب کہ آج ظلم اور دھاندلی کے بغیر تجارت کا تصور کرنا مشکل ہے۔ سودی کاروبار، یا سود کا لین دین اسلام میں اسی لیے حرام ہے کہ اس کی بنیاد ظلم پر ہوتی ہے۔ چنانچہ سود کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے قرآن پاک کی تاکید ہے:

لاتظلمون ولاتظلمون۔ ( سورہ بقرہ: ۲۷۹ )  (نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ )

۲ )کوئی ایسی تجارت جائز نہیں ہے جس میںدونوں پارٹیوں کی کامل رضامندی نہ پائی جاتی ہو۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک پارٹی کسی وجہ سے دوسری پارٹی کے دباو میں ہوتی ہے، اس طرح نہ چاہتے ہوئے بھی تجارتی معاہدے پر دستخط کردیتی ہے، یہ مجبوری کی رضامندی ہوتی ہے جواسلام میں قابل لحاظ نہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

یاایہا الذین آمنوالاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا أن تکون تجارۃ عن تراض منکم۔ (سورۃالنساء: ۲۹)

(اے وہ لوگوجو ایمان لائے ہو،اپنے اموال اپنے درمیان باطل طریقے سے نہ کھاؤ،الا یہ کہ تمہارے درمیان تجارتی لین دین ہو آپس کی رضامندی سے۔ )

۳ ) اسلامی معاشیات کی بنیاد مکمل طور سے طہارت اور پاکیزگی پر ہوتی ہے۔ اس کی روح طہارت اور پاکیزگی ہوتی ہے۔ اسلامی معاشیات میں کسی حرام یاناپاک چیز کی گنجایش نہیں ہوتی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

الیوم أحل لکم الطیبات۔ (سورہ مائدہ : ۵ )

(آج تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں۔ )

گویا اسلامی شریعت میںکسی چیز کے حلال ہونے کے لیے پاکیز ہ اور خوش گوارہونا شرط ہے۔ جو چیز پاکیزہ نہیں ہوگی،وہ حلال نہیں ہوگی۔

پاکیزگی کی یہ شرط کھانے پینے، اوڑھنے پہننے، اور زندگی میں برتنے کی تمام چیزوں میں ہوگی، حتی کہ تمام دواؤں میں بھی ہوگی،چنانچہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

ان اللہ لم یجعل شفاء کم فی حرام۔ (موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان۔ رقم الحدیث: ۱۳۹۷)

( اللہ تعالی نے تمہاری شفا حرام چیزوں میں نہیں رکھی ہے۔ )

کسی چیز کے حرام ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ چیز پاکیزہ نہیں ہے۔

معاشیات سے متعلق یہ چند قرآنی اصول ہیں،جو بطور مثال بیان کیے گئے۔ یہاں ان تمام اصولوں کا احاطہ مقصود نہیں ہے۔ البتہ یہ اصول واضح طور پر علم معاشیات کو بالکل اک نیا رنگ دیدیتے ہیں، بلکہ اس کا پورا ڈھانچہ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔

علم سیاست کے سلسلے میں بھی قرآن پاک واضح رہ نمائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پرقرآن پاک سے علم سیاست کے مندرجہ ذیل اصول معلوم ہوتے ہیں:

۱ ) اسلامی سیاست کی بنیاد حاکمیت الہ پر ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ان الحکم الا للہ۔ (سورہ یوسف: ۴۰)

(حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے۔ )

لہذا کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے قوانین سے ہٹ کرلوگوں پر اپنے من مانے قوانین چلائے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے، تو وہ اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ اوروہ دیر سویر اس کے غضب کا شکار ہوکر رہے گا۔

۲ )اسلامی سیاست میں جبر واستبداد کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔ قوم عاد کو ان کے نبی ہودعلیہ السلام نے ملامت کرتے ہوئے فرمایا تھا:

واذا بطشتم بطشتم جبارین فاتقوا اللہ واطیعون واتقوا الذی امدّکم بما تعلمون۔          (سورہ شعراء :۱۳۰۔ ۱۳۲)

(اور جب تم کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو،تو ہاتھ ڈالتے ہو ظالم وجابر بن کر،تو اللہ سے ڈرو،اور میری بات سنو،اور ڈرو اس سے جس نے تمہیں یہ ساری نعمتیں دی ہیں جن سے تم خود واقف ہو۔ )

۳ ) اسلامی سیاست میں کوئی ایک انسان اقتدار کا مالک نہیں ہوتا۔ ملک کے تمام شہری اقتدار میں شریک ہوتے ہیں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کواپنے رب کے احسانات یاد دلاتے ہوئے فرمایا تھا:

یاقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم ملوکا وآتاکم مالم یؤت احدا من العالمین۔ (سورہ مائدہ:۲۰)

( اے میری قوم! اللہ کے اس احسان کو یاد کروکہ اس نے تمہارے اندراپنے نبی بھیجے،اور تمہیںاقتدار کا مالک بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطاکیا جو انسانوں میں سے کسی کو نہیں عطا کیا۔ )

گویا نبوت توایسی چیز ہوتی ہے کہ جسے اس کا تاج پہنادیا گیاوہ اسی کے سر پر رہے گا،مگر حکومت واقتدار ایسی چیز ہے جو کسی ایک فیملی یا ایک پارٹی کی نہیں ہوتی، بلکہ پوری قوم،یاتمام اہل مملکت کی ہوتی ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے جوحکومت کی کرسی پر بیٹھتا ہے، وہ حکومت کا تنہا مالک نہیں ہوتا،بلکہ اس کی حیثیت بس قوم کے نمایندے کی ہوتی ہے۔ وہ قوم کے مشورے سے فیصلے کرتا،اور قوم کی بھلائی کے لیے اپنی راحتوں کو قربان کرتا ہے۔

علم سیاست سے متعلق یہ چند اصول ہیں،جو بطور مثال یہاںبیان کیے گئے،ورنہ قرآن پاک سے اس سلسلے کے اور بھی نہایت قیمتی اصول معلوم ہوتے ہیں، جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں ہے۔

یہ اصول بنیادی طور سے سیاست کے پورے نظام کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ اسے پستی سے اٹھاکرانتہائی بلندی پر پہنچادیتے ہیں۔ پھر یہی سیاست انسانیت کے لیے بلاے بے درماں ہونے کے بجائے رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔

بہترین افراد سازی

قصہ مختصر یہ کہ،ہمیں سارے ہی علوم قرآن پاک کی روشنی میںپڑھنے پڑھانے ہوںگے، چاہے وہ شرعی علوم ہوں یا عصری یا انسانی علوم۔

جن عصری یا انسانی علوم کے سلسلے میںقرآن پاک میںواضح تعلیمات نہیں ملتیں،وہ علوم بھی بندۂ مسلم کی قرآنی سوچ سے قرآنی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ اور وہ خالق کائنات کی عظمت وحاکمیت کے آئینہ دار بن جاتے ہیں۔ اس طرح وہ تمام علوم بھی کتاب الہی کی برکت سے ساری انسانیت کے لیے سرتاسر رحمت بن جاتے ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلم امت کا ستارہ بلندی پر تھا،اور یہ سارے علوم قرآنی ماحول میں پرورش پارہے تھے،اور قرآنی آیات کی گونج میں ترقی کر رہے تھے،تو ان علوم سے انسانوں کو راحت اور خوش حالی حاصل ہوئی، اور ساری انسانیت کے لیے وہ نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئے۔ مگرجب مسلم امت کا ستارہ گردش میں آگیا،اور یہ تمام علوم ان کے ہاتھوں سے نکل کردشمنان اسلام کے ہاتھوں میں چلے گئے،تو انہوں نے ساری دنیا کو تہ وبالا کرکے رکھ دیا، اور ساری انسانیت امن وسکون سے محروم ہوکر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی!

ضروری ہے کہ جو طلبہ ہمارے ہاں زیر تعلیم ہوں، نہایت اہتمام کے ساتھ قرآن پاک کے سایے میں ان کی ذہن سازی کی جائے۔ ان کے دل و دماغ میں قرآن پاک کی بجلیاں دوڑائی جائیں۔ اور جب وہ یہاں کی تعلیم مکمل کرلیں تو ان میںجو ذہین و شوقین اور حوصلہ مند طلبہ ہوں، ان طلبہ کو مدرسے میں روک کران کی صلاحیتوں کو مزید پروان چڑھایا جائے۔

قرآن پاک کی مدد سے طلبہ کے ذہن ودماغ کواس طرح صیقل کیا جائے، کہ وہ مکمل طور سے قرآن پاک کے سانچے میں ڈھل جائیں، جس موضوع سے انہیں دل چسپی ہو،اس موضوع پر قرآن پاک کی روشنی میں ان کی تیاری کرائی جائے، اور اس کے لیے جو یھی انتظامات کرنے پڑیں اس سے دریغ نہ کیا جائے۔

یہ ہماری ملت کی ایسی ضرورت ہے،جس کے معاملے میں کسی طرح کی لاپروائی، یا کوتاہی جرم ہے۔ انتہائی سنگین جرم ہے !

یہ ضرورت بہر صورت پوری کرنی ہے،چاہے اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں دینی پڑیں،اور کتنے ہی جتن کرنے پڑیں۔

جوطلبہ اور جو اساتذہ اپنا مستقبل قرآن پاک اور قرآنی علوم سے جوڑنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ان کی کفالت اتنی فیاضی اور اتنی دریا دلی کے ساتھ کی جائے کہ وہ مکمل طور سے اس کے لیے یکسو ہوجائیں،کوئی او ر دنیوی ترغیب انہیں اپنی طرف مائل نہ کرسکے۔

افراد سازی اور شخصیت سازی ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس پر دل کھول کر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ جولوگ قرآن پاک کو محور بناکر کسی بھی موضوع پرعلمی تیاری کرنی چاہیں،ان کی حوصلہ افزائی دینی مدارس کا فرض ہے۔

ا س فرض میں کوتاہی کے نتیجہ میں ہی ہمارے دینی مدارس اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان پر خزاں طاری ہوگئی،اور اس بری طرح طاری ہوگئی کہ وہ ہٹنے کا نام نہیں لے رہی ہے!

حقیقت یہ ہے کہ اس نظریۂ تعلیم وتربیت میں بڑی برکت، اور بڑی آفاقیت ہے۔ یہ نظریہ تعلیم وتربیت اتنا زبردست، اوراتنا جان دارہے، کہ اگرمسلم ملت کو اس کا شعور ہوجاتاتو آج ہمارے دینی مدارس کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ نہ صرف دینی مدارس کا نقشہ کچھ اور ہوتا،بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا ہی نقشہ کچھ اور ہوتا۔

ایک طویل غنودگی، یااک طویل غفلت کے بعد اب سے دینی مد ارس اورعربی دار العلوموںکے ذمے داروں کو بیدار ہوجانا چاہیے۔

شرعی علوم پر نظرثانی

آج انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ ہم تمام عصری علوم کو اچھی طرح سیکھیں،اور انہیں قرآن پاک کے سانچے میں ڈھالنے، اور قرآن پاک کی روشنی میں انہیں سنوارنے کی کوشش کریں۔

لیکن جب تک عصری اور انسانی علوم کوقرآن پاک کی روشنی میں پڑھنے پڑھانے کا مرحلہ نہیں آتا،اس وقت تک کے لیے کم از کم شرعی علوم کو قرآنی رنگ میں رنگنے،اور قرآن پاک کی روشنی میں انہیں پڑھنے پڑھانے کا کام شروع کردیں۔

ضروری ہے کہ تمام کتب حدیث کا مطالعہ قرآن پاک کی روشنی میں کیا جائے۔ کیونکہ قرآن پاک کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ہی کسی روایت کے حدیث رسول ہونے کا یقین کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی روایت قرآن پاک کے الفاظ ومعانی یا اس کی روح سے ٹکراتی ہے، تواگرچہ اس کی سندیں سورج کی طرح روشن ہوں،محققین کے نزدیک وہ روایت قابل قبول نہیں ہوتی۔

عام طورسے ہوتا یہ ہے کہ کسی روایت کے محض راویوں کو دیکھ کراس کے صحیح ہونے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے،اور اس وقت تومعاملہ اس سے بھی آگے جاچکا ہے۔ اس وقت تو راویوں کی بھی تحقیق نہیں کی جاتی۔ محض کتابوں کے حوالہ سے کسی روایت کے صحیح ہونے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے یہ بات کسی طور سے صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ احادیث کے جتنے بھی مجموعے ہمارے ہاتھوں میںہیں، وہ بحث وتحقیق کے دائرے سے باہر نہیں ہیں،ان میں صحیح اور سقیم،ضعیف اور قوی روایات ملی جلی ہیں۔ اس میں کسی طرح کا استثناء نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے، وہ یہ کہ کسی مجموعۂ احادیث میںضعیف روایات کی تعداد زیادہ ہے،کسی میں نسبۃً کم ہے۔

أئمۂ حدیث نے بہت حد تک راویوں کے لحاظ سے حدیثوں کی چھان بین کرلی ہے،لیکن مضمون حدیث،یا متون حدیث کی تحقیق قرآن پاک کی روشنی میں ہنوز باقی ہے۔

جب روایات کے سلسلے میں یہ بات ضروری قرار پاتی ہے کہ قرآن پاک کی روشنی میںان کی تحقیق کی جائے تو علم الفقہ، علم العقائد، علم الاخلاق وغیرہ ان سارے ہی علوم کے سلسلے میں یہ بات ضروری ہوجاتی ہے جن کی بناروایات پر رکھی گئی ہے۔

ہمارے نظام تعلیم کا محور جب قرآن مجیدہوگا،تو تفسیر قرآن کا محور بھی قرآن پاک ہی ہوگا۔ متعددائمۂ تفسیرنے اس بات کی صراحت کی ہے کہ تفسیر قرآن کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ قرآن پاک کی تفسیر خود قرآن پاک سے کی جائے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب براہ راست قرآن پاک پر تدبر کا اہتمام کیا جائے۔

اس تدبر میں وسعت اور گہرائی اسی صورت میں ممکن ہے جب سورتوں اور آیتوں میں پائے جانے والے نظم کوتلاش کیا جائے۔ نظم کلام کی تلاش فہم قرآن میںزبردست معاون ہوتی ہے۔ اس سے بالعموم آیات کی گتھیاں سلجھ جاتی ہیں۔ اور نظم آیات میں پنہاں علوم ومعارف کی اک وسیع دنیا سامنے آجاتی ہے۔ (جاری)

 

 

اگر کسی شخص کے ذہن میں یہ غلط فہمی ہو کہ اسلام کے پورے اعتقادی، اخلاقی، تمدنی مجموعہ میں سے صرف اسی کے معاشی نظام کو لے کر کامیابی کے ساتھ چلایا جا سکتا ہے تو میں عرض کروں گا کہ براہِ کرم وہ اس غلط فہمی کو دل سے نکال دے۔ اس معاشی نظام کا گہرا ربط اسلام کے سیاسی، عدالتی و قانونی اور تمدنی و معاشرتی نظام کے ساتھ ہے۔ پھر ان سب چیزوں کی بنیاد اسلام کے نظامِ اخلاق پر قائم ہے۔ اور وہ نظامِ اخلاق بھی اپنے آپ پر قائم نہیں ہے بلکہ اس کے قیام کا پورا انحصار اس پر ہے کہ آپ ایک عالم الغیب قادرِ مطلق خدا پر ایمان لائیں اور اپنے آپ کو اس کے سامنے جواب دہ سمجھیں، موت کے بعد آخرت کی زندگی کو مانیں اور آخرت میں عدالتِ الٰہی کے سامنے اپنے پورے کارنامۂ حیات کے جانچے جانے اور اس جانچ کے مطابق جزا و سزا پانے کا یقین رکھیں۔ اور یہ تسلیم کریں کہ خدا کی طرف سے محمد رسول اللہ ﷺ نے جو ضابطۂ اخلاق و قانون آپ تک پہنچایا ہے، جس کا ایک جزیہ معاشی نظام بھی ہے، وہ بے کم و کاست خدا ہی کی ہدایت پر مبنی ہے۔ اگر اس عقیدے اور نظامِ اخلاق اور اس پورے ضابطۂ حیات کو آپ جوں کا توں نہ لیں گے تو نِرا اسلامی نظامِ معاشی ایک دن بھی اپنی صحیح اسپرٹ کے ساتھ نہ چل سکے گا اور نہ اس سے آپ کوئی معتد بہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔ (معاشیات اسلام،  مولانا مودودیؒ)

دسمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau