اخلاقی اقدار اور سیاسی نظام

نوید ابن فیضی

آزادی کو۷۰ سال گزر گئے لیکن ہندوستانی شہری حقیقتاً آزاد نہ ہوسکا ، غلامی کے دور میں لوگ سوچتے تھے کہ ملک آزاد ہوگا تو انہیں بھی آزاد زندگی گزارنے کے مواقع ملیں گے۔ انسان جب جبر و استبداد سے آزاد ہوتا ہے تو پھر ترقی بھی کرتا ہے ۔ مگریہ خواب پوری طرح شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔آزادی کے بعد یہ نعرہ لگایا گیا ۔ روٹی ، کپڑا ،اور مکان۔ گویا زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے روٹی ، کپڑااور مکان۔ یہ مقصد بھی حاصل نہ ہوسکا، بلکہ دور سے دور تر ہوتا گیا ۔ چند سال پہلے ایک بزرگ سے (جو غلامی کے دور سے گزر چکے تھے) میں نے پوچھا تو کہنے لگےروٹی کپڑا اورمکان غلامی کے دور میں ، آج سے سستا تھا ۔ آزادی کے بعد معاشرے کے مخصوص طبقہ نے عوام کا استحصال کیا۔ استحصال کئی طرح کا ہوتا ہے، معاشی ، معاشر تی، تمدنی، وغیرہ ۔ موجودہ حکومت نے بھی استحصال کو فروغ دیا ہے اس کے ذریعے وہ دہلی تک پہنچی ہے ۔

اخلاقی قدریں

اجتماعی ادارے ،سماج کی تعمیر و ترقی کے قائم کیے جاتے ہیں۔ جیسے ، تعلیمی ادارے، معاشی ادارے ، مذہبی وسیاسی ادارے ، عدل و انصاف کے لئے ادارے ، وغیرہ ۔ ان اداروں کے کام مختلف ہوتے ہیں ، مگر جو قدر مشترک مطلوب ہے وہ اخلاقی قدریں ہیں ۔ اگر ان میں اخلاقی قدریں مفقود ہوں تو پھر یہ ادارے تعمیر کے بجائے تخریب کا سبب بنتے ہیں ۔ ان اداروں میں سیاسی ادارہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔تمام ادارے، اس کے زیر اثر آجاتے ہیں ۔اگر سیاسی ادارہ صحیح خطوط پر قائم ہے تو تمام دوسرے ادارے بھی صحیح نہج پر چلتے ہیں سیاسی ادارہ بگڑا تو پھر دیگر ادارے اعتدال پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ چنانچہ اقدار پر مبنی سیاست معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے، اگر سیاست میں آفاقی اقدار نہ پائی جائیں تو سماج میں فساد برپا ہوگا اور اس سے ہر خاص و عام متاثر ہوگا ۔

اخلاقی قدریں ، ہر زمانے اور سماج میں معروف ر ہی ہیں ۔ یہ سماجی تعمیر کی بنیادیں ہیں، جب کسی سماج نے ان بنیادوں کو نظر انداز کیا ہے تووہ تباہی کا شکار ہوا ہے ۔ لالچ ،دنیا پرستی،ظلم و استحصال ، جیسی برائیاں آج عام ہیں ۔ یہ برائیاں جب حکمرانوں میں پنپنے لگتی ہیں تو سماج میں بد اَمنی پیدا ہوتی ہے ۔

آج ملک کی دولت پر چند افرادقا بض ہیں ، ان کے پیش نظر صرف مال کا حصول ہے ، چاہے کسی بھی طریقہ سے حا صل ہو ۔ اس سے عوام کی صحت اور اخلاق تباہ ہوتے ہوں تو انہیں پروا نہیں۔ اس کی تازہ مثال جوا اور سٹہ کو قانونی حیثیت دینے کی ملک کے لا ء کمیشن کی سفارش ہے ، شراب اور نشہ آور چیزوں کا تجارتی فائدہ حکومت پہلے ہی سے اٹھارہی ہے ۔ اس کابُرا اثر سماج میںنظر آ رہا ہے ،مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے ۔ بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے، ضروریات زندگی کے لئے محروم انسان ہر غیر اخلاقی کام پرآمادہ ہو رہے ہیں ۔

آج ہر ماں باپ کی خواہش ہے کہ ان کا بچہ ایسی تعلیم حاصل کرے جس سے کمائی اچھی ہو، اب تعلیم انسانی خدمت کے جذبے کے فروغ ، اور انسان کے اندر انسانیت پیدا کرنے کے لئے نہیں ہوتی ، بلکہ دنیا کمانے کا صرف ایک ذریعہ ہے ۔ تعلیمی ادارے تجارت کی منڈی بن گئے ہیں ۔ انہیں تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ، ڈاکٹر، وکیل ، تاجر، معلم ، منتظم ، جب سماج میں آئیں گے تو ہم کیسے امید کرسکتے ہیں کہ یہ انسانیت کی خدمت کو مقدم ر کھیں گے ۔ ہاسپٹلوں کا حال ہمیں معلوم ہے، علاج کے نام پر مریضوں کا استحصال اور لوٹ کھسوٹ عام ہے ، نقلی د وائیوں کے ذریعہ انسانی جانوں سے کھلواڑ ہوتا ہے ۔ ملاوٹی اشیا ء کا فروغ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ۔ غرض ، دنیا پرستی اور عیش و عشرت کی ہوس نے انسان کو انسان با قی نہیں رکھا ہے۔ غرور اور برتری کا احساس بڑھا ، تو عدم برداشت کا جذبہ بھی پروان چڑھا ۔ لوگ مختلف سوچ و فکر رکھنے والوں کو برداشت نہیں کر تے ، عد ا لت و قانون ، حق و انصاف عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتا جارہا ہے۔ پیسوں ، اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پرکچھ بھی کیا جاسکتا ہے ۔ بے قصور ا فراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی موت کا انتظار کررہے ہیں ۔ لا قانونیت کا یہ عالم ہے کہ برسر عام لوگوں کا قتل کر دیاجاتا ہے۔ پولس تماشائی بنی رہتی ہے ، پولس کی مجبوری یہ ہے کہ قاتل کی پشت پر حکومت کے کارندے ہوتے ہیں ۔ سماج سے انسانوں کا احترام ختم ہورہا ہے۔

آج عورتوں کا باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے زنا بالجبر عام بات ہے ، اخلاقی پستی کا حال یہ ہے کہ بچے اسکولوں میں محفوظ نہیں ہیں ۔ذرا سوچئے کہ ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں ۔ اگر زمام اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جن کے اندربنیادی انسانی اقدار تک نہ ہوں تو کیا سماج صحت مند رہ سکے گا۔ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو یہی سماج دے کر جائیں گے؟ کیا ہم بس ایک تماشائی بنے یہ سب کچھ دیکھتے رہیں گے ؟ کیا سماج کو بدلنے کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی ۔ ؟ کیا ہم ایک اچھے متبادل کی کوشش نہیں کریں گے ؟ اس کا جواب ہر ہندوستانی کو سوچنا چاہئے ۔

 متبادل نظام

انسان سلیم الفطرت پیدا کیا گیا ہے ۔ اس کی طبیعت اچھائی کو پسند کرتی ہے۔ وہ ضمیر کو وقتی طور پر دبا کر برائی تو کرتا ہے مگر احساس دلانے پر وہ اچھائی کی طرف رجوع بھی کرتا ہے ۔ وہ برائی کو برائی سمجھ کر ہی کرتا ہے، اچھائی سمجھ کر نہیں ۔ اسی لئےجب اس پر اسی طرح کا ظلم ہو تا ہے ،( جیسا کہ وہ دوسروں پر کرتا رہا) تو چیختا چلاتا ہے او ر دہائی دینے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ظلم ہے۔ عموما انسانی فطرت شر پسند نہیں ہوتی ۔ اسے بہکایا جاسکتا ہے ، خالق نے اس کی فطرت میں اچھائی اور بھلائی کی تمیز ودیعت کر رکھی ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ سماج فرد سے بنتا ہے، مگر سماج کی اصلاح او ر تعمیر میں حکومت کا رول بڑا اہم ہوتا ہے ، کیونکہ حکومت کے پاس قوت نافذہ ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ اچھائی کو عام کرسکتی ہے اور برائی کا ازالہ آسانی سے کرسکتی ہے۔

اگر سماج میں انسانوں کا ایک طبقہ نیک سیرت ہو مگر قوت نافذہ سے محروم ہو تو سماج کو بگاڑ سے نہیں بچا یا جاسکتا۔ تو معلوم ہو ا کہ اقتدار و اختیار جب تک اچھے اور بھلے انسانوں کے ہاتھوں میں نہیں دیا جاتا سماج کی تعمیر مشکل ہے ۔ اسلام سیاسی اصول بھی واضح کرتا ہےاور ایک بہترین تعمیری ریاست کے خد وخال بھی بتاتا ہے ۔

 معروف

لغوی اعتبار سے معروف اس چیز کو کہتے ہیں جو جانی پہچانی ہو ۔ اور اصطلا حا اس سے مراد ہر وہ فعل لیا جاتا ہے جس سے عقل سلیم آشنا ہو جس کی خوبی کو فطرت سلیمہ جانتی ہو،اور ہر انسانی دل جسے دیکھ کر گواہی دے کہ واقعی یہ بھلائی ہے ۔ جیسے ، حقوق کی ادائی ، قناعت پسندی ، عدل و انصاف، ہمدردی و رواداری ، صبر و شکر ، عجز و انکساری ، عفو و در گذر ، عزت و احترام ، امداد باہمی ، محبت والفت ، اتحاد و یگا نگت، راست بازی، سچائی و ایمان داری ، یہ اخلاقی قدریں معروف ہیں۔

 منکر

منکر عربی زبان میں ان جانی اور نا مانوس چیز کے لئے بولا جاتا ہے، اصطلاحا اس کا اطلاق ہر اس فعل پر ہوتا ہے جسے فطرت سلیمہ پسند نہیں کرتی ، اور عقل سلیم جس کو غلط سمجھتی ہے۔ جیسے ، ظلم، خیانت ، دھوکا دہی ، بدکاری، فتنہ پردازی ، فسادو شر انگیزی، خود غرضی ، بے انصافی ، لوٹ کھسوٹ قتل و غارت گری یہ خلاف انسانیت اعمال منکر ہیں ۔

اسلام اخلاقی اقدار یعنی معروف کو پروان چڑھانے ، اور غیر اخلاقی رویوں یعنی منکر سے بچنے کی تاکید کر تا ہے۔

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ  (آل عمران ۱۱۰ )

’’تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کی خدمت و ہدایت کے لئے برپا کیا گیا ہے ، تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ‘‘۔

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ  ( آل عمران ۱۰۴ )

’’اور تم میں ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے نیکی کا حکم دے اور بدی سے روکے ‘‘۔

اگرکسی انسان کے اندر معروف کی صفت پروان چڑھتی ہے تو وہ معاشرے کا بہترفرد ثابت ہو گا ۔ اس کے بر عکس اگر کسی کے اندر منکر کی صفت ہے تو پھر وہ معاشرے کا بد ترین فرد ثابت ہو گا۔ ٹھیک اسی طرح سماج میں معروف اجتماعی حیثیت سے فروغ پاتا ہےتو وہ سماج ایک بہتر سماج کہلائے گا اور اس کے بر عکس اگر منکر سماج میں اجتماعی حیثیت سے پنپ رہا ہو، تو وہ ایک بد ترین سماج کہلائے گا۔اخلاقی اقدار جس طرح فرد کی اصلاح کے لئے نا گزیر ہیں، اسی طرح ریاست کے لئے بھی ضروری ہیں۔کیونکہ ریاست افراد ہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔

ریاست کی تشکیل میں حا کمیت کا تصور بڑا اہم ہے اسی تصور پر صحیح او ر غلط کا رخ طے ہوتا ہے ۔ انسان یا انسانوں کی جماعت اپنے آپ کو حاکم اعلی تصور کرتی ہے تو غلطی کر تی ہے ۔ کیونکہ انسان کا علم محدودہے اور اس کی صلاحیتیں بھی محدود ہیں۔ پھر نفسانی خواہشات سے مغلوب بھی ہوتا ہے۔ یہ انسانو ں کے لئے اعتدال پر مبنی دستور بنا ہی نہیں سکتا۔ کہیں نہ کہیں اس کا اپنا مفاد ، اپنی قوم کا مفاد، اپنے ملک کا مفاد غالب آئے گا ، جس سے دوسروں پر ظلم ہو گا ۔ آج ہم دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو زمین پر ظلم و فساد کی بڑی وجہ یہی نظرآتی ہے۔کیا آج دنیا کے امن کے ٹھیکے دار وں کےپیمانےاپنے اور دوسروں کے لئے الگ الگ نہیں ہیں ؟ قومی و ملکی مفادکی خاطر لاکھوں انسانوں کا قتل عام نہیں ہو رہا ہے ؟

خلافت

اسلام کہتا ہے ،انسان اس زمین پر ، زمین کے خالق و مالک کا نائب یعنی خلیفہ ہے ۔ وہ زمین کے وسائل کا مالک نہیں بلکہ ا مین ہے ۔ خلافت ایک ذمہ داری ہے اور اس کے بارے میں کل مر نے کے بعد اس سے سوال ہوگا ۔ ریاست کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے اصول حقیقی مالک نے دیدئے ہیں ۔ خلیفہ کا کام مالک کی ہدایات کی روشنی میں کا م انجام دینا ہے ۔ اللہ ہی اس کائنات کا حقیقی مالک ہے وہی سب کو پیدا کرتا ہے ۔ انسانوں کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ۔ حکم دینے کا حق بھی اسی کو ہے ۔

اِنَّ رَبَّكُمُ اللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍؚبِاَمْرِہٖ۝۰ۭ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ( اعراف ۔ ۵۴ )

’’یقینا ًتمہارا رب اللہ ہے جس نے پیدا کیا ہے آ سمانوں اور زمین کو ، اور سورج اورچانداور ستاروں کو ، سب اس کے حکم کے تا بع ہیں۔ خبردار۔ خلق بھی اسی کی ہے اور حکومت بھی اسی کی ‘‘۔

یہ ریاست کو اعتدال پر رکھنے کی شاہ کلید ہے ۔ یہ تصور صاحب اقتدار کے اندر جب آتا ہے کہ، اقتدار ایک امانت ہے اور مجھے مرنے کے بعد اپنے حقیقی مالک کے پاس اس کا حساب دینا ہے ، تو اس کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں ۔ چشم فلک نے یہ نظارے بھی دیکھے ہیں کہ خلیفہ وقت رات رات شہر کا گشت کررہا ہے کہ کوئی مصیبت میں نہ ہو۔ رعایا چین سے سوتی ہے اور حاکم بے چین رہتا ہے ۔

ریاست کی ذمہ داری

ریاست کی ذمہ داری سماج کی تعمیر ہے، تخریب نہیں ۔ سماج کی تعمیر کی بنیاد عدل و قسط ہے۔ جب تک ہر انسان کو، انصاف نہیں ملتا سماج صحیح خطوط پر تعمیر نہیں ہو سکتا۔ جس سماج میں بے انصافی عام ہو دوسروں کا حق مارا جارہا ہو ۔ ملکی وسائل پر مٹھی بھر افراد قابض ہوں، جہاں امیر امیرتر بنتے جارہے ہوں اور غریب غریب تر ہو رہے ہوں ، جہاں ملک کی ایک بڑی آبادی روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کی محتاج ہو، انصاف کے الگ الگ پیمانے ہوں ، وہ کیسے ترقی کر ے گا ۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔ اگر سماج میں بد امنی پھیلی ہو ، عزت و آبرو محفوظ نہ ہو، قتل و خون کا بازار گرم ہو، اور حکومت آنکھیں موندے بیٹھی ہو تو سمجھ لیجئے کہ سماج تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے ۔

آزادی ایک اہم عنصر ہے ۔ سماج کے ہر فرد کو ، قبول حق کی ، بود و باش کی ، کہنے سننے کی ، فکرو نظر کی آزادی ملنی چاہئے ۔ اگر ریاست ا ن حقوق کو چھیننے کی کو شش کرتی ہے تو صحت مند سماج کی تعمیر ممکن نہیں ۔یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ، دنیا نےآزادی کا غلط مطلب نکالا ہے ، وہ یہ سمجھتی ہے کہ انسان مطلقاً آزاد ہے ، وہ جو چاہے کرتا پھرے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب فرانس میں یہ قانون بنایا گیا کہ انسان کے جسم پر کم سے کم چار انچ کپڑے کی پٹی ہو تاکہ اسکا ستر چھپا رہے، تو عوام کی ایک تعداد سڑکوں پر احتجاج کرتی ہوئی برہنہ نکل آئی اور نعرہ لگانے لگی کہ یہ ہماری آزادی پر حملہ ہے ،آزادی کایہ تصوراسلا م نہیںدیتا۔اسلام آزادی کے حدود متعین کرتا ہے اور ان تمام نام نہاد آزادیوں پر قدغن لگاتا ہے، جن سے سماج میں فساد برپا ہوتا ہو۔

سماج میں سارے انسان ایک جیسے نہیں ہوتے۔ امیر، غریب ،اعلی صلاحیت والے، کم صلاحیت والے، صحت مند، بیمار، فارغ البال محتاج و مساکین وغیرہ سب ہوتے ہیں۔ سماج سے اس تفاوت کو ختم کرنانا ممکن ہے۔ اسلامی ریاست ان افراد کے ساتھ خیر خواہانہ سلوک کرے گی اور مایوسی پیدا ہونے نہیں دے گی ، سماج کے مجبور طبقہ کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ ریاست اس کا خیال رکھے گی کہ سماج میں حسد بغض عداوت جیسے امراض جنم نہ لے پائیں۔ بلکہ جذبہ ایثار و خیر خواہی کی فضاء پروان چڑھے۔

یہ خیر خواہی صرف قوم یا ملک تک محدود نہیں بلکہ اسکا دائرہ ساری دنیاہے ۔ کہیں کوئی مصیبت یا آفت آجائے، کہیںظلم ہورہا ہو، کہیں کسی کا حق چھیناجا رہا ہو، اس کے خلاف آواز اٹھا نا صالح ریاست کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ ریاست اپنی ہمدردی سے انسانیت کا ثبوت دے گی ۔ اپنے اور اپنے ملک کے مفاد کی خاطر دوسرے ملکوں کو جہنم بنانا انتہائی غیر انسانی فعل ہے ۔

امر بالمعروف

ریاست کے فرائض میں معروف کا حکم دینا اور منکر کا ازالہ شامل ہے۔ حقیقت میں اصلاح اس وقت تک کار گر نہیں جب تک برائیوں کو روکا نہ جائے، اصلاح ہوتی ہے منکر کی روک تھام کرنے سے ۔ اگر بدی یا منکر کی اصلاح نہ ہو تو نیکی یعنی معروف کیسے پروان چڑھے گا۔ منکر کی اصلاح اگر محبت لطف و کرم ، عفو و در گزر، افہام و تفھیم ، تنبیہ و تبشیر سے نہ ہو تو پھرقوت و طاقت سے اس کو ختم کیا جانا چاہئے ۔ یہ ہر زمانہ اور ہر سماج کا مسلمہ اصول رہاہے۔ اسی لئے ہر مہذب سماج میں آپ فوج اور پولس یا حفاظتی دستے مو جود پاتے ہیں ۔ اسلام بھی اس کی تاکید کرتا ہے ۔وہ ان تمام راستوں کو بند کرتا ہے جن سے منکر معاشرے میں درآتا ہے۔ ظالموں اور مفسدوں کے لئے (جو با وجود نصیحت کے باز نہیں آتے ) سخت سزائیںتجویز کرتاہے ۔ بعض لوگ ان سزا ئوں پر اعتراضات کرتے ہیں، اور برائیوںکو ختم کرنے کے دوسرے مشورے دیتے ہیں ، مگرانہیں بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ برائی کو ختم کر نہ سکےبلکہ اس برائی میں اضافہ ہی ہوا ، قریب کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ملک میں عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ بد سلوکی کو روکنے کی مسلسل کوششوں کے با وجود وارداتوں میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے ۔ دھوکا دہی اور لوٹ کھسوٹ کا ریکارڈ توڑنے کی ہو ڑ لگی ہوئی ہے ۔ اگر سزا سخت تجویز ہوتی تو جرم کی ہمت نہ ہوتی ۔

قیام عدل

آج کی بے اعتدالی یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کا مزاج مظلوم سے زیادہ ، ظالم سے ہمدردی کا بن گیا ہے، کسی ظالم کو سخت سزا سنائی جاتی ہےتو اس کی حمایت میں کچھ لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ جب کہ اصول یہ ہوناچاہئے کہ مظلوم کی حمایت میں معاشرہ آگے آئے۔ اسلام کی یہی تعلیم ہے ۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاكُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۝۰ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللہُ اَوْلٰى بِہِمَا۝۰ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا۝۰ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا [النساء ۱۳۵ ]

’’ اے ایمان والو ، انصاف پر سختی کے ساتھ قائم رہنے والے اور اللہ واسطے کی گواہی دینے والے بنو ۔ خواہ یہ انصاف اور یہ گواہی تمہاری اپنی ذات ہی کے خلاف پڑے، یا تمہارے والدین یا عزیزوںکے خلاف ،دولتمند کی رضا جوئی یا فقیر پر رحم کھانے کا جذبہ تمھیں انصاف اور سچی شہادت سے نہ پھیر دے ، کیونکہ اللہ ان کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے ۔ تم اپنی خوا ہشات کی پیروی نہ کرو کہ عدل و انصاف سے پھر جائو ۔ اگر تم نے لگی لپٹی بات کی یا حق سے کترائے ، تو جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح با خبر ہے ‘‘۔

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ( المائدہ ۸ )

’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس سے انصاف نہ کرو، انصاف کرو۔ کیوں کہ یہی پر ہیز گاری سے قریب تر ہے ‘‘۔

مطلوب یہ ہے کہ ریاست برائیوں سے خود اجتناب کرے جن سے سماج میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے پھر سماج کے ہر فرد سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ برے کاموں سے بچے ،دوسروں کے حقوق نہ چھینے ، ظلم نہ کرے ، امن و اطمینان میں خلل نہ ڈالے ، دوسروں کے جان و مال ، عزت و آبرو کا احترام کرے ۔ اگر کوئی فرد اس فہمائش کے باوجود جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔اللہ کے رسول نے ہدایت فرمائی کہ :

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تمہیں لازم ہے کہ نیکی کا حکم کرو ، اور برائی سے روکو ، اور بد کار کا ہاتھ پکڑ لواور اسے حق کی طرف موڑ دو ، ورنہ اللہ تمہارے دلوں پر ایک دوسرے کا اثر ڈال دے گا‘‘۔

اقتدار و اختیار کا صحیح مصرف یہ ہے کہ حکمراں معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں ۔

اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ  ( الحج ۴۱ )

’’یہ اہل ایمان وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو زمین میں طاقت بخشیں تو وہ نمازقائم کریں گے زکو ۃ دیں گے نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے ‘‘۔

دعوتِ فکر

امت مسلمہ اس دنیا میں امامت اور رہنمائی کے لئے آئی ہے ۔ یہ امت اللہ پر ایمان رکھتی ہے اس کے پاس اللہ کی کتاب ہے جو سارے انسانوں کی ہدایت کے لئے اتاری گئی ہے یہ امت پیغامِ اِلٰہی کی امین ہے ، اس کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کی رہنمائی کرے ، انسانیت کو اس کی منزل بتا ئے ۔ انسانوں کے رب کی طرف سے دستور، نظام اور صالح نظریہ، آچکا ہے جو سب سے زیادہ مناسب اور فطری ہے اس کے بعد کسی اور راستے کی انسانیت کو ضرورت نہیں۔

جنوری 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau